Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 53

Episode 53
پاپا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوشی ذارب کو اندر آتے دیکھ لپک کر اُس کی طرف بڑھی۔۔۔وہ اُسے دیکھ کر ہنستا ہوا نیچے جھکا تو اُس کے گلے میں جھول گئی
سب ساتھ بیٹھے تھے جیا کے اپنے نانی کے گھر جانے کا موضوع چل رہا تھا اور نین سب سے بے نیاز ساکت سے خوشی اور زار ب کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
وہ خوش کن منظر نین کے لیے کتنا تکلیف دہ تھا صرف نین جانتی تھی۔۔۔
پاپا مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے۔۔۔۔۔مجھے نا ایک بھائی چاہئے
وہ صوفے پر دو زانو بیٹھتی کمال صاحب کا بازو تھام کر پر جوش سی بولی۔
جس پر کمال سے ہنستے ہوئے زینب کو دیکھا جو صدمے میں تھی
استغفراللہ یہ لڑکی۔۔۔۔۔۔۔نین تم نے مار کھانی ہے آج مجھ سے
زینب سرخ ہوتیں غصے سے گھورنے لگی
اففو ممی۔۔۔۔۔۔شرمانے سے پہلے میری پوری بات تو سن لو۔۔
نین نے عاجزی سے کہا کمال صاحب نے منہ پر مُٹھی رکھے ہنسی چھپائی
پاپا وہ آشرم والا جو چیکو ہے نا آپ اُس کو اڈوپٹ کرلو نا
پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے اُس کو بھائی بنانا ہے۔۔۔۔۔
وہ لاڈ ڈالتے ہوئے بولی اُن کا بازو زور سے ہلاتے ہوئے
اچھا اچھا۔۔۔۔لیکن یہ تو بتاؤ اچانک سے میری بیٹی کو بھائی کی ضرورت کیوں پڑ گئی۔۔۔۔۔
کمال صاحب نے مسکراتے ہوئے پوچھا
پاپا میرا نا بہت اندر والا دل کر رہا ہے کے میرا بھائی ہو۔۔۔میں اُس سے اپنے سارے کام کراؤ ں۔۔
اُس پر رعب جماؤ۔۔۔
اور وہ مجھے کچھ بولے تو
اُس کے بال کھینچ کھینچ کر لڑائی کروں۔۔۔
اور اور اور۔۔ آپ سوچو نا میری اور رومی کی تو شادی ہو جائے گی ہم دونوں اپنے سسرال چلے جائیں گے۔۔۔۔
آپ اور ممی تو اکیلے ہو جاؤ گے نا پاپا۔۔۔۔۔
تو کتنا اچھا ہے نہ اگر آپ کے پاس کوئی ہو آپ کا خیال رکھنے کے لیے۔۔۔آپ اور ممی پھر سے پیرینٹس بن جائے گے۔۔۔
وہ کیوٹ کیوٹ سے فیس بنا کر کہتی اتنی پیاری لگی کے کمال صاحب نے اُسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے اُس کی پیشانی چوم لی
سنا آپ نے آپ کی بیٹی کی خواہشیں۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے زینب کو دیکھ کر بولے
نین میڈم۔۔۔ یہ ہمارے پرنٹس بننے کے نہیں نانا نانی بننے کے دِن ہے۔۔۔
زینب نے ہنستے ہوئے کہا
ممی پلیز۔۔۔۔۔۔
وہ خفگی سے اُنہیں دیکھتی کمال صاحب کے کندھے میں منہ چھپا گئی
دیکھا اپنی باری کیسے منہ چھپا یا جا رہا ہے
زینب نے دل ہی دل میں اُس کی نظر اتارتے ہوئے کہا
پاپا۔۔۔۔۔
اُس نے اپنے پاپا کو دیکھ کر بھولی بیچاری شکل بنا کر ماں کی شکائت کی
زینب۔۔۔۔بہُت غلط بات ہے۔۔۔۔۔
ہم ابھی اتنے بھی بوڑھے نہیں ہوئے ہے کے ہمارے پرنٹس بننے کے دن نہیں بچے۔۔۔۔
کمال صاحب نے شرارت سے کہا زینب شرم سے دوہری ہُوئی اور نین نے کھلکھلا کر ہنستے ہوئے اپنی ما ں کو دیکھا
بلکل آپ پر گئی ہے یہ۔۔۔ ۔۔۔۔۔
وہ غصے سے دونوں باپ بیٹی کو گھور کر بڑبڑا ئی
اسی لیے تو یہ میری آنکھ کا تارا ہے۔۔۔۔میرا نین تارا
کمال صاحب نے اُس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے محبت اور فخر سے کہا۔۔۔
نین کیا سوچ رہی ہو۔۔۔۔
عشرت نے اُس کا شولڈر ہلایا تو وہ بری طرح چونکی۔۔۔
ماضی سے نکلی تو کانوں میں اطراف کا شور سنائی دینے لگا۔۔۔
اُس نے سانس سینے میں ہی روکے ڈھیروں آنسُو آنکھوں میں آنے سے روکے
اور سر نفی میں ہلایا
چند پل کے لیے سانس لینا تک مشکل ہو گیا۔۔۔
لیکن اُس نے ظاہر نہیں ہونے دیا
خوشبو بتا رہی ہے کہ آج فلک نے کھانے میں کچھ خاص بنایا ہے
آسیہ بیگم نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔۔گھر میں مسالو کی بہت زوردار خوشبو بکھری ہوئی تھی
جی چاچی۔۔۔۔۔آج ملائی پنیر بنایا ہے۔۔۔دادی ماں کو بہت پسند ہے نہ۔۔۔۔
فلک نے مسکرا کر سر جھکائے جواب دیا۔۔۔۔دادی اُس کی بات پر مسکرائی پیار سے اُس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اُسے اپنے پاس بٹھایا
اُنہیں اُس کے بدلے ہوئے روپ پر بے حد پیار آیا
جب کے نین یہ سب دیکھ کر بری طرح سلگ اٹھی ۔۔۔
وہ اندر ہی اندر جل رہی تھی اور فلک جس کی وجہ سے سب ہوا تھا کتنی نارمل کتنی خوش تھی۔۔۔۔۔
اپنی نانو کے پاس فلک اُسے سخت بری لگ رہی تھی
اُسے اپنی نانو پر حیرت بھی ہوئی کے کیسے اُنہوں نے اُس کی خوشیوں کی دشمن کو اپنا بنا لیا تھا
وہ خفگی و غصے سے اُنہیں دیکھتی وہاں سے اٹھ کر سیدھے کچن میں گئی۔۔۔۔
اگر وہ میرے ساتھ برا کر سکتی ہے تو میں کیوں نہیں کر سکتی۔۔
اُس کا دل کیا فلک کا بنایا سب کھانا پھینک دے لیکِن اس سے وہ نانو کی اور سب کی نظر میں بری تھوڑی ہوتی اس لیے اُس نے سلیپ پر پڑا مرچی پاؤڈر کا ڈبہ اٹھا کر ڈھیر ساری مرچی دونوں سبزی کے برتنوں میں انڈیل دی۔۔۔۔۔
تاکہ جو لوگ فلک کے کھانے کی تعریف کر رہے ہیں اُس پر غصّہ کرے۔۔۔۔۔۔
ایسا کرتے ہوئے اُس کے ہاتھ بری طرح کانپ رہے تھے لیکن فلک سے بدلے کا جنون جو سوار تھا
اُس کے غصے اور جلن نے اسے ایسا قدم اُٹھانے پر مجبور کیا۔جو وہ کبھی نہیں کر سکتی تھی
شرارت میں تو اُس نے بہُت اُلٹے سیدھے کام کیے تھے پر پہلی دفعہ اُس نے کسی کا برا کیا تھا۔۔۔ یہ سوچ کر کے اُسے سکون ملے گا لیکن الٹا اثر ہوا۔۔۔وہ مزید بے چین ہو گئی۔۔۔
اسے اندر ہی اندر کوئی خوف بے سکون کرنے لگا۔۔۔۔
وہ روم میں آکر بے حد مضطرب سی ادھر اُدھر چکر کاٹنے لگی۔۔۔۔
اُنگلیاں مروڑنے لگی۔۔۔
دل بری طرح گھبرایا ہوا تھا
جیسے کوئی چوری پکڑے جانے کا ڈر ہو۔۔۔
چندا اُسے کھانے پر بلانے آئی تو اُس نے انکار کر دیا۔۔۔اُسے سب کے سامنے جانے سے بھی ڈر لگ رہا تھا۔۔۔۔۔
وہ صوفے پر ایک کونے میں پوری سمٹ کے بیٹھ گئی تھی۔۔۔جب دروازہ کھلا تو ہڑبڑا کر سیدھی ہوئی۔۔۔اپنی جگہ سے ہی اٹھ گئی۔۔دل بری طرح اچھل پڑا تھا
ساحل نے اندر آتے ہوئے حیرت سے اُسے دیکھا۔۔۔
اُس کے چہرے پر بے حد خوف و وحشتِ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
بڑی بڑی آنکھوں میں شدید بےچینی تھی
وہ غور سے اُسے دیکھتا اُس کی طرف بڑھا۔۔۔
کیاکرکے آئی ہے تو۔۔۔۔
اُس کی پسینے سے نم پیشانی کو دیکھتے ہوئے پوچھا
میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔۔۔۔۔
اُس نے حلق تر کرتے ہوئے ہڑبڑا کر جواب دیا۔۔۔۔سر تیزی سے نفی میں ہلا۔۔۔
پسینے کی بوند کان کے قریب سے نکل کر گردن پر پھسلنے لگی
وہ کل رات کا گیا اب واپس لوٹا تھا اور نین اُسے ایک خطرناک لیکچر سنانے کے ارادے میں تھی لیکن فلهال تو اُس میں کھڑے ہونے کی بھی سکت نہیں رہی تھی
تجھ جیسی بنداس لڑکی بنا وجہ کے تو پسینہ نہیں ہو رہی ہوگی۔۔۔
اُس نے سنجیدگی سے اُسے جانچتے ہوئے کہا۔۔۔نین لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے زمین پر کچھ ڈھونڈھنے لگی۔۔۔
ساحل نے ہاتھ سے اُس کا چہرہ اوپر کیا۔۔
تو ہمیشہ جو اتنی مست رہتی ہے نہ صرف اس لیے کیوں کے تو کبھی کُچھ غلط نہیں کرتی۔۔۔۔
کبھی کوئی الٹا سیدھا کام بھی کرتی ہے تو تیرے دل کو پتہ ہوتا ہے کے وہ غلط نہیں ہے۔۔۔
لیکن ابھی تو جو بھی کرکے آئی نا۔۔اُسے تیرا دل غلط کہہ رہا ہے۔۔اور اسی لیے تجھے شانت نہیں رہنے دے رہا۔۔۔۔۔
وہ اُس کا چہرہ اوپر کیے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا
نین اُس کے تجزیے پر حیران رہ گئی۔۔۔ضبط کا ایک آنسو ٹوٹ کر پلکوں کو بھوگوتا نیچے گرا
شکل دیکھ اپنی۔۔۔۔۔ایسی سفید ہو گئی ہے جیسے کسی نے خون چوس لیا ہو۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی تھوڑی کے نیچے سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا نین نے کچھ کہنا چاہا پر اُس نے روک دیا
میرے کو صفائی مت دے۔۔۔۔تو کچھ بھی کرے اپن کا کچھ نہیں جانے والا لیکن ایک بات یاد رکھ
کِسی اَور کا کام بگاڑنے کے چکر میں اپنا نقصان کرنا گھاٹے کا سودا ہے۔۔۔
دو ٹکے کی پریشانی دینے کے لالچ میں اپنی سب سے قیمتی چیز۔۔۔۔ سکون مت کھو دینا
وہ اُسے سمجھانے والے انداز میں کہہ کر اُس سے نظریں ہٹا تا ڈریسنگ روم کی طرف بڑھا
وہ چند پل ساکت کھڑی رہی اور پھر اُنگلیوں سے آنسُو سمیٹ کر روم سے باہر نکلی
نیچے آئی تو سب ڈائننگ ٹیبل پر کھانے کے لئے بیٹھے ہوئے تھے
فلک اپنے ہاتھوں سے دادی کی پلیٹ میں سبزی پروس رہی تھی کے نین نے فوراً آگے بڑھ کر اُس کا ہاتھ روک دیا
نانو۔۔۔۔یہ کھانا مت کھائیے۔
اُس نے سر جھکائے کہا۔۔۔سب حیرت سے اُسے دیکھنے لگے نانو نے بھی نا سمجھی سے اُسے دیکھا۔۔داؤد لب بھینچ کر اُسے دیکھنے لگا۔۔۔
۔۔۔اس میں بہت مرچی ہے
سب کی سوالیہ نظریں دیکھ اُس نے وجہ بتائی۔۔۔
لیکن یہ تو فلک نے بنایا ہے اور وہ تو بہت اچھا کھانا بناتی ہے۔۔۔۔۔
شیرین نے حیرت سے کہا۔۔۔فلک نے بھی پریشان ہو کر اُسے دیکھا
مرچی میں نے ملائی ہے بھابھی۔۔۔
تاکہ آپ سب جو اس کی اتنی تعریف کرتے ہیں غصّہ کرنے لگ جائے
اُس نے بنا ہچکچائے اپنا گناہ قبول کیا سب دنگ رہ گئے۔۔۔
حیرت سے اسے دیکھتے رہے۔۔۔
نانو حیرت کے ساتھ دکھ میں تھی ۔۔
اُنہیں اُسے سمجھانے کا کوئی حل نہیں سوجھ رہا تھا
عباس صاحب کو اچھا لگا کے غصے میں غلط قدم اٹھانے کے باوجود اُس کی اچھائی نے اُسے چُپ رہنے نہیں دیا
صرف رابعہ بیگم کو اُس کے اس عمل سے کافی خوشی ہُوئی کے وہ فلک سے اتنی نفرت کرتی ہے مطلب داؤد اب تک اُس کے دل سے نہیں نکلا
تو پھر اب بتا کیوں دیا نین۔۔۔۔۔
داؤد نے سنجیدگی سے پوچھا
کیوں کہ اسے نیچا دکھانے کے لیے میں خود نہیں گر سکتی۔۔۔۔
وہ اُس کی طرف دیکھتے ہوئے جتا کر بولی۔۔
باہر سے وہ جتنی پرسکون نظر آرہی تھی اندر اتنا ہی طوفان سنبھالے تھی۔۔۔
پیشانی پر ایک شکن نہیں تھی لیکن دل میں تلاطم برپا ہوا تھا
چندا کھانا باہر پھینک دو۔۔۔۔۔۔۔
وہ چندا کو آرڈر دیتی وہاں سے جانے لگی۔۔۔۔
میں اسے ٹھیک کر دیتی ہوں دادی ماں۔۔۔۔
فلک نے جلدی سے کہتے ہوئے باؤل اٹھا کر چندا کو دیا


وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے سیدھے روم میں آئی
آنسو ضبط کرنا اب ناممکن سا تھا
دروازہ بند کرکے اُس سے لگ کر زمین پر بیٹھتی گئی اور دونوں بازو پیروں کے گرد لپیٹ کر پیشانی گھٹنوں پر رکھے زوروں سے رونے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل بیڈ پر سکون سے لیٹا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔بنا حیران ہوئے سنجیدگی سے اُسے دیکھنے لگا۔۔۔
گھبراہٹ اب آنسوؤں میں بدل گئی تھی۔۔۔۔۔
خوف اور بے چینی سسکیاں بن گئے تھے۔۔۔
وہ موم کی طرح پگھل گئی تھی۔۔
ساحل تب تک اُسے دیکھتا رہا جب تک اُس سے دیکھا گیا۔۔۔
جب اُس کی سسکیاں برداشت کے باہر ہونے لگی تو اٹھ کر اُس کی طرف بڑھا۔۔۔
گھٹنا فرش پر ٹکائے بلکل اُس کے سامنے بیٹھ گیا۔۔۔
نین نے اُس کی موجودگی کو محسوس کرکے سر اٹھا کر سرخ بھیگی آنکھوں سے اُسے دیکھا۔۔۔
ساحل نے ہاتھ اُس کے چہرے کے طرف بڑھایا
لیکِن نین نے اُسے خفگی سے دیکھتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں سے اُس کے ہاتھ کو جھٹک کر اُسے خود کو چھونے سے روکا
اُس نے دوبارہ کوشش کی۔۔۔
تب بھی اُس نے اسی طرح ہاتھ جھٹک کر پرے کیا تو ساحل نے ایکدم سے اُس کی دونوں کلائیاں پکڑ لی۔۔۔۔۔۔
اور اُس کی مزاحمت کو مات دیتے ہوئے کھینچ کر اُسے اپنے سینے سے لگایا۔۔۔
وہ چند سیکنڈ جھٹپٹاتی رہی اور پھر ہار کر اُس کی پناہ میں بکھرتے ہوئے بے آواز روتی ہچکیاں لینے لگی
سب کو۔۔۔۔ وہ اچھی لگتی ہے
سب اُسے پسند کرتے ہیں۔۔۔۔
میں کسی کو پسند نہیں ہوں ۔۔۔۔۔۔
وہ روتے روتے ہچکیاں لیتی شکائت بھرے انداز میں اُسے سنا رہی تھی۔۔۔
ساحل گہری سانس لے کر ایک ہاتھ سے اُس کے بازو کو سہلانے لگا۔۔۔
بے حد مصومیت تھی اُس میں جو آج ختم ہو جاتی اگر وہ اپنی غلطی نا سدھار لیتی
وہ اچھا کھانا بنانا جانتی ہے تو کیا وہ مجھ سے بیٹر ہو گئی۔۔۔۔۔
سب کو چھین لیا اُس نے
اب وہ میری نانو کو بھی چھین لے گی مجھ سے۔۔۔۔۔
وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی اپنا خدشہ ظاہر کرنے لگی
اُس کے بچکانہ خوف و خیال پر ساحل نے نچلا لب دانتوں میں دبا کر مسکراہٹ روکی
کیوں کے وہ ہنسی اس کی نظر میں آجاتی تو وہ ساحل کو قتل بھی کر سکتی تھی
ماما کے بیٹے۔۔۔۔۔
سسکی روک کر پیچھے ہوتے ہوئے اُسے پکارا وہ فوراً سنجیدہ ہوا۔۔۔
کیا تمہیں بھی وہ مجھ سے زیادہ اچھی لگتی ہے۔۔۔
وہ اُس کی کھلی شرٹ کو تھام کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
ساحل نے بغور اُس کے بھیگے چہرے۔۔۔نم آنکھیں اور گلابی لبوں کو دیکھا۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔تجھ سے زیادہ مجھے کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔۔پوری دنیا میں بھی نہیں۔۔
وہ بے خود سا اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بے ساختہ دل کی بات لبوں سے ادا کر گیا۔۔
سچ کہہ رہے ہو ۔۔۔
نین نے اُس کے دھیمے بھاری لہجے میں دیے جواب پر گلا تر کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا
اُس کا سوال اتنا سنجیدہ نہیں تھا جتنی سنجیدگی سے ساحل نے جواب دیا تھا۔۔
تبھی اُس کا دل زوروں سے دھڑکنے لگا۔۔۔۔
ساحل نے اُس کے چہرے پر آتے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے اُن میں اُنگلیاں پھنسا کر ہاتھ پیچھے اُس کے سر پر رکھا
تیرے سر کی قسم۔۔۔۔
نہایت دھیمے لہجے میں کہتے ہوۓ اُسے یقین دلایا۔۔۔
وہ اُس کی گہری نظروں اور بہکے بے خود لہجے پر کنفیوز سی ہو کر نظریں جھکائے اُس سے ذرا سی دور ہوئی۔۔۔دوبارہ دروازے سے لگ کر بیٹھ گئی۔۔۔
ساحل بھی اُس کی نقل کرتے ہوئے اُس کے قریب بیٹھ گیا دیوار سے لگ کر۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔پاپا کو میری بلکل یاد نہیں آتی ہوں گی کیا۔۔۔وہ مجھ سے بات تک نہیں کرتے۔۔۔۔
اُس نے بھیگے اُداس لہجے میں کہا
تو تو بات کرلے۔۔۔۔
ساحل نے آسان سا حل بتایا
میں نہیں کروں گی۔۔۔۔جب اُنہیں میری ناراضگی سے فرق نہیں پڑتا تو میں کیوں مانو۔۔۔کیوں بات کروں۔۔۔۔ نہیں کروں گی میں
وہ ضدی انداز میں سر ہلاتے ہوئے خفا خفا لہجے میں بولی
ممی پاپا۔۔۔رومی سب اتنے دور ہو گئے مجھ سے۔۔
کبھی کبھی لگتا ہے جیسے میں بلکل اکیلی ہوں۔۔۔۔۔کوئی نہیں ہے میرے پاس۔۔۔۔۔
وہ سر جھکائے آنسُو روکتے ہوئے بولی
ساحل نے ہاتھ بڑھا کر اُس کے چہرے پر رکھتے ہوئے اُسے اپنی طرف کیا
میں نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔
اُس کی طرف جھک کر اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دھیمے گمبھیر لہجے میں سوال کیا۔۔۔
نین ہونکوں کی طرح اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
وہ اُس کے ایکدم قریب آگیا تھا۔۔وہ اُس کی آنکھوں میں اپنا عکس بہُت صاف طور پر دیکھ سکتی تھی
ٹیرس کے کھلے دروازے سے آتی ہوا کے زور سے اُس کی پیشانی پر بکھرے بال حرکت کر رہے تھے۔۔۔۔
آنکھیں تپش دے رہی تھی۔۔۔۔
لہجہ پر سوز تھا۔۔۔
وہ بہُت بدلا ہوا سا لگ رہا
اور اُس کا بدلہ ہُوا انداز جتنا دلکش تھا اتنا ہی خوفناک بھی تھا۔۔۔کم سے کم نین کے لیے۔۔۔
تم بھی تو پیچھا چھڑا نا چاہتے ہو نا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ چہرے سے ہٹا کر سامنے دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔اب وہ اپنے سارے دکھ بھول کر ساحل کے بدلے رویے میں اُلجھ گئی تھی۔۔۔۔۔۔
سارا دھیان صرف اُس کی باتوں پر تھا۔۔جنہیں سوچ کر بھی دل گھبرا رہا تھا
۔۔۔ تیرا دل چاہ رہا ہے تو نہیں چھڑاتا۔۔۔۔۔
وہ مدھم سا مسکرا کر بولا نین نے جیسے سنا ہی نہیں۔۔۔۔انجان بن کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگی
اور وہ بس اُسے ہی دیکھتا رہ گیا
اُس کی گہری نظریں نین کو خود پر ہی محسوس ہو رہی تھی اور وہ اتنی پریشان تھی کے اپنے اندر اُسے گھورنے کی یا کچھ کہنے کی ہمت بھی نہیں جٹا پا رہی تھی
ایسا لگ رہا تھا جیسے ساری بہادری پر ساحل قبضہ کرکے بیٹھ گیا ہو۔۔۔
بہت رات ہو رہی ہے چل سو جا تے۔۔۔۔
ساحل نے اُس کی مشکل آسان کرنے کی غرض سے کہا پر پتہ نہیں کیا سوچ کر وہ خوفزدہ ہوئی
میں نہیں سوئوں گی۔۔۔۔۔۔
جلدی سے سر ہلاتی منع۔کر گئی
تو کیا جاگرن کروائے گی مجھ سے بھی۔۔۔۔چل نہ۔۔۔
وہ حیرت و عاجزی سے بولا۔۔۔
تم کو کس نے روکا ہے۔۔۔۔جا کر سو جاؤ۔۔۔۔
وہ پیشانی پر بل ڈالے حیرت زدہ سی بولی۔۔
تیرے بنا دل نہیں کر رہا جانے کو ۔۔۔۔۔
وہ نین کی گھبراہٹ انجوے کرتے ہوئے شرارت سے مسکرا کر بولا۔۔
د د دماغ۔۔۔۔۔دماغ صحیح ہے تمہارا۔۔۔۔
وہ اُس کے بدلے تیور دیکھ کر صدمے سے بڑبڑا تی ہاتھ زمین پر رکھے تھوڑا دور کھسکی۔۔۔
دماغ صحیح ہے۔۔۔۔۔
دل صحیح نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
اور ارادے تو۔۔ بلکل بھی نہیں۔۔۔۔
وہ اس کی طرف چہرہ جھکا کے اُسے شوخ نظروں سے دیکھتے ہوئے بے باکی سے بولا اور اپنی بات کے اختتام پر اُس کے لرزتے گلابی لبوں کو دیکھ کر انگھوٹے سے اپنے گلے کو چھوتے ہوئے نین کو مزید گھبرانے پر مجبور کر گیا۔۔۔۔
ککک۔کیا کہا۔۔۔۔۔
نین نے پلکیں جھپک کر آنکھیں مزید پھاڑے اُسے دیکھا ۔۔۔تاکہ وہ اپنے الفاظ کی درستگی کر لے لیکِن آگے بھی ڈھیٹ تھا
ناٹک مت کر سن لیا تو نے۔۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے اُس کی آنکھوں میں جھانک کر جتاتے ہوئے بولا
دیکھو ماما کے بیٹے۔۔۔۔مجھے سب کچھ برداشت ہے لیکن ٹھرکی پن بلکل برداشت نہیں ۔۔۔
نین نے تھوک نگل کر ساری ہمت جمع کرتے ہوئے اُسے دھمکی دی لیکِن صدمے کے مارے آواز میں بھی لرزش تھی
سب کچھ کر لوں پھر۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی دھمکی سے جواب اخذ کرکے وہ بےشرمی و بے باکی سے بولا۔۔لبوں پر بڑی دلکش مسکراہٹ تھی۔۔۔۔۔
ڈمپل ہلکا سا واضح تھا
نین کو تو اُس کی بات سن کر جیسے سانپ سونگھ گیا۔۔۔۔۔منہ کھولے اُسے دیکھتی رہ گئی
اُس شیرنی کی بھیگی بلی جیسی حالت دیکھ وہ ایک دم سے ہنس پڑا
کھسكيلی۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے سر پر چپت لگا کر اُسے چڑاتے ہوئے ہنستا گیا۔۔۔
اُسے ہنستے دیکھ نین نے ناگواری سے گھورا
وہ ہنستے ہنستے سر پیچھے دیوار سے ٹکا گیا۔۔۔۔اور آنکھیں بند کرکے گہری سانس لینے لگا۔۔۔
نین نے سکون کی سانس لی اور اُسے خفگی سے گھور کے وہاں سے اٹھ گئی۔۔۔۔اس سے پہلے کے وہ کوئی اور شرارت کرکے اُسے مزید شاک دے
وہ بیڈ پر۔اپنی جگہ سے کشن ہٹا کر لیٹنے ہی لگی تھی کہ۔۔۔۔۔۔
کوئی صبح۔۔۔۔۔۔
جہاں رات سے نہ ملے۔۔۔۔۔۔
ساحل کی میٹھی دِل فریب آواز پر وہ ٹہر کر اُسے دیکھنے لگی۔۔
اُڑ کے وہاں ۔۔۔۔۔۔
چلو آؤ تم ہم چلیں۔۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں موندے دھیمی آواز میں گنگنا رہا تھا۔۔اور نین کو سب کچھ ٹھہرا ہوا سا لگ رہا تھا۔۔۔۔
کوئی صبح جہاں رات سے نہ ملے
اُڑ کے وہاں۔ چلو آؤ تم ہم چلیں
اُس نے آنکھیں کھول کر نین کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی اور اُس کی طرف اشارہ کیا
پنکھ لایا ہوں میں
اُڑ چلو و و و۔۔۔۔
اُس نے ٹیرس کی طرف آسما ن کی جانب اشارہ کیا تو نین اُس کی اُنگلی کے اشارے پر آسمان کو دیکھنے لگی۔۔
وہ اٹھ کر اُس کی طرف بڑھا وہ آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی اُس کے سامنے چٹکی بجا کر اُسے جگایا اُس نے پلکیں جھپکیں۔۔۔
چل وہاں جاتے ہیں۔۔۔
چل وہاں جاتے ہیں۔۔۔
پیار کرنے چلو۔۔۔۔۔۔
ہم وہاں جاتے ہیں
وہ اُس کی طرف مسکراتی نظروں سے دیکھتا گنگنانے لگا
اُس کی آواز میں اتنا سرور تھا کے نین مسمرائز سی ہو کر اُسے دیکھتی رہی۔۔۔
وہ خاموش ہوا تو چونک کر حال میں لوٹی۔۔۔
اُس سے نظریں ہٹا کر سنبھلتی اپنی جگہ لیٹ گئی۔۔۔۔
ساحل کی نظریں اُسے عجیب احساس سے دوچار کر رہیں تھی۔۔۔۔۔۔
سینے سے تم ۔۔۔۔۔
میرے آکے لگ جاؤ نا۔۔۔۔۔۔۔
وہ بھی آکر اپنی جگہ لیٹ گیا
اُس کی جانب کروٹ کیے اُسے بے حد سنجیدگی سے اُس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔۔۔
ڈرتی ہو کیوں۔۔۔۔۔
ذرا پاس تو آؤ نا
دھن میری دھڑکنوں کی سنو۔۔۔۔
نین نے اُس سے نظریں چراتے ہوۓ کروٹ بدل لی تو وہ خاموش ہو کر آنکھیں موندے سونے کی کوشش کرنے لگا
∆∆∆∆∆∆∆∆