Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 64

Episode 64
رات کو جتنی دوری تھی صبح دونوں ایک دوسرے کے اتنے ہی نزدیک تھے۔
بے حد قریب ہو کر ایک دوسرے سے لگ کر سوئے ہوئے تھے
سردی کی شدت سے کب فاصلے کی دیوار ٹوٹی اور کب دوری ختم ہوئی دونوں کو ہی اندازہ نہیں ہواتھا ۔۔۔۔
نین دنیا سے بے خبر پوری اُس کے سینے سے لگ کر سوئی ہوئی تھی رخ مخالف جانب تھا۔۔سر اُس کے بازو پر تھا
ساحل کا ہاتھ اُس کے سر کے نیچے سے ہو کر آگے سے اُس کے گلے پر تھا
اور دوسرا ہاتھ اُس کے پیٹ پر رکھے اُسے خود سے لگایا ہوا تھا
چہرہ اُس کے بالوں کو چھو رہا تھا
پیر پر پير رکھا ہوا تھا غرض وہ سر تا پیر ایک ہو کے بھی بے خبر تھے
چھت کی چھوٹی چھوٹی گیپس سے روشنی کی لکیریں گھر میں جگہ جگہ سپاٹ لائٹ کا کام کر رہی تھی اور ایسی ہی ایک سپورٹ لائٹ ساحل کی آنکھ کو نشانہ بنائے ہوئے تھی۔۔
اُس کی سکون بھری نیند کو توڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
وہ اُس روشنی سے ہوتی اُلجھن کی وجہ سے آنکھیں مزید میچ کر اُس سے بچنے کے کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔۔
ذہن مکمل مدھوش تھا۔۔۔ اُنگلیوں پر محسوس ہوتی نرمی بیدار نہیں ہونے دے رہی تھی۔۔۔۔بلکہ نیند کے خمار میں نشہ سا گھل رہا تھا
اپنے ہاتھ کی راہ میں رکاوٹ بنتی شرٹ کو راستے سے ہٹانے کی کوشش میں وہ پیٹ سے اوپر کر چکا تھا۔۔۔۔۔
لب اُس کے بالوں کو چھوتے ہوئے گردن تک جا رہے تھے
گرفت میں سختی بڑھ رہی تھی۔۔۔۔۔
ہاتھ دھیرے دھیرے حرکت کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔
پیر اُس کے پیر پر رب ہو رہا تھا
وہ آدھی رات کے بعد مشکلوں سے سوئی تھی اسلئے بلکل بھی کچھ محسوس نہیں کر پا رہی تھی ورنہ اتنے سب میں تو یقیناً بے ہوش ہو چکی ہوتی۔۔۔۔
بے خبری کی یہ قربت بڑھتی رہتی اگر ساحل کا ذہن آنکھ میں گھستی اُس روشنی کی وجہ سے دھیرے دھیرے جاگ نہیں رہا ہوتا۔۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں زبردستی کھولنے پر مجبور ہوا۔۔۔چند سیکنڈ لگے ذہن کو بیدار ہو کر حواس میں لوٹنے کے لیے۔۔۔
اُس روشنی کے راستے سے خود پیچھے ہوا تو وہ نین کے بالوں میں چمکنے لگی
تب اُس کا دھیان اپنے حصار میں موجود نین کی جانب گیا۔۔
اُس نے بھاری ہوتی آنکھیں بند کرکے کھولیں
نین کو خود کے اتنے قریب پا کر اُس کا دل رفتار سے دھڑکا۔۔۔۔
وہ سر اٹھاکر بے خود سا اُس کے چہرے کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔
گالوں پر۔بچھی گھنی پلکیں۔۔۔گلابی نرم و نازک لب اور ملائم گالوں کو چھوتے ریشمی بال۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے لیے یہ صبح بھی خواب سی تھی۔۔۔اور یہ پل بھی بس ایک خوبصورت خیال سا تھا۔۔۔۔۔
اُس نے بے ساختہ جھک کے اُس کے چہرے کو لبوں سے چھوا کان کے قریب۔۔۔۔بے حد آہستگی سے کے اُس کے چھونے سے کوئی نشان نہیں رہ جائے۔۔۔۔۔
نین نے نیند میں ہی کسمسا کر گلے پر رکھے اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا
ایکدم ہی اُسے اپنی پوزیشن کا اندازہ ہوا تو وہ چونکا۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کا پیر نین کے پیر پر تھا ہاتھ اُس کے گرد بندھا اُس کے گلے سے تھوڑا نیچے رکھا تھا۔۔۔دوسرا اُس کے پیٹ پر تھا وہ بھی شرٹ کو ہٹا کر۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی نیند بھک سے اُڑی۔۔۔۔ہڑبڑا کر پیٹ سے ہاتھ ہٹایا ۔۔۔ جھٹکے سے اُس سے دور ہو کر اٹھ بیٹھا
غور کیا تک و اپنی جگہ سے نین کے پاس آگیا تھا جب کے نین جہاں سوئی تھیں بھی اُسے جگہ تھی۔۔۔
اُس کے ایکدم سے دور ہونے کی وجہ سے وہ سیدھی ہو گئی تھی۔۔۔اور ساحل آنکھیں پھاڑے سفید میدے جیسی کمر کو گھور رہا تھا۔۔۔۔
اور اپنی ہتھیلی کو بھی۔۔۔۔۔۔
اُسے اپنے ہاتھ میں دھک دھک سنائی دے رہی تھی۔۔۔۔ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ روي جیسا لمس اب بھی ہتھیلی پر ہے۔۔۔
اُس کا دل کہہ رہا تھا کے ایک بار پھر اُسے چھوئے۔۔۔۔۔۔۔لیکن وہ مر کر بھی یہ غلطی نہیں کرنا چاہتا تھا کیوں کے اگر نین کو معلوم ہوتا تو وہ اُسے کچا چبا جاتی۔۔۔
اس لیے بڑھتے ہاتھ کو فوراً ہی پیچھے کرکے چہرے پر پھیرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا
گلا تر کرتے ہوئے چاروں اور دیکھنے لگا کے کوئی اُسے یہ سب کرتے دیکھ تو نہیں رہا تھا۔۔۔بلکہ اُس کی سوچیں تو کسی کو سنائی نہیں دی رہی تھی
عجیب سی گھبراہٹ تھی ۔۔۔۔جیسے کوئی چوری کر لی ہو اور اب سزا سے ڈر لگ رہا ہو۔۔۔
اُس کی بند آنکھوں کو دیکھ کر اُس کے بے خبر ہونے کا یقین کرتا وہ جلدی وہاں سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
نین ابھی تک بے خبر گہری نیند کی آغوش میں تھی
♦♦♦♦♦
وہ بھرپور نیند لے کر بھی زمین پر سست سی پڑی تھی سورج سر پر آ رہا تھا لیکن اُس کی اُباسی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔
ساحل کچھ دیر ادھر اُدھر ٹہلنے کے بعد مارکیٹ چلا گیا تھا کیوں کہ وہاں کھانے پینے کا کوئی سامان نہیں تھا ۔۔۔نا چائے نا کافی نا کچھ
۔۔۔۔ اُسے اب گھر سے باہر جانے کے لیے کپڑوں کی بھی ضرورت تھی اور نین کے پاس بھی کپڑے نہیں تھے۔۔۔
وہ جینس میں کتنی مشکل سے سوئی تھی وہ محسوس کر سکتا تھا۔۔۔۔
اس لیے سوچا جا کر ضرورت کے حساب سے کچھ کپڑے بھی لے آئے۔۔۔۔
اب نین کو تو وہ جگانے سے بھی گھبرا رہا تھا بلکہ اُس کے پاس جانے سے بھی اجتناب برت رہا تھا۔۔۔
اس لیے اکیلے ہی نکل گیا
وہ گھر میں اکیلی تھی آنکھیں بند کیے پڑی تھی جب اُسے کِسی کی نظروں کی تپش محسوس ہوئی۔۔۔
اُس نے بیزاری سے آنکھیں کھولیں تو سامنے ایک انجان آدمی کھڑا تھا
جو کافی ڈراونا تھا۔۔۔۔یوں ایکدم سے سامنے آکر نین کو تو ڈراونا ہی لگا
کالا رنگ بھاری جسامت۔۔۔۔بڑی بڑی موچھیں اور سر پر سفید پگڑی۔۔۔۔
وہ پڑے پڑے ہی حلق پھاڑ کر چینخی
آ آ آ آ آ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین کی خطرناک ہارٹ اٹیک دینے والی چینخ پر وہ جو اتنی ہی حیرت سے نین کو گھور رہا تھا دہل کر پیچھے گرتے گرتے بچا
چور چور چور۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اٹھ کر کھڑی ہوئی اور زوروں سے چلانے لگی وہ آدمی صدمے میں ہڑبڑا یا سا اُسے دیکھنے لگا
ماما کے بیٹے۔۔۔۔۔
اُس نے اتنی زور کی آواز میں چلّا کر اُسے پکارا کے درخت پر بیٹھے پرندے بھی اُڑ کر بھاگنے لگی۔۔۔
بیچارہ چور کان پر ہاتھ رکھنے پر مجبور ہوا ورنہ اس کیا دماغ پھٹ جاتا
ساحل ہوتا تو اُس کی چینخ پر وہاں آتا لیکن وہ تھا ہی نہیں نین نے ادھر اُدھر نظر دوڑائی اور پھر جہاں رات آگ جلی ہوئی تھی وہاں پڑی ایک لکڑی اٹھا کر تلوار کی طرح سنبھال لی
میرے گھر میں چوری کروگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی بتاتی ہوں۔۔۔
وہ اچانک سے بہادر شاہ ظفر بن کر لکڑی ہوا میں لہراتی دانت پیس کر بولی وہ بوکھلا کر دونوں ہاتھوں سے رکنے کا اشارہ کرتا باہر بھاگا نین بھی اس کے پیچھے لکڑی لیے باہر نکلی۔۔۔۔
اتنا بھاری بھرکم آدمی ایسے ڈرتا دیکھ کِسی کو یقین نہیں ہوتا۔
اے اے اے لڑکی رک جا۔۔۔۔۔۔کون آہے تو۔۔۔۔
وہ اُسے اُس ایریا سے بھگاتی اُس کے پہلے وہ دور سے اُسے رکنے کا کہتا ناگواری سے پوچھنے لگا۔۔۔۔لیکن شکل ابھی تک گھبرائی ہوئی تھی
اچھا ایک تو میرے گھر میں چوری کرنے آۓ اور اوپر سے میرا انٹروڑکشن مانگ رہے ہو۔۔۔۔جاؤ نہیں بتاؤں گی ۔۔۔
وہ آنکھیں چھوٹی کرکے اُسے گھورتی ناک چڑھا کر بولی
میں کیوں ادھر چوری کروں گا۔۔۔۔یہ گھر مازا آ ہے ۔۔۔۔۔تمھی کائے کرتو یانا(یہ گھر میرا ہے تم کیا کر رہی ہو یہاں)
وہ مراٹھی زبان میں غصے سے بولا اُسے سر تا پیر گھورتے ہوئے نین کی غصے سے ناک پھولنے لگی
واہ بھئی تم تو بڑے ہی خاص ٹائپ کے چور ہو۔۔۔۔لوگ تو مال چراتے ہیں تم تو گھر ہی اپنا بتانے لگے۔۔۔۔خود کو بہت بڑا گنڈا سمجھتے ہو شاید۔,۔۔۔
وہ اُسے داد دیتے انداز میں بولی۔۔
لیکن تمہیں نہیں پتہ میرا ہسبنڈ تم سے بھی بڑا گنڈا ہے۔۔۔اُس کا ایک ہاتھ پڑا نا تو تمہیں یہ چوری کا پروفیشن چوز کرنے پر ہی افسوس ہوگا۔۔۔۔
اُس نے بھنویں چڑھا کر اپنے شوہر کا رعب جتایا ۔۔۔وہ آدمی پریشان کھڑا تھا کے اپنے ہو گھر میں اُسے چور بنا دیا گیا تھا
اسی وقت ساحل کی بائیک آواز کرتی سڑک سے مڑ کر اندر کی طرف آرہی تھی
لو آگیا۔۔۔اب دیکھو تمہاری کیسے بینڈ بجاتا ہے۔۔۔
وہ ساحل کو آتے دیکھ مزید بہادر ہو کے لکڑی کو ہتھیلی پر رگڑتے ہوئے بولی۔۔
وہ بھی آنگن میں اسے کِسی انجان آدمی کے سامنے لکڑی لیے کھڑی دیکھ بائیک سے بنا سامان نکالے ہی جلدی سے اُن کی طرف بڑھا
ماما کے بیٹے یہ آدمی ہمارے گھر میں چوری کرنے آیا ہے۔۔۔۔۔۔
وہ پاس آیا تو لکڑی پھینک دی اور پہلی دفعہ اپنی گھبراہٹ چہرے پر لا کر دونوں ہاتھوں سے اُس کا بازو پکڑتے ہوئے بولی
کون ہے تو۔۔۔۔۔۔
ساحل نے اُس آدمی کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے پوچھا وہ ہر گز بھی چور نہیں لگ رہا تھا
رگھو راؤ۔۔۔۔۔ اس گھر اور ان کھیتوں کا مالک ۔۔۔۔تم دونو میرے گھر پر قبضہ کرکے مجھے ہی چور بنا رہے ہو ابھی پولیس کو فون کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی گھنی موچھوں کو تاؤ سے کر اپنا نام بتاتا نا گواری سے بولا۔۔۔۔
ساحل نے نین کی جانب دیکھا۔اُس نے اپنا گھر بتایا تھا اس لیے وہ اُسے چور سمجھ رہی تھی
ہاں ہاں کرو۔۔۔۔ہم نہیں ڈرتے تمہاری دھمکیوں سے۔۔۔۔۔یہ گھر ہمارا ہے ۔۔۔
وہ ساحل کے دیکھنے سے لاپرواہ ڈھٹائی سے بولی۔۔ہاتھ سے سینہ بجا کر ہمارا کہتے ہوئے
ساحل نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے ایسا کرنے سے روکا
یہ گھر ہمارا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے حیرت سے دیکھنے پر دانت پیس کر بولا۔۔۔
یہ گھر ہمارا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
وہ بے یقینی سے اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر روبوٹ کی طرح پوچھنے لگی۔۔۔۔۔ساحل نے سر نفی میں ہلایا۔۔۔
جب کے رگھو ناتھ نے خوش ہو کر پھر سے موچھوں کو تاؤ دیا۔۔
نین کو اُس کا جھوٹ سمجھ آیا تو دل کیا اُس کے بال پکڑ کر کھینچ لیے۔لیکن فلحال اُسے سامنے کھڑے آدمی سے کہیں چھپنا تھا جسے وہ نہ جانے کیا کیا کہہ چکی تھی۔۔۔
شرمندہ نظروں سے اُس کی جانب دیکھا
چور انکل۔۔۔۔۔مطلب انکل آئے ایم سوری۔۔۔۔۔
وہ ساحل کا بازو چھڑا کر بیچاروں سی صورت بنا کر بولی۔۔۔
اُس آدمی نے ناگواری سے سر جھٹکا
تم دونوں ابھی کے ابھی میرے گھر سے باہر نکلو ورنہ حوالات میں نظر آوگے۔۔۔۔
اُس نے غصے سے دونوں کو دیکھتے دھمکی دی
اے بنا بتی کے چراغ زیادہ پھڑ پھڑ مت کر ورنہ بجھ جائے گا۔۔۔۔۔جا ریلے ہم لوگ۔۔۔۔۔
ساحل نے اُس کے لب و لہجے پر غصے سے کہا۔۔۔
ایک منٹ۔۔۔۔۔۔
اُس نے نین کو ساتھ لیجانے کے لیے اُس کا ہاتھ پکڑا تو نین نے اُسے روک دیا
اوراس سے ہاتھ چھڑا کر آگے بڑھی
بھیا۔۔۔۔۔آئے ایم۔سوری میں نے آپکو چور کہا پر مجھے نہیں پتہ تھا یہ گھر آپکا ہے۔ہم نے یہاں کوئی قبضہ نہیں کیا بلکہ مجبوری ہمیں یہاں لے آئی ہے۔۔۔
وہ منہ بسور کر معصومیت سے بولی اب یہاں رہنے کے لیے کچھ تو جگاڑ لگانا تھا وہ انکل سے بھیا تک آ چکی تھی
ساحل نے ابرو اچکا کر اُسے دیکھا۔۔کے آخر اب اس کے کیا ارادے ہے
مجبوری۔۔۔۔
رگھو ناتھ کی ناگواری اور غصے میں کمی نہیں آئی ۔۔ وہ ناک بھوں چڑھا کر بولا
اصل میں ہم دونوں ایک دوسرے سے بے حد محبت کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔
وہ نظریں جھکائے اُنگلیاں مروڈتے ہوئے ساحل کو خطرناک شاک لگا گئی ۔۔۔۔وہ آنکھیں بڑی کیے اُسے دیکھنے لگا جب کے رگھو ناتھ اب بھی نارمل انداز میں اُسے دیکھ رہا تھا
لیکن ہمارے گھر والے نا اس محبت کے سخت خلاف ہے وہ ہمیں ایک نہیں ہونے دینا چاہتے تھے۔۔کیوں کے میرے پاپا بہُت رئیس ہے اور یہ بہت غریب گھر سے آتے ہیں۔۔۔۔
وہ سر اٹھا کر اپنی معصوم صورت رگھو ناتھ کو دکھاتی اپنی دکھ بھری محبت کی داستان سنانے لگی
ساحل نے اُس کی ایکٹنگ پر دانت پیسے
جب کے رگھو ناتھ کے تنے اعصاب نرم پڑے مانو نین کا دکھ اُسے محسوس ہو گیا ہو
لیکِن محبت تو حیثیت نہیں دیکھتی نا بھیا۔۔۔ہم نے گھر والوں کو منانے کی بہت کوشش کی ۔۔ہر ترکیب لگائی لیکن وہ لوگ نہیں مانے۔۔۔ہمیں ایک دوسرے سے الگ کر دیا۔۔۔۔۔
ساحل کو اُس کی آواز کے ساتھ اُداس سا بیک گراؤنڈ میوزک سنائی دینے لگا اُس نے تاسف سے سر ہلایا
مجبوراً ہم دونوں نے گھر سے بھاگ کر شادی کر لی۔۔۔۔۔۔۔
اب ہمارے گھر والوں نے ہم سے رشتا توڑ دیا ہے ہمارے پاس رہنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔۔۔۔۔کئی دنوں سے بھٹک رہے تھے کے ہمیں یہ گھر ملا۔۔۔۔
وہ پھر سر جھکائے زمین کو دیکھنے لگی۔۔۔پلکیں تین چار بار یوں جھپکیں کے معصومیت اوور لوڈ ہو گئی
رگھو ناتھ کو اُس سے ہمدردی ہونے لگی۔۔۔
اس گھر کو دیکھ کر ایسا لگا جیسے یہ ہمارے کِسی اپنے کا ہے۔۔۔ہم نے سوچا جب تک ہمیں کوئی جگہ نہیں مل جاتا ہم یہاں رہ لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
کم سے کم سردی میں مرنے سے بچ گئے تو اس جگہ کے مالک کو دعائیں لگے گی ہماری۔۔۔۔ہمارے ساتھ اُن کا بھی بھلا ہو جائے گا۔۔۔۔۔
وہ گھر کو پیار بھری نظروں سے دیکھتی جذباتی انداز میں بولی رگھو ناتھ کا بھی دل جذباتی ہونے لگا
جب کے ساحل کا دل کر رہا تھا دنیا سے ہی غائب ہو جائے تاکہ ایسے لوگوں سے جان چھوٹے
اب اگر آپ کہے تو ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔۔۔۔اس بارش اور سردی میں سڑکوں پر بھٹکتے بھٹکتے کچھ دن اور گزار دیں گے
اگر بیمار ہو گئے تو یونہی کِسی راہ پر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے دم توڑ دیں گے اور پھر میونسپلٹی کی گاڑی ہمیں اٹھا لے جائے گی۔۔۔۔۔
وہ اُس کی طرف رخ کرکے نا آنے والے آنسو رگڑ کر افسوس سے بولی رگھو ناتھ نے سر نفی میں ہلایا
اگر ہماری سچی محبت کی یہی سزا ہے تو یہی صحیح۔۔۔۔۔۔
وہ دور آسمان کی جانب دیکھ کر بکھرے لہجے میں کہتی دونوں ہاتھ چہرے پر رکھے رونے لگی
میں نے آج تک جتنے کرمنلز کو دھویا ہے نہ اُن کی اجتماعی بدّعاؤں کا نتیجہ ہے یہ لڑکی
وہ اُسے رونے کی اتنی غضب کی ایکٹنگ کرتا دیکھ ٹھندی سانس لے کر سوچنے لگا
بس بہن بس۔۔۔۔۔۔۔۔رونا نہیں۔۔۔۔تمہارا یہ بھائی ہے نا۔۔۔۔۔تمہیں کچھ نہیں ہونے دیگا۔۔۔۔۔
رگھو ناتھ سے بلکل بھی برداشت نہیں ہوا اُسے روتے دیکھ۔۔۔۔۔۔وہ تسلی دیتا ہوا بولا۔ نین نے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر مصنوعی ہچکی لیے اسے دیکھا۔۔۔۔اُس کی سوکھی آنکھوں میں بھی آنسُو دِکھائی دے رہے تھے
ساحل تماشائی بن کے دونوں کے ناٹک دیکھ رہا تھا
تم دونوں کے گھر والوں نے ساتھ چھوڑ دیا تو کیا ہوا تمہارا بھائی ابھی زندہ ہے۔۔۔تمہیں کہیں بھٹکنے نہیں دیگا۔۔۔
وہ سينہ ٹھوک کے بولا اُس کے بس رونے کی کسر رہ گئی تھی۔۔۔
پاگل کی اولاد۔۔۔۔۔۔۔
ساحل اُس بے وقوف کو دیکھ کر دانت پیستے ہوئے بڑبڑایا
آج کے بعد تمہیں کبھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ اپنے بھائی پر بھروسہ رکھو۔۔۔۔۔میں سب ٹھیک کر دوں گا
وہ اپنائیت سے بولا تو نین نے سر ہلا دیا اندر ہی اندر اپنی ایکٹنگ کو داد دی
یہ گھر آج سے تمہارا۔۔۔۔تمہارے بھائی کی طرف سے شادی کا تحفہ سمجھو۔۔۔۔اور کِسی بھی چیز کی ضرورت پڑے تو بس ایک فون کر دینا۔۔۔۔۔۔۔
تم دونوں بھی بلکل جھجھکنا مت۔۔۔۔
می تمچا سمور آہے۔۔۔۔۔۔
(میں تم لوگوں کے سامنے کھڑا ہوں)
وہ خوش ہو کر ساحل کو دیکھتے ہوئے فخر سے سينہ تانے بولا۔۔
ساحل نے آنکھیں گھمائی
سچ بھیا۔۔۔۔آپ انسان نہیں فرشتہ ہو۔۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھیں گھمانے کا اثر لے اُس سے پہلے نین نے اُس کا دھیان اپنی طرف کھینچ لیا
بھائی بھی اپنے جیسا کھسکیلا ہی ڈھونڈا شانی نے۔۔۔۔
وہ اُسے گھورتے ہوئے بڑبڑایا اور سر جھٹک کر اُنہیں چھوڑے بائیک کی طرف بڑھا۔۔۔وہاں سے سارا سامان نکال کر گھر میں رکھا اور خود اپنے لیے لائے کپڑے اٹھا کے نہانے چلا گیا۔۔۔۔۔
اُن دونوں کی رشتےدا ری بڑھانا جاری تھی
کچھ دیر رگھو ناتھ وہیں رکا نین کو تسلیاں دے کر اُس کا غم ہلکا کرتا رہا اور پھر وہاں سے چلا گیا
اُس کے جانے کے بعد نین اپنی ایکٹنگ پر خوش ہو کر کودنے لگی۔۔۔
ساحل باہر آیا تو وہ اکیلی تھی۔۔۔
دیکھا میرا کمال۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے جھومتے ہوئے مصنوعی کالر جھاڑا
تیرے کو تھوڑی سی بھی شرم نہیں آتی نا۔۔۔سیدھے اچھے آدمی کو کیسے اُلّو بنایا تونے۔۔۔۔کسی کو تو بخش دے۔۔۔۔۔۔
وہ ٹاول سے بال خشک کرتا اُس کے پاس آتے ہوئے بولا
او ہیلو راؤڈی ۔۔۔تم تو اپنا منہ بند ہی رکھو۔۔۔۔۔۔ایک تو میں نے تمہارا پھیلایا رائتہ سمیٹا اور تم مجھے ہی شرم دلا رہے ہو۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی بات پر ناک چڑھا کر بولی
۔تمہیں شرم نا آئی مجھ سے یہ کہتے کے یہ گھر تمہارا خاندانی ہے۔۔۔۔
اگر میں یہ سب ڈراما نہیں کرتی نا تو رگھو ناتھ تمہارے ساتھ مجھے بھی جیل میں چکی پسواتا۔۔۔۔
اور یہ مت سوچنا کے میں اُدھر تمہارے ساتھ رہتی۔۔۔۔۔
تم پر کڑنیپنگ کا الزام لگا کر خود نکل جاتی اور تم زندگی بھر وہیں سڑتے رہتے۔۔۔۔بات کرتے ہو
وہ مغرور انداز میں اُسے باور کراتے ہوئے بولی ساحل نے نظر انداز کیے آگے بڑھ کر ٹاول دروازے پر ڈالا اور گھر کے اندر آیا