Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 51

وہ روم سے باہر نکلنے سے بھی گریز کر رہی تھی کے کوئی اُس کی پریشانی نوٹ کرکے سوال جواب نا کرنے لگے۔۔۔
اُسے ابھی بھی شاد کی طرف سے ٹینشن تھی کے وہ اُس سے بدلہ لینے کی کوشش کریگا۔۔۔۔
اُس نے طے کیا تھا کے وہ کچھ وقت کے لیے اپنے ننیہال چلی جائے گی۔۔۔۔۔۔
تاکہ یہ معاملہ مکمل طور پر ختم ہوجائے
وہ بیڈ پر سکڑی سمٹی بیٹھی تھی جب نین کو اندر آتے دیکھ سیدھی ہو کر مسکرائی
جیا تم ٹھیک ہو نا۔۔۔۔۔۔کل رات کچھ ہوا تھا کیا تم اپسیٹ لگ رہی تھی۔۔۔۔ساحل بھی بہُت پریشان تھا۔۔۔۔
نین اُس کے قریب بیٹھتے ہوئے جانچتے انداز میں اُسے دیکھنے لگی
کچھ نہیں ہوا نین۔۔۔۔بس ایسے ہی۔۔۔۔تم بتاؤ نا کچھ کام تھا۔۔۔۔۔۔۔
جیا نے اُس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بات بدلی،
تھوڑی شاپنگ کر نی تھی مجھے۔۔۔۔اور کالج میں ایڈمیشن بھی کرنا ہے۔۔۔چلو نا تم میرے ساتھ۔۔۔۔۔
نین نے مسکرا کر کہا۔۔۔عشرت دونوں کو دیکھ کر اندر آتے آتے دروازے پر ہی رک گئی
آج۔۔۔۔۔آج تو میری طبیعت بلکل ٹھیک نہیں لگ رہی نین۔۔۔۔ہم کسی اور دِن چلے پلیز۔۔۔۔۔۔۔
جیا اُس کی بات پر پریشان ہو کر جلدی سے بہانا بتاتے ہوۓ بولی
ٹھیک ہے کوئی بات نہیں لیکن پکّا کوئی پرابلم نہیں ہے نہ۔۔۔۔
نین سوچ کر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے دوبارہ پوچھنے لگی
نین کو شاپنگ کرنی ہے اگر ساحل بناء کہے اُس کے لیے شاپنگ کرکے ڈھیر سارا سامان لے آئے تو وہ تو خوشی سے نہال ہو جائے گی۔۔۔۔
عشرت کو نین کی بات سے دونوں کو ملانے کا زبردست آئیڈیا سوجھا۔۔۔
مجھے کچھ کرنا بھی نہیں پڑیگا دونوں خود ہی ایک ہو جائیں گے۔۔۔
وہ بھی شیرین کی طرح اپنی پلاننگ سوچ سوچ کر خوش ہونے لگی
لیکن خرچہ بہُت ہوگا۔۔۔۔۔۔
اچانک ہی خیال آیا کے شاپنگ پر پیسے خرچ کرنے پڑے گے تو پریشان ہو گئی
تو کیا ہوا۔۔۔۔اُن کڑوں کے لیے پچاس سا ٹھ ہزار تو خرچ کر ہی سکتی ہوں نا۔۔۔۔۔دادی کی فیورٹ بن جاؤں گی سو الگ۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے خود کو تسلی دیتے ہوئے راضی کیا اور مسکرا کے اندر اُن دونو کی طرف بڑھی
∆∆∆∆∆∆
کائے کو بلایا اپن کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کے کے کے سامنے والے صوفے پر بیٹھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھنے لگا
ایک کام ہے تمہارے لیے۔۔۔۔۔۔
کے کے نے شراب کا گلاس لبوں سے لگاتے ہوئے ٹیبل پر پڑی تصویر کو سیدھا کیا۔۔۔
وہ کسی آدمی کی تصویر تھی جو کے کے کے ساتھ کھڑا تھا۔۔۔
دیکھنے سے دونوں کی دوستی نظر آتی تھی۔۔
یہ میرا پرانا کتا میرا مال کھا کے ملک چھوڑ کر جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں چاہتا ہوں تم آج کی رات اُس کی آخری رات بنا دو۔۔۔۔۔
کے کے نے نفرت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔وہ نا محسوس سا مسکرایا یہ سوچ کر کے اس دنیا میں کوئی کِسی کا دوست نہیں ہوتا۔۔بس دشمن ہوتے ہے
ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔
اُس نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے وہ تصویر اٹھائی اور اپنے موبائل میں ایڈ کرنے لگا
چیئرز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کے کے نے خوش ہو کر مسکراتے ہوئے گلاس دوبارہ لبوں سے لگایا
اسی وقت مایا نے پیچھے سے آکر اُس کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے بڑی ادا سے کان میں کچھ کہا۔۔۔وہ سنجیدگی سے سن کر سر ہلاتا اپنی جگہ سے اٹھ کر اندر جانے لگا۔۔۔۔
اور مایا مسکراتی نظروں سے ساحل کو دیکھتی اُس کی طرف بڑھی۔۔۔۔
گرے کلر کی لانگ گاؤن جو ایک سائیڈ سے گھٹنے کے اوپر تک کھلی تھی۔۔۔۔۔گہرے میک اپ ۔۔سرخ لپ اسٹک اور اپنی قاتل اداؤں سے وہ کسی بھی مرد کو زیر کرنے کی طاقت رکھتی تھی۔۔
اسی ناز و غرور سے چلتی آکر ساحل کے ساتھ اُس کے بے حد قریب بیٹھ گئی ۔۔۔۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھتے اٹھتے رہ گیا۔۔۔۔
مایا نے پیر پر پیر رکھے تو دونوں پیر برہنہ ہو گئے۔۔۔
رخ پورا ساحل کی طرف تھا
ساحل نے سرد نگاہوں سے اُسے دیکھا کوئی حیرت نہیں ہوئی کیوں کے یہ بہت عام بات تھی
کبھی ہمارے بھی کام آجایا کرو۔۔۔۔۔۔
وہ ساحل کے کندھے پر کہنی ٹکا کر سارے بال ایک کندھے پر سمیٹتے ہوئے بولی
جس سے اُس کی گردن شولڈر اور گہرا گلا مکمل طور پر ساحل کے سامنے واضح ہوۓ۔۔۔۔۔۔۔
تیز پرفیوم۔کا جھونکا فضا میں بکھر گیا
تیرا کونسا کام ہے۔۔۔۔۔
اُس نے لا پرواہی سے كہنی کندھے سے نیچے کرتے ہوئے پوچھا۔۔مایا نے مسکرا کر ہاتھ اُس کے سینے پر رکھا
کبھی اکیلے میں ملاقات ہو تو بتاؤں گی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے شرٹ کے بٹن سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے معنی خیز لہجے میں کہتی اُسے ونک دیتے ہوئے پیچھے ہوئی اور ٹیبل پر۔پڑے خالی گلاس میں شراب انڈیل کر اُس کی طرف بڑھائی۔۔۔
میں نہیں پیتا۔۔۔۔۔چڑھ جاتی ہے۔۔۔۔
اُس نے گلاس پیچھے کرتے ہوئے انکار کیا وہ دلفریب سا مسکرائی
چڑھ جائے تب ہی تو اصل مزا ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ گلاس سے اُس کی پیشانی سے گلے تک لکیر بناتی اُس کی کھلی شرٹ سے جھلکتے سینے کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپن کو مزے لینے کا کوئی شوق نہیں ہے۔۔۔۔تو اپنے بائے فرینڈ پر دھیان دے۔۔۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ پیچھے کرکے بیزاری سے کہتا وہاں سے اٹھ گیا۔۔۔
مایا کی مسکراتی نظروں نے بہت دور تک اُس کا تعاقب کیا۔۔
∆∆∆∆∆∆∆
ارے رابعہ یہ کون ہے۔۔۔۔
رابعہ بیگم اپنی سہیلیوں کے ساتھ بیٹھیں تھیں
فلک ٹیبل پر ناشتا سرو کرنے لگی تو ایک خاتون نے پوچھا۔۔۔
یہ۔۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے زہر نظروں سے اُسے دیکھا۔۔۔۔و سر جھکائے ٹیبل پر ناشتے کی ٹرے رکھ رہی تھی۔دل گھبرا بھی رہا تھا کے رابعہ بیگم سب کے سامنے غصّہ نا کردے
یہ ہمارے گھر کی نئی نوکرانی ہے۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے ناگواری سے اُس کا تعارف کروایا۔۔۔
تمہاری نوکرانی دیکھنے میں تو اچھے گھرانے کی لگتی ہے۔۔۔۔۔۔
ایک عورت مسکراتی ہوئی بولی۔۔۔
شکل و صورت سے کیا ہوتا ہے۔۔۔۔۔حیثیت تو وہی رہتی ہے جو ہے۔۔۔
رابعہ بیگم نے طنز کیا جس پر فلک نے لب بھینچے۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے فلک کو حقارت سے گھورتے ہوئے جوس کا گلاس اٹھایا۔۔۔جس کی وجہ سے وہاں رکھا ایک گلاس دھکا لگ کر گر پڑا۔۔
وہ سنبھل کر۔پیچھے ہوئیں
دیکھ کیا رہی ہو۔۔۔۔۔۔صاف کرو۔۔۔۔۔
انہوں نے فلک کو غصے سے دیکھتے ہوئے حکم دیا وہ جلدی سے سر ہلاتی سامنے پڑے ٹشو باکس سے ٹشوز اٹھا کے جھکی لیکِن اُس کے عمل کرنے سے پہلے ہی کسی نے اُس کے ہاتھ کو پکڑ کر روک دیا
اُس نے حیرت سے دیکھا تو اُس کے پاس داؤد کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ دو دن بعد اُسے دیکھ رہی تھی اس کے یوں اچانک سامنے آنے پر دل زوروں سے دھڑکنے لگا تھا
میں کر دیتا ہوں مام۔۔
دو مجھے۔۔۔۔۔۔
وہ رابعہ بیگم کی طرف دیکھ کر جتاتے ہوئے بولا جو اُسے دیکھ کر گھبرا گئیں تھیں۔۔۔
اور فلک کے ہاتھ سے ٹشو لے کر جوس صاف کرنے لگا۔۔۔فلک تو سن کھڑی تھی رابعہ بیگم صبر کا کڑوا گھونٹ پی کے رہ گئیں۔۔۔
سب عورتیں حیرت سے داؤد کو دیکھ کر کھڑی ہو گئیں تھیں
یہ تم کیا کر رہے ہو داؤد۔۔۔۔۔۔
آخر اُن میں سے ایک بول پڑی
آنٹی میری بیوی کرے یا میں ایک ہی بات ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولا جس پر سب حیرت زدہ سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں
رابعہ تم تو کہہ رہی تھی یہ تمہاری نوکرانی ہے
اُس عورت نے رابعہ بیگم کو شرمندہ کرنا ضروری سمجھا۔۔۔وہ ضبط کرتیں رہ گئیں۔۔
فلک پریشانی سے اُنگلیاں مروڑ رہی تھی
مام مزاق کر رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔آپ لوگ مام کو تو جانتیں ہے۔۔۔۔
داؤد مسکرا کر اُنہیں ٹالتے ہوئے بولا
اچھا رابعہ۔۔۔۔ہم لوگ چلتے ہے۔۔۔۔
جو عورتیں رشکِ و حسرت سے دیکھتیں تھیں آج اُن عورتوں کی نظر میں نا پسندیدگی تھی یہ بات رابعہ بیگم کی نفرت مزید بڑھا گئی
خوش ہو اپنی ماں کو سب کے سامنے بے عزت کرکے۔۔۔۔۔
،اُنہوں نے سب کے جاتے ہیں خاموش کھڑے داؤد کو دیکھ کر بھیگے لہجے میں کہا
میں نے آپکو بے عزت نہیں کیا مام۔۔۔۔بلکہ جو آپ فلک کے ساتھ کر رہیں تھیں اُس سے روکا ہے۔۔۔۔
آپ اسے اپنی بہو نہیں مانتی نا مانیں۔۔۔لیکِن اسے لوگوں کے سامنے شرمندہ کرنے کا حق بھی نہیں ہے آپکو۔۔۔۔
وہ غصے کو ضبط کرتے ہوئے بولا
اس لڑکی کی اتنی امپوٹنس ہے تمہاری لائف میں کے ماں کا کوئی لحاظ کوئی قدر ہی نہیں رہی۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے دکھ سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا فلک کی آنکھوں میں آنسُو آنے لگے کے وہ لاکھ کوشش کے بعد بھی رابعہ بیگم کو نہیں منا سکتی تھی
مام میں کیسے سمجھاؤں آپکو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بے بسی سے کہتا سر تھام گیا
رہنے دو بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر ماں کی محبت ایک دن کِسی لڑکی کی محبت کے آگے ماند پڑ جاتی ہے۔۔۔۔۔تم کونسے نئے ہو۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم مسکرا کر طنز کرتی وہاں سے چلی گئیں وہ پریشان کھڑا تھا سمجھ نہیں آرہا تھا کے اور کتنے دن اُسے اِنتظار کر نا پڑیگا اپنی ماں کی رضا کے لیے۔۔۔
فلک نے آگے بڑھ کر ہاتھ اُس کے بازو پر رکھے اُسے متوجہ کیا تو وہ اُسے سینے سے لگا کر خود میں بھینچے لگا۔۔۔
∆∆∆∆∆∆
وہ بھاگتی ہوئی روم میں آئی اور دروازہ بند کر کے زوروں سے ہنسنے لگی۔۔۔۔۔۔
باہر شانو اور خوشی کھڑے دروازہ پیٹ رہے تھے جن کے ساتھ وہ چھپن چھپائی کھیل رہی تھی اور اپنی باری آنے پر وہاں سے بھاگ آئی تھی۔۔۔۔
بیچارے بچے اُس کی چالاکی پر اُسے پکڑنے دوڑ رہے تھے لیکن وہ ہاتھ نہیں آرہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
اور اب بھی دروازہ پیٹ کر خود ہی وہاں سے چلے گئے۔۔۔
دروازے پر خاموشی ہوئی تو وہ دھیرے سے دروازہ کھول کر ادھر ادھر دیکھنے لگی اور دونوں کے نا ہونے پر خوش ہو کر سکون کی سانس لیتی واپس اندر آئی۔۔۔
دروازہ بند کر کے پلٹی ہی تھی کے دو خوفناک چہرے بلکل اُس کے سامنے تھے جنہیں دیکھتے ہی اُس کی زوردار چینخ نکل گئی۔۔۔۔وہ زمین بوس ہوتی اگر پیچھے دروازے کا سہارا نہ ملا ہوتا۔۔۔۔
اس کی پتلی حالت دیکھ کر بچے چہرے سے ماسک نکال کر زور زور سے ہنسنے اور کودنے لگے۔۔۔۔
وہ اُنہیں غصے سے گھورتے گھورتے ہنس پڑی اور اُن کے پیچھے دوڑی۔۔۔
وہ ٹیرس کے راستے سے اندر آئے تھے چھوٹی سے دیوار پھلانگ کر
وہیں سے باہر بھاگ گئے وہ اُنہیں دھمکاتی رہ گئی۔۔۔
اُن کے جانے کے بعد بری طرح تھکی گہرے گہرے سانس لیتی واپس روم میں آئی اور بیڈ پر گر گئی۔۔۔
اُس کے سر کے پاس ہی ایک بیگ رکھی تھی جسے دیکھ کر وہ حیران ہوتی اٹھ بیٹھی اور اُسے پہچانئے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔بیگ کے باہر نوٹ لگا ہوا تھا۔۔۔جس پر۔لکھا تھا
تمہارے لیے ایک چھوٹا سا گفٹ۔۔۔ان کپڑوں کو دیکھ کر خیال آیا کے یہ تم پر بہُت خوبصورت لگے گے تو لے آیا
میں تمہیں بس ایک بار ان کپڑوں میں دیکھنا چاہتا ہوں
اور اُس نوٹ کے نیچے ساحل لکھا دیکھ وہ بےہوش ہوتے ہو تے بچی۔۔۔۔۔
ماما کا بیٹا۔۔,میرے لیے گفٹ لایا ہے۔۔۔
صدمے سے اُس کے منہ سے نکلا۔۔۔۔۔
اُس نے جلدی سے بیگ کھول کر اندر سے اُس کا دِیا گفٹ نکالا تو دوسرا شاک لگا اور اس شاک کے بعد آنکھوں کر ساتھ منہ بھی کھلا رہ گیا۔۔۔۔
میں شیرین کی طرح باتیں نہیں کرتی دادی۔۔۔آج آپ اپنی آنکھوں سے دیکھنا کے دونوں کیسے ایک دوسرے سے صرف پیار سے بات کریں گے دیکھ کر لگے گا ہی نہیں کے کبھی یہ لڑے بھی تھے۔۔۔
اُدھر عشرت اپنی کار کردگی پر۔خوش ہو کر آسمان میں اُڑ رہی تھی۔۔۔۔۔
اور شیرین اُس کے کارنامے کو بگاڑنے کے بعد اندر ہی اندر انجام پر۔ہنس رہی تھی۔۔
ساحل بھی وہیں تھا دیر سے آنے پر عباس صاحب کی ڈانٹ سن رہا تھا۔۔۔ کیوں کے کھانے پر بھی اُس کا کافی انتظار کرتے رہے تھے۔۔۔
دیکھیے دادی نین نیچے ہی آرہی ہے۔۔۔۔۔
نین کو سیڑھیاں اترتے دیکھ عشرت جلدی سے بولی۔۔۔۔ دادی نے مسکرا کر اُسے دیکھا جو سیریس سی سیدھے ساحل کے پاس آئی تھی۔۔۔۔ عباس صاحب اُسے دیکھ کر ساحل کو۔گھورتے اپنے کمرے میں چلے گیے تھے
ماما کے بیٹے۔۔۔۔۔۔روم میں چلو ذرا
وہ اُن جاتے ہی ساحل کے پاس آکر مسکراتے ہوئے بولی لیکِن ساحل کو اُس کی مسکراہٹ بھی بڑی خطرناک لگی۔۔۔
۔۔۔کیوں۔۔۔۔۔
اُس نے تشویش زدہ لہجے میں پوچھا
اگر سب کے سامنے ذلیل نہیں ہونا چاہتے تو منہ بند کرکے روم میں چلو۔۔۔ورنہ
وہ ہنس کر۔اُس کے کندھے سے مصنوعی دھول جھٹکتے ہوئے اُسے دھمکانے لگی۔۔۔۔
اُس نے حیرت سے اپنے شولڈر پر رکھے اُس کے نازک ہاتھ کو دیکھا
دیکھا دادی میں نے کہا تھا نا۔۔۔۔۔
عشرت دونوں کو قریب کھڑے ہو کر مسکراتے ہوۓ بات کرتے دیکھ خوشی سے نہال ہو گئی۔۔۔اور شیرین پریشان کے اُس کی کار کردگی فیل کیسے ہو گئی
جب کے دادی خوش ہو کر مسکراتی اُن دونو کو۔دیکھنے لگی
نین اُسے گھورتی واپس چلی گئی اور اُس کے تیور دیکھ ساحل نے گلا تر کیا
دل کیا یہیں سے باہر بھاگ جائے لیکن ایسے کیا عزت رہ جاتی اس لیے ہمت کرکے روم میں جانے لگا
یہ تو کچھ بھی نہیں دادی۔۔۔بس دو منٹ بعد آپ دیکھنا کیا دھماکا ہوتا ہے۔۔۔
اُن کے جاتے ہی عشرت اترا کر بولی اور اُس کے بولتے ہی دروازہ بند ہونے کی دھماکے دار آواز پر سب ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گیا۔۔۔۔۔
وہ اندر آیا تو نین دروازے کے پیچھے تیار کھڑی تھی۔۔۔۔۔اُس کے آگے آتے ہی دھاڑ سے دروازہ بند کیا۔۔۔
وہ گھبرا کر پلٹا۔۔۔۔
حیرت سے اُسے دیکھنے لگا
يو ٹھرکی لوفر کمینے۔۔۔۔۔۔غلیظ آدمی۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے ساتھ ایسی واہیات حرکت کرنے کی۔۔۔
وہ قدم اُس کی طرف بڑھاتی ہوئی غصے سے چلّائی۔۔۔۔۔۔عشرت نے آنکھیں سختی سے میچ لیں۔۔۔۔
شیرین کے ہسنے پر آنکھیں کھول کر اُسے غصے سے گھورنے لگی۔۔۔۔دادی نے دونوں کو آنکھیں دکھائی اور اٹھ کر سونے کے لیے چل دیں۔۔
کیوں کے عشرت نے اپنی کار کردگی دکھانے کے لیے اُنہیں ابھی تک جگا کر رکھا ہوا تھا
اے شانی۔۔۔۔۔۔زبان سنبھال ۔۔۔۔ورنہ دوں گا ایک۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے الفاظ پر غصے سے کہتا اُس کی طرف بڑھا
تم پہلے اپنے گندے دِماغ کو کنٹرول کرلو
ورنہ میری زبان کنٹرول میں نہیں رہنے والی۔۔۔۔۔
وہ اُنگلی اٹھا کر اُس کے چہرے کے آگے کرتے ہوئے بولی
بن بھیجے کی عقلمند۔۔۔۔بولے گی کیا ہوا۔۔
وہ اُس کا ہاتھ جھٹک کر غصے سے بولا
کیا سوچ کر تم نے مجھے ایسا گفٹ دیا۔۔۔
وہ دانت پیستے ہوئے بڑبڑا ئی۔۔۔ساحل نے حیرت میں بھی ہنس کر اُسے دیکھا
گفٹ اور تجھے۔۔۔۔۔۔
ابے۔۔۔کھسكيلی۔۔۔۔
گفٹ ان کو دیتے ہے جن کے ہونے سے زندگی میں خوشی یا سکون رہتا
جینا حرام کرنے والو کو گفٹ نہیں دیا کرتے۔۔۔۔
وہ ہاتھ سے اُس کے سر سے پیر تک اشارہ کرکے جتاتا ہوا بولا۔۔۔۔نین نے منہ کھولے اُسے دیکھا اور ایک دم سے بھڑک اٹھی
تو مت دو۔۔۔۔۔میں کونسا مری جا رہی ہُوں تم جیسے فٹیچر سے گفٹ لینے کے لیے۔۔۔۔۔۔
وہ بھڑک کر بولی
میں بھی وہ سگنل والی بھکارن کو گفٹ دے دوں گا تجھے نہیں دوں گا۔۔۔۔
ساحل آنکھیں گھما کر اُسے آگ لگاتے ہوئے بولا
نین نے شاپنگ بیگ اٹھا کر اس میں موجود ڈریس نکالی اور اُس کے منہ پر پھینکی
تو یہ بھی اُس کو ہی دیتے نا۔۔۔۔یہاں کیوں لے کر آئے۔۔۔۔اسی کو پہنا کر اُس کا آئٹم ڈانس دیکھتے۔۔۔۔روح ٹھندی ہوجاتی تمہاری۔۔۔
وہ سلگ کر چلائی جب کے وہ صدمے سے اُس ڈریس کو۔دیکھ رہا تھا جو اکثر بار ڈانسرز کو پہنے دیکھی تھی۔۔۔
بھڑکیلے رنگ کی چمکتی چھوٹی سی لال ڈریس جو اوپر سے کھلے شولڈر کی تھی
یہ میں نہیں لایا ۔۔۔۔
اُس نے وہ ڈریس نین کی طرف پھینک کر نا گواری سے کہا نین کی پیشانی پر بل پڑے۔۔۔
اچھا تو اب یہ بھی خود چل کے یہاں آگیا ہے۔۔۔۔۔۔اور یہ نوٹ بھی اپنے آپ نازل ہو گیا۔۔۔اور بڑے ادب سے تمہارا نام بھی خود ہی تحریر ہو گیا یہاں۔۔۔ہے نہ
وہ شاپنگ بیگ پر لگے نوٹ کو کھینچ کر اُس کے منہ پر پھینکتے ہوئے بولی
عقل کی دشمن۔۔۔۔۔۔۔۔۔بولا نا میں نہیں لایا یہ۔۔۔۔۔۔اور میرے کو کوئی شوق بھی نہیں تیرے کو ایسے دیکھنے کا تیرے سے اچھی اچھی ملتی ہے مارکٹ میں۔۔,
اُس نے نوٹ پھاڑ کر پھینکتے ہوئے آخری لائن آہستہ سے کہی
کیا کہا تم نے۔۔۔۔
نین نے اُسے گھور کر پوچھا
ہوا آنے دے۔۔۔۔۔۔
وہ جھنجھلا کر کہتا اُسے سامنے سے سائیڈ میں کرکے آگے بڑھا جیکٹ اُتار کر بیڈ پر پھینکی اور بیڈ پر لیٹ گیا
ماما کے بیٹے میں بتا رہی ہوں مجھے ہلکے میں مت لو۔۔۔۔۔میرے ساتھ ایسی ذلیل حرکتیں کرکے صبر نہ آزماؤ میرا۔۔۔۔
وہ اُسے اطمینان سے سونے کی تیاری کرتے دیکھ جل کر دهمکانے لگی کیوں کے ابھی اُس کا کچھ دیر اور لڑنے کا موڈ تھا۔۔۔
تو کیا ابھی تک تُو صبر کر رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ حیرت سے اُسے دیکھتا پوچھنے لگا
اور نہیں تو کیا۔۔۔۔۔۔تمہیں اتنا برداشت کیوں کرتی ورنہ۔۔۔
وہ ناگواری سے جتا کر بولی ساحل نے گہری سانس لی
تو۔۔۔۔۔ میرے کو برداشت کر رہی ہے۔۔۔۔گجب۔۔
وہ حیرت و حسرت بھرے لہجے میں کہتا آنکھیں بند کر گیا۔۔
نین اُسے گھور کر وہ ڈریس بیگ میں اور بیگ ڈست بین میں پٹخ کر اپنی جگہ پر آگئی۔۔۔
ابھی وہ سونے کی تیاری میں ہی تھی کے ساحل کا فون بجنے لگا۔۔۔۔
اُس نے بھاری ہوتی آنکھیں کھول کر فون اٹھایا ضروری نمبر دیکھ کر اپنی جگہ سے اٹھ کر سائیڈ پر آگیا
اور اوکے کرکے فون کان سے لگایا۔۔۔
کے کے نے جس شخص کو ختم کرنے کی بات کی تھے اُسے اُس کی تفصیل دی جا رہی تھی
اور ساتھ یہ بھی بتایا گیا کے وہ صبح چار بجے کی فلائٹ سے ہی ملک چھوڑنے والا ہے۔۔۔اور ساحل کے پاس اپنا کام پورا کرنے کیلئے صرف تین گھنٹے تھے۔۔
وہ خاموشی سے تفصیل سن رہا تھا
نین نے گھڑی پر نظر ڈالی جو ایک بجا رہی تھی اور ساحل کو مشکوک نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔۔اُس کے سنجیدہ ایکسپریشن کو گہرائی سے نوٹ کرکے اندازہ لگانے لگی کے وہ کسی لڑکی سے تو بات نہیں کر رہا۔۔۔۔
وہ فون کان سے ہٹا کر پلٹا تو فورًا سیدھی ہوئی۔۔۔
اتنی رات کو کس کے فون آتے ہے تمہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے جانچنے والے انداز میں دیکھتی پوچھنے لگی
کسی کے بھی آئے تیرے سے مطلب۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے بیزاری سے جواب دیتے ہوئے فون پاکٹ میں گھسایا اور ٹیبل سے اپنی باقی چیزیں سمیٹنے لگا
تمھارے لکشن مجھے بڑے ہی خراب لگتے ہے۔۔۔۔
کان کھول کر سن لو۔۔۔۔۔۔۔اِدھر اُدھر منہ کالا کرکے اگر میرے ماما کو بدنام کیا نا تو زندہ دفنا دوں گی تمہیں۔۔۔۔۔۔
وہ کچھ دیر پہلے اُس کے گفٹ کے نام پر ملے ڈریس کو مدے نظر رکھ کر شکّی لہجے۔میں بولی ساحل نے محض اُسے گھورنے پر اکتفا کیا کیوں کے اب و لڑنے کے موڈ میں نہیں تھا۔۔اس لیے خاموشی سے جوتے پہننے لگا
اب جا کہاں رہے ہو۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے جوتے پہنتے دیکھ حیرت سے پوچھنے لگی
مرنے۔۔۔۔۔
ساحل نے جل کر جواب دیا۔۔نین نے دانت پیس کر بیڈ پر پڑی بلیک جیکٹ اُس کے منہ پر اچھالی
جہاں بھی جانا ہے جیکٹ پہن کر جاؤ۔۔۔
اگر ٹھنڈ میں بیمار پڑے نا تو تمہاری خیر نہیں۔۔۔۔۔۔
وہ دھمکی بھرے لہجے میں بول کر کمبل سر تک تانے لیٹ گئی وہ جیکٹ چہرے سے ہٹا کر کمبل کو گھور کر رہ گیا
پھر بھی کہتی ہے مجھے برداشت کر رہی ہے
وہ تاسف سے اُسے دیکھتا جیکٹ پہنتے ہوئے باہر نکلا