Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

ارے واہ۔۔۔۔۔۔۔آج تو بڑے صحیح وقت پر پہنچے ہو۔۔۔۔۔
چلو جلدی سے آجاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شیرازی مینشن کے تمام افراد اس وقت ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھے عباس صاحب کی نظر دروازے سے اندر داخل ہوتے اپنے بیٹے پر پڑی جو کم ہی کھانے کے وقت موجود ہوتا تھا مسکرا کر کہتے ہوئے اُسے اپنے پاس آکر بیٹھنے کا اشارہ کیا
گھڑی میں رات کے دس بج رہے تھے۔۔۔
مرد حضرات آج لیٹ گھر پہنچے تھے اس لیے ڈنر کے لیے وقت زیادہ ہو گیا تھا
نہیں ۔۔۔۔۔۔میرے کو بھوک نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب کا دھیان اپنی جانب پا کر اس نے زمین پر نظریں جمائے نفی کی
ہاں شہزادے ۔۔۔۔۔۔پتہ ہے کے تمہیں کبھی بھوک نہیں ہوتی لیکن اگر ہمارے ساتھ بیٹھ کر دو چار نوالے کھا لوگے تو موٹے نہیں ہو جاؤ گے۔۔۔چلو بیٹھو۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے رعب ڈالتے ہوئے پیار سے کہا تو وہ منع نہیں کر پایا اور آکر عباس صاحب کے ساتھ والی چیئر پر بیٹھ گیا باقی سب نے اُسے مکمل نظر انداز کیا
یہ ہاتھ کو کیا ہوا تمہارے۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے آگے رکھی پلیٹ سیدھی کرتے ہوئے اُن کی نظر ہاتھ پر پڑی جو پیچھے سے کافی سُرخ ہو چکا تھا اُن کے کہنے پر دادی نے بھی اس کے ہاتھوں دیکھا
کچھ نہیں ۔۔۔۔بس تھوڑی لگ گئی۔۔۔۔۔۔
اس نے جواب دیتے ہوئے فولڈ کی ہوئی آستین کو نیچے کھینچ لیا
سب نے بیزاری سے اس منظر کو دیکھا
تم دونوں بھائیوں کو بہت ڈھیل دی ہوئی ہے اس لیے بلکل لا پرواہ ہو گئے ہو دونوں۔۔۔۔۔۔
ایک تم ہو نا کھانے پینے کا ہوش نا وقت پر گھر آنے کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور وہ دوسرا بھی آجکل ہفتوں ہفتوں تک شکل نہیں دکھاتا ۔۔۔
عباس صاحب نے اس کی پلیٹ میں سبزی ڈالتے ہوئے کہا اس نے شرمندہ ہو کر سر جھکائے نوالہ منہ میں ڈالا
جب کے اُن کی بات پر رابعہ بیگم طنزیہ ہنسی
آپ داؤد کی برابری اس لڑکے کے ساتھ کر بھی کیسے سکتے ہے عباس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ عباس صاحب کو دیکھتی ہوئی تاسف زدہ لہجے میں بولی اور عباس صاحب نے اُنہیں پیشانی پر بل ڈالے دیکھا کے شاید و چپ رہ جائے۔۔۔۔۔
اس کا ہاتھ ایک پل کو تھما اور پھر سستی سے منہ تک آیا
وہ گھر نہیں آ پاتا کیوں کے اُسے اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے اکثر باہر رہنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔وہ وہاں کام کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے فرض نبھاتا ہے۔۔۔
گھر سے آوارہ گردی کرنے یا لوگوں سے لڑنے جھگڑنے کے لیے باہر نہیں جاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انہوں نے بہت کُچھ جتاتے ہوئے ایک نظر اس کے اُوپر ڈالی اور ناگواری سے کہا
باقی سب ایسے بیٹھے رہے جیسے وہاں ہو ہی نہ جب کے دادی نے پریشان ہو کر اسے دیکھا
وہ ہاتھ میں موجود نوالے کو منہ میں ڈال کے سامنے رکھے پانی کے گلاس کو اٹھا کر دو گھونٹ لیتا اپنی جگہ سے اٹھ گیا
اچھا دادی نیند آئی ہے ۔۔سونے جا رہا۔۔۔۔۔
اُس نے بناكسی کی طرف دیکھے کہا
کھانا تو کھا لو بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے فکرمندی سے ااُسے دیکھتے ہوئے کہا
نہیں بس ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دھیرے سے کہتا ہوا وہاں سے نکل کر سیڑھیاں چڑھتا اپنے کمرے میں چلا گیا
کیا ضرورت تھی تمہیں اس طرح بات کرنے کی اُسے کھانا تو کھانے دیتی کم سے کم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے جاتے ہی عبّاس صاحب غصے سے بولے
اور آپکو کیا ضرورت تھی میرے بیٹے سے اس لڑکے کی برابری کرنے کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں وہ گنڈا بدمعاش اور کہاں میرا داؤد۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے بیزاری سے کہا عبّاس صاحب نے آنکھیں ضبط سے بند کرکے کھولیں اور اپنی جگہ سے اٹھ گئے
تم سے بات کرنا یا تمہیں سمجھانا پتھر سے سر مارنے کے برابر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غصے سے بڑبڑاتے ہوئے پلیٹ اٹھا کر اس کے پیچھے چلے گئے جسے وہ چار نوالے لے کر چھوڑ گیا تھا
رابعہ بیگم اُن کی پشت کو گھورتی رہ گئی
تم دونوں میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔اٹھاؤ یہ سب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں بہوؤں کو اپنی طرف دیکھتے پا کر اُن کے غصے کا رخ اس جانب ہوا تو دونوں ہڑبڑا کر ٹیبل سمیٹنے لگیں۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس کے کمرے میں آئے تو امید کے مطابق وہ اپنے روم کی بجائے ٹیرس پر اپنے پسندیدہ کام میں مشغول تھا ۔۔۔۔۔۔۔
بنا شرٹ کے بلیک بنیان میں بینچ پریس ریگ کی بینچ پر سیدھا لیٹا لوہے کی مضبوط راڈ کو تھامے بھاری باربیل کو اوپر دھکیل رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔جس سے اس کے بازؤں اور گردن کی رگیں اُبھر کر واضح ہونے لگی تھی
شیرازی مینشن کے باقی کمروں کی بنسبت وہ کمرہ چھوٹا تو نہیں لیکن کافی سادہ تھا ۔۔۔ شو یا سجاوٹ بس نام کو ہی تھی ۔۔۔۔۔اس کی طرح اس کے کمرے کو بھی اہمیت دینا کوئی گوارا نہیں کرتا تھا اور اُسے کوئی فرق بھی نہیں پڑتا تھا کیوں کہ وہ اس گھر میں بہت ہی کم وقت گزارتا تھا۔۔اور وہ بھی کمرے سی زیادہ ٹیرس پر۔۔۔۔
روم ٹیرس کو اس نے اپنا پرسنل جم بنایا ہوا تھا۔۔۔۔
وہاں کئی سارے جمنگ ایکیوپمنٹ موجود تھے
عبّاس صاحب کھانے کی پلیٹ ٹیبل پر رکھ کر ٹیرس کی طرف بڑھے
تم اس طرح کیوں چلے آئے۔۔۔۔۔۔۔چلو کھانا کھا لو۔۔۔۔۔
اُنہو نے اُسے مخاطب کیا تو وہ ایک پل کو رکا اور پھر باربیل کو ریک میں اپنی جگہ پر رکھ کر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
رابعہ کی باتوں کا برا لگا؟
انہوں نے اس کے جھکے سر کو دیکھتے ہوئے پوچھا
نہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔کائے کو برا لگے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔
سئی تو بولتی ہے داؤد کی ماں۔۔۔۔
میں تو سالہ ہے ہی کامچور ۔۔۔نکما۔۔۔۔۔۔۔جاہل۔۔۔۔
داؤد کے جیسا تھوڑی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بنا سر اٹھائے مسکرا کر بولا وہ اس سے کچھ فاصلے پر رکھی چیئر پر بیٹھ گئے
اگر تمہیں پتہ ہے کے وہ اس وجہ سے تم پر غصہ کرتی ہے تو تم سدھر کیوں نہیں جاتے۔۔۔۔
کتنی دفعہ کہا ہے کے کچھ کام دھندا کرو۔۔۔۔۔
آگے پڑھنا چاہتے ہو پڑھائی شروع کرو
نہیں تو میرے ساتھ بزنس میں ہاتھ بٹاو
جو تمہیں اچھا لگتا ہے وہ کرو۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن تم سنتے ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب نے اُسے سمجھاتے ہوئے کہا
کچھ بھی کرنے سے حقیقت بدل نئیں جائے گی۔۔۔۔ میں جو ہوں وہ ہی رہوں گا
وہ سر نفی میں ہلاتے ہوئے بولا اور اُن کی جانب دیکھا
میرے کو ادھر سے جانے دو بس۔۔۔۔
اس کا لہجہ بیزار سا تھا۔۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب نے اُسے غور سے دیکھا۔۔۔
یہ گھر یہ زندگی یہ سب میرے واسطے نہیں ہے
میں لائق ہی نہیں ہے اِس سب کے۔۔۔۔۔۔۔
روز روز اپنی وجہ سے سب کو ناراض کرنا ۔۔
داؤد کی ماں اور آپکا جھگڑا کرانا
یہ سب کچ کچ میرے سے برداشت نہیں ہوتی۔۔۔۔۔
میرے کو تم سب کی لائف میں سکون مانگتا ہے جو میرے ادھر سے جانے پر ہی ملےگا
اس لیے جانے دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے لہجے میں بے بسی تھی کیوں کے اس کے آنے کے بعد سے گھر کا ماحول بدل گیا تھا جو وہ ہرگز نہیں چاہتا تھا اور یہ بھی جانتا تھا کے اس کے کچھ بھی کرنے سے وہ کبھی اُن کے دلوں میں جگہ نہیں بنا پائیگا۔۔۔۔۔۔کیوں کے اس کا ماضی کبھی نہیں بدل سکتا تھا۔۔۔ اپنی زندگی کے دس سال جیل کی چار دیواری میں گزار کر اس کے اوپر جو مجرم اور قاتل کا لیبل لگ چکا تھا وہ کبھی نہیں مٹ سکتا تھا
اگر تم چلے گئے تو میں جی نہیں پاؤں گا۔۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے ہمیشہ کی طرح اُسے اپنی بات وہیں ختم کرنے پر مجبور کیا وہ لب بھینچ کر رہ گیا
اور تم گئے تو داؤد بھی چلا جائیگا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ پرسوچ لہجے میں بولے
نہیں جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپن بات کریگا اس سے سمجھائے گا اُسے۔۔۔۔۔۔۔۔آپ ٹینشن مت لو۔۔۔۔۔۔
وہ فوراً بولا وہ اُن کا ڈر سمجھتا تھا لیکن داؤد کو بھی بہت اچھے سے جانتا تھا۔۔۔
لیکن مجھے میرے دونوں بیٹے چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مُجھے نہیں پرواہ کے سب کیا سوچتے ہے کیا کہتے ہیں۔۔۔۔پر جب تک میں زندہ ہوں تم یہیں رہو گے۔
اُنہوں نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔۔ وہ بے بس رہ گیا
میری سمجھ میں نہیں آتا کے تمہیں اُن سب کے اس رویے کو برداشت کرنے کی ضرورت کیا ہے۔۔۔۔
تم انہیں کوئی جواب کیوں نہیں دیتے۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے اب کے کچھ حیرت اور غصے سے کہا وہ نظریں پھیر گیا
اگر تم کچھ نہیں کہتے تو کم سے کم مجھے سب سے بات کرنے دو۔۔۔۔پھر دیکھنا کیسے سب کی عقل ٹھکانے آتی ہے۔۔۔اور رابعہ ۔۔۔۔۔وہ تو پیر پکڑ کر معافی مانگے گی تم سے۔۔۔۔۔۔۔
ایسا مت بولو میرے کو اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُن کی بات کاٹتے ہوئے بولا عبّاس صاحب نے اُسے دیکھا اور ایک گہری سانس لیتے ہوئے وہاں سے اٹھ گئے
چلو یہ سب باتیں چھوڑو اور چل کر کچھ کھا لو۔۔۔۔
بھوک نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
اس نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے کہا عبّاس صاحب نے اُسے مزید کچھ نا کہنا ہی مناسب سمجھا
ٹھیک ہے سو جاؤ اور کل جلدی اٹھ کر جانا اور اپنے لیے کوئی اچھی سی نوکری ڈھونڈھنا۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو اس نے سر ہلا دیا عبّاس صاحب اُسے تاسف سے دیکھتے ہوئے باہر نکل گئے۔۔۔۔اُن کی ہر بات پر وہ ہاں میں سر ضرور ہلاتا تھا لیکن مانتا نہیں تھا
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
صبح سات بجے کے وقت اس چھوٹے سے گاؤں کا کچّا ریلوے اسٹیشن سنسنان پڑا تھا۔۔۔۔۔۔کیوں کے اس گاؤں کی آبادی بہت تھوڑی ہی تھی ۔۔۔۔اور گاؤں سے شہر جانے کے لیے زیادہ تر بس سے سفر کیا جاتا تھا۔۔۔
ٹرین وہاں سے گزرتے ہوئے دس پندرہ منٹ اس چھوٹے سے اسٹیشن پر رک جایا کرتی تھی۔۔۔۔
پٹری سے تھوڑی دوری پر بنے بینچ پر ایک عورت اپنے پانچ سال کے بیٹے کے ساتھ اس ٹرین کے لیے منتظر بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔۔سانولے تھکن زدہ چہرے پر اُداسی اور غم کے سائے تھے اور انکھوں سے آنسوؤں کی بارش جاری تھی
بچہ اپنی ماں کا آنچل تھامے سوال پر سوال کرتا اُسے اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہ بس ایک ہی زاویے پر بیٹھی بے آواز رویے جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماں۔۔۔۔۔ ہم کہاں جا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی ماں کے چہرے کو دیکھتے اس نے پھر سے وہ سوال دوہرایا لیکن اب بھی کوئی جواب نہیں ملا۔۔
ٹرین کے ہورن کی آواز پر اس نے میکانیکی انداز میں چہرے کا رخ موڑا ۔۔۔۔۔۔۔آنکھوں میں خوف۔ پریشانی ۔بے بسی صاف جھلکنے لگی۔۔۔۔۔۔۔
ماں۔۔۔۔۔۔ دیکھو۔ٹرین۔۔ن ن ن۔۔۔۔
وہ بچہ ٹرین کو دیکھ کر بینچ پر کھڑے ہو کر خوشی سے تالیاں بجانے لگا۔۔۔۔
ٹرین اس کی نظروں کے سامنے آکر رکی تو وہ بمشکل اپنے بےجان ہوتے پیروں کے سہارے اٹھ کر کھڑی ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اپنے بیٹے کو گود میں اٹھا کر مرے مرے قدموں سے چلتی ٹرین کے اندر آ گئی۔۔
ٹرین کے آدھے سے زیادہ سیٹ خالی تھی اور صرف چند ایک پر مسافر بیٹھے تھے۔ اس نے ایک خالی برتھ پر اُسے بٹھایا اور اس کا معصوم چہره اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامے اُسے دیکھنے لگی
ہم کہاں جا رہے ہیں ماں۔۔۔۔۔۔۔۔
اس دفعہ اس نے اپنی ماں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کیا ۔۔۔۔۔۔
ہم شہر جا رہے ہیں ۔۔۔۔تجھے بہت سارے کھلونے چاہیے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے بھیگی آواز میں جواب دیا آنکھوں میں ممتا سموئے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔بچے نے سر کو زوروں سے ہلا دیا
دادی نہیں آرہی ہمارے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بچے نے اس کی انکھوں سے گرتے آنسوؤں کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔اپنی ماں کے یوں رونے سے پریشان تو ہو رہا تھا لیکن اُسے کئیں دفعہ روتے دیکھنے کے بعد اب عادت سی ہو چکی تھی
دادی بعد میں آجائے گی بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے پیشانی پر بکھرے گہرے براؤن بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے کہا۔اور لب بھینچے اپنی نم آواز کو روکا
لیکن تم رو کیوں رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اپنی چھوٹی سی ہتھیلی کو اس کے گال پر رکھتے ہوئے آنسو صاف کیا اس کا دل بے تحاشا بھر آیا
میں نہیں رو رہی بیٹے۔۔۔۔۔۔۔میں نہیں رو رہی۔۔۔۔۔۔
اس کی ہتھیلی کو ہاتھ میں لیے لبوں سے لگاتی زوروں سے رونے لگی۔۔۔۔۔۔وہ پریشان سا اُسے دیکھنے لگا۔۔۔تو اس نے اپنی دونوں ہتھیلیوں سے چہرے کو رگڑا
تجھے بھوک لگی ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے محبت سے پوچھا
ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے معصومیت سے سر ہلا دیا
تو میں تیرے لیے کچھ کھانے کو لے کر آتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
تو یہیں رکنا ۔۔۔۔۔۔کہیں مت جانا۔۔۔۔۔۔۔
اپنے دل کے ہزاروں ٹکڑے کرتی اُسے دیکھنے لگی اس نے گردن ہلا دی
ڈرنا نہیں۔۔۔۔۔میرا بہادر بیٹا ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا گلے میں آنسوؤں سے آواز اٹکنے لگی۔۔۔۔
اس کے چہرے کو ہاتھوں سے چھو کر اپنی آنکھوں میں قید کرنے لگی۔۔اور پھر بڑی مشکل سے وہاں سے اٹھ کر جانے لگی
ماں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب ایکدم سے اس نے پکارا تو قدموں سمیت دل کی دھڑکن بھی رک گئی۔۔۔۔۔ آنکھیں سختی سے بند کرکے کھولیں اور۔۔اس کی جانب دیکھا
جلدی آ جانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے معصومیت سے کہا تو ضبط کھو کر روتی ہوئی آگے بڑھی اور اُسے سینے سے لگا لیا
مجھے معاف کر دینا بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی ماں کو معاف کر دینا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے بالوں اور پیشانی کو بے تحاشا چومتے ہوئے بار بار کہتی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چند سیکنڈ اُسے خود سے لگائے رکھا اور پھر آہستہ سے اس کا سر اپنی گود میں رکھ کر اس کے بالوں کو پیشانی سے ہٹانے لگی ۔۔۔۔۔۔۔
بچے کو سکون محسوس ہوا تو اس نے آنکھیں موند لی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹرین کی سیٹی کی آواز پر وہ بے بسی سے اس کے چہرے کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے دل کو کسی نے پیروں کے نیچے کچل دیا ہو۔
اپنے سرخ آنچل سے اس کے چہرے پر گری اپنی آنسو کی بوند کو صاف کرتے ہوئے بے حد دھیرے سے اس کا سر اپنی گود سے ہٹا کر سیٹ پر رکھا اور وہاں سے اٹھ کر آگے بڑھتی ٹرین سے نیچے اتر گئی۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
کیوں ضد کر رہی ہو نین۔۔۔۔۔۔تمہارے پاپا کِسی میٹنگ میں پھنس گئے ہوں گے بیٹا۔۔۔۔کیک کاٹ لو نا۔۔۔۔۔۔
زینب نے اُس کے اُداس چہرے کو فکرمندی سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔
سفید پیروں کو چھوتی خوبصورت گاؤن اور کھلے بالوں میں ڈائمنڈ کا کراؤن پہنے وہ حسین شہزادی لگ رہی تھی لیکن اُس کے ہمیشہ مسکراتے چہرے پر اُداسی تھی۔۔۔۔
آج اُس کا اٹھارھواں جنم دن تھا ۔۔۔۔۔اُس کے کچھ دوست اور جان پہچان والوں کو مدعو کرکے چھوٹی سی پارٹی دی گئی تھی لیکِن اُس کے پاپا ہی اُس کی خوشی کا حصہ نہیں بنے تھے۔۔۔۔
شام سے رات ہو گئی تھی اور سالگرہ کا دِن ختم ہونے میں پندرہ منٹ بچے تھے لیکِن اُس نے کیک نہیں کاٹا تھا۔۔۔۔۔
اُس کے دوست اورباقی سب کھانا کھا کر یونہی جا چکے تھے اور وہ اب بھی ضد پر تھی کے اپنے پاپا کے بنا کیک نہیں کاٹے گی
نہیں ممی۔۔۔۔پاپا کے بنا نہیں۔۔۔۔۔
اس نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے بالوں سے کراؤن نکال کے سامنے ٹیبل پر رکھے کیک کے پاس رکھا
نینو دی اگر پاپا صبح تک بزی رہے تو کیا تم کیک نہیں کاٹو گی۔۔۔۔۔
روما نے جمائی روکتے ہوئے اُکتا کے کہا
ایسا ضروری تو نہیں کے کیک نہ کاٹا تو عمر آگے نہیں بڑھتی۔۔۔۔۔۔۔۔ممی مجھے نیند آرہی ہے میں سوتی ہوں پلیز۔۔۔۔
وہ منہ بنا کے کہتی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی زینب کچھ کہتی اُس کے پہلے ہے بیل بجی
پاپا آگیے۔۔۔۔۔۔۔۔
روما جوش میں آکر چلاتی دروازے تک بھاگی نین بھی مسکرا دی l
حلانکہ زینب اب غصّے میں تھی
سوری سوری سوری۔۔۔۔۔۔یہ کیا کیک کٹ نہیں کیا اب تک۔۔۔۔۔
وقار صاحب اندر آتے ہوۓ جلد بازی میں بولے
آپ جانتے ہیں کے وہ آپ کے بنا کیک نہیں کاٹے گی تو کیوں ایسا سوال کر رہے ہیں وقار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زینب نے غصّے سے کہا
زینب میں میٹنگ میں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
وقار نے اپنی صفائی دی
ایسی کونسی میٹنگ ہوتی ہے آپکی جو کسی بھی خاص موقع پر ہمیں آپ کا گھنٹوں اِنتظار کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔آپ کے لیے آپکا کام آپ کی بیٹیوں سے بھی زیادہ ہو گیا۔۔۔۔۔۔اب سال کا ایک دن بھی آپ انہیں نہیں سے سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔
زینب غصے اور دکھ سے بولی نین نے اُسے روکنا چاہا لیکن کو انسني کر گئی روما بھی بیزاری سے صوفے اور گر گئی
بس زینب کس طرح بات کر رہی ہو تم۔۔۔۔۔۔تم جانتی ہو میں اپنی بیٹیوں کو کتنا چاہتا ہوں یہ دونوں میری زندگی ہے۔۔۔۔۔۔اگر میں۔تھوڑا لیٹ ہو گیا تو اس میں ایسی کیا قیامت آگئی۔۔۔۔۔
وقار صاحب بگڑ کر بولے
تھوڑی دیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زینب نے پیشانی پر بل ڈالے کہا نین نے آگے کچھ کہنے سے پہلے ہی اُنہیں پیچھے کھینچ لیا
ممی ۔۔۔۔۔پلیز۔ممی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ رونی صورت بنائے بولی تو زینب نے سر جھٹکا وقار صاحب اب بھی ناراض نظروں سے اُسے دیکھ رہے تھے
پاپا آپ ٹینشن مت لیجئے ۔۔۔۔ممی کو غصّہ آگیا نا اس لیے ایسا کہہ رہی ہیں۔۔۔۔۔ہمیں پتہ ہے کے آپ ہم سے بہت پیار کرتے ہیں۔۔۔۔۔اور آپ کے دیر سے آنے کا یا اپنے کام کو امپوٹنس دینے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کے آپ کے لیے کام ہم سے زیادہ اہم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین پیار سے اُن کا بازو تھام کے چہرے سے لگاتے ہوئے بولی وقار نے مسکرا کر اُسے دیکھا
دیکھا کتنی سمجھدار ہے میری بیٹی۔۔۔۔۔۔
اُس کی پیشانی چومتے ہوئے بولے تو وہ خوبصورتی سے ہنس دی
ہاں سمجھدار ہے اسی لیے ڈر لگتا ہے کے سمجھ نہ جائے کے اُس کے پاپا شہرت کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اپنی فیملی سے دور ہو گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
زینب نے دکھ سے وقار کو دیکھا
زینب یار سوری نا۔۔۔۔۔۔۔۔
وقار نے محبت سے زینب کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا جس کو وہ فوراً چھڑا گئی۔۔
پاپا ممی آپ۔سے لیٹ آنے کی وجہ سے ناراض نہیں ہے
نین نے وقار صاحب کو طرف ہوتے رازدارانہ انداز میں کہا لیکن اچھی خاصی آواز میں
تو۔۔۔۔۔۔۔
وقار صاحب نے سوالیہ انداز میں زینب کو۔دیکھا جو اُن کے دیکھنے پر منہ پھیر گئی
وہ آپ نے کہا نا کے میری دونوں بیٹیاں میری زندگی ہے اس لیے ممی کو برا لگا گیا۔۔۔کے آپ نے اُنہیں اپنی زندگی کیوں نہیں کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین شرارت سے بولی وقار صاحب ہنس دیے اور زینب نے نین کو آنکھیں دکھائی
نین۔۔۔۔۔۔۔۔
زینب کی غصے بھری پکار پر نین کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔۔ وقار نے بھی ہنستے ہوئے اپنی بیٹی کو گلے لگا لیا اور زینب بھی ہنس دی
(
آپ کے آگے بڑھنے کے جنون نے میرا دل تو توڑ دیا بس میری بچیوں کا دل نہ توڑ دے۔۔۔۔۔۔
نین کو روما اور وقار کے ساتھ کیک کاٹتے ہوئے دیکھ زینب نے خفا نظر وقار صاحب پر ڈالتے ہوئے سوچا
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
داؤد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سامنے کھڑے سپاہی کو ہدایات دے رہا تھا جب پیچھے سے کسی کے پکارنے پر پلٹا۔۔ ہوا کے سرد جھونکے نے اس کے چہرے کو چھوا تو بال اس کی سبیح پیشانی کو واضح کرکے دوبارہ ڈھک گئے
ندی کے کنارے کھڑے مضبوط درخت کی چند پتیاں آکر اس کے پیروں میں گری
کمال کردیا تم نے چار دن میں ہی اس کیس کو سلجھا دیا ۔۔,۔۔۔۔
اس کے سامنے کھڑے اس علاقے کے ڈی ایم نے اس کی تعریف کی تو وہ ہلکا سا مسکرایا
اس کے ڈیپارٹمنٹ کا کام اسپیشل آرڈرز پر کچھ خاص کیسز کی تفتیش کرنا تھا اور ایسے ہی کسی کیس کے سلسلے میں وہ اس وقت مہاراشٹر کے ایک چھوٹے سے شہر میں موجود تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کیس کی تفتیش مکمل ہو چکی تھی اور اس وقت آخری دفعہ ندی کے آس پاس کی جگہ کا جائزہ لے کر رپورٹ میں درج کر رہا تھا شام تک سارے پیپر سبمٹ کرکے اُسے ممبئی کے لیے نکلنا تھا
یہ کیا بات ہوئی۔۔۔۔۔۔۔مانا کے ہمارا شہرِ چھوٹا ہے لیکن یہاں خوبصورتی کی کمی نہیں۔۔۔۔۔۔۔کچھ دن تو یہاں رک کر ہمیں اپنی خاطر کرنے کا موقع دو۔۔۔۔۔۔
اس کے جانے کی بات سن کر ڈی ایم نے مسکرا کر کہا
میں آپکی بات سے انکار نہیں کر سکتا لیکِن اس وقت ذرا مشکل ہے ۔۔۔۔آئندہ کبھی۔۔۔۔۔۔۔
وہ خوبصورتی سے ٹال گیا۔۔۔۔۔۔اور بات بدل کر اس کیس کے بارےمیں بتانے لگا تب ہی ایک سپاہی تیزی سے چلتا اس کے سامنے آیا
سر ندی کے کنارے کسی لڑکی کی لاش ملی ہے
اس نے جلدی سے اطلاع دی تو داؤد حیرت سے اُسے دیکھتا فورا سے آگے بڑھا جب کے ڈی اایم وہی کھڑا اُسے دیکھنے لگا
داؤد زمین پر بےہوش پڑی اس لڑکی کو دیکھ کر جُھکا اور اس کی کلائی تھامے نبض چیک کی۔۔۔اس کے چہرے پر پریشانی کے تاثر تھے۔۔۔۔
لڑکی کا چہرہ پانی میں رہنے سے نیلا پڑ رہا تھا
سرخ کپڑوں سے اس کے دولہن ہونے کا اندازہ ہو رہا تھا جو جگہ جگہ سے پھٹ چُکے تھے۔۔۔۔۔۔
اس کی سانسیں چل رہی ہیں گاڑی نکالو جلدی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی ناک کے قریب دو انگلیاں رکھتے ہوئے اس کی مدھم چلتی سانسوں کو محسوس کیا تو جلدی سے سامنے کھڑے آدمی کو اشارہ کیا
خود اس لڑکی کو بازؤں میں اٹھائے تیز قدموں سے گاڑی کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔
شہر کے اس چھوٹے سے ہسپتال کے ڈاکٹر فوراً اس لڑکی کو اپنی نگرانی میں لیے اس کا علاج شروع کر چکے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے اس علاقے کے انسپیکٹر کو اطلاع دے کر ساتھ ہی اس لڑکی کے بارے میں معلوم کرنے کا آرڈر بھی دے دیا تھا۔۔۔۔
حلانکہ یہ اس کی ڈیوٹی میں شامل نہیں تھا لیکِن وہ بہت دیر تک ہاسپٹل میں رکا بے چینی سے ڈاکٹر کے باہر آنے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️