Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nain Sahil (Episode 116)

گھڑی نے دوپہر کا ایک بجایا۔۔۔۔سکوت میں چند پل میوزک کی آواز اُبھر کر پھر ختم ہو گئی۔۔۔
انجو نے نظریں اٹھا کر آئینے میں اپنے عکس کو دیکھا۔۔۔۔سرخ لہنگے میں سر سے پیر تک سجی تھی مگر چہرے پر کوئی خوشی کوئی تاثر نہیں تھا۔۔۔۔زخمی آنکھوں میں خالی پن تھا اور چہرے پر وحشت کے سائے۔۔۔۔
دل کو مار کر دلہن بنی تھی اسلئے کوئی بےجان مورت بن گئی تھی۔۔۔۔
بس آنسُو تھے جو نا چھپنے کو راضی تھے نا تھمنے کو۔۔۔۔
اُسے اپنے آپ سے نفرت ہو رہی تھی کیوں کے جو کچھ آج اُس کے لیے نے قابل برداشت تھا اُس کی ذمےدار وہ خود تھی۔۔۔۔
اور اب اس سچ کو اپنی غلطی کی سزا سمجھ کر بھگت رہی تھی کہ دل میں کِسی کی محبت لیے اُسے کِسی اَور کی ہمسفر بننا ہے۔۔۔
اُس کی ماں اُسے تیار کرنے کے بعد خود تیار ہونے گئی تھی۔۔۔۔۔کِسی کو بھی نہیں بلایا گیا تھا۔۔دکش نے سنگھ صاحب کو خطرے کے ڈر سے کسی بھی دوست جان پہچان یا رشتےدار کو گھر تک بلانے سے انکار کیا تھا۔۔۔دروازے پر سخت پہرے داری تھی۔۔۔۔صرف منڈپ سجانے اور شادی کروانے والے اندر آپائے تھے وہ بھی دکش کے کہنے پر۔۔۔
آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے جب پیچھے کی کھڑکی پر حرکت محسوس ہُوئی تو اُس نے چونک کر پلٹ کر دیکھا۔۔۔۔
کچھ حیرت اور کچھ خوف سے اپنی جگہ سے اٹھی۔۔۔ چوڑیوں نے شور قیام۔۔۔۔
کھڑکی کھلی تو اُس کا دل دھڑکتے دھڑکتے رکا لیکن جب پورب کو اندر کودتے دیکھا تو دوگنی شدت سے دھڑکا۔۔۔۔۔
پورب۔۔۔۔تم یہاں کیسے۔۔۔۔
وہ حیرت سے اُسے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔۔۔۔۔
مجھے محسوس ہوا جیسے تم نے مجھے پکارا ہے۔۔۔اسلئے میں آگیا۔۔۔۔
وہ اُس کے سامنے آکر رکا جاذب نظروں سے اُس کے دلہن روپ کو نظروں میں بسائے سنجیدگی سے بولا۔۔۔۔۔۔انجو کا دل بھرنے لگا
۔۔آنسوؤں پھر سے جاری ہوئے۔۔۔
پاگل ہو تم۔۔۔۔میں کیوں بلانے لگی تمہیں۔۔۔۔۔
میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے۔۔۔۔
آج شادی ہے میری۔۔۔۔
اُس نے بے رخی سے منہ موڑ کر لگا لیکن بھیگے لہجے نے دل اصل کیفیت زوروں سے واضح کردی۔۔۔
زبان سے کچھ۔۔۔ اور آنکھوں سے کچھ اور کہتی ہو تو دل کے حوصلے بڑھ جاتے ہیں۔۔۔۔۔
پورب نے ہاتھ سے اُس کے چہرے کا رخ اپنی جانب کرتے ہوئے بھیگی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔۔۔۔
پلیز پورب۔۔۔۔جاؤ یہاں سے۔۔۔
وہ بے بسی سے روتی تڑپ کے بولی ۔۔
آج تمہارے بنا نہیں جانے والا میں۔۔۔
پورب نے اُس کے آنسو سمیٹتے ہوئے ضبط سے جواب دیا۔۔۔
بہت بھاگ لیا اپنے آپ سے انجو اب آخری موقع ہے تھام لو میرا ہاتھ۔۔۔۔۔۔اگر اب دیر کردی تو ساری زندگی مجھے تباہ کرنے کے افسوس میں گزار دوگی تم۔۔۔۔
وہ اُس کے خاموش نظروں سے دیکھنے پر پر درد اور جلتے لہجے میں بولا انجو نے اُس کے اپنے قریب بڑھے ہاتھ کو دیکھا۔۔۔۔
مجھ سے نہیں اپنے آپ سے وفا کرلو۔۔۔۔میری نہیں تو اپنی دل کی سن لو۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی اُلجھی پریشان آنکھوں کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔
مام ڈیڈ۔۔۔ ۔۔۔۔
انجو نے روتے ہوئے سر نفی میں ہلایا۔۔۔۔اُنہیں بلا وجہ رسوائی دے کر جانا صحیح نہیں لگا۔۔
سب ٹھیک ہوگا۔۔۔۔۔ٹرسٹ می۔۔۔بس تم میرا ساتھ دو۔۔۔
پورب نے دونوں ہاتھوں سے اُس کا چہرہ تھامتے ہوئے کہا تو وہ اُس کے سینے سے لگ گئی۔۔۔۔
اگر یہ اس کے پاس آخری موقع تھا تو وہ اسے کھونا نہیں چاہتی تھی اُسے اُمید تھی کے اُس کے ماں باپ اُسے معاف ضرور کر دیں گے ۔۔۔آج نہیں تو کل۔۔۔۔
♦♦♦♦
گھر سے باہر کیسے جا سکتی ہے وہ جب کے باہر کِسی گارڈ نے اُسے دیکھا بھی نہیں۔۔۔۔۔۔سچ سچ بتاؤ کہاں ہے انجو۔۔۔
مسز سنگھ نے جب گھبرائے گھبرائے انداز میں اُنہیں انجو کے گھر میں نا ہونے کی اطلاع دی تو اُنہیں شدید جھٹکا لگا پل کے پل میں اُنہوں نے نوکروں سے پوچھ تاچھ ۔۔۔ اُنہیں اُسے ڈھونڈھنے پر لگایا۔۔۔ساتھ ہی اپنی بیوی پر بھی برس پڑے کے کہیں ہمدردی میں خود اُسے کہیں نا چھپا بیٹھی ہو۔۔۔۔
میں آپ سے جھوٹ کیوں بولوں گی۔۔۔
میں اُسے تیار کرکے چینج کرنے گئی تھی جب واپس آئی تو وہ وہاں تھی ہی نہیں۔۔۔۔میں نے پورا گھر دیکھ لیا وہ کہیں نہیں ہے۔۔۔۔
مسز سنگھ آنسو بہاتی غصے اور بے بسی سے بولیں۔۔۔
۔۔اب میں دکش کو کیا جواب دوں گا۔۔۔۔کیسے سامنا کروں گا اُس کا۔۔۔۔۔سب برباد کردیا اس لڑکی نے۔۔۔۔۔
سنگھ صاحب نے کوئی راہ نہ پا کر صدمے سے اپنا سر تھام لیا۔۔۔۔
برے انسان کو اوروں سےبھی برے کی ہی اُمید ہوتی ہے۔۔۔اُنہیں پتہ تھا اپنی ایسی تذلیل دکش برداشت نہیں کریگا اور ایسی صورتِ حال میں جب وہ اُن کے کاروبار اور پوزیشن پر پورا اختیار رکھتا تھا اُس کی ناراضگی اُن کے لیے بہت بھاری پڑ جاتی۔۔۔۔
واقعی سب برباد کر دیا ڈیڈ۔۔۔۔۔
اُن کی بات کے جواب میں جب ویرانش کی آواز خاموش گھر میں اُبھری تو اُنہوں نے حیرت سے اپنے روم کے ساتھ والے کمرے کی جانب دیکھا جس کے دروازے سے ویر انش باہر نکلا تھا۔۔۔۔
وہائٹ پینٹ براؤن شرٹ میں رف سے حلیے اور سرد لیکن غضبناک تاثرات آنکھوں میں لیے۔۔۔
وہ جانتے تھے اُس روم میں ایک خفیہ دروازہ ہے جو ایمیرجینسی سچویشن کے لیے بنایا گیا تھا پھر بھی اُسے اچانک وہاں دیکھ کر صدمے میں تھے اور مسز سنگھ خوش بھی تھیں حیران بھی۔۔۔۔۔
ویر۔۔۔۔۔۔
اُسے محبت سے پکارتی ہوئی اُس کی طرف بڑھی تو وہ آگے بڑھ کر اُن کے گلے لگ گیا۔۔۔نظریں ہنوز باپ کے سوالیہ تاثرات کو جکڑے ہوئے تھیں۔۔۔
تُم یہاں کیسے آئے۔۔۔۔۔اور اس طرح اچانک ۔۔۔۔اگر کِسی کو بھنک بھی لگ گئی تو جانتے ہو نا کتنی بڑی مصبیت آجائے گی۔۔۔۔
اُنہوں نے حیرت اور پریشانی سے کہا تو وہ اُن کی طرف بڑھا۔۔۔
مصیبتوں کے لیے ہمیں کِسی اَور کی ضرورت کہاں ہے ڈیڈ ۔۔۔۔آپ کافی ہے ہمارے لیے۔۔۔۔۔
اُن کے مقابل رکتے ہوئے سنجیدگی سے بولا سنگھ صاحب نے اُس کے لفظوں پر حیرت سے اُسے دیکھا۔۔۔۔
کیا کہنا چاہتے ہو۔۔۔۔۔۔
پیشانی پر بل ڈالے پوچھنے لگے۔۔۔۔
ہاں صاف صاف لفظوں میں بتا دیتے ہے۔۔۔ کیوں کے ہمیں آپ کی ذہنیت اب بچوں سے بھی گئی گزری لگتی ہے۔۔۔
اُس نے غصے سے نظریں پھیریں۔۔۔بھینچے لہجے میں کہا۔۔۔۔ماں لاتعلق کھڑی حیرت سے اُسے دیکھنے لگی
تبھی اُس آدمی کو ہمارا بزنس ہماری پوزیشن یہاں تک کہ ہماری بہن سونپنے سے پہلے آپکو اُس کے بارے میں سب کنفرم کرلینا تو دور سوچنا بھی ضروری نہیں لگا۔۔۔۔۔
اُس نے اُن کی طرف ناگواری اور افسوس سے دیکھ کر کہا۔۔
دکش کو یہاں بھیجنے والے تم تھے۔۔۔۔
میں اچھے سے جانتا ہوں کے تم کبھی کوئی غلط فیصلہ نہیں کرتے تو میں کیوں اُس پر شبہ کرتا۔۔۔۔۔اور اُس نے ہمیشہ ہمارا ساتھ ہی دیا ہے پھر تم کس چیز کو لے کر اتنے پریشان ہو رہے ہو۔۔۔۔۔۔آخر بات کیا ہے۔۔۔
اُنہوں نے حیرت اور غصے سے اپنی صفائی دی وہ انہیں غصے سے دیکھ کر ہنسا۔۔۔
آۓ کانٹ بلیو دز۔۔۔۔۔۔آپکو اپنی نظروں کے سامنے ہو کر بھی کچھ نظر نہیں آرہا ہے ۔۔آپ کو سمجھ نہیں آرہا ہے کے اس وقت آپ اپنے ہی گھر میں قید ہے اور باہر آرمی آفیسرز آپ کی نگرانی کر رہے ہیں۔۔۔۔
اُس نے غضبناک انداز میں دھیمے لہجے میں چلا کر اُن کے سر پر بامب پھوڑا۔۔۔
ہم غلط فیصلہ اسلئے نہیں کرتے کیوں کے ہم آپکی طرح آنکھیں بند کرکے نہیں جیتے ڈیڈ۔۔۔۔۔۔اُس نے کہا وہ دکش ہے اور آپ نے مان لیا ایک بار کنفرم کرنے کی کوشش بھی نہیں کی حالانکہ آپ جانتے ہیں ہمارے کاروبار میں کسی سگے پر بھی حد سے زیادہ بھروسہ کرنا بے وقوفی ہے۔۔۔۔
اُس نے جتاتے ہوئے کہا جب کے وہ سکتے میں تھے اور اُس کی ماں الگ صدمے میں۔۔۔۔۔۔۔
وہ اتنے مہینوں سے آپ کو اپنی اُنگلیوں پر نچاتا رہا۔۔۔ہماری بہن کا استعمال کرتا رہا۔۔۔ہماری آرگنائزیشن کی جڑ تک پہنچ گیا۔۔۔۔۔
آپ کو ذرا بھی اندازہ نہیں ہوا ۔۔۔
اُس کی آواز سخت اور اونچی ہو کر وسیع ہال میں گونجی۔۔۔۔
احساس ہو رہا ہے آپکو کہ اس وقت ہم لوگ کس خطرے میں پھنس چکے ہیں۔۔۔۔۔۔
وہ اُن کے فق چہرے کو دیکھتا سوال کرنے لگا ۔۔۔۔
آج اگر یہ کانفرنس ہوئی اور کوئی ایک بھی پکڑا گیا تو سمجھ لیجئے گا ڈیڈ کہ آپ نے خود کی اور اپنے بیٹے کی قبر کھود لی ہے۔۔۔۔
اگر قانون سے بچ بھی جاتے ہیں تو انڈر ولڈ ہمیں نہیں بخشے گا۔۔۔۔
اُس نے اُنہیں جتا کر باور کرایا۔۔
اتنا بڑا دھوکا کرکے وہ میری بیٹی سے شادی کرنا چاہ رہا تھا۔۔۔۔ایک دفعہ میرے سامنے آجائے میں اُس کے ہزار ٹکڑے کردوں گا۔۔۔۔۔
سنگھ صاحب کا خون کھول اٹھا وہ آگ بگولا ہو کر چلائے
ڈیڈ یہ آپ سے نہیں ہوگا۔۔۔۔۔
اُس نے تاسف سے دیکھ کر سرد جتاتے لہجے میں کہہ کے اُنہیں شرمندہ کیا۔۔۔
ہم نے آپ کا انڈیا سے نکلنے کا انتظام کردیا ہے۔۔۔۔
مام کو لے سیکریٹ ڈور سے باہر نکل جائیے۔۔۔ ہمارے لوگ وہاں موجود ہے۔۔۔۔آپ کو سُرکشت یہاں سے لے جائیں گے۔۔۔
اُن کے کچھ بھی کہنے یہ صفائی دینے سے پہلے ہی بات ختم کرنے والے انداز میں کہا تو وہ گہرا سانس بھر کر رہ گئے
مگر انجو۔۔۔۔۔
اچانک اپنی بیٹی کا خیال آیا ۔۔۔وہ جان چکا تھا اُس کے اور پورب کے بارے لیکِن فلحال اُنہیں بتانا ضروری نہیں سمجھا۔۔۔۔۔۔
آپ اپنی فکر کریں گے تو بہتر ہے۔۔۔۔انجو کو ہم ڈھونڈھ لیں گے۔۔۔
بیزاری سے کہہ کر اپنی بھڑاس نکالی اور منہ پھیر لیا۔۔سنگھ صاحب اپنی بیوقوفی اور دکش کی چالبازی پر کڑھتے ہوئے آگے بڑھے
♦♦♦♦♦♦
نین۔۔۔۔۔دروازہ کھولو پلیز مجھے ٹینشن ہو رہی ہے۔۔۔۔
ریا نے ایک بار پھر اُس کے کمرے کا دروازہ زوروں سے پیٹا تھا۔۔۔۔
دوپہر گزرنے کو تھی اور وہ صبح سے کئی بار نین کو بلانے آئی تھی لیکن وہ نا باہر آرہی تھی نا جواب دے رہی تھی۔۔ریا کو اب صحیح معنی میں اُس کی فکر ہونے لگی۔۔۔
کیا ہوا ریا۔۔۔۔اتنی پریشان کیوں ہو ۔۔۔۔
اُس کی کزن نے اُسے نین کو پکارتے دیکھ پوچھا۔۔۔
کب سے نین کو آواز دے رہی ہوں کوئی رسپانس ہی نہیں دے رہی ہے۔۔۔۔
وہ گھبرائی پریشان حیران سی بڑبڑای ۔۔۔
فکر مت کرو شاید باتھروم میں ہوگی ۔۔۔تم چلو تمہیں تیار ہونا ہے نا۔۔۔۔
اُس کی کزن نے اُسے سمجھاتے ہوئے کہا اور وہاں سے لے گئی لیکن ریا کی ٹینشن ہنوز قائم تھی۔۔۔۔
♦♦♦♦♦
ہم تمہاری قابلیت کی قدر کرتے ہے۔۔۔
بہت امپریس کیا ہے تم نے ہمیں۔۔۔۔۔
اُس کی اُمید کے عین مطابق ویرانش کا فون تھا۔۔۔۔اُس کی پرسکون آواز پر ساحل نے غصے سے دانت بھینچے تو پیشانی کی رگیں اُبھریں۔۔۔
ہم سوچتے رہ گئے کے ہم قانون سے دس قدم آگے ہے اور تم پتہ نہیں کب ایکدم سے سامنے آگئے۔۔۔حیران کردیا ہمیں۔۔۔۔۔
ویر نے ستائشی لہجے میں کہا وہ خاموش رہا۔۔۔
پہلی دفعہ اپنے مقابل کوئی اپنے جیسا ایکسٹرا فارورڈ انسان دیکھ بہت مزہ آیا ہمیں۔۔۔۔
لیکِن مزا اپنی جگہ اور ساؤدھانی اپنی جگہ۔۔۔کیا ہے نا ہم ہار لفظ سے سخت نفرت کرتے ہے اسلئے اُس سے دور ہی رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔
اُس نے مسکراتے مغرور لہجے میں کہہ کے اُس کے تاثرات تصور کیے
۔۔وہ خاموش ہی رہا۔۔۔
کیا ہوا کوئی جواب نہیں دے رہے۔۔۔۔اچھا سمجھے۔۔۔۔اپنی بیوی کے لیے پریشان ہو۔۔۔۔۔۔اتنی محفوظ جگہ رکھا تھا مگر پھربھی فائدہ نہیں ہوا ۔۔۔۔دکھ ہو رہا ہے۔۔۔
ویر نے افسوس سے کہتے ہوئے نظریں اٹھا کر سامنے دیکھا جہاں نازک سے وجود کو رسی میں جکڑ کر اُس کے منہ پر کالے رنگ کی پٹی باندھی گئی تھی۔۔ بال بے ترتیب سے چہرے پر بکھرے ہوئے تھے۔۔۔۔۔آنکھوں سے آنسوؤں کی بارش جاری تھی۔۔۔۔۔۔۔
سسکیاں اندر ہی دم توڑ رہی تھی۔۔
وہ انڈر کنسٹرکشن بلکل کے اکھڑے فلور پر بے حس بےجان سی کِسی سامان کی طرح پڑی تھی ۔۔۔
سوری یار مگر کیا کریں۔۔۔۔تم نے کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑا تھا۔۔۔۔تم نے ہم تک پہنچنے کے لیے ہماری فیمیلی کو انولو کیا اسلئے ہمیں تم تک پہنچنے کیلئے تمہاری بیوی کو اِنوالو کرنا پڑا۔۔۔
وہ اپنی چیئر سے اٹھ کر اُس کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے بولا تو اُس کی نزدیک با نزدیک ہوتی آواز پر وہ سمٹ کر خود کو چھپانے لگی۔۔۔
حالانکہ اُن کی اتنی خوبصورت آنکھوں میں آنسو اور خوف بلکل بھی اچھے نہیں لگ رہے۔۔۔مگر کیا کریں۔۔۔۔
وہ گھنٹہ زمین پر ٹکائے اُس کے سامنے جھکا۔۔۔ ہمدری سے اُس کی بوجھل آنکھوں میں دیکھ کر سنجیدگی سے بولا۔۔۔
کام کی بات کرو۔۔۔۔۔۔
ساحل نے ضبط سے کہا۔۔۔۔
كام کی بات روبرو بہتر ہوگی۔۔۔
اُس نے سکون سے جواب دے کر فون بند کردیا ۔۔۔۔اور اُس کی بیوی کے لبوں کو زخمی کرتی پٹی آہستہ سے نیچے کی۔۔۔۔
اُس نے خوف سے سانس روک کر اُسے دیکھا اور اٹھ کر پیچھے دیوار سے لگ گئی۔۔۔
آپ کو ہم سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔ہم برے کام کرتے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کے ہم انسان بھی برے ہے۔۔۔۔
وہ اُس کی بھیگی خوفزدہ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں بولا۔۔۔
اُس کی خوف سے تیز ہوئیں دھڑکنوں کو سننا مشکل نہیں تھا۔۔۔
خاص کر لڑکیوں کا ہم بہُت سمّان کرتے ہیں اسلئے فکر مت کیجئے آپکو کوئی تکلیف نہیں پہنچائے گے۔۔۔۔ہمیں بس اُس آدمی کو روکنے سے مطلب ہے۔۔۔۔
وہ اُسے تسلی دیتے ہوئے بلکل بھی برا انسان یا کوئی مجرم نہیں لگا ۔۔۔۔وہ اپنی بات ختم کرکے وہاں سے اٹھ گیا اور اپنے آدمیوں کو ہدایت دینے لگا تاکے وہ کسی بھی اچانک حملے کے لیے تیار رہیں۔۔۔
♦♦♦♦♦
مجھے کچھ اچھا نہیں لگ رہا پورب۔۔۔۔
اس طرح گھر چھوڑ کر ڈیڈ اور مما کی مرضی کے بنا شادی کرنا۔۔۔۔میں خود کو معاف نہیں کر پاؤں گی۔۔۔
اُس نے اُداسی سے کہا وہ لوگ میریج کورٹ کے باہر بیٹھتے تھے اُن کا نمبر آنے میں دیری تھی پورب پرسکون تھا مگر انجو کا دل بے حد بوجھل تھا۔
میری بات سنو انجو۔۔۔۔۔
پورب نے دونوں ہاتھوں سے اُس کا چہرہ تھام کر اپنی جانب کیا
میں جانتا ہوں تم یقین نہیں کروگی لیکِن تمہیں بتانا ضروری ہے تاکہ تم گلٹ نا فیل کرو۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ٹہرے ٹہرے لہجے میں بولا تو انجو اُسے نا سمجھی سے دیکھنے لگی ۔۔
پولیس تمہارے ڈیڈ کو گرفتار کرنے والی ہے۔۔۔بلکہ شاید اب تک کر بھی چکی ہو۔۔۔۔
وہ جو اُسے نہیں بتانا چاہتا تھا وہ ہمت کرکے کہہ گیا تاکہ وہ اُن لوگوں کے لیے شرمندہ نا ہو جو اُس کے لائق بھی نہیں ہے
یہ تم کیا کہہ رہے ہو پورب ایسا کیوں کہہ رہے ہو۔۔۔۔۔
انجو نے حیرت اور ناگواری سے سوال کرتے ہوئے اُس کے دونوں ہاتھ چہرے سے ہٹائے
تمہارے ڈیڈ اصل وہ نہیں ہے جو نظر آتے ہیں۔۔۔۔اُن کا تعلق انڈر ورلڈ سے ہے وہ غیر ملکی مافیا کو الیگل مال جیسے ہتھیار اور ڈرگز سپلائے کرتے ہیں اور اس سب میں تمہارا بھائی بھی شامل ہے۔۔۔۔
پورب نے اُس کی حیرت پر تفصیل سے واضح کیا تو انجو کی حیرت غصے میں بدلی۔۔۔
جھوٹ بول رہے ہو تم۔۔۔۔بکواس کر رہے ہو۔۔۔کیوں ایسی باتیں کر رہے ہو پورب۔۔۔۔۔
وہ غصے اور بے بسی سے روتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔۔
میں جانتا تھا کے تمہارے لیے یقین کرنا مشکل ہوگا۔۔۔۔۔اور تمہیں کبھی بتانا بھی نہیں چاہتا تھا ۔۔ ہمیشہ بے خبر رکھنا چاہتا تھا اس حقیقت سے تاکے تمہارا دل نہ ٹوٹے۔۔۔
وہ پر سوز لہجے میں بولا انجو بے یقینی سے اُسے دیکھتی رہی۔۔۔
لیکن اگر آج تمہیں نہیں بتایا تو پھر ساری زندگی تم یہی افسوس کرتی رہو گی گے تم نے اپنے ڈیڈ کے خلاف جا کر مجھ سے شادی کی۔۔۔اُنہیں دکھ دیا۔۔۔۔۔حالانکہ وہ تمہاری خوشی بھی اپنے فائدے کو دیکھ کر پوری کر رہے تھے۔۔۔۔اُنہیں دکش کے ساتھ مل کر اپنے کالے کاروبار کو بڑھانا تھا اس لیے تمہاری شادی کروا رہے تھے ۔۔۔۔
وہ اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر اُسے سنجیدگی سے سمجھانے لگا لیکن و نفی میں سر ہلا کے اُس سے دور ہوئی
بس پورب۔۔۔۔ایک لفظ اور نہیں۔۔۔۔
غصے اور غم سے آنسو بہاتے ہوئے اُسے دیکھا۔۔۔جس کے لیے وہ سب چھوڑ کے آئی تھی وہ اچانک اُس پر حیرت اور دکھ کے پہاڑ توڑنے میں لگ گیا تھا۔۔۔۔اُس کے ڈیڈ جو اُسے اتنا چاہتے ہیں وہ مجرم ہے یہ وہ مر کے بھی نہیں مان سکتی تھی۔
میں تمہارے ساتھ اپنی زندگی کی شروعات تمہیں دھوکے میں رکھ کر نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔
وہ اُسے خفگی سے دیکھ کر وہاں سے جانے لگی تو پورب اُس کا ہاتھ پکڑ کر روکتے ہوئے بولا۔۔۔
ہاتھ چھوڑو میرا۔۔۔۔۔میں نے بہت بڑی غلطی کی تمہارے ساتھ آکر۔۔۔۔۔تم پر بھروسہ کرکے بھول کردی میں نے۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے اُسے دیکھتی آنسُو بہاتے ہوئے بولی۔۔۔
پورب نے اب کے کچھ کہنے کی بجائے اپنا فون نکال کر ایک ویڈیو پلے کی۔۔۔
جس میں سنگھ صاحب دکش کے ساتھ اپنے کاروبار کے متعلق ڈسکس کر رہے تھے۔۔۔اُن کی باتوں سے صاف ظاہر تھا کہ پورب کے لفظوں میں سچائی ہے لیکن انجو کی بھیگی آنکھوں میں بس حیرت ہی حیرت تھی۔۔۔اُس کے ڈیڈ کتنے سکون سے ہتھیاروں اور ڈرگز کے لین دین کو فروخت دینے کے خیالات دکش سے شیئر کر رہے تھے۔۔۔۔
دونوں سے ہی وہ یہ اُمید نہیں رکھتی تھی۔۔۔دل جیسے غم سے بھرتا جا رہا تھا
ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔پورب یہ سچ نہیں ہو سکتا۔۔۔۔
اُس نے ویڈیو مکمل ہونے سے پہلے ہی موبائل دور کرتے ہوئے وحشت زدہ لحجے میں کہا۔۔۔۔۔سانسیں بے ترتیب تھی۔۔چہرے کے رنگ کہیں گُم تھے۔۔۔
پورب نے اُسے بازؤں میں بھر کر سختی سے خود میں بھینچ لیا
♦♦♦♦