Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 78
No Download Link
Rate this Novel
Episode 78
نین کی باتوں سے متاثر ہو کر جانے کا فیصلہ تو کر لیا تھا لیکن دِماغ میں اب بھی جھکڑ چل رہے تھے۔۔
قدم بڑھائے یا روک لے یہ کشمکش جاری تھی۔۔۔۔
دیکھنے میں تو چھوٹی سی بات نظر آتی تھی کے بس جا کر اپنی ماں سے وجہ ہی پوچھنی ہے۔۔۔ لیکن اُس کے لیے معمولی نہیں تھی۔۔
وہ دونوں دو پہر تک تیار ہو کر باہر نکل ہی رہے تھے کہ ایک کار گھر کے پاس آکر۔۔۔
کار شیرازی مینشن کی تھی لیکن
داؤد تو اس وقت نہیں آسکتا تھا۔۔
اس لیے دونوں حیران ہوئے اور اُس کار سے رابعہ بیگم کو اترتے دیکھ اور زیادہ حیران ہوئے۔۔۔
رابعہ بیگم اُس گھر اور اُس علاقے کو دیکھتی شرمندہ سی اُن دونو کی طرف بڑھیں۔۔۔ ۔
بڑی مامی آپ یہاں۔۔۔۔داؤد ٹھیک ہے نہ۔۔۔
نین نے آگے بڑھ کر جلدی سے اُن کا ہاتھ پکڑتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
داؤد بلکل ٹھیک ہے بیٹا۔۔۔بس جو غلط ہے اب اُسے ٹھیک کرنا ہے۔۔۔۔
اُنہوں نے مسکراتے ہوئے دونوں کو دیکھا جب کے ساحل منہ پھیرے انجان کھڑا تھا
میں تم دونوں کو واپس گھر لیجانے آئی ہوں۔۔۔۔۔میرا سلوک معافی کے لائق تو نہیں لیکن پھر بھی میں چاہتی ہوں تم دونوں مجھے معاف کرکے میرے ساتھ گھر چلو۔۔۔۔
وہ گھر تم لوگوں کے بغیر ادھورا ہے۔۔۔۔
وہ گھر سے جس کام کی ہمت جٹا کر آئیں تھی۔سیدھے اُس پر آتے ہوئے
بنا کسی بناوٹی شرمندگی کے سچے دل سے معافی مانگتے ہوئے بولیں
۔ساحل میں نے تم سے جو کچھ کہا تمہیں اپنے الفاظوں سے جتنی چوٹ دی اُس سب کے لیے مجھے معاف کردو۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے سیدھے اُسے مخاطب کیا تو نین نے بھی اُس کی جانب دیکھا۔۔۔
ساحل نے بنا دیکھے ہی سر نفی میں ہلا کے اُنہیں معافی مانگنے سے منع کیا تھا۔۔۔
پلیز گھر چلو بیٹا۔۔۔۔میرے لیے نہیں داؤد کے لیے عباس کے لیے اپنی دادی کے لیے۔۔۔۔نین۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے اپنائیت سے کہتے ہوئے نین کو بھی دیکھا۔۔۔نین نے سوالیہ نظروں سے ساحل کی جانب دیکھا لیکن اُس نے کچھ نہیں کہا نا ہی کوئی اشارہ بس خاموش زمین اور نظریں جمائے کھڑا رہا
سب سے وعدہ کیا ہے کے تم دونوں کو ساتھ لے کر ہی واپس لوٹوں گی۔۔۔
اگر تم دونوں گھر نہیں چلے تو میں بھی گھر نہیں جاوں گی۔۔۔۔مجھ میں خالی ہاتھ جا کر سب کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہے۔۔۔۔
دونوں کو خاموش دیکھ رابعہ بیگم افسردہ ہو کر بولیں۔۔۔
بڑی مامی اِٹس اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ سے کس نے کہا کہ ہم گھر نہیں آئیں گے۔۔۔۔
نین نے جلدی سے مسکرا کر اُن کے گلے لگتے ہوئے کہا
۔۔۔۔آپ کوبار بار معاف مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ہم آپ سے بلکل ناراض نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
اور ہم گھر ضرور آئیں گے۔۔۔لیکِن ابھی نہیں۔۔۔۔۔
اُس نے پیچھے ہو کر کہا جب کے ساحل یونہی بے نیاز بنا کھڑا رہا۔۔
اُسے پہلے سے ہی اُن سے کوئی ناراضگی نہیں تھی ہاں اُن کی باتیں چبھتی ضرور تھیں لیکن وہ اُس کا عادی تھا۔۔۔
ابھی ہمیں کہیں اور جانا ہے اور وہاں جانا بہت ضروری ہے لیکن میں وعدہ کرتی ہوں کے ہم جلد ہی گھر آجائیں گے۔۔۔آپ ریلیکس ہوجائیے۔۔۔
نین نے اُس کی سوالیہ نظریں پڑھ کر یقین دلایا تو رابعہ بیگم کو بھی تسلی ہوئی۔۔۔وہ کچھ دیر نین سے باتیں کرکے وہاں سے چلی گئیں تو وہ دونوں بھی گھر کو اچھے سے لاک کرکے باہر نکل آۓ
مطلب ہم سچ میں ٹریں سے جا رہے ہیں۔۔۔۔۔
افف ماما کے بیٹے بہُت مشکل ہوجائے گا اتنا لمبا سفر۔۔۔۔۔۔۔
بائیک ریلوے اسٹیشن کے پاس رکی تو نین نے منہ بنا کر کہا۔۔کیوں کے اُسے لگ رہا تھا ساحل اتنا لمبا سفر کرنے میں وقت گنوانے کی بجائے پلین سے جانے کا انتظام کرےگا لیکن اُس کا سوچنا غلط ثابت ہوا اور اب وہ اگلے سترہ گھنٹے سفر کرنے کا سوچ کر ہی تھک گئی تھی۔۔۔
کچھ نہیں ہوتا۔۔۔مینیج کر لیں گے۔۔۔
اُس نے لاپرواہی سے کہا اور دونوں اندر کی طرف بڑھے۔۔
جہاں لوگوں کا بھاری رش تھا۔۔۔اور ساحل کی نظریں اُس رش میں کِسی کو ڈھونڈھ رہی تھیں۔۔
ٹرین پلیٹ فارم پر تھی لیکن وہ اس طرف جانے کی بجائے باہر ہی کسی کے انتظار میں کھڑا تھا
کسے ڈھونڈھ رہے ہو۔۔۔۔۔
نین نے اُسے مسلسل کِسی کو تلاش کرتے دیکھ حیرت سے پوچھا۔وہ کچھ نہیں بولا بس ایک جگہ رک کر ہوا میں ہاتھ ہلایا شاید جسے ڈھونڈھ رہا تھا اسے دیکھ کر۔۔۔
چند سیکنڈ بعد ہی ایک آدمی اُن کی طرف آیا۔۔۔ساحل نے اپنی بائک اور گھر کی چابی اس کی طرف بڑھائی تو نین کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔۔
ارے یہ چابی انہیں کیوں دے رہے ہو۔۔ہمارے گھر کی چابی ہے۔۔۔
وہ حیرت و ناگواری سے بولی ساحل نے اُسے آنکھیں دکھائی اور چابیاں اُس آدمی کو تھمائی
جلد ہی ہو جائیگا سر۔۔۔۔۔
وہ آدمی سر ہلا کر کہتا چابیاں لے کر چلا گیا تو ساحل بھی اُس کا ہاتھ تھامے پلیٹ فارم کی جانب بڑھا
تم نے اُس اجنبی کو ہمارے گھر اور بائیک کی کیز کیوں دی۔۔۔۔تمہیں پتہ ہے ایسے کسی پر بھی بھروسہ کرنا کتنا خطرناک ہوتا ہے۔۔۔۔
وہ اُس کے ساتھ تیز تیز چلتی غصے سے بولے جا رہی تھی وہ ٹرین کو آگے بڑھنے کے لیے تیار دیکھ قدموں کی رفتار بڑھا کر تیزی سے ٹرین میں چڑھا۔۔۔
اور اُن کے چڑھتے ہی ٹرین چلنا شروع ہو گئی۔۔۔۔
وہ وہاں کوریڈور کے سامنے ایک لائن سے بنے کپل رومز میں اپنا بکنگ نمبر تلاشنے لگا جب کے نین کو اب بھی اپنے گھر اور سامان کی فکرِ ستائے جا رہی تھی
راؤڈی ہمارا سب سامان ہے وہاں ۔۔۔تم نے ایسے کیسے کسی کے بھی حوالے کر دیا گھر۔۔۔۔کہیں تم اُسے بیچنے کی تو نہیں سوچ رہے نا۔۔۔۔اگر بھول گیے ہو تو یاد دلا دوں وہ گھر ہمارا نہیں ہے۔۔۔۔ہاں اُس کا مالک اچھا ہے اسلئے ہمیں وہاں رہنے دیا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کے ہم اُس کا گھر بیچ کر اُس کے ساتھ دھوکہ کریں ۔۔
میں تمہیں یہ کمینہ پن نہیں کرنے دوں گی۔۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ پکڑے ہونے کی وجہ سے اُس کے ساتھ ساتھ چلتی مسلسل اپنی ہی ہانکے جا رہی تھی کے۔۔۔۔
ابے یار بس کر۔۔۔۔
وہ ایکدم سے رک کر جھنجھلا کر اُس پر برسا۔۔
کتنا بولتی ہے تو۔۔۔ایک چابی دینے پر اتنا لمبا لیکچر سنا رہی ہے جیسے اُس گھر میں کوہ نور سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔۔۔
تھوڑا تو اپنی زبان پر ترس کھایا کر۔۔۔
وہ بھی سوچتی ہوگی کے کس کے منہ لگ گئی ۔۔۔۔
اُس کی بڑبڑ سے بیزار عاجز آکر غصے سے بولا
کون۔۔۔۔
نین نے نا سمجھی سے پوچھا
زبان۔۔۔۔۔
ساحل نے دانت پیس کر کہتے ہوئے ایک روم کا دروازہ کھولا اور اُس کا ہاتھ جھٹک کر چھوڑتے ہوئے اندر چلا گیا۔۔۔وہ بھی غصے سے اُس کی طرف بڑھی
ماما کے بیٹے بکواس کرکے میری بات کو اگنور نہیں کر سکتے تم مجھے بتاو اُسے چابی کیوں دی۔۔۔
وہ اُس کا رخ اپنی طرف کرکے دونوں ہاتھ کمر پر رکھے نہایت ضبط و غصے سے پوچھنے لگی۔ساحل نے چند سیکنڈ سنجیدگی سے اُسے دیکھا
بتا دوں گا بعد میں۔۔۔۔۔۔
جان چھڑانے والے انداز میں بولتا اپنی برتھ پر بیٹھ گیا اور کھڑکی کھولنے لگا
افف اس راؤڈی کی عجیب باتیں۔۔۔
نین نے اُسے گھورتے ہوئے سوچا اُسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کے اُس نے چابی کِسی اور کو کیوں دی اور جو سمجھ آرہا تھا وہ اُس کا دل ماننا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔
کیا وہ گھر اب کِسی اَور کا ہو چکا تھا۔۔۔
♦♦♦♦
ٹرین کی رفتار بہُت تیز تھی اور سفر بے حد لمبا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
کھڑکی سے آتی تیز ہوا کے زور سے بال اور شرٹ دونوں حرکت کررہے تھے لیکن آنکھیں ساکت سی ایک جگہ ٹھہری ہوئیں تھیں۔۔۔
جان بوجھ کر اُس نے ٹرین کا سفر چنا تھا۔۔۔کیوں کے ہمیشہ سے ہی ٹرین کی آواز اُس کے ذہن پر سوار رہتی تھی۔۔۔۔۔اُسے شدید گھٹن کا احساسِ ہوتا تھا۔۔۔اوراب وہ ہر گھٹن اور تکلیف کا سامنا کرنا چاہتا تھا۔
اپنی ہر کمزوری سے لڑنا چاہتا تھا۔۔۔
وہ دونوں اے سی کلاس کے ایک پرائیویٹ کمپارٹمنٹ میں تھے۔۔۔
جہاں دونوں طرف ایک ایک آرام دہ سیٹ تھی۔۔۔ اور درمیان میں ٹیبل رکھی تھی۔۔۔
سردیوں کی وجہ سے اے سی کی کولنگ بند تھی اور کھڑکیاں کھلی تھی جہاں سے ٹھندی تیز ہوائیں اندر داخل ہو رہی تھی۔۔۔۔
جہاں نین بے حد ایکسائٹڈ تھی پوری خاندان کو فون کرکے کرکے اپنے سفر کے قصے بتا رہی تھی۔۔ وہیں ساحل کےدل میں اب بھی ہزاروں الجھنیں تھیں۔۔۔۔وہ گھنٹوں سے خاموش تھا۔۔
وہ مسلسل کھڑکی کے باہر دیکھ رہا تھا جہاں ٹرین کی تیز رفتار کے آگے منظر بھاگتے جا رہے تھے لیکن اُن پر اُس کا بلکل دھیان نہیں تھا۔۔۔۔
ماما کے بیٹے سنو نا۔۔۔۔
نین فون بند کرکے اپنی سیٹ سے اٹھ کر اُس کے پاس بیٹھتے ہوئے اُسے پکڑنے لگی تو ساحل نے باہر سے نظر ہٹا کر اُسے دیکھا۔۔۔۔
مجھے نا سفر میں انتاکشری کھیلنا بہُت پسند ہے۔۔۔۔چلو نا ہم کھیلتے ہیں۔۔۔
وہ بچوں کی طرح آنکھیں کھولیں بولی ساحل نے بنا کچھ کہے سر نفی میں ہلا کر انکار کر دیا
اتنے بورنگ انسان ہو تم۔۔۔۔
اچھا ایک گانا ہی سنا دو۔۔۔۔۔
نین نے منہ بنا کے اُسے گھورتے ہوئے نئی فرمائش کی ساحل نے بیزار سے تاثرات کے ساتھ اُسے گھورتے ہوئے دوبارہ چہرہ باہر کی طرف کر ليا
تم سے زیادہ سڑ و انسان نہیں دیکھا میں نے اپنی زندگی میں۔۔۔
تمہارے ساتھ سر پھوڑنے سے بہتر ہے میں ریا سے ہی بات کر لوں
وہ منہ پھلا کر کہتی فون کان سے لگا گئی۔۔ساحل نے اُس کی جانب دیکھا اور مدھم سا مسکرایا۔
نیٹورک کی وجہ سے اب کسی کا فون نہیں لگ رہا تھا۔۔
وہ اُس کو ایک دفعہ پھر گھور کر موبائل میں گیم کھیلنے لگی۔۔۔۔
اُس کے خفگی والے ایکسپریشن دیکھ کر ساحل کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔۔وہ اب پورا رخ اُس کی جانب کرکے کھڑکی سے شولڈر ٹکائے اُسے دیکھنے لگا۔
اُس کے ایکسپریشن اب گیم کے حساب سے بدل رہے تھے ۔۔
چھو کر
۔میرے من کو۔۔۔۔
کیا تو نے
کیا اشارہ۔۔۔۔۔
وہ اُسے دیکھتا دھیرے دھیرے گنگنانے لگا تو نین حیرت سے سیدھی ہو کر اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
بدلا یہ موسم۔۔۔۔۔۔
لگے پیارا جگ سارا۔۔۔۔۔
اُس نے نظریں نین کے چہرے سے ہٹا کر باہر کی طرف کی تو نین سنجیدگی سے اُس کے چہرے کو دیکھ کر اُس کے ایک ایک نقوش میں کھونے لگی۔۔۔۔
اُس کا دل بھٹکنے لگا۔۔۔۔۔
چھو کر میرے من کو۔۔۔۔
کیا تونے کیا اشارہ۔۔۔۔۔
وہ اُس کی آواز سے زیادہ اب اُس کے سحر میں کھونے لگی۔۔
دل کے احساسات بدل گئے تھے اور یہ چیز آنکھوں میں نظر آرہی تھی لیکن ساحل اُن سے بے خبر تھا۔۔۔۔
اُس سحر اور اُس کی آواز میں رکاوٹ بننے والی آواز موبائل کی تھی
وہ خاموش ہو کر موبائل لیے اپنی جگہ سے اٹھا اور تھوڑے فاصلے پر چلا گیا نین کو اُس پر بے حد غصّہ آیا
ہاں ۔۔۔۔۔ہیلو۔۔۔۔
اُس نے فون کان سے لگائے نین کو اگنور کیے بات شروع کی اور نین کھڑکی کی طرف کھسک کر اُسے غصے سے گھورتی رہی
نہیں وہ میں خود دیکھ لوں گا۔۔۔
میں میل کرتا ہوں۔۔۔۔۔
وہ اُسے خود کو گھورتے دیکھ بات کو سمیٹ کر فون بند کر گیا۔۔
اور واپس آکر اُس کے پاس بیٹھ گیا
کس کا فون تھا۔۔۔۔۔
اُس کے فون نیچے کرتے ہی وہ اُسے تیکھے چتونوں سے گھورتی پوچھنی لگی۔کھڑکی کے قریب بیٹھنے سے بال اُس کے چہرے پر آرہے تھے
رانگ نمبر۔۔۔۔۔۔
اُس نے سفاکی سے بہانا بنا کر فون ٹیبل پر رکھا
رانگ نمبر پر اتنی لمبی بات کون کرتا ہے۔۔۔اور اتنے رانگ نمبر آتے کیسے ہیں تمہیں۔۔۔۔مجھے تو کبھی نہیں آئے
سات گھنٹے ہوئے ہیں ہمیں ٹرین میں بیٹھے اور اب تک تمہیں پورے بیس فون آچکے ہیں۔۔
وہ اُسے آنکھیں چھوٹی کرکے دیکھنے لگی۔
تیرہ۔۔۔۔
ساحل نے اُس کی درستگی کی۔۔
ہاں ٹھیک ہے تیرہ۔۔۔۔۔تھوڑا بہت کم زیادہ تو چلتا ہے نا۔۔۔۔
اتنے فون لیکِن کس کے ۔۔۔۔۔
وہ تھوڑا گڑبڑا کر سنبھلتی ہوئی بولی
دوستوں کے۔۔۔۔۔
ساحل نے لاپرواہی سے کہا
کونسے دوست میں نے تو آج تک تمہارا کوئی دوست نہیں دیکھا۔۔۔۔
اور اگر ہے بھی تو ایسی کیا دوستی چڑھی ہوئی ہے اُن کو کے تھوڑی دیر تم سے بات نہیں کی تو سانس نہیں آتی۔۔۔۔
اُس کے اندر کا شکی جاسوس ساحل کو آنکھوں سے سکین کر رہا تھا۔۔
پتہ نہیں۔۔۔۔۔۔
اُس نے جان چھڑانے والے اندا میں کہا
لیکن مجھے سب پتہ ہے۔۔۔۔۔یہ سب نا تمہارے بہانے ہے۔۔۔۔اصل میں یہ سارے لڑکیوں کے چکر ہے تمہارے دوستوں کے بہانے لڑکیوں سے باتیں کرتے ہو تم۔۔۔۔۔
وہ چبا چبا کر بولی تو وہ اُس کے انداز پر نچلا لب لبوں میں لیے ہنسی روکنے لگا۔۔۔
ہنس رہے ہو۔۔۔۔میں یہاں اتنی سیریس بات کر رہی ہوں اور تم ہنس رہے ہو۔۔۔ایک بار مجھے پتہ چل جائے کے میرا شک صحیح ہے تمہاری بتیسی نہیں توڑی تو میرا نام بھی نین تارا نہیں۔۔۔۔۔۔
اور اُس لڑکی کو تو میں ۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے ڈمپل نمایاں ہوتے دیکھ جلال سے سرخ ہوتی اُس پرچڑھ دوڑی لیکن ایک دفعہ پھر ساحل کا فون بجا تو اُس کی زبان کو بریک لگے۔۔۔
اس سے پہلے کے ساحل موبائل اٹھائے اُس نے جھٹ سے موبائل اٹھا لیا اور سکرین پر مایا لکھا دیکھ اُس کے تن بدن میں آگ لگ گئی
اب یہ مایا کون ہے۔۔۔۔۔۔
وہ آگ اگلتی نظروں سے اُسے دیکھتی ضبط سے پوچھنے لگی۔۔۔
وہ۔۔۔۔۔۔
ساحل نے بہانا بنانے کے لیے منہ کھولا۔۔
P
رانگ نمبر۔۔وہ بھی نام کے ساتھ۔۔۔
اُس نے پہلے ہی مانو وارن کر دیا کے یہ بہانا کتنا کام کر سکتا ہے۔
وہ ایک غریب بیمار ضعیف عورت ہے۔۔۔۔اُس کو علاج کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے نا اس لیے فون کرتی ہے۔۔۔
ساحل نے بیٹھے بیٹھے مایا کی کایا بدل دی۔۔۔۔
اچھا تو تم کہاں کے بل گیٹس لگے ہوئے ہو جو پیسوں کے لیے تمہیں فون کرتی ہے۔۔۔۔
اور اگر اتنی ہی غریب ہے تو اُس کے پاس فون ہی کیسے ہے۔۔۔۔
اُس نے اپنے تیز دِماغ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوچھا
میرے کو نہیں پتہ یار۔۔۔۔
ساحل نے بیزاری سے سر جھٹکا۔۔۔
پر مجھے سب پتہ ہے۔۔۔۔تمہیں بس فیمیل جنڈر سے بات کرنے میں انٹریسٹ ہے وہ جوان ہو یا بوڑھی۔۔۔غریب ہو یا امیر۔۔
بس تمہارا ٹھرکی دماغ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے اُس پر برسنے لگی تھی کے ٹرین کو ایک زور کا جھٹکا لگا ۔۔
وہ گھبرا کر اُس کی شرٹ پکڑ گئی اور اپنی بوکھلاہٹ میں اُسے اپنے قریب کھینچ لیا ۔۔۔
ساحل اُس کے شرٹ کھینچنے سے ان بیلنس ہوا اور اُس کے اوپر گرنے سے بچنے کے لیے پیچھے کھڑکی میں لگی راڑ کو تھام لیا۔۔۔۔۔لیکن تب بھی وہ اُس کے بے حد قریب آگیا تھا۔۔۔
نین سانس روک کر اُسے دیکھنے لگی
درمیان میں ذرا بھی فاصلہ نہیں تھا کے وہ سانس بھی کھل کے لے پاتی
شرٹ پر گرفت اور سخت ہو گئی تھی اور دل بہُت زوروں سے دھڑک رہا تھا۔۔۔
ساحل۔نے اُس کی گھنی لرزتی پلکوں سے نظریں ہٹا کر اُس کے کانپتے نازک لبوں کو دیکھا تو دل میں پھر ایک جانی پہچانی خواہش بیدار ہوئی۔۔۔
اُنہیں محسوس کرنے کی طلب نے آنکھوں میں بے خودی سی بھردی۔۔
اُس نے ہاتھ نین کے گرد لپیٹ کر اُسے خود میں بھینچا۔۔تو نین کو پورے بدن میں بجلی سے دوڑتی محسوس ہوئی
وہ اُس کی بدلی گرفت کو محسوس کرکے ہی اپنی دھڑکنیں بے قابو ہوتی محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔۔
اُس کی سانسوں سے چہرہ جھلستا محسوس ہو رہا تھا
سمجھ نہیں آرہا تھا اس لمحے سے خود کو کیسے آزاد کرے۔۔۔
اور جب اُس کی تپش دیتی نظریں لبوں کو دہکانے لگی۔۔ تو اُسے لگا اس بار وہ سہہ نہیں پائے گی۔۔۔۔
ہوش کھو دیگی۔۔۔
دل شاید باہر نکل آئیگا۔۔۔
کچھ نہیں سوجھا تو زور سے آنکھیں بند کرکے پیچھے کھڑکی میں گھسنے کی کوشش کرنے لگی۔جو ناممکن تھا۔۔۔
وہ لب کھول کر اپنے دل کی کہی پر عمل کرنے ہی والا تھا کے پھر اُس کا فون بجا۔۔۔۔۔
بے خودی کے سلسلہ میں درار پڑی اور پھر وہ ٹوٹتا گیا۔۔۔
وہ سنبھل کر پیچھے ہوا ۔
دھیرے سے سانس خارج کی۔۔۔
نین نے آزاد ہوتے ہی آنکھیں کھولیں۔۔۔
نظروں سے نظریں ملی تو پلکین بھاری ہو گئی اُس نے جلدی سے سیدھی ہو کر چہرہ کھڑکی کی جانب کر لیا اور اپنی کب کی رکی سانس بحال کرنے لگی۔۔۔
اُس کے پلٹتے ہی گھنے بال ہوا سے اڑ کر چہرے کو چھونے لگے ساحل نے آنکھیں بند کرکے اُن کی خوشبو کو سانسوں میں اتارا ۔۔۔۔۔۔۔
یہ دوری بھی ایک بے بسی ہے۔۔
یہ فاصلے ۔۔۔ مجبوری ہے۔۔۔
یہ میرا آخری ستم ہے خود پر۔۔۔۔
آخری کوشش بھی تو ضروری ہے
آنکھیں کھول کر اُس کے چہرے کو دیکھتا دل ہی دل میں اُس سے مخاطب ہوا۔۔۔۔
نین اُس کی نظروں کو خود پر محسوس کرکے اندر ہی اندر نروس ہوتی رہی۔۔۔
ابھی کچھ دیر اور روکنا ہے دل کو۔۔
ابھی اور تھوڑا سا انتظار کرلو
ابھی ایک آزمائش اور باقی ہے۔۔۔
ابھی ایک جنگ لڑنی ہے ۔۔
وہ اُس کی پلکوں کو اُس کے چہرے کو چھو کر لوٹتے بالوں کو اور گلابی لبوں کو دیکھتا رہا۔۔۔
آنکھوں میں بے پناہ چاہت سمیٹے
اگر موت پھر مہلت نا دے۔۔۔
اگر قسمت اجازت نا دے
تو بھول جانا ایک پرانا باب
سمجھ کر۔۔
ہو کے بھی کچھ نہیں تھا
تو کھونے کا غم کیسا۔۔۔۔
وہ اُس کے گلے میں تیز سانسوں کے باعث بنتی گہرائی کو دیکھے گیا۔۔۔
اوراگر جیت کر لوٹا
تو میں تمہارا۔۔۔۔۔۔
اگر زندگی موت سے جیت جائے
تو یہ تمہاری۔۔۔۔۔
پھر نا یہ فاصلے ہوں گے۔۔۔۔
نا ہوں گی کوئی وجہ درمیاں۔
پھر ان قاتل آنکھوں میں کہیں خود کو چھپا لوں گا۔۔۔
تمہیں خوشبو سا سانسوں میں بسا کر دھڑکن بنا لوں گا۔۔۔
اُس نے نین کے بالوں کو بہت نرمی سے ہاتھوں سے چھوا۔۔۔۔
بے خود نگاہیں اس کی نازک شفاف گردن اور لبوں کے درمیان بھٹک رہی تھی
پھر تم اور میں پانی کی بوندوں کی طرح مل کے سمندر ہوجائے گے۔۔۔۔
ہو کے ایک آغوش محبت میں کھو جائیں گے۔۔۔
بس ایک ذرا سے اِنتظار کے بعد ۔۔۔
اُس نے پھر آنکھیں بند کرکے سر پیچھے لگایا
بالوں کو آزاد کیا تو ریت سے پھسل کر گرنے لگے۔۔۔۔۔
نین نے دل پر ہاتھ رکھ کر اپنی دھڑکنوں کو معتدل کرنے کی کوشش کی
