Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 76

Episode 76
کیسی طبیعت ہے بیٹا۔۔۔۔۔۔تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم پیار سے اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی تو داؤد نے مسکرا کر اُن کا ہاتھ چوم لیا
مام آپ اب بھی میرے لیے ایسے پریشان ہوتی ہے جیسے میں چھوٹا بچہ ہوں۔۔۔
مسکراتے ہوئے بولا تو اُنہوں میں جھک کر اُس کی پیشانی چومی
میرے لیے تو ہو ہی نہ ۔۔۔۔۔۔۔
وہ محبت سے بول کر مسکرائیں
تبھی فلک دروازہ کھول کر اندر آنے لگی لیکِن رابعہ بیگم کو اندر دیکھ وہیں رک گئی
آجاؤ اندر فلک۔۔۔۔۔
وہ واپس جانے کو پلٹتی اُس کے پہلے ہی رابعہ بیگم نے اُسے پکارا تو وجھجھکتی اندر آکر بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گئی۔
داؤد بھی اپنی میں کے نرم لہجے پر حیران تھا
میرے لیے میری انا میرے بیٹے کی خوشی سے بڑھ کر نہیں ہے۔۔
اگر میرا بیٹا اس لڑکی کے ساتھ خوش ہے تو میں بھی خوش ہوں۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے داؤد کی حیرت کو بھانپ کے اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔
فلک کو ایک لمحے کے لیے یقین نہیں ہوا۔
اپنے بیٹے کے لیے تو میں سب کچھ کر سکتی ہوں ۔۔۔۔چند گھنٹے تمہیں تکلیف میں دیکھ کر میں کتنا تڑپتی رہی ۔۔۔خود کو ہی تمہاری اس حالت کا ذمےدار سمجھتی رہی کیوں کے میں ہی تمہاری خوشی کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ہمیشہ نحوست لگاتی رہتی تھی۔۔۔۔۔لیکن اب ایسی غلطی نہیں کروں گی
اُنہوں نے دکھ و شرمندہ سے کہا ۔۔
تھینک یو مام۔۔۔۔۔
داؤد اُن کی بات پر بے حد خوش ہوا
فلک نے بھی اللہ کا شکر ادا کیا کے انہوں نے دھیرے دھیرے صحیح لیکِن ساری مشکلیں ختم کردیں
بس تم بلکل ٹھیک ہو جاؤ۔۔۔۔گھر آجاؤ۔۔۔دیکھنا اب سب اچھا ہی ہوگا۔۔۔اور میں نین اور ساحل کو بھی گھر بلا لوں گی۔۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے مسکراتے ہوئے اُسے ایک اور سرپرائز دیا۔۔۔
جب سے وہ گیا ہے ہمارے گھر سے خوشیاں روٹھ گئی ہے۔۔۔۔شاید اُس کا دل دکھانے کی سزا مل رہی ہے۔۔۔۔
میں اُن دونوں سے معافی مانگ لوں گی۔۔۔کسی بھی طرح دونوں کو گھر آنے کے لیے راضی کر لوں گی۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے دیدہ دلی سے کہا۔۔
جیا کی باتیں سن کر ویسے بھی وہ خود کو ساحل کے آگے چھوٹا محسوس کر رہیں تھیں۔۔۔۔
لیکِن اُنہوں نے جیا والی بات کو راز ہی رکھا۔۔۔
مام اب جب آپ نے ساحل کے لیے اپنا دل صاف کرلیا ہے تو میں آپ کو ایک بات بتانا چاہتا ہوں۔۔۔۔
وہ اپنی خوشی لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا تھا۔دونوں ہاتھوں سے اُن کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا۔فلک بھی غور سے اُسے سننے لگی
وہ ہمارے ساتھ رہ رہا تھا اس لیے نہیں کیوں کے اُسے ایک گھر کی ضرورت تھی۔۔۔بلکہ اس لیے کیوں کے ہمیں اُس کی ضرورت تھی مام۔۔۔
اُس نے ہمارے لیے جو کیا وہ کوئی نہیں۔ کر سکتا مام۔۔۔,آپ اس لیے اُس سے خفا رہتی تھی نا کیوں کے وہ جیل میں رہ کے آیا تھا اُس نے میری جان بچانے کے لیۓ اپنی زندگی جیل میں گزاری مام۔۔۔۔۔۔۔
اگر وہ نہیں ہوتا تو شاید میں یہاں ہوتا ہی نہیں۔۔
وہ ساحل کے منع کرنے کے بعد بھی اُنہیں ساری بات بتانے لگی تاکے اب جب وہ اُسے اپنائے تو پورے دل سے ساری رنجشیں بھول کر اپنائے۔۔۔۔
اور اُس کی باتیں رابعہ بیگم کو مزید پچھتاوے دینے کو کافی تھی
@@@@@@
کچھ پتہ چلا۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے کان میں ایئر پیس گھساتا کوریڈور سے گزرتے ہوئے اپنے ساتھ چلتے آدمی سے پوچھنے لگا۔۔
ہاں سر یہ پرانے کال ریکارڈز ہے۔۔۔۔۔
رینا کا فون پچھلے ایک مہینے میں گھر کے علاوہ سب سے زیادہ یہی ایکٹیو ہوتا تھا۔۔۔
وہ ٹیب کی سکرین آگے کرکے اُسے بتانے لگا
جے ڈی مال۔۔۔۔۔۔اُس دن بھی یہ وہاں تھی۔۔۔۔
وہ ٹیب سکرین کو دیکھ دو سکنڈ کو رک کر بولا اور دروازہ کھول کر اندر جانے لگا
جہاں پہلے سے باقی سارے موجود تھے
ہم نے وہاں کڑی سیکورٹی لگائی ہے سر۔۔۔۔۔۔یہ دیکھیے۔۔۔۔۔۔
وہ وال سکرین پر ایک کے بعد ایک چلتے کیمرے کے مناظر کو غور سے دیکھنے لگا۔۔جہاں مال کے ہر حصے میں جگہ جگہ فورسز الرٹ تھی۔
شاد سینئیر آفیسر اور پرتاب کے ساتھ پوری نظر رکھے ہوئے تھے۔جب کے وہ اُن کی باتیں سنتے ہوئے بھی کچھ اور سوچ رہا تھا
شاید ہم غلط جا رہے ہیں۔۔۔۔
اچانک ہی وہ شاد کے بات کرنے کے درمیان بولا۔تو وہاں خاموشی چھا گئی۔۔
پرتاب بھی سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھنے لگے
سر یہ جگہ اُن کے ٹارگٹ پر نہیں ہو سکتی۔۔۔۔کیوں کے ہم ڈے ون سے رینا کو ٹریک کر رہے ہیں۔۔۔۔
اُس نے ایک ایک اسٹیپ بہُت سنبھل کر لیا ہے۔۔۔
ہمیں ذرا بھی اُس پر شک نا ہو سٹارٹ سے اس بات کا پورا دھیان رکھا ہے تو پھر وہ یہ غلطی کیوں کریگی۔۔۔۔
اُس نے پرتاب کو دیکھ کر کنفیوز سے انداز میں کہا شاد بھی اُس کی بات پر سوچ میں پڑ گیا۔۔
اسے پتہ تھا ہمارے لیے اُس کی لوکیشن معلوم کرنا معمولی بات نہیں ہے۔۔۔۔اگر یہ اُن کا ٹارگٹ ہے ۔۔۔۔تو ہمیں اتنا بڑا ثبوت دے کر وہ خود کو کیوں پھنسائے گی۔۔۔۔
وہ پرسوچ لہجے میں سکرین کو دیکھتا پوچھنے لگا
مطلب ٹارگٹ کوئی اور ہے۔۔۔۔۔
پرتاب کو ہمیشہ کی طرح اُس سے اتفاق ہوا۔۔۔
اُس نے ذہن پر زور دیا تو اُس دن جب وہ مال میں نین کے ساتھ شاپنگ کر رہا تھا تب کا ایک ایک پل آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا۔۔جن میں سے ایک پر اُس نے غور کیا کے رینا کیفے میں اپنے فون سے تصویریں لے رہی تھی۔۔۔۔اُس نے فرض کیا کے شاید سیلفی کی بجائے وہ سامنے کی تصویریں لے رہی ہو۔۔۔
راکیش ۔۔۔۔ مال کے سامنے کا میپ اوپن کرو۔۔۔۔۔۔
اُس نے دھیان آتے ہی ایک آفیسر کو اشارہ کیا جس پر اُس نے تیزی سے کی بورڈ پر اُنگلیاں چلائیں۔۔۔
یہ ٹھیک سامنے میٹرنیٹی ہوم ہے سر۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ اس طرف۔۔۔
وہ میپ کے سامنے بنی تین عمارتوں کے بارے میں بتانے لگا لیکن وہ ایک نئی اُلجھن کا شکار ہوا میٹرنٹی ہوم کا سن کر
تین بجے ہوپ ہاسپٹل آجانا
وہ جے ڈی مال کے سامنے جو ہے۔۔۔۔
اُس کے کانوں میں نین کی آواز گونجی۔اُس نے ذہن کو جھٹک کر لبوں پر زبان پھیری۔
پتہ کرو ان تینوں جگہوں پر کوئی خاص ایونٹ ہے کیا۔۔۔۔
اُس کا لہجہ بدلا تھا۔۔۔سامنے والا اُس کی بات پر عمل کرنے لگا
ہوپ ہاسپٹل میں آج چار بجے سی ایم سر کا وزٹ ہے۔۔۔۔۔۔
جواب شاد نے دیا تو اُس کی ہارٹ بیٹ تیز ہوئی۔۔۔
ابھی چار دس ہو رہے ہیں۔۔۔
پرتاب نے گھڑی پر نظر ڈال کر بتایا
سر سی ایم صاحب نکل چکے ہیں۔۔۔۔۔
ایک آفیسر نے تیزی سے معلوم کرکے خبر دی
میں رپورٹ کرتا ہوں۔۔۔۔
شاد نے اُسے دیکھ کر فون اٹھاتے ہوتے کہا ۔۔۔
تیج کو الرٹ کرو۔۔۔۔۔۔۔لیکن فلهل کوئی بھی ایکشن لینے سے منع کرنا۔۔۔جب تک میں نا کہوں
وہ شاد کوانسٹرکشن دیتا باہر نکلا۔۔۔۔۔۔کے جو فورس پہلے سے جے ڈی مال میں تعینات ہے ایکدم سے ہاسپٹل میں گھسنے سے حالات بگڑ نا جائے
اتنی آسانی سے مل گئی نا اس لیے کوئی قدر ہی نہیں تمہیں۔۔۔۔۔جس دن کہیں چلی جاؤں گی۔۔ڈھونڈھتے پھرو گے
وہ بائیک کے پاس آکر رکا اور ہینڈل کو سختی سے تھاما۔۔۔۔کبھی کسی مشکل سے نہیں گھبرایا تھا لیکِن آج عجیب سا ڈر تھا۔۔۔خود کی قابلیت پر کبھی کوئی شک نہیں ہوا لیکن آج بس دل کہہ رہا تھا کے کہیں کوئی غلطی نہ ہوجائے۔
اُس نے فون نکال کر نین کا نمبر ڈائل کیا۔
کہاں ۔ کہاں ہے تو۔۔۔۔۔۔۔
بظاہر نارمل لہجہ تھا لیکن دل کی دھڑکنیں بے ترتیب تھیں
میں ہاسپٹل میں ہوں تم۔۔۔۔۔۔
داؤد کے پاس۔۔۔۔۔
نین جواب دے ہی رہی تھی کے وہ بیچ میں بولا۔ اس اُمید سے کو وہ بس ہاں کہہ دے
نہیں۔۔۔۔ہوپ ہاسپٹل۔۔۔۔۔۔بتایا تو تھا۔۔۔۔۔
نین نے حیرت سے جواب دے کر اُس کی وہ اُمید بھی توڑ دی۔۔ اُس نے فون بند کیا اور تیزی سے بائیک پر بیٹھ کر سٹارٹر دبایا۔
♦♦♦♦♦♦
چیف منسٹر کو وہاں آنے سے روک دیا گیا تھا۔۔۔شاید اُن لوگوں کا پلان وہاں کے لوگوں اور سی ایم کو ہوسٹیج بنانے کا تھا۔تاکے اپنے ساتھی کو آزاد کروا سکے۔
وہ بلکل نارمل چہرے سے ہاسپٹل کے اندر داخل ہوا۔۔۔غیر محسوس انداز میں ایک ایک چیز پر غور کرتے ہوئے۔۔
وہاں بہُت زیادہ بھیڑ نہیں تھی۔۔۔دو مرلوں کا ہاسپٹل تھا۔ جہاں نیچے ہاسپٹل اسٹاف کے علاوہ چند ایک لوگ ہی تھے۔۔کیوں کے نیچے صرف
اوپر وارڈز تھے اور
نیچے او پی ڈی ۔
وہ خاموشی سے آکر ایک بینچ پر بیٹھ کر اطراف کا جائزہ لینے لگا۔۔۔۔
ایک بچہ اُس کے سامنے کی کھیل رہا تھا۔۔
ساتھ والے صوفے پر کچھ لوگ تھے اور سامنے کچھ لوگ ۔۔۔
سمجھنا مشکل تھا کے دشمن کونسے روپ میں چھپے تھے۔۔۔
اُس نے سیٹی بجا کر سامنے کھیلتے بچے کو اپنی طرف متوجہ کرکے اشارے سے پاس بلایا۔۔
وہ دوڑتا ہوا۔اُس تک آیا
تیرے کو معلوم ادھر بوم ہے۔۔۔۔
ساحل نے اُس کے شرٹ کی اوپری بٹن بند کرتے ہوئے رازدارانہ انداز میں کہا
سچی۔۔۔۔۔۔۔۔
بچا آنکھیں کھول اشتیاق سے اُسے دیکھنے لگا اُس نے سر ہلایا۔۔۔
جا جا کر سب کو بول دے۔۔۔کے یہاں بامب ہے۔۔۔
اُس نے پھر بہت دھیرے سے کہا تو بچے نے سر ہلایا
ممی ممی یہاں بوم ہے۔۔۔۔
اور چلّاتا ہوا بھاگنے لگا ۔۔۔
اُس نے عقابی نظریں چاروں اور دوڑائی۔۔۔
بچے کے ماں باپ حیرت سے دیکھ رہے تھے لیکن وہاں اُن کے علاوہ تین لوگ اور تھے جو اُس کے چلانے سے متوجہ ہوئے تھے۔۔۔
ایک وارڈ بائے چلتے چلتے رک گیا تھا
ایک وہیل چیئر پر بیٹھا بوڑھا آدمی آنکھیں کھول کر اُسے دیکھ رہاتھا
اور ایک پریگنینٹ عورت سیڑھیوں پر چڑھتے چھڑتے رک گئی تھی۔۔
کیا بول رہے ہو بیٹا۔۔۔۔کس نے کہا ایسے۔۔۔۔
بچے کی ماں نے اُس کے منہ پر اُنگلی رکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
بچے نے ساحل کی جانب اشارہ کیا تو اُس کی ماں کے ساتھ اُن تینوں کی نظر بھی اُس اشارے پر پلٹی۔۔۔وہ اطمینان سے پیر جُھلاتا میگزین چہرے کے آگے رکھ کر کور کیے بیٹھا تھا
صرف آنکھیں نظر آرہی تھی ۔۔۔ جن سے تینوں کو باری باری دیکھا۔۔۔
وارڈ بائے سے نظر ملتے ہی اُسے ونک دی۔۔۔۔تو اُن تینوں کو خطرے کا اندازہ ہو گیا۔۔۔وارڈ بائے نے ایکدم سے گن نکال کر گولی چلا ني چاہی لیکن اُس کے ٹریگر پریس کرنے سے پہلے ہی ساحل گن نکال کر فائر کر چکا تھا۔۔۔میگزین ایک ہاتھ سے یونہی تھامی ہوئی تھی۔۔۔
پہلی گولی اُس وارڈ بائے کے ہاتھ پر لگی۔۔۔
دوسری اُس کے سر میں۔۔۔
تیسری اور چوتھی وہیل چیئر سے اٹھتے آدمی کے سینے پر۔۔
اور پانچویں اوپر کو بھاگنے کی کوشش کرتی عورت کے پیر میں۔۔۔
چند سیکنڈ ۔۔۔اور چند سیکنڈ میں وہاں بھگدڑ مچ گئی۔۔۔لوگ اِدھر سے اُدھر بھاگنے لگے۔۔۔
سیڑھیوں سے گرتے ہوئے اُس عورت بنے مرد کی وک اور نکلی ومب نکل گئے۔۔۔
وہ فوراً سنبھلا اور پھرتئ سے گولی چلائی ساحل نے جھک کر خود کو بچایا اور اُس کے سر کے اوپر فائر کیا۔۔۔۔۔
اسی وقت نظر اوپر اٹھی تو سب سے پہلی سیڑھی پر نین کو رک کر آنکھیں بند کئے کان پر ہاتھ رکھے دیکھا۔۔۔۔
وہ نیچے اتر ہی رہی تھی کے گولیاں چلنا شروع ہو گئی۔۔۔گھبراہٹ کے مارے وہ وہیں کھڑی آنکھیں میچ گئی۔۔۔کان بند کر گئی
تین لوگوں کے لاشیں پڑی تھی اور باقی لوگ باہر بھاگ رہے تھے۔۔۔
اُس نے کان میں لگے ایئر پیس میں کچھ کہا اور گن چھپا کر اوپر کی طرف بھاگا
نین کے پاس آکر ایکدم سے اُسے باہوں میں لیا تو وہ بری طرح بوکھلا گئی۔۔۔
چینخ گلے سے نکلنے سے پہلے احساس ہوا کے وہ کسی اپنے کی پناہ میں ہے تو دل کی رفتار معمول پر آنے لگی۔۔۔۔
وہ پیچھے ہوا اُس کے خوف سے سفید چہرے ،لرزتے گلابی لبوں کو دیکھا اور اُس کا ہاتھ پکڑے اُسے اوپر لیجانے لگا۔۔
صرف دو سیڑھیاں اوپر چڑھی اور وہاں پہلے روم کا دروازہ کھول کر اُسے اندر لایا
نیچے سیکورٹی فورس اندر گھسنے لگی
ساحل یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔
وہ گھبرائی گھبرائی سی پوچھنے لگی
تو یہی رک باہر مت نکلنا میں ابھی آیا۔۔۔۔
وہ بلکل بے دھیان سا کہتا آگے بڑھا لیکن نین کا دل رک گیا اُس کے پلٹتے ہی نین نے اُس کا بازو پکڑ لیا۔۔
ساحل نے پلٹ کر دیکھا۔۔
تم کہاں جا رہے ہو۔۔۔۔۔
وہ بے چین نظروں سے اُسے دیکھتی پوچھنے لگی۔ساحل نے کچھ نہیں کہا دھیرے سے اُس کا ہاتھ ہٹایا اور باہر نکل گیا۔وہ دیکھتی رہ گئی۔۔۔
پریشانیِ سے اُنگلیاں مروڑنے لگی۔۔۔۔
اِدھر اُدھر دیکھنے لگی اور پھر سر نفی میں ہلا کر باہر نکلنے کو دروازے کی طرف بڑھی
وہ اُدھر باہر نکلا ہی تھا کے ایک آدمی گن ہاتھ میں تھامے نیچے بھاگنے لگا۔۔۔ساحل نے فوراً ٹانگ اڑا کر اُسے گرایا۔۔اُس کی گن زمین پر گری وہ پھر اٹھائے اُس کے پہلے ٹھوکر مار کر گن دور اچھالی۔۔۔
ابھی آگے کچھ کرتا کہ اُسے دروازہ کھلتا ہوا محسوس ہوا اس نے فوراً اُس آدمی کے پیٹ میں ایک زور دار لات مار کر ایک ہاتھ سے دروازے کا ہینڈل تھامے جوتا اُس آدمی کے منہ پر رکھ کر اُس کا منہ بند کر دیا
نین دروازہ کھول کر باہر آنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن ساحل نے دروازے کا ہینڈل پکڑ کر پورا کھولنے سے روکے رکھا ایک سائیڈ میں وہ آدمی پڑا دونوں ہاتھوں سے اُس کا پیر ہٹانے کی کوشش میں مچل رہا تھا
تیرے کو بولا نا اندر رک۔۔۔۔۔
وہ دانت سختی سے بھینچے غصے سے بولا۔۔
نہیں میں اکیلی نہیں رکوں گی۔۔۔
دروازہ چھوڑو مجھے باہر آنا ہے۔۔۔۔
وہ بھی غصے و گھبراہٹ سے بولی ساحل نے اُسے پیچھے کرکے دروازہ کھینچ کر باہر سے لگا دیا اور گن نکال کر اُس آدمی پر فائر کیا۔
وہ چند پل تڑپ کر ساکت ہو گیا تو اُس نے پیر ہٹایا اور آگے بڑھا۔۔
جب کے نین زوروں سے دروازہ پیٹ رہی تھی
فورسز نے اندر آکر سب کو باہر نکالنا شروع کیا لیکن اوپر پہنچے تو چار آدمی وہاں سارے لوگو کو ایک جگہ جمع کیے اُن پر نشانہ باندھے کھڑے تھے۔۔۔
اُنہیں مجبوراً پیچھے ہو کر نیچے جانا پڑا۔۔۔
سب اپنی جگہ کھڑے رہو کوئی بھی آگے بڑھا تو جان سے جائےگا۔۔۔
ایک بڑے سے حال میں سب کو جمع کیے دو لوگ اُن پر مشین گن تانے کھڑے تھے۔۔۔کیا بچے کیا عورتیں کیا بزرگ سب وہاں تھے۔۔۔
ایک آدمی سارے روم چیک کرکے اندر سے ایک ایک کو باہر نکال رہا تھا۔۔
نین کے دروازہ پیٹنے کی وجہ سے اُس پر بھی فوراً دھیان گیا تھا
وہ آدمی اُسے بھی نکال کر اُس ہال میں لایا تھا جہاں سب پہلے سے موجود تھے۔۔۔
گھبراہٹ کے مارے اُس کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا۔۔
ساحل اُنہیں سچویشن کو قابو کرتے دیکھ ایک کمرے میں گھس گیا تھا۔
نیچے موجود فورس کو ہولڈ کا اشارہ دیا۔۔۔
جہاں وہ کھڑا تھا وہیں ٹنگے ایک سفید کورٹ کودیکھ کر اپنی شرٹ اُتاری اور کورٹ پہن لیا۔۔۔۔
اپنی بلیک شرٹ کو چہرے پر باندھ کے چہرہ بلکل چھپا لیا اور دروازہ کھول کر باہر کا جائزہ لیا۔۔۔۔
جہاں ایک آدمی باری باری سب دروازے کھول کر اندر چیک کر رہا تھا۔۔
اُس روم کا دروازہ کھولتے ہی ساحل نے سامنے سے اُس پر فائر کیا اور خود باہر نکل کر ایک دیوار کی اونٹ میں ہو گیا۔۔۔۔
گولی کی آواز پر ایک آدمی دوڑتا ہوا وہاں آیا اور پیچھے سے ساحل نے اُسے بھی قابو کرتے ہوئے۔۔۔زمین بوس کیا۔۔۔
اب صرف دو آدمی تھے جو لوگوں کو اپنے نشانے پر لیے کھڑے تھے۔۔۔۔۔اور سب اپنی جان کے ڈر سے رو رہے تھے تڑپ رہے تھے۔۔۔
جب کے نین ایک کونے میں آنکھیں بند کئے کھڑی تھی۔۔۔ڈر کے مارے رو بھی نہیں پا رہی تھی اُسے ویسے بھی ایسی سچویشن سے بہت ڈر لگتا تھا۔۔اور اب تو خود ہی یہاں پھنسی ہوئی تھی وہ بھی اکیلی
ساحل آگے بڑھا ایک کو دور سے ہی گولی مار کر ختم کیا۔۔۔۔۔ اور دوسرے کی گولیوں سے بچتے ہوئے اُس کے اوپر فائر کیا تو گولی اُس آدمی کے بازو پر لگی گن چھوٹ کر گر گئی۔۔۔
وہ گھبرا گیا۔۔۔۔
ساحل نے آگے بڑھ کر اُس کے نزدیک پہنچ کر اُس کے منہ پر زور دار مکّہ رسید کیا اور پھر اُسے شوٹ کیا۔۔۔
P
وہاں کسی اور خطرے کے نا ہونے کا یقین کرکے ایئر پیس میں کچھ کہتا نین پر دور سے ہی ایک نظر ڈال کر باہر نکلا۔۔۔۔
سب لوگ بھی جلدی جلدی باہر بھاگنے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن نین وہیں کھڑی تھی۔۔۔۔آنکھیں کھول کر اپنے آس پاس دیکھا اور پھر روتی ہوئی وہیں بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔
وہ دو منٹ بعد شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے بھاگتا ہوا اُس کے پاس آیا۔۔۔۔۔۔وہاں سے سب لوگ نکل گیے تھے جو بچے تھے انہیں لیجایا جا رہا تھا۔۔۔
نین کو زمین پر سمٹ کر بیٹھی روتے دیکھ اُس کا دل بے سکون سا ہو رہا تھا ۔
وہ اُس کے قریب آیا تو نین کی نظر اُس کے جوتوں پر پڑی۔۔۔
اُس نے بھیگی پلکیں اٹھا کر اُسے دیکھا اور غصے سے اپنی جگہ سے اٹھ کر اُس کا گریبان کھینچا۔۔اتنی زور سے کے شرٹ کی ایک بٹن ٹوٹ کر زمین پرگری۔۔۔
ساحل کے پیر تھوڑے سے آگے ہوئے
کمینے راؤڈی۔۔۔۔۔
کہاں تھے تم۔۔۔۔کب سے ڈھونڈھ رہی ہوں تمہیں۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے چلّائی۔۔۔ساحل نے اُس کی سرخ بھیگی آنکھوں کو دیکھ کر لب تر کیے۔
ایسی مشکل سوچویشن میں مجھے اکیلا چھوڑ کر چلے گئے تھے کیوں۔۔۔
اُس کے سینے پر مکے برساتے ہوئے خفگی سے بولتی افسوس سے رو رہی تھی۔۔۔
ساحل نے اُس کی کلائی پکڑ کر اُسے روکا۔۔۔
میں نے تیرے کو ایک سیف جگہ چھوڑا تھا لیکِن تیرے دماغ میں کچرا بھریلا ہے ۔۔۔۔کائکو باہر نکلی۔۔۔میں نے بولا تھا۔۔۔۔
وہ بھی بدلے میں غصے سے بولا اور اُس۔کی کلائی کھینچتے ہوئے اُسے وہاں سے باہر لیجانے لگا۔۔۔ کیوں کے اُس جگہ کو خالی کیا جا رہا تھا۔۔۔
وہ اُس کے ساتھ کھینچتی چلی آئی۔۔۔
ساحل نے بائیک سٹارٹ کرکے بیٹھنے کا اشارہ کیا تو اُس نے ضدی انداز میں سر نفی میں ہلا کر منع کر دیا ۔۔
ساحل نے غصے سے گھور کر اُسے کھینچ کر بیٹھنے پر مجبور کیا تو وہ غصے سے منہ پھلائے بائیک پر بیٹھ گئی۔۔
سارے راستے دونوں خاموش رہے۔۔۔
نین اُس سے ناراضگی کی وجہ سے
اور وہ اپنی دلی کیفییت سے پریشان
گھر جا میں تھوڑی دیر سے واپس آتا ہوں۔۔۔۔
اس نے بائیک گھر کے پاس آکر گھر سے دور سڑک پر روکی اور سنجیدگی سے بولا
رکو۔۔۔۔پہلے نیچے اُترو۔۔۔
نین نے اُس کی بات پر غصے سے کہا۔۔
۔ساحل نے سنجیدگی سے اُسے دیکھ کر پتہ نہیں کیوں خاموشی سے اُس کے حکم۔پر عمل کیا۔
بائیک سے اُتر کر اُس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔۔
تم تھے کہاں اُس وقت۔۔۔۔۔مجھے یہ بتاؤ پہلے۔۔
وہ غصے و خفگی کے ملے جلے تاثر لیے اُس سے سوال کرنے لگی۔۔۔
وہ میں۔۔۔۔ چھپ گیا تھا۔۔۔کیوں کے میرے کو ڈر لگ رہا تھا۔۔۔
اُسے جلدی میں جو سوجھا کہہ دیا آنکھوں کی سنجیدگی تھوڑی کم ہوئی تھی۔۔۔زہن تھوڑا اپنی بے چینی سے بھٹکا تھا
۔۔۔
ڈر وہ بھی تمہیں۔۔۔۔۔۔
اُس کی بات پر وہ رونا بھول کر حیرت سے بولی
ہاں کیوں میکو ڈر نہیں لگ سکتا۔۔۔۔میں انسان نہیں ہوں۔۔۔
اُس نے نظریں پھیر کر کہا
یہ اتنے خطرناک بائیسپ ٹرائسپ، ایٹ پیگس رکھے ہوئے ہیں تمہیں ڈرنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔
وہ بھی اپنے غم وہ غصے سے بھٹک گئی تھی۔۔۔
اُس کی شرٹ سے بھی اُبھر کر نظر آتے بھاری بازؤں کو دیکھ کر بولی
ویڑی۔۔۔۔ اُن کے پاس مشین گن تھی۔۔۔
ایک گولی مارتے نا تو میری ڈیڈ باڈی سے یہ بائسپ ٹرائیسیپ نکل کر نہیں جاتے بہادری دکھانے۔۔۔۔ویسے بھی
I hate violence۔۔۔۔۔
اُس نے آخر میں آنکھیں گھما کر کہا۔۔۔نین نے صدمے سے اُسے دیکھا
تم۔۔۔۔تم دھاراوی بھیونڈی کے غنڈوں کے سردار۔۔۔۔۔تم ہیٹ وائلینس۔۔۔۔۔
بے یقینی سے پوچھنے لگی تو ساحل نے دِماغ کے گھوڑے دوڑائے کے اب کیا جواب دے
دیکھ میں مانتا ہوں کے میں گنڈا ہوں۔۔۔۔لیکِن ۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔ بہُت ہی نیک گنڈا ہوں
وہ بہت سوچ سوچ کر بولا لیکن نین اُسے مشکوک نظروں سے گھور رہی تھی
میرا ڈیپارٹمنٹ بس ہڈیاں توڑنے سر پھوڑنے کا ہے۔۔۔یہ بندوق وندوق سے میرے کو ڈر لگتا ہے۔۔۔
اُس نے بنا شرم کیے سفاکی سے جھوٹ بولا تو نین کا منہ تاسف سے کھلا
يا اللہ کس قسم کے انسان ہو تم۔۔۔
وہاں ایک آدمی نے اکیلے ساروں کو مار دیا۔۔اورتم بندوق کے ڈر سے اپنی بیوی کو خطرے میں چھوڑ کر دم دبا کر بھاگ گئے۔۔۔۔لعنت ہے ایسے غنڈے ہونے پر۔۔۔۔
۔۔
وہ دکھ و افسوس سے بولی تو ساحل نے بھی افسوس سے سر ہلایا۔۔۔اور دونوں ہاتھ جینس کی جیب میں پھنسائے
مجھے سب پتہ ہے ۔۔۔
تم جان بوجھ کر مجھے چھوڑ کر گئے تھے۔۔۔تاکے وہ ٹیررسٹ مجھے مار دے ۔۔۔
اُس نے ایکدم ہی غصے سے کہا تو اُس کی مرنے والی بات نے ایک بار پھر ساحل کو بری طرح پریشان کیا۔۔۔
وہ پھر سنجیدہ ہو کر اُسے دیکھنے لگا۔اُس کا دل زور سے دھڑک کر یاد دلانے لگا کے ایک لمحے نے اُس کی زندگی میں نین کی اہمیت واضح کردی تھی۔۔اُسے بری طرح کمزور کر دیا تھا۔۔۔۔
تمہاری تو جان چھوٹ جاتی۔۔۔۔تمہیں تو بہانا ہی مل جاتا۔۔۔
دِن رات مجھ سے پیچ چھڑانے کے ہی خواب دیکھتے ہو نہ تم وائلڈ مین۔۔۔لیکِن ایک بات بتا دوں ایسا کچھ ہونے والا نہیں ہے۔
وہ اُس کے جذباتِ دل سے بے خبر بس بولے جا رہی تھی اور ساحل بنا پلکیں جھپکے اُسے دیکھے جا رہا تھا کبھی ہلکی ہلکی نم خوبصورت آنکھوں کو اور کبھی گلابی نازک لبوں کو۔۔۔۔
اگر میں مر بھی گئی نا تب بھی پیچھا نہیں چھوڑوں گی تمہارا۔۔آتما بن کر تمہارے آس پاس ہی بھٹکتی رہوں گی۔۔۔جینا حرام کر دوں گی تمہارا۔۔۔۔
اتنا کے ایک دن تنگ آکر تم خود کشی کرلو گے۔اور تم بھی میری طرح بھٹکنے لگو گے۔۔۔۔
میں بھوتنی بنو گی تو تم پشاج بن جاؤ گے۔۔۔۔۔
وہ اُسے کڑے تیوروں سے گھورتی ایک ایک بات پر زور دے کر بولنے لگی۔۔۔اور ساحل کی خاموشی محسوس کرکے اُسے حیرت ہوئی کے وہ جواب کیوں نہیں دے رہا۔
کیا ہوا ایسی سڑی ہوئی شکل کیوں بنا رکھی ہے۔۔۔۔ٹھیک ہے تمہاری ڈرپوک گری پر مجھے غصّہ ہے لیکن اب میں ٹھیک ہوں تو چلو تمہیں معاف کردیا۔
اُس نے دیدہ دلی سے کہا یہ سوچ کر کے شاید وہ بھی اندر ہی اندر شرمندہ ہے اپنی لاپرواہی پر۔۔۔
۔لیکِن اُس کے بعد بھی اُسے اُسی طرح کھوئے کھوئے انداز میں خود کو دیکھتے پایا تو حیران ہوئی
بولو نا اتنے سیریس کیوں ہو گیے ابھی تو ٹھیک تھے۔۔۔۔
وہ اُس کے بازو کو اُنگلیوں سے چھوتے ہوئے اُسے اپنی طرف متوجہ کرتےہوئے بولی تو ساحل نے پلکیں جھپک کر نظریں اُس کے چہرے سے ہٹائیں
Mama ke bete۔۔۔
are you ok۔۔۔
نین نے اُسے غور سے دیکھتے ہوئے فکرمندی سے پوچھا۔۔۔
No۔۔۔i m not ok۔۔۔
اُس نے بنا نظریں اٹھائے ہی دھیرے سے بھاری سرگوشی کی۔۔جیسے خود سے کہہ رہا ہوں۔۔۔
چوٹ لگی ہے تمہیں۔۔۔۔۔۔اُن غنڈوں نے کچھ کیا۔۔۔۔۔پلیز بولو۔۔۔۔
وہ پریشان سی اُس کا بازو ہلا کر پوچھتے ہوئے اُسے سر سے پیر تک جانچنے لگی
کچھ نہیں ہوا تو گھر جا۔۔۔۔۔۔
اُس نے مدھم لہجے میں کہا بنا دیکھے۔۔۔ اُس کا ہاتھ ہٹا کر پلٹا۔۔۔وہ ایکدم سے اُس کے سامنے آگئی
میں نہیں جاؤں گی۔۔۔۔ پہلے تم بتاؤ۔۔۔۔
اُس کا راستہ روک کے غصے و پریشانی کی کیفیت میں بولی۔۔۔
ساحل نے اُسے سنجیدگی سے دیکھ کر لب تر کیے۔۔۔
تُو گھر جا۔۔۔۔۔
اُسے دیکھ کر روبوٹ کی طرح بولا تو نین کی پیشانی پر ڈھیروں لکیریں پڑی
Are you mad۔۔۔۔
وہ غصے سے اُسے لمبا لیکچر سنانے والی تھی لیکن ساحل نے ایکدم سے اُس کی گردن پر ہاتھ رکھے جھک کر اُس کے لبوں کی حرکت روک دی۔۔۔
اُس کے لفظوں کو اپنے لبوں میں سمیٹ لیا۔۔۔
وہ لڑکھڑا کر سانس روک گئی۔۔۔۔
ہاتھ پیچھے بائیک پر رکھ کر سہارا لیا۔۔۔
دل دھڑکتے دھڑکتے رک گیا اور آنکھیں پوری پھیل گئی۔۔۔۔
خون دوگنی تیزی سے گردش کرنے لگا۔۔۔۔۔
لبوں کی گرفت میں نرمی بھی تھی شدت بھی تھی۔۔بے پناہ تپش بھی تھی۔۔۔برف سی نا قابلِ برداشت ٹھنڈک بھی تھی۔۔۔
صرف نو سیکنڈ میں وہ لمس نین کی تمام رگوں میں اُتر گیا۔۔۔
صرف نو سکنڈ میں اپنی بے چینی ۔بے قراری۔۔۔بے بسی۔۔۔۔ڈر۔۔۔تڑپ۔۔جلن سب کچھ سانسوں کے راستے اُس میں منتقل کرکے وہ پیچھے ہوا اور منہ سے سانس لیتے ہوئے ہاتھ گردن سے ہٹا کر دور ہوا۔۔۔
بال بکھر کر پیشانی تک آگیے تھے
نین بد حواسی میں پلکیں تک جھپکنا بھول گئی تھی۔۔۔۔
جوں کی توں کھڑی ہلکے سے کھلے لبوں سے سانس لے رہی تھی ۔۔۔
ہوا سے بال چہرے کو چھو رہے تھے۔۔۔
سب کچھ ٹھہرا ٹھہرا سا لگ رہا تھا۔۔
گھر جا۔۔۔
ساحل نے اُس کے بھیگے لرزتے لبوں سے نظریں ہٹا کر اُس کی آنکھوں نے دیکھتے ہوئے بے ترتیب لہجے میں کہا اُس کا ہاتھ بائیک سے ہٹایا اور بائیک پر بیٹھ کرچند پلوں میں اس کی نظروں سے دور ہوتا گیا۔۔۔
نین اُس کے نظروں سے اوجھل ہونے کے بعد بھی اُس راستے کو دیکھتی رہی۔۔۔۔۔۔
کیوں کے وہ تو اُن نو سیکنڈز میں کہیں رہ گئی تھی
♦♦♦♦♦♦♦♦