Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 34
No Download Link
Rate this Novel
Episode 34
تم دہلی آگئی مجھے بتایا بھی نہیں
اور اب کہہ رہی ہو۔۔۔شادی پر نہیں آسکتی
کم آن ریا۔۔۔۔۔ تمہیں آنا ہی ہوگا۔۔۔۔۔۔
وہ فون پر ریا سے بات کرتی اُس کے نا آنے کی بات پر شکوہ کر رہی تھی۔
سمجھنے کی کوشش کرو نین۔۔۔۔۔ڈیڈ کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے مجھے ایمرجینسی میں یہاں آنا پڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی میرا اُن کے ساتھ رہنا ضروری ہے جب تک وہ پوری طرح ٹھیک نہیں ہو جاتے۔۔۔۔۔۔
ریا نے اُسے بے بسی سے کہا۔۔۔۔۔ورنہ وہ کونسا اپنی بیسٹ فرینڈ کی شادی پر نا جانا چاہتی
لیکِن ریا اگر تم میری شادی میں نہیں رہوگی تو مجھے بلکل بھی اچھا نہیں لگے گا۔۔۔۔۔۔۔میں بلکل انجوئے نہیں کر پاؤں گی اگر میری بیسٹ فرینڈ ہی میرے ساتھ نا ہو
اُس نے اُداسی سے کہتے ہوئے چہرے پر ہاتھ رکھا
تم ایسا کیوں سوچتی ہو کے میں وہاں نہیں ہوں۔۔۔۔تم مجھے اپنے ساتھ ہی سمجھو۔۔۔۔۔۔اورویڈیو کال پر ہم پورا ٹائم کنیکٹیڈ رہیں گے نا۔۔۔۔
ریا نے اُسے سمجھاتے ہوئے کہا
ٹھیک ہے۔۔۔۔۔تمہارا انکل کے ساتھ ہونا ضروری ہے اس لیے میں فورس نہیں کرتی۔۔۔۔لیکِن پکّا تم میرے ساتھ ویڈیو کال پر رہو گی نہ۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے جتاتے ہوئے کہا
افكورز یار۔۔۔۔۔۔۔۔تم بلکل بھی ٹینشن ٹائپ مت لو۔۔۔۔کھل کے انجوئے کرو۔۔۔۔اوکے۔۔۔۔۔
I m always with you۔۔۔۔۔۔
ریا نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔
کچھ دیر وہ ریا سے بات کرتی اُسے داؤد اور باقی سب کے بارے میں بتاتی رہی۔۔۔۔اُس سے اپنے ہر فنکشن کے لک کو لے کر آئیڈیا لیتی رہی۔۔۔
ریا نے اپنے ساتھ اُس کا بھی یونیورسٹی سے ٹرانسفر سرٹیفکیٹ لے لیا تھا اور اب نین کو ممبئی کے ہی کِسی کالج میں ایڈمشن لینا تھا۔۔۔
اس کے لیے وہ جیا سے معلومات لینے کی غرض سے اُس کے روم میں آئی۔۔
جیسے ہی اُس نے دروازہ کھولا جیا جو بیڈ پر گھٹنوں پر سر رکھے بیٹھی تھی ہڑبڑا کے سیدھی ہوئی گھبرائی سی اُسے دیکھنے لگی نین کو اُس کے تاثرات دیکھ کے بے تحاشا حیرت ہوئی
کیا ہوا جیا۔۔۔۔۔۔۔تم ایسے گھبرا کیوں گئی۔۔۔۔۔
وہ اُس کے پاس بیٹھتی ہوئی حیرت سے بولی جیا نے زبردستی مسکراتے ہوئے سر نفی میں ہلا دیا لیکِن و اُس کی آنکھوں سے اندازہ لگا گئی کے وہ رو رہی تھی
سیریسلی کوئی پرابلم لگ رہی ہے مجھے۔۔۔۔۔تم ٹھیک تو ہو نا۔۔۔
اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے فکر مندی سے پوچھنے لگی
مجھے کیا ہونا ہے۔۔۔۔۔بس ایگزام ہے نہ اُسی کی ٹینشن ہے تھوڑی۔۔۔۔۔۔۔
جیا نے بہانا بناتے ہوئے سر جھٹکا
سچ بول رہی ہو۔۔۔۔۔۔بس یہی بات ہے
نین نے اُسے جانچنے ہوئے پوچھا
جیا نے اُس کا ہاتھ پکڑا۔۔۔ایک پل کے لیے سب بھول کر مسکرائی
بلکل سچ۔۔۔۔۔۔میرے بھائی کی شادی ہونے والی ہے تم میری بھابھی بننے والی ہو۔۔۔۔میں کتنی ایکسائٹڈ ہوں لیکن عین شادی کے دو دن بعد میرے ایکزام آگئے نا بس اس لیے غصّہ آرہا ہے۔۔۔کے اب میں تیاری کروں یا شادی انجوائے کروں
وہ اُسے اپنی ٹینشن کا ریزن بتا رہی تھی اور اُس کے نارمل چہرے کو دیکھ کر نین پر سکون ہو کر مسکرائی
پھر ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔لیکِن تمہیں زیادہ کنفیوز ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔تم اپنا سارا فوکس شادی پر رکھو۔۔۔۔ایکسامز تو سال۔میں کتنی بار ہوتے ہے۔۔۔۔بھائی کی شادی تھوڑی نا بار بار ہوتی ہے۔۔۔وہ بھی اتنی اسمارٹ پلس انٹیلیجنٹ لڑکی سے۔۔۔۔
اُس نے سیانے پن سے جواب دیا
یہ بات تو ہے۔۔۔۔۔
جیا سر ہلاتے ہوئے بولی
جیا جیا۔۔۔۔۔۔۔میں اتنی اکسائٹڈ ہوں کے کیا بتاؤں ۔۔۔مجھ سے تو اگلے سات دِن گزرنے کا بھی انتظار نہیں ہو رہا۔۔۔
وہ اُس کے دونوں ہاتھ تھامے جوش میں بولی
پتہ ہے میں سوچ رہی ہوں شادی پر اپنے لیے ایک کول سی اینٹری پلان کروں۔۔۔۔۔سفید گھوڑی پر ایک زبردست آئیٹم نمبر کے ساتھ اگر میں منڈپ میں پہنچوں تو کیسا رہیگا۔۔۔۔۔
نین نے اُسے اپنا ارادہ بتاتے ہوۓ اُس کا مشورہ لینا چاہا وہ کھل کر ہنسی
دنیا کی پہلی دلہن دیکھ رہی ہوں جو اپنی شادی پر دولہے سے زیادہ ایکسائیٹڈ ہے
وہ حیرت اور خوشی سے اُس کے چہرے کو چھوتے ہوئے بولی
آپس کی بات ہے۔۔۔۔۔۔تمہارا بھائی نا ایک نمبر کا بورنگ آدمی ہے۔۔۔۔۔اگر میں اُس کی جگہ ہوتی نا تو شادی کی ڈیٹ آنے کے بعد بھنگڑے ڈال۔کر پوری خاندان کو اپنے ساتھ نچاتی۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے داؤد کی برائی کرتے ہوئے گردن اکڑا کر کہا
بھائی اپنی خوشی دنیا کو نہیں صرف تمہیں دکھائیں گے۔۔۔۔ شادی کے بعد۔۔۔۔۔۔۔
جیا نے شرارت سے ونک دیتے ہوئے کہا۔۔۔
یار مت کرو۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے شرم آرہی ہے
وہ چھوٹی اُنگلی دانتوں میں دباتے ہوئے بولی۔۔۔۔تو جیا کھلکھلا کر ہنس پڑی۔۔۔
اچھا سنو۔۔۔اب تو مجھے پرمنانٹلی یہیں رہنا ہے نہ اس لیے میں نے لندن یونیورسٹی سے اپنا ٹرانسفر سرٹیفکیٹ نکلوا لیا ہے۔۔۔۔ مجھے یہیں کسی اچھے سے میڈیکل کالج میں اپنا ایڈمشن کرنا ہے۔۔۔۔اور اس میں تم ہیلپ کروگی۔۔۔۔۔۔
اُس نے جلدی سے اُسے کام کی بات بتاتے ہوۓ کہا
ویسے ہمارے کالج کی بھی اچھی خاصی ریٹنگ ہے۔۔۔۔
جیا نے سوچنے والے انداز نے اُسے دیکھا
تب توکوئی پرابلم ہی نہیں ہے۔۔۔۔
اُس نے کندھے اُچکاتے ہوئے کہا اور مسکرا دی۔۔۔
جب کے کالج کے ذکر پر جیا کا دھیان ایک بار پھر دشا اور اُس کی دھمکی کی اور چلا گیا اور وہ دوبارہ پریشان ہو گئی۔۔۔اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کے کیا کرے کیسے بچائے خود کو ایک انجانے میں ہوئی بھول کی وجہ سے وہ جان بوجھ کر اتنی بڑی غلطی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔
اُس نے فیصلہ کیا کے و فلحال نا کالج جائے گی نہ اپنا فون آن رکھے گی بس اپنا دھیان داؤد اور نین کی شادی پر رکھ کر اُس بات کو بھول جائے گی۔۔۔
اور شاید تب تک وہ لوگ خود ہی پیچھے ہٹ جائیں
∆∆∆∆ ∆∆∆∆
پورے گھر میں ڈھونڈ لیا یہ فلک مہارانی کہیں نظر نہیں آرہی۔۔۔۔ یہ آجکل کے۔نوکروں کے تو نخرے دیکھنے والے ہو گئے ہے
شیرین بڑبڑا کر مٹھائیوں کے تھال ٹیبل اور رکھنے لگی۔۔۔۔
داؤد اور رابعہ بیگم وہیں بیٹھے تھے۔۔اُس کی بات اور داؤد نے ضبط سے لب بھینچے
بھابھی۔۔۔۔۔۔فلک نوکر نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
اُس نے غصے سے کہا تو شیرین منہ کھولے حیرت سے اُسے دیکھنے لگی
تمہیں باتوں سے فرصت مل گئی ہو تو جا کر باہر دیکھ لو ہلدی کی ساری تیاری ہوئی ہے یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رابعہ نے بیگم نے جلدی سے اُسے ڈپٹتے ہوئے کہا کے کہیں بات بڑھی تو داؤد شیرین کے سامنے نہ کہہ دے فلک اُس کی بیوی ہے۔۔۔
جی بڑی ماں۔۔۔۔۔
شیرین برا سا منہ بنا کے تھال اٹھائے باہر جانے لگی۔۔۔
آج داؤد اور نین کی ہلدی کی رسم تھی جس کا سارا انتظام باہر لان میں کیا گیا تھا۔۔۔۔۔
گزرے ہر دن میں داؤد نے اپنی ماں کو پھر سے غصے سے بے بسی سے سمجھانے کی کوشش کی تھی کے سب کچھ یہیں روک دے لیکِن و بھی اپنی ضد پرر اڑیں ہوئی تھی یہاں تک کہ شادی میں بس دو دن باقی رہ گئے
داؤد نے نا شادی کی تیاریوں میں حصہ لیا تھا نہ شاپنگ میں رابعہ بیگم نے بہُت آرام سے اُس کی بے رخی کو مجبوری بنا کر سب کے آگے بہانے بنا دیے تھے۔اُن کا یقین تھا کہ داؤد اُن کی دھمکی کے آگے مجبور ہو کر نین سے شادی کر لیگا اور فلک کا قصہ خود ختم ہوجائے گا۔۔۔۔
اور داؤد سوچے بیٹھا تھا کے اگر شادی کے دن تک رابعہ بیگم نے اپنے آپ اس جھوٹ کو ختم نہیں کیا تو و خاموشی سے فلک کو لے کر کہیں دور چلا جائے گا۔۔۔
کیوں کے نہ وہ رابعہ بیگم کی قسم توڑ سکتا تھا جو اُسے سب کو سچ بتانے سے روک رہی تھی نہ نین سے شادی کر سکتا تھا۔۔
مام بند کریں یہ سب ۔۔۔۔۔کچھ حاصل نہیں ہونے والا ۔۔۔۔۔میں نین سے ہر گز شادی نہیں کرنے والا۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سب کرکے آپ بات کو بگاڑ رہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ۔ایک دفعہ پھر اُنہیں سمجھانے کی فضول کوششں کرنے لگا
اپنی ماں کو اتنا بے بس دیکھ کر بہُت خوش ہو رہے ہو نا تم۔۔۔۔
دیکھ لو تمہاری وجہ سے کیسے مجھے جھوٹ بولنا پڑ رہا ہے۔بہانے بنانے پڑ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔سب کی نظر میں گرا رہی ہوں میں خودکو
کیا یہ سب میں اپنے لیئے کر رہی ہوں داؤد۔۔۔۔۔
کیا صرف اپنے لیے میں اتنے سارے رشتوں کو خراب ہونے سے بچانے کی کوشش کر رہی ہوں
کیا صرف میں غلط ہوں
تمہاری کوئی غلطی نہیں لگتی تمہیں
رابعہ بیگم اپنی آنکھوں میں آتی نمی صاف کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔وہ پریشان ہو گیا اُن کر قریب ہوتے ہوئے اُن کا ہاتھ پکڑا
مام میں جانتا ہوں غلطی ہوئی ہے مجھ سے
مجھے پہلے ہی پھُوپھی اور نین کو سب بتا دینا چاہیے تھا لیکن وہ حالات ایسے نہیں تھے۔۔۔
اور اب مجھے روک کر غلط کر رہی ہیں مام
وہ بے بسی سے بولا انہوں نے ہے رخی سے اپنا ہاتھ چھڑایا
میں کوئی بحث نہیں چاہتی داؤد۔۔۔۔۔۔۔۔
تیار ہو کر باہر آجاؤ۔۔۔۔آج تمہاری ہلدی ہے۔۔۔۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھتے ہوۓ بولیں
میں اجاؤں گا مام اور دیکھوں گا کب تک آپ اپنی ضد پر اڑ کر نین اور باقی سب کو دھوکا دیتیں ہے۔۔۔۔
وہ تاسف سے کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا
∆∆∆∆∆∆
بھابھی میں کیسی لگ رہی ہوں۔۔۔۔۔
شیرین رابعہ بیگم کے کہنے پر۔اُسے لے جانے آئی تو وہ گول گھومتی ہوئی مسکرا کر پوچھنے لگی۔۔۔۔شیرین نے اُسے سر سے پیر تک دیکھا۔۔۔۔۔لائٹ یلو لہنگے اور ہاٹ پنک کلر کی گلے پر پیلے ڈائمنڈ لگی شارٹ کرتی میں یلو ڈوپٹے کو ایک سائیڈ میں پن کیا ہوا تھا۔۔۔۔
لمبے بال ڈھیلی چھوٹی میں بندھے آگے سے کمر کے نیچے تک جھول رہے تھے۔۔۔۔۔۔جن کی کچھ کھلی لٹیں چہرے کو چھو رہیں تھی
تازہ موتیے کے پھولوں کے زیور پہنے۔۔۔۔۔ہاتھوں میں۔گجرے ڈالے۔۔۔۔۔ہلکے پھلکے میک اپ لگائے کِسی حسین وادی کی حسین شہزادی جیسی لگ رہی تھی۔۔۔۔۔جس کی آنکھیں بے حد مصومیت اور مسکراتے لب بے پناہ خوبصورتی کی مثال تھے۔۔۔
دیکھنے والے کو کیوں نہ اُس سے جلن ہوتی جب وہ مکمل حسن والی لڑکی سنورنے کے بعد کسی کو بھی میسمیرائز کر دینے کا ہنر رکھتی تھی
بہت اچھی لگ رہی ہو اب چلیں۔۔۔۔۔
عشرت نے زبردستی کا مسکراتے ہوئے کڑوے دل سے اُس کی تعریف کی۔۔۔
ایک منٹ بھابھی ۔
وہ جانے کے لیے اُس کا ہاتھ پکڑے پلٹی تو نین نے اُسے روک دیا اور اُسے سر سے پیر تک دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
پیلے رنگ کی پیروں کی چھوتی گاؤن اور پنک دوپٹے میں ہمرنگ جویلری پہنے وہ بھی خوبصورتی میں کم نہیں تھی
لیکن انسانی فطرت ہے کے اپنے سے زیادہ کوئی ہو تو خود میں کمی نظر آنے لگتی ہے
بھابھی آپ تو مجھ سے بھی زیادہ سندر لگ رہی ہے ۔۔۔۔آج تو بھائی کی نظر نہیں ہٹے گی آپ سے۔۔۔۔۔
وہ چہرے پر ہاتھ رکھے حسرت بھرے انداز میں بولی۔۔۔۔شیرین کا چہره خوشی سے گلاب کی طرف کھل اُٹھا
بلش کرتے ہوئے تو آپ بلکل نئی نویلی دلہن لگ رہی ہے۔۔۔اللہ کسی کی نہ نظر نا لگے میری بھابھی کو۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے فلائنگ کِس کرکے دونوں ہاتھوں سے بلائیں لیتے ہوئے بولی۔۔۔۔
شیرین افسوس اور شرمندگی سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔وہ کتنی جلدی دل جتنا جانتی تھی لیکن ہرس اور جلن بار بار اُن دونو کو نین کو دشمن سمجھنے پر مجبور کر دیتے تھے
ہمیشہ دونوں نے اُس کا برا سوچا تھا اُس کی انسلٹ کرنے کے لیے نئے نئے طریقے سوچے تھے۔۔۔
لیکِن وہ نا اُن کی بیزاری محسوس کرکے کبھی برا مانتی تھی نا کبھی اُن کی مذاق میں کی گئی کڑوی باتوں کو سیریس لیتی تھی۔۔۔۔بلکہ وہ تو اپنی انسلٹ ہونے پر خود بھی ہنسنے میں اُن کا ساتھ دیتی تھی۔۔۔
کیا ہوا بھابھی۔۔۔۔۔۔ایسے کیا دیکھ رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔چلنا نہیں کیا
نین نے اُسے سنجیدہ دیکھ کر حیرت سے پوچھا شیرین نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا اور آنکھ کے کنارے کو چھو کر کاجل اُس کے کان کے پیچھے لگایا
تمہیں بھی کسی کی نظر نہ لگے۔۔۔۔۔اب چلو
مسکرا کر بولی اور اُسے اپنے ساتھ لے کر نیچے جانے لگی۔۔۔
گھر میں کوئی نہیں تھا شاید سب لان میں موجود تھے کیوں کے سارا انتظام وہیں کیا گیا تھا
آج اُس کی ہلدی تھی۔۔۔کل۔مہندی اور پرسوں شادی۔۔۔۔۔
اُس کے احساسات ہی بدلے ہوئے تھے۔۔۔۔
دل ایک نئی لے پر دھڑک رہا تھا۔۔۔۔
آنکھیں دن رات خواب بننے میں مصروف تھی۔۔۔
اب بھی اُس کے دل کی حالت عجیب ہو رہی تھی۔۔۔۔
بھابھی جب آپ کی شادی ہونے والی تھی تو کیا آپ کا دل بھی ایسے ہی دھک دھک کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔یا مجھے کوئی بیماری ہو گئی ہے۔۔۔۔۔
وہ لہنگے کو ہاتھوں میں پکڑے دھیرے دھیرے سیڑھیاں اترتے ہوئے شیرین کو دیکھ معصوم شکل بنا کر پوچھنے لگی شیرین نے ہنسی دبائی۔۔۔
گھبراؤ مت یہ تو ابھی شروعات ہے۔۔۔۔اس دھک دھک کا اصلی مزا تو ویڈنگ نائٹ کے وقت پتہ چلے گا۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے معنی خیز نظروں سے دیکھتے ہوئے شرارت سے بولی۔۔۔۔وہ ایکدم سے نظریں جھکا گئی۔۔۔۔۔۔
چہرے پر ڈھیروں شرم نے آکر اُسے مزید نکھار دیا۔۔۔۔۔
وہ خود کو لا پرواہ ظاہر کرتی آس پاس ہوئی سجاوٹ کا جائزہ لینے لگی۔۔
Good evening ma’am۔۔۔۔۔۔۔
وہ سیڑھیوں سے اُترے ہی کے باہر سے آتی بلیک پینٹ کورٹ میں مبلوس لڑکی دونوں کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی
اچھا ہوا تم یہاں آگئی۔۔۔۔۔تم نین کو باہر لے جاؤ میں داؤد کو دیکھتی ہوں وہ ریڈی ہے یا نہیں۔۔۔۔۔۔
شیرین نے اُسے دیکھ کر نین کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے کہا
نین یہ شیزا ہے شادی کا سارا مینیجمنٹ بڑی ماں نے اسے ہی سونپا ہے۔۔۔۔اور شیزا یہ نین ہے ہماری ہونے والی دیوارنی ۔۔۔۔۔تمہیں باقی سب کاموں کے ساتھ نین پر سب سے زیادہ دھیان دینا ہے اگر اس کی فرمائش میں کوئی بھی کمی ہُوئی نا تو بڑی کو تم نہیں جانتی۔۔۔۔۔۔
شیرین دونوں کا تعارف کرتے ہوئے آخر میں اُسے جتاتے ہوئے بولی تو نین مسکرا دی
ڈونٹ وری میم۔۔میں پورا خیال رکھوں گی۔۔۔۔۔
شیزا نے مسکراتے ہوئے کہا شیرین دوسری طرف جانے والی سیڑھیوں کی طرف داؤد کے کمرے میں جانے لگی اور شیزا نین کو اپنے ساتھ باہر لیجانے لگی لیکن وہ اچانک ہی رک گئی
ارے میں اپنا فون تو روم میں ہی بھول گئی ۔۔۔۔۔اب میں پکس کیسے بناؤں گی۔۔۔۔۔
اچانک سے یاد آنے پر منہ بنا کر بولی
کوئی بات نہیں میم۔۔۔۔۔میں ابھی لے آتی ہوں۔۔۔۔۔
شيزا نے جلدی سے کہا اور اوپر کی طرف بڑھی
وہ اپنے لہنگے کو دونوں ہاتھوں سے اوپر کرتی آہستہ آہستہ قدم آگے بڑھانے لگی ۔۔۔
اُس نے ہمیشہ پینٹ شرٹ ہی پہنے تھے لہنگے کو سنبھالنا اُس کے لیے مشکل ترین کام تھا۔۔۔
اُس کا پورا دھیان نیچے تھا اس لیے ساحل کو اندر آتے دیکھ نہیں پائی
اُس کی جلد بازی اور اپنی بے توجہی کے وجہ سے اُس سے بری طرح ٹکرائی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جو پورا فون میں گھسا تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا اُس سے ٹکراتے ہی ہوش میں آیا اور وہ نیچے گرتی اس کے پہلے اُسے کمر سے تھام لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں سختی سے میچ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل خوف کے۔مارے اتنی زور سے دھڑکنے لگا کے ساحل نے اُس کے پورے بدن میں لرزش محسوس کی
ساحل کی نظریں اُس کے چہرے کے نقوش میں اُلجھ سی گئی۔۔۔۔
اُس کا دھڑکتا دل ساکت ہو گیا۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے بازو کے سہارے آدھی پیچھے کو جھکی ہوئی تھی اور وہ اُسے سیدھا کرنے کی بجائے تھم کر اُسے دیکھنے میں مصروف تھا۔۔۔۔۔
موتیے کی خوشبو اُس کے حواسوں کو قابو کرتی اُس سحر کو مزید مضبوط کرنے کا کام کر رہی تھی
نین کو جب اپنی ہڈیاں نا ٹوٹنے کا یقین ہوا تو اُس نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں۔۔۔۔اور ساحل کو اپنی جانب اتنی گہری نظروں سے دیکھتے اُس کی پیشانی پر بل پڑے۔۔۔۔۔
اُس نے آنکھیں چھوٹی کرکے اُسے گھورا۔۔
ابھی وہ اُسے کچھ کہتی کے اچانک ہی اُس کے کانوں میں خوبصورت سا میوزک گونجنے لگا۔۔۔۔اُسے حیرت کا جھٹکا لگا۔۔۔۔۔
ساحل بھی ایکدم سے ہوش میں آیا اور اُسے سیدھا کرکے اُس سے دور ہوا۔۔۔۔۔دل ہی دل۔میں اپنی بد حواسی پر خود کو گالی سے نوازا۔
جب کے نین تو ایک نئے صدمے میں تھی کے اچانک اُس کے دل میں گٹار کیوں بجنے لگے۔۔۔۔۔وہ بھی دنیا کی سب سے فیمس رومینٹک دھن میں۔۔۔
ایسا تو فلموں میں ہوتا ہے جب ہیرو ہیروئن آپس میں ٹکراتے ہے۔۔۔
لیکن ماما کے بیٹے سے ٹکرا کے اُس کو ہیروئن والی فیلنگ کیوں آرہی تھی
یہ میرے کانوں میں ڈی ڈی ایل جے کا میوزک کیوں بج رہا ہے۔۔
وہ کان میں اُنگلی گھسائی صدمے سے بڑبڑا ئی ساحل نے اُس کی ایکٹنگ پر آنکھیں گھمائی
ایڑی۔۔۔۔۔ تیرے کان میں نہیں میرے موبائل میں بج رہا۔۔۔۔رنگ ٹون ہے میرا۔۔۔۔۔
وہ موبائل اُس کے سامنے لہراتے ہوئے بولا نین نے سکون کی سانس لی اور غصے سے اُسے دیکھا
ایسی بھی کوئی رنگ ٹون رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے لگا کہ ایس۔آر ۔کے آگیا۔۔۔۔۔۔میرے آس پاس ایکدم سے سرسوں کے کھیت لہلہاتے لگے۔۔۔۔اچانک سے موسم رومینٹک ہو گیا۔۔۔ہائے
وہ حسرت بھرے انداز میں بولی اور اُسے پھر گھورا
کہاں یشراج فلمز کے ہیرو اور کہاں تم۔۔۔۔
اُسے سر سے پیر تک دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔جو آدھی کھلی بلیو چیک کی شرٹ میں ہمیشہ کی طرح لاپرواہ گھوم رہا تھا
ایک بات بتا۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے سنجیدگی سے اُسے مخاطب کیا
پوچھو۔۔۔۔۔۔
نین نے گردن اکڑا کر احسان کرنے والے انداز میں کہا
تُو بچپن سے ایسی ہے یا بعد میں کوئی خاص آپریشن کیئلا ہے
وہ نہایت سنجیدگی سے دونوں ہاتھ کمر پر رکھے اُسے دیکھنے لگا
میں تو بچپن سے جینیئس ہوں۔۔۔۔مجھے تو لگتا ہے بچپن میں پولیو کی جگہ سمارٹنز کے قطرے پلائے گئے تھے مجھے
اگر تمہیں کبھی بھی کوئی ٹپ چاہیے ہوگی تو پوچھ لینا شرمانا مت۔۔۔۔۔۔
اُس نے چہک کر جواب دیا ۔۔۔وہ اُس کی سمارٹنز پر دانت پیش کر قریب سے گزر گیا۔۔
میم۔۔۔۔۔۔آپ کے فیانسی بہُت ہینڈسم اور گڈ لکنگ ہے۔۔۔۔۔
شیزا اُس کی طرف فون بڑھاتے ہوئے مسکرا کر بولی۔۔اُن دونوں کو ساتھ دیکھ کے وہ اس لیے رک گئی تھی کے شاید یہی دونوں دولہا دلہن ہے
یہ اور میرا فیانسے۔۔۔۔۔۔۔
نین نے اوپر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آنکھیں بڑی کرکے حیرت ظاہر کی
۔اس کو تو میں شادی کے دن اپنا دوپٹہ سنبھالنے کے لیے بھی نا رکھوں۔۔۔
وہ شیزا کے نزدیک ہو کر مسکراہٹ دبائے ہوئے بولی شیزا اُس کے انداز پر ہنس دی
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
دیور جی۔۔۔۔۔۔۔تیار ہو گئے ہو تو باہر آجائیں بڑی ماں بلا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔سب مہمان آچکے ہیں
شیرین نے باہر سے ہی آواز لگائی اُس نے بالوں میں برش کرتے ہوئے سنجیدگی سے دروازے کو دیکھا اور پھر فلک کی جانب جو بیڈ پر بیٹھی اُسے ہی دیکھ رہی تھی
سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں آپ کو جانا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے شیرین کے بلاوے کو نظر انداز کرتے دیکھ بولی
کیا تمہیں بلکل بھی برا نہیں لگ رہا فلک۔۔۔۔۔۔
میرے نام سے کسی اور کو ہلدی لگائی جا رہی ہے کیا تم ذرا بھی پریشان نہیں ہو۔۔۔۔
وہ دکھ و افسوس سے بولا فلک اُس کی گلہ کرتی نگاہوں سے گھبرا کر نظریں جھکا گئی
کتنا جان لیوا احساس ہے جب آپ کسی کو بے پناہ چاہے اور اُس کے دل میں آپ کے لیے کوئی جذبات نا ہو ۔۔۔۔اُسے آپ سے کوئی فرق ہی نا پڑے۔۔آپ اکیلے اُس کے لیے تڑپتے رہے اور وہ بے حس بنا دیکھتا رہے۔۔
وہ پیلے کرتے پر پنک اور یلو ڈیزائن کا واسکٹ پہنتے ہوئے اُداسی سے بولنے لگا
آپ کے لیے جذبات ہے۔۔۔۔۔
فلک نے سر جھکائے آہستہ سے کہا تو داؤد حیرت سے پلٹ کر اُسے دیکھنے لگا
میرے دل میں بھی آپ کے لیے بے پناہ عزت ہے
اسی لئے میں چاہتی ہوں کے آپکو ایک خوشیوں بھری زِندگی ملے۔۔۔۔۔۔۔۔جو میرے ساتھ ہونے سے نہیں مل سکتی۔۔۔۔۔
وہ سر جھکائے کہتی پل میں اُس کی ساری خوشفہمی دور کر گئی
نہیں چاہیے مجھے ایسے جذبات ۔۔۔جو مجھے سمجھ ہی نہ سکے۔۔۔۔۔میں تو چاہتا ہوں کے میرے دور جانے پر تم میرا منہ توڑ دو۔۔۔۔۔
میری خاطر دنیا کی ساری عورتوں سے بال پکڑ پکڑ کر لڑو۔۔۔
لیکِن یہاں تو سارا نظام الٹا ہے۔۔۔۔۔۔
وہ اُداس سا مسکرا کر واسکٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔فلک نے پریشان ہو کر اُسے دیکھا
جا رہا ہوں میں۔۔۔۔۔تم یہیں رہنا ۔۔۔۔۔۔باہر آکر میری ہلدی انجوئے کرکے نیک ہونے کے سارے ریکارڈ توڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔
وہ خفگی سے کہتا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
وہ جب تک گھر میں ہوتا تھا فلک کو اپنے کمرے میں ہی رکھتا تھا۔۔۔۔۔اُس کے جانے کے بعد وہ سب کی نظروں سے بچ کر باہر نکل آتی تھی۔۔۔۔
تاکہ کوئی داؤد اور اُس کے رشتے کے بارے میں شک نا کرے۔۔
ورنہ رابعہ بیگم غصّہ ہو جاتیں
∆∆∆∆∆∆∆∆
