Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 69
No Download Link
Rate this Novel
Episode 69
Sanaya_Khan
Episode 69
وہ بائیک پارک کرکے تیز تیز قدموں سے سیڑھیاں چڑھ کر کالج کے لائبریری ہال میں پہنچا۔۔۔۔۔
ہمیشہ کی طرح وہاں خاموشی کا راج تھا۔۔
چند ایک سٹوڈنٹ تھے جو اپنی اپنی جگہ مطالعے میں مصروف تھے۔۔۔
وہ بنا رکے اُس ہال کے آخری کارنر کے دروازے کا لاک کھول کر اندر گیا۔۔۔
جس کے باہر سسٹم ریکارڈز کا بورڈ لگا تھا ۔۔
جہاں اُس کی ڈیوٹی ہوتی تھی۔۔۔۔
وہ چھوٹا سا کمرہ پورا پرانی فائلوں اور رجسٹرز سے بھرا ہوا تھا۔۔۔
اور روشنی بھی بس نام کو ہی تھی۔۔
اندر پہنچ کے اُس نے دروازہ بند کیا ۔۔
اور دروازے کے ساتھ والی دیوار پر لگے ایک بک شیلف کو تھوڑا سا سائیڈ میں پش کیا۔۔۔۔
دیوار میں ایک الیکٹرونک ڈیوائس لگی تھی جس کا رنگ دیوار کی طرح ہی سفید تھا۔۔صرف ایک چھوٹی محض ایک انچ کی بلیک سکرین نظر آرہی تھی۔۔۔۔
اُس نے گلے میں موجود چین کے اندر پینڈینٹ کی طرح لٹکتے چھوٹے سے کارڈ کو اُس اسکرین کے سامنے کیا تو وہ فورا روشن ہوگئی۔۔۔اور کلک کی آواز کے ساتھ اُس کے چہرے کے سامنے نیلے رنگ کی روشنی جگمگانے لگی۔۔۔
ساحل نے اُس روشنی کے ٹھیک سامنے ہو کر اُس میں آنکھیں گاڑے پلکیں دوبارہ جھپکیں تو وہاں ایک دروازہ کھل گیا اور وہ نیلی روشنی دو حصوں میں تقسیم ہو کر غائب ہوگئی۔۔۔
وہ دروازہ کھلتے ہی اُس لفٹ میں داخل ہوا۔۔۔۔۔
اور لفٹ کا دروازہ بند ہوتے ہی شیلف خود بخود اپنی جگہ آگئی۔۔۔وہ کمرہ پہلے کی طرح ہوگیا۔۔
لفٹ نیچے دوڑتی اُسے انڈر گراؤنڈ ایریا میں بنے ٹریننگ سینٹر میں لے گئی جو این آئے اے کی اکیڈمی تھی جہاں بیس سلیکٹیڈ کیندیڈز کو خفیہ طور پر ہر طرح کی ٹریننگ دی جاتی تھی ۔۔۔
کوئی وہاں سٹوڈنٹ کی طرح آتا تھا۔۔۔کوئی پروفیسر کی طرح تو کوئی کِسی بہانے تاکہ لوگوں کو اندازہ بھی نہ ہو کے وہ لوگ کس مقصد سے جڑے ہے۔۔۔
لفٹ کادروازہ کھلتے ہی سامنے جو دیوار تھی اُس پر انگریزی میں لکھا کرما۔۔۔ نیلے اور سفید رنگ کی روشنی سے جگمگا رہا تھا۔۔۔۔
وہ لفٹ سے نکل کر بھاگتا ہوا چینجينگ روم میں گھسا اور اگلے سات منٹ بعد اسی تیزی سے بلکل بدلے ہوئے لک کے ساتھ باہر نکلا۔۔۔
وہائٹ شرٹ اور ڈارک گرین کورٹ پینٹ پر سفید اسٹرپس والی گرین ٹائے اور بلیک شوز پہنے ۔۔۔
بالوں کو ہاتھ سے سنوارتا ٹریننگ ہال کی جانب بھاگا ۔۔
جہاں آج سارے سٹوڈنٹ ایک جیسے یونیفارم پہنے قطار میں کھڑے تھے
اور اُن کے مقابل اُن کے چیف پوڈیم کے سامنے کھڑے اسپیچ دے رہے تھے ساتھ ہی دو اور سینئیر ممبرز چیف کے آس پاس کھڑے تھے۔۔۔جن میں سے ایک ڈی سی پی پرتاب بھی تھے
You are late ۔۔۔۔۔۔
دروازے پر ہی ٹرینر نے اُس کا آئیڈنٹی کارڈ آگے کرکے اُسے روکتے ہوئے آنکھیں دکھا کر کہا۔۔۔۔
Sorry sugar۔۔۔۔۔
وہ معصوم شکل بنائے کارڈ اُس کے ہاتھ سے لے کے گلے میں ڈالتے ہوئے بھاگ کے اپنی جگہ پر پہنچا پہلی قطار میں سب سے آگے۔۔
اُس کے ٹھیک ساتھ دوسری قطار میں سب سے آگے شاد کھڑا تھا۔۔
آپ سب کی ٹریننگ ختم ہو چکی ہے۔۔۔۔اب آپ لوگ جوئننگ کے لیے بلکل تیار ہے۔۔۔۔۔۔وقت آگیا ہے اپنے دیش کے دشمنوں کو اُن کے انجام تک پہنچانے کا۔۔۔۔۔
ویلکم ٹو کرما۔۔۔۔۔
چیف کی آواز خاموش ہال میں گونج رہی تھی۔۔۔۔سب دونوں ہاتھ پیچھے باندھے کھڑے تھے
این آئی اے کا سب سے خطرناک اور خُفیہ سیکشن۔۔۔۔۔
جہاں ساری ایجنسیوں کی پاور ختم ہوتی ہے وہاں سے کرما کی شروعات ہے
جو کوئی نہیں کر سکتا وہ کرما کرتا ہے۔۔۔۔
آپ لوگ نا ہندو نا مسلم نہ سکھ سب سے پہلے اب آپ ایک سولجر ہے۔۔۔۔
جن کا فرض اپنے ملک اور اسکے لوگوں کی حفاظت کیلئے جینا یا مرنا ہے۔۔
آپ ایک اندھیر دنیا ہے جو اُجالے میں ہو کر بھی عام نظروں سے اوجھل ہے۔۔۔۔۔۔۔
بھیڑ میں ہوکر بھی تنہا ہے۔۔۔۔
سفر آسان نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔تھک کر رک جانے کا موقع نہیں ملے گا۔ ۔۔گرے تو سنبھالنے کو کوئی ساتھی نہیں ہوگا۔۔۔
خود اٹھنا ہے۔۔۔خود بڑھنا ہے۔۔۔اکیلے چلنا ہے۔۔۔۔
خوشی ہو یا غم اپنے ساتھ جینی ہے۔۔
جیت پر خود ہی خوش ہونا ہے
ہار میں بھی خود ہی حوصلا دینا ہے۔۔
آپ کےساتھ صرف آپ ہے۔۔۔۔
آپ دکھاوے کے لیے چاہے کچھ بھی ہو لیکن آپ کا حقیقی وجود یہ ہے۔۔۔۔
اور جب آپ اپنے حقیقی وجود کو جیئیں تو اپنے سارے احساس تمام جذبات کو بھول کرکے جیئیں
اچھے بیٹے اچھے بھائی اچھے ہسبنڈ اور اچھے دوست سے بڑھ کر آپ کے لیے ایک ایماندار اور نڈر سولجر ہونا ضروری ہے۔۔۔
اپنی ظاہری دنیا یا رشتے کو کبھی اپنے فرض کے درمیان نا آنے دیں
جب آپ اپنے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھیں تو اُسے صرف اُس کی موت نظر آنی چاہیے۔۔۔۔۔
اگر اُس نے آپ کی آنکھوں میں خوف دیکھ لیا تو سمجھ لینا کے آپ کے حقیقی وجود کی موت ہو گئی۔۔۔
اگرکوئی ڈر جھجھک ہے اور واپس پلٹنا چاہتے ہے تو ابھی پلٹ جائیں کیوں کے آگے جا کر واپسی کا راستہ ممکن نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے کم لفظوں میں اُن سب کو بہت کچھ باور کرواتے ہوئے اپنی اسپیچ ختم کی۔۔
Is That clear۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور جب اونچی اور سخت آواز میں پوچھا تو سب نے ایک سر میں جواب دیا
Yes sir۔۔۔۔
اور چند لمہوں کے لیے خاموشی چھا گئی
The top ten positions of first rank۔۔۔۔
پھر اُنہوں نے ایک ایک کر کے سب کی پوزیشن اناؤنس کی اور سینئیر آفیسرز اُن کے کہے کے مطابق ایک ایک کو میڈل اور کارڈ دینے کے ساتھ اُن کی ذمےداری بتانے لگے۔۔۔
کچھ کو سیکورٹی کا کام ملا ۔کچھ کو غیر ملکوں میں موجود اپنے سیکشنز میں جگہ دی گئی تو کچھ کو جاسوسی کے کام سونپے گئے
شاد کو بھی میڈل سے نوازتے ہوئے ٹیکٹیکل ٹیم میں جگہ دی گئی تھی۔۔۔۔
اس دوران اُس کے دل کی دھڑکنیں اپنی باری کے انتظار میں خطرناک حد ایک تک تیز تھیں
فرسٹ پوزیشن آف دس سیشن ۔۔۔
اور لاسٹ میں کہتے کہتے چیف رک کر مسکرائے
شاید نام لینے کے بھی ضرورت نہیں کیوں کے اس کینڈیڈ یٹ نے پہلے ڈیوٹی جوائن کی سب سے مشکل مشن کو سرے انجام دیا اور بعد میں ٹریننگ لی ہے۔۔۔۔
ساحل شیرازی۔۔۔۔۔
وہ اُس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسکرا کر بولے۔۔۔۔
وہ بھی بدلے میں مدھم سا مسکرایا۔۔
سینئیر آفیسرز کے ساتھ موجود ٹرینر نے اُسے کورٹ اور شرٹ اتارنے کو کہا اُس نے اپنا کورٹ نکال کر شرٹ کو شولڈر سے نیچے کیا۔۔۔۔
اُس کے بازو پر لیزر گن رکھ کر اُس کا بٹن دبایا گیا۔۔۔۔
اُس نے ہلکی سی چبھن محسوس کرکے آنکھیں بند کرکے کھولیں ۔۔
لیکِن جب گن پیچھے ہٹائی گئی تو اُس کا بازو جو کا تو تھا۔۔۔۔وہاں ذرا بھی تبدیلی نہیں ہوئی تھی
وہ حیران سا کوئی نشان ڈھونڈھنے کی کوشش کر رہا تھا لیکِن کچھ نہیں ملا تو سوالیہ نظروں سے پرتاب کی جانب دیکھا۔۔۔اُنہوں نے مسکراتے ہوئے ایک سکینر اُس کے بازو کے اسی جگہ کے سامنے رکھا تو وہ بیپ دے کر سکرین پر ایک بلیک کلر کا لوگو دکھانے لگی۔۔
جس میں کرما کے نیچے ایم سکسٹی تھری لکھا ہوا تھا۔۔۔
وہ اُس کی ایجینٹ آئیڈنٹٹی تھی۔۔
جو ہو کر بھی نظر نہیں آتی تھی صرف وہ سکینر ہی اُسے دیکھ سکتا تھا
اُس نے مسکرا کر پرتاب کو دیکھا
اُنہوں نے سکینر ہٹا کر ساتھ کھڑے آفیسر کے ہاتھ سے گن لے کر اُسے سونپی۔۔۔
اُس نے شرٹ اوپر کرکے دونوں ہاتھوں سے گن لیتے ہوئے اُسے دیکھا
حالانکہ گن تو اُسے پہلے ہی مل چکی تھی لیکن اُس کی اس پوزیشن کی طرح یہ گن بھی بہت خاص تھی
مجھے تمہیں یہ پوزیشن دیتے ہوئے بہُت فخر محسوس ہو رہا ہے۔۔۔۔۔تم پر بھی اور اپنی پرکھ پر بھی ۔۔
ہولڈ یور ہیڈ ہائے۔۔۔۔
پرتاب نے اُس کی شرٹ پر میڈل لگاتے ہوئے کہا۔۔۔اور فخر سے اُسے دیکھا
ایجنٹ ایم سکس تھری رپورٹنگ سر۔۔
(Agent M63 Reporting Sir)
اُس نے سیلوٹ کرتے ہوئے سینه تانے کہا ۔۔۔
سب دوبارہ سے اپنی اپنی پوزیشن میں آگیے اور باقی کے بچے کیندیڈٹ کو اُن کی ذمےداریاں سونپی گئی۔۔
تقریباً ایک گھنٹے تک یہ سب چلتا رہا۔
آپ خوش ہے۔۔۔۔
جب سب باہر نکلنے لگے تو اُس نے پرتاب سے سوال کیا۔۔
بہُت زیادہ۔۔۔بلکہ افسوس کر رہا ہوں کے میری کوئی بیٹی کیوں نہیں ہے ورنہ میں بہُت پہلے تمہیں اپنا داماد بنا لیتا۔۔۔
بس تمہیں اپنی لینگویج بدلنی پڑتی۔۔
وہ ہنستے ہوئے بولے۔۔۔
تب تو اچھا ہے سر کے آپ کی کوئی بیٹی ہے ہی نہیں۔۔۔۔
اُس نے بھی ہنس کر جواب دیا اوردونوں باہر نکل آئے۔۔۔
وہ اگر اپنی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ کِسی کو مانتا تھا تو وہ پرتاب سنگ ہی تھے۔۔
جنہوں نے اُس کی زندگی کو نیا رخ دیا تھا۔۔۔
اُس نے تو ہوش آنے کے بعد سے صرف چیلنجز ہی دیکھے تھے۔۔۔۔زندگی خود چیلنج تھی۔۔۔۔جانے کب تک ایسے ہی بھٹکتے بھٹکتے گزرتی جانی تھی۔۔۔
اُس نے جب یہ دیکھا کے عباس صاحب اپنے بیٹے کی خاطر اپنی زندگی قربان کر دینے کو تیار ہے تو اُس وقت اُسے پہلی دفعہ خود کا یتیم ہونا شدت سے محسوس ہوا۔۔۔۔
کیوں کے اُسے کبھی کوئی نہیں ملا تھا ایسا جو اُسے اُس عذاب جیسی زندگی سے بچا لے۔۔۔اُس پر قربان ہونے والا کوئی نہیں تھا
اُس نے خاص اُن کی وجہ سے وہ گناہ اپنے سر لیا کے کم سے کم داؤد اُس باپ جیسے نعمت سے محروم نہ ہو جائے۔۔۔۔کم سے کم اُس کی زندگی عذاب سے بچ جائے۔۔۔۔۔
وہ کیس پرتاب کے ہاتھ میں تھا
پرتاب کو بہت حیرت ہوئی تھی کیوں کے یہ معمولی بات نہیں تھی۔۔۔
اُس کا سرِ اٹھا کر عدالت میں کہنا کے قتل میں نے کیا ہے۔۔
سات سال کی سزا ملنے پر پیشانی پر ایک شکن نا آنکھوں میں ذرا سا دکھ ۔۔۔۔۔
جیسے اُس کے لیے معمولی بات ہے۔۔۔
پرتاب کے دل دماغ میں بس گئی تھی اُس کی دلیری ۔۔۔۔اُنہوں نے کچھ دن اُسے اگنور کرنے کی کوشش کی لیکن جب کچھ سوال پریشان کرنے لگے تو کچھ دن بعد ہی اُس سے ملنے پہنچ گیے۔۔۔۔۔۔
اُس سے کہا کہ وہ اُسے جیل سے نکال سکتے ہیں اگر وہ چاہے تو۔۔۔
لیکِن اُس نے انکار کر دیا کے اُس کا آزاد ہونا مطلب تو داؤد کا اُس جگہ آنا ہے۔۔۔۔
پرتاب نے اُس سے اس فیصلے کی وجہ پوچھی تو اُس نے بیزاری سے کہا کہ اُس کی زندگی پہلے بھی ایسی تھی اوراب بھی ایسی رہے گی۔۔
زیادہ کچھ نہیں بدلا بس پہلے وہ کبھی کبھی باہر چلا جاتا تھا اب پرمننٹ اندر ہو گیا۔۔۔
پرتاب کے سمجھانے کا اثر نہیں ہوا تو وہ واپس آگئے اُسے اُس کے حال پر چھوڑ کر۔۔
تین سال یونہی گزر گئے۔۔۔
اُن کا تبادلہ ہوا پروموشن ہوا اور مصروفیت میں ساحل نام کا قصہ کہیں دھندلا ہو گیا
جب تین سال بعد ایک دن اخبار میں اُنہوں نے ساحل کی تصویر دیکھی جہاں خبر چھپی تھی کے جیل میں کچھ دہشت گردوں نے حملا کرکے اپنے ساتھیوں کو آزاد کرنے کی کوشش کی۔۔۔اور ساحل نے اُن لوگوں کی کوشش نہ صرف ناکام کی بلکہ اُنہیں وہاں سے بھاگنے تک کا موقع نہیں دیا۔۔
سب کے لیے یہ خبر قابل حیرت تھی۔۔۔۔
اُس میں کئی سپاہی گھائل بھی ہوئے اور کئیں مارے بھی گئے لیکن ساحل کو ایک خراش بھی نہیں آئی تھی۔۔۔
پرتاب کا ذہن اُس کا کارنامہ دیکھ کر ایک فیصلہ لے چکا تھا۔۔۔۔
اُنہوں نے خود اُس پورے معاملے کی تفتیش کروائی اور اُس خبر کو بلکل صحیح پایا۔۔۔
وہ تین سال بعد پھر سے ساحل سے ملے لیکن اس دفعہ کسی ہمدردی کی خاطر نہیں بلکہ اُس کی بہادری اور بے خوفی کو صحیح مقام تک پہنچانے کے لیے۔۔۔
وہ بظاہر ایک نارمل پولیس آفیسر تھے لیکن حقیقت میں این آئے اے سے جڑے تھے ۔۔خُفیہ طور پر اُنہیں معلومات فراہم کرنا اُن کی ذمےداری میں شامل تھا۔۔۔۔
اُنہوں نے ساحل کے سامنے ایک ڈیل رکھی کے اگر وہ اُن کا ایک کام میں ساتھ دے تو وہ اُسے جیل سے آزادی دلوا دیں گے۔۔۔
پہلے تو اُس نے صاف طور پر انکار کر دیا لیکِن اُن کے بہت سمجھانے کے بعد کے وہ اپنی ہمت اور طاقت کا صحیح استعمال کر سکتا ہے۔۔۔
ملک کے کام آکر خود کو عام سے اہم بنا سکتا ہے۔۔۔۔
اُن کے بہت اپنائیت سے سمجھانے کے بعد اُس نے اُن کی بات مان لی اور اُن کے کہے پر عمل کرتے ہوئے جیل میں رہ کر ہی ایک مشن کو انجام دیا۔۔۔
جہاں جیل میں موجود کچھ دہشت گردوں کے ذریعے اُن کے باقی ساتھیوں کا پتہ لگانا تھا۔
اُس نے اُن کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے اُن سے اپنے تعلقات بڑھائے۔۔۔خود کو اُن کا مرید ظاہر کرتے ہوئے جیل سے بھاگنے کا پلان بنایا۔۔۔
اور جب وہ لوگ اُس کے ساتھ فرار ہوئے تو اُس سے خوش ہو کر بنا کوئی شک شبے کے اُسے اپنے ساتھ لے گئے۔۔۔
وہ اُن لوگوں کا ساتھی بن کر وہاں رہتا تھا اور ہر ایک خبر پرتاب تک پہنچاتا تھا۔۔۔
اُن لوگوں کی ایک ایک حرکت سے تنظیم کو با خبر کرتا تھا۔۔۔
اور ایک دن اُس کی مدد سے این آۓ اے نے ایک بڑے گینگ کا خاتمھ کیا۔۔۔
وہ مشن ختم ہونے کے بعد اُسے معلوم ہوا کہ یہ کام وہ کس کے لیے کر رہا تھا اور پرتاب کے بارے میں بھی اندازہ ہو گیا کے وہ کون ہے۔۔۔
این آۓ کے چیف بھی اُس کے اتنے خطرناک کام میں ساتھ دینے سے کافی متاثر ہوئے اور اُسے این آۓ اے میں شامل کر لیا گیا۔۔۔۔
اُس کی پڑھائی شروع ہوئی۔۔۔
خُفیہ طور پر۔۔۔۔
وہ دنیا کی نظر میں جیل میں تھا لیکن حقیقت میں اُس کی زندگی اب سفر میں گزر رہی تھی۔۔۔۔کبھی ٹریننگ کے لیے اُسے دوسرے شہروں میں بھیجا جاتا تو کبھی مشنز پر دوسرے ملکوں میں دن گزرتے۔۔۔۔
اکثر داؤد یا عباس صاحب اُس سے ملنے آتے تو اُنہیں خالی لوٹنا پڑتا جیلر بہانا بنا کر اُنہیں بھیج دیتا کے اُس کے برتاؤ کی وجہ سے اُسے کِسی سے ملنے کی پرمیشن نہیں ہے
اُس کی سات سال کی سزا جب ختم ہُوئی تو وہ ایک بہُت خطرناک مشن کی تیاری پر تھا اُس کا دنیا کی نظر میں جیل میں ہونا ضروری تھا اُس لیے ایک جھوٹے مرڈر کا کیس لگا کے مزید تین سال کی قید بڑھا کر اُسے اسپیشل سیل کے بہانے اُس مشن پر بھیج دیا گیا۔۔۔
وہ این آئے میں شامل ہونے والا سب سے کم عمر کا کینڈیدیٹ تھا۔۔۔
اُس نے کئی خُفیہ مشنز میں کامیابی حاصل کی۔۔۔۔۔۔۔
لیکن اُسے آفیشیل پوسٹ نہیں ملی تھی ۔۔۔کیوں کے اُس کی ایج لمٹ کے لحاظ سے کم تھی
وہ بس اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے کام کرتا رہا تھا
لیکن آج وہ آفیشیل طور پر این آۓ اے کا ایجنٹ بن گیا تھا۔۔
یہ دن اُس کے لیے بہُت خاص تھا
∆∆∆∆∆
یہ دن اُس کی زندگی کا بہت خاص دن تھا لیکن آج کے دن وہ خوش ہونے کی بجائے سلیبریٹ کرنے کی بجائے دل جلا رہا تھا کیوں کہ گھر پہنچتے ہی نین نے گندے کپڑوں کی پوٹلی اُسے پکڑا دی تھی کے یہ دھوبی کو دے آؤ
لیکن وہ ہمیشہ کی طرح ہم غریب ہے والا ڈائیلاگ مار کر اُسے کپڑے دھونے کا حکم دے چکا تھا۔۔۔
لیکِن وہ بھی نین تھی۔۔۔۔اُس نے کہہ دیا کے وہ اکیلے کپڑے نہیں دھونے والے ساحل کو اُس کی ہیلپ کرنی ہوگی۔۔۔
اور مجبوراً اب وہ اُس کے ساتھ کپڑے دھو رہا تھا۔۔۔۔۔ ساتھ کیا بلکہ اکیلا ہو کپڑے دھو رہا تھا
نین یہ کیسے وہ کیسے کرکے سب اُس پر تھوپتی گئی
پسینے کے ساتھ ڈھیروں ان دیکھے آنسو بھی ایجنٹ ایم سکس تھری کی بدنصیبی کو رو رہے تھے
پتہ نہیں کونسے سالے آدمی رہتے جن کو شریف خاندان کی شریف لڑکیاں مل جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جلے ہوئے انداز میں بڑبڑایا اور اُس کے دوپٹے کو پانی کی بکیٹ سے نکال کر ہوا میں جھٹکا ۔۔
اُس کے وہم میں بھی نہیں تھا کے کبھی دھوبی بن کر کپڑے دھونے پڑے گے
لیکن اُس کی زندگی کی ہیروئن نما ولن نے اُسے یہ دن بھی دکھا دیا تھا
مطلب میں شریف نہیں ہوں۔۔۔۔۔
اُس نے ابرو اچکا کر اُسے دیکھا وہ ہنہ کرکے سر جھٹک گیا اور ڈوپٹے کو پیڑ اور چھت سے بندھی رسّی پر ڈال کر پھیلانے لگا
ہاں میں تو چمبل کی فیمس ڈاکو ہوں۔۔۔۔۔ میرے پاپا وہ بزنس مین نہیں ہے وہ تو لندن میں لوگوں کی سپاری لیتے ہیں۔۔۔۔۔
اور میری ممی اور رومی وہ تو محلے کی بکریاں چرا کر بیچتی ہے۔۔۔۔۔ ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے غصے سے قدم اُس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا وہ پیچھے ہوتے ہوتے دیوار سے لگ گیا۔۔۔۔۔۔
اے شانی۔۔۔۔۔۔پیچھے ہٹ۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے غصے سے گھورتا ہوا ایکدم سیدھا ہوا۔۔۔۔۔
اُس کے جھٹکے سے آگے ہونے پر وہ فوراً پیچھے ہوئی۔۔۔
اور دور رہا کر میرے سے۔۔۔۔۔۔مجھے تجھ سے بری آتماؤں کا احساس ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بیزاری سے کہتا دوبارہ اپنے کام میں لگ گیا بکیٹ سے کپڑے نکال کے جھٹکنے لگا وہ غصّے سے دانت پیستے ہوئے جھک کر اپنی بکیٹ سے کپڑے نکالنے لگی
کیوں کے تمہارے فارغ العقل دِماغ میں کوئی بڑا فالٹ ہے۔۔۔جا کر ڈاکٹر سے چیک کرالو۔۔۔۔۔۔۔جیسے لوگوں کو کورونا ہوتا ہے نا ویسے تمہارے دِماغ کو کوئی بڑی بیماری ہو گئی ہے
وہ اُس کی شرٹ کو زور سے نچوڑتے ہوئے بولی گویا اُس کا غصّہ نکالا۔۔۔ساحل نے ہاتھ میں موجود کپڑا پھینک کر اُس کے ہاتھ سے اپنی شرٹ کھینچی
جیسے لوگوں کو کورونا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
ویسے میرے کو تو ہو گئی ہے۔۔۔
تُو ہے میری بیماری ۔۔۔۔۔۔
سالہ جان ہی نہیں چھوڑتی۔۔۔۔۔
وہ اُسے غصے سے دیکھ کر بولا اور اپنی شرٹ رسی پر پھیلائی
تم مُجھے کورونا وائرس سے کمپیر کر رہے ہو
نین نے اُسے آنکھیں چھوٹی کرکے گھورا
پاگل سمجھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو اور کورونا کے برابر
ارے اگر کورونا کو پتہ چل گیا نا کے اس کو تیرے کو ہونا ہے تو وہ صدمے سے ہی مر جائے
اور اگر بائے چانس بچ گیا نا تو خودکشی کر لے ۔۔۔۔۔۔۔۔لٹک کے مرجائے بیچارہ
وہ اُسے دیکھتا ہوا اُس کا خون جلانے لگا۔۔۔نین کا صبر جواب دے گیا اُس نے پانی کی آدھی بھری بکیٹ اٹھا کر اُس کے منہ پر اچھال دی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اچھل کر رہ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر تا پیر پانی میں بھیگ گیا
اور تمہارے اندر آنے کے لیے تو جیسے وہ بڑا ہی بیچیں ہوگا
شکرانے ادا کرےگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے نصیب میں ساحل کا خون میرے نصیب میں ساحل کا خون۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے چلائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے سنبھل کر دانت بھینچے اُسے دیکھا اور بکیٹ اٹھا کر پانی اُس کے اوپر پھینکنے کی کوشش کی لیکن وہ فوراً سائیڈ پر ہو کر بچ گئی اور اُسے تھمب دکھا کے ہنسنے لگی۔۔۔
ساحل نے کلس کر آگے بڑھتے ہوئے اُسے کندھے پر اٹھایا وہ بری طرح بوکھلا گئی۔۔۔
وہ اُسے سامان کی طرح لیے آگے بڑھا اور پانی کی چھوٹی سی ٹاکی میں پھینکا۔۔۔
وہ ہڑبڑا کر سنبھلتی منہ کھولے اُسے دیکھنے لگی وہ ہاتھ جھاڑ کر آگے بڑھتا زمین پر پڑے کپڑوں کو اٹھا کر واپس نچوڑنے لگا ۔۔۔۔
ساتھ ہی بڑبڑا ہٹ جاری تھی جو اُس کے درد کا ازالہ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
نین بمشکل باہر نکل کر اُسے زبان چڑاتی کپڑے بدلنے اندر چلی گئی
#
