Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155

Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Last updated: 4 October 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nain Sahil

By Sanaya Khan

تم وہاں صوفے پر کیوں سو رہے ہو ۔۔۔۔۔ بیڈ پر آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔ آنکھیں بند کرتے ہی اُس کی آواز آئی تو وہ ایکدم سے اٹھ بیٹھا اور حیرت سے اُسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔کیا لڑکی تھی وہ۔۔۔۔ وہ اپنا اگلا حکم سنا کر اُس کی گھوری سے لا پرواہ اپنی چوڑیاں نکالنے میں مصروف تھی۔۔۔۔۔ ایک۔نظر اُسے دیکھا جو ضبط کی آخری حد پر تھا۔اور آبرو اس انداز میں اٹھائی جیسے کہہ رہی ہو اس میں اتنا حیران کیوں ہورہے ہو تو کیا خود کو لیلیٰ اور مجھ کو تیرا مجنوں سمجھتی ہے۔۔۔۔۔ ابے اتنا نارمل نہیں ادھر کچھ۔۔۔۔تونے ذبردستی شادی کی ہے میرے سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔داؤد کے باپ نے اگر اپن کو اِموشنل بلیک نہیں کیا ہوتا تو تیری شکل نہیں دیکھتا کبھی۔۔۔۔۔۔ وہ ایکدم سے برس پڑا وہ اٹھ کر اُس کے پاس آئی آواز آہستہ رکھو۔۔۔۔۔۔سارے گھر والوں کو جگانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔میں بھی کوئی تم سے شادی کرکے شکرانے ادا نہیں کررہی ہوں سمجھے۔ اسلئے۔۔۔۔۔یہ سیریل والی بہوؤں کی طرح نخرے مت دکھاؤ مجھے۔۔۔۔ وہ اُنگلی اٹھا کر اُسے غصے سے دیکھتے ہوئے بولی اُس لمحے واقعی محسوس ہوا جیسے وہ ایک معصوم ہیروئن ہو اور سامنے کھڑی لڑکی اُس کی زندگی کا ولن۔۔۔ ایک تو ذبردستی شادی کرلی اور اب ایک کے بعد حکم چلائے جا رہے تھے۔۔۔۔۔ کیا الٹی قسمت پائی یار۔۔۔۔۔۔۔ وہ صدمے سے صوفے پر گر گیا۔۔۔۔۔ وہاں سے اٹھو اوراکر بیڈ پر لیٹو فوراً۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اُسے دوبارہ لیٹتے دیکھ اپنے لفظوں پر۔زور دیتے ہوئے بولی وہ ان سنی کرکے پڑا اُسے گھورتا رہا دل کیا اُس کی خوبصورت شکل بگاڑ دے ساحل۔۔۔۔۔۔ اب اگر تم نہیں اٹھے نا تو میں باہر جا کر بڑے ماما کو بتاؤں گی کے آپ کا یہ ایڈاپٹڈ بیٹا میرے ساتھ ڈیلی سوپ والے ڈرامے کر رہا ۔۔۔ ۔ وہ دانت پیستے ہوئے بولی اور قدم باہر کی جانب بڑھانے لگی چل ٹھیک ہے۔۔۔ وہ ایکدم ہی سیریس ہو کر اپنی جگہ سے اٹھا اور اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے ساتھ لیے بیڈ پر گرا اتنی اچانک حرکت پر وہ سانس لینا بھول گئی آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھنے لگی ساحل اُسے کوئی بھی موقع دیے بغیر کروٹ بدل کر اُسے بیڈ سے لگاتا اُس پر جھک گیا۔۔۔۔۔ اس جنونی انداز پر اُس کا دل نئی رفتار سے دھڑکنے لگا۔۔۔وہ اس کے اتنے قریب آنے پر سب کچھ بھول گئی۔۔۔ پلکیں جھپکنا۔۔۔سانس لینا۔۔۔۔اُسے روکنا سب کچھ۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ اُسے غصے سے گھور کر اُس کی گردن پر جھکتا وہ پوری قوت سے اُسے پیچھے دھکیل کے اٹھ بیٹھی Nain sahil by sanaya khan