Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 57

Sanaya_Khan
Episode 57
سب انتظام ہو گیا نا۔۔۔۔۔میں نے نین سے کہہ دیا ہے کے اُس کے روم میں ایک کاکروچ تھا وہاں کی صفائی کروانی ہے اسلئے اندر نا جائے
سب کی موجودگی کا خیال کرتے ہوئے عشرت دھیرے سے پوچھتے ہوئے بتانے لگی۔۔۔۔
صحیح کیا۔۔۔۔۔باقی سب تو سیٹ ہے لیکِن ایک بات سمجھ نہیں آرہی۔۔۔۔ہم دادی کو یہ سب کیسے دکھائیں گے۔۔۔۔۔
مطلب ایسی سچویشن میں دادی کو اُن کے روم میں لیجاتے ہوئے مجھے تو بڑی شرم آئیگی۔۔۔
شیریں مصنوعی سا شرماتے ہوئے بولی جس پر عشرت نے سوچنے والے انداز میں اسے دیکھا
ڈونٹ وری دادی کو دکھانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔اگلي صبح جب نین کو شرماتے اور ساحل کو مسکراتے دیکھیں گی تو دادی خود ہی سمجھ جائے گی کے ٹام اینڈ جیری کا کپل رومینٹک ہو گیا ہے
عشرت اپنی عقل لگا کر مسکراتے ہوئے بولی تو شیریں نے بھی اپنی ہنسی روکی
میں نے تو کڑے رکھنے کے لیے بینگل باکس بھی آرڈر کر دیا ہے دیکھو کتنا خوبصورت ہے۔۔۔۔
وہ پرجوش سی مسکرا کر اپنا فون عشرت کے آگے کرکے اسے تصویریں دکھانے لگی ۔۔۔
وہاں سب اپنی اپنی باتوں میں مگن تھے جب کے نین جیسے وہاں ہو کر بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔
ساری رات اُس نے روتے سسکتے گزاری تھی۔۔۔۔۔
آنکھوں میں تیرتے سُرخ ڈورے اس کی تڑپ کا ثبوت تھے۔۔۔
اُس نے ساحل کو فون بھی کیا تھا لیکِن وہ تو اچانک ہی ایسا بير پال کر بیٹھا تھا کے ساری کسر پوری کردی تھی۔اُس کا فون اٹھانے کی بجائے موبائل ہی آف کرچکا تھا
اُس کی اب تک کی زندگی میں کبھی کسی نے ایسے لہجے میں بات تک نہیں کی تھی۔۔۔۔
ساحل اُس کے وجود کی اتنی تذلیل کر چکا تھا کے وہ خود پر ہی شرمندہ تھی۔۔۔اُس کا کنفیڈنس چور چور ہو گیا تھا
بھلے اُس کی حرکتیں بے حد بچکانہ تھی۔۔
باتیں الٹی سیدھی تھی وہ اول فول بک دیا کرتی تھی
لیکن وہ اُس سے تب بھی اس طرح بے رخی سے کیسے بات کر سکتا تھا۔۔۔جانے وہ اُس سے کس بات کا بدلہ لے رہا تھا۔۔
اُس کی کونسی غلطی پراس قدر خفا تھا۔
نین کیا بات ہے بیٹا اتنی اُداس کیوں ہو۔۔۔۔۔۔
نانو نے اُس کی غائب دماغی دیکھ شولڈر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔
نانو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے اُن کی طرف دیکھا اور ایکدم سے اُن کے ساتھ لگتی شدتوں سے رونے لگی
سب کے سب حیرت سے اُسے دیکھتے رہ گئے۔۔
وہ بچوں کی طرح اُن سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر روتی افسوس کر رہی تھی۔۔۔
نین۔۔۔۔کیا ہوگیا بیٹا۔۔۔۔۔
نانو اُس کے یوں رونے سے بری طرح گھبرا گئی تھیں۔۔۔ اچانک سے ماحول ہی بدل گیا تھا سب ساکت تھے
مجھے نہیں پتہ نانو۔۔۔۔۔۔مجھے کچھ بھی نہیں پتہ۔۔۔۔۔۔۔
وہ رو رو کر بولے جا رہی تھی۔۔۔۔
اگر ساحل اُسے اس طرح ٹوٹتے دیکھتا تو اپنی ساری بے رخی بھول کے اُسے سینے سے لگا لیتا۔
نین سنبھا لو خود کو۔۔۔۔۔ پانی پیو۔۔۔۔۔
عشرت نے اس کا بازو سہلاتے ہوئے اُسے نانو سے الگ کیا فلک نے جلدی سے پانی کا گلاس اُس کی طرف بڑھایا تو وہ گلاس تھامنے کی بجائے فلک کو دیکھ کر اُس کا ہاتھ تھام کر چہرے سے لگاتی رونے لگی۔۔۔
اُسے بس رونے کا بہانا چاہیے تھا جیسے۔۔
فلک اُسے دیکھ کر خود بھی رونے کو ہو گئی تھی
کہیں اُس لڑکے نے تو تم سے کچھ نہیں کہا نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے اپنے لہجے میں ساحل کے لیے نا گواری سموئے کہا۔۔۔لیکِن عبّاس صاحب کی تنبیہ نظروں کی وجہ سے مزید کچھ کہنے سے بعض رہیں
میرا دل گھبرا رہا ہے بیٹا۔۔۔۔۔۔۔مجھے بتاؤ کیا ہوا تمہیں۔۔۔۔۔۔۔
نانو نے اُس کا چہرہ تھامتے ہوئے فکرمندی سے پوچھا تب اُن کی آواز میں نمی گھل گئی تھی
مجھے ممی کی بہت یاد آرہی ہے نانو۔۔۔۔۔
وہ اُن کا دونوں ہاتھوں سے پکڑتی ہوئی ہچکی کے درمیان بولی۔۔۔۔
سچ میں اُس کا دل چاہ رہا تھا اس وقت اُڑ کے اپنی ماں کے پاس چلی جائے اور اسکی گود میں سر رکھ کر بہُت روئے
تو اس میں اتنا رونے والی کیا بات ہے لاڈو۔۔۔۔ہم سب ہے نہ یہاں۔۔۔۔۔۔ممی کی یاد آرہی ہے تو اُن سے بات کر لو۔۔۔۔۔۔۔۔
نانو نے اُس کے آنسو پوچھتے ہوئے محبت سے کہا
اگر تمہارا دل چاہ رہا ہے تو میں ساحل سے کہتا ہوں وہ تمہیں ملوا لائے گا زینب سے۔۔۔۔
عبّاس صاحب نے آگے بڑھ کر اُس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
نہیں بڑے ماما۔۔۔۔۔۔۔میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔اس کی۔ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں رگڑ کر سر جھکائے جواب دیتی وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔
∆∆∆∆∆∆
Are you in your sensen nain۔۔۔۔۔
اُس آدمی نے تمہیں اتنا ہرٹ کیا اور تم خاموشی سے سنتی رہی۔۔۔۔ایسے کیسے بلا وجہ سنا سکتا ہے وہ تمہیں۔۔۔۔۔اور تم اب تک وہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔۔۔
ریا اُس کی بات پر غصے سے بولی
پچھلی دفعہ ساحل کے لیے اُس کی رائے ایکدم سے بدل چکی تھی۔۔نین کی باتوں سے اُس نے اندازہ لگایا تھا کے شاید وہ انسان اُس کے لیے اچھا ثابت ہوسکتا ہے لیکِن
نین سے اُسکے گزری رات کے رویے کا جان کے اس کی سوچ اتنی ہی تیزی سے بدل گئی
تو میں کیا کروں ریا۔۔۔کہاں جاؤں
۔۔۔اتنے دن میں پاپا نے ایک دفعہ فون کرکے یہ تک نہیں پوچھا کے میں کیسی ہوں۔۔۔۔۔۔
اُنہیں میری یاد تک نہیں آئی ریا۔۔۔۔۔۔۔
وہاں وہ مجھے وداع کرکے پرسکون ہے اور یہاں ساحل میرے ہونے سے پریشان
سچ کہہ رہی ہوں خود کے لئے بوجھ بن گئی ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔صحیح کہہ رہا تھا وہ کے مجھے مشکلوں سے برداشت کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔سب ہی تو مجھ سے پریشان ہے۔۔۔
پاپا داؤد اور اب ساحل کوئی بھی مجھے پسند نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔میں سچ میں پنوتی ہوں۔۔۔۔۔۔
وہ صرف ریا سے اپنا دل ہلکا کر سکتی تھی لیکن اب بھی اُس کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے
نین خبردار جو تم نے آئندہ ایسا کہا۔۔۔۔۔۔۔۔تمہیں کوئی حق نہیں ہے میری دوست کے بارے میں ایسی بکواس کرنے کا۔۔۔۔پاگل تو وہ ہے جو تمہیں نہیں سمجھتے اور ایسی بکواس کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔جنہیں تمہاری قدر نہیں وہ نہایت بیوقوف ہے۔۔۔۔
تمہارے پاپا تم سے ناراض ہے اور داؤد نے تو تمہیں بتا دیا نا کے اُس نے کیوں فلک سے شادی کی۔۔۔۔۔۔رہی بات ساحل کی مجھے تو لگتا ہے وہ سچ میں جاہل ہے جو تمہیں سمجھا نہیں۔۔۔۔۔تمہیں اُس کی باتوں کو دل سے لگا کر خود کو۔پریشان نہیں کرنا ہے نین۔۔۔۔۔۔
تم ابھی کے ابھی یہاں دہلی آو میرے پاس۔۔۔۔ایک پل مت رکو وہاں۔۔۔
ریا اُس کی بات پر اُسے ڈپٹتی سمجھاتے ہوئے بولی
نہیں ریا۔۔۔۔۔۔۔میں ایسے نہیں آسکتی۔۔۔
اُس نے آج تک کبھی مجھ سے ایسے بات نہیں کی۔۔۔۔۔کبھی مجھے ہرٹ نہیں کیا۔۔۔میں نے اُسے بہت بار باتیں سنائی۔۔۔۔۔سب کے سامنے سلیپ کیا پر اُس نے مجھ سے کوئی بدلا نہیں لیا۔۔۔۔اُس نے ہمیشہ مجھے پیمپر کیا ہے آج اگر اُس نے مجھ سے اتنا روڈ ہو کر بات کی ہے تو مجھے جاننا ہے مجھ سے کیا غلطی ہوئی ہوگی۔۔۔
وہ اپنی آنکھ کے کنارے کو اُنگلی سے چھوتے ہوئے پرسوچ لہجے میں بولی
تمہاری سیلف رسپیکٹ کہاں گئی نین۔۔۔۔۔تم نے اُس کی بکواس سن کر اُسے کچھ کہا نہیں اور اب بھی تم اپنی غلطی جاننے کی بات کر رہی ہو۔۔۔۔
نین اگر تم اپنی انسلٹ برداشت کرکے بھی وہاں رکی نا تو میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گی۔۔۔۔۔
ریا اُس کی بات پر غصے سے وارن کرتے ہوئے بولی اور فون بند کر دیا
نین نے کان سے ہٹا کر فون کو دیکھا اور اُسے دوبارہ کال ملانے لگی ۔۔لیکِن ریا نے فون نہیں اٹھایا۔۔
وہ ہار کر کوشش ترک کرتی آنکھیں بند کرکے سر صوفے سے ٹکا گئی
رات بھر جاگنے اور رونے کے باعث اب اُسے سخت نیند آرہی تھی۔
شیریں اور عشرت نے اُسے روم میں جانے سے روکا ہوا تھا یہ کہہ کر کے وہاں صفائی چل رہی ہے۔۔۔۔۔
اس وقت بھی وہ عشرت کے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی لیکن اب سخت نیند محسوس کرکے صوفے سے اٹھ کر باہر جانے لگی۔۔۔۔
دروازے سے باہر ہی نکلی تھی عشرت سامنے سے آگئی
نین کہاں چلی تم۔۔۔۔۔
اُسے جاتے دیکھ وہ بوکھلا کر اُس کا بازو پکڑتے ہوئے پوچھنے لگی
جب تک ساحل نا آتا وہ اُسے وہاں جانے نہیں دے سکتی تھی
بھابھی میں سونے جا رہی ہوں ۔۔۔۔بہُت نیند آرہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جمائی روکتے ہوئے بولی
ارے۔رکو تو دیکھو نا مجھے تمھیں کچھ دکھانا ہے۔۔۔۔۔
وہ اُسے روکتی اپنے ساتھ واپس روم میں لائی اور صوفے پر بٹھایا۔۔۔۔۔
نین کچھ کہتی اُس کے پہلے ہی ٹیبل کے نیچے سے اٹھا کر اُس کے ہاتھ میں ایک گفٹ باکس تھمایا
آج تم اپ سیٹ تھی نا اس لیے میں اور شیرین تمہارے لیے ایک گفٹ لے کر آئے ہیں
عشرت نے اُس کی سوالیہ نظروں پر مسکراتے ہوئے بتایا
Wow bhabhi this so sweet۔۔۔۔
اُس نے مسکرا کر کہتے ہوۓ باکس کھولا تو اُس میں بلیک کلر کی خوبصورت ساڑھی تھی جس کی بارڈر پر سفید موتیوں کی باریک ڈیزائن بنی ہوئی تھی
اتنی پیاری ساڑھی ہے۔۔۔۔۔۔سو بیوٹیفل۔۔۔۔۔۔تھینک یو بھابھی۔۔۔۔
وہ شفو ن کے نرم کپڑے کو گال پر محسوس کرتی ہوئی خوش ہو کر بولی
صرف تھینکیو سے کام نہیں چلے گا۔۔۔۔۔تمہیں یہ پہن کر دکھانی پڑےگی۔۔۔۔۔
عشرت نے جتاتے ہوئے کہا
ابھی۔۔۔۔نہیں نہیں بھابھی پلیز۔۔۔۔میں بہُت تھکی ہوئی ہوں۔۔۔ مجھے ابھی سونا ہے۔۔۔۔۔
وہ حیران ہو کر جلدی سے سر ہلا کر منع کرتی ہوئی بولی
نین تم ہماری خوشی کے لیے اتنا نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔
عشرت نے جذباتی انداز میں کہا تو وہ پریشان ہو کر اُسے دیکھنے لگی
بھابھی اتنی رات کو ۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو پتہ ہے مجھے باندھنی بھی نہیں آتی اور کیری کرنا بھی بہُت مشکل ہے میرے لیے۔۔۔
وہ منہ بنا کے اپنی مشکل بتانے لگی
نین میں ہوں نا ۔۔۔۔۔تم بس یہ پہن کر آؤ جلدی سے۔۔۔۔
عشرت نے اُس کے ہاتھ میں میچنگ بلاؤز اور انر تھما کر اٹھتے ہوئے کہا وہ نا چارہ اٹھ کر چینج کرنے پر مجبور ہوئی۔۔
اب جب وہ دونوں اُس کے لیے اتنے دل سے تحفہ لائی تھیں تو نین اُن کی فرمائش رد کرکے اُن کا دل کیسے توڑ سکتی تھی
عشرت نے خود اُسے صحیح سے ساڑھی پہنائی اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بٹھا کر اُس کے کانوں میں ایرنگز پہنانے لگی۔۔۔۔
بھابھی آپ یہ کیا کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اس سب کی کیا ضروت ہے
وہ حیران ہو کر اُسے شیشے میں۔دیکھتے ہوئے بولی۔۔
آج ہی تو خاص ضرورت ہے تمہیں تیار ہونے کی۔۔۔۔ تمہارے حسین چہرے کو اور زیادہ حسین بنانے کی تاکہ ساحل تم سے اپنی نظریں نا ہٹا سکے۔۔۔۔
عشرت اُس کے دوسرے کان میں ایرنگ ڈالتے ہوئے مسکرا کر بولی تو نین کو اندازہ ہوا کے کچھ تو کھچڑی پکائی جا رہی ہے۔۔۔
عشرت نے اُس کے منع کرنے کے باوجود ایک نا سنی ۔۔اور اس پر اپنا ہنر آزمانے لگی
ایک تو بلیک کلر یونہی اس پر بہت خوبصورت لگ رہا تھا اس پر عشرت نے میک اپ اور ہلکی پھلکی جویلری پہنا کر اُس کی خوبصورتی کو مزید بڑھا دیا تھا۔۔
بھلے اُس کی آنکھوں میں اب بھی اُداسی تھی۔۔۔
لبوں پر سرخ لپ اسٹک لگا کر بالوں کو برش کرکے کھلا چھوڑے جب اُس نے آئینے میں نین کا جائزہ لیا تو بیساختہ اُس کے منہ سے ماشا اللہ نکلا۔۔۔۔
اُس نے کاجل کا مصنوعی تل اُس کے نچلے لب کے لپ لائن پر بنایا اور اُسے خود کو آئینے میں دیکھنے کا اشارہ کیا۔۔
نین نے نظریں اٹھا کر آئینے میں خود کو دیکھا ۔۔۔تو اُسے ساحل کے الفاظ یاد آئے۔۔۔۔
سن۔۔۔۔۔ بہُت خوبصورت لگ رہی ہے۔۔۔۔۔
اُس نے جب کہا تھا تب وہ بلکل ہی عام حلیے میں تھی اب کے مقابلے بہُت سادہ سی۔۔۔۔ کپڑوں کا خیال تھا نا بالوں کا ۔۔۔۔
اُس نے بے ساختہ سوچا کے کیا آج وہ اُسے دیکھ کر ایسا کچھ کہے گا اور پھر فورًا ہی اپنی سوچ کو جھٹک کر عشرت کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرائی
نین تم نے کبھی خود کو غور سے دیکھا ہے۔۔کِتنی خوبصورت ہو تم لیکِن تمہیں ذرا قدر نہیں اپنی خوبصورتی کی۔۔۔۔۔
ایسے لاپرواہ ہو کر گھومتی ہو کبھی تیار نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ذرا نمائش نہیں کرتی اپنے حسن کی۔۔۔۔۔۔
تمہارا دل نہیں کرتا کے ساحل تمہاری خوبصورتی کی تعریف کرے۔۔۔
تمہیں سراہے۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے پیچھے کھڑی آئینے میں اُسے دیکھتے ہوئے اُس کی تعریف کرنے کے ساتھ اُسے چھیڑنے والے انداز میں پوچھنے لگی
نہیں بھابھی میری ایسی کوئی خواہش نہیں ہے۔۔۔
اُس نے پلکیں جھکا کر آہستہ سے جواب دیا
لیکِن آج تو وہ تمہارے حسن کے گن گاتے نہیں تھمے گا۔۔۔۔۔
عشرت ہنس کر اُس کے گلے میں باہیں ڈالتے ہوئے بولی
بھابھی آپ ۔۔۔۔۔ایسی ۔۔۔۔۔۔۔ایسی باتیں کیوں کر رہی ہیں آپ۔۔۔۔۔
نین نے نروس ہو کر اُسے دیکھا
سب جان جاؤگی۔۔۔۔۔۔ آج کی رات تو تم زندگی بھر نہیں بھولو گی۔۔۔۔۔
عشرت نے معنی خیز لہجے میں کہتے ہوۓ اُسے ونک دی۔۔۔اُس نے گلا تر کرتے ہوئے آئینے میں اپنے عکس کو دیکھا
∆∆∆∆∆∆∆
کہاں تھے تم کل سے ۔۔۔۔۔۔گھر کیوں نہیں آئے۔۔۔
عبّاس صاحب نے فون کرکے اُسے گھر آنے کا آرڈر دیا اور اُس کی کلاس لگائی ایک تو نین کو روتے دیکھ وہ ویسے ہی پریشان تھے اور پھر جب اُنہیں معلوم ہوا کے وہ رات بھر سے گھر سے غائب تھا تو اُن کا خون کھول اٹھا
چوٹ کیسے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے۔۔۔۔
اُس کے خاموش سر جھکائے کھڑے رہنے پر وہ غصے سے بولے اُس کے چہرے پر آنکھ کے نیچے ،پیشانی اور ہونٹوں اور ہلکے واضح چوٹ کے نشان تھے
کل ایک کمپیٹیشن میں فائٹ کیا اس لیے تھوڑی۔۔۔۔۔۔
اُس نے سر جھکائے ہی جواب دیا
منع کیا تھا نہ تمہیں فائٹنگ کرنے کو۔۔۔۔۔مارپیٹ کا شوق ابھی تک ختم نہیں ہوا تمہارا۔۔۔۔۔۔۔
اور یہ کیا حرکت ہے گھر سے غائب رہنے کی۔۔۔۔۔۔بھول رہے ہو کے اب تمہاری شادی ہو چکی ہے۔۔۔۔اس گھر میں بیوی ہے تمہاری۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب نے ماتھے پر بل ڈالے اُسے گھورتے ہوئے کہا
وہ ہمیشہ تو شرارت سے اُن کی ڈانٹ پر کوئی جواب دے دیا کر تا تھا لیکِن اس وقت بلکل خاموش تھا
اُس کی طرف سے تو ایسے غافل ہو جیسے وہ کوئی بے جان شے ہے۔۔۔۔۔۔جو لا کر رکھ دی گئی ہے تمہارے کمرے میں۔۔۔۔۔
اُنہیں نین کا رونا یاد آیا تو وہ افسوس سے بولے ساحل نے اب سر نہیں اٹھایا بس خود سے سوال کیا کے کیا وہ اُس سے غافل ہے
کان کھول۔کر سن لو آئندہ اگر تم نے نین کے معاملے۔میں کوئی غیر ذمےداری برتی۔۔ یا رات کو گھر سے غائب رہے تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔۔
عباس صاحب نے اُس کی جھکی نگاہوں کو گھورتے ہوئے وارن کیا اور اپنے کمرے میں چل دیے
اُس کا تو اب بھی دل نہیں تھا کے اپنے کمرے میں جائے نین کا سامنا کرے لیکِن عبّاس صاحب کی اُس کے نزدیک جو اہمیت تھی اُس کے بعد اتنی آسانی سے اُن کی بات کو نظر انداز نہیں کر سکتا تھا
∆∆∆∆∆