Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 84
No Download Link
Rate this Novel
Episode 84
اُس کے دل کی دھڑکنیں اب بھی معمول پر آنے کی بجائے بے قابو ہو کر شور مچا رہی تھی۔۔۔
ساحل کی باتیں اُس کا دیکھنا اُس کا چھونا۔۔۔ وہی سب سوچ سوچ کر اُس کے رنگ میں گلال سا ملتا جا رہا تھا۔۔۔۔
اُس کے سامنے تو شرم سے زیادہ وہ حیرت اور گھبراہٹ کا ہی اظہار کرتی رہی تھی لیکِن اب اکیلے میں اُس کے لفظ لفظ کو سوچتی حیا سے نظریں جھکائیں پیروں کو دیکھے جا رہی تھی۔۔۔
اچانک اُسے ریا کا خیال آیا تو وہ فون اٹھا کر اُسے کال کرنے لگی بنا دیکھے کے رات کے ایک سے اوپر کا وقت ہے۔۔۔
چار بار فون نا اٹھانے کے بعد بھی وہ نہیں رکی پانچویں دفعہ پھر کال کی۔۔۔
نین پلیز صبح بات کرے گے نا۔۔۔ابھی فون مت کرو۔۔۔۔ مجھے سونے دو۔۔
فون اٹھاتے ہی ریا نے نیند سے بے حال آواز میں کہا
ریا میری بات تو سنو۔۔۔۔
میرا دل بہُت زور سے دھڑک رہا ہے۔۔۔
وہ بجائے اُس کی سننے کے جلدی سے بولی تو ریا نے نا چاہتے ہوئے بھی آنکھیں کھولیں۔۔
کیا ہوا سب ٹھیک ہے نہ۔۔۔۔
وہ اپنے ذہن کو بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے فکر مندی سے پوچھنے لگی۔۔۔
میرے پیٹ میں نا ببلس فلائی کر رہے ہیں۔۔۔۔۔
نین نے اُسے اپنی اندرونی کیفیت سمجھا نی چاہی
کیوں۔۔۔کچھ الٹا سیدھا کھا لیا تھا کیا۔۔۔۔
وہ اُس کی بات پر غور کرتی حیرت سے پوچھتی جمائی لینے لگی۔۔۔۔
نہیں نا ایڈیٹ۔۔۔۔۔
وہ الگ والی فیلنگ جو اُس دِن ہوئی تھی۔۔۔۔۔
نین ایک تو تم یہ مجھے اتنی رات کو نیند سے جگا کے جو پہیلیاں بجھوا رہی ہو نا۔۔۔ میرا دل کر رہا ہے میں یہیں سے تمہارا گلا دبا دوں۔
ابھی مجھے میرا یہ دن یاد نہیں ہے اور تمہارا اُس دِن کہاں سے یاد رکھوں
ریا نے غصے سے اُسے سنایا
ساحل اور میں نا ابھی تک بوٹ رائیڈ پر تھے
اور جب اُس نے مجھ سے بات کی نا تو مجھے وہی والی فیلنگ ہو رہی ہے۔۔جو بار بار ہوتی ہے۔۔۔۔
وہ رک رک۔ کربولنے لگی ریا نیند کو بھول کر اُس کی طرف غور کرنے لگی
کیا کہا اُس نے۔۔۔۔۔۔
اشتیاق سے پوچھتی اٹھ بیٹھی
مجھے نہیں پتہ۔۔۔۔۔
نین نے سامنے والی سیٹ پر ناخن رگڑتے ہوئے کہا۔۔۔
کیوں تم کیا سمندر میں ڈبکی لگا رہی تھی جب وہ بول رہا تھا۔۔۔
ریا کو اُس کی بات سے تپ چڑھ گئی۔۔۔
وہ عجیب سی باتیں تھی مجھے کہاں سے یاد ہے۔۔۔۔اور شاعری بھی کر رہا تھا۔۔۔
نین نے اُسے اپنے خیال میں ہی گھور کر کہا
اچھا۔۔۔۔۔کونسی شاعری۔۔۔۔۔
ریا اب مسکرا کر پوچھنے لگی
ایک راز کی بات کہہ دوں کیا۔۔۔
میں تصویر تمہاری لگا دوں کیا۔۔
میں اپنی جان گنوا دوں کیا۔۔۔
سمتھنگ سمتھنگ۔۔۔۔۔۔۔مجھے یاد نہیں ہے۔۔۔
وہ سوچ سوچ کر دہرانے کی کوششں کرتی آخر میں جھنجھلا کر بولی
آئی تھنک وہ تمہیں آۓ لوو بولنا چاہتا ہوگا۔۔۔۔۔۔
ریا کو اُس کی ادھُوری بات سے بھی بہت کچھ سمجھا دیا ۔۔۔اُس کی بات سن کر نین کی دھڑکنیں رکی۔۔۔
پر اُس نے ایسا کہا نہیں۔۔۔۔
وہ اپنے پیروں کو دیکھتی دھیرے سے بولی
ہو سکتا ہے کے تمہارے غصّہ ہوجانے کے خیال سے ڈائریکٹر لی نا بولا ہو۔۔۔ڈرتا جو ہی اپنی خطرناک بیوی سے۔۔۔
ریا نے سوچ کر اندازہ لگاتے ہوئے ہنس کر کہا
ریا۔۔۔۔اگر اُس نے مجھے بولا تو آگے سے میں کیا بولوں گی۔۔۔۔
وہ اپنی ہی اُلجھن میں مگن اپنے دانتوں سے ناخن کترتی جھجھک کر پوچھنے لگی
تم بولنا جیتے رہو بیٹا۔۔۔بھگوان تمہارا بھلا کرے۔۔۔۔
ریا نے اُس کی نا سمجھی پر جل کے کہا
کیا۔۔۔۔
نین نے حیرت سے فون کو دیکھا کے کہیں کراس کنکشن تو نہیں۔۔۔
آئے لوو یو کے آنسر میں کیا بولتے ہے ایڈیٹ۔۔۔۔۔
وہ دانت پیس کر بولی۔۔
نہیں وہ میں کیسے بولوں گی۔۔۔۔مجھے شرم آئے گی نہ۔۔۔
وہ پلکیں جھکائے بہُت دھیرے سے بولی تو بنا دیکھے بھی اُس کے ایکسپریشن کا اندازہ لگا کر ریا مسکرائی۔۔
اسی بہانے اُس خوش قسمت کو تمہیں شرماتے دیکھنے کا موقع نصیب ہوگا۔۔۔۔
وہ ہنس کر بولی۔۔۔
میں وہ موقع دوں گی ہی نہیں اُس کو۔۔۔تم مجھے یہ بتاؤ کہ جب آریا نے تمہیں آۓ لوو یو کہا تھا تب تم نے کیا آنسر کیا تھا اُسے۔۔۔۔۔
نین اچانک یاد آتے ہی پوچھنے لگی تو ریا سوچنے کے لیے چُپ ہوئی
میں نے اُسے سرپرائز کس کر دیا تھا۔۔
تم بھی یہی کرنا۔۔۔
ایک سیکنڈ رک کر شرارت سے بولی
نہایت ہی بکواس چیز۔۔۔۔۔
نین نے فون کو گھور کر کہتے ہوئے واپس کان سے لگایا
اچھا بابا ہم کل کانفرس کال کرکے چار پانچ تجربے کار کپل کے ساتھ ڈسکس کرکے اُن سے آئیڈیا لیں گے کے تمہیں کیا کرنا چاہئے۔۔۔۔۔۔
اب مجھے سونے دو پلیز۔۔گڈ نائٹ۔۔
ریا پھر اپنی نیند یاد کرکے جمائی روکتی ہوئی بولی۔۔۔
لیکن اگر اُس نے ابھی رات میں ہی ایسا کہہ دیا تو۔۔۔۔۔
نین کو نئی پریشانی نے گھیرا ہوا تھا لیکِن ریا فون بند کر چکی تھی۔۔۔۔نین نے فون کو گھور کر اُس کا غصّہ نکالا۔۔۔تبھی گاڑی شیرازی مینشن کے قریب رکی تو وہ باہر نکل گئی۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆
کے کے کو کیوں مارا تم نے۔۔۔۔
وہ کمپیوٹر سکرین کو دیکھتا وہاں بیٹھے آفیسر سے بات کرنے میں مصروف تھا جب شاد نے اندر آتے ہوئے غصے سے پوچھا
کیوں تیرا ہونے والا سسر تھا
۔۔
وہ بنا اپنی جگہ سے ہلے مصروف سے انداز میں بولا تو وہاں موجود سب ہنسنے لگے جب کے شاد نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لی۔۔۔
شٹ اپ۔۔۔۔۔۔اپنی پاورز کا غلط استعمال مت کرو۔۔۔ورنہ میں تم پر کارروائی کر سکتا ہوں۔۔۔۔
وہ ضبط سے بولتا اُسے دھمکانے لگا لیکِن اُسے رتی برابر بھی فرق نہیں پڑا۔۔۔
اے اس کو ہیلپ کرنا رے کاروائی میں۔۔۔
وہ لاپرواہی سے بولتا سیدھا ہو کر جانے لگا تو شاد نے غصے سے اُس کا گریبان پکڑ کر اُس کا رخ اپنی جانب کیا۔۔ ایکدم سے خاموشی چھا گئی۔۔۔اور اُس کے پرسکون چہرے کے تاثرات پل میں تبدیل ہوئے
تمہارے یہ تیور جو ہے نہ کے تم اس ڈیپارٹمنٹ کے لیے نہیں یہ ڈیپارٹمنٹ تمہارے انڈر کام کر رہا ہے انہیں درست کرلو ۔۔۔یہ منماني میں برداشت نہیں کروں گا۔۔۔
وہ اپنا مزاق بننے پر مزید آگ بگولا ہوتا خاردار لہجے میں بولا
کیا پرابلم ہے تمہاری۔۔۔۔۔۔ایک مجرم کو ہی مارا نا کسی بےگناہ کی جان تو نہیں لی۔۔۔۔ایسے سینکڑوں روز مرتے ہے کسی کی منمعانی سے تو کسی کے شوق سے۔۔۔ جا کر اُن کو روک۔۔۔
اُس نے اپنے گریبان سے شاد کے ہاتھ جھٹک کر غصے سے کہا ۔۔
بات یہاں رولز کی ہے۔۔۔۔
یہ ہمارے رولز کے خلاف ہے۔۔۔۔۔
شاد نے جتاتے ہوئے کہا
دونوں اپنی جگہ صحیح تھے لیکن دونوں کا کام کرنے کا طریقہ بلکل الگ تھا اسلئے ہر بات میں دونوں اُلجھتے تھے۔۔۔۔اور یہ بات وہاں ہر کوئی جانتا تھا۔۔۔
ڈیوٹی ضرور اس ڈیپارٹمنٹ کی ہے
لیکِن رولز۔۔۔۔۔۔۔ میں صرف اپنے مانتا ہوں۔۔۔۔۔جو کرنا ہے کرلو۔۔
وہ بھی اُسے جتانے والے انداز میں بولتا باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔
شاد نے ایک سرد نظر باقی سب پر ڈالی تو سب اپنے اپنے کام میں لگ گئے۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆
ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد وہ گھر پہنچا کیوں کے نین کے ساتھ تھوڑی دیر رک کے اُسے پھر صبح پانچ بجے کی فلائٹ سے جانا تھا۔۔۔
کئیں مہینوں سے جس مافیا گروپ تک پہنچنے کے لیے محنت کی تھی اُس سے جڑے اصل مجرم ملک سے باہر رہ کر اپنا کام انجام دے رہے تھے۔
۔اور اب اُسے اُن کو ختم کرنے کے ساتھ اپنے ملک تک پھیلی ایک ایک جڑ اکھاڑنے کا کام کرنا تھا۔۔۔۔۔
یہ اُس کے لیے اب تک کا سب سے خطرناک اور اہم مشن تھا۔۔۔
جس میں ہر قدم پر موت کا خطرہ تھا۔۔
اپنے اس مشن میں کامیاب ہونے کے بعد ہی وہ نین کو اپنے مطلق سب کچھ بتا کر اُس کے ساتھ ایک نئی شروعات کرنا چاہتا تھا۔۔
ابھی سے اظہارِ محبت کرکے وہ بدلے میں نین کو اِنتظار کی کڑی آزمائش نہیں دینا چاہتا تھا۔یہ جانتے ہوئے کے زندگی نے اُس کا ساتھ نه دیا تو اِنتظار لا حاصل بھی ہو سکتا ہے۔ ۔
اُمید کے مطابق گھر میں اندھیرا تھا سب سو چکے تھے۔۔۔۔
وہ بہُت وقت بعد اُس گھر میں آیا تھا وہ بھی سب کی بے خبری میں۔۔۔صرف نین کے زور دینے پر۔۔۔جاتے ہوئے وہ اُس کی اتنی سی بات رد نہیں کر سکتا تھا۔۔۔
اوپر اپنے کمرے میں جانے کے لیے پہلا قدم سیڑھی پر رکھا ہی تھا کے کچن سے آتی ہنسنے کی آواز پر رک کر پیچھے ہوا اور کچن کی طرف بڑھا۔۔۔۔
جہاں نین اور داؤد ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے ہنس کر باتیں کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔
وہاں تو فلک بھی موجود تھی۔۔۔ لیکِن ساحل کے دماغ نے صرف اُسے اور داؤد کو دیکھا اور نظروں نے محض نین کو۔۔۔
وہ اب چینج کرکے سادے سے بلیو سوٹ میں دوپٹہ گلے میں ڈالے ہوئے تھی۔۔
بال اب بھی کھلے تھے ہنستے وقت پھسل کر اُس کے گالوں کو چھو رہے تھے۔۔۔۔
وہ اب بھی اتنی ہی خوبصورت لگ رہی تھی اور یہ چیز اُس کے دل کی جلن میں اضافہ کر گئی کے اُس کے جس روپ نے شدت سے اپنی جانب کھینچا تھا وہی روپ کوئی اور دیکھ رہا ہے۔۔۔۔
لیکِن و تو صرف جلن تھی درد تو اس بات کا تھا کے وہ داؤد کے ساتھ تھی۔۔۔۔اُس کے ساتھ خوش تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ بس یہی چیز اُس سے کِسی طور برداشت نہیں ہوتی تھی
اِس یقین کے باوجود کے وہ اُس کی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے یہ خیال کے اُس کے دل نے پہلے داؤد سے محبت کی اُس کے اندر زہر بھر دیتا تھا۔۔۔
وہ جلتی نظریں اُس منظر سے ہٹا کر خاموشی کے ساتھ وہاں سے پلٹ گیا۔۔۔
آپ نہیں تھی نا تو یہ گھر بھی اُداس تھا اب آپ کے ہنسنے سے یہ دیواریں بھی مسکرا رہی ہیں۔
اُس کی کھنک جیسی ہنسی دیکھ فلک نے اس کے خوبصورت چہرے کو دیکھتے ہوئے اپنائیت سے کہا تو نین نے گردن اکڑای
ہے نہ۔۔۔کیا کروں میں ہوں ہی اتنی اوسم۔۔۔بلکہ مجھے تو لگتا ہے مجھے دیکھ کر اس گھر کی لائٹس کی روشنی بھی بڑھ گئی ہے۔۔۔ہے نہ داؤد۔۔۔
وہ فلک کی بات پر ہنستے ہوئے بولی تو داؤد بھی اُس کی بات پر ہنسا۔۔۔
وہ وہاں پہنچی تب تک سب سو چکے تھے اتفاق سے داؤد اور فلک اُسے ڈرائنگ روم میں جاگتے مل گیے تھے۔۔۔
تب اُس نے بھوک کے مارے فلک سے کھانے کی فرمائش کردی۔۔اُسے ساحل کے آنے کا انتظار تھا اور اس چکر میں اُس نے اُن دونوں کو بھی روک رکھا تھا کے اکیلی جاگتے جاگتے بور نا ہو جائے
مجھے تو ایکسائٹمنٹ صبح ہونے کی ہے۔۔جب بڑے ماما مامی نانو بھائی بھابی سب مجھے دیکھ کر شاک ہوجائیں گے۔۔۔۔۔
وہ بائٹ لے کر پرجوش سی بولی۔۔۔۔
اس کے لیے تمہیں سوجانا چاہیے ورنہ پتہ چلا کے رات بھر جاگنے کے چکر میں تم سارا دن سوتی رہی اور اُن کے سرپرائز چہرے دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملا۔۔۔۔۔
داؤد نے جمائی روکتے ہوئے خود کے بھاگنے کا راستہ بنانا چاہا۔۔۔
سب سمجھ رہی ہوں میں تمہیں اپنے سونے کی فکر ہے۔۔۔۔
وہ آنکھیں چھوٹی کرکے اُسے گھورتی ہوئی بولی تو فلک بھی مسکرائی۔۔
مجھے تو شاید آج نیند ہی نہیں آئےگی۔۔۔
ایک خوبصورت خیال کے تحت دھڑکتے دل نے سرگوشی کی تو وہ نظریں پلیٹ پر جھکائے مسکرائی۔۔۔
یہ خوشی صرف گھر واپس آنے کی نہیں لگ رہی ہے۔۔۔۔۔
فلک کا دھیان اُس کی طرف گیا تو ذہن پر زور دیتے ہوئے اُسے دیکھنے لگی۔۔وہ گڑبڑا کرسیدھی ہوئی
کیوں کے مسز داؤد نیند کے مارے آپکی آنکھوں کو ٹھیک سے نظر نہیں آرہا۔۔اسلئے جاؤ جا کر سو جاؤ تم دونوں۔ میں نے آزاد کیا۔۔۔۔۔ کیا یاد کرو گے۔۔۔
وہ جلدی سے سنبھلتی احسان کرنے والے انداز میں بولتی جلدی جلدی بائٹ لینے لگی۔۔۔
ساحل کے آنے تک ویٹ کرتے ہیں۔۔۔۔
داؤد نے نیند سے بے حال ہونے کے باوجود مروتاً کہا۔۔۔۔
نہیں اُس نے کہا تھا دیر ہوجائے گی۔۔۔
میں بھی تھک گئی ہوں۔۔۔۔ اپنے روم میں جا رہی ہُوں۔۔۔
وہ منع کرتی خود بھی اپنی کرسی سے اٹھ گئی کیوں کے مزید اتنی رات کو اُن دونوں کو تنگ کرنا اُسے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔
اور فلک اتنے دن بعد اتنا اچھا کھانا کھلانے کے لیے تھینکس۔۔۔گڈ نائٹ۔۔
جاتے جاتے رک کر فلک سے بولی تو وہ محض مسکرائی۔۔۔
روم میں آکر وہ دروازہ بند کرتے ہوئے جیسے ہی پلٹی دل دھک سے رہ گیا۔۔
ساحل کو اچانک اندھیرے کمرے میں ٹیرس ڈور کے قریب کھڑے دیکھ اُسے ایک پل کو لگا جیسے روم میں کوئی بھوت دیکھ لیا۔۔۔
لیکن جب ذرا سنبھلنے پر سمجھ آیا کے وہ ساحل ہے تو وہ دھڑکتے دل پر ہاتھ رکھ کرسانس لیتی آگے بڑھی۔۔۔
میں تو ڈر ہی گئی کے روم میں پتہ نہیں کون کھڑا ہے۔۔۔۔۔
ویسے بھی کہتے ہیں خالی جگہ شیطان بس جاتا ہے۔۔اور یہ روم تو اتنے دن سے خالی ہے۔۔۔ویسے تو تم بھی کسی شیطان سے کم نہیں ہو لیکِن تم سے کیا ڈرنا
وہ اُس کے پاس پہنچ کر اُسے دیکھتے ہوئے ہمیشہ کی طرح اپنی ہی بولے گئے۔۔۔ لیکن وہ جو کا تو کھڑا بے تاثر نظروں سے باہر اندھیرے میں ڈوبے آسمان کو دیکھتا رہا جو کچھ دیر پہلے اُسے بے حد حسین لگ رہا تھا لیکِن اب صرف سیاہ ،تاریک، خالی۔۔۔۔۔۔ اپنے دل کی طرح۔۔۔۔۔
وہ اُس کے پاس پہنچ کر اُسے دیکھتے ہوئے ہمیشہ کی طرح اپنی ہی بولے گئے۔۔۔ لیکن وہ جو کا تو کھڑا بے تاثر نظروں سے باہر اندھیرے میں ڈوبے آسمان کو دیکھتا رہا جو کچھ دیر پہلے اُسے بے حد حسین لگ رہا تھا لیکِن اب صرف سیاہ ،تاریک، خالی۔۔۔۔۔۔ اپنے دل کی طرح۔۔۔۔۔
کب آئے تم مجھے تو پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔۔۔
وہ اُسے خاموش دیکھ اُس کے چہرے کو دیکھتی پوچھنے لگی۔۔۔۔اس بات سے انجان کے اس وقت بظاھر پرسکون نظر آتا وہ اندر ہی اندر کس آگ میں جل رہا ہے۔۔
داؤد کے ساتھ ٹائم انجوئے کرنے سے فرصت ملتی تو شاید پتہ چل جاتا میں کب آیا ۔۔۔۔۔
وہ۔ بنا اُس کی طرف دیکھے۔۔۔ بے لچک بے تاثر لہجے میں جس انداز سے بولا اُس کی چبھن سے نین کا کھلتا چہرہ ماند پڑ گیا۔۔۔۔۔
سبکی کے احساس سے اُس کا رنگ بدلا لیکن اُس نے نارمل رہنے کی کوشش کی۔۔
ایسے کیوں کہہ رہے ہو۔۔۔۔۔۔کب سے تمہارا ہی اِنتظار کر رہی ہوں۔۔۔وہ تو داؤد۔۔۔۔
لاکھ کوشش کے بعد اُس کا لہجہ نارمل نہیں تھا جب کے ساحل نے اُس کی بات مکمل نہیں ہونے دی۔
۔۔۔۔داؤد کو دیکھتے ہی بھولی بھٹکی حسرتیں جاگ اٹھی ۔۔۔۔۔۔
اور خوشی کے مارے ساحل بھول گیا۔۔
وہ اُس کی بات اچک کر۔۔۔دانت بھینچے کاٹ دار لہجے میں بولا تو نین کو اُس کے بدلے رویے سے خوف سا محسوس ہوا۔۔۔
کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔کیا مطلب ۔۔۔۔
وہ گلا تر کرتی اُسے ناگواری سے دیکھ کر پوچھنے لگی۔۔۔۔۔
ساحل نے لب بھینچ کر شکوہ کناں نظروں سے اُسے دیکھا
اُس کو دل سے نہیں نکال سکتی تو سیدھے بول دو نا۔۔۔۔۔۔بول دو کہ نہیں بھول رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ۔۔مدھم آواز میں بولا تو اُس کے لہجے میں درد بھی تھا۔۔چبھن بھی تھی۔۔۔
غصّہ بھی تھا ناراضگی بھی تھی۔۔۔بے بسی بھی تھی ۔۔ناگواری بھی تھی۔۔۔۔
اور وہی سب اپنے لفظوں کے ذریعے اُس نے نین کو بھی دے دیا۔۔۔۔۔
اُس کی پل بھر کی حیرت دوسرے پل دکھ میں بدل گئی۔۔۔۔۔۔شدید دکھ میں کے دل کیا زوروں سے رو دے۔۔
شاید اتنی تکلیف بھی نا ہوتی اگر آج اُس کا دل کچھ اور سننے کے اِنتظار میں نا ہوتا۔۔۔۔اگر اُمید اس انداز میں نا ٹوٹتی۔۔۔
تم نے کیسے جانا۔۔۔۔۔۔
بھیگے ،بکھرے، لہجے میں بے حد دھیرے سے بولی تو محض ہلکے سے لب ہلے۔۔جب کے آنکھوں میں جمع ہوتی نمی کے باعث ساحل کا چہرہ دھندلا ہونے لگا۔۔۔۔۔
میری بیوی میرے سے زیادہ اُس کے ساتھ خوش جو ۔۔۔۔۔۔۔
وہ لبوں پے پر درد ذہریلی مسکراہٹ لاتا بول ہی رہا تھا کے نین کے تھپڑ سے اُس کی بات ادھُوری رہ گئی۔۔۔
نازک اُنگلیاں پوری قوت سے اُس کے چہرے پر پڑی تھی۔۔۔۔۔
اُس تھپڑ کی ہلکی سی آواز ایک پل کو پورے کمرے میں گونج کر گہرا سناٹا چھوڑ گئی تھی۔۔۔۔
لیکن وہ ذرا بھی حیران نہیں ہوا تھا۔۔۔شاید جانتا تھا کے یہی ردِ عمل آنا ہے۔۔بس چہرے کا رخ تھوڑا سا بدل گیا تھا۔۔۔
ضبط سے دانت بھینچے تو پیشانی کے ایک سائیڈ کی رگ اُبھر کر واضح ہُوگئی تھی۔۔۔۔
نین کی آنکھوں میں غصے کے ساتھ ڈھیروں جمع آنسو ٹوٹ کر گالوں سے اترنے لگے تھے
ایسا نہیں بول سکتے تم۔۔۔۔۔۔
ایسی بات نہیں سوچ سکتے میرے لیے۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے دھیمی آواز میں چینخ کر بولی جب کے وہ جو کا توں نظریں پھیریں کھڑا ہوا تھا۔۔
واپس لو۔۔۔اپنی بات واپس لو۔۔۔واپس لو واپس لو۔۔۔
واپس لو۔۔۔۔۔۔واپس لو۔۔۔
اُس کے لا پرواہی سے نظریں نا ملانے پر پر وہ پاگلوں کی طرح چلائی لیکن ساحل پر رتّی برابر بھی اثر نہیں ہوا اُس کے سخت تاثرات ذرا بھی نرم نہیں ہوئے۔۔۔۔
نہ مزاج کی نا گواری میں کوئی کمی آئی۔۔۔۔نین نے دونوں ہاتھوں سے اُس کا گریبان پکڑ کر اپنی طرف کھینچا
بولو کے تم غلط ہو۔۔۔
بولو تمہاری سوچ غلط ہے۔۔۔۔
اپنی بات واپس لو ماما کے بیٹے۔۔۔۔۔
ورنہ میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔۔۔بلکل معاف نہیں کروں گی۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے پتھر سے تاثرات دیکھتی غصے سے اُس کی شرٹ کھینچ کے بولتے بولتی ایکدم سے رونے لگی تو ساحل نے بے بسی سے اُس کی طرف دیکھا ۔۔۔اُس کی بھیگی آنکھوں میں۔۔۔
تم نے بس ایک بری بات نہیں بولی۔۔۔
بلکہ ایک لائن میں میرے کیریکٹر کو پوری طرح بدل دیا۔۔۔۔۔۔۔مجھے کچھ سے کچھ بنا دیا تم نے۔۔۔۔
کیا میں ایسی لڑکی لگتی ہوں تمہیں جو کسی کی بیوی ہونے کی ویلیوز نہیں جانتی۔۔۔۔۔۔۔اتنی کافر لگتی ہوں جو نکاح کا مطلب نہیں سمجھتی۔۔
وہ اُس کے دیکھنے پر بجائے غصے کے دکھ و افسوس سے بولی شرٹ پر گرفت ڈھیلی ہو گئی پر چھوٹی نہیں ۔۔۔
ساحل کچھ کہنے کے بجائے اُس کی آنکھوں میں دیکھتا رہا۔۔۔۔۔
مجھے لگا ماما کا بیٹا جیلس ہوتے ہوئے بہت کیوٹ لگتا ہے۔۔۔۔کیا پتہ تھا اس کیوٹنینس کے پیچھے ایک شکی مزاج مرد کی گھٹیا گندی سوچ ہوگی۔۔۔۔
اُس نے کراہیت سے آنکھیں میچ کر کہا تو ساحل نے ایکدم سے اُس کی دونوں کلائیاں پکڑ کر شرٹ سے دور کی۔۔۔۔۔
شکی نہیں ہوں میں۔۔۔۔۔گھٹیا سوچ نہیں ہے میری۔۔۔۔
بس ایک درد ہے جو اس خیال سے اٹھتا ہے کے ۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی بات پر بھڑک کر کہتے کہتے رک کر بے بس نظروں سے اُسے دیکھنے لگا۔۔۔وہ جس بات کو سوچ کر بے چین ہوتا تھا اُسے زبان سے کہنے کی ہمت نہیں تھی۔۔
لیکن اُس کی ادھُوری بات کو نین نے جوڑا ۔۔
کے میری بیوی کبھی اُس کی منگیتر تھی۔۔۔اُس سے منسلک تھی۔۔۔۔
اور یہ تو مرد کی شانِ عظیم کے خلاف ہے کے وہ اس بات کو اپنی غیرت اور انا کا مسلہ بنا کر اپنی بیوی کی کردار کشی نہ کرے۔۔۔
نین نے اپنے ہاتھ چھڑا کے غصے سے کہا تو اُس نے ضبط سے آنکھیں بند کرکے کھولیں۔۔۔۔۔
اُس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا کیوں اُسے معلوم تھا وہ غلط ہے لیکن وہ اپنے جذبات سے نہیں لڑ سکتا تھا جو نین کو کِسی کی سوچ میں بھی برداشت کرنے سے انکاری تھے
ایک با ضرف غیرت مند مرد یہ برداشت ہی نہیں کر سکتا کے اُس کی بیوی مطلب اُس کی ملکیت کا نام بھی کسی سے کبھی جڑا رہا ہو ۔۔۔۔۔۔
اُس لڑکی کی زندگی تو پھر وہیں ختم ہوجاتی ہے۔۔جہاں ایک بے نام تعلق جڑ کر ٹوٹ جائے ۔۔۔۔اُسے تو پھر جینے کا کوئی حق ہی نہیں ہے۔۔۔۔وہیں مر جانا چاہیےنہ۔
وہ اُس پر غصے سے طنز کرتی آخر میں مدھم پردرد لہجے میں بولتی اُسے دیکھنے لگی ۔۔
اس کا ماضی میں داؤد سے انگیج ہونا اُس کا اپنا قصور نہیں تھا لیکِن اس وقت ساحل کی باتیں اُسے مجرم بنا رہی تھی۔۔۔۔
میں نے ٹوٹے تعلق کی بات نہیں کی۔۔۔۔۔میں جذبات سے مطلب رکھتا ہوں
دل میں کسی اور کی محبت۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
شٹ اپ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتا دھیرے سے بول رہا تھا کے نین نے غصے سے اُس کی بات کاٹی۔۔۔آنسوؤں میں۔مزید روانی آئی۔۔۔دل مزید بھرنے لگا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔یو راؤڈی ۔۔۔وائلڈ مین ۔۔کمینے شٹ اپ۔۔
وہ روتے روتے چلائی ۔۔۔۔تو اُس کے بے تحاشا ضبط کو ظاہر کرتی اُس کی بکھرتی آواز نے ساحل کو پہلی دفعہ بری طرح پریشان کیا۔۔۔
وہ اپنا غصّہ اور بے چینی بھول کے اُس کے لیے فکرمند ہوتا آگے بڑھا
سر نفی میں ہلاتے ہوئے اُس کے چہرے کو چھونا چاہا تو نین نے اُس کے ہاتھ کو خود تک پہنچنے سے پہلے ہی جھٹک دیا
داود کے لیے میرے دل میں کوئی فیلنگ نہیں ہے۔۔۔۔۔وہ میرا کزن ہے دوست ہے بس۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے دیکھ کر غصے سے جتاتے ہوئے بنا قصور کے بھی اپنی صفائی دینے لگی۔۔
گھر والوں نے ہمارا رشتا طے کیا تھا اور وہ صرف طے ہوا تھا جڑا نہیں تھا۔۔۔۔۔
چھ سال میں میں نے کبھی اُس سے بات تک نہیں کی۔۔۔۔۔۔۔کبھی ملی نہیں ۔
تمہیں کیا لگتاہے بس رشتا ہو گیا تو محبت ہو گئی ۔۔۔۔کِسی کو دیکھنا اُسے جاننا سمجھنا اُس سے ملنا اس سب کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔۔۔۔۔
ایک اجنبی سے محبت یونہی ہو جاتی ہے جسٹ بیکوس آپ کے پرنٹس نے آپکی اُس سے شادی طے کردی
اُس کے الفاظوں میں آنسوؤں کی آمیزش بھی تھی۔۔۔۔آنکھوں میں ڈھیروں شکایتیں بھی تھیں۔۔۔لہجے میں بے حد جھنجھلاہٹ بھی تھی۔۔۔۔آواز میں غصّہ بھی تھا ۔۔۔درد بھی تھا دکھ بھی تھا افسوس بھی تھا بے چینی بھی تھی۔۔۔۔
وہ ایک پل کو سب بھول کر اُسے دیکھنے لگا۔۔۔
ہاں اُس ہونے والے رشتے کےحوالے سے میں اُسے سوچتی ضرور تھی اُس کے ساتھ اپنی لائف کی پلاننگ ضرور کرتی تھی لیکن محبت نہیں تھی۔۔۔
محبت نہیں تھی۔۔۔۔۔۔محبت نہیں تھی
اُس نے بار بار دہراتے ہوئے بالوں کو مٹھیوں میں بھینچ لیا تھا ۔۔ساحل نے گھبرا کر اُس کا بازو پکڑا تو وہ فوراً جھٹک کر چھڑوا گئی۔۔
اُسے اب صحیح معنی میں اپنے غلط الفاظوں پر پچھتاوا ہوا۔۔۔
محبت نہیں تھی
بس ایک اٹیچمنٹ تھی۔۔۔ وہ بھی اُس دن اُس رشتے کے ساتھ ہی ٹوٹ گئی۔۔۔۔
کیوں مجھے اس بات کا یقین دلانا پڑ رہا ہے تمہیں کے میں کسی بھولی بھٹکی حسرت کو مکمل کرنے کی کوششں میں نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔
میں کوئی زبردستی کا بندھن نہیں نبھا رہی ہوں۔۔۔۔۔
میری زندگی میں کوئی کاش نہیں ہے کوئی اگر نہیں ہے کوئی ادھُوری خواہش نہیں ہے۔۔۔
وہ ایک ایک بات کو تلخئ سے ادا کرتی اُسے باور کروانے کی کوشش میں رو رو کر بے حال ہو چکی تھی۔۔۔
وہ اُس کے لیے پریشان تھا لیکِن اُس کے الفاظ انجانے میں سکون کا باعث بنے تھے۔۔۔کیوں کے اب تک اُس نے اپنے آپ اس بات کا اعتراف نہیں کیا تھا کے داؤد کے لیے اُس کے دل میں کوئی جذبات نہیں۔۔۔اور یہی وجہ تھی کے ساحل کے دل سے یہ بات نکلتی نہیں تھی۔۔۔
ورنہ مجھے کون روکنے والا ہے۔۔۔۔۔۔تم۔۔
اُس نے آنسُو بے دردی سے رگڑے تو گال مزید سرخ ہو گئے۔۔۔۔۔ساحل نے خشک لبوں پر زبان پھیری
تم سے یہ امید خواب میں بھی نہیں کے تم روک لو گے۔۔۔
تم دن رات دھتکارنے والے۔۔۔۔۔۔تم سے روکے جانے کا کوئی سوال ہی نہیں تو پھر کس کا ڈر ہے مجھے۔۔۔۔۔
چاہتی توکبھی بھی اپنی بھولی بھٹکی حسرتیں مکمل کر سکتی تھی نا۔۔۔۔۔ بنا کوئی بہانا کرے بنا کوئی کھیل کھیلے۔۔۔۔۔جب جب تم نے کہا کے نکل جا میری زندگی سے۔۔۔۔جان چھوڑ میری ۔۔۔۔پیچھا چھوڑ میرا۔۔تب تب بھی بے شرم بن کر تمہارے ساتھ رہنے کی بجائے جا سکتی تھی نا اس کے پاس۔۔۔۔۔ ۔۔
وہ چلائی ۔۔۔۔ اُس کے لفظ ساحل پر تیر کی طرح برسے کیوں کے اُن میں سچائی تھی۔۔۔وہ اُس کا صبر آزما کر اُس کے ضبط کی حدیں توڑ چکا تھا۔۔۔
پر جب دل میں کچھ ہے ہی نہیں تو۔۔۔۔۔۔
وہ بولتے بولتے رک کے روتے ہوئے آنکھیں بند کر گئی ۔۔۔
آنسوؤں میں کوئی کمی نہیں آئی لیکِن اُس کے اندر ایک گہرا ٹھہراؤ صاف واضح تھے۔۔۔۔جیسے اب سب لاوا بہہ گیا ہو۔۔۔۔۔بھڑکتی آگ بجھ گئی ہو۔۔۔طوفان تھم گیا ہو۔۔
ساحل نے چہرے پر ہاتھ پھیر کر سرد اہ خارج کی اور اُس کے قریب ہو کر ساکت نڈھال وجود کو دونوں بازوؤں میں تھامے پیشانی اُس کے شولڈر پر ٹکائی۔۔۔
اُس کے انداز سے ظاہر تھا کے وہ اپنے کہے پر پشیماں ہے لیکن اب نین کے دل کے ڈھیروں ٹکڑے دوبارہ جوڑنے کے لیے محض اتنا کافی نہیں تھا۔۔
نین نے دونوں ہتھیلیاں اُس کے سینے پر رکھ کر اُسے خود سے دور کرکے زخمی آنکھوں سے اُسے دیکھا۔۔۔
اُس نے حصار ضرور توڑا لیکِن دور نہیں ہوا۔۔۔۔
اُس کی شکایت کرتی آنکھوں میں دیکھنے لگا ۔ ۔
اُس سے اپنا رشتا بچانے کے لیے ایک بھی کوشش نہیں کی تھی میں نے
لیکن تم سے اپنا رشتا بچانے کے لیے ہر روز کوشش کرتی ہوں۔۔۔۔۔
اب وہ پہلے کی طرح طیش میں نا غصے میں بلکہ نہایت ٹوٹے لہجے میں سستی سے بولنے لگی۔۔۔۔
بھیگی پردرد آواز میں۔۔۔۔
اُس کا ذہن بے حد بھاری ہو گیا تھا
اب اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کی بھی طاقت نہیں بچی تھی۔۔۔
ہر ہچکی کے ساتھ بدن لرز رہا تھا
بار بار بنا قصور کے خود کی صفائی دیتی ہوں
بار بار اپنے کیریکٹر کو جسٹیفائی کرتی ہوں۔۔۔۔
تم بے رخی کی مار مارتے ہو اور میں بے نیازی سے ہنستی ہوں
روز تم مجھے کہتے ہو چلی جاؤ میری زندگی سے اور روز میں بے غیرت بن کے تمہارے ساتھ رہتی ہوں
محسوس کرکے دیکھو کبھی اُس فیلنگ کو تو اندازہ ہوگا کہ کیسا لگتا ہے خود کی ہی نظروں سے گر کر۔۔۔۔
اُس کے سینے پر دل کے مقام پر اُنگلی رکھ کر بولی جب کے اب وہ اُس کے لفظوں میں کچھ ان کہی باتیں بھی سن رہا تھا ۔۔۔۔
جن سے اب تک انجان تھا۔۔۔
زندگی میں کبھی اپنی سیلف ریسپکٹ کے ساتھ کمپرومائز نہیں کرنے والی اسی سیلف ريسپکٹ کی دھجیاں اڑانے والے کو اپنا سمجھتی ہے۔۔۔۔۔
نہیں نظر آتا۔۔۔۔۔
اُس کی آنکھوں میں دیکھ کے سر نفی میں ہلاتی پوچھنے لگی۔۔۔۔۔
اُس کی خاموش نظروں کو خود کے چہرے میں گم ہوتے دیکھ اُس کا دل مزید تڑپا تو ۔۔۔۔۔
نہیں نظر آتا نا۔۔۔۔
اُس کے قریب شرٹ کی کالر پکڑ کر سر اٹھائے اُسے دیکھتی چلا کر بولی۔۔۔
میں تو نظر آتی ہوں۔۔۔دیکھو مجھے۔۔۔۔
سر سے پیر تک بدل دیا ہے میں نے خود کو۔۔۔۔
کیا میں وہی لڑکی لگتی ہوں تمہیں جس سے پہلی دفعہ تم ملے تھے۔۔۔۔داؤد کی منگیتر۔۔۔۔
کیا کبھی دیکھا تھا نین تارا کو
۔۔۔۔۔ ایسے کسی کے آگے رو رو کر اپنی صفائی دیتے ہوئے۔۔۔۔۔۔
وہ مسلسل اُس کی آنکھوں میں دیکھتی سوال کرنے لگی لیکن ہر بار کی طرح جواب میں بس خاموشی ملی۔۔۔کیوں کے جواب تو تھا ہی نہیں
وہ تاسف سے اُسے دیکھ کر پیچھے ہوئی ۔۔۔ہاتھ اُٹھا کر آنسُو رگڑنے لگی تو کندھے سے گر کر کلای پر آیا نیلا دوپٹہ دیکھ ہاتھ وہیں روک کر اُس دوپٹے کو دیکھنے لگ گئی۔۔۔۔
جو اُس نے کبھی اپنی ماں کے کہنے پر بھی نہیں پہنا تھا لیکن محض اُس کی سوچ کو اہمیت دینے کے لیے وہ سب کرتی رہی تھی جو اُس سے کوئی نہیں کروا سکتا تھا۔۔۔
تمہارے لیے دوپٹہ تک پہننا سیکھ لیا۔
پر تمہیں اپنے اور داؤد کے درمیان کا فرق سمجھ نہیں آیا۔۔۔۔
اُس دوپٹے سے نظریں ہٹا کر اُسے دیکھتی بھیگے لہجے میں کہتے ہوۓ لڑکھڑا ئی تو و گھبرا کر سانس روکے آگے بڑھا ۔۔۔
چھونا مت مجھے۔۔۔۔
وہ ٹیرس ڈور کے شیشے پر ہتھیلی رکھ کر سہارا لیتی اُسے ہاتھ دکھا کر وارن کرنے والے انداز میں بولی تو وہ نا چاہتے ہوئے بھی اپنی جگہ رک گیا۔۔۔۔
نین آہستہ سے نیچے ہوتی ڈور کے شیشے سے لگ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔ پیر سمیٹ کر چہرہ گھٹنوں سے لگا دیا۔۔۔
اور گھٹ گھٹ کر رونے لگی۔۔
کمرے کی پرسوز فضا میں اُس کی سسکیوں سے وحشت سی بھر گئی۔۔۔
ساحل کے لیے سانس لینا تک دشوار ہو گیا اُسے معلوم تک نہیں ہوا کے اُس کی ایک غلطی نے تھوڑی سی دیر میں کیسے سب بدل دیا۔۔۔۔
دونوں کی درمیان میں جڑتے رشتے کو کتنی بری طرح تباہ کر دیا۔۔۔
لیکن افسوس کبھی بھی زبان سے نکلے لفظوں کا مداوا نہیں بن سکتا ۔۔
اُس کے فون میں کب سے وائبریشن ہو رہی تھی۔۔کیوں کے اُس کے جانے کا وقت ہو رہا تھا گھڑی چار سے اوپر كا ٹائم دکھا رہی تھی۔۔
۔۔۔اُس نےفون نکال کر ایک بیزار سی نظر مسیج باکس پر ڈال کر اُسے واپس رکھ دیا۔۔۔
گھٹنے کے بل اُس کے سامنے بیٹھ کر جلتی نگاہوں سے اُسے دیکھتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر اُس کے بالوں کو چھوا۔۔۔
تمہارا دل دکھانے کے لیے جان لے لو میری۔۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔
چہرہ اُس کے جھکے سر کے قریب کرتے ہوئے افسوس و غم سے بولا اور پیشانی اُس کے سر پر رکھی تو اُس کا سر چھوتے ہی نین ایکدم سے سیدھی ہو کر اٹھ کھڑی ہُوئی۔۔۔
کہا نا مجھے مت چھوؤ۔۔۔۔
میں چھونے لائق نہیں ہوں۔۔۔
میری طرف دیکھو بھی مت۔۔۔
تمہاری نظریں گندی ہو جائے گی۔۔۔
دور رہو مجھ سے۔۔۔۔۔۔
وہ پیچھے ہوتی غصے سے چلائی ۔۔۔
ذہنی مریض کی طرح۔۔۔
کچھ دیر پہلے کھلتا چہرہ اب بری طرح بجھ گیا تھا۔۔۔
آنکھیں سرخ ہو گئی تھی ۔۔
چہرہ رونے سے گلابی ہو گیا تھا۔۔۔
ساحل نے تڑپ کے آگے بڑھتے ہوئے اُسے کھینچ کر سینے سے لگا لیا۔۔۔
سوری۔۔۔۔۔۔
اُسے زوروں سے خود میں بھینچتا ہوا شدتِ ضبط سے بولا تو نین نے آنکھیں سختی سے میچ کر اُس کی گرفت سے نکلنے کو پورا زور لگایا۔۔
دور رہو مجھ سے۔۔۔۔۔۔دور رہو۔۔۔
وہ اُسے دھکیل کر غصے سے بولی اور اُس سے رخ موڈ کر زوروں سے رو دی۔۔۔اس وقت غصے اور دکھ کے سوا اُس کا دل کسی احساس کو سمجھنے کے لئے راضی نہیں تھا۔۔۔
ساحل نے بے بسی سے اُس کی پشت پر بکھرے گھنے بالوں کو دیکھا۔۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔جا رہا ہوں بہُت دور جا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔بس ایک بار میری طرف دیکھ لو ۔۔۔۔
اُس نے بکھرتے لہجے میں اُس سے منت کی لیکِن وہ اُس کی بات پر اپنا دل مضبوط کرتی مٹھیاں بھینچ گئی۔۔۔
کیوں کے اُس کے دل پر لگی چوٹ اتنی معمولی نہیں تھی کے اُس کے لہجے میں گھلی تڑپ سے بھر جاتی۔۔
چند پل وہ اِنتظار کرتا رہا لیکن جب نین کا دل نہیں پگھلا تو ہار مان لی۔۔۔
آگے بڑھ کر اُس کے قریب ہوا۔۔۔
بنا چھوئے ہی اتنے قریب کے نین کو لگا وہ پوری اُس کے ساتھ لگ کے کھڑی ہے۔۔۔اُس کے حصار میں قید ہے۔۔
ساحل نے اُس کے بالوں کی مہک کو سانسوں میں اُتار ا تو اُس کی سانسوں کی تپش اپنے کان پر محسوس کرکے نین کا دل زوروں سے دھڑکا۔۔۔۔۔۔
I’ll miss you۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے کان میں سرگوشی کرتا اُس کے بھیگے چہرے کو نظروں میں بسائے پیچھے ہوا ۔۔۔
دروازے کے پاس پہنچنے تک وہ اُسے دیکھتا رہا اور پھر بڑی مشکل سے اُس سے نظریں ہٹا کر پلٹتے ہوئے باہر نکل گیا۔۔۔۔
اُس کے جاتے ہی نین واپس زمین پر بیٹھی نئے سرے سے رونے میں لگ گئی۔۔۔۔
