Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nain Sahil (Episode 112)

Episode 112
وہ روم کا دروازہ ناک ہونے کی آواز پر گیلے بالوں کو تولیے میں لپٹتے لپٹیتے رک گئی۔۔۔۔ ہڑبڑا کر سیدھی ہوئی اور جلدی جلدی کپڑے پہن کے باتھروم سے باہر نکلی۔۔۔۔۔
ایک طرف ریا اُسے پُکار رہی تھی۔۔۔۔دروازہ مسلسل ناک کر رہی تھی۔۔۔اور دوسری طرف وہ بیڈ پر سکون و شان سے سونے میں مصروف تھا۔۔۔۔۔
وہ دانتوں میں اُنگلی دبائے کنفیوز سی کبھی بیڈ کی جانب تو کبھی بند دروازے کی طرف دیکھنے لگی
اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے۔۔۔
اگر وہ دروازہ کھولتی تو ریا اُسے دیکھ کر سوال جواب کرتی ۔۔۔اور اُسے پتہ بھی نہیں تھا کے وہ کیا جواب دے گی۔۔۔۔۔۔ روم بھی کافی بے ترتیب تھا۔۔۔۔
نین۔۔۔دروازہ کیوں نہیں کھول رہی۔۔۔۔ٹھیک تو ہو نا۔۔۔
ریا اُس کے دیر کرنے پر پریشان ہو کر پوچھنے لگی۔۔۔۔
ہاں۔۔ ابھی آئی۔۔۔۔
وہ کم آواز میں جلدی سے بولی اور بیڈ کی طرف بڑھی۔۔۔۔
اُسے جگانے کے لیے ہاتھ بڑھایا منہ کھولا لیکن پکارنے سے پہلے۔۔۔۔ چھونے سے پہلے ہی جھجھک کر رک گئی۔۔۔۔پلکیں جھپکیں ۔۔۔منہ سے سانس لی۔۔۔
حالانکہ گھبرانا شرمانا اُس کے مزاج میں نہیں تھا لیکن پھر بھی اُس کی قربت کا اثر ایسا تھا کے دل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگتی تھی۔۔۔۔۔ اور یہی حال اس وقت اُن لمحوں کو سوچ کر بھی ہو رہا تھا۔۔۔
مگر وہ اُس جھجھک سے جان چھڑا کر سانس لیتی اُس کی طرف جھکی۔۔۔۔
ساحل۔۔۔۔۔
اُس کا بازو چھو کر دھیمی آواز میں اُسے پکارا جس کا بلکل بھی اثر نہیں ہوا۔۔ ۔۔۔
ماما کے بیٹے۔۔۔ اُٹھو۔۔۔۔۔
وہ اُس کا بازو زوروں سے ہلا کر مدھم آواز میں پکارنے لگے۔۔۔۔۔اُس پر پکارنے یا ہلانے کا تو اثر نہیں ہوا لیکن بالوں سے گرتی پانی کی بوندیں جب کان اور گلے پر پڑی تو ذہن میں ہلچل ہوئی۔۔۔۔
لیکن بجائے آنکھیں کھولنے کے وہ نیند میں ہی اُس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی جانب کھینچنے لگا۔۔۔۔۔
وہ ہڑبڑا کر اُس کے اوپر گرتے گرتے بچی اور اپنا ہاتھ جھٹکے سے کھینچ کر آزاد کرتے ہوتے اُسے حیرت سے گھورا۔۔۔
اُس کے اتنی گہری نیند میں ہونے پر شبہ ہوا کیوں کے وہ اُس کے واشروم میں جانے سے پہلے تک جاگا ہوا تھا
اور اب بیس پچیس منٹ میں اتنی بیہوشی کی نیند میں چلا گیا تھا کے کوئی اثر نہیں لے رہا تھا۔۔۔
اُدھر ریا اُسے آوازوں پر آوازیں دے رہی تھی ۔۔۔
پچھلے دو دنوں سے وہ اُس کی طبیعت کے مدِ نظر اُس کا بے حد دھیان رکھ رہی تھی۔۔۔اور اس وقت بھی اُس کے لیے فکر مند تھی۔۔۔۔
ریا دو منٹ یار میں باتھ روم میں ہوں۔۔۔۔۔۔
وہ پریشانی سے بند دروازے کو دیکھ کر کم آواز میں چلائی۔۔۔۔۔۔اور پھر غصے سے دانت بھینچ کر ساحل کی طرف دیکھا۔۔۔۔
ماما کے بیٹے۔۔۔۔آۓ سیڈ گیٹ اپ۔۔۔۔
وہ اُس کے کان کے بے حد قریب جھک کر بھنچی آواز میں چلائی ۔۔۔ہاتھ سے اُس کے چہرے کو ہلایا ٹھنڈے ہاتھوں کے لمس کے ساتھ پانی کی بوندیں ٹوٹ کر اُس کی گردن پر گری اور سینے کی جانب سفر کرنے لگی۔۔۔۔۔۔۔
۔۔اُس نے چہرے کا رخ ہلکا سا موڑا۔۔نیند میں پڑے خلل سے ماتھے پر شکنیں پڑی اور پھر معدوم ہوگئی۔۔۔اور وہ سکون سے سونے لگ گیا۔۔۔
نین کا صبر جواب دے گیا اُس نے دھُواں دھار غصے سے اُسے دیکھا اور بیڈ کی مخالف جانب آئی۔۔۔۔
کسی نے صحیح کہا ہے۔۔۔۔لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔۔۔۔
افسوس سے سر ہلاتی ہوئی بولی اور پوری طاقت جمع کرکے پیر اوپر اُٹھا یا اور نشانہ لگا۔۔۔۔
لات پڑتے ہی وہ رول ہو کر بیڈ کے کنارے پر ہوا اور پھر زمین پر دھم سے گرا کے کھڑکی پر پڑے پردے بھی ہل گئے۔۔۔۔
اُس کے نیند میں مدہوش ذہن کے پردے الگ جھنجھنا اٹھے۔۔۔۔وہ زمین پر گرا اور بھونچال کے خوف سے بوکھلا کر سیدھا ہوتے۔۔ آنکھیں کھولیں۔۔۔
نین نے اپنی کوشش کامیاب دیکھ فخر سے ہاتھ جھاڑے اور اس کے سامنے آکھڑی ہوئی۔۔۔
اُس کے تاثرات دیکھ چند سیکنڈ لگے اسے سمجھنے میں کے یہ زلزلہ کیسے آیا۔۔۔اور اُس کا دماغ گھوما۔۔۔
ابے ایڑی۔۔۔۔۔
وہ زمین پر پڑے پڑے ہی غصے سے اسے گھورتا چلایا کے نین نے ہڑبڑا کر منہ کھولے اس کے نزدیک آکر گھٹنے کو بے دردی سے اُس کے اوپر رکھ کر جھکتے ہوئے۔۔۔۔۔ اس کا منہ دونوں ہاتھوں سے دبایا۔۔۔۔
اس ڈر سے کہ کہیں اس کی آواز ریا نہ سن لے جو یقیناً سن چکی تھی اور اب حیرت سے اُسے پکار رہی تھی۔۔
جب کے وہ دم بخود رہ گیا تھا۔۔۔۔۔
نیند کے خمار سے سرخ بوجھل آنکھیں نین کے کھلے لبوں پر آکر ٹھہر گئی تھی اور دل اس کے اچانک قریب آنے سے رک گیا تھا۔۔۔ائبرو ہلکے سے اوپر ہوئے تھے۔۔۔
دونوں ہاتھ کھلے زمین پر پڑے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
بالوں سے گرتا پانی بلیک جینس کے بوٹم سے کندھے تک بوندوں کی لکیر بناکر اب صرف سینے پر ٹپک رہا تھا۔۔۔۔
اُس کے بوجھ سے پسلی پر زور پڑ رہا تھا جس پر دھیان دینے کی دماغ کو فرصت نہیں تھی۔۔۔۔
ہوش تو سارے اُس خوشگوار صبح کے خوشنما لمحے کی دلکش حقیقت کو محسوس کرنے میں مگن تھے۔۔۔
منہ بند رکھو اپنا ۔۔۔۔باہر دروازے پر ریا ہے۔۔۔آواز مت نکالنا ۔۔۔وہ سن لیگی۔۔۔۔
نین نے آنکھیں دکھا کر مدھم آواز میں اُسے وارن کرنے والے انداز میں کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھٹنے کی ہلکی سی حرکت پر ہڈیاں کڑکڑائیں تو اُس نے آنکھیں بند کرکے کھولیں۔۔۔۔
پسلی پر ہوتے ستم کو برداشت کرنا بھاری محسوس ہوا تو اُس نے ہاتھ سے اُس کا پیر اپنے اوپر سے ہٹا کر نیچے زمین پر رکھا۔۔نین کا بیلنس بگڑا وہ گرتے گرتے بچنے کی کوشش کے باوجود۔۔۔۔ اُس کے بے حد نزدیک آگئی۔۔۔۔۔
گیلے بال چہرے پر آگئے۔۔۔۔۔۔۔۔
دل سکتے میں۔۔۔۔۔
ساحل نے اُس کی بڑی بڑی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اُس کے ہاتھ ہونٹوں سے ہٹا کر ہاتھ میں لیے۔۔۔۔
اگر تو کچھ سیکنڈ اور ایسے رہی نا تو آواز سے پہلے میری جان نکل جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے دونوں ہاتھ ہوا میں روکے شوخ شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے معصومیت اور بیچارگی سے بولا تو نین کا دھیان اپنی پوزیشن پر گیا۔۔۔۔۔۔
وہ جلدی سے ہاتھ چھڑا کر پیچھے ہونے لگی لیکن ساحل نے ایسا کرنے نہیں دیا گردن سے تھام کے قریب کھینچا۔۔۔۔۔
And I m dying to dei ۔۔۔۔۔
وہ دھیمی آواز میں بہکے بہکے انداز میں بولا پل بھر کو تو اُسے گھبراہٹ ہوئی۔۔دل تیز دھڑکا۔۔لیکِن فوراً ہی خود کو سنبھال گئی۔۔۔کیوں کے فلهال سب سے زیادہ اُسے ریا كو لے کر ٹینشن ہو رہی تھی۔۔
کِسی بھی سچویشن میں تمہیں اتنی ٹھرکنس کیسے سوجھ جاتی ہے۔۔۔۔۔یہاں میں پریشان ہو رہی ہوں کے ریا نے تمہیں دیکھ لیا تو کیا ہوگا اور تم ہو کے سیریس ہونے کو تیار نہیں۔۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ اپنی گردن سے ہٹا کر کچھ دور ہوتے ہوئے دانت بھینچے بولی۔۔۔۔۔اُس نے مسکرا کر کچھ کہنا چاہا تو اُسے آنکھیں دکھا کر اُنگلی کے اشارے سے ٹوکا۔۔۔۔۔
خبردار جو اب منہ کھولا۔۔۔۔میں دروازہ کھولنے جا رہی ہوں۔۔۔۔تم یہی رہنا۔۔۔۔۔
اور دھیان رکھنا ریا تمہیں نا دیکھے۔۔۔ اگر اُس نے دیکھ لیا نا تو میں تمہیں نہیں بچاؤں گی۔۔۔بلکہ سب سے یہ کہوں گی کے میں اس آدمی کو جانتی ہی نہیں ۔۔۔یہ زبردستی میرے روم میں گھسا ہے۔۔۔۔اُس کے بعد سب مہمانوں کے ہاتھوں جو تمہاری چٹنی بنے گی نہ تم کبھی نہیں بھولوگے۔۔۔
وہ اُسے تفصیل سے وارن کرکے اٹھی۔۔وہ مسکراتا ہوا اُسے دیکھنے لگا
۔۔۔ نین نے بستر کو تیزی سے ہاتھ چلا کر تھوڑا درست کیا اور دروازے کی اور بڑھی۔۔۔
دروازہ کھولا تو ریا حیرت سے اوپر سے نیچے تک اُسے دیکھنے لگی۔۔۔وہ تھوڑی نروس ہوئی۔۔۔گیلے بالوں نے کپڑوں کو پورا بھگو دیا تھا۔۔
سوری ریا۔۔ میں باتھروم میں تھی۔۔۔اسلئے اتنا وقت لگ گیا۔۔۔۔
اُس کی حیرت پر شرمندگی سے کہا۔۔۔۔۔
لیکن میں نے کسی کی آواز سنی۔۔۔۔اندر کوئی ہے تمہارے ساتھ۔۔۔۔
ریا حیرت اور نا سمجھی سے اندر جھانکتے ہوئے پوچھنے لگی۔۔۔نین نے بھی تیزی سے پلٹ کر پیچھے دیکھا لیکن بیڈ کے اُس طرف کا حصہ نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔اُس نے سکون کی سانس لی۔۔۔۔۔
نہیں تو۔۔۔۔۔میرے ساتھ کون ہوگا۔۔۔۔وہ تو ٹی وی آن چھوڑ دیا تھا ۔۔۔اسلئے۔۔۔
تیزی سے پلٹ کر ریا کو جواب دیا اور لبوں پر زبان پھیری۔۔۔۔
پکا نا ۔۔۔تم ٹھیک ہو۔۔۔۔۔
ریا اُس کے اُلجھے اُلجھے تاثرات دیکھتی پوچھنے لگی۔۔اُس نے تیزی سے سر ہلایا۔۔
اچھا ٹھیک ہے۔۔۔۔چلو باہر چلتے ہے۔۔۔سب ساتھ میں ناشتا کریں گے۔۔۔۔۔
ریا نے سر جھٹک کر مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔
تُم چلو میں تیار ہو کر آتی ہوں۔۔۔۔
وہ دو سیکنڈ رک کر بولی۔۔۔۔
ٹھیک ہے جلدی آنا۔۔۔میں اِنتظار کر رہی ہوں۔۔۔۔اور اپنی دوائی بھی یاد سے لے لینا۔۔۔۔۔
ریا نے سر ہلاتے ہوئے کہا اور ایک اور تلاشتی نظر اندر کمرے میں دوڑائی۔۔۔لیکِن کوئی نظر نہیں آیا تو وہاں سے چل دی۔۔۔۔حالانکہ اُسے نین کے تاثرات دیکھ شبہ ہو رہا تھا۔۔۔
نین نے دروازہ بند کرکے لمبی سانس لی۔۔۔۔اس طرح کے کام اُس کے لیے بے حد مشکل تھے۔۔۔۔ریا سے جھوٹ بولنے پر بہُت خراب لگ رہا تھا
۔اور وہ بھی اُس کے لیے جس کی شکل نا دیکھنے کا وہ کل عہد کر چکی تھی۔۔۔۔۔
اُسے زمین سے اٹھ کر اپنے پاس آتے دیکھ وہ غصے سے مٹھیاں بھینچ گئی۔۔۔۔
ساحل نے مسکراتی نظروں سے اُسے دیکھتے اُس کی طرف بڑھتے بڑھتے ٹیبل پر پڑا ٹاول اٹھایا اور اُس کے نزدیک آکر گیلے بالوں کو ٹاول سے رگڑنے لگا۔۔۔۔۔۔۔
نین کا دل شدت سے دھڑکا۔۔۔۔مٹھیاں خود بخود کھل گئیں۔۔۔۔پلکیں بلا وجہ جھک گئی ۔۔
وہ خاموش کھڑی رہی اور ساحل نرمی سے اُس کے بالوں کی نمی کو ٹاول میں جذب کرتا رہا۔۔۔وقفے وقفے سے اُس کی آنکھوں کو دیکھتا رہا۔۔۔
نین کو اپنے دل کی بھٹکتی روش سے گھبراہٹ سی ہوئی۔۔۔۔
بند کرو یہ ناٹک اور نکلو یہاں سے۔۔۔۔
وہ ایکدم سے اُس کا ہاتھ دور کرکے اُسے گھورتے ہوئے بولی۔۔۔۔ٹاول چھوٹ کر زمین پر گرا۔۔۔۔۔۔
اتنی محنت کے باوجود یہ بے رخی۔۔۔ ظلم ہے بیوی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ وارفتہ نگاہوں سے اُسے دیکھتا بھیگے بالوں کو کان کے پیچھے لیجاتے ہوئے زو معنی انداز میں بولا۔۔۔
اُس کے چھونے سے نین کے احساس عجیب ہوئے۔۔۔ اُس نے غصے سے دوبارہ ہاتھ جھٹک کر اُسے گھورا۔۔۔۔۔۔
بے شرمو کی طرح بس فضول بکواس کیے جا رہے ہو۔۔۔کوئی لحاظ ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔تمہیں کچھ احساس کچھ ہوش ہے کے تم کہاں ہو۔۔۔۔یہ جگہ کونسی ہے۔۔۔۔اور کِسی نے دیکھ لیا تو کیا سوچے گا
وہ غصے پریشانی گھبراہٹ کی اُلجھی اُلجھی سی کیفیت میں بھڑکی۔۔۔۔کیوں کے واقعی اُسے فکر ہو رہی تھی۔۔۔
لیکن ساحل کے اطمینان میں ذرا بھی فرق نہیں آیا۔۔۔۔۔۔
سچ بتاوں تو ۔۔۔فلہال یہ روم مجھے اپنا ہنی مون سویٹ لگ رہا ہے۔۔۔۔۔
وہ بازو بند دروازے پر نین کے سر سے کچھ اوپر رکھ کر اُس کے چہرے کے نزدیک جھکا غصے بھری آنکھوں میں دیکھتا شرارت سے مسکراتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔۔۔۔نین نے تاسف سے اُسے دیکھا۔۔۔
اور اپنے پرائیویٹ سویٹ میں اپنی سویٹ ہارٹ کے سامنے لحاظ کروں۔۔۔۔اتنا بد لحاظ نہیں ہوں میں۔۔۔۔
وہ اپنی بات مکمل کرکے ونک دیتا اُس کی ٹھوڑی کو چھونے جھکا لیکِن نین نے شولڈر پر ہاتھ رکھ کر اُسے روک دیا۔۔۔۔آنکھیں الگ دکھائی۔۔۔۔
اور تمہاری چیپ باتیں سن کر میرا دل کر رہا ہے تمہارا منہ توڑ دوں۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے روک کر دانت بھینچے بولی ساحل نے بھی بدلے میں اُسے گھورا۔ اُس کے شولڈر پر رکھے ہاتھ کو سختی سے جکڑ کر دور جھٹکا ۔۔۔۔
اور اپنے ارادے پر عمل کرتے ہوئے ٹھوڑی کو چھوا ۔۔۔۔بال اُس لمحے لبوں پر سرسرائے تو نین نے سانس روکی اور آنکھیں بند کرکے کھولیں۔۔۔۔
رومینس کے بیچ میں گنڈا گردی ۔۔۔۔۔اسٹرکٹلی ناٹ الاؤڈ۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے بھی ایک کک کھا کر مجھے تسلی ہو چکی ہے کے آگے میرے حال برے ہی ہے۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر جتاتے ہوئے بولا۔۔۔لیکن اچانک ہی درد کا احساس ہوا تو مسکین شکل بنا کر پیچ ہوا۔۔۔۔ گردن سہلاتے ہوئے۔۔۔۔ اُسے خفگی سے دیکھا۔۔۔۔۔۔
نین کو اُس کی بے چاری شکل دیکھ ایکدم سے ہنسی آگئی۔۔۔۔
اور اُسے ہنستے دیکھ وہ غصے سے گھورنے لگا۔۔۔۔
اوہو۔۔۔۔بہُت زور سے لگ گئی میرے راؤڈی کو۔۔۔۔۔۔۔
نین نے ہنسی روک کر سیریس شکل بنائے ہمدردی سے کہا ۔۔۔اُس کے انداز پر لبوں پر آنے والی بے ساختہ مسکراہٹ کو ساحل نے زبردستی روکا۔۔۔۔
کل تو بڑے رومینٹک ہی مین بن کر آۓ تھے۔۔۔۔۔۔ مجھے تم سے کک کھانی ہے۔۔۔۔۔پلیز جتنی چاہے اتنی مار لو۔۔۔۔۔
نین نے اُس کی نقل اتاری۔۔۔تھوڑے اپنے جوہر دکھائے۔۔۔۔اُس نے مصنوعی گھوری ڈال کے نچلا لب بھینچا
بس ایک میں ہی ہیرو گری ختم۔۔۔ابھی تو بھڑاس کا بی بھی نہیں نکالا میں نے۔۔۔۔اگر واقعی بدلا لینے پر آگئی نا۔۔۔۔۔۔۔
وہ اکڑ کر شان سے بولتی جا رہی تھی کے ساحل نے ایکدم سے ہاتھ بالوں میں اُلجھا کر اُسے قریب کھینچا اور اُس کے لبوں سے نکلتے اگلے لفظ قید کر لیے۔۔۔۔
اُس کے ذہن سمیت پورے وجود کو جھٹکا لگا۔۔۔۔۔آنکھیں شدت سے پھٹی رہ گئی۔۔۔۔۔۔۔سانسوں کی روانی اُلجھ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے انداز میں سختی دکھا کر اُسے وارن کرتا الگ ہوا۔۔تو نین نے رکی سانس کھینچی۔۔۔کانوں میں ٹک ٹک کی آواز گونجنے لگی۔۔۔
یہ تیور دکھاؤں گی جان۔۔۔۔۔۔ تو دو چار گھنٹے اور رکنا پڑےگا مجھے۔۔۔۔
وہ اپنی بے ترتیب سانسوں سے اُس کا چہرہ سلگاتے ہوئے اُس کے بھیگے لبوں کو انگوٹھے سے رگڑ کر ۔اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سرسراتے لہجے میں بولا۔۔۔۔نین نے سانس گلے کے نیچے اتاری۔۔۔۔خود کو سنبھالا۔۔۔اور۔۔۔
تم۔۔۔۔۔۔۔
وہ کھولتے پانی کی طرح اُس پر اُبلنے کو تھی کے وہ دوبارہ سے جھک کر لبوں سے چپ کروا گیا۔۔
اُس ایک سیکنڈ میں بھی نین کی پوری جان لرز گئی۔۔۔۔۔جب کے وہ خوبصورتی سے مسکراتا اُسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
نین نے اُسے غصے سے گھور کر مٹھیاں بھینچے اُس کا ہاتھ اپنے بالوں سے جھٹکا اور سائیڈ سے نکل کر اُس سے دور ہوئی۔۔۔۔
اُس کے پیچھے ہو کر اُس کے گھنے بالوں کو گھورتے ہوئے پھر کچھ کہنے کو لب کھولے لیکن ساحل نے نے بے حد تیزی سے پلٹ کر اپنا وہی عمل دوہرایا۔۔۔۔بنا اُسے ہاتھ لگائے۔۔۔
نین کی دھڑکنیں اُلجھ گئیں۔۔۔
کھلے لبوں کو ہلکا سا چھونا بھی سوہان روح لگا۔۔۔۔۔۔۔
وہ ساکت سی اُس کی مسکراتی آنکھوں میں دیکھنے لگی ۔۔۔دل رفتار سے دھڑکتا رہا۔۔۔۔۔
ساحل کے خوفناک انداز دیکھ اُس کی اصل سٹی گم ہو گئی کیوں کہ پہلے تو وہ اُسے کچھ بھی بول کر بدلا لے لیتی تھی لیکن اب تو وہ اُسے بولنے کا موقع بھی نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔
صحیح معنی میں نین کی منہ کھولنے کی ہمت نہیں ہوئی۔۔۔
وہ نظریں بھی اُس کے چہرے سے ہٹا گئی۔۔۔۔بے ترتیب سانسیں لبوں سے خارج کرکے دھڑکنیں معتدل کیں۔۔۔۔۔
وہ اُس کے اُڑے اُڑے رنگ دیکھ ہنستا ہوا دوبارہ اُس کے لبوں پر جھکنے کو تھا کے اُسے دونوں ہاتھوں سے دور دھکیلا۔۔۔۔۔اور خود پیچھے ہو کر بیڈ کے اوپر چڑھ گئی۔۔۔

وہ اُس کے اُڑے اُڑے رنگ دیکھ ہنستا ہوا دوبارہ اُس کے لبوں پر جھکنے کو تھا کے اُسے دونوں ہاتھوں سے دور دھکیلا۔۔۔۔۔اور خود پیچھے ہو کر بیڈ کے اوپر چڑھ گئی۔۔۔
یو یو۔یو۔۔یو کمینے۔۔۔۔۔وائلڈ مین۔۔۔۔ راؤڈی ۔۔۔۔جان لے لوں گی میں تمہاری۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی پہنچ سے باہر ہوتے ہی اپنی زبان کے جوہر دکھانے کی ٹھانی لیکِن کچھ گھبراہٹ اور کچھ دھڑکنوں کا بھٹکی رو نے لفظ توڑ دیے۔۔۔۔
I m dying to die darling۔۔۔۔۔
وہ ہنس کر دل پر ہاتھ رکھتا فدا ہونے والے انداز میں بولا۔۔۔۔۔
نین نے غصے میں بیڈ سے کشن اٹھا کر اُس پر پھینکا۔۔۔۔۔
نکلو یہاں سے۔۔۔۔۔۔ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔
وہ جھنجھلاہٹ سے بھرپور لہجے میں چینخ اٹھی۔۔۔۔۔۔
ساحل نے اُس کے چلانے پر پل کو ہنسی روک کر اُسے گھورا اور تیزی سے اُس کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔۔۔۔
نین اُتر کر بھاگنے کو تھی لیکن اُس نے پھرتی سے پیر پکڑ کر کھینچا۔۔۔وہ دھڑام سے بیڈ پر گری۔۔۔۔۔منہ صدمے سے کھل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے دوبارہ اٹھ کر بھاگنے کا موقع دیے بغیر اُس کے قریب آکر اُس کے چہرے پر جھکا۔۔۔۔اُس کی دونوں کلائیاں سختی سے پکڑ کر بستر سے لگائی۔۔۔۔
ایسے چلائے گی۔۔۔ تو لوگ سوچیں گے میں نے تیری عزت لوٹ لی۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر اُس کے ہانپتے وجود کو دیکھتا جلے پر نمک چھڑکنے لگا۔۔۔۔۔۔
I hate you۔۔۔۔۔
وہ بے ترتیب سانسیں لیتی اسے غصے سے گھور کر اپنی کلائیاں آزاد کرنے کی پرزور کوشش کرتے ہوئے بولی
No you don’t۔۔۔۔۔and it feels۔۔۔
وہ اُس کے مسلسل چلتے پیروں کو ایک پیر سے قابو کرکے آنکھوں میں دیکھتے ہوئے چاہت سے بھیگے میں بولا اور اُس کے شولڈر سے کچھ نیچے لبوں سے چھوا تو نین ایکدم سے ساکت ہو کر مزاحمت چھوڑ گئی۔۔۔۔۔۔۔سانسوں سے ہوتی بدن کی تیز ہلچل تھم گئی۔۔۔۔۔۔
ساحل نے سنجیدگی سے نظریں اٹھا کر اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔۔
یہاں میں اتنی پریشان ہوں اورتمہیں ذرا بھی فرق نہیں پڑ رہا۔۔۔۔۔ایک بار پھر سب کے سامنے تماشا لگوانا چاہتے ہو میرا۔۔۔۔
وہ مسلسل اُسے دیکھتے ہوئے اپنی بے بسی پر ایکدم سے سیریس ہو کر بولی۔۔۔۔آنسو آنکھوں میں تیزی سے جمع ہوتے دیکھ وہ فورا دونوں ہاتھ چھوڑ گیا۔۔۔۔۔
۔۔۔ریلیکس۔۔۔۔کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔
اُس کے گال کو نرمی سے چھوتے محبت اور اپنائیت بھرے انداز میں بولا۔۔۔۔نین اُسے دھکیل کر اٹھ بیٹھی اور تیزی سے پھسلتا آنسُو رگڑا۔۔۔۔۔۔۔
کچھ ہوگا بھی تو تمہیں کیا ہی فرق پڑیگا۔۔۔۔کہہ دینا کے میں ہی اپنے شوہر کی غیر موجودگی کے مارے ایک غیر مرد کے پیچھے پڑی تھی۔۔۔۔۔
وہ غصے اور ناگواری سے اُس کے ہی تلخ الفاظ اُس پر برسا گئی۔۔۔۔بس ایک سیکنڈ میں اُسکے لہو میں انگارے بھر گئے اور ضبط سے دانت پر دانت جمائے وہ اُس کا منہ ہاتھ کی سخت گرفت میں جکڑ گیا۔۔۔۔کہ نین کے لبوں سے آہ نکلی۔۔۔۔۔۔
وہ بے یقینی سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
وہ جلتی پُر سوز نظروں سے اُسے دیکھتا گرفت کو سخت کرتے کرتے ایکدم ہاتھ جھٹک گیا اور مُٹھی بھینچ کر منہ پھیر لیا۔۔۔۔بھلے یہ اُس کا اپنا کیا دھرا تھا لیکن سہنا تو مشکل ہی تھا۔۔۔۔۔
بلکہ سوچنا بھی۔۔۔۔
میں جانتی ہوں۔۔۔۔میں بے بس ہوں۔۔۔۔۔۔۔نفرت نہیں کر سکتی۔۔۔۔نا خود کو روک سکتی ہوں تمہارے معاملے میں۔۔۔لیکِن یہ بھی سچ ہے کے میں اپنی انسلٹ نہیں بھول سکتی۔۔۔۔تمہارے وہ الفاظ نہیں بھول سکتی۔۔۔۔۔
نین کو دکھ بھی ہوا لیکن وہ اپنی جگہ صحیح تھی۔۔۔لاکھ کوشش لے باوجود خود کو سمجھا نہیں پا رہی تھی ۔۔۔۔ بھیگے لہجے میں اُسے اپنی بے بس کیفیت سمجھانے لگی۔۔۔۔۔وہ خاموش نظروں سے زمین کو گھورتا رہا۔۔۔نین نے اُس کا بازو تھاما۔۔۔۔
جانتی ہوں۔۔۔تم مجھ سے بہت پیار کرتے ہو۔۔۔۔میرا دل تم پر اعتبار بھی کرتا ہے۔۔۔۔۔تمہیں خود سے دور نہیں ہونے دینا چاہتا۔۔۔۔۔ شرمندہ ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم سے بے اعتنائی نہیں برت سکتی میں۔۔۔مگر اپنی ذلت بھی فراموش نہیں کر سکتی۔۔۔
وہ آنکھوں سے رواں ہوتے آنسُو روکنے کی ناکام سی کوشش کرتی دھیرے سے بولی۔۔۔ساحل نے اُس کی جانب دیکھا۔۔۔۔
تُم نے بھلے کِسی بھی وجہ سے کسی بھی مجبوری میں کہا لیکن وہ لفظ واپس تو نہیں لوٹ سکتے۔۔۔۔۔
میں تم سے لا پرواہ ہونا چاہوں تو ہو نہیں پاتی
اور تمہارے حق میں سوچوں تو لگتا ہے اپنے ہی ساتھ نا انصافی کر رہی ہوں۔۔۔
وہ نظریں جھکائے بیزار ۔۔۔۔جھنجھلائے ۔۔۔۔پریشان سے لہجے میں بولی۔۔۔اُس نے جھکی پلکوں کو دیکھ کر گہری سانس لی۔۔۔۔۔۔
۔میں اپنے آپ سے بہت پریشان ہوں۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا کروں۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی طرف دیکھ کر بولنے سے زیادہ پوچھنے لگی۔۔۔لیکن وہ خاموش رہا۔۔۔
کچھ یہی حال میرا بھی تھا اُس وقت۔۔۔۔۔تمہیں روتے دیکھنا مشکل تھا اور تمہیں کسی خطرے میں ڈالنے کا خیال جان لیوا۔۔۔۔
وہ چند سیکنڈ بعد سنجیدگی سے بولا۔۔۔۔نین بھیگی نظریں اٹھا کر غور سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
پتہ نہیں تھا کے تم ایکدم سے ایسے سامنے آجاؤ گی۔۔۔۔
میں بلکل تیار نہیں تھا۔۔۔
بری طرح کمزور پڑ گیا تھا۔۔۔۔۔
جذبات ذہن پر حاوی ہو گئے تھے۔۔۔۔
اگر سختی نہیں کرتا تو بڑی غلطی ہوجاتی ۔۔۔اور بس ۔۔۔۔۔
بس ایک ہی چیز سوجھی اُس وقت کے کسی بھی طرح تمہیں خود سے بد زن کردوں تو کردیا یار۔۔۔۔۔
وہ آہستہ آواز میں اُسے صفائی دیتا جھنجھلا کر سر جھٹک گیا۔۔۔۔۔۔
لیکن کیوں۔۔۔۔اور یہ سب کیوں کر رہے ہو تم۔۔۔۔۔وہ انجو۔۔۔۔یہ دکش۔۔۔۔۔۔۔کیا ڈراما ہے یہ سب۔۔۔۔
نین حیرت اور سنجیدگی سے اُسے دیکھتی سوال کرنے لگی۔۔۔۔
یہ سب میرے مشن کا حصہ ہے۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے بولتے بولتے رک کر اُسے دیکھنے لگا۔۔۔
تم۔۔۔۔۔
نین نے اُس کی ادھُوری بات پر سر ہلا کر اُسے اشارہ کیا اُس نے لبوں پر زبان پھیری۔۔۔
آۓ ایم آ۔۔۔۔پبلک پروٹیکٹر۔۔۔۔۔۔
وہ بلکل نارمل انداز میں اُسے بتانے لگا غور سے اُس کے تاثرات کا جائزہ لیتے ہوئے کے وہ اُس کی بات کتنی سمجھتی ہے۔۔۔۔اور نین کے تاثرات بس اُلجھے ہوئے تھے۔۔۔۔۔جاننے کو بے چین اور سمجھنے کی کوشش والی اُلجھن تھی۔۔۔
انڈر کوور ۔۔۔فروم این آئے اے۔۔۔۔۔۔
وہ معصومیت بھری شکل اور مسکراتی آنکھوں سے اُسے دیکھنے لگا۔۔۔۔نین نے سنا ۔۔۔سوچا۔۔۔ سمجھا ۔۔۔پہلے حیرت سے اُسے دیکھا پھر غصے سے گھورا۔۔۔
کیا فضول بات کر رہے ہو۔۔۔میں یہاں سیریس ہوں۔۔۔۔۔۔تمہیں بکواس سوجھ رہی ہے۔۔
وہ ایکدم سے چڑ کر بولی۔۔۔
میں بھی سیریس ہوں۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے صدمے سے اُسے دیکھا۔۔حالانکہ وہ حیرت کی اُمید رکھتا تھا لیکن اس بے یقینی کی نہیں۔۔۔۔
تمہیں کوئی اور بہانا نہیں سوجھا۔۔۔۔کم سے کم جھوٹ تو ایسا بولو کے میں یقین کر سکوں۔۔۔۔۔۔
وہ بیزاری سے کہتی اُسے افسوس سے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ساحل حیرت سے اُسے دیکھتا رہ گیا۔۔
یار حد ہے۔۔۔مطلب کوئی قابلِ قدر کام میں کروں تو تم نے یقین بھی نہیں کرنا ہے۔۔۔۔وہیں ابھی کہہ دو کے ایک لڑکی کو چھیڑا ہے تو جھٹ سے مان لو گی۔۔۔۔۔
اُسے اپنی بے قدری پر جی بھر کر تپ چڑھی۔۔۔۔
ہاں تو تمہارے کیریکٹر سے جو اُمید ہو گی اُسی پر ٹرسٹ کروں گی نہ۔۔۔۔۔۔ورنہ کوئی بھکاری آکر بول دے کے میں یو کے کا پی ایم ہوں تو نہ میں یقین کر لوں گی۔۔۔۔۔
وہ سخت بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُس کے جلتے دل پر تیل چھڑک گئی۔۔۔
یہ بہت زیادہ ہو رہا ہے۔۔۔مطلب تمہیں میری بات پر یقین نہیں ہے۔۔۔
وہ اُسے سنجیدگی سے گھورتا بیزاری سے بولا ۔۔۔
این آۓ اے کا لانگ فارم بھی پتہ ہے تمہیں ۔۔۔۔۔
نین نے طنز کرتے آنکھیں گھمائی تو اُس نے ضبط سے دانت بھینچے۔۔۔
تو تم بتاؤ تمہارا انٹیلیجنٹ بھیجا کیا کہتا ہی۔۔۔میں یہ سب کیوں کر سکتا ہوں۔۔۔۔۔
وہ اُس کی عقل پر ماتم کرتا دونوں ہاتھ باندھے سنجیدگی سے پوچھنے لگا نین نے پُر سوچ نظروں سے اُسے دیکھا۔۔۔
جتنا میں نے تمہیں سمجھا ہے۔۔۔اور جس طرح داؤد کی ہیلپ کرنے کے لئے تم نے اپنی زندگی داؤ پر لگائی تھی۔۔۔مجھے لگتا ہے وہی جذبہ اب بھی تم پر حاوی ہے اور تم کسی نہ کسی کے لیے یہ سب کر رہے ہو۔۔۔۔۔شاید ۔۔۔۔۔۔۔تب تم داؤد کی خاطر سب کی نظر میں مجرم بن گئے تھے اور اب پتہ نہیں کس کے لیے مجھ سے اجنبی بن گئے یہ دکش بلڈی ڈیول کا روپ دھار لیا۔۔۔
وہ اب تک کے اپنے لگائے گئے اندازے کے مطابق اس کے چہرے کو غور سے دیکھتی ہوئی بولی ساحل نے تاسف سے اپنا سر تھام لیا۔۔۔۔
وہ نا سمجھی سے اُسے دیکھنے لگی اِنتظار کرنے لگی کے وہ اُس کے اندازے پر سچ کی مہر لگائے گا۔۔۔اُسے پوری بات سمجھائے گا۔۔۔۔ لیکن وہ کچھ نہیں بولا خاموشی سے پيشانی مسلنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تبھی پھر سے دستک ہوئی تو دونوں نے ایک ساتھ دروازے کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔اورپھر نین نے جلدی سے جواب دے کر ساحل کو۔۔۔۔۔
تم پلیز جاؤ یہاں سے۔۔۔۔ان لوگوں کے بیچ آلرڈی بہُت ڈراما ہو چکا ہے مجھے لے کر۔۔۔۔ایک اور میں افورڈ نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔جسٹ گو۔۔۔۔۔۔
وہ دھیمی آواز میں پریشانی سے بولی۔۔۔۔۔۔ ساحل نے ایک پل کو اُسے گھور کر سر جھٹکا۔۔۔۔
فائن۔۔۔ میں جا رہا ہوں۔۔۔۔۔ ہم رات کو ملے گے اور سکون سے بات کریں گے۔۔۔۔۔
وہ اُس کی بات مانتے ہوئے بے ترتیب بالوں کو ہاتھ سے ٹھیک کرتا بیڈ سے اٹھا لیکِن نین نے رات لفظ سنتے ہی اُسے شاک میں آکر دیکھا۔۔
خبردار جو تم نے پھر یہاں آنے کی سوچی بھی۔۔۔۔
وہ ایکدم سے کود کر بیڈ سے اتری اُسے آنکھیں اور اُنگلی دکھا کر سختی سے بولی۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے ہم باہر ملے گے۔۔۔۔میں یہاں نہیں آؤں گا۔۔۔۔اوکے۔۔۔۔
وہ بلکل سیریس ہو کر اُس کی حیرت کو اگنور کیے سکون سے بولتا ساتھ جینس میں بیلٹ ڈالنے لگا اور نین۔۔۔۔۔۔۔
دِماغ خراب ہے تمہارا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایکدم سے بھڑک اٹھی لیکن وہ کھلتے لبوں پر اُنگلی رکھ کر اُسے روک گیا۔۔۔
ششش۔۔۔۔۔۔۔۔نو مور آرگیومنٹس۔۔۔۔۔۔
اُس کی گھورتی آنکھوں کو دیکھ سنجیدگی سے بولا تو نین نے غصے سے منہ پھیرا۔۔۔۔۔وہ مسکرا کر اُسے دیکھتا شرٹ پہننے لگا۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆
کیا ہوا انجو کیوں رو رہی ہو تم۔۔۔۔۔
اُسے بستر پر اوندھے منہ سسکتے دیکھ ریا حیرت اور پریشانی سے پوچھنے لگی۔۔۔وہ اُسے دیکھ کر اٹھ بیٹھی لیکن رونا بند نہیں ہوا۔۔۔
کیا یہ ضروری ہے کے کِسی خاص پرسن کو پانے کے لیے ہمیں اُن لوگوں کو چھوڑنا پڑتا ہے جو ہمارے لیے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔۔۔۔جن کے بنا ہم رہ نہیں سکتے۔۔۔
وہ بیچیں نظروں سے ریا کو دیکھتی دل کو پریشان کرتا سوال کرنے لگی۔۔۔۔
کیا بات کر رہی ہو تم۔۔۔۔اور ہوا کیا ہے۔۔۔۔پلیز ایسے رو مت یار۔۔۔
ریا نے اُس کی آنکھ سے گرتا آنسُو صاف کرتے ہوئے فکرمندی سے پوچھا۔۔۔
پہلے بتاؤ نا۔۔۔۔۔میں جو چاہتی ہوں اگر وہ مجھے مل رہا ہے لیکن میں پھر بھی خوش نہیں ہوں۔۔۔۔ ۔تو اس کی وجہ کیا ہے۔۔۔۔کیوں میرا دل گھبرا رہا ہے۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ کر سسکتے ہوئے بولی۔۔۔
شاید تم وہ چیز چاہتی ہی نہیں۔۔۔۔۔۔
کیونکہ بے سکونی تو ہم کبھی نہیں چاہتے نا ۔۔۔۔۔۔۔۔شاید تمہارا دل مطمئین نہیں ہے اُس کے لیے تمہیں خوش نہیں ہونے دے رہا۔۔۔
وہ پرسوچ نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی تو انجو اُسے دیکھتی اُس کے لفظوں پر غور کرنے لگی۔۔
کیا بات ہے انجو۔۔۔۔کھل کر بتاؤ نا۔۔۔یہ میں ہی تو ہوں یار۔۔۔۔۔
ریا نے اُس کے دونوں ہاتھ تھام کر بےحد اپنائیت سے پوچھا۔۔۔۔
پورب۔۔۔۔۔
وہ وہ لبوں کو تر کرکے پورب کا نام لے کے تھم گئی اور پھر اُس کی جانب دیکھا۔۔
میں پورب کو نہیں کھونا چاہتی۔۔۔۔
وہ جھجھک کر ریا کو دیکھتی دھیرے سے بولی۔۔۔
مجھے نہیں پتہ ایسا کیوں ہے لیکن میں جب سوچتی بھی ہوں تو دل بے چین سا ہو جاتا ہے۔۔۔۔دکش اور اپنے فیوچر کو اميجن کرتے ہوئے میں اس چیز پر آکر رک جاتی ہوں کے پورب میرے آس پاس نہیں ہے۔۔۔۔
وہ اُس سے اپنی ہر فیلنگ شیئر کرتی تھی اور اس وقت جو محسوس ہو رہا تھا وہ بھی بتا گئی بھلے وہ پورب کی بہن تھی۔۔۔
کیوں کے تم بھائی سے پیار کرتی ہو۔۔۔۔
ریا نے مسکرا کر بے نیازی سے کہا۔۔۔
ریا۔۔۔۔۔
وہ حیرت سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔اُس نے کتنی آسانی سے کہہ دیا تھا بلکل نارملی۔۔۔۔۔
دیکھو انجو۔۔۔۔جب تم نے دکش کے بارے میں بتایا تھا تب ہی تمہیں سمجھانا چاہتی اور یہ بھی بتانا چاہتی تھی کے بھائی تمہارے لیے بہت ڈیپ فیلنگس رکھتے ہیں۔۔۔۔لیکن بھائی نے مجھے منع کردیا تھا۔۔۔
حالانکہ بھائی نے تو ڈیڈ سے بھی کہہ دیا تھا کے وہ صرف تم سے ہی شادی کریں گے۔۔۔۔
ریا نے مسکرا کر اُسے بتایا تو انجو کا دل عجیب انداز میں دھڑکنے لگا۔۔۔۔اُس نے گلا تر کیا
مجھے لگا شاید وہ اپنے طریقے سے اس میٹر کو ہینڈل کرنا چاہتے ہیں اسلئے میں خاموش ہوگئی۔۔۔۔۔ میں تو ہمیشہ سے جانتی ہوں کے تم بھی بھائی سے بہُت اٹیچ ہو۔۔
ریا نے اُس کی کیفیت سمجھ کر سمجھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔اُس کا اُلجھا ذہن کچھ کچھ سلجھنے کو تھا لیکن دکش کا خیال مزید پریشان کرنے لگا۔۔۔
اُس نے ہاتھ آگے کرکے اپنی تیسری انگلی میں پہلی رنگ کو دیکھا۔۔۔۔
مگر دکش۔۔۔۔میری اُن سے انگیجمنٹ ہوچکی ہے۔۔۔شادی ہونے والی ہے۔۔۔۔۔میں کہاں آکر اُلجھ گئی ریا۔۔۔۔
وہ ریا کو دیکھتی پریشانی سے بولتی پھر رودی۔۔۔
اگر تم یہ سوچ کر پریشان ہو کہ دکش کو برا لگے گا۔۔۔تمہیں شرمندہ ہونا پڑےگا۔۔۔۔۔اُس کے اور تمہارے ڈیڈ کے تعلقات خراب ہوجائیں گے تو بلکل مت سوچو۔۔۔۔
کیوں کے یہ سب تمہاری زندگی سے اہم نہیں ہو سکتا یار۔۔۔۔
ریا نے اُسے سنبھالتے ہوئے کہا۔۔۔لیکن اُس کے آنسو نہیں رکے۔۔۔۔
بعد میں افسوس کرنے سے بہتر ابھی ہمت کرلو۔۔۔جو دل چاہتا ہے وہ مانو ۔۔۔۔باقی ساری چیزیں سوچ کر خود پر زبردستی مت کرو۔۔۔۔
ریا نے اُسے سکون سے سمجھایا وہ خاموشی سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
اچھا چلو فلحال یہ سب چھوڑو اور میری شادی پر دھیان دو۔۔۔۔۔۔۔مجھے تمہاری یہ روتی صورت نہیں دیکھنی ہے بلکل۔۔۔۔
وہ سر جھٹک اُس کے پاس سے اٹھی اور اُسے بھی اٹھا کر آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا تو انجو نے اپنے آنسُو صاف کیے اور سر ہلایا۔۔۔
♦♦♦♦♦♦