Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
اُس نے ارحم کے شولڈر پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
سنسان سڑکوں پر دونوں کے علاوہ صرف تنہائی تھی روڈ پر لگے لائٹوں کی روشنی سے اچھا خاصا اُجالا پھیلا ہوا تھا
میں وہاں اپنی بہن کو انصاف دلانے گیا تھا۔۔۔۔۔
اُس کے گناہ گار کو سزا دلانے گیا تھا۔۔۔
لیکِن آج پھر بھری عدالت۔میں اُسے دوبارہ بے عزت کیا گیا
اور آج بھی میں کچھ نہیں کر پایا۔۔۔۔۔۔۔
اپنی بہن کے ساتھ کیے اس دھوکے کی کیسے سزا دوں خود کو
اس کے بھیگے لہجے میں بے پناہ کرب تھا
وہ بھول گیا تھا کے وہ کہاں ہے اُس کے سامنے کون ہے بس یاد تھا تو اپنا غم جو سنبھالے نہیں سنبھل رہا تھا
اُس نے قریب ہو کر ارحم کو گلے سے لگا لیا ۔۔سہارا پا کر اُس کے رونے میں شدت آئی ۔۔ ۔وہ اُسے سختی سے تھامے۔۔۔اُس کے کندھے کو آنسوؤں سے بھگونے لگا۔۔۔
کیا کروں ۔۔۔۔۔۔۔کیسے اُس کا درد بانٹوں۔۔۔۔کیسے پوچھو اُس سے کے کیا گزری ہے اُس پر۔۔۔
وہ آنکھیں بند کئے آہستہ آواز میں بڑبڑا نے لگا
سنبھالو خود کو۔۔۔۔۔رو کر اپنا درد باہر مت نکالو۔۔۔۔اسے اندر ہی رکھو جب تک یہ درد تمہارے مجرم کو ختم کردینے کا جنون نہیں بن جاتا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے کندھے پر اپنا ہاتھ مضبوطی سے رکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔ارحم۔نے چونک کر آنکھیں کھولیں۔۔۔۔۔اُسے عین اُس وقت اندازہ ہوا کے وہ کسی کے ساتھ ہے کِسی نرم و نازک وجود کو باہوں میں۔بھرے۔۔۔۔
اُس نے پیچھے ہو کر اُسے دیکھا
یہ آنسُو تمہارے اندر جل رہی نفرت کی آگ کو ٹھنڈا کر دیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم انہیں آزاد مت کرو۔۔۔۔۔انہیں اپنی کمزوری نہیں طاقت بناؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شائینہ اپنی نازک اُنگلیوں سے اُس کے چہرے کو چھوتے ہوئے بولی
کون ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارحم نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر روکا
ارے۔۔۔۔۔مجھے نہیں پہچانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایکدم سے پیچھے ہو کر بولی اور ساتھ اُسے غصے سے دیکھنے لگی
بے ایمان کہیں کے۔۔۔۔اتنی جلدی بھول گئے
اُس نے ارحم سے شکوہ کیا وہ نا سمجھی کے عالم میں اُسے دیکھنے لگا
میں وہی ہوں جسے ایک سکنڈ پہلے گلے لگا کر تم بچوں کی طرح رو رہے تھے۔۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے کہتی ہوئی مسکرائی ارحم نے اُسے گھور کر دیکھا اور وہاں سے اٹھ گیا
احسان فراموش۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آگے بڑھتا اس کے پہلے ہی و ذرا غصے سے بولی ارحم نے حیرت سے اُسے دیکھا
رونے کے لیے اپنا کندھا دیا ہے تمہیں۔۔۔۔ایسے منہ پھیر کے تو مت جاؤ۔۔۔۔۔
وہ خفگی سے منہ بنائے بولی
اُس نے اس طرح کہنے۔پر وہ نا چاہتے ہوئے بھی واپس آکر وہاں بیٹھ گیا
معاف کرنا۔۔۔۔مجھے اندازہ نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔
وہ حقیقت میں شرمندہ ہوا اپنی لاپرواہی پر
کتنے کیوٹ ہو یار تم۔۔۔۔۔۔بس تھوڑے روتو ہو۔۔۔۔
اُس کے سر جھکائے معافی مانگنے پر وہ مسکراتے ہوئے بولی
آپ اتنی رات کو اکیلی یہاں کیا کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارحم نے اُس کی طرف دیکھ کر سوال کیا
میں۔۔۔میں ایک بھٹکتی آتما ہوں ۔۔۔۔۔ سالوں سے یہاں بھٹک رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے یہاں سے گزرتے مسافروں کا خون پینا بہت پسند ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پر اسرار سی آواز میں بولی اور ایکدم سے کھلکھلا کے ہنسنے لگی ارحم نے اُسے گھورا
ریلیکس یار بھوتنی نہیں ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے بال پیچھے کرتے ہوئے بولی
یہ جگہ محفوظ نہیں ہے اس لیے کہا۔۔۔۔۔۔۔
ارحم نے ناگوری سے جتایا
لڑکیوں کے لئے تو دنیا کی کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے۔۔۔۔۔یہاں تک کہ اُن کے اپنے گھر بھی نہیں۔۔۔۔۔۔کہاں کہاں سے بھاگیں۔۔۔
وہ پہلی دفعہ سنجیدگی سے بولی
آپ کے گھر والے آپکا اِنتظار کر رہے ہوں گے۔۔۔۔۔۔
ارحم نے اُسے احساس دلایا
میرا کوئی انتظار نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہلکا سا ہنس کر بولی
تم بتاؤ کیا ہوا ہے تمہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمجھ تو میں سب گئی ہوں لیکِن اگر تم پوری بات بتاوگے تو اچھا ہوگا
وہ اُس کی طرف رخ کرتے ہوئے بولی
مجھے جانا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس سے نظریں چرا کر اٹھ گیا خود کو اپنی بے وقوفی پر کوستے ہوئے۔۔شائنه نے اُسے روکنے کے لیے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔۔۔۔۔ارحم نے حیرت سے پلٹ کر اُس کے ہاتھ میں اپنے ہاتھ کو دیکھا
اجنبیوں سے دکھ بانٹنا زیادہ ایزی اور سیف ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔
وہ مُسکرا کر بولی ارحم ایک گہری سانس لے کے واپس بیٹھ گیا
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
سکندر حویلی پہنچا تو اندر جشن چل رہا تھا اُسے سمجھنے کی ضرورت نہیں تھی کے یہ جشن آج کی کورٹ میں ملی کامیابی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔۔۔اُس کا باپ چند امیر لوگ اور اُس کا وکیل بھی شراب نوشی میں مگن تھے
مبارک ہو سکندر۔۔۔۔۔ایسا سمجھو تم یہ کیس جیت گئے۔۔۔۔۔۔
وہ آگے بڑھا تو وکیل نے اُس کے آگے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا لہجے میں خود کیلئے فخر بول رہا تھا
سکندر نے ایک نظر اُس کا چہره دیکھا اور مُسکرا کر اُس کا ہاتھ تھام لیا بہادر شاہ بھی مسکرا دیا
امیزنگ۔۔۔۔۔۔۔بیٹیاں کتنی ہے تمہاری۔۔۔۔۔۔
سکندر اُس سے ہاتھ ملاتے ہوئے پوچھنے لگا
ایک ہی ہے سکندر۔۔۔۔۔۔۔
وکیل نے حیرت اور خوشگواری سے جواب دیا
فزیکل ریلیشن ہے اُس کا کسی مرد کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کا لہجہ اور تاثرات ایکدم سے سرد ہوئے۔۔۔وکیل حیرت کے مارے آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھنے لگا۔۔۔
سکندر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہادر شاہ نے اُسے غصے سے تنبیہ کی۔۔۔
پوچھ کر بتانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ وکیل کو کڑی نظروں سے گھورتا سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔پیچھے بہادر شاہ اپنے بیٹے کے حرکت پر شرمندہ ہو کر اُس کے رویے کی صفائی دینے لگا
سکندر نے کمرے میں آکر گلاس وال پر زور دار لات مار کر اُسے ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا اُس کا سر درد کی شدت سے پھٹنے کو تھا۔۔۔۔
اُس کا دل شدت سے فلک کی طلب کر رہا تھا۔۔۔۔
حلانکہ اب بہت دیر ہو چُکی تھی
∆∆∆∆∆∆∆\∆
ایکسیوز می۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں کہیں ایک ہینڈسم سا لڑکا رہتا ہے۔۔۔۔کیا نام ہے اُس کا ارحم۔۔۔۔۔۔ہاں ارحم کا گھر پتہ ہے آپکو۔۔۔۔۔
وہ گاؤں میں گاڑی لیے پہنچی تو سب اُسے ایسے دیکھنے لگے جیسے زو میں نیا جانور آگیا ہو۔۔۔جینس اور چھوٹا سا سفید ٹاپ پہنے کھلے بالوں اور ہلکے ہلکے میک اپ میں بے باک سے لڑکی گاؤں والوں کے لیے عجیب ہی تھی
اُس نے ایک کرانے کی دکان والے سے پوچھا تو اُس نے اشارے سے رحمت کا گھر دیکھا دیا
دیکھا پہلے بیٹی گھر سے بھاگ گئی اور اب بیٹے نے ایسی لڑکیوں کو گھر بلانا شروع کر دیا۔۔۔یہ لوگ ہمارے گاؤں کا ماحول خراب کر رہے ہیں۔۔۔۔
دکان پر کھڑے لوگ اُسے دیکھ کر تبصرھ کرنے لگے
وہ گھر کے نزدیک پہنچی اور لکڑی کا دروازہ کھول کر اندر چلی گئی۔۔۔۔
آنگن میں ہی اماں فلک اور شمع گیہوں بینّے میں مصروف تھی تینوں اُسے حیرت سے دیکھنے لگی
ہائے آنٹی۔۔۔۔۔۔۔ارحم ہے گھر پر۔۔۔۔۔۔
وہ مُسکرا کر اُنہیں ہائے کرتی ارحم کا پوچھنے لگی
کون ہو لڑکی ۔۔۔۔اندر کیسے آئی
اماں نے نا گواری سے اُسے دیکھا
میرا نام شائنہ ہے آنٹی۔۔۔۔۔ارحم سے ملنا ہے مجھے۔۔۔۔۔
وہ اُن کے ایسے دیکھنے پر کچھ نروس ہو گئی اماں نے شمع کو اشارہ کیا تو وہ اٹھ کے سیڑھیوں کے قریب جا کر ارحم کو پکارنے لگی
وہ نیچے آیا تو شائنا کو دیکھ کر حیران رہ گیا
کل رات گھنٹوں دونوں نے ساتھ گزارے تھے ایک دوسرے کے بارے میں سب کچھ شیئر کیا تھا۔۔۔۔
لیکن ارحم کو اُمید نہیں تھی کے وہ یوں اُس کے گھر آجائے گی
۔ہائے۔۔۔۔۔۔
اُس نے ارحم۔کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلایا وہ امّاں کی گھوری محسوس کرتا جلدی سے آگے بڑھا۔۔۔تاکہ اُس سے آنے کی وجہ پوچھ سکے۔۔۔۔
اُس کے پاس آتے ہی وہ دونوں بازوں اُس کے گلے میں ڈال کر اُس کے قریب ہو گئی۔۔۔۔۔اماں اور شمع کے تو منہ ہی کھلے رہ گئے ۔۔فلک گیہوں پر سر جھکائے بیٹھی تھی
اب کیسے ہو تم۔۔۔۔۔۔
وہ اُس سے الگ ہوتے ہوئے بولی ارحم نے اُس کے ہاتھ گردن سے نکالتے ہوئے کن انکھیوں سے اپنی اماں کو دیکھا جو شاینہ کو سر سے پیر تک گھور رہیں تھیں
اُس لڑکی کو اتنا تو جان گیا تھا کے وہ بہت بولڈ اور نئے خیالوں کی ہے لیکِن اُس کے ایکدم سے گھر آجانے کی اُمید نہیں تھی وہ بھی ایسے جیسے صدیوں کی دوستی ہو
تم یہاں کیوں آئی۔۔۔۔۔۔
وہ آہستہ سے بولا
بہت ضروری بات کرنی ہے تم سے لیکِن پہلے تم مجھے اپنی فیملی سے انٹرڈیوس تو کرواؤ۔۔۔۔۔۔
وہ چہیک کر بولی ارحم نے زچ ہو کر اُسے دیکھا
یہ میری اماں ہے اور اماں یہ میری۔۔۔۔ جاننے والی ہے
اُس نے لیے دیے انداز میں تعارف کرایا
جاننے والی۔۔۔۔۔۔یہ کیا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔آنٹی میں ارحم کی جگری دوست ہوں۔۔۔۔۔۔
اُس نے ارحم کو گھور کر خود کا تعارف دیا
اور تم شمع ہو نہ۔۔۔۔
اُس نے شمع کو دیکھ کر کہتے ہوۓ اُسے گلے لگا لیا وہ حیرت سے ارحم کو دیکھنے لگی
تم فلک۔۔۔۔۔۔
وہ شمع سے الگ ہو کر فلک کے پاس آئی۔۔۔اور شدت سے اُسے گلے لگاتے اپنا گلا تر کہا
بہت پیاری ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے گال پر۔کس کرتے ہوئی مُسکرا کر بولی وہ بس اُسے دیکھتی رہ گئی
تم کوئی بات کرنے آئی تھی۔۔۔۔
ارحم نے پھر سے پوچھا
ہاں لیکِن یہا نہیں۔۔۔۔تمہیں میرے ساتھ چلنا پڑیگا
لیکِن۔۔۔۔۔
ارحم نے انکار کرنا چاہا
اففو۔۔۔۔چلو بھی۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کا بازو تھامے اُسے تقریباً کھینچتی باہر لے جانے لگی ارحم۔نے اماں کی طرف دیکھا تو وہ منہ پر ہاتھ رکھے اُسے دیکھ رہی تھی
اماں میں ابھی آتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جلدی سے بولتا اُس کے ساتھ باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
اب بتائیں گیں آپ کے آخر بات کیا ہے
گاڑی سٹارٹ ہوتے ہی وہ زچ ہو کر بولا
صبر کرو میرے یار صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے
وہ اُسے دیکھ کر مسکرائی ارحم گہرا سانس لے کر رہ گیا۔۔۔۔
عجیب لڑکی تھی۔۔۔۔۔چند گھڑیوں کی جان پہچان میں گلے ہی پڑ گئی تھی
۔
تم اس طرح میرے گھر کیوں چلی آئی۔۔۔۔۔۔
ارحم نے اُسے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے پوچھا
کیوں تمہیں اچھا نہیں لگا میرا انا۔۔۔۔
وہ منہ بنا کر بولی
کل ہی تو ہم ملے تھے۔۔۔۔۔نا ایک دوسرےکو ڈھنگ سے جانتے ہیں نا کوئی تعلق ہے۔۔۔۔۔
تم اس طرح میرے گھر چلی آئی جانے سب نے کیا مطلب نکالا ہوگا
تمہیں ڈر نہیں لگتا کے لوگ کیا کہے گے۔۔۔کیا باتیں بنائے گے۔۔۔۔
وہ غور سے اُسے دیکھنے لگا
اس ڈر اور لحاظ کے ساتھ فلک بھی تو جیتی رہی ۔۔اُسے کونسا صلہ مل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آہستہ لیکن سنجیدہ لہجے میں بولی ارحم نظریں پھیر گیا اُس کی بات میں سچائی تھی
ہم جتنا ڈرتے ہے ارحم۔۔۔دنیا اتنا ڈراتی ہے۔۔۔۔۔
کسی چیز کو جتنا سنبھال کر رکھو اُس پر خطرہ اتنا ہی بڑھ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔
ہمیں بس اُس خطرے سے لڑنے کے لیے خود کو تیار رکھنا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔اسی لیے تو۔میں نے کراٹے سیکھا ہے۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے کہتے ہوئے آخر میں میٹھا سا مسکرائی
تمہارے ماں باپ کہاں ہے۔۔۔۔۔
ارحم نے پھیر کل والا سوال کیا وہ ہنسی
دونوں بہت دور دور ہے اور میں بیچ میں اکیلی۔۔۔۔۔۔
ہنسنے میں بھی بے حد اُداسی تھی وہ سمجھ گیا کے کیوں اب تک اس سوال کو نظر انداز کرتی رہی ہے
کہاں لے آئی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی ایک گھر کے پاس رکی تو اُس نے حیرت سے پوچھا وہ بنا جواب دیے مسکرائی۔
وہ خاموشی سے باہر نکل آیا۔۔۔۔۔ڈور بیل بجانے پر ایک عورت نے دروازہ کھولا
ہائے نیہا۔۔۔۔۔۔۔۔کیسی ہو ۔۔۔۔۔۔
۔شائنہ مسکرا کے اُس سے گلی ملی وہ خوش دلی سے دونوں کا ویلکم كرکے اُنہیں اندر لائی
۔شائنہ نے اُسے بتایا کے نیہا ایک وکیل ہے اور اب وہ فلک کا کیس لڑے گی۔۔۔۔۔۔۔ارحم حیرانی سے اُسے دیکھنے لگا۔۔
اُس لڑکی سے ملے اُسے بس کچھ گھنٹے ہی گزرے تھے۔۔۔ کیا یہ بات سچ تھی
نیہا نے ارحم سے کیس کے متعلق ڈسکس کیا اُس سے فلک کے بارے میں سکندر کے بارے میں اور کورٹ میں ہوئی بحث کو لے کر سوالات کیے ۔شائنہ اس دوران خاموش بیٹھی رہی
ڈونٹ وری ارحم۔۔۔۔۔۔فلک کا کیس اب میں لڑوں گی۔۔۔۔۔اور اُسے انصاف ضرور ملے گا یہ میرا وعدہ ہے تم سے۔۔۔۔۔۔۔
آخر میں اُسے اُداس دیکھ کر نیہا اُس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔ارحم نے سر ہلا دیا اور۔شائنہ کو دیکھا
۔شائنہ نے محسوس کیا جیسے وہ کچھ کہنا چاہتا ہو
اچھا ہم چلتے ہیں ۔۔۔۔کل میں تمہیں فلک سے ملوا دوں گی
شائينہ اٹھتے ہوئے بولی اور پھر ارحم اور وہ نیہا سے مل کر وہاں سے نکل گئے
کیا بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے گاڑی میں بیٹھتے ہی ارحم کو دیکھ کے پوچھا
تم نے اُن سے بات کرنے سے پہلے مجھ سے پوچھا نہیں۔۔۔۔۔۔اُن کی فیس۔۔۔۔۔
وہ کچھ پریشان ہو کر بولا ۔شائنہ نے اُس کی بات کاٹی
ریلکس۔۔۔۔۔۔اگر پیسوں کی کمی ہوئی تو ہم تمہاری ایک کڈنی بیچ دیں گے۔۔۔۔
وہ شرارت سے مسکرا کر بولی ارحم کے لبوں پر بھی مسکراہٹ آگئی وہ اُسے حیرت سے دیکھنے لگی۔۔۔۔وہ اسمائیل اُس کے چہرے پر بے حد پیاری لگ رہی تھی
ہنستے ہوئے بہت اچھے لگتے ہو تم۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے اپنے دل کی بات لبوں سے ادا کی ارحم سنجیدگی سے اُسے دیکھنے کہا
۔ہنسا کرو نا۔۔۔۔
وہ مُسکرا کر بولی
ہنستا ہوں تو ایسا لگتا ہے گناہ کر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔اپنی بہن کی بربادی پر ہنس رہا ہوں۔۔۔۔۔۔
وہ درد بھرے لہجے میں بولا ۔شائنہ اُسے غور سے دیکھنے لگی۔۔۔۔وہ اُسے بہت اپنا اپنا سا لگنے لگا تھا۔۔۔اُس نے گاڑی روک کر رخ اُس کی جانب کیا اور اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا
بس ارحم۔۔۔۔۔۔۔اپنے اموشنس یوں ضایع مت کرو۔۔۔۔
سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔۔
تمہاری محنت اور کوششیں رائیگاں نہیں جانے دیگا
تم ضرور جیتو گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے ہمت دیتے ہوئے بولی ارحم نے سر ہلا دیا۔۔۔۔۔۔۔
۔شائنہ کا دل اُس کی طرف بڑھ رہا تھا اس بات سے انجان کے اُس کے دل میں تو پہلے سے کسی کا بسیرا تھا۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆
فلک کا دل گھبرا رہا تھا وہ پھر سے اُن سب سوالوں کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔اگر انصاف اپنے کردار کی دھجیاں اڑا کر مل رہا تھا تو وہ انصاف نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔
اُس نے ارحم کے سامنے کورٹ جانے سے انکار کر دیا تھا
لیکِن ارحم نے اُس سے ایک آخری موقع مانگ کر اُسے راضی کیا۔۔۔۔۔۔
مایوس تو پہلے وہ خود بھی ہو چکا تھا لیکِن ۔شائنہ نے اُس کے دل میں ایک نئی اُمید بھر دی تھی۔۔۔۔
نیہا اور وہ دن رات محنت کرکے اُس کیس پر کام کر رہی تھی۔اور اُن کا حوصلا ارحم کی ہمت میں اضافہ کر رہا تھا۔۔۔۔
۔شائنہ سے ملے اُسے ایک مہینہ ہو گیا تھا اور اس ایک مہینے میں جہاں وہ ہر پل ارحم کی ہمت بنی تھی وہیں ۔شائنہ کے دل میں ارحم کا مقام مضبوط ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ بس اُسے دیکھنے اور اُس کے ساتھ وقت گزارنے کے موقعے تلاش کرتی رہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔
∆∆∆∆\\ جاری۔۔۔۔۔
غور سے پڑھیں۔۔۔۔۔
میرے ناولز میں ہندی الفاظ۔۔۔بھارتی مقامات اور غیر مسلم کیریکٹر نظر آتے ہیں کیوں کہ
میں انڈین ہوں۔۔۔
الحمدللہ میں مسلم ہوں ۔۔
ہندوستانی مسلم ہوں۔۔۔۔۔
آپ میں سے کچھ لوگ جانتے ہیں اور کچھ نہیں جانتے اس لیے آج میں کلیئر کر دینا چاہتی ہوں کیوں کے کل ایک بھائی صاحب نے آکر بہت عجیب عجیب سی باتیں کی کے ہندی الفاظ کو فروغ نہ دو۔۔۔۔۔بھارتی مقامات کا ذکر نہ کرو وغیرہ وغیرہ۔اور اکثر ہی لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں
میں اُن سب کو بتا دینا چاہتی ہوں کے ہم کہانی میں وہی لکھتے ہے جو ہم دیکھتے ہے سنتے ہے جو ہمارے اطراف میں ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔
میں جس ماحول میں رہتی ہوں اُس کا اثر میرے ناولز میں نظر آتا ہے
ہمارے یہاں مسلم سے زیادہ ہندو آبادی ہے۔۔۔۔یہاں اردو میں بھی ہندی کی آمیزش ہے۔۔۔۔۔اور ظاہر ہے میں اپنے اطراف کی کہانیاں ہی لکھوں گی۔۔۔۔
میری کہانیوں میں ایسا ہی طرز عمل نظر آئیگا
مجھے نہیں لگتا کے ہندی الفاظ پڑھنے یا ایک انڈین طرز کی کہانی پڑھنے سے آپ کی حب الوطنی کو کوئی خطرہ ہے۔اور اگر آپکو ایسا لگتا ہے تو مہربانی کرکے میرا لکھا پڑھنے سے گریز کرے۔۔۔
لیکِن کڑوی باتیں کرکے دل آزاری نہ کریں
