Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 46
No Download Link
Rate this Novel
Episode 46
کتنے گھنٹے یونہی گزر گئے تھے اُسے کوئی ہوش نہیں تھا جب روتے روتے تھک گئی اور ذرا سنبھلی تو اپنی جگہ سے اٹھ کے واش روم میں گئی
چہرے پر پانی کے چھپکے مارے اور خود کو کمپوز کیا
سب سو چکے تھے۔۔۔۔۔گھر کی ساری لائٹ بھی بند ہو گئی تھی۔۔۔
اسے ساحل سے معافی مانگنی نا ہوتی تو آج وہ وہیں سو جاتی۔۔۔لیکِن سوری کہے بنا تو اب نیند نہیں آنی تھی۔۔۔
بھلے وہ اپنی کہی بات پر شرمندہ نہیں تھی لیکِن ساحل کو سب کے سامنے تھپڑ مارنا اُس کے نزدیک لاکھ صفائی کے بعد بھی صحیح نہیں تھا
وہ روم میں آئی تو وہ کہیں نہیں تھا ٹیرس کی طرف سے آواز آ رہی تھی۔۔۔
اُس نے تھوڑا سا ڈور سائیڈ میں کرکے دیکھا تو ساحل اُس کا غصّہ پنچنگ بیگ پر نكال رہا تھا۔۔۔۔
اور جانے کب سے نکال رہا تھا کے آسمانی شرٹ ساری پسینے سے بھیگ کر بدن سے چپکی ہوئی تھی۔۔۔
چہرہ اور بال بھی پورے پسینے سے تر تھے۔۔۔۔۔
نین کی موجودگی کو محسوس کرکے اُس کے تیزی سے چلتے ہاتھ رکے تھے اور دو چار سیکنڈ کی تاخیر سے اتنا زور دار پنچ مارا کے پنچنگِ بیگ پھٹ گئی اور اندر بھری ریت ساری پھسل کر بہہ گئی۔۔۔
نین کی آنکھیں پوری کی پوری کھلی اور اُس نے لوز ہو کر لٹکتی پنچنگ بیگ کو دیکھ کر گلا تر کیا
اُس نے اپنے سوری کا پرگرام فورًا پوسپون کر دیا
ورنہ جتنے غصے میں وہ لگ رہا تھا اُس کی حالت بھی ویسی ہی ہو سکتی تھی۔۔۔
وہ جلدی سے پچھلے قدم لوٹ کر روم میں آگئی اور بیڈ پر بیٹھ کر زور زور سے سانس لینے لگی۔۔۔۔۔۔۔
اب واقعی ڈر لگ رہا تھا کہ وہ اُس تھپڑ کا بدلہ لینے کے لیئے پتہ نہیں اُس کے ساتھ کیا کرےگا۔۔
وہ سوچ ہی رہی تھی کے کیسے خود کو تیار رکھے اُس سے مقابلے کے لیے کے تبھی وہ روم میں آیا ۔۔۔۔۔۔۔
نین فورًا سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔
ساحل کے سخت تیور دیکھ کر اُس کی جان ہوا ہو رہی تھی۔۔۔۔۔دل زوروں سے دھک دھک کر رہا تھا
ساحل نے اُسے اگنور کیے اپنی بھیگی شرٹ نکال کر صوفے پر پھینکی۔۔۔۔
اُس کے بازو دیکھ کے نین نے لبوں پر زبان پھیری کیوں کے اس ہاتھ کا تھپڑ اگر پڑتا تو وہ سیدھی دنیا سے ہی اٹھ جاتی۔۔۔۔
وہ اُس کی سوچ سے بے خبر وارڈروب سے کپڑے لے کر واشروم میں گھس گیا۔۔۔
نین نے اُسے جاتے دیکھ رکی سانس خارج کی۔۔۔
ایک سوچ آئی کے اُس کے باہر آنے سے پہلے سوجائے لیکن پھر خیال آیا اگر اُس نے سوتے میں کچھ کردیا تو ۔۔۔۔۔۔
اٹھا کر کہیں پھینک آیا تو
ایک سوچ آئی کے روم سے نکل جائے لیکِن پھر خود ہی نفی کی کے اس طرح تو وہ اُسے ڈرپوک سمجھے گا اور وہ ڈرپوک تھوڑی تھی وہ تو بہت بہادر تھی۔۔۔۔
وہ الگ بات تھی کے یہ سوچتے ہوئے اُس کا چہرہ خوف سے پیلا پڑ رہا تھا
😂
لاکھ سوچنے کے بعد بھی اور کوئی آئیڈیا نہیں سوجھا تو اُس نے احتیاط کے طور پر کانچ گلدان بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پر رکھ لیا کے اب جو ہوگا دیکھا جائیگا۔۔۔۔اور نوبت آئی تو گلدان کی مدد لی جائے گی۔۔۔۔۔۔
ساحل شاور لے کر باہر نکلا تو وہ بہادری دکھاتی بیڈ پر تکیے درست کرتی وہاں لیٹ گئی۔۔۔
اور یوں ظاہر کیا جیسے اُسے تو کچھ پڑی ہی نہیں ہے جب کے گھبراہٹ سے پیر کانپ رہے تھے۔۔
اور کن انکھیوں سے بار بار اُسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہاتھ سے بالوں کا پانی جھٹکتے ہوئے اُس کی جانب ہی بڑھنے لگا تو دکھاوے کی بہادری بھی چھو ہو گئی
بیڈ تک پہنچا کے وہ ایکدم سے اٹھ کر بیٹھی اُسے خوفزدہ نظروں سے دیکھتے ہوئے
بلیک ٹی شرٹ کی آستین سے اُس کے نمایاں ہوتے بازؤں کی رگیں واضح نظر آرہی تھی۔۔۔
ساحل نے اُس کی طرف ہاتھ بڑھایا تو جلدی سے چہرے پر ہاتھ رکھ لیے۔۔۔۔
اُس نے دانت پیس کر اُسے گھورا اور اُس کے قریب سے تکیا اٹھا لیا
ٹینشن مت لے تھپڑ کا بدلہ نہیں لوں گا تیرے سے
وہ اُس کے چہرے پر رکھے ہاتھوں کو دیکھ کر بولا تو نین نے پہلے ایک ہاتھ صرف آنکھ سے ہٹا کر اُسے دیکھا اور اُس کے ھاتھ میں تکیا دیکھ شکر کرتی دونوں ہاتھ ہٹا گئی
اپن کا بھی سالہ کوئی اسٹینڈ ر ہے تیرے جیسی بکری پر ہاتھ اٹھا کر ڈاؤن نہیں کرسکتا
وہ اُسے جتاتے ہوئے بولا اور صوفے کی طرف بڑھ گیا
تم نے مجھے بکری کہا۔۔۔
وہ اٹھ کے اُس کے پیچھے آئی حیرت سے کہتی
وہ تکیا صوفے پر ڈال کر اُس کی طرف پلٹا
دھیرے بول کسی بکری نے سن لیا تو برا مان جائے گی
عمر بھر بدعائیں دے گی میرے کو۔۔۔۔
وہ اُسے آنکھیں دکھاتے ہوئے بولا نین لا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا
دیکھو ماما کے بیٹے میرے منہ مت لگو۔۔۔۔
اُس نے غصے سے کہا
منہ لگنے کے لیے سامنے والا کا منہ بند بھی ہونا چاہیے۔۔ تو تو شروع ہو کر بند ہونے کہا نام نہیں لیتی
ویسے بھی تیرے منہ لگنے سے بہتر میں زہر کو منہ لگا لوں
وہ فوراً اُس کی بات کاٹ کر بیزاری سے بولا
یہ ٹو مچ ہو رہا ہے ہاں۔۔۔۔۔۔
نین نے ضبط سے مُٹھی اور دانت بھینچے
یہ ٹو مچ تیری مچ مچ سے تو اچھا ہی ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں گھما کر بولا
اللہ کرے تمہارے سر پر کوئی چڑیل آکر بیٹھ جائے
وہ نے حد جھنجھلا کر چلّائی
بیٹھ تو گئی تو آکر۔۔۔اب تیرے ہوتے کس چڑیل کی ہمت ہوگی
وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھے اطمینان سے بولا
نین نے آنکھیں بند کرکے کھولیں
او گاڈ۔۔۔ اگر میں کسی جن شیطان سے بھی شادی کرتی نا تب بھی اتنی پریشان نہیں ہوتی جتنی تم سے شادی کرکے ہوں۔۔۔۔
وہ چینخ پڑی جا کے بیڈ سے پلو دور تک پھینکا
خون کے رشتوں میں شادی نہیں ہوا کرتی۔۔۔۔۔۔
وہ لاپرواہی سے کہتا لائٹ بند کرکے صوفے پر لیٹ گیا
پتہ ہے ۔۔۔۔ورنہ کیا میں تم جیسے ایلین سے شادی کرتی۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے منہ چڑا کر بولی ساحل نے کان پر تکیہ رکھ لیا مطلب نا اب کچھ سننا نا کہنا تھا
راؤڈی ۔۔۔۔۔تم وہاں کیوں سوئے یہاں آو اپنی جگہ پر لیٹو
وہ اُسے وہاں سوتے دیکھ سب بھول کر سنجیدگی سے بولی ساحل سے تکیا چہرہ سے ہٹایا
پاگل سمجھی اپن کو تیری جیسی گدھی کے ساتھ سویا تو لات مار۔مار کر بیٹھنے کے قابل نہیں چھوڑے گی
وہ غصے سے اسے گھور کے بولا
افسوس لیکِن سونا تو پڑیگا۔۔۔۔۔۔
وہ معصوم صورت بنا کر پلکیں جھپکتے ہوئے بولی
ورنہ کیا کرلیگی۔۔۔۔۔۔
ساحل نے سنجیدگی سے دیکھا
ورنہ میں بڑے ماما کو بلاؤں گی کے آکر تمہیں لوری سنائے۔۔۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولی دل جلانے والے انداز میں
تُو پاگل ہے کیا کیوں میرے کو اُدھر ہی سلانے کے پیچھے پڑی رہتی۔۔۔۔۔۔
وہ عاجز ہو کر غصے سے بولا
کیوں کے مجھے یہ ڈیلی سوپ والے نخرے بلکل اچھے نہیں لگتے بحث مت کرو یہاں آؤ۔۔۔
وہ آنکھیں گھما کر کہتی اُس کی جگہ سے كمفرٹر ہٹانے لگی وہ اُسے گھورتا رہا
اچھا نہ اب کک نہیں ماروں گی آجاؤ۔۔۔۔۔
وہ احسان کرنے والے انداز میں بولی وہ پیر پٹخ کر بیڈ پر آکر اپنی جگہ لیٹ گیا۔۔۔۔۔
ورنہ وہ ساری رات اُس کا سر کھا تی ۔۔۔نا خود سوتی نا اُسے سونے دیتی
بھلے وہ نارمل بی ہیو کر رہا تھا لیکن اندر لگی آگ اب تک ٹھندی نہیں پڑی تھی۔۔۔۔
کہیں نہ کہیں بہت برا لگ رہا تھا اُس کا یہ کہنا کے اُس کے نزدیک اس شادی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔۔۔۔۔
وہ نہیں جانتا تھا کیوں لیکِن وہ یہ بات برداشت نہیں کر پا رہا تھا کے وہ داؤد کو چاہتی ہے
ماما کے بیٹے۔۔۔۔۔
نین نے اُسے دھیرے سے پکارا لیکِن اُس نے جاگتے ہوئے بھی جواب نہیں دیا ۔۔۔۔۔ نا آنکھیں بند کی اسی زاویے پر دیکھتا رہا
۔۔۔۔آۓ ایم سوری۔۔۔
مجھے تمہیں ایسے تھپڑ نہیں مارنا چاہئے تھا۔۔۔۔۔۔
وہ ندامت بھرے لہجے میں بولی۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے تب بھی کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔۔۔
لیکن نین کو پتہ تھا وہ جاگ رہا ہے اس لیے اپنی بات کہہ کر پر سکون ہو گئی
ایک بات بتا۔۔۔۔۔۔۔
وہ چند پل کی خاموشی کے بعد دھیرے سے بولا نین نے آنکھیں بند کرتے کرتے کھول دیں
تُو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیار ویار کرتی ہے کیا داؤد سے۔۔۔۔۔
وہ بنا اُس کی طرف پلٹے سنجیدگی سے پوچھنے لگا۔۔
پتہ نہیں۔۔۔۔۔ لیکِن اگر میں اُس سے پیار نہیں کرتی تو اُس کے خواب کیوں دیکھتی۔۔۔۔۔اُس کے جانے سے مجھے اتنی تکلیفِ کیوں ہوتی۔۔۔۔۔۔
نین اُس کے گھنے بالوں پر پر سوچ نظریں جمائے دھیرے سے بولی
ساحل نے کروٹ بدل کر رخ اُس کی جانب کیا
کونسے خواب دیکھے تونے داؤد کے۔۔۔۔۔۔۔۔
لیمپ کی مدھم روشنی میں اُس کے چہرے کو دیکھتا پوچھنے لگا۔۔۔۔
میں جو اپنے میڈیکل گریجویشن کے خواب دیکھتی تھی اُس میں داؤد ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔
میرے گول گپے والے خواب میں بھی وہ تھا۔۔۔۔۔
وہ افسوس بھرے لہجے میں بولی ساحل نے اُسے گھورا
ایڑی۔۔۔۔۔صحیح سے بتانا۔۔۔۔ڈیٹیل میں۔۔۔۔۔۔
وہ بدمزہ ہو کر بولا
جیسے میرے گریجویشن ڈے پر کالج میں میرا نام اناونس ہو رہا ہے۔۔۔میں نے ٹاپ کیا ہے۔۔۔۔پرنسپل سر میری تعریف کر رہے ہیں۔۔۔
مجھے میئر سر بیسٹ سٹوڈنٹ کا ایوارڈ دے رہے ہیں
سب میرے لیے تالیاں بجا رہے ہیں اور داؤد بھی ہے وہاں وہ بھی تالیاں بجا رہا ہے۔۔۔۔۔
وہ اُسے اپنا ہمیشہ والا خواب سناتے ہوئے بولی ساحل نے بیڈ پر رکھے اُس کر ہاتھ کو دیکھتے ہوئے اُسے چھونے کو خواہش کو بمشکل روکا
بس اتنا ہی ہے یہ اور بھی۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے اُس کے چُپ ہونے پر پوچھا
بس اتنا ہی۔۔,۔۔۔۔۔
نین نے سر ہلا دیا
تُو نا سچ میں کھسکیلی ہے۔۔۔۔۔
تیرے اس سپنے میں داؤد ہے تو مطلب تیرے کو اُس سے پیار ہے۔۔۔
وہ تکیے کو ٹھیک کرکے اونچا ہوتا ہوئے بولا ۔۔۔۔ اور یہ کہتے ہوئے خود کو زیادہ یقین دلا رہا تھا۔۔۔نین اُسے نا سمجھ انداز میں دیکھنے لگی
تب تو تجھے پرنسپل سے بھی پیار ہے۔۔۔کیوں کے وہ بھی ہے تیرے سپنے ہے۔۔۔۔۔۔اور باقی میئر اور جو تالی بجا رہے اُن سب سے پیار ویار ہے تیرے کو۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی بات پکڑ کر اپنی مرضی کے معنی اخذ کرتے ہوئے بولا نین نے برا سامنہ بنایا
کیا فضول بکواس ہے۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے کیوں ہوگا اُن سب سے پیار۔۔۔۔۔۔
وہ چڑ کے بولی
تو داؤد سے کیسے ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے سنجیدگی سے پوچھا ۔۔۔
اُسے کوئی جواب نہیں سوجھا
لیکِن داؤد نے رشتا توڑا تو مجھے ہرٹ ہوا نہ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بے بسی سے بولی
کیوں کے تیرے دِماغ سے یہ بات ہضم نہیں ہو رہی کے وہ تیرے کو ریجیکٹ کر کے گیا ہے۔۔۔۔۔
تم سب عورت لوگوں کا پرابلم سیم ہے۔۔۔۔۔کوئی کتا بھی تم کو چھوڑ کے پیچھے والی کو سونگھنے چلا جائے نا تو تب بھی ایسے ہی روتی ہے۔۔۔۔
وہ اُسے تفصیل سے وجہ سمجھاتے ہوئے بولا
ماما کے بیٹے۔۔۔۔۔۔۔۔آۓ ایم ناٹ عورت ۔۔
نین نے عورت کہے جانے پر آنکھیں دکھائی
تو کیا مرد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے سر کو جنبش دے کر پوچھا نین نے اسے سخت نظروں سے گھورا
اچھا ایک بات بتا۔۔۔۔۔۔۔داؤد تیکو بھابھی کے لیے نہیں چھوڑتا۔۔۔۔
اگر کسی اور وجہ سے چھوڑتا۔۔۔
مطلب ایسا سوچ کے داؤد کو کوئی خطرناک والی بیماری ہوجاتی۔۔۔۔
ایڈز جیسی۔۔۔۔
وہ سوچتا ہوا بولا
اللہ توبہ۔۔۔۔۔۔۔
نین نے اُس کی بات پر منہ پر ہاتھ رکھ لیا
سن نا۔۔۔۔۔۔۔مطلب کوئی بھی بیماری
۔جو تیرے سے شادی کرنے سے تیرے کو بھی لگ سکتی ۔۔۔۔اور تب وہ تیرے سے شادی کرنے سے منع کر دیتا کیا تب بھی تیرے کو اتنا ہی برا لگتا۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے سنجیدگی سے پوچھا تو نین سوچ میں پڑ گئی صاف جواب تھا کے نہیں لگتا برا لیکن اتنی آسانی کہہ کیسے سکتی تھی
اچھا اُس کے بعد بھی تو اُس سے شادی کرتی کیا۔۔۔۔۔تیرے کو خطرہ ہے تو بھی جاتی اس کے ساتھ۔۔۔۔
وہ اُس کے خاموش رہنے پر دوبارہ پوچھنے لگا
کبھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔جان بوجھ کر زِندگی خطرے۔میں کیوں ڈالتی اپنی۔۔۔۔
وہ فوراً بولی ۔۔۔۔اور اُس لحمے ساحل کو حقیقت میں اطمینان محسوس ہوا۔۔۔
کیوں کے بھلے ہی اُس کی باتیں ساری فضول تھی لیکن اس آخری بات پر تو اُس نے خود کو یقین دلایا دیا تھا کے نین داؤد سے کم سےکم محبت نہیں رکھتی
تو پھر کیا تیرے کو گھنٹہ پیار ہے اُس سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔سونگ کر رہی ہے خالی فوکٹ کے۔۔۔۔۔
سوجا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پرسکون ہو کر بات ختم کرکے اُسے جھڑکتا کروٹ بدل گیا جب کے اب وہ بڑی کشمکش میں تھی۔۔۔ساحل کی باتیں صحیح بھی لگ رہی تھی اور اپنا درد غير معمولی بھی لگ رہا تھا۔۔
لیکِن جب اُس نے خود سے سوال کیا کے کیا واقعی وہ داؤد کے کسی اور وجہ سے چھوڑ جانے پر اتنی ہی دکھی ہوتی تو جواب وہی ملا جو اُس نے ساحل کو دیا تھا۔۔۔۔
لیکِن وہ تب بھی بہُت بے چین تھی اس کشکش سے۔۔۔۔
راؤڈی۔۔۔۔۔تم گانا بہُت اچھا گاتے ہو۔۔۔۔۔سناؤ نا پلیز۔۔۔۔
وہ اچانک دھیان آنے پر بولی
میں اور گانا۔۔۔۔۔جاگتے میں خواب دیکھ رہی ہے۔۔۔۔۔۔
اُس نے آنکھیں بند رکھے ہی جواب دیا
بنو مت۔۔۔۔۔۔اُس رات گایا تھا تم نے۔۔۔۔۔۔۔گاؤ نا پھر سے
نین نے اُس کے بازو پر ہاتھ رکھے ریکوسٹ کی
ساحل نے اُس کی طرف دیکھ کر اُسے گھورا سائیڈ ٹیبل سے اُس کا فون اور ہینڈ فری اٹھا کر اُس کے ہاتھ میں تھمائی
یہ سن اور سونے دے مجھے۔۔۔۔۔۔
بیزاری سے کہتا واپس لیٹ گیا اور نین نے منہ بنا کر ہینڈ فری لگا لی۔۔۔تاکہ فلحال اسی سے کام چلا لے
∆∆∆∆∆∆∆
وہ نیند سے جاگی تو خود کو داؤد کے بے حد قریب پایا وہ اُسے اپنے حصار میں لیے سویا تھا۔۔
فلک کو اُس کی بند آنکھوں کے باوجود شرم نے آن گھیرا۔۔۔۔
اُس نے داؤد کا ہاتھ اپنے اوپر سے ہٹانے کی کوشش کی لیکن بدلے میں اُس کی گرفت اور سخت ہوتے پایا۔۔۔
وہ اُسے مزید خود میں بھینچنے لگا تو وہ گڑبڑا گئی۔۔۔۔
دور ہونے کی کوشش بھی چھوڑ کر اب خاموشی سے پڑی اُس کے چہرے کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔
داؤد کو دیکھ کر اُسے سو بار بھی اپنی قسمت پر رشکِ ہی محسوس ہوتا تھا کیوں کہ وہ بہُت خاص تھا۔۔۔۔۔چاہے جانے کے قابل۔۔۔۔
اور اُس کے لیے تو اور زیادہ۔۔۔
کیوں کے اس کی بھٹکتی زندگی کو خوبصورت رخ دیا تھا داؤد نے
اُس کے غم سمیٹ لیے تھے
اور جو خواہشیں اور احساس دم توڑ چکے تھے اُنہیں دوبارہ بیدار کیا تھا
وہ اب پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔۔۔۔
وہ اب خود کو کمتر محسوس نہیں کرتی تھی
اب اُسے اپنے چار لوگوں کی نظر میں آنے سے خوف نہیں آتا تھا
داؤد کی قربت بری نہیں لگتی تھی
اب سب بدل گیا تھا۔۔
وہ اُسے دیکھنے میں اتنی مصروف تھی کے اُسے داؤد کے جاگنے کا بھی احساس نہیں ہوا۔۔۔
جب کے وہ صبح صبح اُسے اس قدر خود میں مگن دیکھ خوشی سے نہال ہو گیا۔۔۔۔۔
دھیرے سے آگے بڑھ کر اُس کی ناک کو لبوں سے چھوتے ہوئے اُسے اُس کی اہمیت کا احساسِ دلایا۔۔۔۔
وہ چونک کر ہوش میں آئی اور کمسا کر اُس کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔
کہاں مائے لوو۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے اُس کی کوشش ناکام کرتے ہوئے مسکرا کر پوچھا۔۔۔۔۔۔
نماز پڑھنے۔۔۔
اُس نے جواب دیا جسے سن کر داؤد کو نے تحاشہ حیرت کے ساتھ خوشی بھی ہُوئی۔۔۔۔۔۔
وہ بے یقینی سے اُسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔
اب مجھے اپنا آپ نا پاک نہیں لگتا۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی حیران نظروں میں دیکھتے ہوئے بولی
داؤد کی حیرت سنجیدگی میں بدلی۔ وہ اُس سے مزید کچھ سننے کے انتظار میں تھا
اب دنیا کی نہیں۔۔۔۔۔۔آپ کی نظر سے دیکھتی ہوں خود کو۔۔۔۔۔۔۔
وہ نظریں جھکائے بولی داؤد نے اُسے خود میں بھینچتے ہوئے اُس کی پیشانی کو لبوں سے چھو کر اُسے آزاد کیا۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
نماز کے بعد سوئی تو پھر اُس کی آنکھ ساحل کے بڑبڑانے سے ہی کھلی تھی۔۔۔۔اُس نے جھنجھلا کے پیر پٹخے اور کروٹ بدل کر سونے کی کوشش کی لیکن ساحل کی بڑبڑا ہٹ جاری تھی جس کے بدولت سونا بڑا مشکل تھا
لیکن ساحل کی بڑبڑا ہٹ واضح سننے کے بعد تو اُس کی نیند چھو کر کے اُڑ گئی تھی۔۔۔وہ ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھی اور صدمے سے اُسے دیکھنے لگی جو کہہ رہا تھا
اے اوپر والے۔۔۔ماما کی بھانجی کو اٹھا لے۔۔
وہ نیند میں بلکل صاف بڑبڑا رہا تھا نین نے اُسے حیرت سے دیکھ اُنگلی دانتوں میں دبائی
سو رکعت شکرانہ پڑھوں گا۔۔۔۔۔۔
وہ بھنچی آواز میں بولا۔۔۔۔نین نے اُس کا گلا دبانے کی شدید خواہش کو بمشکل مٹھیاں بھینچ کر ضبط کیا
میرے خدا۔۔۔کیا دھڑلے سے میرے مرنے کی دعائیں مانگ رہا ہے یہ کمینہ آدمی۔۔۔۔۔۔ وہ بھی خوابوں میں۔۔۔۔
وہ معصوم شکل پر سلوٹیں ڈالے بے چارگی سے بڑبڑائی۔۔۔
یا اللہ ۔۔۔پلیز اس راؤڈی کی دعا قبول مت کرلینا۔۔۔۔۔۔۔۔میں مرنا نہیں چاہتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جلدی سے اوپر دیکھ کر بولی تب دوبارہ ساحل کی آواز آئی
سو بھوکوں کو بریانی کھلاؤں گا۔اس کے چوتھے پر۔۔۔
وہ اُس سے چھٹکارے کی ہر قیمت چکانے کو تیار تھا نین کی آنکھوں میں غصے سے چنگاریاں بھرنے لگی۔۔۔۔
کتنا سوچا تھا کے آج اسے لات نہیں ماروں گی۔۔۔۔۔
لیکِن یہ لات کا بھوت لات سے ہی مانے گا۔۔۔۔۔۔
مرے گے میرے دشمن ۔۔۔۔یعنی تم وائلڈ مین۔۔۔۔۔
وہ دانت پیس کر اُسے دیکھتی اپنی جگہ لیٹی اور کک کو لوڈ کرتے ہوئے آنکھیں بند کرکے ایک زور دار دھکّا روز والے نشانے پر لگایا ۔۔۔
لیکِن اگلے ہی پل اُسے کچھ غلط ہونے کا اندازہ ہوا۔۔۔۔کیوں کے لات کو آج روز والی فیلنگ نہیں آئی تھی
اُس نے ہلکی سی آنکھیں کھولیں۔۔۔۔۔اور وہ کھلی کی کھلی رہ گئیں جب ساحل کا رخ اپنی جانب دیکھا اُس کی آنکھیں صدمے سے پھیلی دیکھی۔۔۔۔۔
اُسے دونوں ٹانگوں کو سختی سے بھینچ کر گھٹنوں کو اوپر پیٹ تک کیے دیکھا۔۔۔
ایک۔پل لگا سمجھنے میں کے وہ اُس کے آنکھیں بند کرتے ہی کروٹ بدل چکا تھا اور غلط نشانہ کچھ زیادہ ہی غلط جگہ جا کر لگا تھا۔۔۔۔
او۔۔۔۔۔نو۔۔
وہ دونوں ہاتھ منہ پر رکھے ایکدم۔سے اٹھ بیٹھی
وہ۔اُس کی لات کے زور سے تو نیچے نہیں گرا لیکن صدمے کے اثر سے ضرور پیچھے لڑھک کر زمین بوس ہو گیا۔۔۔
نین بھی ہڑبڑا کر اپنی جگہ سے اٹھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُس کی طرف بھاگی
وہ زمین پر پڑا۔۔۔۔لب سختی سے بھینچے زور زور سے زمین پر مکے مار رہا تھا۔۔ ٹانگوں کو اُسی پوزیشن میں رکھے۔۔۔اُسے لگا تھا وہ اُسے بیٹھنے کے قابل نہیں چھوڑے گی لیکن وہ تو اُسے کِسی بھی قابل نہیں چھوڑ رہی تھی
سوری سوری سوری ۔۔,۔۔۔۔۔۔۔
وہ بھاگ کر اُس کے پاس پہنچی۔۔۔۔۔ایک سانس سے سوری کی رٹ لگاتی اُس کے پاس بیٹھی۔۔۔۔۔
او نو ۔۔۔۔۔۔میں تو پیچھے مارنے والی تھی تمہیں ابھی پلٹنا ضروری تھا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی غلطی میں بھی اُس کی غلطی ڈھونڈھتی اُسے سنانے لگی تو ساحل نے اتنی سخت مشکل میں ہونے کے باوجود اُسے خوں خوار نظروں سے گھور کر دیکھنا ضروری سمجھا جب
کے منہ بند ہی رکھا ورنہ کھلتا تو ضرور گالی نکل جاتی
نین نے زبان دانتوں میں دبائی۔۔۔۔اور اُس کا بازو سہلانے لگے
سوری یار۔۔۔۔۔سو سوری۔۔۔۔۔غلطی سے ہوا۔۔۔۔ سچ میں۔۔۔۔۔۔۔۔بہُت زور سے لگی کیا۔۔۔۔۔دکھاؤ نا مجھے۔۔۔۔۔
وہ اس ایکشن کے ری ایکشن کا سوچ کر گھبراتی مسلسل اُس کا بازو سہلا کر بولتی گئی
دکھاؤں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی آخری بات پر ساحل نے اُسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ کر دانت پیستے ہوئے پوچھا
نن۔۔۔نہیں مت دکھاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہڑبڑا کر بولی۔۔۔۔۔اُسے لگ رہا تھا ساحل اُسے آنکھوں سے نگل لیگا ۔۔۔جب کے وہ گہرے گہرے سانس لیتا اُس کا ہاتھ اپنے بازو سے جھٹک کر سیدھا ہونے لگا
سوری نا۔۔۔۔۔۔سچ میں غلطی سے ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سخت ندامت محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔اوپر سے گھبراہٹ بھی ہو رہی تھی
دور ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے اُسے جھڑک کر پیچھے کیا اور منہ سے سانس لیتا اٹھ کر وشروم میں چلا گیا۔۔۔۔۔۔
نین نے اُسے جاتے دیکھ اپنے ماتھے پر زور سے ہاتھ مارا ۔۔۔۔۔
کک مارنے والے پل کو یاد کرکے خطرناک جھرجھری لی
اُس کےباہر آنے تک وہ روم میں چکر پر چکر کاٹتی رہی۔۔۔
ساحل نم چہرے کو ٹاول سے صاف کرتا باہر نکلا تو فورًا الرٹ ہو گئی۔۔۔۔
ساحل نے خمشگیں نظروں سے اُسے گھورا
Everything is ok na mama ke bete۔۔۔۔
وہ اُسے مشکوک نظروں سے دیکھتی تفتیشی انداز میں پوچھنے لگی
تیری ایوری تھنگ کی تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل غصے سے اُسے دیکھ کر ٹاول پھینک کر اُس کی طرف بھاگا
ممی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کا ارادہ بھانپ کر نین نے آنکھیں پھاڑ کے دروازے کے باہر دوڑ لگائی۔۔۔
وہ بھی اُس کے پیچھے بھاگا۔۔
نین اوپر فلور پر ہی سیدھی سیدھی بھاگتی گئی اور وہ اُس کے پیچھے پیچھے تھا۔۔
جب کے اُس فلور کے آخری کمرے کے بعد وہ ڈیڈ اینڈ پر آگئی تھی اور آگے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں تھا مطلب وہ پھنس گئی تھی
پیچھے پلٹ کر دیکھا تووہ اُسے خطرناک تیوروں سے دیکھتا اُس کے بلکل سامنے کھڑا تھا۔۔
آج تو تیری ٹانگوں کی گیم بجا کے رہوں گا۔۔۔۔۔
وہ ٹی شرٹ کا گلا پکڑ کر اُسے کالر کی طرح جھٹکتے ہوئے بپھرے شیر کی مانند اُس کی طرف بڑھا
رک جاؤ راؤڈی۔۔۔۔۔۔۔تمہیں تمہارے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہڑبڑا کر کہتی ایک سیکنڈ کو رک کر آس پاس دیکھنے لگی
ڈولوں کی قسم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور نظر اُس کے بائیسیپ پر پڑتے ہی جلدی سے بات پوری کی۔۔۔۔۔۔
ساحل دانت بھینچے اُس کے قریب پہنچا۔۔۔۔
نین نے معصومیت سے دونوں ہاتھ اوپر کرکے اُس کے آگے سرینڈر کر دیا۔۔۔
وہ اپنی جیت پر خوش ہوتا اُس کے پہلے ہی نین نے انہیں ہاتھوں کو اُس کے سینے پر رکھے اُسے پیچھے دھکیل دیا اور اُس کے ذرا سے پیچھے ہوتے ہی وہاں سے بھاگی
اب کے وہ سیدھا سیڑھیوں سے نیچے بھاگی۔۔۔۔تاکہ پھنسنے کا کوئی چانس نا رہے
ساحل بھی اُس کی چالاکی پر مٹھیاں بھینچ کر اُس کے پیچھے لپکا
بڑے ماما۔۔۔۔۔۔نانو۔۔۔۔۔ بھابھی۔۔۔۔۔۔کوئی بچاؤ مجھ اس ایل ایل سے۔۔۔۔
وہ سب کونیچے دیکھ کر ایک ایک سے مدد کی گہار لگاتی ساتھ بھاگ بھی رہی تھی اور ساحل بھی بنا کِسی کی پرواہ کیے اُس کے پیچھے لگا ہوا تھا۔۔۔۔
دونوں صوفے ٹیبل کرسی ہر چیز کو پار کرکے چوہا بلّی کی طرح بھاگ رہے تھے
اور وہاں موجود سارے لوگ جو کچھ دیر پہلے رات والے واقعے کو لے کر پریشان تھے اب صدمے سے دونوں کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
جو بیٹھتے تھی وہ کھڑے ہو گئے جو جہاں تھے وہیں رہ گئے۔۔۔۔داؤد فون پر بات کرتے کرتے رک گیا۔۔۔۔۔شیرین خوشی کی پونی بناتے بناتے رک گئی
فلک دادی کو چائے دیتے دیتے رک گئی
عباس صاحب پیپر کا صفحہ پلٹتے پلٹتے رک گیے
رابعہ بیگم فلک کو گھورتے گھورتے رک گئیں
غرض سب فریز ہو گئے سوائے دونوں کے
نین اُس کے کسی طرح ہاتھ نہیں آرہی تھی اور وہ بهی ہار ماننے کو تیار نہیں تھا
کبھی صوفے کے اوپر کبھی کرسی کے پیچھے کبھی ٹیبل کے اطراف بس بھاگم بھاگ جاری تھی
رک جاؤ دونوں۔۔۔۔۔یہ سب ہو کیا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔کوئی بتائے گا۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب ہوش میں آتے غصے سے بولے نین رک کر فوراً اُن کے پیچھے آگئی
بڑے ماما۔۔۔۔۔۔دیکھیے نا کیسے میری جان کے پیچھے پڑا ہے یہ ر اکشس۔۔۔۔
وہ ساحل کو اپنے پاس آتے دیکھ اُنہیں ڈھال بنا کر تیز سانسوں سمیت معصومیت سے بولی ساحل نے دانت پیس کر اُسے پکڑنا چاہا لیکن عبّاس صاحب کی وجہ سے رکنا پڑا۔۔۔بھاگ بھاگ کر اُس کی بھی سانسیں پھول رہی تھی
ساحل۔۔۔۔۔۔کیا حرکت ہے یہ۔۔۔۔۔۔کیوں پریشان کر رہے ہو نین کو۔۔۔۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب اُسے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگے
پہلے آپ اس سے پوچھو کیا کیا اس نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری لائف کی ماں بہن کر رکھی اس بھوتنی نے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تیز سانسوں کو قابو کرتا غصے سے بولا۔۔۔وہ نکل کر سامنے آئی کیوں کے عبّاس صاحب کے ہوتے کوئی خطرہ نہیں تھا
بڑے ماما میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔میں تو اچھے سے سوئی تھی۔۔۔یہی ایکدم سے نیند سے اٹھ کر میرے پیچھے پڑ گیا ۔۔۔
وہ معصومیت کے ریکارڈ توڑتے ہوئے بولی۔۔۔سب ہی بڑے تجسس و دلچسپی سے اُنہیں دیکھ رہے تھے اور رابعہ بیگم ناگواری سے
جھوٹ بول رہی ہے یہ شانی۔۔۔۔۔۔۔۔تیری تو۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے اُس کی طرف بڑھنے لگا لیکن عبّاس صاحب کے آنکھیں دکھانے پر رک گیا
اچھا تو بتاؤ کیا کیا میں نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھے دھٹائی سے اُس کے مقابل آئی
تونے میرے کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے بولتے بولتے ایکدم رك گیا اُنگلی بھی جہاں کی وہیں رک گئی
ایک نظر اپنے چاروں طرف ڈالی اور لب بھینچے اب اُن سب کے سامنے کیا بتاتا کے صبح صبح اُس پر کونسی قیامت ٹوٹی ہے
چُپ کیوں ہو گئے بتاؤ نا سب کو کے کیا کیا میں نے تمہارے ساتھ۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی بے بسی کا فائدہ اٹھا کر مزید پھیل گئی پھر اب سب کا سپورٹ بھی تھا
ساحل نے سرد نظروں سے اُسے گھورا
بتاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شیرین بھی بے صبری سے بول پڑی وہ سر جھکا گیا۔۔۔
کیسے بتائے گا بھابھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔بولتی جو بند ہو گئی ہے،۔۔۔۔۔۔
وہ ہنس کر بولی ساحل نے ایکدم سے سر اٹھا کر اُسے دیکھا تو فوراً دانت اندر کر لیئے
تیرے کو تو آج میں نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گردن ہلا کے کہتا اُس کی طرف بڑھا اور بغیر کوئی لحاظ کیے اُسے اپنے کندھے پر اٹھا لیا۔۔۔۔۔
اُس کے چھکّے چھوٹ گئے۔۔۔۔صدمے سے گنگ ہو گئی۔۔۔۔
عشرت اور شیرین نے ہاؤ کرتے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔۔۔۔۔۔
دادی نے مسکراہٹ دبائی۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد بھی ہنس دیا
عبّاس صاحب کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا
وہ سب کو نظر انداز کیے اُسے اٹھائے سیڑھیوں کی طرف بڑھا
اچھا ہوا زینب پھُوپھی یہ سب دیکھنے سے پہلے ہی واپس چلی گئیں۔۔۔۔۔
شیرین صدمے کی کیفیت میں بڑبڑاتی ہوئی اُنہیں دیکھنے لگی
چھوڑو مجھے یو جنگلی۔۔۔راؤڈی۔۔۔۔کمینے۔۔۔۔ایل ایل کہیں کے۔۔نیچے اتارو
وہ اُس کے کندھے پر زور زور سے مکے مارتی دونوں پیر ہلا ہلا کر اُس کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔لیکن ساحل پر کوئی اثر نہیں ہوا
وہ اُسے اٹھا کر اوپر روم اور روم سے سیدھا ٹریس کی طرف لے آیا
بارڈر لائن پر بنی چھوٹی دیوار کے پاس لاکر نیچے اُتار تے ہوئے سیدھے دیوار پر بٹھایا اور بلکل اُس کے سامنے کھڑا رہا اُس کے دونوں بازو سختی سے جکڑے تاکہ وہ بھاگنے کی کوشش بھی نہ کر سکتے
بول پھینک دوں یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسے پیچھے دھکّا دینے کا مصنوعی ایکشن کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔۔۔
وہ خوف سے اُسے دیکھتی فورًا اُس سے لپٹ گئی۔۔۔۔سر اُس کر سینے سے لگائے دونوں ہاتھوں سے اُسے جکڑ لیا
۔۔۔وہ بری طرح چونک گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔نین کے بازؤں پر گرفت خود بخود چھوٹ گئی۔۔۔۔
اُس کے نرم نازک وجود کے اثر سے دل دھڑکتے دھڑکتے رک گیا
ساحل مجھے مت پھینکنا پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔سوری آگین۔۔
اُسے اونچائی سے ویسے بھی ڈر لگتا تھا اور اس وقت تو بہت زیادہ لگ رہا تھا۔۔۔
وہ ساکت کھڑا تھا۔۔۔کچھ سوجھ نہیں رہا تھا کیا کرے۔۔۔۔۔
چھپکلی دور ہو۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے ایکدم سے جھنجھلا کر بازو پکڑ کے نین کو دور ہٹانا چاہا لیکن وہ بری طرح اُس سے چمٹی ہوئی تھی ذرا بھی الگ نہیں ہوئی
نہیں پہلے بولو نہیں پھینکو گے مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے دور ہٹنے کی شرط رکھی
ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔ نہیں پھینکتا۔۔۔۔۔۔۔۔اب دور ہٹ۔۔۔۔۔۔۔
جتنا وہ اپنی کیفیت سے گھبرایا ہوا تھا اس وقت کوئی بھی شرط ما ن سکتا تھا۔۔۔۔۔۔
نین دھیرے سے اُس سے الگ ہوئی۔۔۔۔۔۔۔ڈرتے ڈرتے نیچے دیکھا اور جلدی سے دیوار سے اُتر گئی۔۔۔۔۔۔
وہ تیزی سے پیچھے ہٹا ۔۔۔
آگے سے اگر تونے اپنی ٹانگ کو کنٹرول میں نہیں رکھا نا تو وہیل چیر پر نظر آئیگی زندگی بھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سمجھی
وہ اُسے وارن کرتا وہاں سے چلا گیا اور نین نے اُس کے سامنے تو سر ہلایا لیکن اُس کے پلٹتے ہی اُسے زبان دکھائی۔۔
۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
