Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 99
No Download Link
Rate this Novel
Episode 99
دکش۔۔۔۔۔آپ کب آئے۔۔۔۔۔
ڈائننگ ہال میں اپنے مام ڈیڈ کے ساتھ دکش کو دیکھ انجو کو خوش گوار حیرت ہوئی۔۔
وہ رات کو غصے میں ریا کے گھر سے نکلنے کے بعد اُسے باہر سے ہی گھر ڈراپ کر گیا تھا ۔۔۔اُس کے لاکھ کہنے کے باوجود نا ڈاکٹر کے پاس چلنے کو راضی تھا نہ گھر کے اندر آکر کچھ دیر رکنے کو۔۔۔۔۔
وہ اُس کے گھر جا کر اُس سے ملنے کے ارادے سے ہی تیار ہو کر آئی تھی لیکن اُسے وہیں موجود دیکھ حیران بھی ہوئی اور خوش بھی۔۔۔۔
وہ اُسے دیکھ کر مسکراتا ہوا اپنی چیئر سے اٹھا اور اُس کے پاس آکر اُس کا ہاتھ تھاما۔۔۔
تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے۔۔۔۔۔
اُس کا ہاتھ تھامے محبت بھرے لہجے میں کہتے ہوۓ اُسے چیئر پر بٹھایا تو وہ سوالیہ نظروں سے پہلے اُسے اور پھر اپنے مام ڈیڈ کے مسکراتے چہروں کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
ہماری شادی کی ڈیٹ فکس ہوگئی ہے۔۔۔۔تین دن بعد ہماری انگیجمنٹ ہے اور اس مہینے کی تیس تاریخ کو شادی۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی چیئر کا رخ اُس کی جانب کرکے بیٹھا اُس کا ہاتھ تھامے مسکرا کر اپنے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے اُسے اطلاع دینے لگا تو انجو حیرت زدہ ہونے کے ساتھ اُلجھ بھی گئی۔۔۔۔۔
اُس کی بات سن کر اپنی اگلی زندگی کا سوچتے ہوئے۔۔۔۔دکش کو پا لینے کا سوچتے ہوئے۔۔۔۔۔۔اُس کے ذہن میں ایک جملہ گونجنے لگا۔۔۔
” تمہیں اُس سے پیار نہیں ہے۔۔۔۔”
اور وہ اُلجھ کر رہ گئی کے یہ سچ ہوا تو۔۔۔۔
انجو۔۔۔آر یو ہیئر۔۔۔
وہ سنجیدگی سے اُس کے ایکسپریشن نوٹ کرتا رہا اور اُسے بجائے خوش ہونے کے پرسوچ نظروں سے خود کو تکتا دیکھ دھیرے سے پوچھنے لگا تو انجو نے چونک کر پلکیں جھپکیں
ہاں وہ میں کچھ سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ سنبھل کر مسکراتی اپنے تاثرات چھپانے لگی جو دکش کے ساتھ اُس کے مام ڈیڈ کو بھی محسوس ہو رہے تھے
میں بہُت خوش ہوں بیٹا۔۔۔ لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہا اتنی جلدی ساری تیاریاں کیسے ہوں گی۔۔۔۔
مسز سنگھ نے اُس کا چہرہ تھامتے ہوئے کہا تو وہ اُنہیں دیکھ کے مسکرائی لیکِن اب بھی بہت بے معنی سا۔۔۔
انجو بیٹا کیا کوئی پریشانی ہے۔۔۔۔
مسٹر سنگھ اُس کے تاثرات بھانپتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھنے لگے ۔۔۔دکش کو نظریں بھی اُس کی ایک ایک حرکت پر تھی۔۔
نہیں ڈیڈ وہ میں یہ سوچ رہی تھی کے تین دن بعد انگیجمنٹ کچھ زیادہ جلدی نہیں ہے۔۔۔۔۔
اُس نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے کہا ۔۔اصل وجہ وہ کیسے بتاتی جب اُس کے لیے ہی سمجھنا مشکل تھا۔۔۔
مطلب ابھی پرسوں سے ریا کی بھی شادی کی رسمیں شروع جائیں گے اور اُس کی شادی کے بیچ ہماری انگیجمنٹ ہوئی تو نہ وہ شامل ہو پائیگی نا میں ڈھنگ سے انجوئے کر پاؤں گی۔۔۔۔
کیا میری اور دکش کی انگیجمنٹ آگے پاسپون نہیں کر سکتے۔۔۔
دکش کی نظریں خود پر مرکوز دیکھ وہ جلدی سے بہانا تلاش کر مسکراتے ہوئے بولی تو سنگھ صاحب مسکرائے۔۔
ٹھیک ہے بیٹا میں پنڈت جی سے بات کرتا ہوں کے کوئی اور مہورت ہو تو دیکھ لیں۔۔۔۔
اُنہیں اتنی سے بات کے لیے اپنی بیٹی کا پریشان ہونا اچھا نہیں لگا تو حل پیش کرتے ہوئے بولے۔۔۔
انجو نے دکش کی طرف دیکھا تو وہ نہایت سنجیدگی سے اُسے دیکھ رہا تھا کے اُسے گھبراہٹ محسوس ہونے لگی
کیا کر رہی ہوں میں اس طرح تو پورب جو کہہ رہا ہے وہ سچ ہو جائیگا۔۔۔۔۔میں یہی تو چاہتی ہوں کے جلد سے جلد میری اور دکش کی شادی ہو جائے۔۔۔ہم ایک ہو جائیں۔۔۔پھر میں کیوں پریشان ہو رہی ہوں۔۔۔کس چیز سے ڈر لگ رہا مجھے۔۔۔۔۔
وہ اپنی اُنگلیوں کو آپس میں اُلجھا کر اپنی ذہنی کیفیت پر جھنجھلائ سی خود کو ڈپٹنے لگی۔۔۔۔اُسے خود پر ہی غصّہ آیا کے اگر یہ بات پورب کو معلوم ہوگئی تو اُس کاکتنا مزاق بنے گا۔۔۔
کوئی بات نہیں پاپا ۔۔۔۔اگرمہورت نا ہو تو ٹھیک ہے ہم مینیج کر لیں گے۔۔۔۔
وہ اپنی سوچوں سے جان چھڑا کے بات سنبھالتی ہُوئی بولی۔۔۔
۔۔۔لیٹس سلیبریٹ اٹ۔۔۔ہم کہیں باہر چلتے ہیں۔۔۔۔
دکش نے اپنی خاموشی توڑی اور اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولا تو وہ مسکرا کر سر ہلاتی اپنی چیئر سے اٹھی۔۔۔۔
اُسے اندازہ تھا ۔۔کہ چند گھنٹے انجو کے ساتھ گزار نے سے اُس کے دماغ میں کوئی اُلجھن ہے تو وہ بھی ختم ہوجائے گی۔۔اس لیے اُس نے اپنا سارا دن انجو کے نام کر دیا۔۔
♦♦♦♦
یہ یہاں کی سب سے فیمس مٹھائی ہے۔۔۔۔اچھی لگی نا۔۔۔
ریا نے مسکراتے ہوئے پوچھا تو اُس نے بے دلی سے سر ہلا دیا۔۔۔کیوں کے صبح سے وہ ریا کے ساتھ مارکٹ میں بھٹک رہی تھی۔۔۔
اُس کا دل چاہ رہا تھا کے ساحل سے ملے اُس کا ری ایکشن دیکھے لیکِن ریا تھانیدار بنی اُس پر پہرے لگائے بیٹھی تھی۔۔۔
اُسے اکیلے چھوڑنا ہی نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔۔
اور نین نے اُسے اب اپنے پیچیدہ مسائل سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔۔۔۔اُسے کچھ بھی بتا کر پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔
بلکہ خود کو بھی نارمل دکھا کر اُس کی خوشیوں میں شریک ہونا چاہتی تھی۔۔۔۔
اپنے غم رو کر اُس کی شادی میں مایوسی نہیں بھرنا چاہتی تھی ۔۔
وہ ریا سے اس بات کا اقرار کر چکی تھی کے دکش کو ساحل سمجھنا محض اُس کی غلط فہمی تھی۔۔۔
وہ اُسے یقین دلا چکی تھی کے اب وہ بلکل بھی ایسا نہیں سمجھتی بلکہ اُسے یقین ہے کے وہ دکش ہی ہے۔۔۔۔
نمستے آنٹی کیسی ہیں آپ۔۔۔
ریا کو کال پر بات کرتے دیکھ وہ اُس کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
کیا ۔۔۔۔سچ میں۔۔۔۔۔مجھے یقین نہیں ہو رہا۔۔۔۔۔
ریا کو انجو کی انگیجمنٹ کا سن کے خوشگوار حیرت ہوئی لیکِن جب اُس نے نین کی طرف دیکھا تو اُس کی ہنسی مدھم پڑ گئی۔۔۔یہ سوچ کر کے اگر نین اُس سے جھوٹا انکار کرکے اب بھی دکش کو ساحل سمجھتی ہے تو یہ جان کر کتنی تکلیف محسوس کریگی۔۔۔
میں بہت خوش ہوں آنٹی۔۔۔۔۔
اُس نے دوبارہ اُن کے پوچھنے پر جلدی سے کہا لیکن نین کی فکر اپنی جگہ تھی۔۔۔
ہاں آنٹی یہ کوئی کہنے کی بات ہے کیا۔۔۔۔۔۔
ابھی تو میں گھر پر نہیں ہوں لیکن ڈونٹ وری میں ڈیڈ اور بھائ کو بتا دوں گی۔۔
اُس نے مسز سنگھ کی پُرزور تائید پر اُنہیں یقین دلاتے ہوئے کہا۔ اور چند ایک باتوں کے بعد فون رکھ دیا
کِس کا فون تھا۔۔۔۔۔
نین نے اُسے خاموش پریشان دیکھ کے سوال کیا۔۔۔
وہ میری ایک فرینڈ کی انگیجمنٹ ہے کل ۔۔۔۔تو اُس کی مام نے انوائیٹ کرنے کے لیے فون کیا تھا۔۔
ریا نے انجو یا دکش کا ذکر کیے بغیر کہا۔۔۔۔
تو تم اپسیٹ کیوں ہو گئی اچانک۔۔۔۔
نین نے اُسے تفتیشی نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔
کچھ نہیں یار ایسے ہی۔۔۔۔اچھا اب ہم گھر چلیں میں بہُت تھک گئی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
ریا نے بھی بدلے میں اُسے گھور کر بات ختم کرتے ہوئے کہا
بلکل نہیں ۔۔۔۔ابھی تو اس شہر کی آدھی دکانیں باقی ہے۔۔۔۔ہم وہاں نہیں گئے تو وہ برا مان جائیں گی نہ۔۔۔جب تک اس شہر کی ہر دکان سے اپنے لیے کچھ نہ لے لیں ہم اپنے قدموں کو رکنے نہیں دیں گے پلٹنے نہیں دیں گے۔۔۔
اُس نے جلے ہوئے انداز میں خطرناک طنز کیا تو ریا ہنسی روک کر سر تاسف سے ہلا گئی۔۔۔
♦♦♦♦♦♦
آج تو تمہارے ہوش بحال کروا کر رہوں گی ساحل شیرازی ۔۔۔سلیش ڈیویل سنگھانيہ۔۔۔۔۔
وہ رات کے بارہ بجے اُس کے بنگلے کے باہر کھڑی دور سے جگمگاتے ڈی اور ایس لفظ کو دیکھتی دل ہی دل میں بولی۔۔۔۔
سارا دن تو اُسے ریا کی وجہ سے موقع نہیں ملا تھا۔۔لیکن وہ اُس سے ملے بنا ماننے والی نہیں تھی۔۔۔ ریا کے اپنے روم میں جانے کے بعد وہ اُس کے سونے کا یقین کرکے چپکے سے گھر سے نکل گئی اور ٹیکسی لے کے سیدھے دکش کے ایڈریس پر پہنچی۔۔۔۔۔۔
وہ من ہی من میں خود کو داد دیتی کرایہ دے کر ٹیکسی سے باہر نکلی
ٹھیک گیٹ کے سامنے دو ہٹے کٹے گارڈ تعینات تھے۔۔۔۔جو سردی کے اثر کو کم کرنے کی غرض سے آگ جلائے اُس کے نزدیک کرسیاں رکھ کر بیٹھے تھے۔۔۔۔
آس پاس ویرانی تھی ۔۔۔دور دور تک کوئی مکان نہیں تھا۔۔۔سردی کی وجہ سے سڑک بھی سنسان تھی۔۔۔
وہ گارڈز کو دیکھ کر بھی بے فکری سے آگے بڑھی لیکِن گارڈز اُس کا ارادہ سمجھ کے فوراً حرکت میں آئے
ایک منٹ میم آپ اندر نہیں جا سکتی ۔۔۔۔
ایک گارڈ اپنی جگہ سے اٹھ کر گیٹ کے سامنے آتے ہوئے اُس کا راستہ روک کر بولا
کیوں۔۔۔۔۔۔
اُس نے ماتھے پر ڈھیروں بل ڈالے اُسے گھور کر ناگواری سے پوچھا۔۔۔۔
اگر آپ کو مسٹر سنگھانیہ سے ملنا ہے تو اپوائنٹمنٹ لینی پڑےگی۔۔۔۔۔
سامنے والے نے رسانيت سے سمجھایا ۔لیکن اُس کے تیور مزید بگڑے۔۔
اب اپنے ہی ماما کے بیٹے سے ملنے کے لیے اپوائنٹمنٹ لوں گی میں۔۔ہرگز نہیں۔۔۔۔مجھے اندر جانا ہے۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے بولتی سائیڈ سے جانے لگی لیکن گارڈ نے آگے ہاتھ کرکے اُس کی کوشش کو ناکام کیا
سوری لیکن ہم اجازت نہیں دے سکتے۔۔۔۔
اس بار گارڈ نے بھی سختی اور غصے کا مظاہرہ کیا۔۔
آپ سے اجازت مانگ کون رہا ہے۔۔۔
نین نے بڑی سادگی سے کہہ کر دونوں کو بھڑکایا۔۔۔دوسرا گارڈ بھی اپنی جگہ سے اٹھ کر وہاں آیا
تُم سے کہا نا لڑکی اندر جانا منع ہے ۔۔۔جاؤ یہاں سے ورنہ ہمیں پولیس کمپلینٹ کرنی پڑےگی۔۔۔۔۔
اُس نے نین کے تیور دیکھ اُسے سختی سے دھمکایا۔۔۔
دھمکی ۔۔۔۔وہ بھی مجھے۔۔۔۔تم لوگوں کو پتا بھی ہے میں کون ہوں۔۔۔۔وہ اندر جو تمہارا باس ہے نہ اُس کی سُپر انٹیلیجنٹ اینڈ اسمارٹ بیوی ہوں میں۔۔۔۔۔۔فائر کروا دوں گی تم دونوں کو۔۔۔۔
نین نے دونوں کو غصے سے ڈپٹ کر وارن کرتے ہوئے کہا تو
دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر یوں مسکراتے جیسے اُنہیں نین کی بات جوک لگی ہو۔۔۔
ٹھیک ہے اندر جا کر اُس کو بولو کے نین تارا کو اُس سے ملنا ہے۔۔تب تم لوگوں کو خود پتہ چل جائیگا۔۔۔۔
نین نے اُن کے ہنسی اڑاتے تاثرات دیکھ اپنے دونوں ہاتھ باندھے شان سے جتاتے ہوئے کہا
اس وقت ہم اُنہیں ڈسٹرب نہیں کر سکتے میڈم۔۔۔۔آپ صبح آئیے گا۔۔۔
پہلے والے گارڈ نے ایک دفعہ پھر اُسے نرمی سے سمجھایا
بلکل نہیں مجھے ابھی اسی وقت اُس سے ملنا ہے۔۔۔
وہ ڈھٹائی سے بولی
آپ کو سمجھ نہیں آرہی ہے میڈم ۔۔۔۔آپ یہاں سے جائیں گی یا ہم آپ کو پولس کے حوالے کریں۔۔۔۔
اُس نے غصے سے دوبارہ دھمکی دی۔۔۔
مطلب آپ لوگ نہیں مانوگے نا۔۔۔۔۔مجھے اندر نہیں جانے دوگے نا۔۔۔
نین نے سر کو ہلاتے ہوئے دونوں کو وارننگ بھرے انداز میں گھورتے ہوئے پوچھا
جی نہیں۔۔۔۔۔
ایک گارڈ نے جواب میں انکار دیا
ٹھیک ہے۔۔۔ ۔لیکن یہ چیز بہُت بھاری پڑےگی تم کو ۔۔۔کرما یو نو۔۔۔۔اور اندر تو میں جا کر ہی رہوں گی۔۔۔دم ہے تو روک کے دکھاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے دانتوں کو اور مٹھیوں کو سختی سے بھینچ کر دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا اور اُنہیں خطرناک نظروں سے گھورتی پیچھے پلٹ گئی۔۔۔۔
وہاں سے آگے جا کر اُس نے چاروں اور سے اُس وسیع و عریض بنگلے کا جائزہ لیا کہ شاید کوئی اندر گھسنے کی جگہ مل جائے۔۔۔لیکن چاروں اور سے اونچی اونچی باؤنڈری وال کے سوا کچھ نہیں تھا۔۔۔
وہ چلتے چلتے تھک کر نڈھال ہوتی واپس سامنے کی طرف آچکی تھی لیکن اندر جانے کے راستے کے نام پر کچھ نظر نہیں آیا تھا
کمینے نے جان بوجھ کر اتنی اونچی دیواریں بنوائی ہے۔۔۔۔۔پتہ ہے اپنے کرتوت خراب ہے تو پہلے ہی سیفٹی کا انتظام کرلیا۔۔۔۔
لیکِن یہ دیواریں کتنی بھی اونچی کیوں نہ ہو مجھے تم تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی وائلڈ مین۔۔۔
وہ سر اوپر کر کے دیوار کو گھورتی ساحل سے مخاطب ہو کر بولی اور جوش و جذبے کے ساتھ پیچھے ہو کر آگے دوڑتی ہوئی دیوار پر چڑھنے کی کوشش میں بری طرح اُس سے ٹکرا کر زمین پر گری۔۔۔۔
ایک سیکنڈ کے لیے بدن کے سارے پرزے اپنی جگہ سے ہل گئے۔۔۔دماغ سمیت
نہیں یار ایسے تو میں مر ور جاؤں گی۔۔۔اور میں مر گئی تو ماما کا بیٹا اُس انجو کے ساتھ کھلے عام عاشقی کے پھول کھلائے گا۔۔۔۔ایسا تو ہونے نہیں دوں گی میں۔۔۔
وہ اپنا بازو سہلاتی بڑبڑا کر اپنا جوش بحال کیے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ اپنے مرنے سے زیادہ اُسے اپنی غیر موجودگی میں ساحل کی حرکتوں کا خیال تھا۔۔
وہ ہار مان کر واپس گیٹ کی طرف آئی کیوں کے اندر جانے کا اُس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔۔۔اور اب یہیں سے کوئی جگاڑ لگانا تھا
بھائی پلیز مجھے اندر جانے دو نا ۔۔۔۔بہُت ضروری ہے ۔۔۔زندگی اور موت کا سوال ہے۔۔۔۔
وہ اُن گارڈز کے خود کی جانب دیکھنے پر بیچارگی و معصومیت سے بولی۔۔۔
تُم نے تو ہمیں چیلنج کیا تھا نہ تو اب کیا ہوا۔۔۔۔دکھاؤ اندر جا کر۔۔۔
دونوں اُس پر ہنسنے لگے۔۔۔ایک نے چبھا کر طنز کیا تو وہ ضبط سے مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی
ٹھیک ہے میں اندر نہیں جاؤں گی ۔۔۔آپ بس مجھے وہاں تک جانے دو۔۔۔۔و جو پیڑ ہے نہ اُس کے گیارہ لیفس لینے دو مجھے۔۔۔۔۔ بس
اُس کے شیطانی دماغ میں طوفانی ترکیب اُبھری تو اُس نے گیٹ کےاندر کچھ دوری پر نیم اندھیرے میں نظر آتے پول کے نزدیک کھڑے ایک تناور درخت کی طرف اشارہ کرکے کہا۔۔۔
وہ کس لیے۔۔۔۔
ایک گارڈ نے اُس کی چالاکی سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے ابرو اچکا کر پوچھا نین نے لبوں پر زبان پھیری اور ایکدم سے زوردار رونے لگ گئی کے دونوں ہڑبڑا گئے
میرے جو سسر جی ہے نا وہ بہت بیمار ہے اور ڈاکٹر نے مطلب وہ ہوتے ہے نہ حکیم صاحب اُنہوں نے کہا ہے کہ اُنہیں پتوں سے میرے سسر جی کی جان بچ سکتی ہے۔۔۔ورنہ وہ مر جائیں گے۔۔۔اور اگر وہ مر گئے تو میری مارڈرن ساسُو ماں کا کیا ہوگا۔۔۔۔ وہ تو میکپ خراب ہونے کے ڈر سے رو بھی نہیں پائیگی۔۔۔
پلیز مجھے وہ پتّے لانے دو۔۔۔میں بس پتّے لے کر یہاں سے چلی جاؤں گی ۔۔۔۔آپ کی قسم۔۔۔۔۔
وہ بنا آنسُو ۔۔ با آواز پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے بولی تو گارڈز اپنی حیرت اور ہڑبڑا ہٹ میں اُس کی باتوں پر بھی غور نہیں کر پائے
یہ لڑکی بہُت چالاک لگتی ہے۔۔۔اندر جانے کے لیے باتیں بنا رہی ہے ۔۔
ایک نے دوسرے کے کان میں کہا تو نین اُن کو پھسپھساتے دیکھ مصنوعی آنسو صاف کرنے لگی۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے مجھے نہیں جانے دینا نا تو آپ خود ہی لا کے دے دو گیارہ ليفس
اُس نے رونے والے بیچارے سے انداز میں کہا تو دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے
دے دیتے ہیں یار جان چھوٹے گی۔۔۔۔
ایک گارڈ نے بیزاری سے کہا تو دوسرے نے حامی بھری۔۔نین کی آنکھیں چمک اُٹھیں۔۔
تُم یہی رکو میں لے کر آتا ہوں ۔۔
وہ احسان کرنے والے انداز میں بولتا گیٹ کھول کر اندر جانےلگا دوسرا گارڈ گیٹ بند کرنے ہی والا تھا کے۔۔۔
ممی۔۔۔۔
وہ پوری قوت سے چلائی ۔۔۔
اُس کی چینخ پورے ماحول میں گونج اٹھی۔۔۔۔اندر سوئے ملازمین بھی جاگ گئے۔۔۔درخت کے ساکت پتے ہلنے لگے یہاں تک کہ سوئمنگ پول کے پانی میں بھی ارتعاش پیدا ہوا۔۔۔۔۔۔
دونوں گارڈز بوکھلا کر اُس کی طرف دیکھنے لگے تو اُس نے پلکیں جھپک کر خوفزدہ نظروں نے سڑک کی دائیں جانب اشارہ کیا۔۔۔۔
دونوں نے الرٹ انداز میں اپنی اپنی گن نکالی اور آگے آکر سڑک کی جانب ہوئے تو اُن کا دھیان اُدھر ہوتے ہی نین پھرتی سے گیٹ کے اندر گھس گئی۔۔۔
خالی سنسان سڑک دیکھ جب دونوں حیرت سے پلٹے اور نین کو گیٹ کے اندر جاتے دیکھا تو ان کے تمام طبق روشن ہوئے لیکِن تب تک دیر ہو چکی تھی۔۔۔
ارے۔۔۔رکو لڑکی ۔۔۔۔۔
وہ دونوں جھللا کر اُس پر چلاتے ہوئے اُس کے پیچھے بھاگے لیکِن نین اتنی آسانی سے اُن کے ہاتھ کہاں لگنی تھی۔۔۔وہ ملکا سنگھ بن کر پیروں میں پہیے لگائے دوڑتی گئی۔۔۔سامنے مین دروازے سے نکل کر چند اور آدمی تیزی سے اُسے پکڑنے کو آگے آئے تو اُس کی مشکل بڑھ گئی۔۔۔کے پیچھے والوں سے بچے یا آگے والوں سے۔۔۔۔
لیکِن وہ رکی نہیں۔۔۔قدموں کی رفتار کو بڑھا کے پول کی جانب پلٹ گئی۔۔۔۔
بھاگتے بھاگتے ہی ذرا سی گردن موڑ کر پیچھے سے آتے گارڈز کی جانب دیکھا اور اُسی وقت سامنے کِسی سے بری طرح ٹکرائی۔۔۔اتنی زوردار طریقے سے کہ ایک دفعہ پھر بدن کے سارے پرزے ہل کر ره گئے۔۔ننھا سا دل لرز کر رہ گیا۔۔۔
تیز قدم بریک لگتے ہی ڈگمگا گئے توازن بگڑا اور آہ کرتے ہوئے سامنے والے کے سخت تاثرات کو دیکھنے کے ساتھ ہی دھڑام سے سوئمنگ پول میں جا گری۔۔پول سے پانی چھپاک کی آواز کے ساتھ بہُت اوپر تک اچھل کر واپس لوٹا۔۔۔۔
ایک تو پہلے ہی بھاگنے سے سانسیں تیز تھیں اوپر سے پانی کی ایک ڈبکی نے حواس درست کر دیے۔۔۔سر باہر نکالتے ہی اُس نے پورا منہ کھول کر سانس لی۔۔۔۔ پوری آنکھیں کھول کر اپنے زندہ ہونے کا یقین کیا تو کچھ اطمینان ہوا
لیکِن تبھی یاد آیا کے اُسے تیرنا تو آتا نہیں اسلئے پھر سِٹی گم ہو گئی ۔۔۔دل کی رفتار تیز ہو گئی
خوف سے ہاتھ پیر پانی میں مارنے شروع کردیئے۔۔۔۔۔
جب کے وہ سامنے کھڑا سنجیدگی سے اُس کی حرکتوں کو ملاحظہ کر رہا تھا۔۔۔۔
یو راؤڈی۔۔۔اندھے۔۔میں ڈوب ۔۔۔۔ڈوب جاؤں گی میں۔۔۔
بچاؤ تو صحیح۔۔۔
وہ ڈوبنے سے بچنے کی کوشش میں پیر پانی میں مارتی سانس لینے کا موقع ملتے ہے اُس پر غصے اور جھنجھلاہٹ سے بگڑ کے بولی ۔۔۔۔۔
اپنے پیروں پر کھڑی رہو۔۔۔۔۔
اُس نے سکون و سنجیدگی کے ساتھ لاپرواہی سے کہا تو نین نے اُس کے کہے پرعمل کرتے ہوئے پیروں کو حرکت دے کر سیدھا کیا
اور پیروں كو زمین ملتے ہی اسے لگا کے نئی زندگی مل گئی۔۔۔۔
پانی صرف اُس کے شولڈر تک اونچا تھا۔۔۔
اُس نے پانی سے جنگ تھمتے ہی سکون سے لمبی لمبی سانسیں لے کر دھڑکنوں کو شانت کیا۔۔۔۔
سردی کی شدت سے خون منجمد ہونے لگا چہرہ سفید اور لب نیلے پڑنے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گارڈز اشارے پر وہاں سے جا چکے تھے اور وہ وہاں اکیلا کھڑا غصے اور افسوس سے اُسے دیکھ رہا تھا۔۔۔کیوں کے اُس کی بہادری کسی بیوقوفی سے کم نہیں لگ رہی تھی۔۔۔رات کے اس وقت اکیلے ہنگامہ کرکے اُس گھر اندر گھسنا یہ سوچے بنا کے کچھ غلط نہ ہوجائے۔۔۔۔وہ غصّہ بھی تھا اور پریشان بھی۔۔۔۔
نین نے چند سیکنڈ نارمل ہونے کے بعد سر اٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تو اُسے ویسے ہی خود کو گھورتے پایا۔۔۔
اُس نے معصومیت سے بھیگی پلکیں جھپکیں اور ہاتھ آگے کرکے باہر نکالنے کا اشارہ کیا تو وہ دانت بھینچ کر آنکھیں گھما کر سخت مجبوری میں آگے بڑھا اور اُس کا ہاتھ تھام کر اُسے باہر کھینچا۔۔۔۔
لیکِن نین اپنا کچھ تو بدلا اُس سے ضرور لیتی اس لیے اُس کے کھینچنے پر پول سے باہر نکلتے ہی جان بوجھ کر گرنے کے انداز میں اُس کے قریب ہوئی دونوں ہاتھ اُس کے شولڈر پر رکھ کر پوری اُس کے ساتھ لگ گئی تاکے اُس کے کپڑے خراب کر سکے اُسے بھی سردی کا مزا چکھا سکے ۔۔
اور اُس کے قریب ہوتے ہی یہ سوچ کر ہنسنے کو تھی کے اُس نے بدلا لے لیا لیکِن۔۔۔۔۔
اسے چڑنے کے بجائے ۔۔۔غصّہ سے بھڑکنے کی بجائے۔۔۔جھنجھلا کر خود کو دور کرنے کی بجائے بے خودی سے خود کو تکتے دیکھا تو لب ہنسنے سے پہلے سمٹ گئے۔۔۔۔۔۔دل شدّت سے سکڑ گیا۔۔۔بھیگی پلکوں میں لرزش ہوئی۔۔۔ہتھیلیوں میں چنٹیاں رینگنے لگی۔۔۔۔
وہ سانس روکے اُس کے بھیگے وجود کو ایک بازو میں لیے لبوں پر ٹھہری پانی کی بوندوں کو دیکھتا۔۔۔اپنے دل کے ارادے پر عمل کرنے کو تھا کہ۔۔۔
آچّھی ی ی۔۔۔۔
نین کی بے وقت چھینک نے اُسے سر سے پیر تک جھنجھوڑ دیا ۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ چھوڑ کر پیچھے ہوا
نظروں کا رخ بدل کر گہری سانس لیتے ہوتے بالوں میں اُنگلیاں چلائیں۔۔۔اپنے گیلے کپڑوں کو محسوس کیا اور پھر غصے سے اُس کی طرف دیکھا۔۔۔
What The hell are you doing۔۔۔۔۔
دماغ نام کی کوئی چیز ہے تمہارے اندر یا نہیں۔۔۔
اپنے ٹرانس سے نکلتے ہی وہ اُس پر غصّہ ظاہر کرنے لگا لیکِن وہ پچھلی کیفیت کی زیرِ اثر کچھ سیکنڈ کے لئے نظریں جھکائے کھڑی رہی۔۔۔ اپنے گیلے بدن سے چپکے شرٹ کو ٹھیک کرنے کی سعی کرتے ہوئے۔۔۔۔
اندر آکر کپڑے چینج کرو اور دفع ہوجاؤ اِدھر سے۔۔۔۔۔
وہ سختی و بے رخی سے کہتا خود اندر کی طرف بڑھ گیا تو نین نے سر اٹھا کر اُس کی پشت کو دیکھا۔۔۔۔
میں اتنی محنت مشقت کرکے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کے یہاں پہنچی ہوں اور اس کو لگتا ہے اس کے دفع ہوجاؤ بولنے سے چلی جاؤں گی۔۔۔۔۔
بیچارہ کتنا سیدھا ہے۔۔۔۔
اُسے جاتے دیکھ وہ نہایت سادگی اور افسوس سے بولتی اُس کے پیچھے چل دی۔۔۔۔۔۔
