Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 30
No Download Link
Rate this Novel
Episode 30
وہ جلد بازی میں وہاں پہنچا لیکِن تب تک جیکی دم توڑ چکا تھا۔۔۔۔۔ساحل کے آنے سے پہلے ہی ڈاکٹر اُس کی موت کی اطلاع دے کے جا چکا تھا۔۔۔۔۔۔
دونوں گارڈز اُسے دیکھ کر سر جھکائے کھڑے تھے۔۔۔۔۔اُس نے خود جیکی کی نبض چیک کرکے کنفرم کیا اورپھر غصے سے اُس کی کلائی جھٹک کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
ایک تو جیا سے ہوئی بے عزتی اُس پر جیکی کی موت ۔۔۔۔
غصّہ اور ضبط چہرے سے ظاہر ہو رہا تھا۔۔
سٹی ہاسپٹل لے کے جاؤ اس کو۔۔۔۔۔۔۔
وہ نہایت سنجیدگی سے بولا گارڈز نے حیرت سے اُسے دیکھا کے مرنے کے بعد اُسے ہاسپیٹل کیوں لےجانا تھا۔۔
لیکِن سر۔۔۔۔۔۔
ایک نے اپنی اُلجھن دور کرنے کی کوشش کی لیکن اُس نے ایکدم سے ایسے دیکھا کے وہ جہاں کا وہیں چُپ ہو گیا۔۔۔
یس سر۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں ایکدم سے سیدھے ہوئے اور اُس کے آرڈر پر عمل کرنے لگے۔۔۔۔۔۔ایک تو وہ سیریس ہوتا نہیں تھا اور ہوا تو حد سےزیادہ ہوتا تھا۔۔۔۔
گارڈز جیکی کی لاش کو اٹھا کر باہر لے جانے لگے اُس نے اپنا فون نکال کر اُس کر نمبر ڈائل کرتے ہوئے کان سے لگایا
آج کی بریکنگ نیوز ۔۔۔۔جیکی پولیس کے ہاتھ لگ گیا ہے۔۔۔۔ابھی وہ سٹی ہاسپٹل میں ہے ۔۔۔۔اور بہُت جلد پولیس اُس سے الٹی کروا لے گی۔۔۔۔ ۔۔۔
اُس نے فون آن ہوتے ہی سنجیدگی سے بتایا
Ok boss۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری جانب سے جواب سن کر اُس نے فون کان سے ہٹایا۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
سکندر نے طنز کرتی نگاہوں سے فلک کی جانب دیکھا۔۔
اُس کے لبوں کی زہریلی مسکراہٹ اُس کی فتح کی گواہ تھی۔۔
وہ کیس جیت گیا تھا اور اس جیت کا غرور اُس کے چہرے سے نظر آرہا تھا۔۔۔۔۔۔
فلک سر جھکائے بیٹھی تھی دل نا امید ہو گیا تھا کے اگر اب بھی ہار ہی ملی ہے تو شاید انصاف ملنا قسمت میں ہی نہیں۔۔۔
شاید خدا بھی سکندر کا ساتھ دے رہا ہے
نیہا غیر حاضر تھی ۔۔۔داؤد نے بہت کوشش کی لیکِن نا اُس سے رابطہ ہوسکا نہ اُس کے غائب ہونے کی وجہ معلوم ہوئی۔۔۔۔اُس نے عدالت میں کئی بار اِنتظار کے لیے وقت مانگا لیکِن جب وہ موقع بھی ختم ہو گیا تو عدالت نے اپنا فیصلہ سکندر کے حق میں سنا دیا۔۔۔۔۔جج پہلے ہی اس موقع کی تلاش میں تھا کے وہ سکندر کو بری کر سکے اور کوئی سوال نا اٹھے۔۔۔۔۔اور نیہا نے اُسے یہ موقع دے دیا تھا۔۔۔۔
اُس نے نیہا کی غیر حاضری کو فلک کے خلاف استعمال کرکے سکندر کو کیس سے بری کردیا تھا۔۔۔۔۔
بہادر شاہ نے موچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے داؤد کی جانب دیکھا جو ضبط سے سرخ ہوتی آنکھوں میں نفرت لیے بیٹھا تھا۔۔۔
اُسے ایک پل لگاسمجھنے میں کے وہ جج سکندر کا خریدا ہوا ہے۔۔۔لیکِن اُس نے کوئی ترک نہیں اٹھایا کیوں کے وہ جانتا تھا اپنے وکیل کی غیر موجودگی میں اُس کی کوئی بات کا فائدہ نہیں ہوگا۔۔۔اس لیے وہ خاموش بیٹھا رہا
اب کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے داؤد کی جانب دیکھتے ہوئے پریشانی سے کہا ۔
وہ لوگ گھر جانے کے لیے نکلے تھے اور داؤد خاموشی سے ڈرائیو کر رہا تھا۔۔۔اُسے فلک کو گھر ڈراپ کرکے سب سے پہلے نیہا سے جواب مانگنا تھا جس نے اُنہیں عین وقت پر دھوکہ دیا تھا
وہی ہوگا جو سکندر کے ساتھ ہونا چاہیے
اُس نے سنجیدگی سے کہا
لیکِن عدالت تو اُسے آزاد کر چکی ہے۔۔۔۔
فلک نے نا سمجھی سے پوچھا
آج کورٹ میں بھلے وہ چھوٹ گیا ہو لیکِن ہمارے پاس اب بھی موقع ہے۔۔۔اب ہم ہائے کورٹ میں اپیل کریں گے۔۔۔۔۔اور اگر نوبت آئی تو میں سپریم کورٹ تک جاؤں گا لیکن سکندر کو اُس کی سزا ضرور ملے گی۔۔۔۔۔۔۔۔وہ زیادہ دن اپنے انجام سے بھاگ نہیں پائے گا
وہ ڈرائیو کرتے ہوئے اسے اپنا ارادہ بتا رہا تھا فلک حیران بھی تھی اور ڈر بھی تھا کے وہ سکندر کے خلاف یوں ہی کھڑا رہا تو سکندر اُس کی جان کا دشمن بن جائے گا ارحم کی۔طرح
مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔۔۔اگر۔۔۔ اُس نے آپ کو کچھ کر دیا تو۔۔۔۔۔
اُس نے جھجھکتے ہوئے اپنا خدشہ بیان کیا۔۔۔۔داؤد نے گاڑی سلو کرتے ہوئے اُس کی جانب دیکھا۔۔۔۔
اتنی ٹینشن میں یہ بات کہہ کر تم نے میرے دل کو خوش کر دیا فلک۔۔۔۔۔تمہیں میری اتنی فکر ہے تو میں خود کو کوئی نقصان نہیں ہونے دوں گا۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے محبت سے بولا فلک گھبرا کر چہرہ سامنے کر گئی وہ مسکرکر ڈرائیو کرنے لگا
تمہیں سکندر کی دھمکیوں سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔وہ کمزروں پر اپنی طاقت آزما کر خود کو بہت بہادر سمجھنے لگا ہے۔۔۔۔۔میں بہُت جلد اُس کا غرور توڑ دوں گا۔۔۔۔۔
اُس نے فلک کو تسلی دیتے ہوئے کہا وہ خاموشی سے سامنے دیکھتی خدا سے اُس کی حفاظت کی دعاء مانگنے لگی
وہ لوگ گھر پہنچے تو سب بے صبری سے اُن کے اور عدالت کے فیصلے کے منتظر تھے۔۔۔
اور جب اُس نے ہارنے کی خبر سنائی تو سناٹا چھا گیا۔۔۔
مایوسی پھیل گئی۔۔۔۔۔
اب ہم فلک کا کیس ممبئی ہائی کورٹ میں لڑیں گے۔۔۔۔۔۔۔
اس نے ساکت بیٹھے رحمت کی جانب دیکھتے ہوئے کہا اُنہوں نے صرف سر ہلا دیا
مجھے آج ہی ممبئ نکلنا ہے اور میں چاہتا ہوں فلک بھی میرے ساتھ چلے۔۔۔۔۔۔
اُس نے سر جھکائے اپنے دل کی بات کہی تو فلک نے حیرت سے اُسے دیکھا۔۔۔۔۔اماں اور رحمت بھی اُسے دیکھنے لگے
فلک میرے ساتھ ہوگی تو مجھے اطمینان رہے گا ۔۔۔۔۔سکندر کا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔۔ میں کوئی رسک نہیں لینا چاہتا۔۔۔
وہ اُن سب کی حیرانی محسوس کرکے وجہ بتانے لگا۔۔
اور آپ بلکل بھی ٹینشن مت لیجئے گا میں نے یہاں آپ سب کے پروٹیکشن کا پورا انتظام کر دیا ہے۔۔۔۔۔گارڈز پوری سیکورٹی دیں گے آپ لوگوں کو۔۔۔۔۔سکندر کا اس گھر کے قریب بھی آنا مشکل ہے۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے ایک نظر فلک کو۔دیکھا جو پریشان کھڑی تھی شاید اُس کے ساتھ جانے کے خیال سے۔۔لیکن وہ فیصلہ کر چکا تھا اب فلک کو ایک لمحے کے لیے بھی خود سے دور نہیں رکھے گا۔۔۔اُسے جلد سے جلد اپنے گھر میں بھی فلک کی جگہ بنا نی تھی
تمہارے آنے کے بعد سے ہمیں اس سب کے فکر نہیں ہے بیٹا۔۔۔۔۔۔ اور فلک اب تمہاری امانت ہے اس لیے ہمیں تمہارے کسی فیصلے سے اعتراض نہیں لیکن بس ایک پریشانی ہے۔۔۔
تم نے بنا اپنے گھر والوں کو بتائے فلک سے نکاح تو کر لیا ۔۔۔ لیکِن کیا وہ لوگ سب جاننے کے بعد اسے قبول کریں گے۔۔
رحمت نے اُس کے سامنے اپنا خدشہ ظاہر کیا ۔۔۔۔
داؤد خود بھی اس سوال کا جواب نہیں جانتا تھا۔۔۔
کیا ہوگا جب اچانک سب کو یہ بات معلوم ہوگی۔۔۔
عبّاس صاحب کو تو شاید وہ سمجھا لے لیکِن رابعہ بیگم
زینب ۔۔اور نین۔۔۔۔
میرے مام ڈیڈ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں اور مجھے پورا یقین ہے وہ میری خوشی کے آگے ان بے معنی باتوں کو اہمیت نہیں دیں گے۔۔۔۔۔۔
آپ بلکل فکر مت کیجئے۔۔۔۔۔۔میں فلک کو کوئی پرابلم نہیں ہونے دوں گا۔۔۔۔۔
اُس نے اُن کے ساتھ خود بھی یقین دلانا چاہا اُس کی آخری بات پر رحمت نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا
وہ وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی۔۔۔۔۔
اُسے تو لگا تھا کے آج اُس کیس کے ساتھ اُس کے اور داؤد کے رشتے کا فیصلہ بھی ہو جائیگا۔۔۔
اُسے یقین تھا کے داؤد نے صرف اُس سے ہمدردی میں آکر شادی کی ہے اور کیس ختم ہوتے ہی جب سکندر کا خطرہ ٹل جائے گا وہ اسےاس رشتے سے آزاد کردے گا
لیکِن داؤد اُسے اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا
وہ اُلجھن میں تھی کے کیوں وہ دنیا کے سامنے اُسے اپنی بیوی کی حیثیت دے کر اپنا مذاق بنانا چاہتا ہے۔۔۔۔
وہ داؤد کو سمجھ نہیں پا رہی تھی۔۔۔۔۔
آپی۔۔۔۔۔۔۔ کہتے ہے نا بہُت اچھا ہونے سے پہلے بہُت برا ہوتا ہے۔۔۔۔۔شاید اللّٰہ نے داؤد بھائی جیسے انسان کا ساتھ دے کر آپ کی ساری آزمائشوں کا صلہ دے دیا ہے۔۔۔۔
شمع اُسے اپنی سوچ میں غرق دیکھ کر اُس کے قریب بیٹھتی ہوئی بولی۔۔۔۔فلک نے چونک کر اُسے دیکھا
کیا سوچ رہی ہو۔۔۔۔۔
شمع نے مسکرا کر اسکے چہرے پر ہاتھ رکھا
۔اگر وہ میری آزمائشوں کا صلہ ہے تو میں اُن کے کِس گناہ کی سزا میں ملی ہوں اُنہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے شمع کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔۔شمع نے سر نفی میں ہلایا۔۔
میں کسی کے قابل نہیں ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں صرف ایک بوجھ ہوں۔جِسے کوئی بھی زیادہ دِن برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔
فلک نے بکھرے ہوئے لہجے میں کہا اُس کی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گرا
وہ تم سے محبت کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔
شمع نے اُس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
وہ صرف اچھے انسان ہے اس لیے ہمدردی میں اتنا غلط فیصلہ لے لیا۔۔۔۔۔بہُت جلد وہ اس فیصلے پر پچھتا کر اپنی بھول سدھار لیں گے۔۔۔۔۔۔۔
تم پریشان مت ہو۔۔۔۔اس بار مجھے کوئی فرق نہیں پڑےگا۔۔۔۔کیوں کے میں کوئی امید نہیں لگاؤں گی ۔۔بلکہ پہلے سے تیار رہوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سر جھکائے ہوئے رک رک کر بولی۔۔۔۔۔۔شمع کی زبان تالو سے لگ گئی اُس کی آنکھیں بھی بھیگنے لگی۔۔۔۔۔ایک پل کو اُس کے دل میں بھی خیال آیا کے اگر سچ میں ایسا ہو جائے تو کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔مائے لوو کا مطلب کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔
اچانک ہی وہ شمع کی طرف دیکھ کر پوچھنے لگی تو شمع جي بھر کے حیران ہوئی
تم کو یہ کس نے کہا۔۔۔۔
اُس نے مسکراہٹ چھپا کر پوچھا وہ نظریں جھکا گئی
وہ کہتے ہیں اُن کے یہاں سب لڑکیاں اپنے شوہر کو یہی کہہ کر بلاتی ہے۔۔۔۔۔۔
اُس نے ہچکچاتے ہوئے داؤد کا ذکر کیا شمع نے داؤد کو دِل ہی دل میں داد دی ساتھ ہی اپنی بہن کی معصومیت پر جی بھر کر پیار آیا
ہاں تو سچ کہا اُنہوں نے۔۔۔۔۔اس کا مطلب ہوتا ہے۔۔۔ نیک انسان
شمع نے ہنسی روک کر کہا۔۔
لیکِن اُنہوں نے تو کچھ اور مطلب بتایا تھا۔
فلک پریشان ہو کر اُسے دیکھنے لگی
ایک لفظ کے بہت سارے مطلب ہوتے ہیں آپی۔۔۔۔۔۔
بس تم اُنہوں نے جو کہا وہ۔کرو۔۔
کم سے کم خدا کی دیے اس تحفے سے منہ مت موڑو۔۔۔۔۔
اگر اُمید نہیں لگانی تو مت لگاو۔۔۔۔ لیکِن جب تک وہ مہرباں ہے تم بھی ساتھ دے کر وفا نبھاؤ۔۔۔۔۔
شمع نے محبت سے اُس کے ساتھ لگتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ایک پل کو جو خیال پریشان کرنے آیا تھا اب وہ بھی ختم ہو گیا۔۔داؤد واقعی اُس کی آزمائشوں کا صلہ تھا
∆∆∆∆∆∆
اس نے ڈور بیل بجائی تو نیہا نے دروازہ کھولا اُسے دیکھ کر ایک پل کو حیران ہوئی اور فورًا نظریں چرا کر اُسے اندر آنے کی جگہ دی
کورٹ نا آنے کی وجہ بتا سکتی ہیں آپ۔۔۔۔۔۔۔
نیہا کے بیٹھنے کا کہنے کو نظر انداز کیے وہ پاکٹ میں ہاتھ ڈال کر کھڑا سنجیدگی سے پوچھئے لگا
آئے ایم سوری داؤد ۔۔۔۔۔۔میں فلک کا کیس نہیں لڑ سکتی۔۔۔۔۔۔
نیہا نے منہ پھیرے جواب دیا
وہ تو اب میں آپکو لڑنے بھی نہیں دوں گا ۔۔کیوں کے مجھے آپ جیسی غیر ذمےدار اور دھوکے باز وکیل کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس یہ جاننا تھا کے کتنے پیسوں میں خریدا ہے سکندر آپکو
وہ ضبط سے دانت بھینچے بولا نیہا میں غصّے سے اُسے دیکھا
اگر پیسوں سے مجھے خریدا جا سکتا تو بہت پہلے ہی وہ کامیاب ہو چکا ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضروری نہیں کے پیچھے ہٹنے والی سب دھوکے باز ہی ہو کوئی مجبور بھی ہو سکتا ہے۔۔۔
اُس نے غصے سے جواب دیا داؤد نے ابرو اچکا کر اُسے دیکھا
۔اُس نے ہاسٹل سے میرے بیٹے کو کڑنیپ کر لیا تھا۔۔۔۔۔
مجھے دھمکی دی تھی کے اگر میں کورٹ تک پہنچی تو اُسے کچھ کر دیں گے۔۔۔۔۔۔
اُس نے سر جھکائے اپنے نا آنے کی وجہ بتائی داؤد کے تاثرات ایکدم سے نرم ہوئے
آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اور آپ کا بیٹا کہاں ہے وہ ٹھیک تو ہے نہ۔۔۔۔۔۔
اُس نے فکر مندی سے پوچھا
وہ ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔اُس وقت میں کوئی ایکشن نہیں لے سکتی تھی۔۔۔اُن لوگوں نے مجھ پر نظر رکھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
میں فلک کا ساتھ دینا چاہتی ہوں داؤد۔۔۔
اس لیے کبھی نہ اُس کی دھمکی سے ڈر کر کیس چھوڑا نا اُس کی کسی لالچ میں آئی۔۔۔۔۔۔
لیکِن اب مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔۔۔وہ میرے بیٹے کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا تھا۔۔۔۔۔میں اپنی فیملی کی جان داؤ پر لگا کر فلک کا ساتھ نہیں دے سکتی۔۔۔
میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیہا نے اپنی صفائی دیتے ہوئے اپنے پیچھے ہٹنے کی وجہ بیان کی۔۔۔ وہ بے بس تھی۔۔۔۔۔
میں سمجھ سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔اینڈ آئے ایم سوری۔۔۔۔میں نے آپ سے اس طرح بات کی بغیر وجہ جانے۔۔۔۔۔میں بہُت شرمندہ ہوں۔۔۔۔
آپ کی۔جگہ میں بھی ہوتا تو وہی کرتا جو آپ نے کیا۔۔۔۔۔
آپ نے اپنی طرف سے پھر بھی بہُت کچھ کیا ہے اُس کے لیے تھینکس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد کو سچ میں افسوس ہوا اُسے غیر ذمےدار اور دھوکے باز کہنے پر
آگے کیا سوچا ہے تم نے۔۔۔۔۔۔۔۔
نیہا نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے پوچھا
فلهال میں فلک کو۔ممبئ لے جا رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔ہائے کورٹ میں اپیل کی ہے اب دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔۔۔۔اچھا میں چلتا ہوں آپ خیال رکھیے گا۔۔۔اور اگر کوئی پریشانی ہو تو بلا جھجک یاد کیجیے گا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی بات کا جواب دیتا ہوا وہاں سے جانے لگا
داؤد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیہا نے اُسے پکار کر روکا ۔
میں فلک کو دیکھ کر ہمیشہ سوچتی تھی کے شاید وہ بہت بد قسمت ہے۔۔۔۔۔
لیکن اب تمہیں دیکھ کر۔۔۔۔۔۔۔
She is so lucky۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ بھی مسکرا دیا
No۔۔۔۔۔۔I am lucky۔۔۔۔۔۔
اُس نے مسکرا کر جواب دیا اور دروازے کی طرف بڑھ گیا
∆∆∆∆∆∆
∆∆∆∆∆∆
راگا اور اُس کا ایک آدمی وارڈ بائے کے کپڑے پہنے ٹوپی کو چہرے کے آگے تک کرکے ہاسپیٹل کے اس کمرے میں داخل ہوئے جہاں جیکی کا علاج ہو رہا تھا۔۔۔
دروازے پر پولیس والے کھڑے تھے لیکِن وہ ہاسپٹل اسٹاف کو نہیں روک سکتے تھے اس لیے وہ با آسانی اندر پہنچ گئے
اُس کمرے میں کوئی نہیں تھا
صرف دو بیڈ تھے جن میں ایک پر مکمل چادر سے ڈھکا ہوا وجود پڑا تھا۔۔۔ اور دوسرے پر جیکی تھا
کچھ مشینیں چل رہی تھی
ہوش میں آکر پولیس کے سامنے ہمارا نام لیگا یہ۔۔۔۔۔۔۔مار دو اسے۔۔۔
راگا نے گن اپنے آدمی کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا وہ بندوق ہاتھ میں لے کر جوش میں آگے بڑھا اور جھٹکے سے بندوق جیکی کے سر پر تان دی۔لیکِن اُس نے محسوس کیا کے جیکی بے ہوش نہیں مردہ ہے۔۔۔
اور غور کرنے پر یہ اندازہ سہی ثابت ہوا
بھائی یہ تو پہلے سے مرا ہوا ہے۔۔۔۔۔
وہ راگا کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
راگا حیران ہوتا یا سمجھتا اُس کے پہلے ہی ساتھ والے بیڈ پر پڑے وجود نے چادر پھیک کر بیڈ سے چھلانگ لگائی۔دونوں ہڑبڑا گئے
وئیچ تو۔۔۔۔۔یہ سانبھا تو پہلے سے ہی ٹپکیلا ہے۔۔۔۔۔۔۔
اب تیرا کیا ہوگا کالیہ۔۔۔۔۔۔
وہ ایکدم سے اُس کے سامنے رکتا گن اُس کی ناک سے لگائے مسکرا کر بولا۔۔۔۔۔۔
راگا اور اُس کے آدمی نے دونوں ہاتھ ہوا میں اٹھائے
وہیں کہیں سے دونوں گارڈز بھی نکل کر باہر آئے اور اُن سے ہتھیار چھین کر اپنے تابع میں۔لیے
کون ہے تو۔۔۔۔۔۔
راگا نے اُسے دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں پوچھا اُس نے بیزاری سے منہ بنایا
سالہ جو آتا ہے وئ ڈائیلاگ مارتا ہے۔۔۔۔۔۔
کھسکیلے۔۔۔۔۔یہ کوئی ٹائم دکھتا تیرے کو جان پہچان کا۔۔۔۔۔۔۔۔اے لے کے جاؤ رے اسکو۔۔۔۔
وہ شدید غصے اور بیزاری سے بول کر گارڈز کو اشارہ کرنے لگا
گارڈ اُسے پکڑنے ہی لگا کے راگا نے ایکدم سے اُس پر حملا کرکے اُسے دھکا دیا اور بھاگنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔۔
وہ فوراً سنبھل کر کھڑا ہوا اور راگا کو آگے بڑھتا دیکھ وہاں پڑا ٹول اٹھا کر اُس پر پھینکا جو اُس کی کمر پر بری طرح لگا اور وہ کراہ کر زمین پر گرا
گجب۔۔۔۔ اپن سے ہشیاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے اُسے کالر سے پکڑ کر اٹھایا اور غصے سے دانت پیستے اُسکا سر دیوار پر مارا۔۔۔۔راگا کے ہاتھ پیر ڈھیلے ہو گئے۔۔۔حواس سن ہو گیے۔۔۔۔سر سے خون بہنے لگا۔۔۔وہ آنکھیں بند کرتا گرنے لگا تو ساحل نے اُسے گارڈ کی جانب دھکیلا
کائے کو مجبور کرتے تم۔لوگ مار پیٹ کرنے کو۔۔۔۔۔
اریسٹ کر رہے تو چپ کرکے ارسٹ ہو جاؤ نا۔۔۔۔
ہاتھ گندے کر دیے اپن کے۔۔۔۔۔
Oh god۔۔۔۔ I hate violence۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے کہتا اپنے ہاتھ کندھے پر جھٹکنے لگا۔۔۔۔گارڈز دونوں کو لے کر باہر نکلے اور اُس نے جیکی کی لاش کو دیکھ کر آنکھ دبائی۔۔۔۔۔۔
جو زندہ سے زیادہ مر کر کام آیا تھا
∆∆∆∆∆∆∆∆
وہ خاموشی سے ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔۔دل۔میں ڈر تھا کے جانے کیا ہوگا۔۔۔۔۔اُسے فلک کےساتھ دیکھ کر اور اُس کی شادی کی خبر جان کے کس پر ۔کیا گزرے گی۔۔,۔
نین کو وہ کیا جواب دیگا
کیسے سب کا سامنا کریگا
کیسے منائے گا اپنی ماں کو
فلحال تو صرف اپنی شادی کے مطلق ہی بتانا مشکل لگ رہا تھا فلک کے ماضی میں جو ہوا وہ جب سب کو معلوم ہو گا تو کیا ہوگا یہ وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا
لیکِن ایک بات تو طے تھی کے وہ فلک کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑے گا۔۔۔۔۔۔اُس پر کوئی سوال نہیں اٹھنے دیگا۔۔۔
وہ زندگی کے ہر موڑ پر اُس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر چکا تھا
فلک الگ پریشان تھی کے جانے اب قسمت اُسے کہاں لے جانے والی تھی۔۔۔۔
اور اُس کی قِسمت داؤد کو کیا کیا رنگ دکھانے والی تھی۔۔۔
∆∆∆∆\∆∆∆
