Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 86
No Download Link
Rate this Novel
Episode 86
جیا اُسے ابھی آتی ہوں کہہ کے پچھلے پندرہ منٹ سے غائب تھی۔۔
اور وہ اُس کی دوست صبا کے ساتھ کالج کے اوپن کینٹین میں اُس کا ویٹ کر رہی تھی۔ کالج آنا بس ایک بہانا تھا ساحل سے دور بھاگنے کا۔۔۔۔۔
حالانکہ اس وقت اُس کی طبیعت بے حد بوجھل تھی سر درد سے پھٹ رہا تھا۔۔۔۔اور جسم تھکن سے ٹوٹ رہا تھا ۔۔رہ رہ کر وہی باتیں اُس کے ذہن میں گھومتی اُس کی اُداسی کم نہیں ہونے دے رہی تھی۔۔۔
موسم بھی اُس کی طرح رنگ بدل رہا تھا ۔۔۔بس وہ اُداس تھی اور موسم بدل کر شوخ ہو رہا تھا۔۔۔۔۔
بادل سارے آسمان کو ڈھک کر روشنی کو چھپانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ۔۔۔سرد ہوائیں سرسراتی ہوئی ۔۔ بارش کی نوید سنا رہی تھی۔۔۔۔۔
شام ہونے کو تھی پر اُس کا دل نہیں کر رہا تھا کے گھر جائے اور ساحل کا چہرہ دیکھے۔۔۔۔۔۔۔وہ بس اُس سے دور بھاگنے کی کوشش میں تھی۔۔۔لیکن اب سمجھ نہیں آرہا تھا کے کالج کے بعد کہاں جائے۔۔۔
جب اُس نے ساحل کو وہاں آتے دیکھا تو زیادہ حیران نہیں ہوئی۔۔۔۔
بس ایک خفا خفا نظر اُس پر ڈال۔کر اپنی جگہ سے اٹھتی اندر جانے لگی تاکہ جیا کو ڈھونڈھ کر واپس گھر جا سکے۔۔۔۔۔۔۔مطلب تو بس ساحل کے نا ہونے سے تھا۔۔۔۔چاہے گھر یا باہر
لیکن صبا نے زبردستی اُسے وہیں روکے رکھا۔۔۔۔اپنی جگہ سے اٹھنے ہی نہیں دیا
وہ لڑکی نین کے سامنے ساحل کو دیکھ دیکھ کر آہیں بھر رہی تھی اور نین کے لیے برداشت کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔۔
بس وہ اپنے غصے کی لاج رکھتے ہوئے بے نیازی برتنا چاہتی تھی۔۔اُسے کچھ کہہ کر ساحل کو اہمیت نہیں دینا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔
۔
یار اتنا ہینڈسم اتنا ڈیشنگ۔۔۔۔انسان پیون کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔۔
صبا تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھے اسٹاف روم کے باہر کِسی سے بات کرتے کھڑے ساحل کو دیکھتی حسرت بھرے انداز میں بولی تو نین نے اُس کی بات پر کوفت سے آنکھیں گھمائیں۔۔۔
اب تو لیکچرز میں بھی دل نہیں لگتا۔۔۔جی کرتا ہے اسٹاف روم میں ہی بس جاؤں۔۔۔۔
صبا کی آہیں جاری تھی۔۔نین کا ضبط ختم ہو رہا تھا۔۔وہ بس یہاں سے غائب ہونا چاہتی تھی
یہ جیا کدھر مر گئی۔۔۔
وہ اِدھر ادھر جیا کو ڈھونڈھتی بڑبڑا ئی تاکے وہ آئے تو یہاں سے نکل سکے اور صبا کی بے تکی آہوں سے نجات ملے
چند مہینے بعد جب کالج ختم ہوجائے گا۔۔۔۔کیسے جیوں گی میں اسے دیکھے بنا۔۔۔۔
صبا اپنی ہی دھن میں جدائی کے صدمے کو رو رہی تھی۔۔۔۔۔
نین نے آنکھیں چھوٹی کرکے اُسے گھورا کے آخر وہ اتنی کیوں سنجیدہ ہے وہ بھی ساحل کو لے کر اور پھر ساحل کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔
جو ڈارک بلیو شرٹ اور وہائٹ جینس میں ہمیشہ کے مقابلے زیادہ جازب نظر لگ رہا تھا۔۔۔
کمینہ ٹھرکی۔۔۔۔۔۔جان بوجھ کر یہ جاب کر رہا ہے ۔۔۔تاکے کالج کی لڑکیاں تاڑ سکے۔۔۔۔چھچھورا کہیں کا۔۔۔۔
وہ صبا کی ترستی مچلتی نظریں مسلسل اُس پر گڑی دیکھ دانت پیس کر بڑبڑا ئی۔۔۔
نین تمہیں بھی اُسے دیکھ کر کچھ کچھ ہو رہا ہوگا نا۔۔۔۔
صبا اُسے ساحل کو گھورتے دیکھ اُس کی طرف کھسک کر پوچھنے لگی
بلکل نہیں۔۔۔۔ایسے کمینے ٹھرکی کے لیئے مجھے کُچھ نہیں ہوتا۔۔۔
وہ ناگواری سے بولتی منہ پھیر گئی۔۔۔
او ایم جی۔۔۔۔۔وہ تو یہیں آرہا ہے۔۔۔۔
لیکِن صبا کے اگلے خوشی سے چہکتے جملے پر اُس نے فوراً اُس جانب دیکھا۔۔۔
اور واقعی وہ اُن کی طرف آرہا تھا۔۔۔
نین سرعت سے وہاں سے اٹھنے لگی تو صبا نے دوبارہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر روک دیا۔۔۔۔۔۔
گھر چلیں۔۔۔
وہ آکر اُسی میز کی ایک کرسی پر بیٹھتا ہوا اُسے دیکھ کر پوچھنے لگا ۔۔۔۔جو سمپل سے بلیک سوٹ پر لال گوٹّے والا میچنگ دوپٹہ ڈالے ہوئے ہمیشہ کی طرح سادہ لیکن ہمیشہ سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔۔
اپنے خفا خفا سے روپ اور غصے بھرے انداز کی وجہ سے۔۔۔
ہوا سے بال ہیئر کلپ سے آزاد ہو کر چہرے پر آرہے تھے
مجھے جانا ہوگا تو چلی جاوں گی۔۔۔۔۔۔ تم اپنا کام کرو۔۔۔۔۔
نین نے منہ پھیرے خشک انداز میں جواب دیا۔۔۔صاف ظاہر تھا کہ وہ اُس سے بات کرنے کے موڈ میں نہیں۔۔۔
جب کے صبا حیرت سے اُن دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
فلہال تو تمہیں منا نا میری فرسٹ ڈیوٹی ہے۔۔۔۔۔جس کے لیے میں اپنے سب کام چھوڑ کر آیا ہوں۔۔۔
ساحل نے اُسے سنجیدگی سے دیکھ کر جتاتے ہوئے کہا ۔۔۔تو نین نے اُسے غصے سے گھور کر دانت پیسے۔۔۔
جواب دے کر بات کو آگے بڑھانے سے گریز کرتے ہوئے نظریں دوسری سمت کر گئی۔۔
آپ دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔۔۔۔
صبا اپنی حیرت کے اثر سے نکلتی ہوئی پوچھنے لگی ۔۔۔نین نے تو جیسے سنا ہی نہیں لیکِن ساحل۔ اُسکی بات پر مسکراتی نظروں سے نین کو دیکھنے لگا۔
سونیے۔۔۔۔تو نے اپنی دوست کو بتایا نہیں کے اپن تیرا ڈارلنگ ہسبنڈ ہے۔۔۔
وہ اُسے دیکھ کر شرارت بھرے انداز میں بولا تو نین نے غصے سے منہ مزید موڑ لیا۔۔
نین کیا سچ میں۔۔۔۔۔۔
صبا اُس کا کندھا ہلاتی صدمے سے پوچھنے لگی ۔۔۔
بد قسمتی سے۔۔۔
وہ دھیرے سے بڑبڑا کر اُسے گھورتی ہوئی بولی تو وہ مدھم سا مسکرایا۔۔۔
باہر بارش کی ننھی ننھی بوندیں بادلوں سے آزاد ہو کر مٹی میں جذب ہونا شروع ہو گئی تھی اور مٹی سے خوشبو آزاد کرکے فضاء کو سوندھی سوندھی مہک میں بھگو رہی تھی
میں جا رہی ہوں۔۔۔۔جیا آئے تو بتا دینا اُسے۔۔۔۔
وہ اُس کی مسکراہٹ دیکھ کر جل اٹھی۔۔۔اور صبا سے کہتی میز پر رکھا اپنا فون اور بیگ اٹھانے لگی۔۔
ویسے آپ کا نام کیا ہے۔۔۔۔۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر وہاں سے جاتی یا صبا اُسے روکتی اُس کے پہلے ساحل کو صبا کا میز پر رکھا ہاتھ پکڑ کر بڑے پیار سے پوچھتے دیکھ صدمے سے اُسے دیکھنے لگی
صبا۔۔۔۔
صبا حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ شرما کے بولی تو نین نے غصے سے مٹھیاں بھینچ کر دونوں کو دیکھا اور ایک دوسرے کے ہاتھ میں ڈالے اُن کے ہاتھوں کو۔۔۔۔۔
بیوٹی فل نیم۔۔۔۔۔
ساحل نے فدا ہونے والے انداز میں کہا نین کا بس نہیں چل رہا تھا وہ کوئی پتھر اٹھا کر دونوں کے سر پھوڑ دے۔۔
ساحل نے بس ایک نظر اُس کے غصے سے سرخ چہرے کو دیکھا ۔۔
صبا آپکو گانا سننا پسند ہے۔۔۔۔
وہ نہایت چاہت بھرے لہجے میں پوچھنے لگا اور اُس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔۔۔ صبا نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلا دیا جب کے نین کا غصّے سے دل پھٹنے لگا۔۔۔۔اُس کی بے حسی دیکھ آنکھوں میں آنسُو آنے لگے۔۔۔۔
میں آپکے لیے گاؤں۔۔۔۔
وہ نین کی طرف دیکھتا صبا سے پوچھنے لگا مانو خاص اُسے دکھانا چاہتا ہوں۔۔۔اور اُس کی بھیگتی آنکھیں دیکھ جبڑے سختی سے بھینچے۔
وہ بھاری ہوتی آنکھوں میں نفرت لیے اُسے دیکھتی پلکیں جھپک کر آنسو روکتے ہوئے نظریں نیچے کر گئی۔۔۔
ساحل نے گہری نگاہوں سے اُسے دیکھ کر نظریں اُس کے چہرے سے ہٹائیں۔۔۔اور باہر برستی بارش کو دیکھا جو ہر گوشے کو بھگوئے جا رہی تھی۔۔۔
وہ لوگ کینٹین کے گرین شیڈ کے نیچے بیٹھے بارش سے بچے ہوئے تھے۔۔۔۔
لیکِن اُس شیڈ پر بارش کی بوندیں گرنے کا شور۔۔۔اور وہاں بیٹھے سب لڑکے لڑکیوں کی ہنسی اور باتوں کا شور نہایت بیزار کن تھا۔۔۔۔۔
ہممم۔۔۔۔۔۔۔۔
نینا تیرے ۔۔۔۔۔
کجرارے ہے۔۔۔
۔
۔نینو پے ہم ۔۔۔۔۔
دل ہارے ہے۔۔۔
اُس کی دھیمی لیکن پرسوز آواز اُس شور کو بریک لگا گئی۔۔پھر بس اُس کی آواز تھی اور بارش کا شور باقی سب خاموش تھے۔۔۔۔۔
انجانے ہی تیرے نینو نے۔۔۔
وعدے کیے کئیں سارے ہے۔۔۔
سب اپنی اپنی جگہ سے مڑ کر اُسے دیکھنے لگے تھے نین نے بھی بھیگی نظریں اٹھا کر اُسے دیکھا تو وہ اُسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
آنکھوں میں ڈھیروں جذبات سمیٹے ۔۔۔۔چاہت سمیٹے
اُس کا دل اُس گہرائی میں ڈوب کر بھاری ہونے لگا تو اُس نے فوراً نظریں جھکا لی۔۔۔لیکِن وہ تب بھی اُسے دیکھتا رہا۔۔۔۔۔
سانسوں کی لےء۔۔۔
مدھم چلے۔۔۔۔۔۔۔
توسے کہے برسے گا ساون۔۔
برسے گا ساون۔۔۔۔
جھوم جھوم کے۔۔۔۔۔
دو دل ایسے ملیں گے۔۔۔۔۔
مسلسل اُس کی جھکی آنکھوں کو دیکھتا اپنے مدھم خوبصورت آواز اور انداز سے گنگنائے محض چند لفظوں سے وہ سارے ماحول میں ایک سرور سا بھر گیا تھا
اس لیے جیسے ہی وہ رکا اور وہ سرور ٹوٹا تو ایک گہری خاموشی چھا گئی ۔۔۔۔۔۔تھی تو بس بارش کی آواز ۔۔۔اور ہوا سے ہلتے پتوں کی سرسراہٹ۔۔۔
چند لمحوں کی اُس بے مطلب خاموشی کے بعد سب نے زوروں سے تالی بجا کر ونس مور کا شور لگایا ۔۔۔۔تو اُس نے چونک کر نین سے نظریں ہٹائے اپنے آس پاس دیکھا جہاں سب لوگ اُسی کی طرف متوجہ تھے۔۔۔اور پھر سے گانا سننے کی ڈیمانڈ کر رہے تھے۔۔۔
جب کے نین کے لیے اپنے آنسو بے قابو ہوتے محسوس کرکے مزید وہاں بیٹھنا نا ممکن ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ضبط سے سانسیں گلے میں گھٹنے لگی تھی۔۔۔
بنا اپنے فون یا سامان کی پرواہ کیے وہ فوراً وہاں سے اٹھ کر آگے بڑھنے لگی تھی کے ساحل نے اُس کی کلائی پکڑ کر اُسے قدم آگے بڑھانے سے روکا۔۔۔
نین نے اپنے ہاتھ کی سختی سے مُٹھی بھینچ لی۔۔۔۔۔اُس کی طرف دیکھنے سے گریز کیا۔۔۔۔۔تاکے وہ اُس کی دھڑکنوں کا بدلتا رخ محسوس نہ کرلے۔۔
جیسے کوئی کنارہ۔۔۔۔۔۔۔
دیتا ہو سہارا۔ ۔۔۔۔۔۔
مجھے وہ ملا کِسی موڈ پر۔۔۔
وہ ایک سائیڈ سے نظر آتے اُس کے چہرے کو نظروں میں سمائے اپنی جگہ سے اٹھ کر دھیمی آواز میں گنگناتا اُس کی طرف بڑھا۔۔۔
کوئی رات کا تارا۔۔۔۔
کرتا ہو اُجالا۔۔۔۔۔
ویسے ہی روشن کرے۔۔
وہ شہر۔۔۔۔۔۔
بنا کلائی آزاد کیے وہ اُس کے نزدیک آکر وہاں کھڑے لوگوں کو مکمل نظر انداز کیے سر اُس کے بالوں سے لگانے لگا تو اُس کا ارادہ سمجھ کر نین نے سانس روکے پیچھے ہونے کی کوشش کی۔۔۔
درد میرے وہ بھلا ہی گیا۔۔۔
کچھ ایسا اثر ہوا۔۔۔۔
اُس کے دو قدم آگے ہوتے ہی وہ جھٹکے سے اُسے واپس کھینچ گیا۔۔۔
بالوں سے ہیئر کلپ پھسل کر گر گیا اور بال بے ترتیب سے اس کے بازو اور کمر پر بکھر گیے۔۔۔۔
وہ اُس کے قریب ہوتے ہی اُس کے بازو کو سختی سے تھام گئی۔۔۔۔دل اپنی جگہ رک گیا اور سانس اپنی جگہ۔۔۔۔۔۔۔
جینا مجھے پھر سے وہ سکھا رہا۔۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھ پر گرتے بالوں کو پیچھے کرنے لگا۔۔تو نین کی اُنگلیاں اُس کے بازو پر سخت ہوتی گئی۔۔۔
آنکھیں بند کی تو آنسو پلکوں کو بھگونے لگے۔۔۔۔۔
جیسے بارش کر دے تر۔۔۔۔
یا مرہم درد پر۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی مجھ کو۔۔۔۔یوں ملا ہے
جیسے بنجارے کو گھر۔۔۔۔۔
وہ پرسوز پر تپشِ نظروں سے اُس کے گالوں پر اترتے آنسُو دیکھنے لگا۔۔۔
اس وقت اُسے کچھ یاد تھا تو بس نین اور اپنا دھڑکتا دل۔۔۔
وہاں لوگوں کی موجودگی اُن کا دیکھنا اُن کا باتیں بنانا اس وقت وہ سب کچھ فراموش کیے بس اُس کے چہرے اور آنکھوں میں گم تھا۔۔۔۔۔
نئے موسم کی سحر
یا سرد میں دو پہر۔۔۔۔
کوئی مجھ کو یوں ملا ہے
جیسے بنجارے کو گھر۔۔۔۔
جیسے بنجارے کو گھر۔۔۔۔
نین نے پورے وقت میں ایک دفعہ بھی اُس کی طرف نہیں دیکھا۔۔۔۔اُس کا دل ضبط سے پھٹ کر بکھرنے کو تھا اُس کی قربت اُس کی نظروں کی تپش اُس کے وجود کو آگ کی طرح دہکا رہی تھی اور دل کررہا تھا وہ چینخ چینخ کر رویے۔۔۔
جیسے بنجارے کو گھر۔۔۔۔۔
ساحل کی گنگناہٹ نا زوروں سے برستی بارش کا شور اُسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا بس ایک چیز محسوس ہو رہی تھی اور وہ تھی اُس کی پُر جذب نظریں۔۔۔۔۔اور اپنی زوروں سے دھڑکتی دھڑکنیں۔۔۔۔۔۔
اُس نے سر اٹھا کر اُسے بھیگی سرخ نظروں سے دیکھا تو ایک لمحے میں اُس کی ڈھیروں شکایتیں نگاہوں سے نگاہوں تک پہنچ گئی۔۔۔
ساحل نے اُس کی نم پلکوں کو انگھوٹے سے چھوا تو وہ ضبط کھو کر پلکیں جھپک کر پیچھے ہوتی پلٹ کر وہاں سے بھاگتی ہوئی اُس سے دور جاتی چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے اُسے زاروقطار روتے ہوئے برستی بارش میں بھیگ کر کالج گیٹ سے باہر جاتے دیکھ آنکھیں بند کرکے کھولیں اور خود بھی اُس کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔۔
وہ کالج سے باہر نکلنے تک مکمل بھیگ چکا تھا لیکن جب باہر آیا تو وہ کہیں نہیں تھی اور ڈرائیور گاڑی لیے وہیں کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
برستی بارش سے لڑتی نظروں نے دونوں اطراف کی سڑک پر دور دور تک اُسے ڈھونڈا لیکِن وہ کہیں نظر نہیں آئی۔۔۔
اُس کے دل کی دھڑکنیں مدھم ہونے لگی۔۔۔
تیزی سے قدم بڑھا کر کالج کی دیوار سے ٹرن ہوتے راستے کی طرف بڑھا
تو وہ اُس راستے پر رفتہ رفتا آگے بڑھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی جگہ ٹہر گیا۔۔۔۔۔۔
نین کا سیاہ دوپٹہ زمین پر گھسے جا رہا تھا اور قدم تھکے تھکے انداز میں آگے بڑھ رہے تھے۔۔۔۔۔
وہ چند پل وہیں رک کر اُسے سست قدموں سے خود سے دور جاتے دیکھتا رہا اور پھر بھیگے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے قدم اُس کی طرف بڑھائے۔۔۔
غلطی تو ساری تمہاری ہے نہ۔۔۔۔۔
وہ بارش سے بے نیاز۔۔۔ڈھلتی شام کے اندھیرے سے بے فکر۔۔۔۔۔۔آتے جاتے لوگوں کی نظروں سے بے پرواہ۔۔۔۔سست روی سے آگے بڑھتی اپنے دِل سے مخاطب تھی۔۔۔۔۔۔۔
ڈھیروں آنسوؤں بارش کے پانی میں مل کر بے مول ہو رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر ہچکی پر بدن لرز رہا تھا۔۔۔۔
اُس نے نرمی سے بات کی۔۔۔۔
تم نے پیار سمجھا۔۔۔
اُس نے سہارا دیا۔۔۔۔۔۔۔
تم نے پیار سمجھا۔۔۔۔
اُس نے چند پل دل لگی کی۔۔۔
تم نے پیار سمجھا۔۔۔
اُس کے بھیگے لرزتے لب اپنے آپ سے بات کرتے ہوئے بے آواز ہل رہے تھے۔۔۔
سانسیں بارش کے پانی سے اُلجھ کر تنگ ہو رہی تھی۔۔۔۔
اُس کے لفظ لفظ میں تھکن تھی اور دل ہر خیال پر سسک رہا تھا۔۔۔۔
اُس نے تو کبھی کہا ہی نہیں کے پیار ہے۔۔۔۔یہ خوش فہمیاں تو تم نے خود بنی ہے۔۔۔
یہ امیدیں تو خود سے جگائیں تھی۔۔۔
تو درد بھی تو تمہیں ہی ہونا تھا نہ۔۔۔۔۔
وہ لبوں کو کھول کر سانس لیتی۔۔۔سسکیاں بھر رہی تھی۔۔۔ساحل کے انداز پر جہاں اُس کا دل پگھل کر اُسے مجبور کر رہا تھا کے وہ اُس سے ساری شکایتیں کرکے اُس پر غصّہ کرکے اُس کے سینے سے لگ کر اُس سے اپنے جذباتِ دل کا اقرار کرلے۔۔۔۔
وہیں اُس کی انا انکار کر رہی تھی جس نے ہے اہمیت کو بے مول کیا اُس کے آگے اپنی عزت نفس قربان نا کرے۔۔
بس اب پھر وہی غلطی مت کرنا۔۔۔۔
اب اُس کی باتوں کو دل سے مت لگانا
اُس کی نظر عنایت کو عاشقی نے سمجھنا۔۔۔
اب پھر بے وقوفی کرکے ایک اور زخم نا لگا لینا
وہ خود کو بعض رکھنے کے لیے خود کو باور کروا رہی تھی۔۔۔۔
انجان راستے پر آگے بڑھتے ہوئے اُسے یہ احساس تھا نا پرواہ کے وہ کہاں جہاں رہی ہے بس اُس کی نظروں کو ایک پکّی سڑک نظر آرہی تھی اور وہ اُس پر قدم آگے بڑھائے جا رہی تھی
اور ساحل اُس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا لیکن نا اُسے روک رہا تھا نہ اُس کے سامنے جا رہا تھا۔۔۔۔بس اُسے پکارنے کی ہمت جٹا رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اب مزید نا خود کو رسوا کرنا۔۔۔۔
تھوڑی لاج اپنے دل کی رکھ لینا۔۔۔
اب وہ پکارے تو پلٹ مت جانا
اب کِسی لہجے کی لہک میں بھٹک مت جانا۔۔
اب مت آنا دل کی باتوں میں۔۔۔
وہ روتے روتے آنسوؤں میں بھیگے لفظوں سے اپنے آپ کو سمجھا رہی تھی کے۔۔۔۔۔
نین۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے اسی لمحے اُسے پوری شدت سے پکارا۔۔۔۔۔۔اُس کے لہجے میں جذبات کی نمی اور احساسِ تڑپ کی لرزش تھی
نین کے قدموں سمیت اُس کی سانسیں۔۔۔۔۔اُس کی نظریں۔۔۔۔اُس کے سانس لینے کو کھلتے لب۔۔۔۔۔اُس کے سینے میں دھڑکتا دل۔۔۔۔۔۔۔اُس کے بدن میں دوڑتا لہو۔۔۔۔۔۔
سب کچھ۔۔۔
سب کچھ ٹہر گیا۔۔۔۔
اُس کا دل ایک سکنڈ پہلے خود سے ہی کئے ہر وعدے سے مکر گیا۔۔۔۔
ہر بات سے پلٹ گیا۔۔۔
ہر وارننگ بھول گیا۔۔۔۔۔
اور کیسے نا بھولتا ۔۔۔اُس کے نام کو ساحل کے لبوں نے پہلی دفعہ پکارا تھا وہ بھی اس جذبِ دروں سے کے وہ اُس ضرب سے بچ نہ سکی
پلٹ کر اُس کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔
رکی سانسیں بحال ہو کے مزید تیز ہوئی۔۔۔۔۔
بارش کی بڑھتی رفتار کی طرح دل بھی تیز تر دھڑکے جا رہا تھا۔۔۔۔۔
اشک آنکھ سے آزاد ہوتے ہی بارش کے سنگ مل کر مٹی کی نظر ہوتے جا رہے تھے۔۔۔۔
ساحل کے بھیگے چہرے پر چھائے درد و فکر کے تاثرات میں بے حد شدت تھی۔۔
آنکھوں سے کئیں ان کہے جذبات عیاں تھے۔۔۔جن کی تپش اُس فاصلے سے بھی دل کو سلگا رہی تھی۔۔۔۔
وہ اپنے ہی بدلتے احساس سے چڑ کر اپنی بے اختیاری پر جھنجھلا کر اُس کی طرف بڑھی اور دونوں ہتھیلیاں اُس کے سینے پر رکھ کر اُسے پیچھے دھکّا دیا۔۔۔
وہ اپنی جگہ سے ذرہ برابر نہیں ہلا بس وجود میں ہلکی سی حرکت ہوئی۔۔
کیوں آئے تم۔۔۔۔
وہ سرخ آنکھوں میں وحشت لیے اُسے دیکھتی پوری قوت سے چلائی لیکِن اُس کی آواز بارش کی آواز میں کہیں دب کر مدھم رہ گئی۔۔۔۔
ساحل نے جبڑے سختی سے بھینچ کر اُس کے چہرے پر بہتے پانی کو لبوں کو چھو کر نیچے اترتے دیکھا۔۔۔
میرے پیچھے کیوں آۓ تم۔۔۔۔
۔کیوں آۓ کیوں آئے ۔۔کیوں۔۔۔۔
وہ ہتھیلی سے بار بار اُسے دھکّا دے کر بکھری بکھری سانسوں سے چیخ رہی تھی۔۔۔بارش کے زور سے آنکھیں بار بار بند ہونے کو مجبور تھی۔۔۔
اندھیرا گہرا ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔
کیوں کر رہے ہو یہ سب۔۔۔۔۔
کیا چاہتے ہو مجھ سے۔۔۔۔۔
کیوں میری ناراضگی کی پرواہ کر رہے ہو۔۔۔
میں تو کیریکٹر لیس ہوں نہ۔۔۔۔
تمہاری بیوی ہو کے تم سے زیادہ داؤد سے اٹیچ ہوں۔۔۔
دنیا کی سب سے خراب لڑکی ہوں
پھر کیوں تم میرے پیچھے آکر مجھے منانے کی کوششں کر رہے ہو۔ ۔
چھوڑ کیوں نہیں دیتے میرا پیچھا۔۔
کیوں میرے اموشنس سے کھیل رہے ہو۔۔
وہ اُس کی بھیگی شرٹ کو دونوں ہاتھوں سے جکڑ کر اُس کی بے تاثر آنکھوں میں دیکھتی اپنے دل میں بھری ساری بھڑاس ہچکیوں سمیت اُس پر نکالنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے اُسے روکا نا کوئی مداخلت کی بس سنتا رہا اور اِنتظار کرتا رہا کے اُس کے شکوے کہاں جا کر ختم ہوتے ہے
کیا چاہتے ہو معاف کر دوں تمہیں۔۔۔۔
نہیں کر سکتی معاف۔۔۔
تمہیں معاف کر دیا تو خود کو معاف نہیں کر پاؤں گی۔۔۔
اپنی ہی نظروں سے گر جاؤں گی۔۔۔۔۔۔
ایک اور بار اپنی ہی گناہ گار بن جاؤں گی۔۔۔۔
اسلئے اکیلے چھوڑ دو مجھے۔۔۔۔۔۔
جاؤ جاؤ جاؤ۔۔۔۔
وہ ایک ایک لفظ کو تلخئ سے ادا کرکے اُس کے دل کو مزید بے چین کرتی آنسوؤں میں آئی روانی کے باعث مزید کچھ بول نہ سکی تو دوبارہ اُسے ہتھیلیوں سے پیچھے دھکیلنے لگی۔۔۔
لیکِن اس دفعہ اُس کے تیسرے دھکے کو ساحل نے ناکام کرتے ہوئے اُس کی بند بند ہوتی پلکوں پر نظریں جمائے دونوں کلائیاں سختی سے جکڑی۔۔۔۔۔۔۔
پر نین کے لبوں سے جاؤ جاؤ کی رٹ نہیں رکی۔۔۔اُس کی برستی آنکھیں نہیں رکی ۔۔۔۔ اُس کی ہچکیاں نہیں رکی ۔۔۔۔ساحل کے سخت ہاتھ کی گرفت میں جکڑی کلائیوں کی اُسے دھکیلنے کی کوشش نہیں رکی۔۔۔۔
وہ اُس کے بھیگے سفید پڑتے چہرہ کو دیکھتا اُس کے تھمنے کا منتظر تھا۔۔لیکن اُس کے اندر اٹھتا تلاطم شانت ہوتا نظر نہیں آیا تو ایکدم سے اُس کی کلائیاں چھوڑ دی۔۔۔۔
دونوں ہاتھوں سے اُس کے چہرے کو تھامے ہلکا سا اوپر کیا تو بارش کی بوندیں آنکھوں میں چبھنے سے نین کی آنکھیں بند ہوئی۔۔۔
وہ اُس کی لرزتی پلکوں کو دیکھ ہلکا سا جھکا اور بے آواز حرکت کرتے گلابی لبوں کی ہر حرکت اپنے لبوں میں سمیٹ لی۔۔۔۔۔
بس اُس کے لفظ اور اُس کی ہچکیاں ہی نہیں دل میں اٹھتا ہر درد بھی ۔۔۔ہر تڑپ بھی۔۔۔۔۔ناراضگی بھی۔۔۔۔نفرت بھی۔۔۔غصّہ بھی۔۔۔شکوے بھی۔۔۔۔بدگمانی بھی۔۔۔۔اُلجھن بھی۔۔۔
ہر احساس اُس نرم گرفت میں مندمل ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔اور لبوں کی بڑھتی حرکت کے ساتھ لمس آشنائی کے سینکڑوں احساس وجود میں سرائیت کر گئے
شدتِ لمس۔۔۔
لذت لمس۔۔۔۔
حدتِ لمس۔۔۔۔
وسعتِ لمس۔۔۔۔
وحدتِ لمس۔۔۔۔
حصارِ لمس۔۔۔۔
شرارِ لمس۔۔۔۔۔
قرارِ لمس۔۔۔۔
خمارِ لمس۔۔۔۔
سحرِ لمس۔۔۔
سرورِ لمس۔۔۔۔۔
آتشِ لمس۔۔۔
تپشِ لمس۔۔۔۔
خوشبوئے لمس۔۔۔۔۔
گدازِ لمس۔۔۔۔۔۔
مزا جِ لمس۔۔۔۔
اعجا زِ لمس۔۔۔۔۔
اندازِ لمس۔۔۔۔
شبابِ لمس۔۔۔۔
سبزہ لمس۔۔۔
سکوتِ لمس۔۔۔۔
تسلیم لمس۔۔۔۔۔
تعظیمِ لمس۔۔۔
طلسمِ لمس۔۔۔
دھیرے دھیرے رگوں میں اترتا ہر احساس قوتِ سماعت کو کمزور کرتا گیا۔۔۔
بارش کی رفتار میں کمی اور لمہوں کی طوالت اضافہ ہوتا گیا ۔۔
اور طویل لمہوں کی نظر ہوتی سانسیں دھڑکنوں کے اُلجھنے کا باعث بنی۔۔۔۔
بس آنسُو تھے جو کسی صورت رکنے کو تیار نہیں تھے۔۔۔۔۔
تنگ ہوتی دھڑکنوں کے باوجود زوروں سے رواں تھے۔۔۔۔۔۔
سن ہوتے دِماغ اور بے جان ہوتے جسم کے باوجود نہ کوئی احتجاج نا حرکت نا کوشش نہ اشارہ ۔۔۔۔بس سکوت تھا۔۔۔۔۔
لیکِن جب ضبط کی انتہا ختم ہوئی اور قدم بےجان ہو کر لرزنے لگے تو اُس نے ایک ہی شولڈر پر دونوں ہاتھ رکھ کر اُسے پیچھے کرنے کی کمزور سی کوشش کی۔۔۔۔
اُس نے سانسوں کو آزاد کرکے ۔۔۔یونہی چہرہ تھامے۔۔۔۔یوں ہی بند آنکھوں سے۔۔۔ پیشانی اُس کی پیشانی سے لگاتے ہوئے اپنی سانس بحال کی تو اُس کی تیز تر تپش نین کے بھیگے سرد چہرے کو دہكانے لگی۔۔۔۔لیکن وہ چاہ کر بھی پیچھے نہیں ہو پائی۔۔۔۔۔
آہستہ سے آنکھیں کھولیں تو نظریں ساحل کے بھیگے ہونٹوں پر پڑی۔۔۔۔۔۔۔
مدھم مدھم دھڑکتا دل تیز ہونے لگا۔۔۔
ساحل نے بنا دور ہوئے آنکھیں کھول کر اُس کی جھجھکتیں۔۔۔لرزتی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔۔۔۔
اُس کی کیفیت یکسر بدل گئی کے کہاں و غصے میں اُس پر برسنے کو تیار تھی
اور کہاں تو اب اچانک خود میں ہی سمٹنے کا موقع ڈھونڈھ رہی تھی۔۔۔
کہاں پہلے آنکھوں میں غصّہ تھا۔۔۔۔
اور کہاں اب شرمگیں جھجھک۔۔۔۔
کہاں پہلے لبوں پر شکوے تھے۔۔۔
اور کہاں بس بوندوں کی شبنمی قطار۔۔
وہ وارفتہ نگاہوں سے اُس کے ایک ایک نقش کو نظروں میں بساتا پیچھے ہوا۔۔۔
تمہیں ایسے چھوڑ کر جا سکتا تو بیچ سفر سے واپس لوٹ کر نہیں آتا۔۔۔۔۔۔
وہ بہُت تھوڑا سا پیچھے ہوا با قاعدہ اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے جذبات سے بھیگے لہجے میں بولا۔۔اُس کی کچھ دیر پہلے دور کرنے کی کوشش کا جواب اب دیا۔۔۔
نین نے کوشش کی کی نظریں پھیر لے لیکن شاید کوئی طاقت اُنہیں جکڑے ہوئے تھی کے وہ ایسا کر نہیں پائی۔۔۔
جیسے تب میرا خود پر بس نہیں چلا کے میں آگے قدم بڑھا سکوں۔۔۔۔
ویسے ہی تمہیں داؤد کے ساتھ دیکھ کر۔میرا بس نہیں چلتا کے میں اپنے جزبات پر قابو رکھ سکوں۔۔۔
وہ اُسے اپنے دیے گئی درد کی صفائی پیش کرتا۔۔۔نظریں ایک لمحے کے لیے اُس سے ہٹا گیا لیکن نین اُسے دیکھتی رہی۔۔۔
کُچھ ہوتا ہے مجھے۔۔۔۔۔
I can’t breath۔۔۔۔۔۔
اُس نے پر سوز لہجے میں کہتے ہوۓ آنکھیں بند کرکے کھولیں۔۔۔۔
بارش تقریباً رک چکی تھی ۔۔
اندھیرے میں بس دور پول پر جلتی ایک لائٹ کی مدھم سی روشنی تھی اور وقفے وقفے سے گزرتی گاڑیوں کا اجالا۔۔۔۔
لیکِن و دونوں تو کب سے ارد گرد بھلائے ہوئے تھے۔۔۔
تمہارے کِسی سوال کا کوئی جواب نہیں ہے میرے پاس سوائے اس کے کے کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔
جاننا ہے کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔۔
وہ اُس کی ساکت بھیگی آنکھوں کو دیکھتا ہوا سنجیدگی سے بولا ۔۔۔۔
آگ لگ جاتی ہے دل میں جب تم کِسی اَور کے لیے ہنستی ہو۔۔۔۔۔
اُس کا لہجہ فوراً بدلا تھا۔۔۔۔اب شدّت تھی ضبط کی۔۔۔
دماغ غصے سے پھٹتا ہے جب تم کِسی اَور کو اہمیت دیتی ہو۔۔۔
تمہارا کسی کی طرح دیکھنا بھی نظر کو چبھتا ہے۔۔۔
لیکِن مجھے اپنے جذباتوں کو قابو کرنا آتا ہے۔۔۔۔اس لیے سنبھال لیتا ہوں خود کو۔۔۔
بس پتہ نہیں کیوں جب بات داؤد کی آتی ہے تو میرا ضبط ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔۔برداشت ہار جاتی ہے۔۔۔
جب وہ بولا تو نین نے اُس کے مضبوط لب و لہجے میں بے بسی جھنجھلاہٹ بھی واضح محسوس کی ۔۔۔۔
شاید اس لیے کے وہ مجھ سے بہتر ہے۔۔۔۔
شاید اس لیے کے وہ مجھ سے پہلے تمہاری زندگی میں آیا۔۔۔۔
شاید اس لیے کے وہ تمہارے لیے اوروں سے کچھ زیادہ رہا ہے۔۔۔۔
شاید اس لیے اُس کے ساتھ تمہارے جذبات جڑے تھے۔۔۔
شاید۔۔۔۔۔۔
وہ بے بسی سے اُسے اپنی اُلجھن سمجھاتا لب بھینچ گیا۔۔۔
اپنے لیے اُس کے لبوں سے ایسی باتیں سن کر نین کا دل زوروں سے دھڑکنے لگا۔۔۔
کیا کروں میں۔۔۔۔۔نہیں چلتا خود پر بس۔۔۔
جب مجھے لگتا ہے ہے مجھ سے نہیں ہوگا برداشت میرا دل پھٹ جائے گا تو کہہ دیتا ہوں کچھ بھی۔۔۔۔۔
دل کی بھڑاس نکال دیتا ہوں کسی بھی طرح۔۔۔
وہ جھنجھلائے ہوئے انداز میں سر جھٹک کر بولا تو نین نے دوبارہ اُمڑ آتے آنسوؤں کو باہر آنے سے روکا۔۔۔
کیا کروں میں ۔۔۔نہیں ہوتا ۔۔۔
کیا کروں اُس احساس کا جو کہتا ہے تمہیں کھو دیا تو جی نہیں پاؤں گا۔۔۔
ساری دنیا میں تم سا کوئی اور ڈھونڈھ نہیں پاؤں گا۔۔۔۔
کیا کروں اگر میرا دل چاہتا ہے کے تم صرف میرے لیے ہنسو۔۔۔۔۔
تمہاری ہنسی۔۔۔۔تمہارا غصّہ۔۔۔۔تمہاری باتیں۔۔۔
تمہارے الٹے سیدھے الفاظ سب صرف میرے لیے ہو۔۔۔۔۔
اُس کے پرزور لہجے میں جذبات کی شدت بھی تھی بے پناہ تڑپ بھی تھی۔۔۔شدت پسندی بھی تھی۔۔۔۔۔گزرے احساسوں کی چبھن بھی تھی۔۔۔۔
کیا کروں اگر کبھی کبھی اس ہوا سے بھی جلن ہوتی ہے کے یہ تمہیں کیوں چھوئے۔۔۔۔
کیا کروں یہ بارش بھی زہر لگتی ہے اگر تمہارے بدن پر گرے۔۔۔۔
کیا کروں اگر دل ضد کرتا ہے کے تم بس اور بس میری رہو۔۔۔۔
کیا کروں اگر تمہیں چاہنا مجھے پاگل بنا رہا ہے تو کیا کروں میں کیسے تمہیں صفائی دوں اپنے کیے کی۔۔۔۔
وہ اپنے ایک ایک جملے کر ساتھ اُس کے قریب قریب قریب ہوتا اُس کے بے حد نزدیک آگیا کے نین نے سانسیں روک لی۔۔۔لیکِن اُس کی آنکھوں میں دیکھنے سے بعض نہیں آئی کیوں کے مشکل سے ہی اُس کا یہ روپ دیکھنے کو ملا تھا جس میں ساحل کی آنکھوں میں بس اُس کا عکس تھا۔۔۔۔
اور وہ اس لمحے پلکیں بھی جھپکنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔
ہاں ہوں ان سیکیور۔۔۔۔۔ہاں ہوں چھوٹی سوچ کا انسان۔۔۔۔ہاں ہوں گھٹیا مرد۔۔۔
کیا کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس سے پیچھے ہوتا ایک ایک لفظ کو زوروں سے ادا کرتا اُس کے کہے الفاظ کو دوہرا کر قبول کرنے لگا تو نین نے بہُت نا محسوس انداز میں سر نفی میں ہلایا۔۔۔
تم بھی تو برداشت نہیں کر سکی نہ میرا کِسی لڑکی کو دیکھنا اُسے چھونا۔۔
تمہیں بھی تکلیف ہوئی نا۔۔۔
اگر تمہاری فیلنگ غلط نہیں تو میری غلط کیوں۔۔۔۔۔
تمہاری جلن اگر تمہارا حق ہے تو میری تکلیف میرا گناہ کیوں۔۔۔۔۔۔
وہ پیچھے ہو کر اُس سے شکائت کرنے لگا تو نین کوئی جواب کوئی صفائی نا سوجھنے پر نظریں جھکا گئی۔۔۔۔
اتنا جو روئے جا رہی ہو نا کل سے۔۔۔۔اندازہ ہے کہ یہ آنسو مجھ پر کیا اثر کر رہے ہیں۔۔۔۔۔تکلیف دے رہے ہیں مجھے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ تمہارے آنسو تو پھر بھی دکھائی دیتے ہیں میں اپنی تکلیف تمہیں کیسے دکھاؤں۔۔۔۔۔
اپنے آپ پر یہ گھمنڈ تھا ہمیشہ سے کے ہر درد برداشت کر سکتا ہوں۔۔۔لیکن دیکھو تمہارے آنسو برداشت نہیں ہو رہے مجھ سے۔۔۔۔۔۔
اُس کے ادھورے اظہار ۔۔۔۔۔مکمل شکایتیں ۔۔ان کہے جذبات اور خاموش حکایتوں کے بدلے نین کو بس یہی سوجھا کے وہ اُس کے قریب ہو کر اُس کے سینے سے لگ گئی۔۔۔۔۔۔
شاید وہ ابھی اور جل رہا ہوتا لیکن اچانک اُس کے دل کی جلتی آگ پر جیسے ٹھنڈا پانی پڑ گیا ہو۔۔۔اُس کے کچھ بولنے کو کھلتے لب دوبارہ بند ہو گئے اور اُس نے نین کو سختی سے خود میں بھینچ کر چہرہ اُس کے بھیگے بالوں سے لگا دیا۔۔۔۔۔
دونوں کو چھو کر گزرتے سرد ہوا کے جھونکے اپنے زور میں صدیوں کا سکون سموئے ہوئے تھے۔۔۔
کُچھ پلوں کے لیے دونوں سب کچھ بھول کر بس ایک دوسرے میں گم تھے۔۔۔
ایک دوسرے کے قریب اور ایک دوسرے کے دل کے قریب تر ہونے کے پرانے احساس کی نئی نئی آگاہی دونوں کے دلوں کو سرشاری میں ڈبوئے ہوئے تھی۔۔۔۔
اُس کے سینے سے لگے ہوئے دھڑکنوں کی رفتار محسوس کرتے کرتے جب گزرے لمحے کا خیال۔۔۔لبوں پر اُس کے دیے لمس کو تازہ کر گیا تو نین نے فوراً آنکھیں کھولیں اور پھر دھیرے سے اُس سے الگ ہو کر پیچھے ہُوئی۔۔۔۔۔۔۔۔
چند پل ایک بے معنی کیفیت کے زیرِ اثر اُس سے نظریں اٹھانا مشکل ہوا تو زمین کو گھورتی اُنگلیاں مروڑنے لگی۔۔۔
وہ اُس کے دانتوں میں بے رحمی سے کچلے جاتے لب اور بکھرے بکھرے تنفس کا اُس کے بھیگے وجود پر اثر دیکھ زبردستی نظریں اُس پر سے ہٹا گیا۔۔۔۔تاکے بہکتے ذہن پر قابو رکھ سکے۔۔۔,۔اور اپنا فون نکال کے کسی کا نمبر ملانے لگا۔ ۔۔
