Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
Episode 4
ارحم گاڑی لیے گھر کی طرف پہنچا تو ماحول میں عجیب سی وحشت محسوس ہوئی۔۔۔گلی میں ہجوم سا لگا تھا وہ گاڑی فاصلے پر ہی روک کے باہر آیا تو سب کی توجہ کا مرکز وہی تھا اُسے کوئی انہونی کا احساس ہوا
وہ گھر کے اندر داخل ہوا تو فلک کا دوپٹہ اُس کے پیروں میں اُلجھ گیا اُس نے جھک کر وہ دوپٹہ اٹھایا اور گھبرا کر اندر آیا جہاں شمع اماں کو ہوش میں لانے کی کوشش کر رہی تھی سب دکھ افسوس اور ہمدردی سے اُنہیں دیکھ رہے تھے
اماں۔۔۔۔۔شمع کیا ہوا ہے اماں کو۔۔۔فلک کہاں ہے۔۔۔
وہ بے چین سا اماں کا سر گود میں رکھتا شمع کو پوچھنے لگا شمع نے روتے ہوئے اُسے ساری بات بتا دی ۔۔اور روح فنا ہونا کسے کہتے ہیں کوئی اُس وقت ارحم سے پوچھتا۔۔۔۔
نکاح کا وقت ہونے والا تھا۔۔۔۔برات دروازے پر تھی۔۔گھر مہمانوں سے بھرا تھا اور دلہن ایک ایسے انسان کے شکنجے میں تھی جس کی نیت اور شیطانیت کا کوئی بھروسہ نہیں تھا۔۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
اللہ کے لیے مجھے جانے دیجئے۔۔۔۔۔
میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔۔۔۔
مجھے چھوڑ دیجئے۔۔۔۔۔۔
گاڑی گاؤں سے باہر نکل رہی تھی وہ اُس کے آگے بے بسی سے منتیں کر رہی تھی لیکن وہ پتھر بن کر بیٹھا تھا نہ اُس کے رونے گڑگڑانے کا اثر ہو رہا تھا نہ چینخنے چلانے کا
فلک کبھی پوری گاڑی میں باہر نکلنے کی جگہ ڈھونڈ رہی تھی کبھی آس پاس اپنے بھائی کو تلاش کر رہی تھی کبھی اُس سنگدل بے رحم آدمی کو دیکھ رہی تھی جو اپنی دھن میں گاڑی چلا رہا تھا
گاڑی کی رفتار اتنی تیز تھی کے ہوا مانو جسم میں گھس رہی ہو۔۔۔۔۔۔فلک کا دوپٹہ گاڑی کے باہر ہوا میں لہرا رہا تھا
میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے۔۔۔کیوں میرے ساتھ ایسا کر رہے ہیں۔۔۔۔کیا کیا ہے میں نے۔۔
وہ اپنے دونوں ہاتھوں پر چہرہ رکھے بے بسی سے رونے لگی
کیا تمہارے بھائی نے ہے۔۔۔۔۔۔۔
پہلی دفعہ وہ بولا تھا فلک نے سر اٹھا کر اُسے دیکھا وہ ہنوز سامنے دیکھ رہا تھا
تمہارے بھائی نے میری غیرت میری مردانگی پر سرے عام سوال اُٹھایا ہے۔۔۔اُس کا جواب دینا تو بنتا ہے ۔۔۔۔۔
وہ اُس کی طرف دیکھ کر بولا آنکھوں میں ارحم کے لیے نفرت تھی یہ نفرت اُن جذبات پر حاوی ہو رہی تھی جنہوں نے ابھی سانس لینا شروع کیا تھا۔۔۔۔۔
فلک اُس کی بات پر سانس روک گئی تھی۔۔۔
میں اپنے بھائی کی طرف سے آپ سے معافی مانگتی ہوں ۔۔۔
وہ خود بھی آپ سے معافی مانگے گے ۔۔۔بس مجھے جانے دیجئے۔۔۔۔۔۔
اُس کا بس نہیں چل رہا تھا کے وہ کیا کرے کس طرح خود کو بچائے
جانے دوں گا ۔۔۔۔ جو میں چاہتا ہوں وہ ہونے کے بعد۔۔۔۔
وہ آہستہ سے بول کر اُس کی جان نکال رہا تھا
ک ک کیا۔۔۔۔کیا چاہتے ہیں آپ۔۔۔۔
اُس نے اپنے ڈوپٹے کو زور سے مٹھی میں بھینچ لیا۔۔۔سکندر اُس کی جانب دیکھ کر نا محسوس سا مسکرایا۔۔۔۔۔
کیسی مسکراہٹ تھی اُس کی کے فلک کا دل لرز کر رہ گیا
تمہارے خاندان کی ذلت ۔۔۔۔
تمہاری چند گھڑیوں کی قُربت۔۔۔۔
تمہاری مرضی سے ۔۔۔۔۔۔۔۔یا میری زبردستی سے۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی بے خود نظروں کے ارتکاز سے فلک کے جِسم میں چینوٹیاں رینگنے لگی اُس نے غیر محسوس طریقے سے اپنے دوپٹے کو پھیلایا۔۔۔
دم گھٹتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔وہ سر سیٹ سے ٹکائے گہرے گہرے سانس لینے لگی
وہ لوگ کافی دور آگئے تھے شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے گاڑی کا رخ شہر والے فلیٹ کی طرف تھا
ظاہری طور پر وہ سامنے دیکھتی رہی لیکِن ایک ہاتھ مسلسل دروازہ کھولنے کی جدوجھد میں لگا تھا اور ایک لمحہ قسمت مہرباں ہوئی ۔۔۔۔۔ دروازہ کھل گیا
اُس نے سرخ بھیگی نظروں سے سکندر کی جانب دیکھا جو سامنے دیکھ رہا تھا اور اللہ کا نام لے کر دروازہ دھکیلتے ہوئے نیچے چھلانگ لگا دی۔۔۔۔۔
سکندر کو اس چیز کا اندازہ نہیں تھا وہ ایک پل کو حیران ہوا اور ایکدم ہی تاثرات سخت ہوئے
اتنی تیز گاڑی سے کودنے پر وہ بہت زور سے پہلے سڑک پر گری تھی اور پھر ڈھلان سے پھسل کر نیچے آگئی تھی۔۔۔۔۔۔۔ بازو بری طرح زخمی ہو گیا تھا اور آستین فٹ گئی تھی
درد کی شدت سے ایک لمحے کو زہن ماؤف ہوا تھا لیکِن اپنی عزت پر خطرے کا خوف فوراً ہی تمام حسوں کو بیدار کر گیا تھا
اُس نے جلدی سے اٹھ کر دیکھا تو گاڑی تھوڑا آگے جا کر واپس پلٹ رہی تھی وہ جلدی سے پلٹ کر اندر کی طرف بھاگنے لگی کیوں کے اگر سڑک کی طرف بھاگتی تو وہ گاڑی سے فوراً اُسے پکڑ لیتا اس لیے وہ اندر جنگل کی طرف بھاگنے لگی۔۔۔۔۔۔
گلے میں موجود بھاری نیکلس کو اُس نے کھینچ کر دور پھینکا ۔کان کا ایک جھمکا پہلے ہے گر چکا تھا دوسرا اب بھی کان میں جھول رہا تھا
اس بھاری لہنگے اور چوڑیوں بھری کلائیوں کی وجہ سے اُسے بھاگنے میں بہت مشکل ہو رہی تھی
ننگے پیروں میں کتنے ہی کانٹے چبھ کر اُنہیں زخمی کیے جا رہے تھے۔۔۔لیکِن وہ ہر احساس سے بے پرواہ بس اپنی عزت کی خاطر اُلٹے سیدھے راستے پر بھاگے جا رہی تھی
سانس اکھڑنے لگا تھا پیچھے دیکھا تو اس کی جیپ کے لائٹ کی روشنی آنکھوں میں چبھی۔۔۔۔۔جیپ پیچھے ہی آرہی تھی اُس کے رونے میں اور روانی آگئی
سکندر کی جیپ بلکل اُس کے پاس آچکی تھی اور اب وہ اسپیڈ سلو کیے جیسے اُس کی ہمت کو آزما رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔دیکھنا چاہ رہا تھا کے وہ کتنا بھاگ سکتی ہے
ہوا کے جھونکے اچانک تیز ہو رہے تھے۔۔۔۔۔۔وہاں کے بڑے بڑے درختوں میں ہوا سے ہلچل ہونے لگی تھی۔۔۔۔۔۔پتوں کی سرسراہٹ نے پراسرار سی آواز پورے ماحول میں بکھیر دی تھی۔۔۔
ایسا سماں تھا جیسے طوفان آنے والا ہو۔۔۔
وہ ہار نہیں مان رہی تھی اللہ سے مدد کی پکار کرتے ہوئے تب بھی بھاگ رہی تھی۔۔۔حالانکہ قدموں میں کچھ سستی آگئی تھی سانس بے حال ہو گیا تھا۔۔۔۔
ایکدم سے پیر کِسی پتھر سے ٹکرایا تو وہ منہ کے بل زمین پر گری۔۔۔
اندھیرے جنگل میں اُس کی دل سوز چینخ گونج اٹھی۔۔۔
سکندر گاڑی کو بریک لگا کر باہر نکل آیا اور جلدی سے اُس کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔۔
زمین پر بیٹھتے ہوئے فلک کو سیدھا کرکے اس کا سر اپنے پیر پر رکھا۔۔۔
فلک کی بھیگی آنکھوں میں بے بسی اور تڑپ دیکھ اُسے کچھ ہوا۔۔اُس کے دل نے ایک بیٹ مس کی۔۔۔۔۔پیشانی پر ایک گہرا زخم لگا تھا جس کو سکندر نے بے ساختہ اُنگلیوں سے چھوا
وہ آنکھیں سختی سے میچ کر زوروں سے رونے لگی
شششش۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر نے تھوڑا سا اُس کی طرف جھکتے ہوئے اُس کے لبوں پہ اُنگلی رکھ دی۔۔۔وہ شراب کی بدبو کی وجہ سے سانس روکنے پر مجبور ہوئی
خود کو اتنی تکلیف مت دو۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی پیشانی سے نکلتے خون کو ہتھیلی سے اُس کے بالوں میں جذب کرنے لگا۔۔۔۔۔نظریں اتنے قریب سے جیپ کے لائٹوں کی روشنی میں اُس کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔۔۔دل معمول سے بھٹک رہا تھا
طوفانی ہوا کی ٹھنڈک میں اُس کی سانسوں کی تپش محسوس کرکے فلک نے چہرے کا رخ موڑا اور جلدی سے اٹھ کر بیٹھی۔۔۔۔۔۔۔اُس کے سارے بال ہوا کے زور سے چہرے کو چھونے لگے ۔۔
اُس کے۔مخالف سکندر کے بال پیچھے ہو کر صبیح پیشانی پر بندھی سفید پٹّی کو واضح کرنے لگے۔, آنکھوں میں انجانے جذبوں کا طوفان مچلنے لگا
وہ خوفزدہ نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے بیٹھے بیٹھے ہی پیچھے ہونے لگی۔۔۔۔۔۔
پیچھے ہو کر وہ بھاگنے کے ارادے سے اٹھی لیکِن کھڑے ہوتے ہی سکندر نے اُس کے زخمی پیر کو پکڑ کر کھینچا تو وہ دھڑام سے زمین پر گری ,۔۔انگ انگ درد کرنے لگا
درد بھری سسکیاں پورے ماحول میں گونج کر اُس پر اسرار رات کا حصہ بننے لگی
سکندر اُسے اٹھنے کا موقع دیے بغیر اُس کے قریب آیا اور اُس کے گرد دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے اُس کے چہرے پر جھکا
مجھ سے بھاگنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔۔۔۔۔
وہ اُس کی خوفزدہ آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا
ہوا کے زور سے اُس کی شرٹ کا کھلا گریبان سینے کو مزید واضح کرنے لگا
تم سکندر کی جیت ہو۔۔۔۔۔
اور اس جیت کو سکندر اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیگا۔۔۔
وہ اُس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے اُس کی گردن پر جھکا تھا
انا اُس کے سر پر بری طرح سوار تھی کُچھ شراب کے نشے نے بھی سمجھنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔۔۔۔
وہ اپنے ہاتھوں سے اپنی محبت کا گلا گھونٹ رہا تھا۔۔۔
فلک کی دونوں کلائیاں اُس کی سخت گرفت میں تھی
کوئی مزاحمت اُس کے حق میں نہیں آرہی تھی
وہ اُس کے جلتے ہوئے لمس پر تڑپ کر خود کو آزاد کرنے کے لیے مچل رہی تھی لیکن ہر کوشش ناکام لوٹ رہی تھی۔۔
کتنی ہی چوڑیاں ٹوٹ کر اُس کی کلائیوں میں گڑ رہی تھی لیکن اُسے اس درد کی نا پرواہ تھی نا احساس۔۔۔۔
سکندر کو اپنے شیطانی ارادوں پر عمل کرتے دیکھ اُس کا روم روم فنا ہونے کو تڑپ رہا تھا
۔۔۔۔
وہ اللہ کو پکار کر التجا کر رہی تھی کے کسی بھی طرح اس لمحے سے اُسے غائب کر دیں۔۔۔چاہے اُس کی زندگی یہیں ختم کر دیں لیکن اُس کی عزت کو اُس آدمی کے نا پاک خواہشں کی بھینٹ نا چڑھنے دے۔۔۔۔
لیکن اُس کی التجائیں عرش سے ٹکرا کر واپس لوٹ رہی تھی شاید خدا نے اُسے ایک کڑی آزمائش کے لئے چنا تھا
اُس نے پوری قوت لگا کر سر اٹھا یا اور اپنے سارے دانت اُس کے کندھے پر گاڑ دیے تھے۔۔۔وہ گڑبڑا کر پیچھے ہوا اور غصے سے اُس کا چہره جکڑ لیا۔۔۔۔۔۔۔فلک نے اُس کا ہاتھ ہٹانے کی کوشش کی۔۔
آپ کو اللہ کا واسطہ ہے ایسا گناہ مت کیجئے ۔۔۔۔جس کے بعد آپ کا ضمیر اور میرا خدا آپ کو کبھی معاف نہ کرے۔۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ ہٹا کر بے بسی سے گڑگڑائی۔۔۔اُس کے حواس شل ہو رہے تھے آنکھیں بند ہو رہی تھی۔آواز ہوا کے ساتھ مل کے ماحول میں وحشت گھول رہی تھی
گناہ تو لاکھوں کی تعداد میں ہے ایک اور بڑھ جانے سے کیا ہوجائے گا۔۔۔۔۔
وہ اُس کی بھیگی پلکوں کی جنبش کو غور سے دیکھتے ہوئے بولا
اگر آپ کی یہی ضد ہے تو ٹھیک ہے۔۔۔۔
مجھ سے نکاح کر لیجئے
اس طرح مجھے نا پاک کرکے اپنی ہی نظروں میں مت گرائیے۔۔۔۔۔۔
اُس کی وہم میں بھی نہیں تھا کے وہ کبھی کسی سے ایسے بات کریگی ۔۔۔۔اتنی بے بس ہو جائے گی
وہ۔اُس کی بات پر ہنسا تھا
اُس کی ہنسی نے اُس طوفانی ہوا میں گھل کے مزید وحشت بڑھا دی تھی
یہ نکاح شادی میرے مطلب کی چیزیں نہیں ہے۔۔۔۔
اگر تمہیں یہ ڈر ہے کے تمہارا بھائی باپ غیرت کے مارے تمہیں مار دیں گے تو فکر مت کرو میں تمہیں اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔۔۔۔۔۔حویلی میں کمروں کی کمی نہیں ہیں
اس کی ہنسی اُس کی مسکراہٹ میں فلک کو کوئی شیطان ہنستا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔۔اُسے اُس خوبصورت چہرے سے بے انتہاء گھن محسوس ہوئی
تم انسان نہیں جانور ہو۔۔۔۔۔ نہایت ہی گرے ہوئے، بے غیرت اور ذلیل ۔۔۔۔۔۔
وہ ایکدم غصے میں چلّائی سکندر نے ایک زور دار تھپڑ مار کر اُس سے اُس کے لفظ چھین لیے ۔۔۔۔
ہوا کا زور چند پل۔کو رکا اور اس تاریکی میں سناٹا چھا گیا
اُس کے منہ میں خون کا ذائقہ گھل گیا آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا
سکندر نے اُس کی گردن پکڑ کے اُسے زمین سے لگایا خون اُس کے لبوں کے کنارے سے لکیر بناتا ہوا چہرے پر جانے لگا
خاموش رہو۔۔۔۔۔۔میں اگر جانور بن گیا تو برداشت کرتے کرتے جان سے چلی جاؤ گی۔۔۔۔۔
وہ غصے سے بولتا ہوا اپنی ضد اور جنون اُس پر واضح کرکے اُس کے وجود کو تباہ کرنے لگا
اُس کی آنے والی زندگی کو عذاب بنانے لگا۔۔۔
اُس رات کی تاریکی کی طرح اُس کی زندگی میں سیاہی گھولنے لگا
ہوا پھر اپنے زوروں سے اُن مضبوط درختوں کو ہلانے لگی۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
ہاسپٹل کے بیڈ پر پڑے اُس کے نیم مردہ وجود میں اچانک حرکت ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔
سرہانے دوائیاں رکھتی نرس نے چونک کر اُسے دیکھا تو اُس کے چہرے پر پسینے کی بوندیں تھیں ۔۔
بند آنکھوں پر شکنیں پڑ رہیں تھی
جِسم ایکدم سے سخت ہو گیا تھا ۔۔۔
بیڈ پر رکھے ہاتھ اس طرح حرکت کر رہے تھے جیسے کسی نے جکڑ رکھے ہو اور وہ اُنہیں چھڑانے کی کوشش کر رہی ہو
نرس جلدی سے ڈاکٹر کو پکارتی ہوئی باہر نکلی۔۔۔۔۔
اور چند ہی سیکنڈ میں ڈاکٹر پایل اور اُن کے دوست کے ساتھ دوبارہ اندر داخل ہُوئی تو وہ بیڈ پر بغیر پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی۔۔۔۔۔
اُس کا پسینے میں بھیگا وجود جھٹکے کھا رہا تھا
آنکھیں برس کر بالوں کو نم کر رہی تھی
بے ہوشی میں سر زور زور سے بستر پر پٹخ رہی تھی۔۔
اور پیروں کے تلوے بیڈ کے آخر پر لگے لوہے کہ پائپوں کو دھکیل رہے تھے۔۔۔
گلے سے گھٹی گھٹی آواز نکالنی کوشش کر رہی تھی
نرس نے اُس کے دونوں بازو جکڑے اُسے بیڈ سے لگائے پکڑ رکھا تھا اور ڈاکٹر پایل ہڑبڑا کر انجیکشن میں دوائی بھر رہی تھی ۔۔۔۔
جب کے وہ اُس کی حالت دیکھ کر قدم قدم پیچھے ہوتا دیوار سے لگ گیا تھا۔۔۔۔
اُس کا مضبوط دل زوروں سے دھک دھک کر رہا تھا۔۔۔۔۔
اُس کی آنکھیں یہ منظر دیکھنے کی ہمت نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔
اُس نے ہاتھ سے چہرہ رگڑتے ہوئے نظریں بیڈ سے ہٹا کر ایل ای ڈی سکرین کی طرف کر لی جہاں اُس کی اُکھڑتی سانسوں سے وہاں چلتی لکیروں کے گراف اوپر نیچے ہو رہے تھے۔۔۔۔۔
اُس کی یہ حالت ظاہر کرتی تھی کے اس نے کوئی بہت بڑا درد سہا ہے جو ساری دنیا سے غافل ہونے کے بعد بھی اُسے اندر ہی اندر تڑپاتا ہیں
جیسے وہ اُن لمہوں کو پھر سے محسوس کرکے خود کو بچانے کی کوشش میں جان لگا دیتی ہے
ڈاکٹر کے انجیکشن لگانے کے بعد بھی اُس کے وجود کی تڑپ کم نہیں ہوئی۔۔۔۔۔۔اُس کے ہاتھ پیر حرکت کرتے رہے لیکن جب ذہن مکمل گنودگی میں جانے لگا تو وہ دھیرے دھیرے پر سکون ہو گئی۔,۔
اسکرین پر نارمل ہوتی لکیر کو دیکھ کر اُس نے بیڈ پر نظر ڈالی ۔۔۔۔۔
دل آج اُس کی تڑپ کو خود میں۔منتقل کر لینے کی خواہش کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اُسے اپنے سینے سے لگا کر ہر درد سمیٹ لینے کو کہہ رہا تھا۔۔
ڈاکٹر پایل نے آگے بڑھ کر اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ اپنی اس نئی سوچ پر حیران پریشان ہوتا خود کو سنبھال کر اُن کے ساتھ باہر نکل گیا
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
تھکے تھکے قدم اُٹھا کر وہ اپنے گھر کی اور چل دیا ۔۔۔
بارش اچانک تیز ہونے لگی
پچھلے چار گھنٹے سے مسلسل وہ فلک کو ڈھونڈ رہا تھا سکندر کے ہر ٹھکانے کا پتہ لگا کر وہ جگہ جگہ اُسے تلاش چکا تھا لیکِن نا وہ ملا نا فلک۔۔۔۔۔
حویلی میں جا کر اُس نے بنا ڈرے بہادر شاہ کو جان سے مارنے کی دھمکی دے ڈالی تھی وہ ایک لمحے کو گھبرا بھی گیا تھا لیکِن وہ خود نہیں جانتا تھا کے سکندر کہاں ہیں اُس نے اپنے بیٹے کے شہرِ کے ٹھکانوں پر بھی پتہ لگایا لیکن وہ وہاں بھی نہیں تھا۔۔نا اُس کے کسی دوست یہ نوکر کو علم۔تھا۔۔۔
بہادر شاہ خود سکندر کی اس حرکت پر پریشان ہو گیا تھا
ارحم پاگلوں کی طرح گاؤں کی ایک ایک گلی ایک ایک سڑک پر اُسے ڈھونڈ چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔
گاؤں سے باہر جانے والے تمام راستوں کا چکر لگا چکا تھا
شہر میں رہتے اپنے چند دوستوں کو سکندر کو ڈھونڈنے پر لگا چکا تھا
سارا گاؤں اُن کی مشکل پر تماشائی بنا ہوا تھا
طرح طرح کی باتیں طرح طرح کے طنز اچھالے جا رہے تھے
شادی کا گھر ماتم میں بدل گیا تھا
برات نے اُن کی عزت پر اور فلک کے کردار پر بھر بھر کے کیچڑ اچھالا تھا۔۔۔۔۔
آبان صدمے سے خاموش ہو گیا تھا اور اس کے ماں باپ نے رحمت اور اُس کے خاندان بھر کو گالیاں دیتے ہوئے ذلیل کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
گھر میں آئے رشتےدار بھی اپنی اپنی اور سے باتیں بنا کر وہاں سے چلے گئے تھے
اس صدمے سے رحمت کی اچانک ہی طبیعت بگڑ گئی تھی اور شمع اور اماں مل کر سنبھالنے میں لگی تھی
اپنی ہر کوشش میں ناکام ہو کر وہ اُمید اور حوصلہ ہار گیا تھا
بارش سے بے پرواہ مرے مرے قدموں سے گھر واپس جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے ہاتھ پاؤں سلامت ہوتے ہوئے بھی وہ خود کو معذور محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔
اُس کے گھر کے آگے چھتریاں ہاتھ میں لیے لوگ جھنڈ بنائے کھڑے تھے ۔۔۔۔۔بارش کی آواز میں اُن کی چہ میگوئیاں دھیمی پڑ گئی تھی۔۔۔صبح سے سارے اس گھر کے تماشائی بنے ہوئے تھے۔۔۔اور اب بھی اپنا کام جاری رکھا ہوا تھا
ارحم کو دیکھ کر وہ لوگ پیچھے ہوئے تو اُس کی نظر زمین پر پڑی جہاں فلک کیچڑ میں بے ہوش پڑی تھی۔۔۔۔۔ سرخ جوڑا اپنا رنگ بدل چُکا تھا بغیر دوپٹے کے پھٹی ہوئی آستین میں وہ کروٹ کے بل پڑی تھی۔۔۔۔
وہ سانس روکے اُسے دیکھتا لپک کر اُس تک پہنچا
فلک۔۔۔۔۔فلک آنکھیں کھول۔۔۔۔۔۔۔۔فلک
اُس کے چہرے کو تھپکتے ہوئے وہ اُسے جگانے کی نہیں خود کو یقین دلانے کی کوشش کر رہا تھا کے وہ زندہ ہے ۔۔۔۔سب دلچسپی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔شاید اب انسانیت کے یہیں معنی رہ گئے ہیں
وہ فلک کو زمین سے اٹھا کر لوگوں کی بھیڑ سے نکلتا جلدی سے اندر لے آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شمع اُسے فلک کے ساتھ آتے دیکھ کے اپنی جگہ سے اٹھ کر فوراً آگے بڑھی جب کے اس کے ماں باپ نے ایک نگاہ اُسے دیکھ کر اپنی نظریں موڑ لیں تھی
فلک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فلک ہوش میں آ۔۔۔۔۔۔۔
ارحم نے اُسے چار پائی پر لٹایا اور اُس کی سرد ہتھیلیاں رگڑنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی دیکھا دیکھی شمع بھی اُس کی ہتھیلی کو گرمی دینے لگی۔۔۔ساتھ ہی اُس کے آنسو بہنے لگے۔۔۔۔۔۔جب کے وہ ضبط کے کڑے مراحل طے کر رہا تھا۔۔
اُس نے پاس چارپائی پر پڑی چادر اٹھا کر فلک کے اوپر پھیلائی اور اُس چادر کے کنارے سے اُس کے چہرے کے ایک طرف لگے کیچڑ کو صاف کرنے لگا۔۔۔۔
اُس کی زخمی پیشانی اور لبوں کے کنارے لگے خون کے دھبے اُسے کسی گہری کھائی میں دھکیل رہے تھے ۔۔۔۔
فلک کا کمزور ٹوٹا بکھرا وجود گواہی دے رہا تھا کے وہ اپنے بھائی کی نفرت کی بہت بڑی قیمت چکا کر آئی ہے۔۔۔
وہ لب بھینچے اپنے آنسُو ضبط کرکے اُس کے چہرے پر لگا کیچڑ صاف کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔ہر سانس اُسے اپنے لیے بددعا لگ رہی تھی۔۔۔۔
اماں نے ایک نظر اُسے دیکھا اور منہ پھیر گئی۔۔۔۔
یہ کیچڑ تو صاف کر لیگا تو۔۔۔۔۔۔لیکِن جو داغ یہ اپنے مقدر پر۔لگا کر آئی ہیں اُسے کیسے مٹائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اماں نے بھاری اواز اور نہ نا گوار لہجے میں کہا تو اس کا ضبط جواب دے گیا وہ وہاں سے اٹھ کر تیزی سے اوپر جانے والی سیڑھیاں چڑھ گیا
شمع نے ایک نظر دکھ و تاسف سے اپنی ماں کو دیکھا اور دوبارہ فلک کی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔
وہ چھت پر آکر دیوار سے لگ کر بیٹھ گیا اور دونوں ہاتھوں سے سر تھامے روتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اندھیرے میں اُس کی سسکیاں پوری چھت پر گونجنے لگی۔۔۔۔۔۔
اُس کا دل درد سے پھٹنے کو ہوگیا
اُس کا دل چاہا خود کو ختم کر لے تاکہ اُسے یہ درد سہنا ہی نہ پڑے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے آپ کو دنیا کا سب سے بد نصیب انسان سمجھنے لگا جس کی غلطی نے اُس کی بہن کو اتنی بڑی اذیت دی تھی
اُس کا دل زوروں سے چینخ چینخ کر رونا چاہتا تھا لیکن وہ منہ پر ہاتھ رکھے اُن چینخوں کو روکتا سر پیچھے دیوار پر مارنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ چیزیں کِسی کی غلطی سے ہو یا اپنی قسمت سے جب خراب ہو جاتی ہے تو کِسی طرح ٹھیک نہیں کی جا سکتی۔۔۔
اپنی جان دے کر یا سکندر کو جان سے مار کے بھی وہ اپنی بہن کی کھوئی عزت واپس نہیں لا سکتا تھا۔۔۔۔۔
اُس کے آنسُو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔۔۔
شمع کے زور زور سے پکارنے پر وہ اپنی آنکھیں اور چہرہ رگڑ کر نمی مٹاتے ہوئے نیچے آیا۔۔۔۔
اُس کا باپ اپنے دل پر ہاتھ رکھے تڑپ رہا تھا
شمع اور اماں گھبرائی ہوئی اُنہیں سنبھالنے کی۔کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ لپک کر اُن تک۔پہنچا اور اُنہیں سہارا دے کر اٹھایا۔۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
