Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 67

Episode 67
کچھ دن گزرنے کے بعد میں نے اُسے یاد کرنا بھی چھوڑ دیا تھا۔۔۔
مجھے فرصت نہیں تھی اُسے یاد کرنے کی اور میں سوچتا تھا کے وہ بھی مجھے بھول گیا ہوگا
لیکن میں غلط تھا۔۔۔۔۔
گروپ اسٹڈی کے بہانے میں ایک دوست کے ساتھ ریو پارٹی میں گیاتھا ۔۔۔۔۔
مجھے یقین تھا کسی کو خبر تک نہیں ہونےوالی۔۔
لیکن میری قسمت خراب تھی
ڈیڈ اچانک وہاں پہنچ گیے۔۔۔
اُنہیں کیسے پتہ چلا یہ میں لاکھ کوشش کےباوجود سوچ نہیں پایا۔۔
لیکن اُس دِن ڈیڈ کی آنکھوں میں اپنے لیے بے پناہ فکر اور تڑپ دیکھی تھی
وہ میرے لیے بہت پریشان تھے۔۔۔اُس دن اُنہوں نے غصّہ نہیں کیا بلکہ بے بسی سے مجھے سمجھایا کے یہ سب غلط ہے۔۔۔میں یہ عادت چھوڑ دوں۔۔۔۔۔۔۔اور میں چاہ کر بھی کہہ نہیں پایا کے ڈیڈ میں تو چھوڑنا چاہتا ہوں لیکن یہ عادت مجھے نہیں چھوڑ رہی ہے
ڈیڈ کی باتوں میں غلطی سے ساحل کا نام نکل گیا تھا۔۔۔۔
میری حیرت کو غصے میں بدلتے لمحہ نہیں لگا۔۔۔۔۔
میں نے اُسی وقت فون کرکے اُسے ملنے بلایا
رات سے صبح ہونے تک کا انتظار بھی میرے لیے نا ممکن تھا
غصے کی آگ جل رہی تھی دماغ میں۔۔بدلا لیے بنا ٹھنڈی نہیں ہونے والی تھی۔۔۔۔
ڈرائیونگ سیکھ لی تھی اس لیے بنا کسی کو بتائے آدھی رات کو خاموشی سے گاڑی لے کر نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔
اُسے ایک بار سے تھوڑی دوری پر بلایا تھا جہاں ہم پہلے ملتے رہتے تھے۔۔۔۔۔
سنسان جگہ تھی۔۔۔
وہ باہر ہی کھڑا تھا۔۔۔۔میں نے جاتے سے ہی غصے سے اُسے مارنا شروع کر دیا تھا۔۔۔
پہلے تو وہ مار کھاتا رہا ۔۔۔۔مجھے سمجھانے کی بات کرنے کی کوشش کرتا رہا لیکن جب میں نہیں رکا تو اُس نے بھی مجھے مارنا شروع کر دیا۔۔۔
میں اُس سے مقابلے کی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔۔دو تین تھپڑ کھا کے ہی میری طاقت ختم ہو گئی۔۔۔لیکن غصّہ ختم نہیں ہوا۔۔۔۔۔
میں نے موقع پاتے ہی اپنے ایک دوست کو میسیج کر دیا کے پولیس کو لے آئے
وہ پولیس سے بھاگتا رہتاتھا سوچا اُسے پکڑوا دوں۔۔۔۔۔
ایسے نہیں تو ایسے صحیح۔۔۔ بدلا لینا تھا بس۔۔۔
میں شانت ہو گیا تو وہ بھی رک گیا۔۔۔۔
مجھ پر غصّہ کرنے لگا۔۔۔۔افسوس کرنے لگا۔۔۔مجھے سنانے لگا اور میں اُسے غصے سے گھورتے ہوئے سنتا رہا مجھے بس پولیس کا انتظار تھا۔۔۔
لیکِن پولیس سے پہلے وہاں وہ لڑکے آگیے جنہوں نے مجھے پھنسنانے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔۔
میں بہت ڈر گیا۔۔۔۔۔۔۔
وہ پانچ تھے۔۔۔۔بہُت طاقتور تھے
میں بھاگنے کی سوچ ہی رہا تھا کے انہوں نے ایکدم سے مجھے پکڑلیا ساحل حرکت کرتا اُس سے پہلے دو لڑکوں نے اُسے بھی جکڑ لیا
وہ مجھے مارنے لگے۔۔۔
پوچھنے لگے کے میں نے اُن کا مال کہاں چھپایا۔۔
وہ سوٹ کیس تو پولیس سے بھاگنے کے چکر میں میں پتہ نہیں کہاں چھوڑ چکا تھا اُنہیں کیسے بتاتا۔۔۔
اپنے نقصان کا سارا غصّہ وہ لوگ مجھ پر نکالنے لگے۔۔۔
میرے اندر اُنہیں روکنے کی ہمت نہیں تھی۔۔۔۔دِماغ مار کھا کھا کر سن ہو گیا تھا۔۔
ساحل نے کس طرح خود کو چھڑایا۔۔۔کس طرح اُن لوگوں کو مجھ سے دور کیا میں نہیں دیکھ پایا۔
جب دیکھا تو وہ پانچوں سے اکیلے لڑ رہا تھا۔۔۔میرے لیے۔۔۔۔مجھے بچانے کے لیے۔۔۔۔
میں اُس سے بدلہ لینا چاہتا تھا اُسے جیل بھیجنا چاہتا تھا اور وہ میرے لیے اُن لوگوں سے مار کھا رہا تھا
اُس میں ہمت بھی تھی اور طاقت بھی تھی لیکن وہ پانچ تھے ہم سے بہت بڑے اور طاقتور تھے۔۔۔۔۔۔
وہ کمزور پڑ رہا تھا اور وہ لوگ اُس پر بھاری پڑ رہےتھے۔۔
پانچوں نے مل کر اُسے قابو کر لیا تھا اور زمین پر گرا کر بے دردی سے مار رہے تھے۔۔۔۔۔
لاتوں سے ڈنڈوں سے۔۔۔
مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا۔سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کروں۔۔۔
لیکن اتنا پتہ تھا کے وہ لوگ اُسے مرنے تک مارتے رہیں گے۔۔۔
میں بہُت ہمت کرکے اٹھا اور زمین پر پڑا ڈنڈا اٹھا کر ایک کے سر پردے مارا۔۔۔۔
ہاتھ کانپ رہے تھے ۔۔۔ذرا بھی طاقت نہیں تھی کے اُس ڈنڈے کا کوئی اثر ہوتا۔۔۔لیکن ہاں میں اُنہیں اپنی طرف متوجہ کر چکا تھا۔
اور ایسا کرکے بہُت بری طرح خوفزدہ بھی تھا کے پتہ نہیں اب وہ لوگ میرے ساتھ کیا کریں گے۔۔۔۔
میرے قدم پیچھے ہوتے جا رہے تھے۔۔۔روح کانپ رہی تھی اور نظریں کِسی کو ڈھونڈھ رہی تھی جو اُس سنسان سڑک سے گزرتے ہوئے ہمیں دیکھ لے اور بچا لے
ساحل زمین پر لہولہان پڑا تھا۔۔
ہوش میں تھا لیکِن حالت ایسی تھی کے اٹھنے کی کوشش کرکے بھی ناکام ہو رہا تھا
پیچھے ہوتے ہوتے میرے پیروں سے کچھ ٹکرایا تھا جو ایک گن تھی شاید ساحل سے مارپیٹ کے وقت اُن میں سے کسی کے پاس سے گر گئی تھی۔۔۔
میں نے فوراً جھک کر وہ گن اٹھا لی اور اُن لوگوں پر تان دی۔۔۔۔
محض خود کو بچانے کی خاطر اُنہیں دھمکانے کی غرض سے۔۔۔
لیکِن وہ ڈر نہیں رہے تھے۔۔۔بلکہ ہنس رہے تھے۔۔۔۔
میرامزاق بنا رہے تھے کے میں کیسے کانپتے پیروں سے کھڑا ہونے کے باوجود اُنہیں مارنے کی دھمکی دے رہا ہوں۔۔۔۔۔
اُن کی ہنسی دیکھ کر مجھے اور زیادہ گھبراہٹ ہو رہی تھی۔۔
اُن میں سے ایک لڑکا۔۔۔چلا گولی۔چلا گولی بولتا ہوا میری طرف بڑھ رہا تھا اور مجھے نہیں پتہ کے کیسے مجھ سے ٹریگر دب گیا۔۔۔۔۔
میں نے اُس کے سینے پر گولی چلا دی تھی۔۔۔۔
جتنے حیران وہ لوگ تھے اتنا ہی میں بھی تھا۔۔۔۔۔۔
ساحل بھی بری طرح گھبرا گیا تھا۔۔۔۔
وہ آدمی کھلی آنکھوں سمیت ہی زمین بوس ہو گیا تھا۔۔۔۔
اُس کے ساتھی سب اسی پل وہاں سے بھاگ گئے اور میں۔۔۔۔۔۔
میں سانس نہیں لے پا رہا تھا۔۔۔۔۔۔یہ سوچ کر کے میں نے کسی کومار دیا میرے وجود میں جان نہیں بچی تھی۔۔۔۔۔میں زمین پر بیٹھا ساکت آنکھوں سے اُس کے مردہ جسم کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
ساحل لڑکھڑاتے ہوئے اٹھ کے میرے پاس آیا تھا مجھے وہاں سے چلنے کو کہہ رہا تھا۔۔۔۔اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن مجھ سے ذرا بھی حرکت نہیں ہو پا رہی تھی
بس اُس کی آواز کانوں میں گونج رہی تھی وہ بھی دھندلی دھندلی سی
وہ تھک کر رک گیا ۔۔میرے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔۔چاہتا تو بھاگ بھی سکتا تھا لیکن نہیں گیا۔۔وہیں بیٹھا رہا میری طرح
خاموشی مزید بڑھ گئی تھی ۔۔۔موت کا سا سناٹا تھا جب ڈیڈ کی گاڑی وہاں آکر رکی۔۔۔
وہ میرے ہاتھوں میں گن اور سامنے پڑی لاش دیکھ کر بھی بے یقیں تھے۔۔۔۔
مجھ سے سوال کر رہے تھے۔۔۔۔
مجھے جھنجھوڑ رہے تھے۔۔۔۔
ساحل کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔۔۔اُس سے سوال کر رہے تھے لیکن ہم دونوں چپ تھے۔
وہاں پولیس کا سائرن سنائی دیا تو اُنہوں نے گن میرے ہاتھ سے چھین کر خود لے لی۔۔۔
پولیس وہاں پہنچی تو اُنہوں نے خود کو قاتل بتایا بولے کے یہ خون میں نے کیا ہے۔۔۔۔
وہ آفیسر اُن کے دوست تھے اے سی پی پرتاب سنگھ۔۔۔
انہیں یقین نہیں ہوا اور کچھ ومجھے دیکھ کر بھی سمجھ گئے باقی سب کو اُنہوں نے وہاں سے بھیج دیا
ڈیڈ سے پوری بات پوچھنے لگے تو ڈیڈ نے کہا کہ وہ اس قتل کا الزام خود پر لیں گے تاکے میری زندگی خراب نا ہو۔۔۔۔
پرتاب انکل نے اُنہیں سمجھانا چاہا ۔بھروسہ دلانا چاہا کے وہ کوشش کریں گے سیلف ڈیفنس کا معاملہ بنا کے مجھے بچانے کی۔۔۔
لیکن ڈیڈ نہیں چاہتے تھے کے میرا نام بھی اُس قتل سے جڑے دنیا مجھے قاتل کی نظر سے دیکھے۔۔۔۔۔پولیس فورس جوائن کرنے کا میرا خواب ادھورا رہ جائے۔۔۔۔میں سماج میں مجرم کہلاؤں ۔۔۔
وہ میرے لیے خود کی زندگی قربان کرنے کو تیار تھے۔۔۔
لیکِن ساحل نے اُنہیں روک دیا۔۔۔اور گن اُن سے لے کر یہ کہہ دیا کے قتل اُس نے کیا ہے میں نے نہیں۔۔۔۔
نظر سے نا دیکھنے کے باوجود بھی ڈیڈ اُس کا جھوٹ سمجھ گیے تھے۔
ماننے کو تیار نہیں تھے۔۔۔۔
حیرت زدہ بھی تھے کے غیر ہو کر وہ کیوں خود پر ہماری مصیبت لے رہا ہے۔۔۔
اور اُس سے پوچھا بھی کے کیوں وہ اپنی زندگی خراب کرنا چاہتا ہے۔۔۔
تب اُس نے صرف اتنا کہا تھا کے اگر آپ ابھی اپنے بیٹے کو بچانے کے لیے جیل چلے جائیں گے تو آپ کی غیر موجودگی میں اُسے کون بچائے گا۔۔۔۔۔
اسے ڈرگز کے دلدل سے کون نکالے گا۔۔
وہ رک کر نین کی جانب دیکھنے لگا۔۔۔جو بھیگی آنکھوں میں اُداسی لیے اسے دیکھ رہی تھی
یہ ساری باتیں مجھے ڈیڈ سے بہت بعد میں پتہ چلی تھی۔۔۔اُس وقت تو میں ہوش میں ہی نہیں تھا۔۔
اُس حادثے نے میرے دماغ پر بہت گہرا اثر کیا تھا۔۔
میرا دماغ مفلوج ہو چکا تھا
اگلے چھ مہینے تک ایک ہاسپٹل میں میرا ٹریٹمنٹ چلتا رہا۔۔
سب بھول گیا تھا لیکن ڈرگز نہیں بھولی تھی۔۔
ڈرگز کی طلب نے مجھے پاگل کر دیا تھا۔
دن رات دورے پڑتے تھے۔۔۔۔رگوں میں خون دوڑنا چھوڑ دیتا تھا۔۔۔۔
بہت مشکل وقت تھا وہ۔۔۔خیر۔۔
پچھلی باتیں یار کرکے ضبط سے اُس کی آنکھیں بے حد سرخ ہو رہیں تھیں۔۔۔
ڈیڈ نے گھر میں کسی کو نہیں بتایا تھا۔۔۔
ایکسیڈنٹ کا بہانا کر دیا تھا ۔۔۔
چھ سات مہینے بعد جب میں کچھ ٹھیک ہوا تب ڈیڈ سے پوچھا کے اُس رات کے بعد کیا ہوا تھا تب ڈیڈ نے مجھے سب بتایا کے کس طرح اُن کے لاکھ منع کرنے کے بعد ساحل نے وہ الزام خود پر لے کر خود کو پولیس کے حوالے کیاتھا۔۔
اٹھارہ سال سے کم تھا اور سیلف ڈیفینس کا کیس تھا ۔۔۔۔اس لیے اُسے سات سال کی سزا ہوئی تھی۔۔۔۔
میں اُس سے ملنے گیا تھا اُس سے کہہ دیا کے میں اپنے حصے کی زندگی اُسے نہیں جینے دوں گا سب کو بتا دوں گا کے قاتل وہ نہیں میں ہوں۔۔۔
لیکِن اُس نے۔۔۔۔۔
اُس نے اپنی دوستی کے بدلے مجھ سے بس ایک وعدہ مانگا کے میں اُس رات اُس حادثے کا ذکر کبھی کسی سے نہیں کروں گا۔۔۔۔غلطی سے بھی کوئی بات زبان پر نہیں آنے دوں گا۔۔۔۔۔جو ہوا سب کچھ بھول جاؤں گا۔۔۔۔۔
اُس کی بات پر عمل کرتے ہوئےمیں نے اُس سچ کو راز ضرور بنا لیا لیکِن بھولنا میرے لیے نہ تب ممکن تھا نہ آج ہے۔۔۔۔۔
اُس نے خشک ہوتے گلے کو تر کیا اور نین کی جانب دیکھا ۔۔وہ زمین پر نظریں گڑائے کھڑی تھی۔۔
اُن لمحوں کو یاد کر رہی تھی جب سب نے کسی نہ کسی طرح اُسے کبھی جاہل گنوار کبھی گنڈا موالی ہونے کا طعنہ دیا تھا اُس نے خود نے بھی۔۔۔
کیا وہ لوگ اندازہ لگا سکتے تھے کے اُس انسان کے پاس کیسا دل تھا۔۔۔۔۔
میں کتنی بھی ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی کر لوں لیکِن آج تک خود پر فخر نہیں کر پایا کیوں کے جب اپنے معاملے میں میں انصاف نہیں کر سکا تو اوروں کو کیا دے پاؤں گا۔
وہ نین کو اپنی سوچوں میں خاموش دیکھ دکھ و افسوس سے بولا
تم نے ساحل کی مدر کے بارے میں معلوم نہیں کیا۔۔۔اُنہیں ڈھونڈھنے کی کوشش نہیں کبھی۔۔۔۔
وہ اُس کے خاموش ہونے پر گلا صاف کرکے دھیرے سے پوچھنے لگی
میں چاہتا تو تھا نین لیکن ساحل نے مجھے ایسا کرنے نہیں دیا۔۔۔۔۔اُس نے بہُت سختی سے منع کیا تھا مجھے۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے پر سوچ نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا
لیکن اب مجھے اُنہیں ڈھونڈھنا ہے کیا تم میری ہیلپ کروگے پلیز۔۔۔۔
نین درخت کے سہارے سے ہٹ کر اُس کے ساتھ چارپائی پر بیٹھتے ہوئے بہُت اُمید سے دیکھتی پوچھنے لگی۔
یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے۔۔۔۔۔۔افکورس میں تمہاری ہیلپ کروں گا۔۔۔۔بلکہ میں نے بہت سارے کلوز ڈھونڈھ لیے ہے ہمیں زیادہ مشکل نہیں ہوگی۔۔۔۔
وہ اُس کے فیصلے پر خوش ہوتے ہوئے بولا
تھینک یو سو مچ داؤد اسی بات پر ۔۔۔,۔۔۔
اُس نے مسکرا کر کہتے ہوئے ہاتھ اوپر کیا تو داؤد نے ہنستے ہوئے تالی دی۔
کچھ کھانے کو لاتی ہوں۔۔۔۔۔
وہ سر ہلاتے ہوئے اٹھی اور ساحل کے لائے فروٹس لا کر اُس کے پاس رکھے۔۔۔
فروٹس کھانے کے ساتھ وہ دونوں نارمل موڈ میں باتیں کر رہے تھے ۔۔۔
داؤد اُسے وہی پُرانے قصے سنا رہا تھا۔۔۔ساحل کی پسند نہ پسند بتا رہا تھا۔۔۔
نین کا آرڈر کیا ہوا سامان آیا تو اُسے گھر میں ترتیب دینے میں داؤد نے بھی اُس کی ہیلپ کی۔۔۔۔
دونومل کر باتوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔۔۔۔داؤد کا موڈ بھی بحال ہو گیا تھا۔۔۔۔
صبح والی ٹینشن بھول گئی تھی۔۔۔نین سے ساحل کی محنت اور رگھو ناتھ کے قصے سن کر وہ ہنس ہنس کر بے حال ہو رہا تھا
شام ہونے لگی تھی۔۔۔۔اندھیرا پھیل رہا تھا
داؤد نے سامنے والے پیڑ پر ایک رسی کا اونچا سا جھولا بنا دیا تھا۔۔
اور نین کو اُس میں بیٹھنے کا کہہ کر خود اُسے دھکّا دے رہا تھا۔۔۔
وہ ہنس ہنس کر انجوئے کر رہی تھی اُسی درمیان ساحل کی بائیک وہاں آکر رکی وہ داؤد کی گاڑی دور سے ہی دیکھ چکا تھا اور اُس کا تھوڑا بہت ٹھیک موڈ بری طرح خراب ہو چکا تھا۔
آگیے تم۔۔۔۔میں اور داؤد تمہاری ہی باتیں کر رہے تھے۔۔میں نے ابھی کہا داؤد سے کے تم آج جلدی آؤگے اس لیے تم سے مل کے جائے۔۔۔۔۔
وہ اُسے دیکھ کر جھولے سے اترتی ہوئی خوشدلی سے بولی۔۔۔ویسے بھی آج ذہن و دل میں صرف وہی بسا ہوا تھا۔۔
پہلے پتہ ہوتا تو آتا ہی نہیں۔۔
وہ اُسے اگنور کیے دھیرے سے بڑبڑاتا آگے بڑھا۔
اُن دونوں کو ایک ساتھ ہنستے مسکراتے دیکھ دل میں آگ جل اٹھی تھی جس کا دھواں آنکھوں میں چبھ رہا تھا۔۔
دونوں کتنے پرسکون تھے جب کے اُس کا دل بری طرح بے چین ہو چکا تھا۔۔۔
نین کو بغیر دوپٹے کے اتنی بے باکی سے داؤد کے ساتھ ہنستے مسکراتے دیکھ
یہ چھوڑو نا چلو مجھے تمہیں کچھ دکھانا ہے۔۔۔۔آؤ نا داؤد۔۔۔
وہ اُس کے ہاتھ سے کھانے کا شاپر لے کر چارپائی پر رکھتی اُس کا ہاتھ پکڑے اندر لے جانے لگی ساتھ داؤد کو بھی اشارہ کرکے بلایا
وہ اندر پہنچا تو چھوٹی چھوٹی ڈیکوریشن لائٹس سے گھر میں پھیلے اُجالے نے اُس کا استقبال کیا ۔۔۔۔
دیواروں پر لائٹس کی لڑیاں لٹک رہی تھی
ایک کونے میں دیوار سے تھوڑا فاصلے پر اونچا سا بستر لگایا ہوا تھا جس پر سفید چادر اور سفید ہی تکیے رکھے ہوئے تھے۔۔۔۔۔
داؤد جو گھر سے اُن کے کپڑے لے کے آیا تھا سب فولڈ کرکے ترتیب سے شیلف میں جمے ہوئے تھے۔۔۔
پورا گھر پرفیوم کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔۔۔
لیکِن اُس کے دل کیفیت نے اُس کے دماغ کو ذرا بھی کچھ محسوس کرکے خوش نہیں ہونے دیا۔۔
کیسا ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی تک اُس کا بازو تھامے کھڑی ایکسائیٹڈ سی اُس کے بے تاثر چہرے کو دیکھ رہی تھی
ساحل نے بنا کچھ کہے یا اُسے دیکھے اُس کی اُنگلیاں اپنے بازو سے ہٹا کر ہاتھ دور کیا
میں نے اور داؤد نے مل کر کیا ہے۔۔اچھا لگا نا تمہیں ۔۔۔۔
وہ اُس کی حرکت کو نظر انداز کیے خوش ہو کر اُسے دیکھتی پوچھنے لگی ۔۔ اُسے ساحل کے ایسے رویے کی عادت تھی لیکن داؤد کو حیرت ہو رہی تھی ۔۔
وہ اُس کی بات جیسے سن ہی نہیں رہا تھا۔۔۔آگے بڑھ کر شلیف میں رکھے اپنے کپڑوں میں سے ٹی شرٹ اور ٹریک پینٹ نکال رہا تھا
داؤد کہہ رہا ہے کیوں نہ ہم ادھر ایک بیڈ بھی لگوا لیں۔۔
وہ اُس کی عاجزی نوٹ کرکے بھی بولے جا رہی تھی اور اندر ہی اندر خوش بھی ہوئے جا رہی تھی
ساحل نے پلٹ کر سنجیدگی سے اُسے دیکھا
تو داؤد کے گھر ہی کیوں نہیں چلی جاتی اُس کے گھر میں بہُت بیڈ ہے۔۔۔۔۔۔میں غریب ہوں اتنا سب افورڈ نہیں کر سکتا۔۔۔
وہ بیزاری سے کہتا شرٹ کے بٹن کھولنے لگا تو داؤد نے ماتھے پر بل ڈالے اُسے دیکھا ۔۔ اُس کے اس تلخ رویے کی اُس کی بے رخی کی وجہ پوچھنے کی کوشش کی لیکِن نین نے اشارے سے اُسے روک دیا۔۔
وہ دونوں باہر آگیے جب کے ساحل کلس کر دانت بھینچے شرٹ کو دور پھینکتا سر تھامے کھڑا تھا
تم نے مجھے اُس سے پوچھنے کیوں نہیں دیا کے وہ کس بات پر غصّہ ہے۔۔۔۔
داؤد نے باہر آکر پریشان ہوتے پوچھا
ایک بات بتاؤں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے جواب دینے کی بجائے دھیرے سے پوچھا تو وہ کنفیوز ہوا۔۔
ماما کا بیٹا تمہیں اور مجھے ساتھ دیکھ کر جیلس ہوتا ہے۔۔۔۔
وہ بے حد دھیرے سے بولی اُس کی سرگوشی جیسی آواز مدھم سی اندر بھی سنائی دے رہی تھی جس پر وہ مزید جل بھن رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریئلی۔۔۔۔۔۔۔۔
جب کے داؤد حیران تھا کے ایسا بھی ممکن ہے
ہاں لیکن اصل بات یہ نہیں ہے۔۔۔
وہ اتنے ہی دھیمے سے بولی
تو۔۔۔۔۔
داؤد نے نا سمجھی سے پوچھا
جلتے ہوئے وہ بہُت کیوٹ لگتا ہے۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولی تو داؤد ایک دم سے ہنسنے لگا۔۔۔اور نین نے بھی ہنسنے میں اُس کا ساتھ دیا
جب کے دونوں کی ہنسی اُس کے دل میں کانٹے کی طرح چبھ رہی تھی۔۔۔
بیلٹ کھولتے ہوئے اُس کے ہاتھ ہنسی سن کر ایک پل کو تھمے اور پھر پوری شدت سے بیلٹ کھینچ کے نکالا ۔
جو بھی ہو لیکن میں اپنے بھائی کو اور جلتے نہیں دیکھ سکتا۔۔۔اس لیئے مجھے اب جانا ہے۔۔۔۔۔
وہ ہنسی کنٹرول کرتے ہوئے بولا
میرا کام مت بھولنا۔۔۔۔
نین نے اُسے یاد دہانی کروائی وہ سر ہلاتا باہر نکل گیا ۔۔۔۔
♦♦♦♦♦♦♦♦♦