Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 72 Part 1

Episode 72
Part 1
سر کوئی بھی سسپشیس ایکٹیویٹی نہیں ہے۔۔۔۔لوکیشن بھی ایسا کچھ نہیں دکھا رہی ہے
اور کال ریکارڈز بھی بلکل کلیئر ہے۔۔۔۔۔
کمپیوٹر کے آگے بیٹھے آفیسر نے کرسی کا رخ موڑتے ہوئے شاد کو بتایا۔
اُس کا یوں اچانک سامنے آنا کوئی نارمل بات نہیں ہو سکتی۔۔
کل پندرہ اگست ہے۔۔۔۔
وہ لوگ شهر کا ماحول بگاڑنے کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کریں گے۔۔۔
ہو سکتا ہے اپنے آدمی کو جیل سے نکالنے کی بھی کوشش کریں
ہمیں الرٹ رہنا ہوگا۔۔۔۔
اُس نے سوچتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔کیوں کے اُسے یقین تھا وہ عورت حد سے زیادہ سنبھل کر بہُت ہوشیاری سے کام کررہی ہے۔۔۔
موبائل اور سینڈل میں لگے ہوئے جی پی ایس کے ذریعے وہ اُس عورت جس کا نام رینا تھا اور اُن کے مطابق خُفیہ طور پر ایک اسمگلنگ گینگ جس میں بڑے بڑے نام شامل تھے اُس کا خاص حصہ تھی۔۔۔۔
وہ لوگ اُس کے ایک ایک قدم پر نظر رکھے ہوئے تھے۔۔۔لیکن اُنہیں کچھ بھی شک کرنے لائق نہیں مل رہا تھا۔۔۔
اور اُسے پکڑ کر وہ لوگ اُنہیں آگاہ نہیں کر سکتے تھے۔۔
سر اُسے اریسٹ کر لیں۔۔۔
اُس کے ساتھ کھڑے ایک آفیسر نے صلاح دی تو شاد نے سر نفی میں ہلایا۔
ارسٹ نہیں کر سکتے۔۔۔۔
ورنہ وہ لوگ الرٹ ہو جائیں گے اور ہماری اُن تک پہنچنے کی اب تک کی ساری محنت بیکار جائیگی۔۔۔۔۔
تم لوگ اُس کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھو۔۔۔
اُس نے انکار کرتے ہوئے اُن سب کو نئے انسٹرکشن دیے۔۔۔۔۔تبھی اس کا فون بجنے لگا۔۔۔۔اُس نے انجان نمبر دیکھ کر فون کان سے لگایا ۔۔لیکِن اُس کے ہیلو بولنے پر بھی آگے سے کوئی جواب نہیں ملا۔۔۔۔۔
سر میں۔۔۔۔۔ جیا۔۔۔۔۔۔
اُس کے دوبارہ پوچھنے پر جیا نے ڈرتے ڈرتے کہا ۔۔۔تو اُس کے تاثرات بدلے اُس نے فون کان سے ہٹا کر کال کاٹ دی
پچھلی دو بار کی طرح۔۔۔۔۔۔۔۔
♦♦♦♦♦♦♦♦
سکندر کے آدمیوں کے روکنے کی کوشش کو ناکام بناتا وہ اندر کی طرف بڑھا۔۔۔۔
اُسے جب سے فلک کے اغوا ہونے کی خبر ملی تھی وہ ایک لمحہ سکون کی سانس نہیں لے پایا تھا۔۔
اور سکندر پر غصّہ اس قدر تھا کے خون دو گناہ تیزی سے دوڑ رہا تھا۔۔۔۔
اُسے فلک کا پتہ لگانے کے لیے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی تھی۔۔۔
اُس کے گلے میں پہنائے لاکٹ کی مدد سے وہ لوکیشن ٹریک کر چکا تھا۔۔۔
اور اس بات کا اندازہ سکندر کو بھی تھا اسی لیے وہ بلکل پرسکون تھا۔۔۔۔
جب داؤد اندر پہنچا تو وہ شان سے صوفے پر بیٹھا تھا زبردستی فلک کو اپنے ساتھ لگائے۔۔۔۔
وہی دل جلانے والی مسکراہٹ لیے۔۔۔
داؤد کے بدن میں شعلے بھر گیے۔۔۔۔۔
وہ ایکدم سے اُس تک پہنچا اور اُس کا گریبان پکڑ کر اُسے اٹھاتے ہوئے ایک زوردار مکا رسید کیا۔۔۔۔
فلک دل پر ہاتھ رکھے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
اپنی قسمت پر روتے ہوئے کیوں کے بار بار اُسے یہ سب دیکھنا پڑتا تھا ۔۔
سکندر داؤد سے بری طرح مار کھا رہا تھا یہاں تک کہ منہ سے نکلتا خون شرٹ کے اوپری حصے کو بھی سرخ کر گیا تھا لیکن اُس کے چہرے پر اب بھی وہی مکرو ہنسی تھی۔۔۔۔۔جیسے اُسے کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا۔۔۔۔۔
داؤد نے اُس کا سر بری طرح دیوار پر دے مارا تھا اور وہ چند لمحے اسی دیوار کے سہارے کھڑا رہا۔۔۔۔۔
پھر پلٹ کر پہلی دفعہ داؤد کو غصے اور نفرت سے گھور کے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔
وہ اُس کی ڈھٹائی دیکھ کر مٹھیاں سختی سے بند کیے اُس کی طرف بڑھنے لگا کے اُس نے ایکدم سے گولی چلائی جو داؤد کو کندھے پر لگی اور وہ لڑکھڑا کر پیچھے گرا۔۔۔۔۔۔
فلک نے سانس روک کر منہ پر ہاتھ رکھے اپنی چیخ کا گلا گھونٹا۔۔۔
اور تیزی سے داؤد کی طرف بڑھی۔۔۔۔
اُس کے بہتے خون پر اپنی لرزتی ہوئی اُنگلیاں رکھیں اور خوف سے سکندر کو دیکھا۔۔۔
جب کے داؤد درد کے باوجود اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔
کیا سوچ رہی ہو جانم۔۔۔۔
نشانہ چونک گیا۔۔۔۔۔۔۔
وہ فلک کے دیکھنے پر بے ترتیب سانس لیتا ہوا بولا اور منہ سے خون صاف کرکے سر نفی میں ہلایا
تمہارے بھائی کے لیے تمہیں ایک موقع نہ دینے کا دکھ تھا۔۔۔لیکِن اس دفعہ غلطی نہیں کروں گا۔۔۔۔
اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے جتاتے ہوئے بولا۔۔۔۔فلک کا دل خوف سے دھڑکنے لگا جب کے داؤد سرخ آنکھوں سے اُسے گھورتا اٹھ کر اُس کی طرف بڑھا۔۔۔سکندر نے دوبارہ گولی چلائی لیکن اس دفعہ وہ جھک کر اُس گولی سے بچ گیا اور دوبارہ سے سکندر پر جھپٹ کر اُسے مکوں سے مارنے لگا
لیکِن اس بار سکندر نے صرف مار نہیں کھائی بلکہ اُسے بھی جواب دیا۔۔۔۔
خود بھی اُس پر وار کرنے لگا۔۔۔
اور موقع ملتے ہی ٹیبل پر پڑا واس اٹھا کر اس کے سر پر دے مارا۔۔۔۔۔۔
یہ حملا داؤد کے لیے بے حد خطرناک ثابت ہوا۔۔۔۔
اُس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔۔۔۔۔
وہ لڑکھڑا کر سر دونوں ہاتھوں سے تھامے دھڑام سے زمین پر گرگیا۔۔۔۔
فلک پتھر بن کر ساکت سی دیکھ رہی تھی اپنی تقدیر کا ایک اور کھیل۔۔۔
دلہن تو ہر حال میں میری بننا ہے تمہیں۔۔۔
اب اس کی آنکھوں کے سامنے یا اُس کی بیوہ بن کے یہ فیصلہ تمہارا ہے۔۔۔
سکندر نے دوبارہ سا گن کا رخ داؤد کی طرف کرتے ہوئی فلک کو وارن کیا۔۔۔۔وہ داؤد سے نظر ہٹا کر اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
تیرے ارادے کامیاب نہیں ہوں گے۔۔۔۔۔۔تو بس۔۔۔۔ اپنی جیت کا سوچ کر ہی مرے گا
داؤد نے ضبط سے سانس روکے ٹوٹتے الفاظ میں کہا سکندر نے وارن کرتی نظروں سے فلک کو دیکھا اور گن پر اپنی گرفت مضبوط کی تو فلک ہوش میں آکر تیزی سے اُس کی طرف بھاگی اور اُس کا بندوق والا ہاتھ پکڑ لیا
نہیں۔سکندر۔۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔انہیں چھوڑ دو۔۔۔۔۔میری جان لے لو۔۔۔۔بس انہیں چھوڑ دو۔۔۔۔
اُس نے بے بسی سے روتے ہوئے سکندر کی منت کی۔۔۔داؤد نے اُسے پکار کر روکنا چاہا لیکن اُس کے حواس ساتھ چھوڑنے لگے آنکھیں بند ہونے لگی۔۔۔
سکندر نے مسکرا کر گن نیچے کر لی
اپنی جان کی جان لے کر جان سے جائے گا کیا سکندر۔۔۔۔۔
چاہ تو بس تمہیں اپنے ماتھے پر تاج بنا کے سجانے کی ہے۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی تڑپ پر خوش ہو کر اُس کا بازو تھامے مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔
چلو اسے چھوڑ دیا۔۔۔۔۔
تمہارے لیے اسے زندگی دے دی۔۔۔۔
اس کے لیے تم ہمیں اپنا آپ دے دو۔۔۔۔
سکندر کو فتح دے دو۔۔۔۔
وہ جان لٹاتی نظروں سے اُسے دیکھتا ہوا بولا۔۔۔۔فلک نے آنکھیں سختی سے بند کر لیں۔۔۔۔۔اور آنسُو آزاد کرکے داؤد کی طرف دیکھا وہ بے جان سا پڑا تھا
سکندر سے خود کو چھڑا کر وہ داؤد کی طرف آئی۔۔۔
اور زمین پر بیٹھ کر داؤد کی پیشانی سے بہتے خون کو ہتھیلی سے صاف کیا
آپکو۔۔۔کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔
روتے ہوئے اُسے دیکھتی اُس کے چہرے کو چھونے لگی۔۔۔۔۔۔
سکندر انجوئے کرتا بوتل اٹھا کر پانی پینے لگا۔۔۔۔
اُس کے آدمی اندر آۓ اور داؤد کو اٹھا کر باہر لے جانے لگے۔۔۔فلک نے اُنہیں روکنے کی کوشش کی تو سکندر نے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔۔
وہ اُسے اپنی نظروں سے دور جاتے دیکھ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔۔۔۔
،♦♦♦♦♦♦♦♦
وہ پہلے تو پریشان تھی
جس طرح ساحل نے زینب سے بات کی تھی اُسے بہُت دکھ ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔لیکِن پھر اُس نے زینب سے بات کر کے ہمیشہ کی طرح اپنی دلیلیں دے کر اُنہیں دلاسہ دے دیا تھا۔۔۔
اُس کے جانے کے بعد سے وہ اکیلی اُداس بیٹھی تھی۔۔۔۔
نا داؤد کا فون لگ رہا تھا نہ ریا کا۔۔۔۔
موبائل میں کچھ دیر ٹائم پاس کرکے بھی تھک گئی تھی۔۔۔۔
سارا دن وہ خوبصورت جگہ اُسے کھانے کو دوڑتی رہی تھی۔۔۔۔
اگر وہ کمزور ہوتی تو شاید رونے لگتی لیکِن اُس نے تو خود ہی یہ مشکل چنی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح سے شام تک کا وقت بہت طویل لگ رہا تھا۔۔۔۔اُسے شدت سے اپنی زندگی کے بدل جانے کا احساس ہو رہا تھا اور یہ بھی کے وہ ساحل کی خاطر سب ایڈجسٹ کرنے لگی ہے۔۔۔بدلنے لگی ہے۔۔۔۔
مغرب کی نماز کے بعد وہ باہر نکلی تو اُس گھر کے مالک رگھو راؤ کو ایک عورت کے ساتھ آتے دیکھا۔۔۔
ایک پل کو تو پریشان ہو گئی کے کہیں وہ اُس گھر سے جانے کا کہنے کو تو نہیں آیا۔۔۔لیکن بعد میں تسلی ہوئی جب پتہ چلا کے وہ اور اُس کی بیوی اپنے ناتی ہونے کی خوشی میں مٹھائی لے کر آئے تھے۔۔۔۔
اُس نے اپنی بیوی سے بھی نین کو ملایا اور وہ بہُت خوش دلی سے نین سے ملی جیسے سالوں پرانی پہچان ہو
رگھو راؤ کی بیوی نے خود چولہا جلا کر تینوں کے لیے چائے بنائی۔۔۔
ساتھ ہی وہ دونوں اُسے اپنے بچوں کے بارے میں بتا رہے تھے
دونوں ہی دل کے بہت اچھے تھے یہ اندازہ نین کو ہو چکا تھا اور وہ اپنے جھوٹ بولنے پر پچھتا بھی رہی تھی۔
کچھ دیر باتوں میں وقت گزرا تو ساحل بھی واپس آگیا۔۔
یہ سالہ پھر سے آگیا۔۔۔۔۔۔
رگھو راؤ کو دور سے دیکھتے ہی اُس نے دانت پیسے۔۔نین اُسے دیکھ کر جلدی سے اٹھ کر اُس کے پاس آئی۔۔۔
ساحل تم آگیے۔۔۔۔۔۔دیکھو تم سے ملنے کون آیا ہے۔۔۔۔۔ہمارے رگھو بھیّا۔اور بھابھی آئے ہیں۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے پاس آکر نہایت مٹھاس بھرے انداز میں بولی ۔۔۔اُس کے لائے سوٹ میں تھی لیکن اس بار بنا دوپٹے کے نہیں تھی ۔۔۔۔بلکہ دوپٹہ گلے میں ڈلا تھا اور ایک سائیڈ سے پیر تک لٹک رہا تھا
ساحل نے اُسے بازو سے کھینچتے ہوئے قریب کیا
دماغ کی ماں بہن مت کر۔۔۔۔۔یہ تیرے دماغ سے ہلکے رشتے داروں کو خود ہی جھیل ۔۔۔۔۔۔
ایکدم دھیمی آواز میں غصے سے بول کر اُن دونوں کو دیکھ کر آنکھیں گھمائیں اور آگے بڑھ کر گھر کے اندر چلا گیا
۔۔۔نین کے ساتھ دونوں بھی بس دیکھتے رہ گئے۔۔۔۔۔
سوری بھیا ۔۔۔سوری بھابھی۔۔۔۔وہ کیا ہے نا یہ آجکل تھوڑے پریشان ہے اس لیے اتنا چڑ چڑاپن بھر گیا ہے۔۔۔۔۔۔
وہ شرمندہ ہو کر اُس کی صفائی دینے لگی۔۔۔۔۔۔۔
کوئی بات نہیں نین۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رگھو کی بیوی نے ہنس کر ٹالتے ہوئے کہا۔۔۔
پریشانی کی کوئی خاص وجہ۔۔۔کوئی بڑی ٹینشن تو نہیں ہے نہ۔۔۔۔۔
رگھو نے فکرمندی سے پوچھا
نہیں۔۔۔۔وہ تو بس گھر والو کی کمی محسوس ہوتی ہے نا۔۔۔۔اسلئے پریشان رہتے ہیں پتہ نہیں وہ لوگ ہمیں کبھی اپنائے گے یا نہیں یہی سوچتے رہتے ہیں دن رات۔۔۔۔۔۔
نین نے فورًا بہانا بنایا۔۔۔۔افسوس بھرے انداز میں ۔۔۔اندر ساحل نے شرٹ نکالتے ہوئے اُس کے ڈرامے پر آہ بھری اور پانی کی بوتل اٹھا کر منہ سے لگائی
سب ٹھیک ہو جائے گا بہنا۔۔۔۔۔ویسے میری ایک صلاح مانو تو تم دونوں اب آئ بابا بن جاؤ۔۔۔۔۔۔
رگھو راؤ نے اس کی پریشانی دور کرنے کی صلاح دی۔۔۔ساحل کے منہ میں جتنا پانی گیا تھا سب پھوارے کی صورت باہر نکل کر دیواروں پر برس پڑا ۔۔جب کے نین بھی بری طرح گڑبڑا کر آنکھیں پھاڑے بند دروازے کو دیکھنے لگی
تم دونوں کا راجکمار آگیا نا تو گھر والے سب بھول کر سر آنکھوں پر بٹھا لیں گے تم دونوں کو۔۔۔۔
نانا دادا بننے کی خوشی بہُت بڑی ہوتی ہے۔۔۔۔۔
رگھو راؤ نے موچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا اُس کی بیوی بھی مسکرائی۔۔۔۔جب کے ساحل نے سانس لیتے ہوئے آنکھیں ضبط سے بند کیں
آپ یہ مٹھائی لیجئے نا۔۔۔۔۔
نین نے جلدی سے اُس کا دھیان بٹا کر بات ختم کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔اور کامیاب بھی ہوئی۔۔۔اب وہ اُس سے اپنے نانا بننے کی خوشی شیئر کر رہا تھا ۔۔۔۔اور اپنی نواسی کی تعریفیں کر رہا تھا
ماما کے بیٹے یو آر ویری بدتمیز۔۔۔۔۔۔
کیا ہو جاتا اگر تم دو باتیں کرلیتے ۔۔۔۔
وہ اتنے اپنے پن سے ہمارے ساتھ اپنی ناتن ہونے کی خوشی بانٹنے آئے تھے۔۔۔۔اور تمہارا منہ ہی سیدھا نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔
وہ اُن کے جانے کے بعد اندر آتے ہی اُس پر برس پڑی لیکن دھیان جب اُس کے پرفیوم اسپرے کرنے پر گیا تو رک کے حیرت سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
وہ کپڑے چینج کرکے بلیو شرٹ وہائٹ پینٹ میں جیسے بال سنوارے تیار تھا ایسا لگ رہا تھا باہر جا رہا ہو۔۔۔۔
اور یہ کیا اتنا بن سنور کر کہاں جا رہے ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے ماتھے پر بل ڈالے پوچھا ۔۔۔
مرنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے ہمیشہ کی طرح لاپرواہی سے جواب دیا۔۔۔۔
تو اتنا پرفیوم لگا کر جانے کی کیا ضروت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔دو چار لڑکیوں کو ساتھ لے کر مرنے کا ارادہ ہے کیا۔۔۔ٹھرکی انسان۔۔۔
وہ آنکھیں چھوٹی کرکے اُسے گھورتے ہوئے بولی وہ بنا جواب دیے ہاتھوں میں بینڈز ڈالنے لگا۔۔۔۔۔۔۔
ساحل۔۔۔۔۔تم سچ میں جا رہے ہو۔۔۔۔۔
وہ اُسے سیریس دیکھ کر پریشان ہوتے ہوئے بولی
ہاں۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے نین کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔۔۔اور اپنے جوتے پہننے لگا
لیکن کہاں۔۔۔۔۔وہ بھی اتنی رات کو۔۔۔۔۔
اُس نے حیرت سے پوچھا گھڑی نو بجا رہی تھی۔۔۔۔
ایک دوست سے ملنے۔۔۔۔۔۔۔
بنا دیکھے جواب دے کے وہ باہر نکلنے کو آگے بڑھا تو نین نے دونوں ہاتھوں سے اُس کا بازو پکڑ لیا
اتنی رات کو مجھے اس جگہ اکیلی چھوڑ کے جاؤگے۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے روک کر ناراض نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔
ساحل کو ایک لمحے کے لیے اپنا دل کمزور ہوتا محسوس ہوا۔۔۔۔۔ویسے ہی جیسے ہونے کا اُسے ڈر تھا۔۔۔۔۔
ایسا لگا پیر آگے نہیں بڑھ پائیں گے۔۔۔۔
ساری صبح سے اکیلی ہوں۔۔۔۔۔۔ ایک ایک منٹ گزار کر تمہارا اِنتظار کر رہی ہوں۔۔۔۔۔۔اور تم پھر چلے جاؤگے۔۔۔۔
وہ بھیگی آواز میں شکوہ کرتے ہوئے بنا کہے ہزاروں باتیں کہہ گئی۔۔۔
ساحل نے بہت مشکل سے اُس کی آنکھوں سے نظر ہٹا کر بازو چھڑوایا
یہاں رہنا تیری چوائس ہے۔۔۔۔میں نے تو کوئی زور نہیں دیا۔۔۔۔۔میری طرف سے آزادی ہے ۔۔۔۔مت کر اِنتظار مت رہ اکیلی
وہ بہُت ضبط سے بولا بنا نظریں اٹھائے۔
بکواس مت کرو۔۔۔۔۔۔۔مجھے پتہ ہے کوئی دوست وست نہیں بلکہ ضرور کسی لڑکی سے ملنے جا رہے ہو تم۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک دم سے اُس کا کالر پکڑ کر غصے سے بولی
ٹھیک ہے جا رہا ہوں۔۔۔۔پھر۔۔۔۔۔
ساحل نے سنجیدگی سے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔وہ لب کھول کر دوبارہ بند کر گئی۔۔۔ہاتھ پیچھے کر لیے ۔۔۔۔
تم روکوگي مجھے۔۔۔۔۔۔اور کیوں روکوگی۔۔۔۔۔کچھ ہے ہمارے بیچ۔۔۔۔
وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھنے لگا۔۔۔نین نے نظریں نیچے کیں تو ایک آنسُو ٹوٹ کر گرا۔۔۔۔۔
کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔ایک دن ایک تھپڑ نے لمٹ طے کردی تھی۔۔۔۔بھول گئی۔۔۔
وہ جان بوجھ کر اُس بات کا ذکر کرنے لگا کوئی تو وجہ چاہیے تھی بے رخی کی۔۔۔۔۔
وہ حیران پریشان سی اُسے دیکھنے لگی
اتنی پرانی بات ہے۔۔۔۔۔۔وہ کیوں دوہرا رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
تھکے تھکے انداز میں بولی کیوں کے ساحل کی اس طرح کی باتوں نے اُسے بہُت آزما لیا تھا اب اُس کا صبر ختم ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
پرانی تیرے لیے ہوگی میرے لیے آج بھی اتنی ہی تازی ہے۔۔۔۔۔
ایک آدمی پر کوئی اُنگلی بھی اٹھائے تو وہ مرتے دم تک نہیں بھولتا۔۔۔تونے تو ہاتھ اٹھایا تھا۔۔۔۔۔
وہ اطمینان سے کھڑا اُسے بے سکون کررہا تھا۔۔۔۔۔نین کویقین نہیں ہوا کے وہ اُس تھپڑ والی بات کی اس قدر طول دے سکتا ہے۔۔یہ محض اُسے ایک بہانا لگا جیسے کبھی داؤد کا تھا۔۔۔۔کبھی اپنے بے گھر ہونے کا تھا۔۔اُسے خود سے دور کرنے کا بہانا
جو یہاں لگی وہ میٹر نہیں کرتی۔۔۔۔
اُس نے اُنگلی سے اپنے چہرے کو چھوا اور پھر کنپٹی کو۔۔
پر جو یہاں لگی بہُت میٹر کرتی ہے۔۔۔
اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر سرد سے انداز میں بولا
ٹھیک ہے سوری۔۔۔۔۔سو بار سوری
مت جاؤ۔۔۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہار مان کر بولی اور گرنے والے انداز میں اُس کے سینے سے پیشانی ٹکا دی۔۔۔
اُس کا دل ایک لمحے کو ٹہر سا گیا۔۔۔۔۔
آنکھیں بند کرکے کھولیں۔۔۔اور دونوں ہاتھوں سے اُس کا چہرہ تھام کر اپنے سامنے کیا۔۔۔۔۔
وہ نظریں جھکائے کھڑی تھی۔۔۔۔ساحل نے اُس کی بھیگی پلکوں کو دیکھتے ہوئے چہرے سے بال ہٹا کر ہاتھ گردن پر رکھا۔۔۔۔
اُس نے نظر اُٹھا کر اُسے دیکھا۔۔خاموش نظریں اور اپنائیت بھرے لمس سے تو نین کو ایسا محسوس ہوا جیسے اُس کی بات مان کر وہ رک گیا ہو۔۔۔لیکِن اچانک ہی اُسے گردن پر درد کا احساس ہوا۔۔۔۔اُس نے کراہ کر سمجھنے کی کوشش کی لیکن بہُت تیزی سے اُس کی پلکیں بوجھل ہو گئی ذہن سن ہو گیا
اور جسم بے جان ہونے لگا۔۔۔ اُس نے آنکھیں بند کرکے سر پیچھے کو گرا دیا۔۔۔۔ دوپٹہ پھسل کر زمین پر گر گیا
ساحل نے اُس کی گردن کو یونہی تھامے دوسرا ہاتھ کمر کے گرد باندھے۔۔۔ بند آنکھوں کو دیکھتے ہوئے اُسے گرنے سے بچائے رکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے تاثر خاموش آنکھوں سے اُس کے پرسکون چہرے کو دیکھتا رہا۔۔۔۔۔
جو دل میں اترتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔
موبائل میں وائبریشن ہوا تو اُس نے سنبھل کر نین باہوں میں اٹھائے آگے بڑھ کر بستر پر لٹایا۔۔۔۔
اُس کے پرسکون چہرے کو دیکھتے ہوئے اُسے کمفرٹر اوڑھایا اور لائٹس بند کرکے خود باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔