Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 94

Episode 94
ریا شاپ سے باہر نکلی تو اُسے روتے دیکھ اور سارے شاپنگ بیگ زمین پر پڑے دیکھ حیرت سے اُس کی طرف بڑھی۔۔
کیا ہوا نین۔۔تم رو کیوں رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے پاس آکر حیرت سے پوچھنے لگی کیوں وہ رونے والوں میں سے نہیں رلانے والوں میں سے تھی۔۔۔
نین نے بھیگی نظریں خالی جگہ سے ہٹا کر ریا کی طرف دیکھا۔۔
ریا۔۔۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔وہ لڑکی اُسے اپنا ہسبنڈ کہہ رہی ہے۔۔۔۔۔
وہ خود کو دکش سنگھانیا بتا رہا ہے
مجھے۔۔۔مجھے پہچاننے سے انکار کر رہا ہے۔وہ ۔۔۔۔۔
وہ بدھواسوں کی طرح ادھر اُدھر دیکھ کر بڑبڑانے لگی تو ریا کو اس کی فکر ہونے لگی کیوں کے تھوڑی دیر پہلے تک وہ بلکل نارمل تھی اور اچانک جیسے کِسی گہرے صدمے میں چلی گئی تھی۔۔
کون۔۔۔۔کس کے بارےمیں بات کر رہی ہو تم نین۔۔۔۔۔۔
ریا نے اس کے شانوں پر ہاتھ رکھے پوچھا
میں مانتی ہوں وہ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔
میں نے اُسے فورس کیا تھا اس شادی کے لیے
ہماری کبھی آپس میں نہیں بنتی۔۔۔
میں بہُت تنگ کرتی ہوں اُسے۔۔۔
بات بات پر سناتی ہوں۔۔۔
ٹھرکی لوفر ہونے کے طعنے دیتی ہوں لیکن۔۔
لیکِن وہ ایسا نہیں کر سکتا میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔
میں اُسے ایسا نہیں کرنے دوں گی ریا۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے آنسُو کے روکنے کی کوشش میں ہچکیاں لیتی سر نفی میں ہلاتے ہوئے بولی۔۔ ۔۔۔
ریا کے ہاتھ اپنے بازو سے ہٹا کر آگے بڑھی اور کانچ کی دیوار سے نیچے جھانکا تو ساحل اُس لڑکی کے ساتھ گراؤنڈ فلور پر تھا وہ اپنے آنسُو صاف کرکے رونے والے تاثرات چہرے سے ہٹاکر غصے سے دونوں کو دیکھتی نیچے چل دی
ریا نے اس کی نظروں کے تعاقب میں نیچے انجو کو دکش کے ساتھ دیکھا تو اس کی پیشانی پر لکیریں اُبھری کے آخر نین دکش سنگھانيا کو اپنا شوہر کیوں کہہ رہی ہے۔۔
وہ اپنی غلط فہمی میں کچھ اُلٹا سیدھا نہ کردے اس لیے ریا خود بھی جلدی سے نیچے چل دی
وہ دونوں مال سے باہر کی طرف بڑھ رہے تھے کیوں کے نین سے ٹکرانے کے بعد دکش کا موڈ بدل چکا تھا۔۔۔۔ اور اُس کی سیریس شکل دیکھ انجو کی کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔۔۔۔اسلئے وہ خاموشی سے اُس کے ہمراہ آگے بڑھتی جا رہی تھی۔
دونوں ایکزٹ سے تھوڑی دوری پر تھے جب پیچھے سے دکش کو ایک زرو دار لات پڑی۔۔۔
اتنا اچانک اور پُر زور حملا تھا کے وہ سنبھل نہیں پایا اور دھڑام سے فرش پر منہ کے بل گرا انجو نے صدمے سے منہ پر دونوں ہاتھ رکھ لیے۔۔آس پاس سے گزرتے لوگ بھی چلتے چلتے رک گیے۔۔۔۔۔
اُس نے دونوں ہتھیلیاں زمین پر رکھے دانتوں کو سختی سے بھینچ کر آنکھیں ضبط سے بند کی۔۔۔
انجو دکش سے نظر ہٹا کر اُس پاگل لڑکی کو دیکھنے لگی جو ہاتھ جھاڑتی ہُوئی مزے سے دکش کو دیکھ رہ تھی
آس پاس کے لوگ ہنس رہے تھے۔۔اور ریا پریشانی سے سر تھام کر کچھ دوری پر رک گئی تھی۔۔۔
وہ زمین سے اٹھ کر اُس کی جانب مڑا اور غصے سے رنگ بدلتی آنکھوں سے اُسے دیکھا
کیوں ہسبنڈ سائیں۔۔,۔۔۔۔۔کچھ یاد آیا۔۔
وہ اُس کی سرد سخت نگاہوں کو خاطر میں نہ لاتے اپنی خوبصورت آنکھوں کو معصومیت سے جنبش دیتے ہوئے بول کر اسے مزید سلگا گئی ۔۔اور آس پاس کے لوگ اُس کے تاثرات انجوئے کرنے لگے۔۔۔۔ انجو نے پہلی دفعہ اُسے غصے سے دیکھا۔۔۔
دکش سرخ آنکھوں میں ناگواری لیے اُس کے لبوں کی مسکان دیکھ ایکدم سے آگے بڑھا اور پوری قوت سے اپنا ہاتھ اُٹھایا ۔۔۔۔۔
نین کا دل ایک دم سے رک گیا۔۔۔ اُس نے آنکھیں میچ لی۔۔۔۔۔ریا بھی اپنی جگہ گھبرا گئی اور انجو بھی پریشان ہو گئی۔۔۔
دکش کا ہاتھ اس کے چہرے کے ایک انچ دوری پر آکر رک گیا
نین نے گھبرا کر لرزتی آنکھیں کھولیں۔۔۔اور پھر رکی سانس بحال کرتے ہوئے سہمی سرخ نظروں سے اُسے دیکھا۔۔
دکش نے دانت بھینچتے ہوئے اس ہاتھ کی مٹھی بنا کر واپس کھینچا اور اس کی جانب اُنگلی اٹھائی
لڑکی ہو اس لیے اپنے ہاتھ کو روک لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن آئندہ مجھ سے بد تمیزی کی تو یہ لحاظ بھی نہیں کروں گا۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے وارن کرتے ہوئے لہجے میں نفرت ہی نفرت لیے بولا نین ساکت سی شکوہ کناں نظروں سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔ساحل بھول کر بھی کبھی اُس پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتا تھا۔۔۔۔۔وہ تو اُس کی ہزار بدتمیزیاں سہہ کر بھی کبھی اُس کے ساتھ اتنا سخت نہیں ہوا تھا۔۔۔اُس کے بیگانے رویے سے دل میں درد سا اٹھنے لگا اور آنکھیں نم ہونے لگی
دکش غصے سے ایک نظر پہلے نین اور پھر اطراف کے تماشائیوں پر ڈالتا وہاں سے باہر نکل گیا تو انجو جلدی سے اس کے پیچھے دوڑی کیوں کے غصّے میں وہ آپے سے باہر ہو جاتا تھا۔۔اور وہ اس وقت اسے اکیلے نہیں چھوڑنا چاہتی تھی
لوگ اپنے اپنے راستے چل دیئے تھے جب کے وہ وہی کھڑی اُس کے غائب ہونے لے باوجود اُسی جگہ کو دیکھتی یہ سوچ رہی تھی کے کیا واقعی اس نے غلطی کر دی۔۔۔کیا واقعی وہ ساحل نہیں کوئی اور ہے۔۔۔
نین ۔۔۔۔۔
ریا کے پکارنے پر نین نے اس کی طرف دیکھا جو اس کے لئے بے حد پریشان تھی۔۔اور بری طرح اُلجھی ہوئی بھی ۔۔۔
وہ آس پاس کے لوگوں کو چہ میگوئیاں کرتے دیکھ نین کا ہاتھ تھامے اُسے باہر لے آئی ۔۔
مجھے لگتا ہے نین تمہیں کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔یہ ساحل کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔یہ دکش سنگھانیه ہی ہے۔۔۔میں بہت پہلے سے جانتی ہوں اسے۔۔۔۔۔۔۔
وہ جو اپنے آپ سے سوال و جواب میں مصروف تھی ریا کی بات پر حیرت سے اُسے دیکھا
اسی سے تو میری فرینڈ انجو کی شادی ہونے والی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔جس کے بارے میں میں نے تمہیں بتایا تھا۔۔۔
ریا نے بھی اُلجھے ہوئے انداز میں اُسے بتایا جب کے اب اس نے شادی ہونے والی ہے بات پر زیادہ غور کیا۔۔۔۔۔۔کم سے کم انجو کا اُسے اپنا ہسبنڈ کہنا تو جھوٹ ثابت ہوا تھا جس سے اُس کا ایک بڑا بوجھ کم ہوگیا تھا۔۔۔۔
لیکِن اب بھی کئیں الجھنیں تھی۔۔۔
کئیں سوال تھے۔۔۔۔جن کے جواب سوچ سوچ کر ذہن سن ہو رہا تھا۔۔
گھر چلتے ہے۔۔
ریا نے دکھ سے اُس کے پُرسوچ پریشان چہرے کو دیکھتے ہوئے آہستہ سے کہا اور اُس کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھی
∆∆∆∆∆∆∆∆

اگر وہ ساحل ہوتا تو تمہیں پہچاننے سے انکار کیوں کرتا ۔۔۔وہ دکش ہی ہے نین۔۔میں کئیں بار اُس سے مل چکی ہوں۔۔۔۔۔ اُس کے ڈیڈ فیمس بزنس ٹائیکون تھے اور وہ ابھی ابھی نیویارک سے آیا ہے۔۔۔۔وہ اور انجو پچھلے ایک مہینے سے ریلیشن شپ میں ہے۔۔۔۔اور یہ تصویریں ۔۔۔انہیں دیکھ کر بھی پتہ لگ رہا ہے کے دونوں میں تھوڑی بہت مشابہت ضرور ہے لیکن دونوں الگ الگ ہے۔۔۔
اکثر ایسا اتفاق ہوتا ہے۔۔۔۔
واپس گھر آنے کے بعد بھی گھنٹوں سے ریا ایک ہی بات اُسے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی کے وہ دکش ہے اور نین اپنی ہی بات پر اڑی ہوئی تھی کے وہ ساحل ہے۔۔
اُس کے پاس اپنا فون تو نہیں تھا۔۔لیکِن سوشل اکاؤنٹس پر اپلوڈ کی ہوئی تصویریں وہ اُسے دکھا چکی تھی۔۔۔۔
ریا کو نین نقش ایک ہونے کے باوجود دکش اور ساحل دونوں الگ لگ رہے تھے۔اور یہی وہ نین کو سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔
وہ سب مجھے نہیں معلوم ریا میں بس یہ جانتی ہوں وہ ساحل ہے۔۔اور اس چیز کو لے کر مجھے کوئی کنفیوزن نہیں ہے۔۔۔۔کوئی ڈاوٹ نہیں ہے۔۔۔میں ہنڈریڈ پرسنٹ شیور ہوں۔۔میں اُسے پہچاننے میں کبھی غلطی نہیں کرسکتی ریا پلیز ٹرسٹ می۔۔۔
وہ اپنی بات پر قائم تھی ۔۔۔۔اور ریا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اُسے بھی یقین دلانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
تو پھر تمہیں یہ بات ماننی پڑےگی نین کے ساحل نے تمہیں چیٹ کیا ہے۔۔۔دھوکہ دیا اُس نے۔۔۔۔ پہلے تمہیں اور اب شاید انجو کو۔۔۔
ریا نے افسوس اور دکھ سے اُس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔وہ رو نہیں رہی تھی لیکن آنکھوں کے سرخ کنارے اندرونی بےچینی کا ثبوت تھے۔۔
نین نے نظریں پل بھر کو دوسری طرف کرکے ساحل کے کہے آخری تین الفاظ کو یاد کیا۔۔۔اور سمجھنے کی کوشش کی کے کیا وہ جھوٹ فریب یا دھوکے کا حصہ ہوسکتے ہے لیکن دل نے ماننے سے انکار کیا تو وہ سر ہلا کر دوبارہ ریا کی طرف دیکھنے لگی۔
نہیں ایسا نہیں ہے۔۔جتنا مجھے اس کے ساحل ہونے کا یقین ہے اتنا ہی اس بات پر بھی یقین ہے کہ وہ مجھے چیٹ نہیں کرسکتا۔۔۔۔
اُس نے ریا کی طرف دیکھتے ہوئے پر اعتماد لہجے میں کہا۔۔اگر اُس کا ذہن اُسے بھٹکا بھی رہا تھا لیکن وہ بس دل کی ماننا چاہتی تھی۔۔ ۔۔۔ریا نے جھنجھلا کر آپ ہاتھ جھٹکا
حد ہوگئی نین۔۔۔۔نا تم یہ ماننا چاہتی ہو کے وہ ساحل نہیں دکش ہے نہ تمہیں یہ ماننا ہے کہ وہ دھوکے باز ہے۔۔۔۔۔ تمہیں سمجھ آرہا ہے کچھ کے تم کیا کر رہی ہو۔۔۔۔
ارے اگر وہ ساحل ہے۔۔۔ اور اتنا ہی سچا اور اچھا ہے تو تمہیں پہچاننے سے انکار کیوں کر رہا ہے انجو کے ساتھ کیوں ہے۔۔۔۔۔۔
ریا اُس کی بیوقوفی پر غصے سے بھڑک کر اُس کی عقل پر ماتم کرنے لگی۔۔۔۔
بس ایک یہی بات تو مجھے سمجھ نہیں آرہی ریا کے وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔۔۔۔مجھے لگتا ہے ضرور اس کے پیچھے کوئی وجہ ہے۔۔۔۔۔۔
وہ بےبسی سے سر تھام کر بولی
اور وہ وجہ کیا ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔
ریا کو اُس کے جذباتی پن پر سخت غصّہ آرہا تھا
وہی تو میں سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔۔۔۔
وہ پرسوچ نظروں سے ادھر اُدھر دیکھتی ایک خیال آتے سیدھی ہوئی۔۔۔
ریا کہیں۔۔۔۔
اور ریا کی طرف دیکھا تو ریا بھی اشتیاق سے اُس کی طرف متوجہ اُس کے بولنے کا انتظار کرنے لگی
کہیں اُس کی یاد داشت تو نہیں چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے اُنگلی سے نچلے لب کو دباتے ہوئے کہا تو اُس کی بات پر ریا جو کوئی قابل یقین وجہ کی اُمید میں سنجیدگی سے اُسے سن رہی تھی اُسے گھور کر رہ گئی۔۔
۔۔۔میں نے اُسے کہا تھا کے جلدی واپس آنا ۔۔۔۔شاید میری خاطر وہ جلدی واپس آنا چاہتا ہو گا اس لیے بہت تیز گاڑی ڈرائیو کر رہا ہوگا۔۔۔اور اندھیری رات میں اُسے سڑک کے بیچ و بیچ بڑا سا کھڈہ نظر نہیں آیا ہوگا گاڑی اُس کھڈے کی وجہ سے ان بیلنس ہو کر ایک بڑے سے پیڑ سے ٹکرا گئی ہوگی۔۔۔
ریا کے گھورنے کے باوجود وہ اپنی ہی دھن میں سامنے دیوار پر نظریں جمائے اپنی کہانی بن رہی تھی اور چہرے کے تاثرات ایسے تھے جیسے نظروں کے سامنے سارا منظر ہو۔۔۔
اور ریا حیرت سے پیشانی پر۔بل ڈالے اُس کی باتیں سن رہی تھی۔۔
اُس کے سر پر بہُت گہری چوٹ لگ گئی ہوگی جس کی وجہ سے وہ بے ہوش ہوگیا ہوگا۔۔۔۔اُس وقت ضرور وہ لڑکی اُسی راستے سے گزر رہی ہوگی اور ساحل کو سڑک پر خون سے لت پت دیکھ اُس کے دل میں انسانیت جاگ گئی ہوگی اور وہ اُسے اپنی گاڑی میں ڈال کر ہاسپٹل لے گئی ہوگی۔۔
جیسے جیسے نین کی کہانی آگے بڑھ رہی تھی ریا کا بی پی بھی بڑھتا جا رہا تھا۔۔۔کہانی سے زیادہ سیریس اُسے نین کے ایکسپریشن لگ رہے تھے جس پر کبھی حیرت اور کبھی تاسف سے اُسے دیکھتی۔۔غصّہ ضبط کر رہی تھی
پھر ڈاکٹروں نے آناً فانا میں سارے اسٹاف کو جگا کر اُس کا علاج شروع کیا ہوگا اور آپریشن کے دو دن بعد وہ ہوش میں آیا ہوگا تب اُس کی یادداشت کھو چکی ہوگی۔۔۔اُسے اپنی بیوی اپنا نام اپنی فیملی سب بھول چکی ہوگی
وہ پریشان ہو کر وہاں سب سے پوچھ رہا ہوگا کے میں کون ہوں میں کون ہوں۔۔ اور اُس لڑکی نے بیزار ہو کر کہہ دیا ہوگا کے تم دکش سنگھا نیہ ہو ۔۔۔
بس تبھی سے وہ خود کو دکش سمجھنے لگ گیا ہوگا۔۔۔۔۔
نین کی کہانی سن کر ریا آس پاس نظریں گھماتی ہوئی سوچ رہی تھی کے کس دیوار سے اپنا سر پھوڑے۔۔جب کے نین ساحل کی بے بسی کا سوچ کر رونے کو ہو گئی تھی کے اُس نے کتنی تکلیف سہی ہے۔۔۔
اور وہ تمہاری انجو۔۔۔اُس نے سوچا ہوگا فری فنڈ میں اتنا ہینڈسم آدمی مل رہا ہے تو ایڈوانٹیج لے لوں۔۔۔۔سو چپک گئی اُس کے ساتھ۔۔
ساحل سے دھیان ہٹا کے وہ انجو پر فوکس کرتی ہوئی ریا کی طرف متوجہ ہو کے منہ بگاڑ کر بولی جب کے اندر خون کھولنے کے باوجود ریا نے اُسے تعریفی نظروں سے دیکھا
۔۔
واؤ ۔۔۔۔۔۔۔کتنی انٹیلیجنٹ ہو تم۔۔۔۔۔
اُسے فخر سے دیکھتے ہوئے دھیرے سے تالی بجائے تو نین کو خوشی ہوئی کے اُس کا اندازہ صحیح ہے۔
۔۔
ہے نہ۔۔۔۔۔یہی وجہ ہوگی نا جو وہ مجھے پہچان نہیں رہا۔۔۔۔۔
وہ اُس کے ہاتھ پکڑتے ہوئے بیتابی سے پوچھنے لگی
بلکل تم کبھی غلط ہو ہی نہیں سکتی۔۔۔۔تمہیں تو ناسا میں ہونا چاہیے تھا۔۔۔۔ہمیں چاند پر بھی نہیں جانا پڑتا چاند خود چل کر آجاتا یہاں۔۔۔
لیکن نین میری جان یہ تو بتاؤ کے اب ساحل جیجو کی یاداشت واپس لانے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے۔۔۔۔
ریا نے کلس کر دانت پیستے ہوۓ مسکرا کر اُس سے مشورہ مانگا
ویسے تو میں ابھی میڈکل کے سٹارٹ میں ہوں لیکن جتنا مجھے سمجھ آتا ہے اُس کے مطابق اگر چوٹ لگنے سے یاد داشت چلی جائے تو چوٹ لگنے سے واپس بھی آجاتی ہے۔۔۔
وہ نظریں اوپر اٹھا کر دماغ دوڑاتے ہوئے بولی تو ریا نے مٹھیاں بھینچی
اچھا تو اب ہم کیا کریں۔۔۔اُس کے آنے جانے کے راستے کا پتہ لگا کر وہاں ایک سیم کھڈا کھود دیں تاکہ اُس کا دوبارہ ایکسیڈنٹ ہو ۔۔۔دوبارہ اُسے چوٹ لگے اور اُس کی یادداشت واپس آجائے۔۔
ریا نے نہایت سمجھداری سے اُس سے سوال کیا بہُت مشکل سے اپنا غصّہ کنٹرول کرتے ہوئے۔۔
نہیں یہ تھوڑا مشکل ہوجائے گا ۔۔۔۔۔۔محنت بھی زیادہ لگیگی اور چوٹ سیم جگہ لگنے کی گیرنٹی بھی نہیں ہوگی۔۔۔۔اُس سے بھی سمپل راستہ ہے ۔۔۔ہمیں نا بس اُس کی چوٹ کی ایکزیکٹ جگہ پتہ لگانی ہے۔۔۔۔
پھر اسی جگہ ہم کِسی بھاری چیز سے زوردار وار کریں گے۔۔۔ہنڈریڈ پرسنٹ اُس کی یاداشت واپس آجائے گی۔۔۔۔۔۔ہے نہ۔۔۔۔
وہ بجائے اُس کے چہرے کے خطرناک بگڑے تیوروں پر غور کرنے کے پورے جوش بولی تو اُس کے ارادوں نے ریا کو بھی خوفزدہ کردیا لیکن جب وہ اپنے مشورے پر تائید مانگنے لگی تو ریا پھٹ پڑی
اتنی ساری بکواس ایک ساتھ کیسے کر لیتی ہو تم۔۔۔ اندر سے کوئی آواز نہیں آتی۔۔۔۔
ریا اُس کے منہ پر دانت پیس کر دھیمی آواز میں چینخی تو نین نے ایک قدم پیچھے ہو کر حیرت سے اُسے دیکھا۔۔۔
ارے لیکن۔۔۔۔۔۔۔
شٹ اپ۔۔۔اور خبردار جو منہ کھولا۔۔۔ہندی سیریل کی سکرپٹ بھی اتنی واہیات نہیں ہوتی جتنی تمہاری باتیں ہے۔۔۔۔۔دو منٹ میں اچھے خاصے فٹ انسان کو ڈپریشن دے سکتی ہو تم۔۔۔۔۔
اُس نے حیرت سے کچھ کہنا چاہا تو ریا اُس کے منہ پر اُنگلی رکھ کر اُسے آنکھیں دکھاتی اُس پر برس پڑی نین نے غصے سے اُس کا ہاتھ جھٹکا
تمھیں میری باتیں واہیات لگتی ہے پھر خود ہی بتا دو کے وہ مجھے پہچاننے سے انکار کیوں کر رہا ہے۔۔۔۔
وہ آنکھیں چھوٹی کرکے اُسے گھورتے ہوئے بولی
وہ مجھے نہیں پتہ لیکن ہاں تمہاری یہی حرکتیں رہی نا تو میں بھی کسی دِن تمہیں پہچاننے سے انکار کر دوں گی۔۔۔۔۔
ریا آنکھیں گھما کر دھیمے سے بڑبڑائی تو نین کا منہ کھل گیا۔۔۔
اچھا بابا۔۔۔۔۔۔سوری لیکن پلیز اپنے دِماغ کے گھوڑے اتنی تیزی سے مت دوڑاؤ کے وہ ریئلٹی کے پار نکل جائے۔۔۔۔چلو ابھی ہم ڈنر کرتے ہے ڈیڈ نیچے ویٹ کر رہے ہوں گے۔
ریا نے جلدی سے بات سنبھالتے ہوئے اُسے گلے لگایا اور ہاتھ پکڑ کر باہر لیجانے لگی لیکن نین نے اُسے روکا
ریا سنونا۔۔۔۔کہیں ایسا تو نہیں کے وہ انجو ۔۔۔۔۔۔۔مطلب جس دکش سے وہ انجو پیار کرتی ہو وہ مر گیا ہو اور ساحل اُسے صدمے سے۔۔۔۔۔
سٹاپ اٹ نین۔۔۔
وہ اپنے دِماغ میں آیا ایک اور خیال اُس سے شیئر کرنے والی تھی لیکن دو جملے سن کے ہی اُس کا اندازہ کتنا سیریس ہے یہ بھاپ کر ریا نے اُسے جھڑکا۔۔۔لیکِن اس دفعہ غصے اور بیزاری کی بجائے حیرت اور سنجیدگی سے
کیا بولے جا رہی ہو تم نین۔۔۔اس طرح کے فضول بہانے کیوں ڈھونڈھ رہی ہو جن کی پوسبلیٹیز ہی نہیں ہے۔۔۔۔
اُسے نین کے اتنے بیوقوفانہ رویے پر بے تحاشا حیرت ہوئی کیوں کے اس سچویشن میں وہ اُس سے یہ اُمید نہیں کرتی تھی۔۔۔۔
کیوں کے جن کی پوسبلٹیز ہے میں وہ باتیں نہیں سوچنا چاہتی۔۔۔مجھے ان فضول بہانوں پر یقین کرنے دو ریا۔۔۔اگر تمہاری بات پر یقین کرنے لگی تو۔۔۔۔۔
مجھے کچھ ہوجائے گا۔۔۔
وہ دو پل خاموشی سے ریا کو دیکھ کر ضبط سے بکھرتے لہجے میں بولی تو آخر میں لفظ ٹوٹ گئے اور آواز میں نمی گھل گئی۔۔۔ریا نے پریشان ہو کر اُسے گلے سے لگایا
نین تم۔۔۔۔۔۔
وہ پیچھے ہو کر فکرمندی سے اُسے دیکھتی بولتے بولتے رک گئی کے پھر وہ نہیں سمجھے گی۔۔۔
ریلیکس یار۔۔۔سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔کِسی بھی بات کو اگنور کرنے سے یا کسی بھی بات کو مان لینے سے حقیقت نہیں بدلیگی جو سچ ہے وہی رہیگا۔۔۔۔اور میں دل سے چاہتی ہوں کے سچ وہی ہو جو تم مان رہی ہو۔۔۔۔وہ غلط نہیں بس مجبور ہو۔۔۔۔
ریا نے اُسے بیڈ پر بٹھاتے ہوئے بجائے اُس کی سوچ کی مخالفت کرنے کے نرمی سے سمجھایا جب کے نین خاموشی سے اُسے دیکھتی پلکیں جھپک پر آنسوؤں کو اُن میں جذب کرنے لگی۔
آۓ ایم سوری ریا۔۔۔میں یہاں تمہاری شادی کی خوشی کو دوگنا کرنے آئی تھی لیکن اُلٹا تمہیں پریشان کر رہی ہوں۔۔۔لیکن سچ میں میرا دل بہت گھبرا رہا ہے ۔۔۔۔۔اور میں اُس گھبراہٹ کو خود پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہتی ورنہ اپنے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو دوں گی۔۔۔
مجھے اُس سے ملنا ہے ریا۔۔۔پلیز مجھے اُس تک لے کے چلو۔۔۔۔
مجھے اُس سے بات کرنی ہے۔۔۔۔۔۔ اپنے سوالوں کے جواب ڈھونڈھنے ہے مجھے
وہ خود کو مزید روکنے کی کوشش میں ناکام ہو کر اپنی تڑپ و تکلیف اُسے بتاتی بے ساختہ رونے لگی تو ریا نے کا بھی دل دکھنے لگا
لیکن نین اُس سے ملنا اتنا آسان نہیں ہے۔۔ہر وقت جب اُس کے آس پاس اتنے گارڈز ہوتے ہیں تو اُس کے گھر پر بھی کافی ٹائیٹ سیکورٹی ہوگی۔۔۔ہم سیدھے اُس تک نہیں پہنچ سکتے اور مال میں تم نے اُسے جیسے ایمبیرس کیا وہ کبھی تم سے ملنے کو نہیں مانے گا۔۔۔
ریا نے خود کو بے بس محسوس کرکے اُس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔
ایسا کرتے ہیں ہم کل صبح وہاں تک کیسے پہنچنا ہے اس کا جگاڑ ڈھونڈھتے ہے ابھی تم۔۔۔۔۔
نہیں ریا۔۔۔۔۔مجھ سے رات بھر سکون سے نہیں رہا جائیگا۔۔۔مجھے ابھی ملنا ہے اُس سے ۔۔۔۔۔
ریا کے سمجھانے پر وہ اُس کی بات کاٹ کر ضد کرنے لگی تو ریا کے ذہن میں انجو کا خیال آیا اور اُس نے کچھ سوچ کر انجو کو فون لگایا
ہائے انجو ۔۔۔کہاں ہو تم۔۔۔۔مجھے ملنا تھا تم سے۔۔۔
نین اُسے انجو سے بات کرتے دیکھ پوری طرح اُس کی طرف متوجہ تھی اور دل سے دعا کر رہی تھی کے کچھ بھی کرکے وہ اُس تک پہنچ جائے۔۔۔۔جھوٹ دھوکہ فریب اُس سے پرے کم سے کم اُسے دیکھنا اُس کے اپنے سامنے ہونے کا یقین کرنا ۔۔۔
مہینوں کے اِنتظار کو اتنا تو نصیب ہوتا۔۔۔
سوری ریا میں اس وقت تم سے نہیں مل پاؤں گی۔۔۔۔ایکچلی آج دکش کا موڈ خراب ہے اس لیے میں اُن کے ساتھ اُن کے گھر پر ہوں۔۔۔۔۔۔کچھ عجیب ہوا ہے آج ۔۔میں تمہیں مل کے بتاؤں گی لیکن ابھی میرا دکش کے ساتھ رہنا ضروری ہے
دوسری جانب انجو نے کافی کے مگ میں اسپون چلاتے ہوئے تھکے تھکے لہجے میں کہا تو ریا نے نین کی طرف دیکھا۔۔۔
کوئی بات نہیں تم مجھے دکش کا ایڈریس بتادو میں وہیں آجاتی ہوں تم سے ملنے۔۔۔۔۔۔اور ساتھ اُس سے بھی مل لوں گی۔۔۔۔۔۔
ریا نے جلدی سے کہا تو نین نے بھی سر ہلایا اور انجو نے بھی حامی بھری۔۔۔
اوکے میں تمہیں سینڈ کرتی ہوں۔۔۔
انجو نے اثبات میں جواب دیا تو ریا نے فون کاٹ دیا اور نین کا ہاتھ تھامتے ہوئے مسکرا کے سر ہاں میں ہلا دیا۔۔۔۔۔
کافی۔۔۔۔۔
گارڈن ایریا میں بیٹھے دکش کے سامنے رکھے میز پر کافی مگ رکھتے ہوئے اُس نے پیار سے کہا تو وہ جو صوفے پر سر پیچھے ٹکا کر آنکھیں بند کئے کِسی سوچ میں گم تھا۔۔۔آنکھیں کھول کر سیدھا ہوا۔۔۔۔انجو مسکرا کے اُسے دیکھتی اُس کے قریب بیٹھ گئی۔۔۔
بہُت دیر ہوگئی ہے ۔۔۔تمہیں گھر جانا چاہیے ۔۔۔
اُس نے گلا کنکھار کر بے تاثر لہجے میں کہا جو انجو کو کافی محسوس ہوا کیوں کے وہ کبھی اس طرح روکھے انداز میں بات نہیں کرتا تھا بلکہ اُس کے لفظوں میں۔بہُت مٹھاس تھی۔۔۔
آپ اپسیٹ ہے اور میں آپ کو اکیلے چھوڑ دوں۔۔۔اتنی مین لگتی ہوں میں آپکو۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر اُس کا بازو تھامتے ہوئے بولی تو بھی ہمیشہ کی طرح دکش کا مسکرا کر نا دیکھنا اُسے محسوس ہوا
ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔آئے ایم فائن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے دھیرے سے کہتے ہوئے کافی کا مگ اٹھا کر لبوں سے لگایا۔۔۔جب کے انجو اُس کے بازو سے چہرہ ٹکائے غور سے اُس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔جو اُسے غصے اور سنجیدگی میں بھی اتنا ہی پر کشش لگتا تھا۔۔۔
میں جانتی ہوں دکش آپ اُس لڑکی کی وجہ سے بہت پریشان ہے۔۔۔
انجو نے اُس کی پر سوچ نظریں ایک نقطے پر جمی دیکھ اُسے مخاطب کیا تو دکش نے محض نظروں کا زاویہ تھوڑا سا بدلا ۔۔۔
مجھے تو خود اتنا غصّہ آرہا ہے۔۔۔اچھا خاصا شاپنگ اور ڈنر کا پلان بنایا تھا ہم نے لیکِن اُس کی وجہ سے سب اسپوئل ہو گیا۔۔۔۔۔
پتہ نہیں ایسے جاہل اور بے وقوف لوگوں کو۔۔۔۔۔۔
انجو۔۔۔۔۔۔
وہ نین کو یاد کرکے غصے و ناگواری سے بول رہی تھی کے دکش نے ایکدم سے اُسے پکارا تو وہ سیدھی ہو کر اُسے دیکھنے لگی
فورگیٹ اباؤٹ اٹ۔۔۔۔تم گھر جاؤ۔۔۔آنٹی پریشان ہو رہی ہوں گی۔۔۔
اُس نے بات کا رخ بدلتے ہوئے عاجزی سے کہا اور کافی ختم کیے بنا ہی مگ میز پر واپس رکھ کے سگریٹ سلگانے لگا۔۔۔
انجو کو اندازہ ہوا کے وہ اُس بات کا ذکر نہیں چاہتا اسلئے وہ خاموش ہو گئی۔۔۔۔۔۔
میں نے مام کو بتا دیا ہے کے میں آپ کے ساتھ ہوں ڈونٹ وری ۔۔۔اور ریا مجھ سے ملنا چاہتی تھی اس لیے میں نے اُسے یہیں آنے کو کہہ دیا ہے۔۔۔آتی ہی ہوگی وہ۔۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر جواب دیتی خاموشی سے اُس کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی۔۔اور وہ فضا میں بکھرتے دھوئیں کو دیکھنے لگا
♦♦♦♦♦♦