Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Nain Sahil (Episode 115)
No Download Link
Rate this Novel
Nain Sahil (Episode 115)
یہ کہاں لے آئے مجھے تم۔۔۔۔
وہ گاڑی کو ایک پرانے سستے سے لاج کے آگے رکتے دیکھ نا سمجھی سے پوچھنے لگی۔۔۔اتنی سنسان جگہ بوسیدہ سا مکان تھا کہ شاید ہی وہاں کوئی آنا پسند کرے۔۔
تم یہاں زیادہ سیف رہوگی۔۔۔۔اندر جاؤ۔۔۔
وہ چند سیکنڈ رک کر سنجیدگی سے بولا تو نین نے حیرت سے اُسے دیکھا۔۔۔اُس کے اچانک بدلے ایکسپریشن سمجھنے کی کوشش کی
دِماغ خراب ہے تمہارا۔۔۔۔۔
کل ریا کا سنگیت ہے پرسوں شادی ہے مجھے اُس کے ساتھ رہنا ہے اور تم چاہتے ہو میں یہاں رہوں۔۔۔۔۔ہرگز نہیں۔۔۔۔
حیرت فوراً ہی غصے میں بدلی۔۔ رات کی خاموشی میں اُس کی نارمل اواز بھی زوروں سے اُبھری۔۔۔۔ساحل نے ضبط سے اُسے دیکھا۔
ایک تو آدھی رات کو بنا کِسی کو بتائے اٹھا لائے مجھے اور اب کہہ رہےہو کے واپس مت جاؤ۔۔۔تاکے سب مجھے غائب دیکھ کر صدمے میں آجائیں ۔۔۔۔۔۔اور وہ ریا کی رائے گڑھ والی ماسی وہ تو یوں ہی آج کل کی لڑکیوں کے نام سے خار کھاتی رہتی تھی۔۔۔۔۔۔مجھے غائب دیکھ کر سمجھے گی میں راتوں رات کسی لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی ہوں۔۔۔۔بدنام ہوجاؤں گی میں تمہارا تو کچھ بھی نہیں جائے گا۔۔۔
وہ اپنے فورم میں آکر بے ربط بولتی گئی جب کے ریا کی ماسی کے قصے پر وہ تاسف سے اُسے دیکھتا رہ گیا
پورب سب سنبھال لے گا یار۔۔۔تم اندر جاؤ نا۔۔۔۔۔
اُس کی مسلسل بڑبڑ پر وہ عاجزی سے بولا۔۔۔۔۔نین نے اُسے آنکھیں دکھائیں۔۔۔
نو وے۔۔۔۔۔میں تم سے تمیز سے پیش آرہی ہوں تو اُس کا زیادہ فائدہ مت اُٹھاؤ۔۔۔۔۔۔پیار ایک طرف لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُنگلی اٹھا کر اُسے وارن کرتے انداز میں بولے جا رہی تھی کہ پہلے تو اُس نے تمیز لفظ پر دانت بھینچے پھر غصے سے آنکھیں گھمائی اور اس کا چہرہ گالوں سے پکڑ کر گرفت میں لیا اور اُس کی طرف جھک کر لبوں کو قابو کرکے اُس کی آواز بند کی۔۔صرف تین سیکنڈ کے لیے۔۔۔۔۔
نین کے حواس جھنجھنا گئے۔۔۔
۔۔۔ ٹرسٹ می۔۔۔۔اینڈ جسٹ ڈو اٹ۔۔۔۔
سانس اور چہرہ آزاد کرکے اُس کی صدمے سے پھٹی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سکون و سنجیدگی سے بولا نین نے ماتھے پر بل ڈالے بیچارگی سے اُسے دیکھا۔۔۔۔
مگر میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نزدیک تھا اسلئے کوئی رسک نا لیتے ہوئے اپنی ڈھٹائی چھوڑ کر معصوم سی شکل بنائی۔۔۔پھر بھی ساحل نے اپنا عمل دوہرایا۔۔۔اُسے بولنے سے روکا۔۔۔۔ بہُت نرمی اور جذب سے۔۔۔۔
کہ احساسِ تپش پر نین نے آنکھیں بند کرکے کھولیں۔۔
پلیز۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بلکل دھیرے سے بولا تو وہ ہار مان کر پریشانی سے اُسے دیکھتی دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔۔۔۔۔
اُسے خفگی سے گھورا اور مرے مرے قدموں سے آگے بڑھ کر اُس گیسٹ ہاؤس کے دروازے تک پہنچی۔۔۔وہ مسکرا کر اُسے جاتے دیکھتا رہا اور پھر گاڑی سٹارٹ کرکے آگے بڑھا لی۔۔۔۔
نین کا دل تو بلکل نہیں کیا کے وہ اندر جائے ریا کا سوچ کر الگ پریشان تھی لیکن ساحل کے اتنے زور دینے پر کوئی راستہ نہیں بچا ۔۔۔اُسے اندازہ ہوا کے وہ ضرور اُسی کی بہتری کے لیے ایسا کہہ رہا ہے۔۔شاید اُسے ڈر ہو کے دشمن نین تک نا پہنچ جائے اسلئے وہ اُسے محفوظ جگہ چھوڑ رہا ہو۔۔کیوں کر اتنی معمولی جگہ پر تو کوئی دھیان نہیں دیتا۔۔۔۔
اُس نے بہُت بے دلی سے خود کو راضی کیا اور دروازہ دھکیل کر اندر گئی۔۔۔
اُس کے اندر جاتے ہی کافی دیر سے ایک ٹرک کی اونٹ میں کھڑی گاڑی کی لائٹس جلی اور وہ آگے ہو کر اسی جگہ آکر رکی جہاں ساحل کی گاڑی تھی۔۔۔۔
اور اندر موجود آدمی نے فون نکال کر کان سے لگاتے ہوئے اُس جگہ کا ایڈریس دوہرایا۔۔۔۔
♦♦♦♦♦
لمبی رات ایک جھونکے کی طرح گزر گئی تھی۔۔۔۔دل دکھی تھا اور دماغ پریشان۔۔۔۔آنکھوں کو رونے سے فرصت نہیں مل رہی تھی کے نیند نصیب ہو سکے۔۔۔۔
صبح کھلی کھلی تھی لیکن بے حد ویران جیسے زندگی کی آخری صبح ہو۔۔۔۔جیسے اُس کے دل کا درد فضاؤں میں گھل کر اُنہیں اُداس کر گیا ہے۔۔۔۔۔
وہ طلوع ہوتے سورج کی زرد روشنی کو خالی خالی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی دماغ ایسے سن تھا کے کمرے میں کِسی کی آمد کا بھی احساس نہیں ہوا۔۔۔
گڈ مارننگ پرنسیز۔۔۔۔
اُس کے کان میں مدھم میٹھی سی سرگوشی بھی کسی جلتے تیل کی مانند گونجی۔۔۔اُس نے چونک کر پیچھے دیکھا۔۔۔۔۔اور دل کا درد کچھ اور بڑھ گیا۔۔۔
دد۔۔۔۔دکش۔۔آپ آپ۔۔۔۔
وہ اُسے اس پہر اپنے گھر اپنے کمرے میں اتنے نزدیک دیکھ حیران بھی ہوئی اور بے چین بھی۔۔
آپ ایسے ایکدم سے۔۔۔
ناک بھی نہیں کیا۔۔۔۔۔
بڑی مشکل سے اپنے لہجے کو ہموار کرتے ہوئے پوچھنے لگی۔۔و مسکرایا
اب چند گھنٹوں بعد تو ہم آفیشیلی ایک دوسرے کے ہونے والےہے۔۔۔اب یہ فارمیلیٹیز کیوں کرنا۔۔۔۔ تم بہت پریٹی لگ رہی ہو ۔۔۔۔
وہ بدلے بدلے لب و لہجے میں بولتا اُس کے چہرے کو گہری نظروں سے دیکھنے لگا کے انجو کو بے حد حیرت کے ساتھ اُلجھن بھی ہوئی۔۔۔اور ایک خیال بھی آیا کے اگر پورب ہوتا تو شاید اُسے دیکھ کرجان جاتا کے وہ اندر ہی اندر کس قدر بکھری ہوئی ہے۔۔۔۔اُس کی آنکھوں کو دیکھ کر اُس کے آنسوؤں کی کہانی جان جاتا۔۔۔
آپ کو کچھ کام تھا۔۔۔۔۔۔
وہ بجھے دل اور لہجے سے نظریں پھیر کر پوچھنے لگی۔۔
تمہیں آخری بار بائے فرینڈ بن کے ملنا تھا بس۔۔۔کچھ دیر بعد تو ہم ہسبنڈ وائف ہوجائے گے ۔۔۔لائف ٹائم کے لیے ایک دوسرے کے۔۔۔
وہ شرارت سے مسکرایا لیکن انجو کے اپنی طرف دیکھنے تک مسکراہٹ مدھم کرلی شرارت چھپ کر جذباتیت میں بدل گئی۔۔۔انجو اُس کی بات پر ضبط سے اُسے دیکھنے لگی دل نے پورب کو شدت سے پکارا۔۔۔وہ دوبارہ نظریں جھکا گئی تاکہ دکش اُس کی آنکھوں میں آتے آنسُو نا دیکھ سکے۔۔۔۔
پتہ ہے میں نے ہماری ویڈنگ نائٹ کے لیے ایک بہُت اسپیشل سرپرائز پلین کیا ہے۔۔۔۔۔یہاں سے بہت دور ۔۔۔۔بس میں اورتم۔۔۔۔تیسرا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔چاروں اور ہواؤں میں رومینس ہی رومینس ہوگا۔۔۔۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا اُس کے جھکے سر کو دیکھنے لگا۔۔۔اُس کے چہرے سے بال ہٹانے کو ہاتھ بڑھایا تو انجو نے فوراً اُس کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔۔
دکش پلیز۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
اُس کا ہاتھ پکڑ کر دور کیا۔۔۔لیکن اُس کی جانب نہیں دیکھا۔۔۔۔۔۔۔ڈر بھی محسوس ہوا اور بے سکونی بھی۔۔۔۔
تمہیں ہی تو شکایت تھی نا کے میں دور رہتا ہوں۔۔۔اور اب جب میں پاس ہوں تو یہ گھبراہٹ کیوں۔۔۔
اُس نے سنجیدگی سے پوچھا تو انجو نے جھجھکتے جھجھکتے اُسے دیکھا۔۔۔
نہیں وہ میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔تھوڑی دیر ریسٹ کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔
وہ بہانا بنا کے اُس سے بچنے کی کوشش میں تھی۔۔۔تاکے وہ وہاں سے چلا جائے اور اُس کی مشکل آسان ہو۔۔۔۔۔
بہانے بنانے کی کوشش اچھی ہے لیکن رات کو میں کوئی بہانا بھی نہیں سنوں گا۔۔۔
اُس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا انجو کو پہلی دفعہ اُس کی باتوں سے ناگواری اور کراہیت کا احساس ہوا۔۔۔
سچ بتاؤں تو مجھ سے رات کا بھی انتظار نہیں ہو رہا آج۔۔۔۔۔ایسا لگتا ہے گھڑی سلو موشن میں چل رہی ہے۔۔۔۔۔جانے کب یہ وقت وہاں آکر پہنچے جہاں تم اور میں ایک دوسرے کے ہو پائیں گے۔۔۔۔
وہ کھڑکی کے شیشے پر اُس کے سر سے کچھ دور ہاتھ رکھ کر اُس کے مزید نزدیک ہوا اور اُس کے چہرے کو گہری نظروں سے تکتے ہوئے سلگتے سے انداز میں بولا۔۔۔انجو کی دھڑکنیں خوف سے لرزیں
دکش ۔۔۔۔
اُس نے کچھ ناگواری اور غصے سے اُسے دیکھا تو وہ ہنس کر پیچھے ہوا۔۔۔
ٹھیک ہے میں ابھی جا رہا ہوں تم ریسٹ کرو۔۔۔۔۔ رات تک اپنی طبیعت ٹھیک کر لو۔۔۔۔تمہارے لیے آسانی ہوگی۔۔۔۔
ہنسی روک کر معنی خیز نظروں سے اُسے دیکھتا پیچھے ہوتا ہوتا بولا اور روم سے باہر نکل گیا۔۔۔۔
انجو اُس کے جانے کے بعد بھی چند پل دروازے کو دیکھتی رہی۔۔۔۔اُس کی باتیں اُس کی نظریں سوچ سوچ کر بدن جھلسنے لگا۔۔۔
نہیں نہیں نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سختی سے مٹھیاں بھینچ کر سر ہلاتے ہوئے اُس کے خیال کو اُس کی باتوں کو ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کی۔۔۔
دل مانو انگاروں پر سلگنے لگا۔۔۔
وہ بے بسی سے روتی بیڈ پر آکر گر گئی۔۔۔۔
شدتوں سے روتی گئی۔۔۔بے بسی کے آنسُو بہاتی گئی۔۔۔
جب سہنا مشکل ہوا اور سانسیں رُکنے لگی تو اٹھ بیٹھی اور فون اٹھا کر پورب کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔۔
رات سے جو ہمت نہیں کر پائی تھی وہ دکش کی باتوں کے بعد خود میں پیدا کرلی کہ جب وہ باتیں برداشت نہیں ہو رہی تو زندگی بھر کا ساتھ کیسے ممکن ہے۔۔
ہچکیاں زوروں سے گونجی ہوئی تھی۔۔۔دل تیزی سے دھڑک رہا تھا اور فون کو تھامے ہاتھ لرز رہے تھی۔۔۔مگر قسمت بے رحم تھی کے بار بار کوشش کرنے کے باوجود پورب کا کوئی نمبر نہیں لگا نا ریا کا۔۔۔۔
وہ اپنی بد نصیبی کو روتی دوبارہ منہ تکیے میں چھپا گئی۔۔۔۔
♦♦♦♦♦♦♦
وہ اپنی پوری ہمت سمیٹ کر نیچے آئی۔۔۔ ۔۔۔اپنے مام ڈیڈ کو ناشتے کی ٹیبل پر دیکھا۔۔۔دونوں ہی پریشان سے تھے۔۔۔اچانک شادی اور خطرہ دونوں ہی سر پر بوجھ جیسے تھے۔۔۔۔۔خوش ہونے کی بجائے فکرمند تھے۔۔۔وہ انہیں اور پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن یہ آخری موقع تھا۔۔۔۔۔اُس کی زندگی کا فیصلہ اُس کے لیئے موت بنتا جا رہا تھا۔۔۔
ڈیڈ۔۔۔۔۔مجھے ۔۔۔مجھے۔۔
وہ اُن کے مسکرا کے دیکھنے پر سر جھکائے بولنے لگی لیکن زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی۔۔۔۔
دونوں نے ہی حیرت سے اُسے دیکھا۔۔۔
انجو۔۔۔۔۔کیا ہوا بیٹا۔۔۔۔۔
مسز سنگھ نے اُس کے پاس آکر اُس کے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئی پوچھا۔۔۔
مجھے شادی نہیں کرنی۔۔۔۔۔
وہ اُنہیں دیکھ کر سرسراتے لہجے میں بدحواس سی بولی۔۔۔دل زوروں سے دھڑکتا رہا۔۔۔۔اُس کی بات سن اُن کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔۔۔
سنگھ صاحب کی پیشانی پر پڑی لکیریں ایکدم سے مٹ گئیں۔۔۔
مجھے دکش سے شادی نہیں کرنی ۔۔۔۔۔
اُس نے اپنے ڈیڈ کی طرف دیکھ کر بھی اپنی بات دہرائی۔۔۔۔آنکھوں سے آنسو بھی بہتے رہے۔۔۔۔
سنگھ صاحب اپنی جگہ سے اٹھ کر اُس کے پاس آئے۔۔۔
دیکھو بیٹا میں جانتا ہوں یہ سب اس طرح اچانک ہوجانے سے آپ نروس ہے لیکن فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔اور خود آپ بھی تو یہی چاہتی ہے ,۔۔۔ آپ نے ہی تو اُسے چنا ہے۔۔۔۔پھر اتنا پریشان ہونے والی کیا بات ہے۔۔وہ بھی بس اسلئے کیوں کے شادی کچھ دِن پہلے ہورہی ہے۔۔۔
اُنہوں نے نرمی سے اُسے سمجھایا۔۔۔کچھ حیرت بھی تھی۔۔۔مسز سنگھ بھی پریشانی سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
۔۔
اب میں ایسا نہیں چاہتی ۔۔۔۔میں دکش سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔آج یا پھر کبھی بھی۔۔۔۔۔
وہ روتے روتے سر نفی میں ہلا کر بولی۔۔۔۔
یہ تم کیا کہہ رہی ہو انجو۔۔۔۔
مسز سنگھ نے گھبرا کر اُسے دیکھا اور اُس کا رخ اپنی طرف کیا سنگھ صاحب کے تاثرات بھی سخت ہوتے گئے۔۔۔۔
مجھ سے غلطی ہوگئی تھی مما۔۔۔
میں سمجھ نہیں پائی کے صحیح غلط کیا ہے۔۔۔۔لیکن اب جب بات اپنی زندگی کے سب سے اہم فیصلے کی آئی تو مجھے محسوس ہوا کہ دکش کو پانے کی خوشی سے زیادہ مجھے اُسے کھونے کا ڈر مار رہا ہے۔۔۔۔۔
وہ اُنہیں دیکھ کر بے بسی سے روتے ہوئے بولی۔۔۔۔اُنہوں نے بے یقینی سے اُس کے چہرے کو جانچا۔۔۔۔
کِس کی بات کر رہی ہو تم۔۔۔۔
اُنہوں نے اُسے جھنجھوڑا۔۔۔۔ہوش میں لانے کی کوشش کی۔۔۔
پورب۔۔۔۔۔۔
اُس نے اُن کی آنکھوں میں دیکھ کر اُس کا نام لیا۔۔۔۔۔اُنہیں حیرت نہیں ہوئی مگر خوف محسوس ہوا۔۔۔
سنگھ صاحب نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لی۔۔۔چہرہ ضبط سے سرخ ہوا۔۔۔
جو ہمیں میسر ہوتا ہے اُس کی اہمیت کبھی معلوم ہی نہیں ہوتی۔۔۔جب تک وہ ساتھ تھا اُس کی اہمیت مجھے بھی سمجھ نہیں آئی۔۔۔لیکِن جب اُس کے بنا اپنی زندگی تصور کی تو کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔سب بلکل بے رنگ تھا۔۔۔۔۔
وہ نظریں جھکائے بولی اس بات سے بے پرواہ کے کیسے اُس کے الفاظوں سے اُس کے باپ کا خون کھول رہا ہے اور کیسے اُس کی ماں کا دل خوف سے مدھم پڑ رہا ہے۔۔۔
بچپن سے آج تک چاہے کوئی شرارت ہو ۔۔۔اسکول کمپیٹیشن ہو یا کالج پلے ہو وہی میرا پارٹنر رہا ہے نہ۔۔۔۔تو اب لائف پارٹنر کوئی اور کیسے ہو سکتا ہے مما۔۔۔۔۔۔
وہ اُنہیں دیکھ کر سوال کرتی زوروں سے رو دی۔۔۔
بس۔۔۔بہُت ہو گیا۔۔۔۔۔
سنگھ صاحب نے سختی سے کہا تو اُس نے سانس روک کر اُنہیں دیکھا۔۔۔
خبردار جو اب ایک بھی شبد کہا ۔۔۔۔۔۔تمہاری شادی دکش سے ہوگی اور یہ میرا فیصلہ ہے۔۔۔۔جا کر تیار ہوجاؤ۔۔۔
اُنہوں نے بمشکل اپنا غصّہ کنٹرول کرتے ہوئے اُسے سرد انداز میں حکم سنایا تو وہ حیرت سے اُنہیں دیکھنے لگی۔۔۔۔
نہیں ڈیڈ۔۔۔میں دکش سے شادی نہیں کروں گی۔۔۔۔
وہ حیرت سے اُنہیں دیکھتی مضبوط لہجے میں بولی تو اُن کا ہاتھ اٹھ گیا اور وہ تھپڑ جو اُس وسیع ہال میں گونجا انجو کو شاک دے گیا۔۔۔جنہوں نے کبھی سخت لہجے میں بات تک نہیں کی تھی اُنہوں نے اتنی بے رحمی سے اُس کے چہرے پر نشان چھوڑے کے وہ صدمے سے اُنہیں دیکھتی رہ گئی۔۔۔
مسز سنگھ نے بھی روتے ہوئے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔۔۔
میں نے کہا کہ ایک لفظ بھی مت کہنا انجو۔۔۔۔۔تمہاری شادی ابھی ہوگی اور دکش سے ہی ہوگی۔۔۔۔۔اور اگر تم نے اُس پورب کا نام بھی لیا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔
وہ غصے سے سخت لہجے میں بولتے اپنے ڈیڈ نہیں کوئی لگے۔۔۔ انجو روتی ہوئی بھاگ کے اپنے روم کی جانب بڑھ گئی۔۔۔
یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔۔۔کیا اپنی بیٹی کے ساتھ یوں زبردستی کریں گے۔۔۔۔
مسز سنگھ نے اُنہیں سمجھانا چاہا۔۔۔حالانکہ انہیں اچھے سے معلوم تھا کوئی اثر نہیں ہوگا کیوں کے بیٹی بھلے پیاری تھی لیکِن نام اور دولت بھی کم عزیز نہیں تھے۔۔۔
اگر اس کے دماغ سے یہ فتور نہیں اترا تو مجھے زبردستی کرنی پڑےگی۔۔۔تم نے سوچا ہے کے اگر یہ سب دکش کو پتہ چلا یا یہ شادی نہیں ہوئی تو کیاہو سکتا ہے۔۔۔۔
میری ساری پاور پوزیشن۔۔۔بزنس سب داؤ پر لگا ہے۔۔۔۔اور اپنی بیٹی کی بیوقوفی کی وجہ سے میں وہ سب کھونا نہیں چاہتا۔۔۔۔
وہ غصے سے بھرے لہجے میں بولے۔۔ لہو جیسے اُبل کر بہنے کو تھا۔۔۔ساری مشکلیں جیسے ایک ساتھ سر پر آگئیں تھیں۔۔۔
تم اُسے جا کر تیار کرو اور نیچے لے آؤ۔۔۔۔اچھی طرح سے سمجھا دینا کے مجھے سخت ہونے پر مجبور نہ کرے۔۔۔۔۔
اُنہوں نے اپنی بیوی کی سننے سے پہلے ہی اپنا فیصلہ سنایا اور خود وہاں سے چلے گئے۔۔۔مسز سنگھ افسوس سے اُنہیں جاتے دیکھتی رہیں۔۔۔۔
♦♦♦♦♦♦
اُسے سب سمجھا دیا ہے۔۔۔ڈونٹ وری۔۔۔۔وہ وہاں سیف ہے۔۔۔
گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھتے ہی پورب نے اُسے بتایا تو اُس نے سر ہلایا۔۔۔
اُن کی گاڑی سنگھ صاحب کے بنگلے سے کچھ فاصلے پر رکی تھی اور گیٹ کے باہر کا منظر واضح تھا جہاں صرف گارڈ کی وردی میں آفیسرز تعینات تھے۔۔۔
تمہیں پتہ ہے نہ اب کیا کرنا ہے۔۔۔
اُس نے پورب کی جانب دیکھے بنا کہا ۔۔۔
ہاں لیکِن انجو نے منع کردیا تو۔۔۔۔
پورب نے پرسوچ انداز میں لب بھینچے۔۔۔۔
تو تمہاری قسمت ۔۔۔۔
حالانکہ ابھی ساری سچویشن تمہارے فیور میں ہے۔۔۔اب تم پر ڈیپینڈ کرتا ہے کے تم کیا کرتے ہو۔۔
اُس نے بے نیازی سے جواب دیا۔۔۔پورب انجو کو اپنی بات منوا سکتا ہے یا نہیں اس چیز سے اُسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔۔۔اُسے ہر حال میں اپنے کام سے مطلب تھا۔۔۔یہ بس پورب کے لیے اُس کا ایک فیور تھا۔۔۔کیوں کے انجو اس سب معاملے سے بلکل انجان اور الگ تھی۔۔۔۔
اُسے بس سنگھ صاحب کے گھر تک رسائی اور اُن سے نجی تعلق کا بہانا چاہیے تھا۔۔اور اُس کے لیے اُن کی عزیز بیٹی انجو واحد راستہ تھی ورنہ وہ اسے کبھی انوالو نہیں کرتا۔۔۔
حالانکہ اُسے انجو کی باتوں سے سمجھ آتا تھا کے پورب کی اہمیت اُس کے نزدیک کیا ہے لیکن وہ اُسے اپنی باتوں میں اُلجھا کر اُس کا دھیان اپنی طرف کھینچتا رہتا تھا۔۔۔۔اُس کی پسند نا پسند کو اُس کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو اہمیت دے کر اُسے متاثر کرتا رہتا تھا ۔۔۔
شروع دن سے ہی پورب کی نظریں بھی اس پر اپنے لیے نفرت واضح کرتی تھی اور بلا وجہ کی بحث تکرار بھی ہوجاتی تھی ۔۔۔ جسے وہ اگنور کردیتا لیکِن پورب کو اپنے اور انجو کے راستے میں دیوار بنتے دیکھ اور انجو کے معاملے میں اُسے حد سے زیادہ سیریس دیکھ اُسے سوچنا پڑا۔۔۔۔
اور اس سے پہلے کے پورب انجو سے اپنے جذبات کا اظہار کرکے اُس کے لیے مشکل پیدا کرتا اُس نے پورب کو سکون سے سب سمجھا کر کچھ وقت کے لیے روک دیا۔۔۔۔
حالانکہ پورب کو یہ منظور نہیں تھا کہ وہ انجو کو اس طرح دھوکا دے۔۔۔۔۔ لیکِن کوئی اور راستہ بھی نہیں تھا اُسے پتہ تھا کے اُس کی مخالفت کے باوجود وہ اپنا کام کریگا ۔۔۔۔اور اُسے روکنا ممکن نہیں۔۔۔۔
اُس نے ساحل کا ساتھ دیتے ہوئے اُس سے بس اتنی ریکویسٹ کی کے انجو کو اُس کے باپ اور بھائی کی حقیقت نا پتہ چلے۔۔۔۔۔اور خود انجو سے دور ہوگیا حالانکہ دکش اور اُس کے بیچ ہونے والی ہر بات اُسے معلوم تھی۔۔۔
اور صرف اس وجہ سے اُس نے انجو سے اچانک شادی کا سوانگ رچا ۔۔۔۔۔ورنہ اُس کا کام پورا ہو چکا تھا اور اب بس آخری وار باقی تھا۔۔۔
لیکِن اُس نے پورب کو ایک موقع دیا کے ويرانش اور اُسکے باپ کو بے پردہ کرکے گرفتار کرنے سے پہلے وہ انجو کو وہاں سے نکال سکے۔۔۔۔
اور اب پورب کی باری تھی کے وہ انجو کو راضی کرکے وہاں سے لے جائے۔۔
تمہیں جب پتہ ہے کہ ویرانش کہاں ہے تو تم اُسے اریسٹ کیوں نہیں کرلیتے۔۔۔
یقیناً وہ اب اپنے باپ سے ملنے جائے گا۔۔اور ہو سکتا ہے پھر وہ یہاں سے فرار ہونے کی کوشش کرے۔۔۔۔
پورب نے اُسے دیکھ کر نا سمجھی سے پوچھا۔۔۔۔۔
وہ یہاں اپنے باپ کے لیے نہیں ۔۔۔اپنی پوزیشن کے لیے آیا ہے۔۔۔اور اُسے بچانے کے لیے اب خود مجھ تک آئیگا۔۔۔۔۔جلدی کیا ہے۔۔۔اِنتظار کرتے ہیں۔۔۔۔۔ ٹائم پاس کے لیے تیرے سسر جی ہے نہ۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولا تو پورب نے اُسے ناگواری سے دیکھا۔۔۔
بی سیریس۔۔۔۔۔کوئی گڑ بڑ ہوگئی تو۔۔۔۔
بیزاری سے کہا کہ وہ ہر سچویشن میں بے فکر رہتا تھا۔۔۔۔۔اور سب سے حیرت والی بات تھی کے شروع دِن سے وہ اکیلا تھا۔۔۔۔ کوئی آفیسر اُس کے ساتھ اس مشن میں شامل نہیں تھا۔۔
اور یہ حقیقت تھی اس مشن کی خبر نہ اُس کے سینئر کو تھی نا ڈیپارٹمنٹ کو۔۔۔۔ بس ایک دن پہلے ہی آفیشلی انفورم کیا گیا تھا اور اب کچھ قابل اعتماد لوگ اُس کے ساتھ جڑے تھے۔۔۔
تُو لوڈ مت لے اپنی پریم کہانی پر فوکس کر۔۔۔۔ایک گھنٹہ ہے تیرے پاس۔۔۔۔
اُس نے لاپرواہی سے ٹالتے ہوئے اُسے جتایا تو وہ اُسے گھور کر باہر نکل گیا اور بنگلے کی پچھلی اور بڑھا۔۔۔
♦♦♦♦♦
