Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 100

Century 😎
اگر کال کیا ہے تو بات بھی کرو انجو ۔۔۔۔۔۔ بولو کیا کہنا ہے۔۔
وہ کال پک کرنے کے بعد بھی اُسے چند سیکنڈ خاموش پا کے عاجزی سے بولا۔۔
تمہیں یہ بتانے کے لیے فون کیا ہے کہ کل میری اور دکش کی انگیجمینٹ ہے۔۔۔
انجو نے گہری سانس بھر کر اپنے لہجے کو ہشاش بنائے پُر مسرت لہجے میں کہا جس میں سوائے چبھن کے پورب کے لیئے کچھ نہیں تھا۔۔۔۔۔۔وہ اُس کی بے حسی پر لب بھینچ کر رہ گیا
جانتا ہوں میں۔۔۔۔۔
اُس نے ضبط سے دھیمی آواز میں کہا۔۔۔
تو تم آؤ گے نا۔۔۔۔۔
انجو اُس کے لہجے کی تکا ن محسوس کرکے بھی انجان رہی۔۔۔
تُم چاہتی ہو میں آؤں۔۔۔۔
اُس نے دھیمے پرسوز لہجے میں پوچھا تو ایک لمحے کو اُسے وہ سنگینی محسوس ہوئی مگر وہ نظر انداز کر گئی۔۔۔
بلکل ۔۔۔۔۔اسی لیے تو تمہیں فون کیا ہے۔۔۔۔پرسنلی اسپشلي انوائیٹ کرنے کے لیے۔۔۔۔۔میں چاہتی ہوں تم میرے ہر اسپیشل مومنٹ میں شامل رہو تاکے تمہیں جو بھی مس انڈر سٹینڈنگ ہے وہ کلیئر ہوجائے۔۔۔آفٹر آل تمہیں میری اتنی فکر ہے تو میرا بھی فرض ہے نہ کہ تمہیں صحیح غلط ریلائز کرواؤں
انجو نے اپنے طنز سے اُسے جلانے میں۔کوئی کسر نہیں چھوڑی وہ جواب میں ایک لفظ بھی نہیں کہہ پایا سنجیدگی سے اُس کے ترش الفاظ سنتا رہا۔۔۔
تمہیں پتہ ہے مام ڈیڈ نے ہماری انگیجمنٹ دو دن بعد کی طے کی تھی لیکن مجھ سے تو دو دن بھی صبر نہیں ہو رہا تھا اسلئے میں نے کہا مجھے کل کے کل ہی انیگجمنٹ کرنی ہے۔۔۔آخر محبت میں ہی تو ایسا ہوتا ہے نا۔۔۔۔
انجو نے اُس۔ کی خاموشی پر ایک اور تیر چلایا وہ اُسے جتانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتی تھی کے اُسے دکش سے محبت ہے حالانکہ اُسے جتاتے جتاتے اپنا ہی یقین کمزور ہوتا جا رہا تھا۔۔۔
جب شادی اور منگنی کا ذکر ہوا تب بھی خوش ہونے کی بجائے اُس کا ذہن انجانی الجھنوں کا شکار تھا
اُس نے پہلے تو منگنی کو آگے ٹالنے کی کوشش کی۔۔ ریا کی شادی کا بہانا بنایا جس کے لحاظ سے مسٹر سنگھ نے اگلے ہی د ن منگنی کا کرنے کا حل نکالا کے اس طرح ریا کی شادی کی رسموں سے پہلے انگیجمنٹ ہوجائے گی ۔۔۔
اندر ہی اندر پریشان ہونے کی باوجود اُس نے حامی بھری جس کی پہلی وجہ پورب کو غلط ثابت کرنا اور دوسری دکش کے ساتھ ایک خوشگوار دن گزرنا تھا۔۔۔
کیا سوچ رہے ہو پورب۔۔۔تم آؤگے نا۔۔۔میں چاہتی ہوں کے تم آؤ اور اپنی آنکھوں سے دیکھو کے میں دکش کو پا کر کتنی خوش ہوں۔۔اُن کے ساتھ میری زندگی کتنی مکمل ہے۔۔۔۔
دیر تلک کی خاموشی کو توڑ کر وہ جتاتے لہجے میں بولی۔۔۔
ٹھیک ہے میں ضرور آؤں گا۔۔۔۔۔۔اور تمہیں ایک ایسا گفٹ بھی دوں گا جو تم نے کبھی نہیں سوچا ہوگا۔۔۔
پورب نے پرسوچ انداز میں جواب دے کر فون بند کردیا جب کہ انجو اُس کی بات سمجھنے کی کوشش میں فون کو دیکھتی رہ گئی کے وہ کس گفٹ کے مطلق بات کررہا ہوگا۔۔۔
♦♦♦♦♦♦♦♦
یہ کپڑے۔۔۔ جلدی سے چینج کرو اور جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔۔
بیڈروم میں پہنچتے ہی اُس نے وارڈ روب سے اپنے کپڑے اور ٹاول کھینچ کے اُس کی طرف تقریباً پھینکتے ہوئے کہا اور اُسے غصے سے گھورتا خود باہر نکل گیا۔۔۔۔
جلدی سے چینج کرو اور جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔۔ایل ایل کہیں کا۔۔۔۔
نین نے اُس کے جاتے ہی منہ بنا کر اُس کی نقل اتاری اور بجائے چینجنگ روم میں جانے کے وہیں اپنے گیلے کپڑے نکالنے لگی۔۔
وہ روم سے باہر نکلا۔۔لیکن چند قدم ہی آگے بڑھ کر رک گیا ۔۔۔
غصے میں اپنے کپڑے تک لینے کا خیال نہیں رہا تھا اسلئے واپس پلٹ کر آیا۔۔۔ روم کا دروازہ ایکدم سے کھولا اور اندر کے منظر نے حواس اڑا دیے۔۔۔۔
منہ اور آنکھیں دونوں کھل گیے۔۔
ابرو اوپر تک اٹھ گئی۔۔۔اور دھڑکنیں اوپر نیچے ہو گئی۔۔۔
اسی رفتار سے دروازہ واپس کھینچ کر بند کرتے ہوئے اُس نے سانس بحال کی اور لبوں پر زبان پھیری۔۔۔۔
بہکتے ذہن کو بھٹکتی سوچ سے جھٹک کر آنکھیں بند کرکے کھولیں اور دھیرے سے دروازے پر دستک دی۔۔۔
ایک منٹ رکو۔۔۔۔۔
نین نے اندر سے آواز دی تو اُس نے افسوس سے سر ہلا کر آہ بھری۔۔۔
آجاؤ اندر۔۔۔۔
ایک منٹ کی دیری سے اُس نے اندر آنے کی اجازت دی تو وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا اور بالوں میں اُنگلیاں چلاتے ہوئے چور نظروں سے اُس کی جانب دیکھا۔۔۔۔
نظروں کا پہلا مقام سفید نازک پیر تھے۔۔۔دوسرا مقام بڑی سی آستین میں ڈھکے ہاتھ کی گلابی اُنگلیاں۔۔۔
اور تیسرا بلیک کالر سے جھلکتی گردن اور اُس پر بکھرے بھیگے بال۔۔۔۔
لوز بلیک شرٹ اور بلیک ہی نائٹ ٹراوزر میں وہ پوری کی پوری چھپی ہُوئی تھی۔۔۔۔۔بال کھلے کمر اور شولڈر پر بکھرے ہوئے تھے۔۔ لیکن اُس کی نظروں کو کچھ اور ہی دکھائی دے رہا تھا۔۔۔ہارٹ بیٹ تیز تھی۔۔۔
ایسے کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔
نین نے اُس کی بے ربط نظریں اپنے گلے اور گردن پر بھٹکتے دیکھ سب سے اوپر کی بٹن بند کرتے ہوئے اُسے گھورا۔۔۔اُس نے سنبھل کر نظریں پھیریں ۔۔
باہر جاؤ۔۔۔ڈرائیور چھوڑ دے گا تمہیں۔۔۔۔۔۔
منہ پھیر کر روکھے انداز میں کہا۔۔
یہ کیا تُم نے اب تک چینج نہیں کیا ۔۔۔۔سردی لگ جائے گی۔۔۔پہلے چینج کرو۔۔۔باقی باتیں بعد میں کرنا۔۔۔
نین نے اُس کی بات کو سرے سے اڑا کر نہایت سنجیدگی کا مظاہرہ کیا تو اُس نے دانت بھینچ کر اُسے گھورا۔۔۔۔۔
۔یہ لک بھی بعد میں دے دینا سکون سے۔۔۔۔جاؤ ابھی۔۔۔دیکھو شرٹ سوکھ رہی ہے۔۔۔
نین نے اُس کا دھیان گیلی شرٹ کی طرف کرتے ہوئے معصومیت سے کہا تو وہ اُس کی آنکھوں کی خوبصورتی میں اُلجھنے سے بچنے کی غرض سے اُس کی بات پر عمل کرتا چینجینگ روم میں چلا گیا۔۔۔۔
نین نے ٹاول لے کر بالوں کو خشک کرنا شروع ہی کیا تھا کے بیڈ پر پڑا موبائل بج اٹھا۔۔۔۔نین نے گھڑی پر نظر ڈالی اور موبائل اٹھا کر سکرین پر جگمگاتے انجو کے نام کو ناگواری سے دیکھا۔۔۔۔
اللہ میرے۔۔۔۔یہ لڑکی رات کے ایک بجے میرے گھر والے کو فون کر رہی ہے۔۔۔۔اس کی تو۔۔۔
انجو کی اتنی رات گئے کال دیکھ اُس کے بدن میں آگ لگ گئی تو وہ زور سے بڑبڑا ئی
ساحل نے رنگ کی آواز کو اگنور کردیا تھا لیکن جب نین کی بڑبڑا ہٹ سنی اور سمجھ آیا کے فون انجو کا ہے تو اُس کے بیلٹ کھولتے ہاتھ تھمے۔۔۔نین کوئی بیوقوفی کرکے گڑبڑ کھڑی نا کردے اس لیے وہ ہڑبڑا ہٹ میں شرٹ پہنے بنا ہی باہر نکلا
ارادے اچھے تو بلکل نہیں ہو سکتے اس کے۔۔۔۔اور اگر یہ میرے ماما کے بیٹے کے ساتھ رومانٹک باتیں کرنے کا سوچ کر کال کر رہی ہے تو آج اس کے ہوش میں ٹھکانے لگا ہی دیتی ہوں۔۔۔۔۔۔آج اسے بتا ہی دیتی ہوں کے مشرقی بیوی کتنی خطرناک ہو سکتی ہے
انجو کے مسلسل کال کرنے پر اُس کے ارادوں کا اندازہ لگاکر اُس نے کچھ سخت سنانے کی ارادے سے فون اوکے کرکے کان کے قریب کیا۔۔
کچھ بولنے ہی والی تھی کے پیچھے سے ساحل نے لپک کر فون چھینا۔۔۔
نین ایک سیکنڈ کو چونکی اور حیرت سے پلٹ کر اُسے دیکھا۔۔۔
ہائے بےبی۔۔۔۔۔۔
وہ نظروں سے نین کو گھورتا۔۔میٹھے لہجے میں بولا تو نین کے کانوں میں زہر گھل گیا۔۔۔
کیا ہوا دکش آپ فون کیوں نہیں اُٹھا رہے ہیں۔۔۔۔
انجو نے اُس کے فون اٹھاتے ہی فکرمندی سے پوچھا کیوں کے کچھ دیر پہلے تک وہ ایک ساتھ تھے اور اُسے پتہ تھا دکش ابھی جاگ رہا ہوگا۔۔
تیری بے بی کی۔۔۔
وہ انجو کی بات کا جواب دینے کو تھا لیکن نین کو غصے سے بڑبڑا کر بھڑک کر دانت پیس کر منہ کھولتے دیکھ تیزی سے اُس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اُس کی آواز بند کی۔۔۔
سخت ہتھیلی کے نیچے اُس کی آواز دب گئی۔۔۔۔۔ آنکھیں پھٹ گئی۔۔۔۔۔دھڑکنیں رک گئی۔۔۔۔
سوری دکش آپکو اتنی رات کو کال کیا۔۔۔۔وہ مجھے نیند نہیں آرہی تھی تو۔۔۔۔
اُس کے جواب نہ دینے سے انجو اتنی رات کو تنگ کرنے پر شرمندہ ہوئی۔۔۔وہ اپنی ذہنی کیفیت سے کسی طرح نکلنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔جب کے وہ نین کی طرف متوجہ تھا جو اپنے شاک سے نکل کر دونوں ہاتھوں سے اُس کا ہاتھ ہٹانے کی کوششں میں پھڑپھڑا رہی تھی۔۔۔۔لیکِن وہ اُس کی کوشش ناکام کیے اُس کا منہ بند کیے کھڑا تھا
یا ۔۔اٹس اوکے ۔۔۔۔
اُس نے انجو کو بے توجہی سے جواب دیا
نین نے اُس کی دھٹائی پر اُسے گھور کر ہاتھ ہٹانے کی کوشش چھوڑے اُس کا منہ نوچنے کی کوشش کی۔۔۔۔
اپنے دونوں ہاتھ اُس کے منہ کی طرف بڑھائے تو اُس نے سر پیچھے کرکے خود کو اُس کے وار سے بچایا جس سے بال بکھر کے پیشانی کو ڈھک گئے۔۔۔۔
ساحل نے اُس کے منہ پر رکھے ہاتھ کے ذریعے ہی اُسے پیچھے دھکیلتے ہوئے بیڈ پر گرا کر خود بھی اُس کے اوپر جھکا۔۔۔۔۔
ہاتھ جوں کا توں سختی سے اُس کے لبوں پر رکھے۔۔۔ایک ہاتھ سے فون کان کو لگائے۔۔۔۔۔ گھٹنا بیڈ پر ٹکائے وہ بنا شرٹ کے اُس کے اوپر جھکا۔۔۔ غصے سے وارن کرنے والے انداز سے اُس کی آنکھوں میں دیکھتا۔۔۔اپنے جارحانہ انداز سے پل بھر کو اُسے سانسیں روکنے پر مجبور کر گیا۔۔۔۔
کیا ہوا ۔۔۔۔کیا آپ سو رہے تھے۔۔۔میں نے نیند خراب کر دی آپکی۔۔۔۔
انجو اُس کی غائب دماغی اور خاموشی پر نا سمجھی سے پوچھنے لگی۔۔۔۔
نہیں سو نہیں رہا تھا۔۔۔تمہارے بارے میں ہی سوچ رہا تھا ۔۔۔
وہ نین کی ساکت بڑی بڑی حیران آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا تو اُس کی آخری بات سے نین کا دماغ گھوما۔۔۔اُس نے سر پٹخ کر دونوں ہاتھ اُس کے شولڈر ز پر رکھے اُسے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی لیکن وہ رتی برابر نہیں ہلا۔بلکہ ہاتھ کی گرفت منہ پر اور سخت ہو گئی۔۔۔
اُس نے جھنجھلا کر پیر کا استعمال کرتے ہوئے پوری طاقت سے اُس کے گھٹنے پر لات ماری تو جو درمیان میں فاصلہ تھا وہ بھی ختم ہو گیا۔۔۔۔۔۔ نازک وجود پر بوجھ بڑھ گیا تو دل سمٹ گیا اور سانسیں تنگ پڑ گئی۔۔۔۔۔وہ اُس کے اتنے قریب آنے سے گھبرا گئی ۔
ساحل کی دھڑکنیں بھی اُس کے نرم وجود کی تپش سے کچھ مدھم ہو گئی۔۔۔ذہن اُس کی گھنی پلکوں کی لرزش میں اُلجھنے لگا اور احساس اُس کے بدن کا لمس محسوس کرکے بھڑکنے لگے۔۔۔
لبوں پر ہاتھ کی گرفت بھی مدھم ہونے لگی تھی کہ۔۔۔۔
میں آپکو بہت مس کر رہی ہوں۔۔۔اسلیے نیند بھی نہیں آرہی
فون سے آتی انجو کی آواز پر وہ سنبھلا۔۔۔۔نظریں نین کے چہرے سے ہٹائیں ۔۔۔اپنے آپ سے سرنزش کی کے اُسے کمزور نہیں پڑنا ہے۔۔خود کو سنبھالنا ہے۔نین نے بخوبی اُس کے ہر تاثر کو محسوس کیا
آۓ مس یو ٹو۔۔۔۔۔
غائب دماغی سے انجو کی بات کا جواب دیا اور پیچھے ہو کر تھوڑا دور ہوا ۔۔۔نین کی آنکھوں میں سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے جو اُس کی پناہ میں اُس کی خاموش آنکھوں کو پڑھنے کی کوششں کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
آج کا دن بہُت ونڈرفل تھا۔۔۔۔۔میں بہُت خوش ہوں دکش۔۔۔۔صرف آپکی وجہ سے۔۔۔
انجو نے خوشگوار انداز میں کہا۔۔وہ سن تو اُسے رہا تھا لیکِن اُس کا وجود نین کی آنکھوں کی قید میں گُم ہوتا جا رہا تھا۔۔۔جو اُس کی ان کہی باتیں اُس کے جھوٹ اُس کے فریب سب آنکھوں سے جان لینے کی کوشش میں تھی۔۔۔۔
میری خوشی۔۔۔میرے سکون کو تو بس تمہارا خیال ہی کافی ہے۔۔۔
اُس کی آواز بے حد دھیمی تھی۔۔۔جذبات سے بھاری تھی۔۔۔لفظ ضرور لبوں سے نکلے تھے لیکِن نین کو آنکھیں بولتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔
کیا بات ہے آج تو آپکا انداز کافی بدلا ہوا لگ رہا ہے۔۔۔۔
انجو کو بھی اُس کے حد درجہ گہرے لہجے پر حیرانی ہوئی۔۔
سب تمہاری آنکھوں کی غلطی ہے۔۔۔۔پتہ نہیں کیا چاہتی ہے مجھ سے۔۔۔۔کیوں مجھے بہکا کر میرے حواسوں سے بھٹکا دیتی ہے۔۔۔۔
وہ اُس کی گھنی خوبصورت پلکوں کو دیکھتا پرسوز سرگوشی میں بولا۔۔۔۔
ہاتھ کی گرفت کب نرم پڑ کر بے اثر ہوگئی نا اُسے معلوم ہوا نا نین کو۔۔۔۔۔۔۔اُس کے لفظوں اور اُس کے لہجے کی سنگینی سے نین کی دھڑکنیں تیز ہونے لگی اُس کی نگاہوں کی آنچ سے اپنا آپ پگھلتا محسوس ہوا تو وہ پلکیں جھکا کر نظروں کے تسلسل کو توڑ گئی
ایسا کیا کر دیا میری آنکھوں نے آپ کے ساتھ۔۔۔۔
انجو اُس کے انوکھے تعریفی انداز پر مسکرا کر پوچھنے لگی۔۔۔۔۔۔
یہ آنکھیں ۔۔۔۔۔یہ آنکھیں ستاروں کو جلا سکتی ہے ۔۔۔۔کسی زندہ دل کو راکھ بنا سکتی ہے۔۔۔
وہ چند سیکنڈ رک کر اُس کی جھکی نظروں کو دیکھتا ہوا دھیرے سے بولا تو دائیں گال میں ہلکی سی گہرائی پڑی ۔۔انجو کی مسکراہٹ گہری ہوئی اور نین کے لیے اُس کی نظروں کی تپش سے نظریں اٹھانا محال ہوا ۔۔۔
وہ اُس کے حرکت کرتے گہرے سرخ لبوں کو دیکھتی رہی۔۔۔
ایک جھپک سے کِسی کو دیوانہ بنا سکتی ہے۔۔۔۔
یہ آنکھیں کسی بیچارے کو کائنات بھلا سکتی ہے۔۔۔
ڈمپل کچھ اور گہرا ہوا۔۔۔۔آواز کچھ اور دھیمی ہوئی۔۔۔۔لہجہ کچھ اور پرسوز ہوا۔۔۔لفظ کچھ اور بھاری ہوئے
نین نے آہستہ سے لب کھول کر سانس لی اور بھاری ہوتی پلکوں پر زور دے کے نظریں لبوں سے ہٹا کر پہلے ماتھے پر بکھرے براؤن سلکی بالوں اور پھر اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔۔
یہ آنکھیں اتنی شدت سے خود میں جکڑ سکتی ہے کہ بندہ واپس نہ لوٹ پائے انہیں میں بس جائے۔۔۔۔یہیں رہ جائے۔۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھ کے بھاری پگھلتے لہجے میں کہتا ہر لفظ کے ساتھ اُس کے مزید نزدیک جھکتا گیا تو آخری الفاظ کے ساتھ اُس کی سانسوں نے نین کے سرد چہرے کو چھو کر اُسے سمٹنے پر مجبور کیا۔۔۔۔۔
وہ اُس کے شانے پر رکھے ہاتھ کو سخت کر گئی۔۔۔سانسیں سینے میں اُلجھنے لگی۔۔۔۔
میں تو سمجھ ہی نہیں پا رہی ہوں کے آخر یہ ہو کیا رہا ہے۔۔۔۔یہ آپ ہی ہے نا دکش۔۔۔
انجو اُلجھی بھی اور کچھ خوش بھی ہوئی۔۔۔ تعجب سے پوچھنے لگی۔۔۔
میں تمہیں سمجھا بھی نہیں سکتا۔۔۔تمہیں۔۔۔ نا اوروں کو ۔۔۔خود کو بھی نہیں۔۔۔بیان نہیں کر سکتا کے میرے اندر کیا چل رہا ہے اس وقت۔۔۔۔۔
اُس کی جذبات سے لبریز مدھم سلگتی آواز اور لہجے کی حرارت نے جہاں نین کی سانسیں خشک کیں وہیں ایک خوشنما احساس بھی دل کو پرسکون کرنے لگا۔۔۔اُس کی آنکھوں میں جلتی چاہت اور جذبات کی روشنی میں اُسے اب تک کی تمام سیاہی مٹتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔۔۔۔سب الجھنیں سلجھتی محسوس ہوئی
سنجیدہ نظریں اُس کے کھلتے بند ہوتے گلابی لبوں پر آئیں تو اُس نے خشک گلے کو تر کیا۔۔۔
دکش مجھے لگتا ہے آپ نیند میں ہے۔۔۔سوجائیے آرام سے ہم صبح بات کریں گے۔۔۔۔گڈ نائٹ۔۔۔۔
انجو کو اُس کے بدلے انداز سے عجیب سی بے چینی محسوس ہوئی تو اُس نے جلدی سے بات بنا کر فون بند کردیا۔۔۔۔
لیکن وہ تب بھی فون کان سے لگائے بے سود سا اپنے بے قابو ہوتے دل کی حسرتوں کو سننے میں مگن تھا۔۔۔۔اُس کے نازک لبوں میں گم تھا۔۔۔
اور نین کا دل شدت سے چاہتا تھا کے وہ اُس تھوڑے سے فاصلے کو بھی ختم کردے۔۔۔اُسے چھو کر بنا کہے اُس کے سوالوں کے جواب دے دے۔۔۔درمیان کی وہ دیوار ہٹا دے
۔اُس کی نظریں اُس کے لب منتظر تھے کے اُس کی یہ چاہ مکمل ہو ۔۔۔لیکن وہ پریشان تھا مجبور تھا بے بس تھا کے اگر کمزور پڑ گیا تو کام بگڑنے کے ساتھ نین کی زندگی بھی خطرے میں آجائے گی۔۔۔۔
۔وہ اُس کے مزاج سا باخبر تھا کے وہ کبھی کبھی کتنی بیوقوف ہوجاتی ہے۔۔کچھ بھی سوچے بنا بول دیتی ہے۔۔۔۔۔کچھ بھی کر دیتی ہے۔۔۔۔۔اور اگر وہ اُسے سچ بتا کر یہ رسک لے بھی لیتا تو اُس کی کسی نہ کسی حرکت کی وجہ سے وہ نظر میں آجاتی۔۔۔کیوں کے سنگھ کا سیکریٹری پہلے ہی موقعے کی تلاش میں تھا اُسے ٹٹول کر اُس کی غلطیاں ڈھونڈھ رہا تھا تاکہ اپنا راستہ صاف کر سکے
پھر اُسے نین کو بچانے کو سامنے آنا پڑتا اور مہینوں کی محنت جو اپنے اختتام پر تھی خاک ہوجاتی۔۔۔
وہ منزل کے اتنے نزدیک پہنچ کر غلطی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔
اُسے بس انجو سے شادی کرکے اُس مقام تک پہنچنا تھا جو ملک میں جرم کی شاخائیں پھیلانے والی مخصوص جڑ تھی۔۔۔۔۔
جہاں سفید پوشوں کی اصل حقیقت چھپی تھی۔۔۔
ويرانش کی کرسی جہاں سے وہ نا صرف ایک ایک سیاہ دھبے کو دیکھ سکتا تھا بلکہ اُنہیں مٹا بھی سکتا تھا۔۔۔۔
ذہن میں چلتی سوچوں اور دل میں امڈتے جذبات کی اُلجھن سے پریشان ہو کر وہ ضبط سے جلتی نظروں کو بند کیے پیچھے ہو کر اُس سے دور ہوا۔۔۔
اور اُسے دور ہوتے دیکھ نین کا دل اتنی ہی شدت سے تڑپا جتنا اُس کے لمس کی چاہ میں۔تھا۔۔۔۔
اُس نے کوشش کی کے اُسے دور ہونے سے روک لے لیکِن اتنی ذلت بھی منظور نہیں تھی کے عزت نفس ہی راکھ ہوجائے۔۔۔۔اسلئے مُٹھی بند کرکے ہاتھ کو روک دیا
وہ بنا اُس کی طرف دیکھے چینجينگ روم میں چلا گیا
نین اُسے دیکھتی اپنی جگہ سے اٹھ بیٹھی۔۔۔۔تیز تیز سانسیں لے کر آنکھوں تک آنے کی کوشش میں مچلتے آنسوؤں کو روکنے کی سعی کی۔۔۔اُس جانلیوا احساس سے نکلنے کی سعی کی۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ شرٹ پہن کر بٹن بند کرتے ہوئے باہر آیا اور کچھ رک کر اُس کی جانب دیکھا۔۔۔۔
تم گئی نہیں اب تک۔۔۔۔۔
اجنبی لہجے میں بھی کچھ احساسوں کی تپش تھی لیکن اُس کی بیگانگی نے نین کو بری طرح ہرٹ کیا۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔اور جاؤں گی بھی نہیں۔۔۔۔
وہ درد اُداسی کو پرے کئے
۔۔ اپنے لہجے پر آکر غصے سے بولی۔۔
مجھے بھی تو دیکھنا ہے کے کتنی بے غیرتیاں کر سکتے ہو تُم۔۔۔۔بڑی تعریفیں کر رہے ہو اُس کی۔۔۔وہ بھی میرے سامنے۔۔۔۔۔ایک ایک لفظ کا بدلہ نہیں لیا نا تو نام بدل دینا میرا۔۔۔۔۔
وہ اپنے فوم میں آکر اُسے دھمکاتے ہوئے بولی تو اُسے نارمل دیکھ ساحل کو کچھ سکون سا محسوس ہوا کہ کم سے کم کو اُس کی آنکھوں میں اُداسی کچھ دیر تو کم ہو۔۔۔۔
بہت رومینس کے لڈو پھوٹ رہے نا تمہارے اندر۔۔۔۔ایک بار میرے ہاتھ آجاؤ۔۔۔۔پھر میں تمہیں اتنا پھوڑوں گی کہ تم اُنھیں لڈو وں میں زہر ملا کر کھانے پر مجبور ہوجاؤ گے۔۔۔۔
وہ دانت پیس کر آنکھیں چھوٹی کرکے اُسے گھورتے ہوئے بولی تو اُس نے لبوں پر آتی مسکراہٹ چھپانے کی کوشش میں ہاتھ اٹھا کر بالوں میں پھیرا۔۔۔
اپنے ڈولے مت دکھاؤ مجھے۔۔ میں نہیں ڈرتی ورتی ۔۔۔۔۔یہ سب تو بس میری ایک کک کے آگے فیل ہے۔۔۔۔
وہ اُس کے ہاتھ اٹھانے کو اُس کا دھمکی بھرا اشارہ سمجھ کر ۔۔۔ اسکائی بلیو شرٹ کی آستین کو تنگ کرکے واضح نظر آتے بھاری بازو کو دیکھ ناک چڑھاتے ہوئے بولی۔۔۔
اُس نے ابرو اٹھا کر سنجیدگی سے اُسے دیکھا۔۔۔۔
اسی لیے ایسی باڈی بنائی ہے نہ تم نے تاکے اپنے یہ ایٹ پيگز دکھا کر لڑکیوں کو ایمپریس کرسکو۔۔۔
اُس کی ٹرین نہیں رکنی تھی نہیں رکی۔۔۔۔اُس نے سر ہلا کر بھنویں سکیڑ کر ساحل کو دیکھا۔۔۔وہ سنجیدگی سے اُس کے ایکسپریشن دیکھ رہا تھا سمجھنے کے کوشش کر رہا تھا کیسے ہر روپ اُسے اور خوبصورت بنا دیتا تھا۔۔۔
ایک بار مجھے موقع ملنے دو۔۔۔۔تب تک فاقے کرواؤں گی جب تک تمہاری یہ ساری باڈی بلڈنگ کا دی اینڈ نہیں ہوجاتا۔۔۔کیوں کے میں تمہاری لوز باڈی دیکھ سکتی ہوں لیکن لوز کیریکٹر برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔
وہ اُسے دھمکا کر اپنے خطرناک ارادوں سے باور کرواتے ہوئے بولی وہ تب بھی خاموش رہا اُسے دیکھتا رہا۔۔۔۔کچھ تھا جو اُسے بری طرح اپنی طرف کھینچ رہا تھا کے اُس کی ہر کوشش ناکام ہو رہی تھی۔۔۔
اب میرا منہ ہی دیکھتے رہوگے یا کچھ بولوگے۔۔۔
اُس کے خاموش دیکھنے سے نین کا دل مچلا تو وہ جھنجھلا کر بولی
میں یہ سوچ رہا تھا کہ ایک ساتھ اتنی بکواس کرنے کے لیے کونسا خاص اینرجی ڈرنک لیتی ہو تم۔۔۔
اُس نے سنجیدگی کو قائم رکھے بیزار سا سوال کیا۔۔۔۔۔ہاتھوں کو جینس کی پاکٹس میں ڈالتے ہوئے
میری بورن پاور ہے یہ۔۔۔۔میں کِسی ڈرنک کی محتاج نہیں ہُوں۔۔۔۔۔۔
نین نے آنکھیں گھما کر شان سے بال جھٹکتے ہوئے کہا۔۔۔
ٹھیک ہے لیکن اتنی بکواس برداشت کرنے کی بورن پاور میرے پاس نہیں ہے سویٹ ہارٹ۔۔۔ اسلئے تم یہاں سے جا سکتی ہو اب۔۔۔۔پلیز
وہ نہایت مودبانہ لہجے میں سادگی سے بولا۔۔۔
میں یہاں سے تب تک نہیں جاؤں گی جب تک تم مجھے بتا نہیں دیتے کے یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔
یہ دکش لانتي کون ہے ۔۔تم اُس کی جگہ کیوں ہو۔۔۔اور انجو کو لے کر یہ سب کیا سوانگ چل رہا ہے تمہارا۔۔۔۔
نین نے سر نفی میں ہلا کر جتاتے ہوئے کہا۔۔۔اپنے ایک ایک جملے پر زور دے کر پوچھا۔۔۔
پہلے تم مجھے ایک بات بتاؤ کے تم خود یہاں سے جاؤ گی یا میرے گارڈز کو ہیلپ کرنی ہوگی۔۔۔
اُس نے اُسی ٹہرے انداز میں سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔بس لہجہ تھوڑا سخت ہوا تھا
دھمکی دے رہے ہو مجھے۔۔۔۔۔
نین نے ہاتھ باندھ کر اُسے گھورتے ہوئے پوچھا تو اُس نے بیزاری سے سانس خارج کرکے فون نکالا مانو اُسے اشارہ دیا کے اب دھمکی پر عمل کرنے والا ہے۔۔۔۔
نین نے ہڑبڑا کر اُس سے فون چھینا تو وہ اُسے گھور کے رہ گیا۔۔۔۔
اچھا چلی جاؤں گی لیکن ایسے سوکھے منہ بھیج دوگے مجھے۔۔۔مسٹر ڈی ایس کے گھر میں مہمانوں کو کچھ کھلانے پلانے کا رواج نہیں ہے۔۔۔۔۔
وہ فون پیچھے کرکے معصوم شکل بنا کے پوچھنے لگی۔۔وہ دانت بھینچے اُسے دیکھتا رہا۔۔۔۔۔
دیکھو نا کتنی کمزور ہو گئی ہوں۔۔۔۔بات کرتے ہوئے لفظ بھی لڑکھڑا کے گر پڑتے ہیں۔۔۔۔کتنے دن سے ڈھنگ سے کچھ کھایا بھی نہیں۔۔۔۔کیسے چل کر جاؤں گی ان بےجان پیروں سے۔۔۔
وہ کمزور لہجے میں تھکے تھکے انداز میں نہایت دکھ اور معصومیت سے بولی تو ساحل نے یوں دیکھا جیسے ابھی گارڈز کو بھگا کر اندر گھستے وقت یہ کمزوری کہاں تھی۔۔۔۔تب پیروں میں اتنی جان کہاں سے آگئی تھی۔۔۔
اپنے ہاتھوں سے ایک اپنا وہ اسپیشل انیین آملیٹ بنا کر کھلا دو مجھے۔۔۔تاکے میرے پیروں کو تھوڑی طاقت مل جائے۔۔۔۔پھر میں اُڑ کر چلی جاؤں گی یہاں سے۔۔۔پکا۔۔۔
اُس نے اُسی انداز میں کہہ کر سر سائیڈ میں جھکا کر پلکیں جھپکیں تو ساحل کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی۔۔۔
اُس نے تاسف سے اُسے دیکھا کے کس قدر خرافاتی دِماغ ہے جو اُسے پل میں کچھ نہ کچھ سوجھ جاتا ہے۔۔۔
You are so irritating۔۔۔۔۔
وہ بھٹکنے سے پہلے اُس کے چہرے سے نظریں ہٹا کر نہایت ضبط اور غصے سے جھنجھلا کر بولا تو۔۔۔
وہ تو میں ہوں۔۔۔
نین نے اُس کی جھنجھلاہٹ کو۔انجوئے کیا۔۔
۔۔۔ساحل اُس کے خوش ہونے پر اُسے خطرناک تیوروں سے گھورنے لگا
کچن کدھر ہے۔۔۔۔۔۔
نین نے اُس کے گھورتے ہی پھر چہرے پر معصومیت طاری کرکے پوچھا اور اُس کے جواب نہ دینے پر اُس کے غصے سے بچنے کے لیے جلدی سے باہر نکل گئی۔۔۔۔کیوں کے ابھی وہاں سے دھکے کھا کر نکلنا نہیں تھا۔۔۔۔
وہ اپنی بے بسی پر سر تھام کر رہ گیا۔۔۔۔