Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 42

وہ چینج کرکے سونے کے لئے بیڈ پر لیٹی تو اُس کا فون بجنے لگا۔۔۔۔
اتنی رات کو انجان نمبر دیکھ کے حیرت ہوئی گھبراتے ہوۓ فون کان سے لگایا ۔۔۔۔۔لیکِن کچھ بولی نہیں۔۔۔۔
ہائے جانے من۔۔,۔ آج رات فری ہو کیا۔۔۔۔۔۔۔۔
فون اسپیکر سے کِسی مرد کی آواز اُبھری اُس کے غلیظ الفاظ سن کر جیا کا خوف سے سانس خشک ہو گیا اُس نے فوراً فون بند کر دیا اور گہرے گہرے سانس لینے لگی۔۔۔
صرف چند سیکنڈ کی خاموشی تھی اور اُس کا فون پھر بجا اُس نے فوراً فون کی آواز بند کرکے اُسے سائلینٹ پر کر دیا ۔۔۔
دروازے کی طرف نظر ڈالی جو کھلا تھا۔۔۔۔
جلدی سے بھاگ کے دروازہ بند کیا اور فون چیک کرنے لگی جِس پر مسلسل میسیج آرہے تھے نہایت ہی واہیات اور گندے قسم کے۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے دماغ میں کلک ہوا اُس نے فوراً دشا کا نمبر ملایا۔۔۔
مجھے پتہ تھا تم مجھے کال ضرور کروگی۔۔۔۔۔
فون اٹھاتے ہی دشا چہک کر بولی۔۔
کیا کِیا ہے تم نے۔۔۔۔۔۔
وہ خشک لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے پوچھنے لگی
ذیادہ کچھ نہیں بس جو کہا تھا وہی کیا ہے۔۔۔۔ڈونٹ پینک وڈیو میں چہرہ چھپا کر صرف کیپشن میں اویلیبل کے ساتھ تمہارا نمبر ڈالا ہے بس۔۔۔۔
ابھی تک لوگوں کو یہ نہیں پتا کے یہ لڑکی جیا عباس شیرازی ہے۔۔۔۔۔۔
دوست ہو یار تم ہماری اتنا مارجن تو دے ہی سکتے ہے تمہیں۔۔۔۔
دشا کمینگی سے ہنسی۔۔۔۔جیا آنکھیں بند کرکے بے آواز لیکِن شدّت سے رو دی
لیکِن بس کل تک کل میں۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پھر اُسے دھمکی دینے لگی لیکن
نہیں دشا۔۔۔۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیا نے بے بسی سے اُس کی کی منت کی جب کے وہ ہنہ کرکے فون رکھ چُکی تھی اور جیا اب اپنی چھوٹی سی غلطی کے۔لیے رو رہی تھی
©©©©©©©©
ذیادہ سے زیادہ دو گھنٹے وہ پارٹی میں۔رہا تھا اور جب واپس روم میں لوٹا تو اُن دو گھنٹوں میں روم کا پورا نقشا بدل دیا گیا تھا۔۔۔۔۔
روم کے ایک ایک کونے کو بے حد خوبصورتی سے سجایا ہوا۔تھا۔۔۔
بیڈ چاروں اور سے پھولوں کی لڑیوں سے گھرا تھا۔۔۔۔ اور درمیان میں سفید چادر پر سُرخ پتیوں سے دل اور اُس کے آس پاس میں این اور ایس بنایا گیا تھا
پورے کمرے میں جگہ جگہ لگی موم بتیاں تاریکی میں جگمگا۔ کر حسین نظارہ پیش کر رہی تھیں۔۔۔
اُس نے آنکھیں پھاڑے پورے کمرے کا جائزہ لے کر خشک لبوں پر زبان پھیری۔۔۔۔۔۔
دماغ تیل لینے گیا ہے ان لوگوں کو۔۔۔۔۔میں اور وہ آفت۔۔۔۔۔کبھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے پر سوچ انداز میں بیڈ پر لکھے الفابیٹ دیکھ کر کبھی نہیں کہتے ہوئے ہلایا۔۔۔۔دروازے کو لات مارت کر بند کیا اور آگے بڑھ کر اُن پتیوں کو ہاتھ سے ادھر اُدھر کرتے ہوئے وہ الفابیٹ مٹانے لگا۔۔۔۔۔
جو بھی ہو لیکن یہ سب دیکھ کر تو وہ بھوتنی بھی انکمفرٹیبل ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔اُس کے آنے سے پہلے ہی ہٹا دیتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے نین کا سوچا اور جلدی سے پتیاں بیڈ سے جھٹکنے لگا۔۔
جیسے آج صبح سے اُسے دورہ پڑا ہے کہیں وہ بھی اس سب کا تو نہیں سوچ رہی ہوگی۔۔۔۔۔ایسا نہ ہو کے اُس نے یہ سب کروایا ہو۔۔۔۔۔۔مجھے کوئی اشارہ دینے کے لیے ۔۔۔۔
وہ یکدم سے ہاتھ روک۔کر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔حیرت سے سوچا اور پھر خود کی۔سوچ پر خود کو ہی تھپڑ مارا
شٹ اپ ایڈیٹ۔۔۔۔۔۔کیا سوچ رہا ہی فضول۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خود کو تھپڑ۔مار کر جھڑکتے ہوئے آگے بڑھ کر مومبتیاں بجھانے لگا۔۔
دو تین کینڈل ہی بجھی تھی کے دروازہ کھلنے کی آواز ہوئی وہ فورًا جا کر صوفے پر بیٹھا موبائل یوز کرنے لگا۔۔۔۔۔
تاکہ اس معاملے سے اپنی لا تعلقی ظاہر کر سکتے۔۔۔۔
نین ٹرے میں دودھ کا گلاس لیے اندر آئی ۔۔۔۔ایک ہاتھ سے دروازہ بند کیا اور کنڈی۔لگائی ۔۔۔
ساحل نے صدمے سے اُسے دیکھا کے اُس نے کنڈی کیوں لگائی۔۔۔
وہ ساحل کو صوفے پر دیکھ مسکراتے ہوئے اُس کی طرف بڑھی۔۔۔
اُس کے بڑھتے قدموں کو دیکھ کر ساحل کا دل دھک دھک کرنے لگا
نین کے چہرے پر شرمیلی سی مسکان دیکھ اُسے اپنے خدشے صحیح ثابت ہوتے محسوس ہوئے۔۔۔۔۔۔۔
نین کی مسکراہٹ اُسے بڑی معنی خیز لگ رہی تھی۔۔۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ بڑے خطرناک ارادے لیے اُس کے قریب آرہی ہو۔۔۔۔۔
اچانک ہی اُسے اپنی فکر ہونے لگی کے جانے اُس کے ساتھ کیا ہو۔۔۔۔۔۔
وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
لیجئے نا۔۔۔۔بادام والا دودھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ شرما کر گھنی پلکیں جھکائے اُس کے سامنے کھڑی دودھ کا گلاس اُس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی۔۔۔ساحل نے خشک ھوتے گلے کو۔تر کیا
نہیں چاہیے اپن کو۔۔۔۔۔۔۔تو پی۔۔۔۔۔
وہ بظاہر سختی سے بولا لیکن دل اندر گھبراہٹ سے دھک دھک کر رہا تھا۔۔۔
لیکن بھابھی نے کہا تھا یہ تو خاص آپ کے لیے ہے۔۔۔۔۔۔۔اسپیشل ہیلدی اینڈ اینر جیٹک۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر اُس پر خوف کی بجلیاں گراتے ہوئے بولی
کیوں۔۔ میں کونسی جنگ لڑنے جا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔ہٹا اسے
اُس نے مشکوک نظروں سے گھورتے ہاتھ سے گلاس پیچھے کیا نین نے ہڑبڑا کے گلاس کو گرنے سے بچایا
ٹھیک ہے۔۔۔جیسے آپکی مرضی۔۔۔۔۔
وہ اچھے بچوں کی طرح اُس کی بات مانتی گلاس ٹیبل پر رکھنے لگی ساحل نے اُسے سر سے پیر تک گھورتے پہلو بدلا۔۔۔اُس کے انداز اتنے بھی معنی خیز نہیں تھی جتنے ساحل کو۔محسوس ہو رہے تھے۔۔اُسے تو وہ آج خونی دلہن لگ رہی تھی
شرٹ نکال دیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پھر سے اُس کے سر پر۔کھڑی تھی اور اُس کی بات سن کر تو وہ اپنی جگہ سے اچھل گیا آنکھیں صدمے سے پھٹی تھی مطلب سیدھے ڈائریکٹ۔۔۔۔۔۔
کّک کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں کیوں نکالوں۔۔۔
بہت محنت و مشقت سے پیشانی پر بل ڈال کر پوچھا
دودھ گر گیا ہے نا۔۔۔۔۔۔
نین نے شرٹ کی طرف اشارہ کیا جہاں آخری بٹن کے پاس تھوڑا سا دودھ گر نے سے گیلا ہوا تھا
تو تیرے باپ۔کا کیا جا رہا ہے۔۔۔۔گرنے دے میرے کو کوئی پرابلم نہیں ہے
وہ۔اپنی گھبراہٹ پر ہی غصّہ ہوا اور غصے سے بولتا سکون سے بیٹھ گیا نین اُس سے تھوڑا فاصلے رکھ کرسوفے پر بیٹھ گئی
جیسی آپکی مرضی ۔۔۔۔۔میں نے اس لیے کہا کہ بعد میں۔بھی تو۔اُتارے گے ہی۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے پھر فرماندار بیوی کا رول نبھایا اور سکون سے کہتی اُسے بے سکون کر گئی
کیوں,۔کیوں۔۔۔۔کیوں اتاروں گا بعد میں۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں سکیڑ کر اُسے گھورتے ہوئے ہکلا کر پوچھنے لگا
سوتے وقت چینج نہیں کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے معصومیت سے پلکیں جھپکیں۔۔۔۔اُس کی معصومیت بھی ساحل کو بہُت معنی خیز لگ رہی تھی
نہیں۔۔۔۔۔۔نہیں کروں گا۔۔۔۔۔آج میں یہی کپڑے پہن کر سوں گا
وہ اُس سے نظریں ہٹا کر سختی سے بولا
جیسی آپکی مرضی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے پھر شرافت سے سر ہلا دیا
چند سیکنڈ کی خوفناک خاموشی رہی جس میں ساحل کی تیز دھڑکنوں کی ٹک ٹک واضح تھی۔۔۔۔
چلیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے اُس خاموشی کی توڑتے ہوئے نرم نگاہوں سے اُسے دیکھا وہ آنکھیں پھاڑے سیدھا ہوا
کککّ۔۔۔کہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نا چاہتے ہوئے بھی آواز پھر پھڑپھڑا ئی۔۔
سونے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے سادگی سے آنکھیں جھپکیں
سس۔۔۔سونے۔۔۔۔ آسڑیلیا جانا ہے۔۔۔۔۔۔۔
اسے کن نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا
نہیں جی۔۔۔۔۔ بیڈ پر۔۔۔۔۔۔
وہ سمجھداری سے مسکرائی
۔۔تو جا۔۔۔۔۔میں یہیں سوؤں گا آج۔۔۔۔۔
اُسے گھورتے ہوئے ہلکا سا پیچھے کھسکا
نہیں جی یہاں۔کیسے سو سکتے ہیں آپ یہ صوفہ بہُت چھوٹا ہے۔۔۔۔۔چلیں نا ورنہ مجھے بیڈ پر اکیلے سونا اچھا نہیں لگیگا۔۔۔۔
وہ معصوم صورت پر بیچارگی طاری کرتے ہوئے اُس کے نزدیک کھسکی اور وہ ایکدم سے اپنی جگہ چھوڑ کر اٹھ گیا
تیرے اندر شرم ورم نام کی کوئی چیز ہے یا نہیں۔۔۔۔۔
لڑکیاں تو ایسے موقع پر بہت سختی دکھاتی ہے۔۔۔۔
روم شیئر نہیں کرتی۔۔۔بیڈ شیئر نہیں کرتی۔۔۔۔۔
تم۔میرے پاس مت آنا دور رہنا وغیرہ وغیرہ۔۔۔
اور تو کھینچ کھینچ کر مجھے اپنے ساتھ سلانے پر تلی ہے۔۔۔
سچ سچ بتا ارادے ٹھیک ٹھاک ہے نہ تیرے۔۔۔۔۔۔
سوتے میں کچھ کریگی تو نہیں میرے ساتھ۔۔۔۔
وہ چاہ کر بھی غصے کی بجائے گھبرائیے لہجے میں بولا نین حیرت سے اُسے دیکھتی اٹھ کھڑی ہوئی
آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہے۔۔۔۔۔۔۔میں کیوں کچھ کروں گی۔۔۔۔۔وہ تو میں بس آپ کو یہاں صوفے پر ایڈجسٹ کرتے نہیں دیکھ سکتی۔۔۔۔آخر آپ میرے شوہر ہے ۔۔۔۔آپ کی فکرِ کرنا میرا فرض ہے۔۔۔۔۔مجھے کل خدا کو جواب دینا ہے
وہ پریشانی سے بولی اور ساحل نے بے حد حیرت سے اُسے دیکھا کیوں کے وہ بلکل سنجیدہ لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
اُس کی باتیں بلکل بھی بناوٹی نہیں تھی۔۔۔۔
یا شاید وہ ایکٹنگ بہت اچھی کرتی تھی
بس کر ۔۔۔۔۔ورنہ میں بے ہوش ہو جاؤں گا۔۔۔۔
وہ بیزاری سے کہتا واپس اپنی جگہ بیٹھ گیا ۔۔۔۔
نین ایک پل اُسے فکرمندی سے دیکھتی اُس کے قدموں میں بیٹھی اور اُس کے پیروں سے جوتے نکالنے لگی۔۔۔۔
ساحل نے بے تحاشا چونک کر اُسے دیکھا۔۔
وہ اُس کے جوتے نکال کر اُس کے پیرووں کو دھیرے دھیرے دبانے لگی
کیا کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے ہاتھ اپنے پیر سے ہٹا تے ہوئے حیرت سے پوچھا
پیر دبا ہوں آپ کے۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کی سیوا کرکے ہی تو میں اچھی بیوی بن سکتی ہوں نہ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولی اور دوبارہ سے ہاتھ اُس کے پیر پر رکھ دیئے۔۔۔۔۔
ساحل کی حیرت کی کوئی انتہا نہیں تھی کیوں کے پہلی دفعہ اُسے محسوس ہو رہا تھا کے وہ جو کر رہی ہے وہ کوئی ناٹک نہیں بلکہ اُس کے دماغ میں بھرے غبار نے اُسے سوچنے سمجھنے سے مفلوج کر دیا ہے۔۔۔۔۔وہ بس اپنے دِماغ میں ایک بات کو قید کرکے باقی سب کچھ بھول گئی ہے۔۔۔۔۔
اُس نے ایکدم سے اُس کے ہاتھ بری طرح خود سے دور جھٹکے۔۔۔نین نے ہڑبڑا کر اُسے دیکھا
دور ہو مجھ سے۔۔۔۔۔۔
وہ طیش میں آکر اپنی جگہ سے اٹھا اور اُسے غصے سے دیکھ کر بولا وہ بری طرح گھبرا گئی اور ہڑبڑا کے کھڑی ہوئی
کیا ہوا آپ غصّہ کیوں کر رہے ہیں مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی کیا۔۔۔۔۔مجھے معاف کر دیجئے میں آپکو بلکل بھی پریشان نہیں کروں گی۔۔۔۔۔۔آپ بس غصّہ مت کرنا۔۔۔۔۔
وہ سہمے سے لہجے میں کہتی اُسے مزید حیران کر گئی ۔۔۔۔
وہ اُس کی بڑی بڑی آنکھوں میں جھلملاتے آنسو دیکھنے لگا
آپ ناراض مت ہونا بس ۔۔۔جو چاہے گے کروں گی۔۔۔۔
وہ سر نفی میں ہلاتے ہوئے اُس کی منت کر رہی تھی ساحل نے دانت سختی سے بھینچے اور پیچھے سے اُس کی گردن اور آگے سے اُس کے لبوں پر ہاتھ مضبوطی سے رکھے اُس کا منہ بند کر دیا
بس۔۔۔۔بس۔۔۔بس۔۔۔
وہ بہُت زور سے چلایا ۔۔۔نین خوفزدہ نظروں سے اُسے دیکھنے لگی
ایک لفظ نہیں بولیگی تو اب
وہ اُس کی سرخ سہمی نگاہوں میں دیکھ کر غصے سے بولا لبوں پر ہاتھ کی سخت گرفت سے نین کی سانس رکنے لگی
ساحل نے اُس کے۔لبوں سے ہاتھ ہٹا کر دونوں بازو پکڑے اُسے قریب کھینچا
تجھے پتہ بھی ہے تو کیا کر رہی ہے۔۔۔۔
دیکھ خود کو یہ تو نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔
تیرے غصے نے تُجھے ذہنی مریض بنا دیا ہے
پاگل لگ رہی ہے تو کوئی۔۔۔۔۔۔۔
اپنی سیلف رسپکٹ کو مار دیا ہے تونے جو۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں سختی سے دیکھتا کہتے کہتے رکا۔۔۔وہ سانس روکے کھڑی تھی
جو میرے آگے یوں بچھ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ دبی آواز میں بولا۔۔۔۔۔نین بے تاثر نظروں سے اُسے دیکھنے لگی تھی۔۔۔۔دل ہزاروں کی رفتار سے دوڑ رہا تھا
ارے فرسٹیشن نکالنی ہے تو نکال دے نا۔۔رو۔۔۔چلّا۔۔۔غصّہ کر۔۔۔۔۔۔سب کو سنا دے جا کر کس نے تیرے ساتھ کیا کیا۔۔آگ لگا دے اپنے دکھ دینے والوں کو
لیکِن یہ تماشا بند کر۔۔۔
وہ اُس کے وجود کو جھٹکا دیتے ہوئے بولا۔۔۔۔نین نے آنسو بھری آنکھوں۔میں خفگی لیے اُسے دیکھا۔۔۔۔۔اُس کی گرفت معمولی سی نرم ہوئی
خود کو یوں ذلیل مت کر اپنی نظر میں۔۔۔۔
بے جان گڑیا نہیں ہے تو
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتا افسوس زدہ لہجے میں بولا۔ ۔۔
اگلے چند پل کے لیے نین کی آنکھوں نے اُسے خود میں جکڑے رکھا۔۔۔اُس کے ہاتھ بازو آزاد کرکے اُس کی کمر پر آئے
کیوں روں میں۔۔۔۔۔کس کے لیے روں۔۔۔کسے سناؤں
کس کس بات کر لیے سناؤں۔۔
وہ ٹوٹے ہوئے لہجے میں بے حد دھیرے سے بولی اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے
اپنی قسمت پر روؤں جس نے اچانک ہی مجھے اتنا بڑا جھٹکا دے کر میری دنیا تحس نحس کردی
اُس داؤد لعنتی کے لیے روؤں جس نے مجھے دھوکہ دینے سے پہلے میری غلطی نہیں بتائی۔۔۔۔۔۔
اُس انجان لڑکی پر غصّہ کروں جس نے ایک پل میں میرے چھ سال کے خواب مجھ سے چھین لیے۔۔۔۔۔
اپنے پا پا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی بربادی پر جی بھر کر آنسو بہاتی ہوئی اُس کے سامنے شکوے کرتے کرتے سسکی لے کر رکی۔۔۔۔وہ سنجیدگی سے اُس کے آہستہ سے ہلتے سرخ لبوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
اُنہوں نے میری زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ کرتے وقت یہ نہیں سوچا کے مجھ پر کیا گزر رہی ہے اس وقت۔۔۔۔میں کیا چاہتی ہوں۔۔۔۔اُنہیں تو اپنا اسٹارڈم عزیز تھا سوسائٹی میں اپنی ناک اونچی رکھنی تھی۔۔۔۔
اُنہیں میری خوشی میرے دکھ کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔۔۔۔
۔کِتنی سفاکی سے کہہ دیا کے ہاں بس شادی ہوجائے ورنہ انٹرنیشنل میڈیا۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی شرٹ کے دوسرے بٹن پر نظریں جمائے بے تحاشا روتے ہوئے ہچکی آنے سے رک گئی۔۔۔۔۔
ایک ۔۔۔سامان کی۔طرح پھینک دیا مجھے کسی اور کی جھولی میں تاکہ میرے وجود سے اُن کی برسوں کی محنت اثر انداز نا ہو۔۔۔۔۔۔
وہ سسکتے ہوئے اُس کی شرٹ کو تھام کر رونے لگی۔۔۔۔
ساحل نے اُسے نہیں روکا۔۔۔۔تاکہ وہ رو کر اپنا سارا درد بہا دے۔۔۔۔
ہاں تو نہیں ہوگی ۔۔۔۔میں بھی تو یہی چاہتی ہوں۔۔۔ میں اُن کی یہ خواہش ہی تو پوری کر رہی ہوں کے اُن کا نام ہمیشہ بلند رہے۔۔۔۔۔اسی۔لیے تو۔مجھے اچھی بیوی بننا ہے۔۔۔تمہیں خوش رکھنا ہے۔۔۔تاکہ تم مجھے واپس اُن کی زندگی میں نا پھینک دو۔۔۔رونا نہیں ہے مجھے
وہ سر جھکائے ہی اضطرابی کیفیت میں کہتی آنسُو رگڑنے لگی اور ساحل کی طرف دیکھا
تم مجھے کیوں روک رہے ہو ماما کے بیٹے۔۔۔۔۔کیوں نہیں کرنے دیتے مجھے بیوی جیسا برتاؤ۔۔۔۔۔
وہ غصے سے کہتے کہتے شکوہ کرنے لگی۔۔
مجھے چھوڑ کر میرے پاپا کو بدنام کرنا چاہتے ہو کیا۔۔۔۔
اُس کی کالر تھام کر۔اُسے خفگی سے دیکھا۔۔۔وہ اُس کی بھیگی آنکھوں کو دیکھ کر اپنے دل کی حالت عجب محسوس کر رہا تھا
بولو نا کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔۔۔جانتی ہوں پسند نہیں کرتے مجھے لیکن تھوڑا برداشت تو کر۔سکتے ہو نا۔۔۔۔۔۔پلیز پلیز پلیز۔۔
وہ بے بس لہجے میں کہتی اُس کے بازو سے پیشانی ٹکا کر رونے لگی۔۔۔۔۔ساحل نے اُس کی پیشانی کے سلگتے لمس اور سانسوں کی تیز حرارت کو محسُوس کرکے اُسے پیچھے کیا
طبیعت ٹھیک نہیں ہے تیری۔۔۔۔۔۔۔چل میرے ساتھ۔۔۔۔۔
اُسے سیدھا کرتے ہوئے فکرمندی سے بولا اور اُس کی کلائی تھامی۔۔۔۔لیکِن نین نے فورًا اپنی کلائی چھڑا کر جانے سے انکار کر دیا
نہیں آؤں گی میں۔۔۔پہلے بولو ۔۔۔۔مجھے نہیں چھوڑو گے نا۔۔۔۔۔
وہ سر نفی میں ہلاتی زکام زدہ لہجے میں بولی۔۔۔۔پلکیں بھاری ہوتی باربار بند ہو رہی تھی
بکواس بند کر ورنہ تھپڑ کھائے گی۔۔۔۔۔۔۔
تُو کوئی فوکٹ کا مال نہیں ہے سمجھی نا۔۔۔
وہ غصے سے اُس کا ہاتھ پکڑ کر کہتا اُسے کھینچنے لگا۔۔۔
چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔۔۔نہیں آؤں گی میں۔۔۔۔۔
نین نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور اُسے پیچھے دھکیل دیا۔۔۔۔۔۔اور وہ آسانی سے پیچھے ہو بھی گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے غصّے سے دیکھتی جا کر بیڈ پر بیٹھ گئی اور اپنی کلائیوں سے چوڑیاں نکال نکال کر پھینکنے لگی ساتھ ہی اُس کی بڑبڑا ہٹ جاری تھی
کہیں نہیں جاؤں گی۔۔۔۔۔۔مجھے نفرت ہے سب سے۔۔۔۔۔
وہ سسکیاں لے کر بڑبڑاتی اپنے بدن سے ایک ایک زیور نوچ کر زمین پر پھینکنے لگی۔۔۔۔۔۔۔ساحل پیچھے ہو کر دیوار سے ٹیک لگائے بہت اطمینان سے اُسے ابزرو کر رہا تھا
نئیں جاؤں گی میں۔۔۔۔ نئیں جاؤں گی
وہ تھکی تھکی آواز میں چینختی بیڈ کے گرد لٹکتی پھولوں کی لڑیاں کھینچ کھینچ کر پھینکنے لگی۔۔۔۔۔۔
وہاں سجاوٹ کیے ایک ایک سامان کو اٹھا کر زمین بوس کرنے لگی۔۔۔۔۔۔
بیڈ سے چادر تکیے کھینچ کر پھینک دیے۔۔۔۔
آس پاس رکھے گلدان موم بتیاں سب تحس نحس کردی۔۔۔۔
بڑبڑا ہٹ جاری تھی جِسے سمجھنا نا ممکن تھا۔۔۔۔
سسکیاں بھی جاری تھی جو بے جان چیزوں کی آوازوں تلے دب گیئں۔۔۔۔۔
جوش دم توڑ کر کمزور ہوا جا رہا تھا لیکِن اُس کی تڑپ کم نہیں ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔
کچھ پل پہلے تک کھلتا چہرہ اب دم توڑتے پھول کی تصویر بنا ہوا تھا۔۔۔۔
کاجل بکھر کر آنکھوں کے گھیرے سیاہ کر گیا تھا۔۔۔
لبوں سے لپسٹک بکھر کر نیچے تک پھیل گئی تھی۔۔۔
ساڑھی کا آنچل کندھے سے گر کر نیچے جھول رہا تھا
وہ بھی اُس کمرے کی طرح بکھری ہوئی تھی
اور وہ خاموش کھڑا اُسے دیکھ رہا تھا بنا پلکیں جھپکے۔۔۔۔۔
وہ بند ہوتی آنکھوں کو بمشکل کھولے اُس اور بڑھی جہاں ٹیبل پركانچ کی بوتل رکھی تھی۔۔۔۔۔۔اُسے اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا لیکِن ساحل سیدھا ہوا اور اُس کے اٹھانے کے پہلے ہی وہ بوتل اٹھا کر اُس کی طرف بڑھائی۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے ایک نظر ساحل کی جانب دیکھا ۔۔۔۔وہ بوتل تھامی اور پھر پوری طاقت سے دانت بھینچے وہ بوتل زمین پر پھینکنے لگی۔۔۔۔لیکِن اچانک ہی رک گئی اور پھر اُس کی جانب دیکھا جو آنکھوں میں بھرپور سنجیدگی لیے اُسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
نین کے دیکھنے پر اُس نے ہاتھ آگے بڑھا کے اُسے قریب آنے کا اشارہ کِیا۔۔۔۔وہ بے تحاشہ اُمڈ آنے والے آنسوؤں کو گلے میں ہی روکتی اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔ اور بوتل جہاں کی وہاں رکھ دیے
ساحل نے آہستہ سے اُسے قریب کھینچ کر اپنے سینے سے لگا یا اُس نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی لیکن وہ دونوں بازوؤں کو اُس کے گرد تنگ کیے گرفت مضبوط کر گیا۔۔۔۔۔
وہ کسمسائی۔۔۔۔۔اُس کے کندھے پر۔مکے مارے اور پھر اچانک اُس کے بازؤں میں ٹوٹ کر بکھرتی شدتوں سے رو پڑی۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے مزید خود میں بھینچ کر اُس کے بخار زدہ بدن کی تیز تپش محسوس کرنے لگا۔۔۔
اُس کے آنسوؤں رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔۔ہچکیاں سانس روک رہی تھی اور بدن بے جان ہو رہا تھا۔۔۔۔
شرٹ بھیگتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔سانسیں بدن جلا رہی تھی
وہ اُسے سختی سے تھامے اُس کے بازؤں میں ڈھہتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔
ساحل اُسے سنبھالتے خود بھی نیچے بیٹھتے چلا گیا۔۔۔۔۔
اُسے خود سے جدا نہیں کیا۔۔۔۔۔۔گہری سانس لے کر خود کو کمپوز کرنے لگا۔۔۔
جب کوئی۔۔۔۔ پریشان کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔ پاپا سے ۔۔۔۔كہتی تھی ۔۔۔
ممی ڈانٹتی تھیں۔۔۔۔۔۔ تو پاپا سے شکائت ۔۔۔۔کرتی تھی
اب پاپا کی شکایت۔۔۔۔۔کس۔۔۔۔ کس سے کروں
وہ بے ترتیب زمین پر اُس کے قریب بیٹھی اُس کے کندھے پر سر رکھے رویے جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔سسکیوں کے درمیان کہتی نیچے ہوتے ہوئے سر اُس کے گود میں اُس کے فولڈ کیے ہوئے پیر پر رکھ کر سیدھی ہوئی۔۔۔۔
کیسے ۔۔۔۔۔سمجھاؤں خود کو ۔۔۔۔کے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی طرف دیکھتی ہوئی بولنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن لفظ نہیں مل رہے تھے اپنے درد کو بیان کرنے کے لیے
بس۔۔۔۔۔۔
اُسے زبردستی کی کوشش کرتے دیکھ ساحل نے اُس کے لبوں پر اُنگلی رکھتے ہوئے اُسے روک دیا
بہت ناٹک ہو گیا چل اٹھ ڈاکٹر کے پاس چلتے ہے۔۔۔تجھے کچھ ہو گیا تو میں پھنس جاؤں گا۔۔۔
وہ ساڑھی کا پلو اُس کے سینے اور کندھے پر درست کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔
تم تو ۔۔ویسے بھی پھنس ہی گئے ہو ماما کے بیٹے۔۔۔۔میرے مرنے سے تو تمہیں فائدہ ہی ہوگا۔۔۔۔جان چھوٹ جائیگی۔۔۔۔
وہ نیم وا آنکھوں سے اُسے دیکھتی زبردستی لب پھیلا کے مسکرائی
ڈاکٹر سے تیری زبان کا علاج بھی کرتے ہیں ۔۔۔۔بہُت چلتی ہے قسم سے
وہ انگوٹھے سے اُس کی آنکھ سے کان تک سفر کرنے والا آنسو صاف کرتے ہوئے بولا
میں نہیں جاؤں گی۔۔۔
نین نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر انکار کیا۔
دیکھ بہت ہوگیا اب اٹھ ورنہ مار کھائے گی۔۔۔۔
وہ اُسے آنکھیں دکھا کر دھمکانے لگا۔۔نین اپنی ساری طاقت جمع کرکے اُس کے بازو کو تھامے اٹھی ۔۔۔۔
کیا تم۔۔۔۔۔ میرے لیے۔۔۔۔۔ داؤد کو ۔۔۔۔۔۔۔مار سکتے ہو۔۔۔۔
وہ بھیگی سرخ آنکھوں سے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔
میں اُسے ماروں گا تو۔۔۔۔۔۔۔تیرا درد کم ہو جائےگا۔۔۔
وہ اُس کے چہرے پر آتے بال پیچھے کرتے ہوئے دھیمے بھاری لہجے میں بولا۔۔۔۔
تھوڑا۔۔۔۔۔۔تھوڑا تھوڑا۔۔۔۔
وہ گلا تر کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔
لیکِن تم ۔۔۔۔۔۔ اُسے۔۔۔۔۔۔۔ بہُت
بہُت بہُت۔۔۔۔۔
مارنا اُس کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹانگیں توڑ دینا۔۔۔۔
۔۔۔۔اُسے سمجھ آنا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کِسی کو ہرٹ کرنا کتنا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں بند کیے بڑبڑاتی ہوئی اُس کے سینے سے سر ٹکا گئی لیکِن بند آنکھوں سے بھی بے آواز بڑبڑا رہی تھی۔۔۔۔
ریلیکس۔۔۔۔۔۔۔۔ریلیکس
ساحل اُس کے گرد بندھے ہاتھ سے اُس کی پیشانی سہلانے لگا۔۔۔اُسے پرسکون کرنے لگا اور وہ اُس کے اُنگلیوں کے نرم لمس سے دھیرے دھیرے غنودگی میں جانے لگی
∆∆∆∆∆∆∆