Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

آج تو سچ مچ کے شہزادے لگ رہے ہو۔۔۔۔
دادی نے اُس کی بلائیں لیتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔
سفید جینس اور بلیو شرٹ میں وہ لبوں میں مسکراہٹ لیے اُنہیں دیکھ رہا تھا۔۔شیو بلکل ہلکی کی ہوئی تھی جس سے اُس کے دائیں گال پر پڑتی گہرائی واضح ہو کر چہرے کو مزید دلکش بنا رہی تھی
بال بھی کچھ چھوٹے کیے سلیقے سے سنوارے ہوئے تھے۔۔۔بس شرٹ ہمیشہ کی طرح آدھی کھلی تھی ۔۔گلے میں اور ہاتھوں میں وہی بینڈز پہنے ہوئے تھے۔ لیکِن ہمیشہ سے بلکل مختلف اور جاذب نظر لگ رہا تھا۔۔
داؤد کی سالگرہ کا یہ جشن بہت ہی خاص اور شاندار تھا۔۔۔
گھر میں خوب رونق جمی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم کی خوشی اُن کے چہرے سے جھلک رہی تھی۔
آسیہ بیگم اور زینب بھی اُن کے ساتھ مہمانوں کی آؤ بھگت میں لگی ہوئی تھیں
عشرت اور شیرین۔۔۔راہب اور ضارب کے ساتھ مہمانوں کے ویلکم کے لیے دروازے پر کھڑی ہوئیں تھی
روما اور جیا ایک کے بعد ایک سب کے ساتھ تصویریں بنا رہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔نین کو شانو اور خوشی کے ساتھ مل کر ہنسی مذاق کرنے سے ہی فرصت نہیں تھی
داؤد وہائٹ شرٹ اور گرے جینز میں اپنے مخصوص انداز میں پوری محفل کی شان بنا ہوا تھا ۔۔۔
وہ مہمانوں سے ملتا اپنی سالگرہ کی مبارک باد اور تحفے وصول کر رہا تھا۔۔۔
رابعہ بیگم نے اُسے کیک کاٹنے کیلیے بلایا تو وہ سر ہلاتا ساحل کو دیکھنے لگا
کیا بولتا ہے۔۔۔۔۔۔
ساحل داؤد کو دیکھ کر دادی کے پاس سے ہٹ کر اُس کے پاس آتا مسکرا کر بولا
بہت ہینڈسم لگ رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکِن۔۔
داؤد نے اُسے سر سے پیر تک دیکھتے ہوئے آگے بڑھ کر اُس کے شرٹ کے کھلے بٹن بند کیے۔۔
اب شریف لگ رہے ہو۔۔۔۔۔۔
اور اس کے کندھے سے مصنوعی دھول جھٹکتے ہوئے بولا ساحل بند بٹنوں پر نظر ڈال کر اُسے دیکھا
دِل چاہ رہا ہے آج سب کو بتا دوں۔۔۔کے تم میرے کون ہو۔۔۔۔۔۔میرے لیے کیا ہو۔۔
داؤد اُسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا
کیا محبوباؤں والے ڈائیلاگ مار رہا ہے یار۔۔۔۔۔
ساحل نے منہ بنا کے کہا تو داؤد ہنس دیا
تمہارا میرا رشتا ۔۔۔محبوبہ والے رشتے سے بہت آگے کا ہے
وہ ایک قدم پیچھے ہو کر بولا
بدلے کا رشتا۔۔۔۔ بھیک کا پیار۔ ۔۔۔۔
ساحل منہ پھیر کر بڑبڑایا تو داؤد نے بنا سوچ سمجھے اُس کے گال پر ہلکے ہاتھ سے تھپڑ مارا۔۔۔۔جو کافی اثر رکھتا تھا
سالے۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے غصے سے اُسے گھور کر دانت پیسے
گالی نکلی نا تو گولی ماروں گا۔۔۔۔۔۔۔اور اس کے بعد یہ بکواس مت کرنا ۔۔۔۔۔۔چلو۔۔۔۔
داؤد نے انگلی اٹھا کر اُسے فوراً گھورا اور اُس کا ہاتھ پکڑے اپنے ساتھ لے کر آگے بڑھا۔۔۔۔۔۔
ایک بڑی سے میز پر خوبصورت کیک سجایا گیا تھا اور اُس کے آس پاس سب کھڑے تھے۔۔۔۔۔۔
کیک پر داؤد کے ساتھ ساحل کا بھی نام لکھا تھا جسے دیکھ کر عبّاس صاحب اور دادی نے مسکرا کر دونوں کو دیکھا ۔۔۔۔
رابعہ بیگم کے چہرے پر نا گواری چھا گئی۔۔۔
باقی سب کے بھی منہ بن گئے
ساحل نے حیرت سے داؤد کو دیکھا
آج صرف میرا ہی نہیں میرے بھائی کا بھی برتھ ڈے ہے۔۔۔۔
اُس نے ساحل کو دیکھتے ہوئے جواب دیا۔۔۔ساحل کے چہرے کے تاثرات بدلے وہ سنجیدہ ہو کر نظریں جھکا گیا۔۔۔۔
داؤد نے اُسے ذبردستی اپنے ساتھ لیے کیک کٹ کیا اور پہلا پیس اُس کی طرف بڑھایا۔۔۔ساحل۔نے اُسے غصے سے گھورتے ہوئے کیک کا چھوٹا سا بائٹ لیا۔۔۔۔۔۔
داؤد اُس کے غصّے پر مسکرا دیا
رابعہ بیگم دل ہی دل میں کلس کر وہاں سے ہٹ گئی
اُنہوں نے داؤد کو جتایا تھا کے وہ نین کے ساتھ مل کے کیک کاٹے اور اُسے سب سے تعارف بھی کرائے اس وجہ سے ہی اُنہوں نے اتنی بڑی پارٹی رکھی تھی اور داؤد نے اُن کی ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا
جب کے نین مسکرا کر تالی بجا رہی تھی۔۔۔۔۔۔اُس کے دل۔میں کِسی قسم کا کوئی ہرس یا جلن نہیں تھی۔۔۔۔بلکہ دل میں داؤد کی۔عزت اور بڑھ رہی تھی جو اپنے سے بلکل الگ شخص کو صرف بھائی کہتا ہی نہیں تھا بلکہ مانتا بھی تھا۔
ساحل وہاں سے جانے لگا تو داؤد نے جلدی سے آگے بڑھ کر اُسے روکا ساحل نے غصے سے اُس کا ہاتھ جھٹکا اور اُسے خطرناک نظروں سے گھورا۔۔۔۔۔داؤد نے معصوم شکل بنائے اُسے دیکھا
مہمان سب پھر اپنی باتوں اور کھانے کے ساتھ انصاف کرنے میں لگ گئے ۔۔۔
داؤد یہ تمہارے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔ہپپی بر تھ ڈے۔۔۔۔
نین اُس کی طرف بڑھی اور اُس کے لیے خریدا گفٹ اُسے دیتے ہوئے بولی
اور ماما کے بیٹے ۔۔۔۔۔تمہیں بھی۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے ایک نظر ساحل کو۔دیکھ کر احسان کرنے والے انداز میں کہا تو اُس نے ابرو اٹھائے نین کو دیکھا
اور ساحل کا گفٹ۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے مسکرا کر پوچھا
اب مجھے کیا پتہ تھا کے تم دونوں ایک ہی دن دنیا میں تشریف لائے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ میں دو گفٹ لیتی
اُس نے منہ پھیر کر کھڑے ساحل کو دیکھا جو آج کافی بدلا بدلا لگ رہا تھا۔۔۔۔۔
دن تو میں نے ہی ایک کیا ہے۔۔۔۔۔
ویسے دنیا میں یہ مجھ سے لگ بھگ دو سال بعد اور میں اس سے دو سال پہلے تشریف لایا ہوں۔۔۔
داؤد نے ساحل کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا۔۔ساحل اُسے ایک بار پھر اُسے گھورتا وہاں سے چلا گیا۔۔
بہت اچھی لگ رہی ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے مسکرا کر اُسے دیکھا۔۔۔۔
پیچ کلر کے خوبصورت ٹاپ اور بلیک جیگن میں ہمیشہ کی طرح بنا میک اپ اور کوئی تیاری کے صرف کانوں میں ٹاپس اور ہاتھ میں بریسلیٹ پہنے وہ سادگی میں بھی حسین لگ رہی تھی۔۔۔بس گھنے لمبے بال آج کھلے۔۔۔ آگے سے پن کرکے کمر پر بکھرے ہوئے تھے۔۔۔
مجھے پتہ ہے۔۔۔۔میں ہوں ہی اچھی۔۔۔۔۔۔۔اب کیا کروں
وہ مسکرا کر آنکھیں پٹپتاتے ہوئے بولی اور دونوں ہنس دیے۔۔۔۔
دور سے ہی دونوں کو ساتھ دیکھ زینب نے اطمنان محسوس کرکے اُن کی خوشیوں کی دعا کی۔۔۔
اچھا داؤد ایک بات تو بتاؤ مجھے۔۔۔۔ تم تو بچپن میں بہت ڈرپوک تھے پھر سوپر کوپ کیسے بن گئے۔۔۔
نین نے پر جوش انداز میں پوچھا
کیوں کے کسی نے مجھ سے کہا تھا طاقت بازؤں میں نہیں ارادوں میں ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے۔مُسکرا کر زمین پر۔نظریں جمائے جواب دیا
بڑے ماما نے۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے سوالیہ انداز میں کہا
ساحل نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے بتایا تو وہ حیرت سے آنکھیں پھیلائے اُسے دیکھنے لگی
اتنا بڑا ہو کر روتا ہے۔۔۔ گھما کے دے نا ایک لات۔۔۔۔۔
لیکن وہ لوگ مجھ سے زیادہ طاقت ور ہے۔۔۔۔۔۔
ابے فٹو۔۔۔۔۔۔طاقت بازو میں نہیں ارادوں میں رہتی۔۔۔۔۔۔۔دیکھ اپن کو۔کیسے ان کی واٹ لگاتا ابھی
گیارہ سال پہلے کے کچھ لمحے اُس کے زہن میں گھوم گئے اور ساتھ کتنی ہی جانلیوا یادیں
آئے کانٹ بلیو۔۔۔۔۔۔۔
نین نے حیرت سے دور فون پر جھکے ساحل کو۔دیکھ کر کہا
کیوں کے ابھی تم اُسے جانتی نہیں۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے مسکرا کر اُسے دیکھا
اتنا تو جان گئی ہوں میں کے تمہارے اور بڑے ماما کے لیے وہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔بہُت لکی ہے وہ۔۔۔۔
نین نے بھی مسکرا کر جواب دیا
لکی وہ نہیں میں ہوں۔۔۔۔۔۔اگر وہ نہیں ہوتا تو آج میں کچھ اور ہوتا۔۔۔۔۔
داؤد نے سنجیدگی سے جواب دیا
کیا مطلب۔۔۔۔۔۔۔
نین نے اُسے نا سمجھی سے دیکھا
سب آج ہی جان لو گی۔۔۔۔۔۔
داؤد نے مسکرا کر کہا۔۔۔
ایسے عجیب کیریکٹر کو جاننے کی اکسائٹمنٹ تو سب کو ہوتی ہے نا
یار تم ہر وقت اُسے برا بھلا کیوں کہتی رہتی ہو۔۔۔۔۔
داؤد نے خفگی سے کہا
کیا وہ عجیب نہیں ہے۔۔۔۔حلیہ دیکھا ہے اُس کا۔۔۔۔۔راؤڈی لگتا ہے بلکل ۔۔۔۔۔جیسے کوئی انٹرنیشل گنڈا عمر قید کاٹ کر آیا ہو۔۔۔۔۔۔
۔اور لینگویج۔۔۔۔۔اپن تپون جپن۔۔۔۔میں تو اس سب کو نارمل نہیں سمجھتی
وہ آنکھیں گھماتے ہوئے بولی
کِسی کے حلیے سے اُس کے اچھے اور برے ہونے کا ججمنٹ نہیں دیا جا سکتا۔۔۔۔اور رہی بات لینگویج کی تو وہ ایک الگ دنیا سے آیا ہے اُسے تھوڑا وقت لگےگا اُس ماحول اور اپنی عادتوں کو بھولنے میں
میں کوشش کر رہا ہوں اُس کی اسپیچ ٹھیک کرنے کی۔۔۔۔۔تمہیں میری ہیلپ کرنی چاہیے نین۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے ساحل کی سائیڈ لے کر بولا
اتنے مشکل کام میں ہیلپ مانگ رہے ہو۔۔۔۔۔۔لیکن ٹھیک ہے میں کوشش کروں گی۔۔۔۔۔ویسے بھی میں بہُت ٹیلنٹڈ ہوں
نین نے بیزاری سے کہتے ہوئے آخر میں مصنوعی کالر جھاڑا تو وہ ہنس دیا۔۔۔
اُنہیں ہنستے مسکراتے دیکھ رابعہ بیگم خوشی سے باغ باغ ہو گئی تھی اور عشرت اور شیرین اپنے اپنے شوہر پر چڑ رہی تھی
وہ دیکھو کیسے دونوں ہنس ہنس کر باتیں کر رہےہیں۔۔
ابھی تو اُن کی شادی بھی نہیں ہوئی ۔۔۔
اور ایک تم ہو ۔۔۔۔میں اتنا تیار ہو کر آئی ہوں اور تم نے ایک بار بھی میری تعریف نہیں کی۔۔۔۔۔
عشرت راہب کو دیکھ کر منہ بگاڑتے ہوئے بولی
ارے۔میری جان۔۔۔۔۔۔۔تعریف تو میں کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔کمال کی میک اپ آرٹسٹ ہے تمہاری۔۔۔۔۔پورا کا پورا بدل دیا تمہیں۔۔۔۔۔۔ماننا پڑیگا اسے۔۔۔۔۔۔تم تو بلکل پہچان میں ہی نہیں آرہی
راہب اُسے سراہتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا پہلے تو وہ شرمائی پھر جب سمجھ آیا کے اُس سے زیادہ میک اپ آرٹسٹ کی تعریف ہو رہی ہے تو جھٹکے سے اُسے گھورا
وہ دانت دکھا کر مسکرایا
مر جاؤ تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دانت پیس کہتی وہ وہاں سے چلی گتی اور وہ ہنسی روکنے لگا
اُدھر۔شیرین نے الگ زارب کے پیچھے رونا ڈالا ہوا تھا
تم بدل گئے ہو۔۔۔۔۔اب میری طرف دیکھتے بھی نہیں شادی سے پہلے ہوسٹل کی چھت کود کر مجھ سے ملنے آتے تھے
وہ رونی صورت بنائے بولی
سوچتا ہوں اُسی چھت سے نیچے کود جاؤں
وہ منہ کے منہ میں بڑبڑایا ۔۔۔۔
کیا کہا۔۔۔۔۔
شیرین نے اُسے گھورتے ہوئے پوچھا
میں نے کہا بڑی حسین لگ رہی ہو آج۔۔۔
وہ فوراً مسکرا کر بات بدل گیا
سچی پھر میرے لیے ایک شیر سناؤ۔۔۔۔۔
وہ شرما کر دوپٹے سے انگلیاں اُلجھا کر بولی
ذارب اس نئی فرمائش پر دانت پیس کر ذبردستی مسکرایا
عرض کیا ہے۔۔۔۔۔۔
وہ گلا کھنکھار کر بولا تو شیرین بیتابی سے اُسے دیکھنے لگی
یہ جو لگ رہی ہو تم اتنی پیاری
اس میں لگ جاتی ہے میری کمائی ساری۔۔۔۔
وہ بڑے پرجوش اندازِ میں بولا اور جواب میں شیرین کو ناک پھلائے خمشگیں نظروں سے خود کو گھورتے دیکھ۔ نظر بچا کر وہاں سے غائب ہوا
∆∆∆∆∆∆∆∆
جیا سے بات کرتے ہوئے اُس کی نظر چندا پر پڑی جو چھپ کر ادھر اُدھر سے نظریں بچاتی باہر نکل رہی تھی
نین کے اندر کا جاسوس ایکدم سے جاگ اُٹھا۔۔۔
وہ جیا اور روما سے ابھی آئی کہہ کر وہاں سے اٹھ کر چندا کے پیچھے گئی۔۔۔۔۔
باہر نکلی تو دیکھا چندا ایک پردے کے پیچھے غائب ہو گئی تھی۔۔۔۔وہ وہیں دروازے کے قریب رکی تفتیشی نظروں سے اُسے دیکھنے لگی
لان میں پردوں اور لائٹوں کی سجاوٹ کی گئی تھی۔۔۔
یہ پردہ بھی وہیں لگا ہوا تھا
اس پار سے نین کو وہاں دو کالے ساے نظر آرہے تھے۔۔۔۔جو ایک دوسرے کے کافی قریب تھے۔۔۔
نین آنکھیں پھیلائے۔۔۔گلا تر کرتی سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
دوسری طرف پردے کے اُس کے پار ساحل کھڑا فون پر کِسی سے بات کر رہا تھا اور چندا اُس سے بہُت دور آگے جا کر رکی باہر گیٹ پر کھڑے کسی شخص کو اشارے کر رہی تھی۔۔۔۔
لیکِن اس پار سے دیکھنے والے کو اُس دوری کا اندازہ ہونا ممکن نہیں تھا۔۔۔۔وہ تواُن دونوں سایوں کو قریب دیکھ کچھ اور ہی سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دم ہی ساحل پردے کے پیچھے سے باہر آیا تو وہ بوکھلا کر سیدھی ہوئی اور اور آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھنے لگی۔۔
ساحل بھی حیرت سے اُاُسے دیکھتا آگے بڑھا
نین اُسے دیکھ کر ذبردستی کا مسکرائی۔۔
جو وہ سمجھ رہی تھی اُسے سوچ کر جھرجھری لیتے ہوئے ایک قدم پیچھے ہونا چاہا لیکن اس ہڑبڑا ہٹ میں قدم لڑکھڑائے
پیچھے گرتی اس کے پہلے ساحل نے اُس کی ہتھیلی تھام لی۔۔۔۔۔۔وہ سانس روکے اُسے دیکھنے لگی جو سنجیدگی سے اُس کا ہاتھ تھامے اُسے گرنے سے بچایا ہوۓ تھا
وہ جلدی سے سیدھی ہوئی اور اُس سے ہاتھ چھڑایا۔۔۔۔۔۔۔۔
دِماغ میں جو خیال چل رہے تھے اُس کے بعد ساحل کو وہ شکتی کپور امیجن کر رہی تھی
پردے کے پیچھے کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے ساحل کو دیکھ کر رازدارانہ انداز میں پوچھا
کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے حیرت سے اُسے دیکھا اُس کے عجیب انداز پر
کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے اُسے تفتیشی نظروں سے دیکھ کر دہرایا
اے کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ زچ ہو کر ایکدم زور سے بولا وہ فوراً سیدھی ہوئی
کیا کر رہے تھے تم وہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے نے اُسے عجیب نظروں سے دیکھا
کائے کو بتاؤں تیرے کو۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے پیشانی پر بل ڈالے اُسے گھورا
کیوں کے یہ گھر میرا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سچ بتاؤ کیا کر رہے تھے وہاں۔۔۔۔۔۔
وہ اب اُسے دیکھ کر غصے سے بولی
اپنی محبوبہ کے ساتھ ایلو ایلو کر رہا تھا۔۔۔۔ کوئی تکلیف ہے تیرے کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دانت پیس کر بولا اور آگے بڑھ گیا نین نے سر ہلاتے ہوئے اُس کی پشت کو دیکھا
اس کا مطلب ہے میرا شک بلکل صحیح تھا
اُس نے اپنے دِماغ کو داد دی اور لب سکیڑے سر ہلایا
@@@@@@@@
اچانک ہی عباس صاحب نے داؤد اور نین کی منگنی کا اناونسمنٹ کر دیا وہ حیرت سے اُنہیں دیکھتی رہ گئی۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم مسکرا رہی تھی۔۔۔داؤد ایک طرف پر سکون کھڑا تھا جب کے وہ گہرے صدمے میں تھی ۔۔۔۔
زینب کو خاموش دیکھ اُس کے پاس آئی
ممی میں نے کہا نا میں انگیجمنٹ نہیں کروں گی۔۔۔۔۔جب تک پاپا نہیں آجاتے۔۔۔۔۔۔
ایک بار پھر زینب کی انگیجمنت والی بات پر وہ دھیمی آواز میں غصے سے بولی۔۔۔
پاپا یہاں ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔
ایکدم ہی اُسے اپنے قریب سے آواز آئی۔۔۔۔۔۔۔ اُس نے حیرت سے پیچھے دیکھا وقار صاحب کو دیکھ کر اُس کا منہ کھلا رہ گیا۔بے یقینی سے زینب کی دیکھا تو وہ مسکرا کر سر ہلا دی
باقی سب بھی مسکرا رہے تھے
وہ دھک دھک کرتے دل سے جلدی سے آگے بڑھ کر اُن کے سینے سے لگ گئی۔۔۔۔آنکھیں نم ہو گئی۔۔۔
روما بھی مسکراتی جلدی سے آگے بڑھ کر اُن کے گلے لگ گئی۔۔۔اُنہوں نے دونوں کو ایک بازو سے خود میں بھینچے اُن کی پیشانی چومی
پاپا۔۔۔۔۔۔آپ کب آئے۔۔۔۔۔۔
نین نے پیچھے ہو کر خوشی اور حیرت سے پوچھا
میری بیٹیاں مجھے یاد کرے اور میں نا آؤں۔۔۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے آگے بڑھ کر نین کو اپنے ساتھ لگایا۔۔۔۔۔
وہ شاید زینب سے بھی زیادہ اپنے پاپا کو چاہتی تھی اس لیے اُن کا ہونا اُس کے لیے بہت معنی رکھتا تھا۔۔۔۔۔۔وہ اُس کی زندگی میں سب سے بڑھ کر تھے۔۔۔۔۔۔۔
لیکِن اُن کی لا پرواہی اپنے نام کو بڑھانے کا جنون زینب کو بہت ڈراتا تھا۔
اور واقعی یہ ڈر سچ ہو کر ایک دن نین کی زندگی بدلنے والا تھا
آؤ داؤد رنگ پہناؤ۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے داؤد کو محبت سے دیکھتے ہوئے پکارا
عشرت ایک پھولوں سے سجے تھال۔میں دونوں ڈائمنڈ رنگ لیے اُن کے پاس کھڑی تھی۔۔۔۔
اُس نے نظریں دوڑائے ساحل کو ڈھونڈھنا چاہا لیکن وہ وہاں موجود نہیں تھا۔۔۔
وہ افسوس سے سر ہلا کر آگے بڑھتا اس کے پہلے اُس کے موبائل کی رنگ بجی۔۔اگر کوئی اور ہوتا تو وہ نظر اندازِ کر دیتا لیکِن ہاسپٹل سے فون دیکھ کے اُس کے دل نے ایسا کرنے سے روکا
ایک منٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی مام کو رکنے کا اشارہ دیتا فون کان سے لگا گیا
داؤد۔۔۔۔۔۔اُس لڑکی کو ہوش آگیا ہے۔۔۔۔۔۔۔
پایل کی آواز اور اُس کی بات سن کر داؤد ایک پل کو سانس روک گیا۔۔۔۔دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔۔۔۔۔
داؤد۔۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے دوبارہ پکارا تو اُس نے اپنے آپ پر قابو پاتے اُنہیں دیکھا
مام ۔۔۔مجھے جانا پڑیگا۔۔۔۔۔ایمیرجنسی ہے۔۔۔۔۔
وہ جلدی سے اُن کے پاس آتا بیتابی سے بولا سب حیرت سے اُس کو دیکھنے لگے
بیٹا تمہاری انگیجمنٹ ہے۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے بے یقینی سے اُسے دیکھا
سوری مام۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُن کا ہاتھ تھام کر کہتا وہاں سے باہر کی طرف بڑھا سب اپنی جگہ ساکت اُسے دیکھتے رہ گئے
نین بھی حیران ہو کر کھڑی تھی۔۔۔۔۔زینب کا دل عجیب پریشان ہو رہا تھا اور وقار صاحب کو داؤد اور غصّہ آرہا تھا
کوئی بات نہیں رابعہ۔۔۔۔۔۔۔نین کو انگوٹھی ہم پہنا دیں گے۔۔۔
ویسے بھی ہمارے وقت میں تو گھر والے ہی منگنی کی انگوٹھی پہنا تے تھے۔۔۔۔۔۔
دادی نے ہی خاموشی توڑتے ہوئے ماحول کو بحال کرنا چاہا عبّاس صاحب اُن کی بات سے متفق ہو کر سر ہلا گئے جب کے رابعہ بیگم پریشان کھڑی تھیں
یہ تو آجکل کے بچوں نے نئے رواج بنا لیے ہے ورنہ ہمارے وقت میں شادی سے پہلے دولہا دلہن ایک دوسرے کو دیکھتے تک نہیں تھی۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے اب کے نین کو دیکھتے ہوئے کہا
دل اُداس ہو گیا تھا وہ خاموش کھڑی تھی
ہے نہ لاڈو۔۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے محبت سے اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھا
جی نانو۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہلکا سا مسکرا کر سر ہلا گئی۔۔۔۔۔
اُنہوں نے اپنے ہاتھ سے داؤد کے نام کی انگوٹھی اُس کی اُنگلی میں پہنا کر اُس کی پیشانی چوم لی۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے بھی ایک گہری سانس لیتے ہوئے آگے بڑھ کر اُس کے سر پر بوسا دیا۔۔۔۔۔
وہ سر جھکائے اُس رنگ کو دیکھئے لگی۔۔۔۔