Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

کل فلک کا نکاح تھا ارہم تیاریوں میں رحمت کا ساتھ دے رہا تھا لیکِن گیراج کے مالک نے اُسے فون کرکے گیراج بلایا تو اُسے جانا پڑا ایک گاڑی کا اچانک کام آگیا تھا جو ارحم ہی اچھے سے کر سکتا تھا۔۔۔۔۔
وہ ابھی گیراج سے کچھ دور ہی تھا کے ایک گاڑی تیزی سے چلتی اُس کے پاس آئی وہ بروقت سامنے سے نہیں ہٹتا تو گاڑی اُس کے اوپر ہوتی۔۔۔۔سائیڈ میں ہونے کی جلدی میں وہ زمین پر گرا تھا اور کندھے پر بہت زور سے چوٹ لگی تھی
اُس نے چینخ کر اُس گاڑی والے کو گالی سے نوازا اور زمین سے اٹھ کر اپنے کپڑوں سے مٹی جھٹکنے لگا
گاڑی والا اُس کے گالی دینے پر گاڑی روک کر ریورس کرتا اُس کے پاس آکر رکا۔۔۔۔۔
گاڑی میں سکندر کو دیکھ کر اس نے دانت بھینچے جب کے سکندر کے چمچے اُس کی ہنسی اڑا رہے تھے۔۔۔۔وہ سمجھ گیا تھا کے اُن لوگوں نے جان بوجھ کر یہ کیا ہے
گھٹیا حرکت سالے گھٹیا لوگ ہی کر سکتے ہے۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے اُن پر نظر ڈالتا آگے بڑھنے لگا سکندر ایکدم سے گاڑی سے اتر کر اُس کے سامنے آگیا۔۔۔۔۔۔۔اُس کے ساتھ کے چاروں بھی اتر کر اُس کے پیچھے کھڑے ہو گئے
میرا راستہ کیوں روکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
ارحم نے غصے سسکندر کو۔دیکھا
میرے راستے میں آئے تو راستے پر چلنے کے قابل نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر اپنے گلاسز نکال کے اُسے دیکھتے ہوئے بولا
بہادر شاہ نے پیسے دے کے ٹکٹ حاصل کر لیا تھا اور وہ الیکشن لڑنے والا تھا ۔۔لیکِن سکندر کو ارحم کی سب کے سامنے کی گئی%¹ بے عزتی بھولی نہیں تھی
تمہاری یہ دھمکیاں تمھارے ان پلے ہوؤں پر اثر کرتی ہے ۔۔مجھ پر نہیں۔۔۔
وہ طنزیہ ہنسا۔۔۔۔۔۔۔ پیچھے والا ایک غصے سے اس کی طرف بڑھا لیکِن سکندر نے اُسے روک دیا اور مدھم سا مسکرایا
بہن بہت کمال ہے تیری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر مسکرا کر آنکھ ونک کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔ ارحم کا خون کھول اٹھا۔۔۔
سالے ۔۔۔۔۔۔۔میری بہن کا نام مت لینا اپنی گندی زبان سے۔۔۔۔
ارحم نے اُس کا گریبان پکڑ کر کھینچا تو سکندر کے چہرے کا رنگ بدلا
کالر سے ہاتھ ہٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نہایت سرد لہجے میں بولا اور خود بھی ارحم کا گریبان پکڑ لیا۔۔۔۔
ارحم نے ہاتھ کا مکّہ بنا کے اُسے مارنے کی کوشش کی لیکن ایکدم سے پیچھے سے آکر اُس کے دوستوں سے ارحم کو جکڑ لیا
سالے اگر اتنی ہی تیرے اندر اکڑ ہے تو مرد بن کر مقابلہ کر مُجھ سے۔۔۔۔۔۔ان کتوں کا سہارا لے کر کیا اپنی مردانگی دکھا رہا ہے
وہ اپنے بازو اُن کی گرفت سے نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے بولا
چھوڑو اسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر نے اسے سرد نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا گلاسز گاڑی میں پھینکے اور ارحم کی طرف بڑھ کر اُسے مارنے کو ہاتھ اٹھایا لیکن ارحم پہلے ہی تیار تھا اُس کا ہاتھ ہوا میں ہی تھام کر اُسے روک دیا اور پورے جھٹکے سے اُس کا ہاتھ دھکیلتا ایک زور دار مقہ اس کے خوبصورت چہرے پر دے مارا۔۔۔سکندر کا رنگ غصے اور ضبط سے سرخ ہو گیا وہ ارحم کے اوپر چڑھ دوڑا اور اس کی گردن کو اپنے بازو میں جکڑ لیا ارحم نے پہلے تو اس کا بازو ہٹانا چاہا لیکن جب نہیں ہٹا پایا تو ایک زور کہنی اُس کے پیٹ میں ماری۔۔۔سکندر کی گرفت ڈھیلی پڑی ارحم آزاد ہوا اور پلٹ کے اُسے مارنے کو ہاتھ اُٹھایا لیکن سکندر نے جھک کر خود کو بچایا اور ایک زور لات ارحم کے سینے پر مار کر اُسے زمین پر گرا دیا
ارحم اُسے غصے سے گھورتا تیزی سے اٹھ کر دوبارہ اُس پر جھپٹا۔۔۔۔۔
وہاں لوگوں کی اچھی خاصی بھیڑ جمع ہو گئی ۔۔۔۔۔
دونوں ایک دوسرے پر بھاری تھے۔۔۔نا سکندر آگے تھا نہ ارحم پیچھے۔۔۔۔دونو کافی زخمی ہو چکے تھے لیکن کوئی ہار نہیں ماننا چاہتا تھا
وہاں پر کِسی میں ہمت نہیں تھی کے اُنہیں روک سکے۔۔۔
دھیرے دھیرے ارحم سکندر پر حاوی ہو رہا تھا
اور سکندر کا ہر وار خالی جا رہا تھا ۔۔۔۔
اُس کے سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے اس کا ذہن بند ہو رہا تھا اور اس بات کا فائدہ اٹھا کر ارحم ایک کے بعد ایک کئی وار کرتا جا رہا تھا۔۔
کچھ دیر بعد بہادر شاہ کی گاڑی وہاں آکر رکی اور وہ تیزی سے گاڑی سے اتر کر اُن تک آیا بھیڑ نے جلدی جلدی جگہ بنا کر اُسے جگہ دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر زمیں پر پیٹھ کے بل پڑا تھا اور ارحم اُس کے اوپر بیٹھا اُس کے منہ پر مکے برسائے جا رہا تھا۔۔سکندر پوری قوت سے اُسے دھکیل کے اب خود وہی عمل دوہرا رہا تھا
بہادر شاہ اور اس کے آدمیوں نے دونوں کو بمشکل الگ کیا اور اس کے آدمیوں نے سکندر اور ارحم دونوں کو جکڑ لیا۔۔۔وہ دونوں ہی ایک دوسرے کو غصے سے گھورتے ہوئے اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے
آج دونوں ہی ایک دوسرے کو ختم کر دینے کی سوچ رہے تھے۔۔۔سکندر کے سفید شرٹ خون سے رنگین ہو گئی تھی سر پر گہری چوٹ تھی۔۔آنکھیں خون برسا رہی تھی
ارحم کا چہرہ بھی کافی زخمی ہو گیا تھا۔۔۔۔اُس کے دل میں بھی نفرت کی آگ جل رہی تھی۔۔
بہادر شاہ نے ذبردستی اُس جنگ کو ختم کرکے سکندر کو وہاں سے لے جانے کا حکم دیا تھا اور ساتھ ہی ارحم۔کو آنکھوں ہی انکھوں میں دھمکا نا نہیں بھولا تھا۔۔۔
ارحم کو بھی رہ رہ کر غصّہ آرہا تھا دل چاہ رہا تھا سکندر کا حشر اور برا کردے۔۔۔
اُس کے کچھ جاننے والے اُسے اپنے ساتھ اُس کے گھر لے آئے
وہ جب اس حالت میں گھر پہنچا تو امّاں نے اُسے دیکھ کر دل پر ہاتھ رکھ لیا۔۔۔۔۔۔گھر میں موجود سب ہی پریشان اور حیران ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔
جب کے سکندر کے ساتھ اُس کی جنگ کا قصہ سن کر رحمت سر پکڑ کر بیٹھ گیا وہ لوگ کبھی بھی اُن لوگوں۔ کامقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔۔۔۔۔وہ بہادر شاہ اور اس کے بیٹے کی طاقت سے با خبر تھا ۔۔اور جانتا تھا وہ چپ بیٹھنے والوں میں سے نہیں ہے۔۔۔اُس نے ارحم کو غصے سے کافی ڈانٹ لگائی اور آرڈر دیا کے جا کر اُن دونو باپ بیٹے سے معافی مانگ لے
لیکِن ارحم تو یہ سن کر ہتھے سے ہی اُکھڑ گیا وہ کِسی صورت سکندر کے آگے جھکنے کو تیار نہیں تھا اپنے باپ کو بھی اُس نے اس بات پر اچھا خاصا سنا دیا اور غصے سے گھر سے نکل گیا۔۔۔
اچھے بھلے خوشی والے گھر میں پریشانی آگئی تھی
اماں مسلسل رویے جا رہی تھی پہلے تو بیٹا زخمی تھا اوپر سے اب غصے سے پتہ نہیں کہاں چلا گیا تھا
سب رشتے دار اُنہیں تسلیاں دے رہے تھے اور رحمت کو بھی سمجھا رہے تھے کے فکر نہ کرے آگے کچھ نہیں ہوگا کیوں کے الیکشن کی وجہ سے بہادر شاہ بہت سنبھل سنبھل کر رہ رہا ہے وہ کچھ بھی ایسا نہیں کر سکتا جس سے اُسے نقصان ہو۔۔۔۔لیکِن رحمت شادی والی دن کوئی تماشا نا ہو اس لیے ڈر رہا تھا
کل فلک کی شادی تھی اور آج ایک عجیب سی پریشانی آگئی تھی جس پر وہ خود بھی بہت گھبرائی ہوئی تھی ۔۔۔۔اماں کو روتے دیکھ اُسے بھی بہت رونا آرہا تھا شمع اور حیا اُسے چپ کرانے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی لیکن اس کے آنسُو کِسی طرح نہیں رک رہے تھی۔۔۔۔
وہ بہت گھبرا رہی تھی کے جانے آگے کیا ہونے والا ہے ۔۔
اُسے انجانے خدشات خوفزدہ کیے جا رہے تھے
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
سکندر نے ساری حویلی سر پر اٹھالی تھی
غصے میں جو نظر آیا تحس نحس کر دیا ۔۔۔
قیمتی ڈیکوریشن پیسز زمین پر بکھرے پڑے تھے۔۔
خون سر سے پانی کی مانند بہہ رہا تھا ۔۔۔۔
اُسے اپنی زخمی حالت کی پروا نہیں تھی وہ تو بس اپنی شکست پر بھپرا ہوا تھا۔۔
سرے عام ارحم کے ہاتھوں پٹنے پر ذلت کے احساس سے وہ انگاروں پر لوٹ رہا تھا۔۔۔
اُس کا بس نہیں چل رہا تھا ارحم سمیت اُس کے پورے خاندان کو جلا کر راکھ کر دیں
اُس کا جلال دیکھ کر حویلی میں موجود سارے ملازم خوفزدہ تھے ۔اُس کی بہن اپنے کمرے میں کانوں پر ہاتھ رکھے بیٹھی تھی۔۔۔۔اُسے ویسے ہی سکندر اور اپنے باپ سے بہت ڈر لگتا تھا ۔۔
سکندر کی ماں اُسے واسطے دے دے کر ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔اُس کی زخمی حالت دیکھ اُس کی ماں رو رو کر ارحم کو کوس رہی تھی۔۔۔۔۔۔
جب کے باپ فلهال خاموش بیٹھا تھا وہ نا خود کوئی غلطی کرنا چاہتا تھا نہ سکندر کو کرنے دے سکتا تھا اُس وقت اُس کی امیج ذرا بھی کھل کر سامنے آتی تو اس کی ہار پکّی تھی ۔۔۔
یہ الیکشن جیت کر وہ آس پاس کے چھ سات گاؤں کا حکمران بن سکتا تھا ایک بڑی طاقت اُس کے ہاتھ میں آرہی تو جِسے وہ جانے نہیں دے سکتا تھا۔۔۔۔۔۔
سکندر کو اُس نے کھلے لفظوں میں سمجھا دیا تھا کے وہ آگے سے ایسی کوئی حرکت نہ کرے ۔۔۔۔۔اور ارحم کو سبق سکھانا ہی چاہتا ہے تو تھوڑا اِنتظار کر لے۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
کافی رات ہو رہی تھی جب ارحم گھر واپس آیا۔ سب آنگن میں سوئے ہوئے تھے بس اماں اُس کے اِنتظار میں بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
اُس کے ہاتھوں میں پٹیاں بندھی ہوئی تھی۔۔۔چہرے پر بنڈیج لگی تھی۔۔اماں جو اس کے جانے کے بعد سے بے چین تھی اُسے دیکھتے ہی اس کے سینے سے لگ کر رونے لگی وہ خود بھی شرمندہ ہو گیا کے کیسے گھر کا ماحول اچانک سے رنجیدہ ہو گیا تھا۔۔
فلک بھی اماں کی آواز پر جلدی سے باہر آئی ۔۔ارحم نے اس کے چہرے سے ہی اندازہ لگا لیا کے وہ بھی بہت روئی ہے۔۔اپنے آپ پر ملامت کی
اماں تو فکر مت کر میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی اماں کا چہرہ تھام کر اُن کے آنسُو صاف کرتے ہوئے بولا اماں نے اس کا ہاتھ اٹھا کراپنے سر پر رکھ لیا
میرے سر کی قسم ہے تجھے ۔۔۔آئندہ اُن بڑے لوگوں کے منہ نہ لگے گا تو۔۔۔۔۔۔۔
اماں روتے ہوئے بولی تو وہ بے بس ہو گیا سکندر سے نفرت اپنی ماں کی محبت سے زیادہ نہیں تھی۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے اماں اب رو مت ۔۔میں آئندہ سے اُس سے نہیں الجھوں گا اور جو ہوا اُسے بھول جاؤں گا ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ انہیں سینے سے لگائے ہوئے بولا۔۔۔۔اماں کے دل کو کچھ اطمینان ہوا۔۔۔
اِس غریب ماں کی کل دولت ہے تو ۔۔۔اگر تجھ پر زرا بھی آنچ آئی نا تو تیری ماں کیسے جیے گی۔۔۔۔۔
اماں نے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا تو وہ اُن کا ہاتھ چومتے ہوئے مسکرا دیا
وہ اُس کے چہرے پر پیار کرکے اُسے کھانا لانے کا کہہ کر کچن میں چلی گئی تو وہ فلک کے پاس آئی۔۔۔۔۔
رو کیوں رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
ارحم نے اُس کی آنکھ سے گرتے موتی کو انگوٹھے سے جھٹکا تو وہ ضبط کھو کر چہرے پر مہندی سے سجے ہاتھ رکھے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔۔۔ارحم نے اسے خود سے لگا لیا۔
اس گھر میں اس کی آخری رات تھی کل کا دن اُس کی زندگی بدلنے والا تھا وہ اپنے ماں باپ اپنی پیاری بہن اور اتنے چاہنے والے بھائی سے دور جانے والی تھی
جس معاشرے کا وہ حصہ تھی وہاں ایک لڑکی کی زِندگی شادی کے بعد صرف اُس کے سسرال اور شوہر تک ہی محدود رہ جاتی تھی۔۔۔۔۔
اُس کی زندگی میں مائیکے کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی تھی ۔۔۔۔۔
فلک بھی اُس زندگی میں قدم رکھنے جا رہی تھی
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
چھوٹے سرکار۔۔۔۔۔۔۔۔
گھڑی دو پہر کا ایک بجا رہی تھی
ملازم نے اُسے بہت ڈرتے ڈرتے پکارا اُس نے بیزاری سے آنکھیں کھولیں یوں جگائے جانے پر دِماغ گھوما تھا۔۔
سائیڈ سے گلاس اٹھا کر ملازم پر۔اچھالا جو اس کی خوش قسمتی سے دیوار پر لگ کر ٹوٹا تھا۔
کون مرا ہے ۔۔۔۔بکو جلدی۔۔۔۔۔۔
وہ طیش میں آکر اٹھ بیٹھا۔۔رات کو انجیکشن کی وجہ سے سو پایا تھا ورنہ دِماغ میں سلگتے شعلے نفرت کو بھڑکا کر اُسے جلائے جا رہے تھے
بڑے سرکار نے آپ کو نیچے بلایا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے سر جھکائے کہا تو سکندر نے دانت بھینچے ملازم جلدی سے وہاں سے نکل گیا
وہ کمفرٹر اچھال کر بیڈ سے اُترا دیوار نصب الماری کھول کر اُس میں سے بوتل نکال کر گلاس بھرا اور دو تین گھونٹ اندر اُتار کر کمرے سے باہر نکلا
باہر رحمت اُس کے باپ کے آگے سر جھکائے کھڑا تھا اور اس کا باپ صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھا تھا
سکندر کو آتے دیکھ رحمت نے اُسے سلام کیا۔۔۔۔۔
ٹی شرٹ گیم پینٹ پہنے وہ رف سے حلیے میں تھا
سرخ آنکھوں میں رحمت کو۔دیکھ کر نا گواری اُتر آئی تھی
پیشانی پر سفید پٹی بندھی تھی اور چہرے پر نیل کے نشان پڑے ہوئے تھےp
رحمت نے اُس کے باپ اور اس سے ارحم کے رویے کے لیے معافی مانگی اور اُنہیں یقین دلایا کے وہ اُن کے۔کِسی معاملے میں آئندہ سے کوئی عمل دخل نہیں کرےگا جس پر بہادر شاہ نے اُسے احسان جتانے والے انداز میں ٹھیک ہے کہہ کر ساتھ دھمکی بھی دے دی کے آئندہ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ الجھنے والے کو معاف نہیں کریگا
جب کے سکندر خاموش وہیں سے پلٹ کر واپس اپنے روم میں چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔
رحمت نے ایسا وہاں کے سرپنچ کے کہنے پر کیا تھا اور اس بات کی ارحم کو خبر نہیں ہونے دی تھی شام کو فلک کی شادی تھی اور وہ کسی بھی حال۔میں شادی میں کوئی ارچن نہیں آنے دینا چاھتا تھا
بنا غلطی کے بھی اُن امیروں کے آگے معافی مانگ کر اب وہ۔مطمئن تھا اور شادی کی تیاریوں میں سکون سے لگ گیا تھا آنے والے طوفان سے بے خبر۔۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
ارحم کا موڈ بحال ہو چکا تھا وہ کوئی تلخئ رکھ کے اپنی خوشیوں کو خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
صبح صبح وہ روز کی طرح چھت پر آیا تو بچا کچا غصّہ بھی جاتا رہا دل اپنے پسندیدہ منظر پر سر شار ہو گیا لب مسکرہٹ میں ڈھل گئے
حیا نے روز کی طرح اُسے اگنور کیے کپڑے رسّی پر پھیلائے لیکِن وہ اپنی آنکھوں کو چارج کرتا رہا۔۔۔۔۔
حیا نے ایک نظر اُسے دیکھا تو چہرے پر لگی چوٹ کے نشان دیکھ اُسے افسوس ہوا۔۔
جب کے اُس کی آنکھوں میں اپنے لیے فکر دیکھ کے ارحم کا دل خوشی سے کھل گیا۔۔
وہ مسکراتا ہوا اُسے دیکھنے لگا۔۔۔۔
حیا نے اپنی بے اختیاری پر خود کو کوس کر رخ موڑا۔۔۔۔
ہمیشہ وہ ایسے ہی کرتی تھی اُس کی نظروں کی تاب نہ لاتے رخ پھیر جاتی تھی لیکن دل تو تب بھی زوروں سے دھڑکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
ارحم۔۔۔۔۔۔۔۔چھت پر۔کیا کر رہا ہے
نیچے سے اماں نے اُسے آواز لگائی
چاند دیکھنے آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
وہ ذرا اونچی آواز میں بولا
حیا نے اس کو گھورا جو روز کی طرح دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔۔۔۔ہوا سے اُس کے بال پیشانی کو چھو رہے تھے
اماں نے دوبارہ اُسے پکارا ساتھ اُن کی بڑبڑا ہٹ جاری تھی
وہ بیچاری شکل سے حیا کو دیکھتا سیڑیوں کی طرف بڑھا
حیا کھل کرمسکرائی اور اب آرام سے اُس چھت کو۔دیکھنے لگی کے وہ ایکدم سے پلٹ کر واپس آیا
وہ بوکھلا کر نظریں چرا گئی
وہ اُس کی مسکرہٹ دیکھ چکا تھا اب شرارت سے اُسے دیکھ کر واپس نیچے چلا گیا۔۔
مطلب ان جذبوں کی تپش دوسرے دل تک بھی پہنچ رہی تھی۔۔۔۔
حيا نے پیچھے اپنے سر پر ہاتھ مارا۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
سکندر اُس ۔۔۔۔۔۔۔۔نے بلکل اچھا نہیں کیا کل۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے دوست اُس کے کمرے میں بیٹھے تھے ایک نے ارحم کو گالی سے نوازتے ہوئے کہا وہ ٹانگ ٹیبل پر پھیلائے ٹی وی پر کوئی انگلش مووی دیکھتے ہوئے اُنہیں بھی سن رہا تھا۔۔۔۔
شام کو اُس کی بہن کی شادی ہے۔۔۔تو کہے تو اس گھر میں آگ لگا دے۔۔۔۔ہمارا نام بھی نہیں آئیگا اور سالے کی عقل بھی ٹھکانے آجاۓ گی۔۔۔۔
اُن میں سے ایک غصے اور نفرت سے بولا وہ جانتے تھے سکندر اپنے باپ کے کہنے پر چپ بیٹھا ہے جبکہ سکندر ایک پل کو چونکا تھا لیکن ظاہر نہیں ہونے دیا
کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے میں دیکھ لوں گا مجھے کیا کرنا ہے تم لوگ مجھے اکیلا چھوڑو ۔۔۔۔۔
وہ خشک انداز میں بولا وہ سب بنا برا منائے وہاں سے اٹھ گئے امیر زدوں کی دولت پر عیش کرنے کے لیے یہ ذلت تو قبول۔کرنی ہی تھی
اُس کی نظریں ٹی وی پر۔چلتے مناظر پر تھی اور دِماغ میں بس
بہن کی شادی۔۔۔۔۔
بہن کی شادی۔۔۔۔۔۔
یہ ایک۔ہی جملہ چل رہا تھا۔۔۔۔۔
وہ نہیں جانتا تھا کس بہن کی شادی ہے اور وہ کون تھی جِسے وہ آجکل سوچتا رہتا ہے لیکِن اچانک سے دِماغ میں سنسنی بھر گئی تھی۔۔۔۔۔
دل ہزاروں کی سپیڈ سے دوڑ رہا تھا۔۔۔
حالت عجیب ہو رہی تھی جس کی وجہ سمجھنے سے وہ قاصر تھا۔۔۔۔۔
ایسا لگ تھا تھا جیسے جسم اچانک کانٹوں پر آگیا ہو
آنکھیں بے چین ہو گئی تھی
اب تک ارحم سے نفرت کی آگ تھی اور اب ایک نئی بے نام جلن
وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور ٹیبل اور پڑا شراب کا گلاس اٹھا کر ایک سانس میں آدھا پی گیا۔۔۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
شادی کا فنکشن شام کا رکھا گیا تھا آبان کے اصرار پر ۔۔۔۔
شام سات بجے نکاح تھا ۔۔۔۔
رحمت نے اُن لوگوں کی فرمائش پر گھر سے تھوڑی دوری پر ایک شادی ہال۔میں سارا انتظام کیا ہوا تھا۔۔۔
ارحم اور رحمت سمیت باقی رشتےدار پہلے سے ہی وہاں موجود تھے مہمانوں کے استقبال کے لیے
شمع اور اماں کچھ عورتوں سمیت گھر پر تھے اُنہوں نے فلک کو تیار کرکے وہاں پہنچنا تھا
فلک نے پہلے عصر کی نماز اور شکرانہ ادا کیا تھا اُس کے بعد اور شمع نے مل کر فلک کو تیار کیا
بہت کم اور ہلکا میک اپ تھا باقی تو حقیقی خوبصورتی تھی۔
وہ سب کی سوچ سے بھی زیادہ حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔سُرخ لہنگے اور بڑی آستین والے فل کرتے میں دولہن کا روپ اُس پر بہت سج رہا تھا۔۔۔چہرے پر جو حیا اور خوشی کے ملے جلے رنگ تھے اُنہوں نے خوبصورتی کو زیادہ ابھار دیا تھا۔۔۔۔,۔۔۔۔
اماں فلک تیار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارحم جلدی جلدی میں پوچھتا اندر آیا اور فلک پر نظر پڑی تو اُسے دیکھ کر رہ گیا بے ساختہ آگے بڑھ کر اس کی پیشانی چوم لی۔۔۔۔۔
اُس کے ساتھ بیٹھی حیا ارحم کے اتنے قریب آنے پر اُس کی خوشبو محسوس کرکے سانس روک۔گئی۔۔دل رفتار سے دھڑکنے لگا۔۔
۔۔۔شمع نے مسکرا کر فلک کو اپنے ساتھ لگا لیا۔۔۔۔اس سے پہلے کے وہ رونا شروع کر دے
اماں ۔۔ سب تیار ہے نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں گاڑی لے کر آتا ہوں پھر فلک کو لے چلتے ہیں۔۔۔۔۔۔
وہ اب پلٹ کر اماں تک آیا اور جلدبازی میں بول کر باہر نکلنے لگا۔۔شام کے پانچ بجنے والے تھے اور مہمان آنا شروع ہو گئے تھے
ٹھیک ہے اور سن۔۔۔۔۔۔۔۔
اماں نے اُسے روکا اور کچھ ہدایت دینے لگی جب کے وہ اُن کی سننے کے ساتھ وقفے وقفے سے پیچھے دیکھ رہا تھا
شمع حیا کے مانگ ٹیکے کو ٹھیک کر رہی تھی۔۔۔بلیک شرارہ سوٹ میں آج وہ ارحم کو بچا کچا بھی گھائل کرنے کے ارادے سے تیار ہو کے آئی تھی۔۔۔ارحم کی نظروں کی تپش سے اُسے پسینہ آرہا تھا
سفید کرتے پر بلیو واسکٹ پہنے وہ بھی بہت اچھا لگ رہا تھا حالانکہ چہرے پر اب بھی چوٹ کے نشان تھے
وہ اماں کی بات پر سر ہلاتا باہر نکل گیا۔۔۔۔
فلک کو جس گاڑی میں شادی ہال لےجانا تھا وہ سجانے کے لیے بھیجی گئی تھی اور اب ارحم وہ گاڑی لینے جا رہا تھا تاکہ وہ وقت سے وہاں پہنچ سکے۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے دوست کی بائیک پر بیٹھ کر وہاں سے نکلا
بائیک جس موڑ سے پلٹ کر آگے بڑھی تھی اُس کے مخالف موڑ سے کالے رنگ کی جیپ تیزی سے اندر گلی میں داخل ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔
لوگوں نے ہڑبڑا کر اس جیپ کو راستہ دیا
اُس نے گھر کے دروازے کے آگے آکر ایکدم سے بریک لگائی اور گاڑی سے اتر کر اندر گھس گیا۔۔۔۔
سب ہی حیرانی سے اُس شاندار شخص کو دیکھ رہے تھے جو سفید ٹرانسفر نٹ شرٹ اور بلیو جینس میں آنکھوں میں وحشت لیے اندر بڑھ رہا تھا۔۔۔
کون ہو بھئی ۔۔۔۔کہاں گھسے چلے آرہے ہو۔۔۔۔۔
فلک کی پھُوپھی اُس کا راستہ روکتے ہوئے بولی وہ اُنہیں نظر انداز کرکے سائیڈ سے آگے بڑھا اُس کمرے کی طرف جہاں سے لڑکیوں کے ہنسنے کی آواز آرہی تھی
فلک کی اماں اُسے دیکھ کر اپنی جگہ پتھر بن گئی
اُنہیں اپنے گھر کی چھت گرتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی اُنہوں نے دیوار کا سہارا لے کر۔خود کو گرنے سے بچایا
سکندر اُس کمرے کے دروازے سے اندر گیا تو سب کی ہنسی تھم گئی ایکدم سے سنّاٹا چھا گیا
شمع اور اس کی کزنز فلک کو چھیڑ رہیں تھی وہ سر جھکائے شرما رہی تھی
اچانک اس خاموشی پر سر اٹھا کر اُنہیں دیکھا
اُن کی نظروں کے تعاقب میں دروازے کی طرف دیکھا تو آنکھیں پتھر ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے چہرے پر گھونگھٹ تھا لیکِن اُس جالی دار گھونگھٹ کی اونٹ سے اُس کا روپ سکندر کو بےخود کرگیا ۔۔فلک کی آنکھیں اُس کے دل کا حشر برا کر گئی
وہ اپنی جگہ پر اسٹل ہو کر اُسے دیکھتا رہ گیا ۔۔۔۔
فلک کے دل کی رفتار خوف سے تیز ہو گئی سکندر کی نیلی سرخ نگاہیں اُسے تیر کی طرح اپنی آنکھوں میں چبھی
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔اور شمع کے پیچھے ہوتے ہوئے اُس کا بازو پکڑ لیا۔۔۔۔
سکندر رفتا رفتا قدم بڑھائے اُس کے قریب آیا اور اس کی کلائی پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔۔۔فلک کے منہ سے چینخ نکلی وہ خوف سے لرز کر رہ گئی
یہ کیا کر رہے ہیں آپ ہاتھ چھوڑیں میری آپی کا,
شمع نے فلک کا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے گھبرا کر کہا وہ انسنی کرتا ہوا فلک کو اپنے ساتھ کھینچتے ہوئے باہر لیجانے لگا
اماں ہوش میں آتے ہوۓ ایکدم اُس کے سامنے آئی تھی جب وہ صحن سے گزر کر باہر جانے لگا۔۔۔۔فلک روتی ہوئی اُس کے ساتھ کھینچی چلی جا رہی تھی۔۔سب ہونقوں کی طرح دیکھ رہے تھے
چھوٹے سرکار میری بچی کو چھوڑ دیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اماں نے روتے ہوئے اُس کے آگے ہاتھ جوڑے تھے وہ آنکھوں میں نا گواری لیے اُنہیں دیکھ رہا تھا
شمع بھاگتی ہوئی اماں تک پہنچی
میرے بیٹے سے بہت بڑی بھول ہو گئی اُس کی سزا میری بیٹی کو مت دیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔آج اس کا نکاح ہے۔۔۔۔ ہم غریبوں پر رحم کیجئے۔۔۔۔میں آپ سے بھیک مانگتی ہوں۔۔۔۔۔
میرا بیٹا آئندہ کبھی آپکے سامنے سر نہیں اٹھائے گا۔۔۔۔
اماں روتے گڑگڑاتے اُس سے بھیک مانگ رہی تھی
فلک اپنی ماں کو بے بسی سے دیکھتی ہو اُس کی سخت گرفت سے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔آنسُو چہرے کو بھگو رہے تھے
سر تو کیا اب اُسے نظر اٹھانے کے قابل نہیں چھوڑوں گا۔۔۔
وہ سرد لہجے میں کہتا ہوا اماں کو ہاتھ سے سائیڈ پر کرتا آگے بڑھنے لگا اُس کی بات سمجھ کر اُن کا دل کانپ گیا تھا وہ چکراتے سر کے ساتھ زمین پر گر گئیں
شمع نے گھبرا کا اماں کی طرف بڑھنا چاہا لیکن فلک نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا وہ بے بسی سے دونوں کو دیکھ کر رہ گئی
فلک نے ایک ہاتھ سے اپنی بہن کا ہاتھ پکڑ کر اپنے قدموں کو آگے بڑھنے سے روکا اُس کی آنکھیں فریاد کر رہی تھی کے کوئی اُسے بچا لے لیکِن سب اس انسان کی آنکھوں کی وحشت سے گھبرائے اپنی جگہ کھڑے تھے شمع نے اس کے گلے لگتے ہوئے اُسے مضبوطی سے جکڑ لیا تھا
سکندر نے اُسے کھینچنا چاہا لیکِن وہ کسی طور پر شمع کو نہیں چھوڑ رہی تھی بس اُسے پکڑے اپنی بے ہوش پڑی اماں کو دیکھتی رویے جا رہی تھی
اس نے جنھجھلا کر ایکدم ہی اُس کی کلائی زور سے کھینچ کر اُسے شمع سے الگ کیا اور اٹھا کر اپنے کندھے پر ڈالا شمع بھی اس افتاد پر لڑکھڑا گئی
سکندر کے بال بکھر کر سر پر بندھی سفید پٹّی پر بکھر گئے
فلک پوری قوت سے چینخی تھی تاکہ اس کی پکار کِسی تک پہنچ جائے لیکن سب اُس کی آنکھوں کے سرد تاثر سے گھبرائے اپنی جگہ سن کھڑے تھے
اماں۔ں ں۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے کندھے پر مچلتی اپنی ماں کو دیکھتی ہوئی رو رہی تھی جو زمین پر پڑی تھی ۔۔۔۔اُس کے چہرے سے گھونگھٹ ڈھلک کر گھر کی چوکھٹ پر گرا تھا اور سکندر اُسے لیے چوکھٹ پار کرتا باہر آیا ایک ہاتھ سے فرنٹ سیٹ کا دروازے کھولے فلک کو اندر ڈالا اور دروازہ لاک کرکے خود ڈرائیونگ سیٹ پر آگیا۔۔۔۔
بھائی ئی ئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اماں۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دروازے کو زوروں سے ہلاتی چینخ چینخ کر سب کو پکار رہی تھی لوگ گلی میں جمع ہو کر تماشا دیکھ رہے تھے لیکن سکندر شاہ کے راستے میں آنے کی کسی میں ہمت نہیں تھی
اُس نے گاڑی کو موڑ کر اسپیڈ تیز کردی۔۔۔فلک دونوں ہاتھوں سے جیپ کے دروازے کو دھکیل کر کھولنے کی کوشش کر رہی تھی
فضا میں اُس کی چینخیں گونج کر گم ہو رہی تھی۔۔
سکندر نے اس کا بازو پکڑے اُسے اپنی جانب کھینچا اور ایک ہاتھ سے اسٹیرنگ سنبھال کر گاڑی چلانے لگا وہ خوف سے سانس روکے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
_∆∆∆∆∆