Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 85

رات کے آخری پہر خالی سنسان سڑک سے گزرتی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھا وہ منہ پر مُٹھی جمائے کھڑکی سے باہر کے مناظر دیکھتا اپنی بے بسی پر تڑپ رہا تھا۔۔
وہ نین کو ناراض چھوڑ کر جانا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔لیکن بے بسی تھی کے چاہ کر بھی رک نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔
اسے اپنے آپ پر غصہ آرہا تھا کیوں کہ یہ حالات اس کی وجہ سے بنے تھے ۔۔۔اگر وہ اپنے غصے پر قابو رکھ کر اُس کا دل نہ دکھاتا تو شاید آج اسے یوں رلا کے جانے کی نوبت نہیں آتی ۔۔اُس پر ظلم یہ کے اُسے بگڑے حالات کو سدھارنے کے مہلت تک نہیں ملی تھی۔
اُس نے سلگتی سرخ آنکھوں کو بند کیا تو لمحے میں نین کا چہرہ ذہن کے پردے پر لہرایا ۔۔۔
سرخ بھیگی آنکھیں۔۔۔۔۔۔
اُن میں درد۔۔تکلیف۔۔۔ناراضگی۔۔۔غصّہ تڑپ۔۔۔
اُس کے دل میں بے چینی بڑھنے لگی تو فوراً آنکھیں کھول کر سانس فضا میں خارج کی۔۔۔
اگر اسے یوں روتے ہوئے چھوڑ کر گیا تو جیت نہیں پاؤں گا۔۔۔۔۔۔
اُس نے اپنے آپ سے اعتراف کرکے ایک پل میں سب نظر انداز کرکے فیصلہ کیا۔۔
stop the car۔۔۔
اُس کی بھاری سنجیدہ آواز پر ڈرائیور نے چونک کر اُسے دیکھا اور گاڑی میں بریک لگائی تو گاڑی کے ٹائروں کی آواز زور سے فضا میں گونجی۔۔۔۔
واپس لو۔۔۔۔۔
اُس نے سامنے نظریں جمائے کہا
sir its already late ۔۔
وہ حیران ہوتا ہوا بولا تو ساحل چند سیکنڈ کے لیے خاموشی سے سامنے دیکھنے لگا۔کیوں کے اُس نے کبھی ایسا نہیں کیا تھا کے بڑھتے قدم واپس لیے ہو۔۔۔
گاڑی واپس لو۔۔۔۔۔۔
اُس نے وہی بات دوبارہ دہرائی۔۔۔حتمی انداز میں
But sir۔۔۔۔
اُس آدمی نے کچھ کہنا چاہا لیکِن۔۔۔۔
What۔۔۔۔
ساحل کے ایکدم سے اپنی طرف دیکھ کر سرد لہجے میں پوچھنے پر وہ گھبرا کر چپ ہو گیا۔۔۔
اور اُس کی بات پر عمل کرتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کرکے ٹرن کرنے لگا۔۔۔
اُس نے اپنا فون نکال کر ایک نمبر ڈائل کرتے ہوئے کان سے لگایا۔۔۔۔
سر مجھے چوبیس گھنٹے چاہیے۔۔۔ پلیز ۔۔۔
دوسری جانب فون اُٹھائے جانے پر وہ رک کر پرسوچ لہجے میں بولا تو چند سیکنڈ کی خاموشی کی بعد اُسے مثبت جواب مل گیا۔,۔
Thank you ۔۔۔۔
وہ دھیرے سے کہتا فون نیچے کر گیا۔۔۔
یہ شاید پہلی دفعہ تھا جب اُس نے اپنے کام سے زیادہ کِسی اور چیز کو اہمیت دی تھی ۔۔۔جس کے لیے وہ پیچھے مڑا تھا۔۔۔۔اور وہ تھی
نین کی ناراضگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
♦♦♦♦♦♦♦
وہ جو اُس کے جانے کو آدھا گھنٹہ گزرنے کے بعد بھی اُس کی بات کو بار بار یاد کرتی زمین پر بیٹھی رویے جا رہی تھی جب دروازہ کھلا تو اُس کی سسکی ادھُوری رہ گئی۔۔۔
اُس نے سانس روک کر چہرہ اٹھایا تو نظریں ساحل کے جوتوں پر پڑی۔۔
دل اُس کی واپسی پر اپنا غم بھول کر الگ انداز میں دھڑکا تو اُس نے نظریں مزید اٹھانے کی بجائے وہاں سے واپس نیچے کر لیں۔۔۔
کیوں کے وہ اُس کی ذرا سی کیئر پر خوش ہو کر اُس کے لیے دل نرم نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔دل کے ہاتھوں کمزور پڑ کر اُسے معاف نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔
کیوں کے وہ کئی بار اُس کی ایسی باتوں کو اگنور کر چکی تھی۔۔۔۔۔لیکن آج کی باتیں اگنور کرنے لائق نہیں تھی۔۔آج صرف اُس کا دل نہیں دکھا تھا بلکہ اُس کے کردار پر بھی شک کیا گیا تھا
اُس کا دل ساحل کی كسي بھی بات یا حرکت سے پگھل نا جائے اِس خیال سے وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر باہر جانے لگی۔۔۔تاکے اب اُس سے سامنا ہی نا ہو۔۔
لیکن ساحل نے اُس کا ارادہ جان کر دروازہ بند کردیا اور اُس کے باہر جانے کی کوشش ناکام کر دی
میرا راستہ چھوڑو۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے سامنے کھڑے ہونے پر غصے سے اُسے دیکھ کر بولی۔۔۔ساحل نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اُس کا ہاتھ پکڑنا چاہا تو وہ اُس کا ارادا سمجھ کر فوراً دونوں ہاتھ اوپر کرکے مٹھیاں بھینچ گئی
ہاتھ مت لگانا۔۔۔۔۔۔۔
اپنے دونوں ہاتھ سینے تک اٹھا کر نفرت بھرے انداز میں بولی ساحل نے سنجیدگی سے اُس کے چہرے کو دیکھا
ٹھیک ہے نہیں لگاتا ہاتھ۔۔۔۔
وہاں بیٹھو۔۔۔۔مجھے بات کرنی ہے
اُس نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے سر سے بیڈ کی طرف اشارہ کرکے کہا۔۔۔
مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سننی۔۔
وہ دانت پیس کر اُسے دیکھتی ہوئی غصے سے دبا دبا چلائی۔۔۔
سننی پڑےگی۔۔۔۔
وہ بھی اسی کے انداز میں بولا۔۔نہایت سرد لہجے میں۔۔۔۔نین حیرت سے اُسے دیکھنے لگی۔۔کیوں کے اپنی غلطی کی بعد اُس سے اس سخت لہجے کی اُمید نہیں تھی۔۔۔
سننی پڑے گی تمہیں۔۔۔
اُس نے سنجیدگی سے اُسے دیکھ کر اپنی بات دہرائی۔۔۔۔نین نے اُسے غور سے دیکھا کیوں کے وہ ہر لمحہ اُس کے لب و لہجے۔۔اُس کے انداز و ادا بدلتے محسوس کر رہی تھی۔۔۔
جانتا ہوں میری وجہ سے تمہارا دل دکھا ہے۔۔۔لیکِن مجھے اپنی صفائی دینے سے نہیں روک سکتی تم۔۔۔
اگر تم میری جگہ کھڑی ہو کر اندازہ لگاؤ گی تو تمہیں معلوم ہوگا کے میں نے کس احساس کے تحت وہ سب بولا تھا۔۔۔۔
وہ اُسی ٹھہرے ٹھہرے انداز میں بولا مانو اپنی غلطی کی صفائی نہیں بلکہ اُسے بس وجہ بتا رہا ہو۔۔۔
میری جگہ آکر محسوس کروگی تو جان جاؤگی کے میں غلط نہیں ہوں میری وہ فیلنگ غلط نہیں ہے۔۔۔۔
اُس نے نین کی آنکھوں میں دیکھ کے جتاتے ہوئے کہا ۔۔۔اُس کی بات سن کر نین کو اُس پر۔مزید غصّہ آیا۔۔۔کیوں کے وہ تو اپنی غلطی سے ہی مکر رہا تھا جب کے اُس کے الفاظ نین کا دل بری طرح چھلنی کر گئے تھے۔۔۔
اوپر سے اُس کے لہجے میں ذرا بھی نرمی یا پچتاوا نہیں تھا۔۔بلکہ وہ تو اس وقت ہمیشہ کے مقابلے زیادہ سخت لگ رہا تھا۔
تمہیں تو خود کنفيوجن ہے کے تم غلط ہو بھی یا نہیں۔۔۔۔مجھے کیا سمجھاؤ گے۔۔۔۔۔کیسے صفائی دوگے۔۔۔۔
وہ پر درد سے مسکرا کر بولی۔۔۔شکوہ کناں نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے۔۔۔
تمہارا دل دکھانا میری غلطی ہے لیکِن ۔۔۔
لیکن نہیں جاننا مجھے کچھ۔۔۔۔۔
وہ اُس کی بات کے جواب میں کچھ بول ہی رہا تھا کے وہ ایکدم سے چینخ کر اُس کی بات کاٹ گئی۔۔۔۔۔
کیوں بتا رہے ہو زبردستی۔۔۔۔۔۔
کیوں ایکسپلینیشن دے رہے ہو۔۔۔
کیا فرق پڑتا ہے کے میں تمہارے لفظوں کو تمہاری انسیکیورٹی سمجھوں یا بے اعتباری۔۔۔۔۔
تمہاری چھوٹی سوچ سمجھوں یا تمہاری سمجھداری۔۔۔۔۔
مجھے کیوں صفائی دے رہے ہو۔۔۔
میں ہوں کیا تمہاری لائف میں۔۔۔
ایک ان چاہا رشتا۔۔۔۔
ایک زبردستی کی بیوی۔۔۔۔
ایک فالتو سامان جسے بس تم نکال کر پھینک دینا چاہتے ہو۔۔۔۔۔۔
وہ ایکدم سے اُس پر بھڑک اٹھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ غصے سے اُسے دیکھتی آنکھوں میں ایک دفعہ پھر آنسو بھر کر چہرے پر گرنے لگے۔۔۔
ساحل نے اُس کے بکھرے بکھرے انداز سے اُس کے تڑپتے دل کی کیفیت کا اندازہ لگا کر خشک لبوں پر زبان پھیری اور لب سختی سے آپس میں جوڑے۔۔۔
خود کو جسٹیفائی کرکے اتنی اہمیت مت دو اس فالتو سامان کو۔۔۔۔۔
وہ عجیب حزیانی کیفیت میں رندهی آواز میں چلائی۔۔۔۔
وہ اُس کی طرف بڑھنے لگا تو نین فورًا پیچھے ہو گئی۔۔۔۔
میرا راستہ چھوڑو۔۔۔۔۔
اُسے قریب آتا دیکھ وہ پیچھے ہو تی غصے سے بولی۔۔۔۔
لیکِن وہ نہیں رکا اُس کے نزدیک آ گیا تو نین اُسے غصے سے دیکھ کر پھرتی سے سائیڈ میں ہوتی آگے بڑھنے لگی لیکن ساحل نے فورًا پلٹ کر اُسے بازو سے پکڑا اور زور سے واپس کھینچا تو وہ اُس کے سینے سے آ لگی۔۔۔۔
سانس روک کر اُس کے سینے پر ہتھیلی رکھتی۔۔آنکھیں پورے کھولے اُسے دیکھنے لگی۔۔
راستے چاہے جتنے بدل لو۔۔۔آنا تو ساحل تک ہی ہے ۔۔۔۔
وہ اُس کے بازو کو چھوڑ کمر کو تھامے۔۔اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دھیرے سے بولا ۔۔۔
جانے دو مجھے۔۔۔۔
نین نے اُسے غصے سے دیکھ کر دانت پیسے پیچھے ہونے کی کوشش میں اُسے خود سے دور دھکیلنا چاہا لیکن ساحل نے جھٹکے سے اُسے مزید قریب کر لیا کے وہ گھبرا کر پھر سانس روکے اُس کی شرٹ کو تھام گئی۔۔۔۔دل تیزی سے دھڑکا۔۔۔۔
پاس ره کر غصّہ کرو۔۔۔۔سزا دو۔۔۔۔۔۔جو چاہے ستم کرلو۔۔۔۔بس دور جانے کی بات مت کرو۔۔۔۔۔
وہ اُس کی پوری کھلی حیرت زدہ سرخ آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دھیمے پرسوز لہجے میں بولا تو نین نے اُس کی سنجیدہ نگاہوں کی تپش محسوس کرکے اپنا خشک ہوتا گلا تر کیا۔۔۔
لب ہلکے سے کھولے اور پلکیں جھکا کر دوبارہ اٹھائی۔۔۔
وہ اس کے چہرے پر آتے جاتے رنگ و تاثر بے حد غور سے دیکھتا نظروں میں جذب کرنے لگا۔۔۔۔
بھیگی گھنی پلکوں۔۔۔سرخ آنکھوں اور نازک گلابی لبوں کی ایک ایک حرکت اُسکے دل میں حشر مچانے لگی۔۔۔۔
تم ہمیشہ سے ہی اتنی زیادہ خوبصورت ہو یا یہ غصّہ ہے جو تمہیں اور حسین بنا رہا ہے۔۔۔۔۔
اُس نے چہرہ اُس کے چہرے کے نزدیک کرکے اُس کے ایک ایک نقش کو اپنی بے خود نگاہوں سے چھوا۔۔۔
اُس کی سانسیں اپنے سرد چہرے پر محسوس کرکے نین کے لیے سانس لینا دشوار ہو گیا۔۔۔
اس دفعہ پلکیں جھکی تو وہ دوبارہ اُنہیں اٹھانے کی ہمت نہیں کر پائی۔۔۔
دل کی دھڑکنیں معمول سے بھٹکنے لگی۔۔۔۔
اُس کا غم و غصّہ ساحل کے پر جذب لہجے میں ہی کہیں جذب ہونے لگا۔۔اور بچی تو بس گھبراہٹ۔۔۔اُلجھن۔۔۔۔اور بے اختیار ہوتی دھڑکنیں۔۔
مجھے ۔۔۔اپنے روم میں جانا ہے۔۔۔۔
وہ بنا اُسے دیکھے دھیرے سے بولی۔۔
اور یہ کس کا روم ہے۔۔۔۔
ساحل نے اُس کے حرکت کرتے لبوں کو دیکھ کر پوچھا۔۔۔بنا پیچھے ہوئے۔۔۔
تمہارا۔۔۔۔۔
وہ جھنجھلا کر بھی اپنی جھنجھلاہٹ ظاہر نہیں کر پائی۔۔۔۔بس روکھے انداز میں کہتی اُس کے ایک بازو کی گرفت میں کسمسا نے لگی۔۔۔
اور میں کس کا ہوں۔۔۔
وہ اُس کے کان سے بال پیچھے کرتے ہوئے دھیمے سے پوچھنے لگا تو دو اُنگلیوں کے چھونے سے نین کے بدن میں سرسراہٹ سی ہوئی۔۔۔۔اُس نے گھبرا کر آنکھیں بند کی۔۔۔۔
تمہارا نا۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسی کان کے قریب جھک کر سرگوشی میں بولا تو نین کو لگا اُس کا دل حد سے سوا ہو کر کان میں آکر دھڑک رہا ہو۔۔۔ آنکھیں مزید میچ لی۔۔۔۔ ساحل کی شرٹ کو دوسرے ہاتھ سے بھی سختی سے مٹھی میں جکڑا۔۔۔۔اُس کی ساری ہمت کہیں جا سوئی تھی۔۔۔۔۔۔بے نام سا خوف ہچکولے لے رہا تھا
تمہارا ایل ایل۔۔۔ٹھرکی۔۔کمینہ ۔۔۔۔راؤڈی۔۔۔۔گنڈا۔۔۔ماما کا بیٹا۔۔۔
وہ اُس کی گھبراہٹ سے محظوظ ہو کے بولا تو آنکھیں مسکرائی تھی گالوں میں ہلکی سی گہرائی پڑی تھی
نین نے ہمت مجتمع کرکے آنکھیں کھول کر اُسے گھورنا چاہا۔۔۔لیکِن بس اُس کے گلے میں لٹکتے لاكٹس کو گھور سکی۔۔
تو میرا پلس تمہارا ازیکول ٹو ہمارا۔۔رائٹ نا۔۔۔۔
وہ اُس کی لرزتی پلکوں کو دیکھتا ہاتھ سے اُس کے چہرے کو اوپر کرتے ہوئے بولا تو نظریں اُس سے ملتے ہی نین نے فوراً اپنی گھبراہٹ چھپا کر غصّہ ظاہر کیا
مجھے۔۔۔۔۔ تمہاری بکواس میں انٹریسٹ نہیں ہے۔۔۔مجھے نیند آرہی ہے۔۔۔۔۔
وہ غصے سے دانت پیس کر پورا زور دے کے اُسے دور کرنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔
لیکن مجھے تمہارے جاگنے میں انٹریسٹ ہے ۔۔۔۔
ساحل نے آنکھوں میں دیکھ کرکے کہتے ہوۓ اُس کے گال کو لبوں سے چھونا چاہا تو نین کا منہ آنکھیں دونوں کھلی رہ گئی۔۔۔
دھڑکنیں رک گئیں۔۔۔
وہ ایکدم سے طاقت لگاتی چہرہ پیچھے کر گئی۔۔۔۔
چھوڑو مجھے۔۔۔۔کیا بد تمیزی ہے۔۔۔منہ ۔۔۔منہ منہ۔۔۔منہ توڑ دوں گی تمہارا۔۔۔۔
وہ گھبرائی جھنجھلائ ہڑبڑا کر اُسے دھمکی دینے لگی تو وہ مدھم سا مسکرایا
دل و جان سے منہ ناک سر سب تڑوا نے کو تیار ہوں۔۔۔۔۔بس بدلے میں ایک بار مسکرا دو۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے کہتا آخر میں سنجیدگی سے بولا تو نین نے اُس کی بات پر تلخ نظروں سے اُسے دیکھا۔۔
اُس کی مسکرانے کی بات پر دل کڑوا ہونے لگا کے وہ کیسے اُسے اتنا بڑا زخم دے کر مسکرانے کو کہہ سکتا تھا
پلیز ۔۔۔۔لیو۔۔۔۔۔۔
وہ تھکے تھکے انداز میں بولتی اپنی مزاحمت ترک کر گئی تو ساحل نے سنجیدگی سے اُسے دیکھا ۔۔
دل تو نہیں کر رہا ۔۔۔۔لیکن بس ابھی کے لیے۔۔۔۔
وہ اُسے آزاد کرتا ہوں بولا تو نین نے دور ہو کر سکون کی سانس لی۔۔۔
بس روم سے باہر جانے کی کوشش نہ کرنا۔۔۔
ورنہ تمہارے ماما کو جا کر بولوں گا کے آپکی بھانجی اپن کے ساتھ ڈیلی سوپ والے ڈرامے کر رہی ہے۔ ۔۔۔
وہ اُس کی ہی گزشتہ دھمکی اُسے دیتا خوبصورتی سے مسکرایا لیکن وہ اُسے ناراض نظروں سے دیکھ کر منہ پھیر گئی۔۔۔
اور جا کر بیڈ کے ایک سائیڈ لیٹ گئی۔۔۔
کیوں کے وہ نا اچھی نہ بری اُس سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔
وہ اپنے لہجے اور باتوں سے اُسے ہراساں کرکے اُس کے غصے کو کمزور کر رہا تھا۔۔اور اب وہ بلکل بھی اُسے معاف کرنے کے ارادے میں نہیں تھی۔۔۔۔
ساحل نے اُسے آنکھیں بند کرتے دیکھ گہری سانس لی۔۔۔اُس نے نین کی خاطر چوبیس گھنٹے مانگے تھے لیکن اب اُسے لگ رہا تھا کے یہ چوبیس گھنٹے کہیں کم نہ پڑ جائے۔۔۔۔۔۔
سورج کی کرنیں روم کو روشن کرنے لگی تو اُس نے سلائیڈ ڈور کو بند کرکے پردے برابر کیے اور کلائی سے گھڑی نکالتے ہوئے خود بھی بیڈ کی طرف بڑھا
♦♦♦♦♦♦♦♦

رات بھر جاگنے اور رونے کی وجہ سے ذہن اتنا تھکا ہوا تھا کے فوراً ہی نیند آگئی تھی اور شاید دو پہر تک سوتی رہتی لیکن سرہانے پڑے فون نے مسلسل بج کر اُس کی نیند خراب کی۔۔۔۔۔۔۔
دو تین بار تو اُس نے انسنی کی لیکن ریا بھی اپنی نیند خراب کرنے کا بدلا لینے کے پورے موڈ میں تھی۔۔۔اس لیے لگاتار فون لگاتی رہی۔۔۔
اُس نے رونی صورت بنا کر بھاری ہوتی آنکھیں کھولنے کی کوشش کی۔۔۔۔
سب سے پہلی نظر ساحل کے چہرے پر پڑی۔۔۔وہ بھی اتنے نزدیک کے اُس کی نیند بھک سے اُڑی۔۔۔دل جہاں کا وہاں رہ گیا۔۔۔
اُس نے پلکیں دو تین بار جھپک کر دیکھا تو وہ سچ میں اُس کے بے حد قریب سویا ہوا تھا۔۔۔۔
بازو نین کے سرہانے ۔۔۔۔ اوپر پھیلائے۔۔۔اور سر اُس کے چہرے کے بلکل قریب کیے۔۔۔۔کے اُس کی صبیح پیشانی نین کے ماتھے کو چھو رہی تھی۔۔۔۔
اور سانسیں اُس کے چہرے کو ۔۔۔
وہ سانس روکے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
اُس کی بند آنکھوں سے نظریں نیچے ہوتی براؤن لبوں پر آئی۔۔۔
اور پھر مزید نیچے کی تو بلیک شرٹ کی کھلی بٹنوں سے جھلکتے مضبوط سینے پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانے وہ اپنی بے خبری میں کب سے اُس کے اتنے قریب تھی اس خیال سے اُس کا دل دھڑک دھڑک کر پاگل ہونے لگا۔۔۔۔۔۔۔
بدن میں لرزش سی ہونے لگی۔۔۔
وہ اپنی ہی جگہ پر سوئی ہوئی تھی اور ساحل اُس کے قریب آگیا تھا۔۔۔یقیناً جان بوجھ کر ۔۔۔۔۔ ۔
اُس کے چہرے پر نظر آتا سکون اسی قربت کا اثر تھا۔۔۔۔لیکن اُس کا سکون نین کو بری طرح بے سکون کر چکا تھا
وہ چہرہ پیچھے کرکے اُسے گھورتی ہڑبڑا کر بیڈ سے اتری۔۔۔۔
اپنے دھک دھک کرتے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیچھے ہوتی فون اٹھا کر فوراً روم سے باہر بھاگی۔۔۔
♦♦♦♦♦♦♦
تیری چاچی کدھر ہے۔۔۔
وہ بیتاب نظروں سے پورا گھر دیکھتا خوشی کو اپنی گود میں لیتے ہوئے دھیرے سے پوچھنے لگا۔۔۔
وہ نیند سے کافی دیر میں جاگا اور تب سے نین کو دیکھنا چاہ رہا تھا لیکِن وہ نہ روم میں تھی نا نیچے آکر اُسے کہیں دکھائی دی۔۔۔۔
اُس کے واپس آنے سے رابعہ بیگم سمیت سب بہُت خوش تھے ۔۔۔سب سے زیادہ دادی اور عبّاس صاحب ۔۔۔
لیکِن اُس کا دل اس وقت کچھ بھی محسوس نہیں کر رہا تھا سوائے نین کو دیکھنے کی شدید خواہش کے۔۔۔
نین کالج گئی ہے دیور جی۔۔۔۔
عشرت نے اُس کی بات سن لی تو خوشی کے کندھے اُچکنے پر خود شرارت سے اُسے دیکھ کر جواب دیا۔۔۔
اُس نے مانو سنا ہی نہیں۔۔۔
پتہ نہیں اس لڑکی کو اچانک کالج جانے کی کیا سوجھی۔۔۔کہا بھی کے کل سے چلی جانا۔۔۔
آسیہ بیگم نے حیرت و تاسف سے کہا تو وہ زیرِ لب مسکرایا کیوں کے وہ جانتا تھا کے اس وقت نین کو اُس سے دور بھاگنے کے لیے بس ایک بہانا درکار تھا۔۔۔
اچھا ہوا نا ممّی جی اسی بہانے جیا کو بھی کھینچ کر لے گئی کالج ورنہ اُس نے تو کالج جانے کے نام سے ہی غصّہ کرنا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔
شیرین نے مسکرا کر کہا تو اُنہوں نے سر ہلایا جب کے ساحل خوشی کے گال پر کس کرکے اپنی جگہ سے اٹھتا باہر جانے لگا۔۔۔۔
دادی۔۔۔۔دیکھیے نا دیور جی نین کو دیکھنے کے لیے کتنے بے چین ہے۔۔۔۔
اُس کے باہر نکلتے ہی عشرت اور شیریں نے دونوں طرف سے دادی کو گھیر لیا اور سرگوشی میں بولتی خوش ہونے لگی۔۔۔
جب کے باقی سب وہاں سے اٹھ کر اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے۔۔۔۔۔
ہاں دادی لگتا ہے اب دونوں میں زبردست محبت ہو گئی ہے۔۔۔۔۔
شیرین نے بھی چہک کے کہا تو دادی نے مسکرا کر سر ہلایا۔۔۔
لگتا تو یہی ہے۔۔۔۔اللہ کرے دونوں کے دل کبھی الگ نا ہو۔۔۔۔
دادی نے دِل ہے دل میں خدا سے دونوں کی خوشیاں مانگ کر آمین کہتے ہوئے سر ہلایا۔۔۔
تو دادی اب تو آپ ہمیں وہ کڑے دیں گی نا۔۔۔۔۔
عشرت نے فوراً اپنے مطلب کی بات شروع کی
ہممم۔۔۔لیکن اُن دونوں کو تم لوگوں نے کہاں ملایا ہے ۔۔۔
دادی اُن دونو کو دیکھ کر ہنسی روکتی ہوئی بولیں
دادی سچ پوچھیں تو وہ دونوں نا ہماری وجہ سے ہی ملے ہے۔۔۔آپ کی قسم اتنی دعائیں مانگی ہے اللہ تعالیٰ سے۔۔۔اُسی کا نتیجہ ہے یہ۔۔۔
شیرین نے جلدی سے کہا تاکے اب اور کوئی ارچن نا آجائے۔۔۔۔اور دعائیں تو سچ میں دونوں نے بہُت مانگی تھی کے وہ دونوں ایک ہو اور اُنہیں کڑے ملے۔۔۔
ہاں دادی اور میں نے تو بابا حاجی علی کی درگاہ پر منت بھی چڑھائی ہے۔۔۔اس کا مطلب اُن دونو کو تو ہم نے ہی ملایا نا۔۔۔۔
عشرت نے بھی فوراً اپنا پلڑا بھاری کیا۔۔
اُن دونوں کی بے تابی پر دادی نے مسکرا کر دونوں کو دیکھا
اچھا اچھا۔۔۔نین کو آجانے دو۔۔۔۔
آج دادی چاروں بہوؤں کو تحفہ دے گی
اُنہوں نے بھی شیرین اور عشرت کو خوشی کی نوید سنائی دونوں ایکدم سے کھل گئیں۔۔۔۔۔اور خوشی کے مارے اُن کے ساتھ لپٹ گئی
♦♦♦♦♦♦
بہت دنوں کے بعد آج اُس نے ہمت کرکے پروفیسر شاد کے کیبن میں قدم رکھا تھا ۔۔۔شاید یہ دِن بھی نا آتا اگر نین اُسے زبردستی کالج نا لائی ہوتی۔۔۔
اپنی غلطی کا گلٹ اُسے بہت بے چین کیے ہوۓ تھا وہ بہُت دنوں سے اُس سے بات کرکے اُسے بتانا چاہتی تھی لیکن وہ ہر دفعہ اُس کا فون کاٹ دیتا تھا اور اُس رات کی ملاقات کے بعد اُس کے سامنے آکر بات کرنے کی ہمت جیا میں نہیں تھی۔۔۔۔
لیکن اب جب وہ نین کی وجہ سے کالج آہی گئی تھی تو و موقع جانے نہیں دینا چاہتی تھی۔۔۔آج واپس جانے سے پہلے اس بات کو کلیر کردینا چاہتی تھی۔۔۔۔
تم یہاں کر رہی ہو ۔۔۔۔۔باہر نکلو۔۔۔۔
اُسے دیکھتے ہی وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور ماتھے پر ڈھیروں بل ڈالے بولا
سر مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔۔۔۔
جیا نے سر جھکا کے گھبرائے لہجے میں کہا۔۔
یہ جانتے ہوئے بھی کے اس کمرے میں میں تمہارے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہوں۔۔۔۔میں کیسا انسان ہوں یہ تو تم خود ہی ثابت کر چکی ہو سب کے سامنے۔۔۔اُس کے باوجود یہاں میرے سامنے کھڑے ہوتے ڈر نہیں لگ رہا تمہیں۔۔۔۔۔۔
وہ آگے بڑھ کر اُس کے سامنے آتا غصے سے بولا تو جیا نے اُس کی طرف دیکھا
نہیں لگ رہا ہے ڈر۔۔۔۔کیوں کے میں جانتی ہوں آپ میرے ساتھ کچھ غلط نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔آپ ایک اچھے انسان ہے۔۔۔
جیا نے ڈرتے ڈرتے لیکن پورے اعتماد سے یہ بات کہی تو وہ ایک لمحے کو چُپ ہو گیا۔۔۔
اگر آپ کچھ غلط کر رہے ہیں تو وہ یہ کے آپ میری بات نہیں سن رہے ہیں۔۔۔اتنے دن سے میں آپ سے کچھ کہنے کی کوشش کر رہی ہوں اور آپ مجھے موقع ہی نہیں دے رہے ہیں۔۔۔۔
لیکن آج میں آپ کو سب بتائے بغیر یہاں سے نہیں جاوں گی۔۔۔بھلے آپ مجھے پنشمنٹ دیں دے۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے تاثرات نرم ہونے کا فائدہ اٹھا کر جلدی سے بولتی سر ہلا نے لگی تو شاد نے گہری سانس بھری
ٹھیک ہے بتاؤ ایسا کیا ہے جو تمہارے بے تکے عمل کی وجہ بنا۔۔۔کونسی وجہ ہے جو تمہیں بے گناہ بناتی ہے۔۔۔۔
اُسے سپاٹ نظروں سے دیکھتا پوچھنے لگا تو جیا نے پہلے دِن سے لے کر آخری اُس رات تک کی ساری بات اُسے بتا دی۔۔۔
دیشا اور اُس کی دوستوں کا بلیک میل کرنا۔۔۔۔اُسے بار بار دھمکیاں دے کر اس کام کے لیے مجبور کرنا۔۔سب کچھ
اور تمہیں لگتا ہے میں تمہارے اس جھوٹ پر یقین کر لوں گا۔۔۔۔
شاد نے اُسے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کہا
میں جھوٹ نہیں بول رہی ہوں سر۔۔۔
آپ یہ میسیج دیکھ لیں۔۔۔۔یہ ۔۔۔۔
جیا نے جلدی سے کہہ کر اُسے اپنا فون دکھایا جس میں ديشا کے دھمکی بھرے میسیجز تھے۔۔۔
میرے پاس وہ ویڈیو بھی ہے پر وہ میں آپکو نہیں دکھا سکتی۔۔۔۔
اُس نے جھجھکتے ہوئے کہا تو شاد نے پرسوچ نظروں سے اُس کا جائزہ لیا
جیا نے دعا کی کے بس اس پر یقین کر لے ورنہ اُس کا اتنا ہمت کرنا بیکار جاۓ گا
ابھی کلیر ہو جائے گا۔۔۔۔۔
وہ فون اٹھاتے ہوئے بولتا کِسی سے دشا
اور باقی لڑکیوں کو وہاں بھیجنے کا کہنے لگا تو جیا گھبرا گئی
نہیں سر پلیز ورنہ وہ لوگ۔۔۔۔
اُس کے فون رکھتے ہی وہ منمنای۔۔
شٹ اپ۔۔۔۔۔۔۔
شاد نے اُسے گھور کر کہا اگلے پانچ منٹ میں وہ سب اندر آئیں تو جیا کو وہاں دیکھ کر سارا ماجرا سمجھتے ہوئے اُن کے چہروں کے رنگ اُڑ گئے۔۔۔۔
مس جیا کا کہنا ہے کہ آپ چاروں نے انہیں بلیک میل کیا۔۔۔۔۔مجھ پر الزام لگوایا اور پھر انہیں پیسے دینے کے لیے مجبور کیا۔۔۔۔
اُس نے اُن چاروں کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا تو اُن چاروں کے ساتھ جیا بھی شاک رہ گئی۔۔۔
حیرت سے اُسے دیکھنے لگی
سر یہ جھوٹ بول رہی ہے۔۔۔۔
نیہا نے جلدی سے کہا۔۔۔
مس جیا نے آپ چاروں پر پچاس لاکھ کی جویلری چھیننے کا الزام لگایا ہے۔۔۔ان کے فون میں آپ کی بھیجے ویڈیوز اور میسیجز ہے۔۔خیر
میں نے پولیس کو بلوا لیا ہے ابھی ۔۔۔۔۔سچ جھوٹ کا وہ لوگ پتہ لگا لیں گے۔۔۔کیوں کے یقین تو مجھے بھی ان پر نہیں ہے۔۔۔
شاد نے اُن سے سچ اگلوانے کے لیے اُن کو اتنا ڈرا دیا کے ان سب کے حلق خشک ہونے لگے۔۔۔
نہیں سر پلیز پولیس کو مت بلائیں ہم نے کوئی جویلری نہیں لی اس سے۔۔۔۔
اُن میں سے ایک بولتے بولتے رونے لگی۔۔
ہاں سر ہم نے بس آپ پر الزام لگانے کے لیئے بلیک میل کیا تھا۔۔۔
نیہا نے گھبراہٹ میں فوراً اگل دیا پچاس لاکھ لوٹنے کا الزام لگنے کے صدمے میں۔۔۔۔۔باقی سب بھی ایک دوسرے کو دیکھتی سر جھکا گئیں
جیا نے غصے سے چاروں کو گھورا
سر اس سب میں ہماری کوئی غلطی نہیں ہے دشا نے کیا ہے یہ ۔۔۔ہم نے منع بھی کیا تھا۔۔۔۔
ایک لڑکی نے روتے ہوئے سارا الزام دشا پر ڈالا تو وہ شاد کی موجودگی میں اُسے گھُور بھی نہ سکی۔۔۔
سوری سر۔۔۔ہم سے غلطی ہو گئی۔۔۔۔پلیز سر ہمیں معاف کر دیں
وہ بھی موقعے کی نزاکت کو دیکھتے شاد کے سامنے گڑگڑا نے لگی تو باقی سب بھی اُس کا ساتھ دینے لگ گیئں۔۔۔
Thats it۔۔۔۔
شاد نے اُن کا رونا بیزاری سے دیکھ کر ہاتھ اٹھا کر روکا
بیسیکلی مجھے اب تم لوگوں کو ایک لیکچر دینا چاہیے کے تم لوگ کس راہ پر بھٹک گئیں ہو لیکِن میں ایسا کروں گا نہیں کیونکہ مجھے فضول جگہ اپنے الفاظ ضایع کرنے کی عادت نہیں۔۔
آپ لوگوں سے پرنسپل سر کے آفس میں بات ہوگی۔۔۔گیٹ آؤٹ۔۔۔۔
وہ اُن چاروں کو غصے سے دیکھتا ہوا بولا تو وہ چاروں باہر نکل گئی
آپ بھی جا سکتی ہے۔۔۔۔۔
وہ جیا کو دیکھ کر کہتا واپس اپنی ٹیبل کی طرف بڑھا تو وہ سر ہلا کر باہر جانے لگی۔۔۔اپنی بات ثابت کرنے میں وہ کامیاب ہوئی تھی اور اب دل بلکل پرسکون ہو گیا تھا بس ٹینشن یہ تھی کے غصے میں دشا کچھ نہ کر دے۔۔۔
مس جیا۔۔۔۔۔
وہ دروازہ کھولنے لگی تھی کے شاد کے پکارنے پر رکی
اُس دِن کی اپنی حرکت کے لیے میں شرمندہ ہوں۔۔۔۔
نو سر آپکی کوئی غلطی نہیں تھی۔۔۔۔آپکی جگہ کوئی بھی ہوتا تو ایسے ہی غصّہ کرتا۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے بولا تو جیا نے فوراً اُس کی بات کاٹ کر کہا
اگر آپ مجھے پہلے بتا دیتی تو شاید بات اتنی آگے ہی نہیں بڑھتی۔۔۔۔
اُس نے پہلے کی بنسبت نرمی سے کہا کیوں کے اُسے جیا کے مجبوری کا اندازہ ہو گیا تھا۔۔۔
میں بہُت ڈر گئی تھی سر۔۔۔۔۔اور ڈر تو مجھے اب بھی لگ رہا ہے اگر اُن لوگوں نے۔۔۔۔۔
ایسا کچھ نہیں ہوگا ٹرسٹ مي۔۔۔۔
وہ پریشان ہو کر بولنے لگی تو شاد نے اُسے یقین دلایا جس سے جیا کو کچھ اطمنان ہوا۔۔۔
Thank you sir۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر کہتی دروازہ کھول کر باہر نکل گئی اور شاد شیشے کے دروازے کے اُس پار اُسے جاتے ہوئے دیکھنے لگا۔۔۔
♦♦♦♦♦♦♦♦