Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Nain Sahil (Episode 103)
No Download Link
Rate this Novel
Nain Sahil (Episode 103)
Come in۔۔۔۔۔
دروازہ ناک ہونے کی آواز پر اجازت دیتے ہوئے اُس نے خود کو تیار کرنے والی بیوٹیشن کو روک کر آنے والے کی جانب دیکھا۔۔۔
اور پورب کو سامنے دیکھ اُس کے چہرے کے تاثرات بدلے
اُس نے بیوٹیشن کو باہر جانے کا اشارہ کیا اور اپنی جگہ سے اٹھ گئی۔۔۔
اسکائی بلیو کلر کی بنا بازؤں والی خوبصورت اور بیش قیمت پیروں کو چھوتی فراک ہمرنگ جویلری اور میک اپ میں وہ اتنی خوبصورت اور الگ لگی کے پورب کے لیے پل بھر کو نظر ہٹانا مشکل ہوا۔۔۔۔
مجھے لگا تھا تم نہیں آؤگے۔۔۔لیکن تم تو سب سے پہلے آگئے۔۔۔۔۔آۓ ایم سرپرائز۔۔۔۔
اُس نے مسکراتے ہوئے طنز کیا تو جواب میں وہ بھی مسکرایا
کیسے نہیں آتا ۔۔۔تم نے اسپیشلی انوائیٹ جو کیا تھا۔۔۔اور تمہارا خاص دوست ہونے کے ناطے غیروں سے پہلے تمہاری خوشی میں شامل ہونا تو بنتا ہے نہ۔۔۔
قدم اُس کی طرف بڑھاتے ہوئے اُس کے سامنے آکر رکا اور مسکرا کر بولا
I m suprised again۔۔۔۔
تمہیں اب بھی ہماری دوستی یاد ہے۔۔۔۔
مجھے تو لگا تم بھول گئے۔۔۔۔ تبھی تو آجکل بات بات پر میرا دل دکھاتے ہو۔۔۔۔
انجو نے پھر طنز کیا لیکن اب افسوس اور دکھ سے۔۔۔وہ اُس کی اُداس آنکھوں میں دیکھ کر ہلکا سا ہنسا۔۔۔
دکھ بن کر ہی صحیح کم سے کم تمہارے دل تک میری پہنچ تو ہے۔۔۔
وہ گہری نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے بولا اور پھر آس پاس دیکھا جہاں کمرے میں چاروں دیواریں ڈھیروں تصویروں سے سجی ہوئی تھی۔۔۔
کچھ بچپن کی کچھ تھوڑی پرانی کچھ بلکل چند مہینے پہلے کی لیکِن آدھے سے زیادہ تصویریں اُن دونوں کی تھی
کوئی ساتھ برتھڈے مناتے ہوئے۔۔کوئی سفر کے دوران کی تو کوئی اور خوبصورت سے یاد۔۔۔
یہ تصویریں تم نے اب تک ایسے ہی رکھی ہُوئی ہے ۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے اُس کے پیچھے کی دیوار پر لگی تصویروں کو دیکھتا ہوا بولا۔ ۔
یہ تصویریں نہیں انمول یادیں ہے۔۔۔
انجو اُس کی مسکراہٹ کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔
جنہیں تم نے بے مول کردیا۔۔۔۔
پورب نے فوراً اُس کی جانب دیکھ کے سنجیدگی سے کہا تو وہ حیرت سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
میری زندگی میں کِسی کے آجانے سے یہ بے مول کیسے ہو گئے پورب۔۔۔۔کیا میرا دکش سے محبت کرنا گناہ ہوگیا جو اب میں تمہاری دوستی کے قابل نہیں رہی۔۔۔۔
وہ حیرت اور پریشانی سے اُسے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔۔کیوں کے پورب کی باتیں اُسے بری طرح تکلیف دے رہیں تھیں
محبت۔۔۔۔۔۔
اُس کی بات کے آخر میں وہ ایک لفظ کہہ کر ہنسا
یہ محبت نہیں ہو سکتی انجو۔۔۔۔
اور پھر بلکل سیریس ہو کر اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔انجو غور سے اُسے دیکھتی سمجھنے کی کوشش کرنے لگی کر آخر وہ کیوں یقین نہیں کرتا۔۔۔۔
تمہاری نظروں سے پہلے وہ تمہارے دل کو بھا تا تو شاید محبت ہوتی۔۔۔۔۔
وہ اُس کے مقابل کھڑا دونوں ہاتھ پاکٹز میں ڈالے اُس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولنے لگا
چہرے سے پہلے تمہیں احصاسوں میں الجھاتا تو شاید محبت ہوتی۔۔۔۔
اور انجو حیرت سے اُس کے بدلے تیور دیکھنے لگی۔۔۔
تم اُسے دیکھ کر اگر سب رنگوں کو بھول جاتی اور تمہیں ہر رنگ اُس میں نظر آتا تو شاید محبت ہوتی۔۔
اور اُس کی اجنبی نظریں انجو کو خود میں جکڑ رہی تھی ۔۔۔
بات کرتے کرتے کہیں دور نکل جاتی۔۔۔دن ڈھل جاتے تم چپ نا ہو پاتی تو شاید محبت ہوتی۔۔۔۔
اور اُس کے لہجے کی سنگینی ذہن کو اُلجھا رہی تھیں۔۔۔
ہنس کر تو تم سب سے بات کرتی ہو۔۔۔اُس کے آگے اگر رو پاتی تو شائد۔۔۔مُحبت ہوتی۔۔۔۔۔
اُس کا لہجہ بدل رہا تھا اور انجو کی دھڑکنیں بدل رہیں تھیں
بجائے سنگھار کے اُسے آئینہ بناتی۔۔۔۔خوبصورتی سے زیادہ اُسے کمیاں دکھاتی تو شاید محبت ہوتی۔۔۔۔
اُس کی آواز دھیمی ہوئی تھی۔۔لفظ پرسوز ہوئے تھے۔۔
ہم قدم سے پہلے ہمراز بناتی تو شاید محبت ہوتی۔۔۔۔۔
اور دونوں کی نظروں کی طرح وقت بھی مانو ایک جگہ تھم گیا۔۔
جو پہنی ہے وہ مسکان نہیں۔۔۔۔۔جو چھپایا ہے وہ ڈر اُسے بتاتی تو شاید محبت ہوتی۔۔۔۔
اُس کا ہر لفظ انجو کے اندر اُتر رہا تھا۔۔۔۔
ٹائم اسپینڈ کرنے کی بجائے چند لمحے جی کر آتی تو شاید محبت ہوتی۔۔۔
اور انجو کے دل میں بےچینی بڑھ رہی تھی۔۔۔۔
جہاں تک تمہیں میں نے دیکھا ہے ۔۔۔اُسے خود کو اتنا بھی دکھا پاتی تو شاید محبت ہوتی۔۔۔۔۔
اُس کی نظریں بھی مانو بول رہی تھی ۔۔۔انجو کے لیے پلکیں جھپکنا بھی q نا ممکن سا تھا۔۔۔
یہ محبت نہیں ہے۔۔۔۔۔
وہ تھوڑا اُس کے قریب ہوا لیکن وہ محسوس نہیں کر پائی۔۔۔
سونے سے پہلے گڈ نائٹ اور جاگتے ہی گڈ مارننگ کا میسیج کرنا محبت نہیں ہے۔۔۔۔
آخری اور پہلا خیال اُس کے نام کردینا محبت ہے۔۔۔۔۔
وہ بھاری لہجے میں کہتا تھوڑا اور قریب ہوا۔۔۔
اُس کے ساتھ خوشیاں منانا محبت نہیں۔۔۔۔اُسے بے چینی میں سکون کی طرح محسوس کرنا محبت ہے۔۔۔
آواز اور دھیمی ہوئی۔۔۔فاصلہ اور کم ہوا۔۔۔۔دھڑکنیں اور بڑھیں۔۔۔
محبت کی باتیں محبت کے دعوے۔۔۔دِن رات اظہار یہ محبت نہیں۔۔۔۔۔خاموش ہو کر بھی نظروں کو سن لینا محبت ہے۔
فاصلہ برائے نام رہ گیا۔۔۔۔۔نظریں نظروں کو اور سانسیں سانسیں کو چھونے لگی۔۔۔۔۔
جیسے میں سن سکتا ہوں۔۔۔۔۔ تمہاری آنکھوں کو۔۔۔۔
وہ اتنے قریب آکر اُس کی آنکھوں میں دیکھتا گمبھیر سرگوشی میں بولا اور اُس کی سانسوں نے جب چہرے کو چھوا تو وہ ہوش میں آئی اور گھبرا کر پیچھے ہوئی۔۔۔۔دھڑکنیں بے ترتیب ہوئیں آنکھوں میں حیرت ہی حیرت تھی۔۔۔۔۔۔اس کے لفظوں کی وجہ سے بھی اور اس کے بدلے انداز کی وجہ سے بھی۔۔۔
مجھے اپنی باتوں میں اُلجھا کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہو تم پورب۔۔۔۔۔
وہ گھبراہٹ کو غصے میں چھپا کر ناگواری جتاتے ہوئے بولی تو وہ مسکرایا
تمہاری اُلجھن مٹانا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔
وہ چاہت بھری نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔انجو نے خشک گلے کو تر کیا۔۔۔اس کے احساسات پہلی دفعہ کچھ الگ اور کافی عجیب تھے ۔۔۔۔جنہیں وہ سمجھنے میں ناکام تھی۔۔۔
سارے سوالوں کے جواب مل جائیں گے تمہیں۔۔۔۔۔زیادہ اِنتظار نہیں کرنا ہوگا۔۔۔۔۔کچھ دیر اور بس۔۔۔۔۔
جب دکش میری اُنگلی میں رنگ پہنا کر مجھے اپنا بنائیں گے تب تم اپنی نظریں میرے چہرے سے مت ہٹانا۔۔۔غور سے دیکھنا کے کیسی ہوتی ہے اپنی محبت کو پا لینے کی خوشی۔۔۔۔۔
اور اگر تب تمہیں احساس ہوجاے کے تم اور تمہارے تجزیے کتنے غلط تھے تو آکر مجھے کہہ دینا کے انجو میں غلط تھا۔۔۔۔
میں اُسے اپنا ویڈنگ گفٹ سمجھ لوں گی۔۔۔۔
وہ سنبھل کر۔۔۔۔ غصے سے اُسے دیکھتی ہوئی ایک ایک لفظ پر زور دے کے بولی تو اُس کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔۔۔
۔۔۔گفٹ سے یاد آیا۔۔۔۔
وہ اُس کی غصے اور اُلجھن سے بھری آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا اور ایکدم سے اُس کی طرف بڑھ کر اُس کا چہرہ تھامے اُس کے لبوں پر جھک کر اُنہیں قید کر گیا۔۔۔۔۔
وہ صدمے سے سانس لینا بھول گئی ۔۔۔۔۔۔آنکھیں جہاں کی وہاں ٹھہری رہ گئی۔۔۔۔۔۔دھڑکنیں رک گئیں۔۔۔۔
چند سیکنڈ بعد وہ پیچھے ہوا لیکِن دور نہیں۔۔۔وہ حیرتوں کا جہان آنکھوں میں لیے اُسے دیکھتی رہ گئی اور وہ مسکرایا۔۔۔
اپنے ایکسپریشن تھوڑے شارپ رکھنا انجو۔۔۔۔۔کہیں میں کچھ مس نا کردوں۔۔۔مجھے شدت سے اِنتظار ہے اُس لمحے کا جب وہ تمہیں رنگ پہنائے گا ۔۔۔یہ دیکھنے کے لیے کے تب تمہارے چہرے پرکیا نظر آتا ہے۔۔
اُسے پا لینے کی خوشی یا میرے چھو لینے کا احساس۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے چہرے کو اپنے لفظوں اور سانسوں کی تپش سے مہکاتا مسکراتے لہجے میں بولا اور قدم پیچھے لیتا اُس سے دور ہو کر وہاں سے چلا گیا
انجو کو حیرتوں اور بکھری دھڑکنوں کی زد میں چھوڑ کر۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆
۔
نین میں باہر۔۔۔۔۔
ریا اُسے اپنے جانے کا بتانے کے لیے اُس کے روم میں آئی لیکن دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتے ہوئے اُس کی نظر جب شیشے میں نین کے عکس پر پڑی تو حیرت سے بات ادھُوری رہ گئی۔۔۔۔
وہ ڈارک بلیو کلر کے ہیوی ۔۔۔۔چھوٹے چھوٹے شیشوں کے ورک والے لہنگے چولی پر سیم کلر کا اوپن جیکٹ پہنے۔۔۔۔۔ ہیوی جویلری اور گہرے میک اپ میں خطرناک حد تک خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔بلکل ایک نئی دلہن کی طرح جس نے سنگھار میں کوئی کسر نہ چھوڑی ہو۔۔۔۔
لیکِن ریا کے حیران ہونے کے وجہ صرف اُس کا تیار ہونا نہیں بلکہ اس طرح تیار ہونا بھی تھا جیسے وہ پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔
نا باہر کِسی پارٹی کے لیے نا گھر کی یا کسی دوست کی شادی کے لیے۔۔۔۔
کانوں میں بڑے بڑے ایرنگز جن سے وہ ہمیشہ چڑ کهاتی تھی
ماتھے پر بڑا سا مانگ ٹیکہ جو اُسے کبھی پسند نہیں تھا۔۔۔۔
ہاتھوں میں بھر بھر کر چوڑیاں جن کی آستینوں کے آگے جگہ بھی نہیں تھی۔۔۔
چہرے اور آنکھوں پر گہرا میک اپ جس کی اُسے ضرورت نہیں تھی۔۔۔۔۔۔
تم اتنا تیار ہو کر کہاں جا رہی ہو نین۔ ۔
ریا نے اپنی حیرت سے نکل کر آگے بڑھتے ہوئے پوچھا تو وہ اُس کی جانب پلٹ کر مسکرائی۔۔
وہیں جہاں تم جا رہی ہو۔۔۔۔
مسکراتے ہوئے اُس کے سرخ لپ سٹک سے سجے ہونٹ بے حد خوبصورت لگ رہے تھے لیکن اُس کی مسکراہٹ خوبصورت نہیں تھی۔۔۔۔بلکہ بے حد عجیب تھی۔۔۔
آنکھوں میں کاجل کی سیاہی سے زیادہ ضبط کی سرخی تھی۔۔۔
لیکِن میں تو ایک پارٹی میں جا رہی ہوں ۔۔بتایا تو تھا تمہیں۔۔۔۔۔۔
اُس نے پریشانی سے جواب دیا ۔۔۔اب بھی انجو اور دکش کا ذکر نہیں کیا۔۔۔
ہاں تو میں بھی وہیں چل رہی ہُوں۔۔۔انجو نے اتنے پیار سے آنے کو بولا ہے۔۔۔جانا پڑیگا نا۔۔۔۔
وہ ایکسائیٹڈ انداز میں بولی۔۔۔
ریا کو اُس کی اکسائٹمنٹ پر حیرت بھی ہوئی اور اپنے بات چھپانے کا دکھ بھی ہوا ۔۔۔۔
سوری نین میں نے تمہیں اس لیے نہیں بتایا کیوں کے مجھے لگا تم ہرٹ ہوجاؤ گی۔۔۔م۔۔۔۔میں بہُت اُلجھ گئی تھی
مجھے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کے مجھے اپنی ایک دوست کے لیے خوش ہونا چاہیے یا دوسری کے لیے دکھی ہونا چاہیے۔۔۔۔۔
اُس نے افسوس سے کہا۔۔۔
۔۔۔لیکِن میں تو بلکل دکھی نہیں ہوں ۔۔۔تمہیں میں کہیں سے لگ رہی ہوں کیا دکھی یا پریشان۔۔۔۔
وہ ہنس کر بولی تو ریا کو اُس کی ہنسی بھی بلکل خالی لگی۔۔۔
میں تو بہت خوش ہوں۔۔۔۔اسمائیل بھی کر رہی ہوں۔۔۔۔اتنی ایکسائٹڈ ہوں وہاں جانے کے لیے۔۔۔۔میں دکھی نہیں ہوں ۔۔۔۔۔
وہ اپنی ہی بات پر زور دیتے ہوئے ریا کو مزید حیران پریشان کر گئی ۔۔
وہ اُسے بہت اچھے سے سمجھتی تھی اسلئے اُسے صاف نظر آرہا تھا کے آج اُس کا ہنسنا مسکرانا اُس کی باتیں کچھ بھی نارمل نہیں ہے۔۔۔سچے نہیں ہے
لیکِن تم۔۔۔۔تمہیں اتنا تیار ہوتے میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ۔۔گھر کے فنکشنز میں بھی نہیں۔۔۔۔۔
وہ اُسے جانچتے انداز نے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی تو نین نے اُس کی بات کاٹی۔۔
گھر پر تو میں دن رات ہی ہوتی ہوں نا۔۔۔
دہلی تھوڑی نا روز روز آتی ہوں۔۔۔
اور وہ بھی اتنی بڑی پارٹی میں۔۔۔۔ تھوڑا تو چینج ہونا چاہیے نہ ۔۔۔۔
اور پھر سب کو سمجھ بھی آنا چاہیے کے میں واقعی خوش ہوں۔۔۔۔۔
اس نے پھر اپنے خوش ہونے پر زور دیا۔۔اُس کے بات کرنے پر اُس کے کان میں موجود ایرنگ کے گھنگھرو بھی حرکت کر رہے تھے۔۔
ریا کو یقین ہو گیا تھا کے وہ ٹھیک نہیں ہے
خوشی بھاری کپڑوں اور گہنوں سے نظر نہیں آتی نین۔۔۔ہم کہیں نہیں جائیں گے۔۔۔۔
ریا نے اُس کی بات کا جواب دیتے ہوئے جب اُس کا ہاتھ پکڑا تو اُسے نین کی ہتھیلی جلتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔۔۔۔
اُس نےچونک کے اُس کے ہاتھ کو اور پھر اُسے دیکھا۔۔ ہاتھ چھوڑ کر اُس کی پیشانی کو چھوتے ہوئے یقین کیا تو حیرت سے منہ کھلا رہ گیا کیوں کہ اُسے بے حد تیز بُخار تھا۔۔۔۔
تمہیں تو بہت بخار ہے نین۔۔۔۔
وہ حیرت اور پریشانی سے اُسے دیکھنے لگی کے اتنے تیز بخار میں کیسے وہ نارمل بن کر کھڑی مسکرا رہی تھی ہنس کے دکھا رہی تھی۔۔۔
میں نے بہت ہیوی کپڑے پہن لیے نا پہلی بار ۔۔۔۔شاید اس لیے ہورہاہے لیکن میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔چلو نا ہمیں دیر ہو رہی ہے۔۔۔میں انگجمنٹ مس نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔
وہ پھر بڑا سا مسکرا کر بیتابی سے بولی۔۔۔۔ریا نے صدمے سے اُسے دیکھا۔۔
نین تم پاگل ہو گئی ہو۔۔۔۔جلدی چینج کرو اور لیٹو وہاں۔۔۔ میں ڈاکٹر کو بلا رہی ہوں۔۔۔۔
وہ اُس کی لاپرواہی اور بےنیازی دیکھ غصے سے بولی لیکن نین پر اُلٹا اثر ہوا۔۔۔۔
نہیں مجھے نہیں لیٹنا۔۔۔۔مجھے پارٹی میں جانا ہے ۔۔۔۔میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔تم چلو نا پلیز ریا۔۔۔۔ہم لیٹ ہوجائیں گے۔۔۔۔
وہ اچانک ایسے پریشان ہو گئی جیسے ابھی تو رو دے گی اور اُس کے ایسے تاثرات دیکھ حقیقی معنی میں ریا کو اُس کی فکر ہوئی
اگر تم نہیں چلوگی نا تو میں تم سے ناراض ہوجاؤں گی۔۔۔۔۔کبھی بات نہیں کروں گی۔۔۔۔۔یہاں رہوں گی بھی نہیں۔۔۔۔قسم سے۔۔۔قسم سے
وہ پاگل کی طرح لڑکھڑاتے لفظوں میں بڑبڑا ئی۔۔۔
نین ۔۔۔۔۔۔تمہیں کیا ہوا ہے۔۔۔پلیز ایسا مت کرو۔۔۔مجھے بہُت گھبراہٹ ہو رہی ہے۔۔۔۔
ریا نے اُس کا چہرہ تھامتے ہوئے گھبرا کے کہا تو وہ اُس کے ہاتھ جھٹک گئی
تم نہیں چل رہی نا۔۔۔۔بہانے کر رہی ہو نا۔۔۔۔ٹھیک ہے میں اکیلی ہی چلی جاتی ہوں۔۔۔۔
وہ غصے سے اُسے دیکھتی سائیڈ سے آگے بڑھ کر روم کے باہر نکل گئی ریا بھی تیزی سے اُس کے پیچھے بھاگی ۔۔۔
اسے روکنے کے لیے پکارتی رہی لیکِن و بنا سنے باہر نکل کر گاڑی میں بیٹھ گئی اور ڈرائیور سے چلنے کو کہا۔۔۔۔۔
ریا جلدی سے اُس تک پہنچی اور ڈرائیور کو روکا۔۔۔۔۔
نین تم کیا کر رہی ہوں باہر آؤ۔۔۔
وہ دروازہ کھول کر پریشانی سے بولی تو اُس نے سر زوروں سے نفی میں ہلایا۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔پہلے تم مجھے لے کے چلو۔۔۔۔۔۔ ورنہ میں ٹیکسی کرکے اکیلی ہی چلی جاتی ہوں۔۔۔۔
وہ نفی کرتی ہُوئی بڑبڑا کر باہر نکلنے لگی تو ریا نے اُسے روکا اور خود کار کے اندر بیٹھ گئی کیوں کے نین کو سمجھا پانا اس وقت مشکل نہیں نا ممکن تھا۔۔۔اور اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کے کرے تو کیا کرے۔۔۔
♦♦♦♦♦♦
بہت اچھے لگ رہے ہو دونوں بلکل میڈ فور ایچ ادر۔۔۔۔
تصویریں لیتے ہوئے انجو کی دوست نے دونوں کی تعریف کی تو انجو نے دکش کی جانب دیکھا۔۔جو وہائٹ شرٹ پینٹ پر سکائے بلیو جیکٹ میں ہمیشہ سے بھی زیادہ ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔۔۔
سلکی بال شائن کر رہے تھے۔۔شیو بلکل ہلکی سی تھی اور آنکھوں پر بلیک فریم والے گلاسز تھے جس کے شیشے گلابی تھے۔۔۔۔
اگر کچھ کم تھا تو وہ اسمائیل جو انجو کو بے حد پسند تھی۔۔۔
وہ اُسے آج کہیں سے بھی دیکھنے کو نہیں مل رہی تھی۔۔
وہ خود بھی آج مسکرانے کی بس ناکام کوشش ہی کر رہی تھی کیوں کے پورب کے الفاظ اور اُس کی حرکت اُس کے ذہن پر بری طرح سوار تھے اُسے ذرا بھی چین نہیں لینے دے رہے تھے۔۔۔۔جب کے پتہ نہیں وہ اب کہاں غائب ہو چکا تھا ۔۔۔۔ایک دفعہ بھی دکھائی نہیں دیا تھا۔۔۔۔
مسٹر اور مسز سنگھ دونوں اُنہیں ساتھ دیکھ کر بے حد خوش تھے۔۔۔ ۔فنکشن بلکل چھوٹا سا تھا جس میں محض نزدیکی اور خاص لوگ شامل تھے۔۔
بہت زیادہ ہنگامہ نہیں کیا گیا تھا ۔۔میڈیا کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔۔۔۔۔بس چھوٹی سی سمپل پارٹی تھی۔۔۔۔
انجو تم کونسی سوچ میں گُم ہو اسمائیل تو کرو یار ۔۔۔۔اور دکش آپ پلیز اپنے گلاسز اُتار دیجئےنا۔۔۔۔
اُس کے ادھر اُدھر دیکھنے پر انجو کی فرینڈ نے دونوں کو باری باری دیکھ کے کہا جس پر انجو فوراً مسکرائی۔۔۔۔جب کے وہ لا تعلق کھڑا تھا۔۔۔۔ کسی کی جانب دیکھ بھی رہا تھا یا نہیں سمجھنا مشکل تھا۔۔ ۔
اكچلی دکش کی آنکھوں میں انفیکشن ہے اسلئے ۔۔۔۔اگر وہ گلاسز نکال دیں گے تو میری آنکھوں میں بھی پرابلم ہو سکتی ہے۔۔۔
اُس نے مسکراتے ہوئے کہا کیوں کے اُس کے سوال کرنے پر دکش نے اُسے یہی وجہ بتائی تھی۔ ۔۔۔حقیقت میں تو وہ آنکھیں نہیں اپنا درد چھپانا چاہ رہا تھا
لوگ محبت میں دل کا درد لے لیتے ہیں اور تم آنکھوں کا انفیکشن نہیں لے سکتی ۔۔سو مطلبی انجو ۔۔۔۔
اُس کی دوست نے اُسے چڑانے کی غرض سے ہنس کر کہا لیکن انجو کو ایسا لگا جیسے پورب نے اُس پر پھر طنز کیا ہو کے تم اُس سے محبت نہیں کرتی۔۔۔۔
پھر اُس پر ہنسا ہو۔۔۔
وہ اپنی سوچ کے زیرِ اثر مسکرا بھی نہیں پائی تو اُس نے منہ پھیر کر دوسری جانب کرلیا۔۔۔۔۔
+
+
+
نین میری بات سنو۔۔۔۔۔
وہ ریا کے لاکھ سمجھانے پر نہیں مانی۔۔۔۔اور گاڑی گیٹ کے باہر رکتے ہی اُس سے پہلے اُتر کر اندر کی طرف بڑھ گئی ۔۔ریا اُسے پکارتی ہوئی اُس کے پاس پہنچی۔۔۔
وہ باہر نکل کر کسی سے فون پر بات کر رہا تھا جب اتفاق سے نظر انٹرنس کی جانب گئی۔اور پھر پلٹنے میں ناکام ہوئی۔۔۔۔
ایک خوشنما احساس نے ہوا کے جھونکے کی مانند اُس کے چہرے کو چھوا۔۔۔۔۔۔دھڑکنیں بے ترتیب ہوئیں۔۔۔
اُس کے ہر بڑھتے قدم کے ساتھ خوشبو کا زوردار جھونکا سانسوں میں اترتا محسوس ہوا۔۔۔۔
ہر قدم کے ساتھ ایک جھنکار دل میں گونجنے لگی جس نے باقی سب آوازیں میوٹ کردی۔۔۔۔۔
فون کان سے ہٹ گیا ۔۔۔۔
دماغ سب بھول گیا ۔
دل رفتار سے بھٹک گیا ۔۔
اور ہر بھٹکتی دھڑکن سے یہ آواز آئی کہ۔۔۔۔۔
کیا دنیا میں اس سے خوبصورت بھی کچھ ہے۔۔۔۔
وہ ریا کی باتیں ان سنی کرکے تیزی سے اندر کی طرف بڑھ رہی تھی لیکن اُسے باہر کھڑے دیکھ جہاں کی وہاں رک گئی۔۔۔
گلاسز کی وجہ سے اُس کی نظروں کا رخ سمجھنا مشکل تھا لیکِن اُسے دیکھ کے نین کے لبوں پر بڑی سے اسمائیل آئی ۔۔۔۔۔وہی عجیب سی مسکراہٹ۔۔۔۔پُر اسرار سی مسکراہٹ۔۔۔۔
وہ اُس کی اور بڑھی اور ریا بھی پُر سوچ نظروں سے دکش کے کھوئے کھوئے تاثرات دیکھتی آگے بڑھی۔۔۔
سگائ مبارک ہو مسٹر ڈی ایس۔۔۔۔
بہت بہت بہت بہت مبارک ہو۔۔۔۔۔
نین کو اپنے سامنے جوش و خروش کے ساتھ مبارک بعد دیتے دیکھ وہ چونکا۔۔۔۔۔
تیز دھڑکنیں ایکدم رکیں۔۔۔
دل سنبھلا اور دماغ نے کام کیا تو احساس ہوا کہ وہ حقیقت میں اس کے سامنے ہے۔۔۔۔۔۔
وہ حیرت زدہ سا اُس کی موجودگی اور اس کے روپ کا یقین کرنے لگا۔۔۔
اُس کے یوں تیار ہو کر مسکرا کر مبارک باد دینے سے وہ جتنا حیران ہوا اتنا ہی پریشان بھی۔۔۔۔
اُسے اندازہ تھا کے وہ اُس کی باتوں کی وجہ سے بہت تکلیف میں ہو گی رو رہی ہوگی لیکن یہ ذرا بھی گمان نہیں تھا کے یہاں آکر اُسے یوں وش کریگی۔۔۔وہ بھی اس روپ میں۔۔۔۔۔۔۔
نین چلو۔۔۔۔۔۔
ریا دکش کو حیران پریشان دیکھ نین کا ہاتھ پکڑ کر اُسے اندر لے گئی۔۔۔۔۔
اُس کی پیشانی پر ڈھیروں لکیریں پڑی۔۔۔۔فون مُٹھی میں زور سے بھینچا۔۔۔۔۔۔
ڈھیروں سوچیں پریشان کرنے لگی۔۔۔۔سب سے بڑھ کر یہ کہ کہیں نین اندر کوئی بوال نا کردے سب کے سامنے کچھ ایسا نہ بول دے جس سے اُس کی سچائی سامنے آجائے۔۔۔کیوں کے اُس سے کوئی بھی اُمید کی جا سکتی۔۔۔و
وہ کچھ بھی کر سکتی تھی۔۔۔۔
لیکن وہ ایسا نہیں ہونے دے سکتا تھا کسی بھی قیمت پر۔۔۔۔۔
اسلئے تیزی سے اندر کی طرف بڑھا۔۔۔
وہ دونوں دروازے کے پاس ہی تھیں۔۔۔ ریا کِسی سے بات کرنے کے لیے رک گئی تھی اور نین اُس کے پاس ہی کھڑی تھی۔۔۔۔
اُس نے ریا کی نظروں میں آئے بغیر نین کی کلائی پکڑی اور اُسے کھینچتا ہوا باہر لے کر آیا ۔۔۔
وہ حیرت سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
تھوڑا دور اُس مینشن کی سائیڈ دیوار کی طرف آکر وہ رکا اور نین کو کھینچ کر اپنے سامنے کھڑا کیا۔۔۔
کیوں آئی تم یہاں۔۔۔۔۔
منع کیا تھا نہ۔۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ جھٹک کر چھوڑتے ہوئے گلاسز کے پار سے اُس کی آنکھوں میں دیکھتا دانت بھینچے دھیرے سے بولا۔۔۔
آپ ایسے کیوں کہہ رہے ہے ڈی ایس۔۔۔۔میں تو یہاں آپکو آپکی انگجمینٹ کے لیے بیسٹ وشیز دینے آئی ہوں۔۔۔آپکی خوشی میں شامل ہونے آئی ہوں۔۔۔
وہ گھبرائی سی حیرت اور معصومیت کے ساتھ بولی ساحل کو اُس کے انداز پر حیرت ہوئی جو بناوٹی نہیں لگ رہا تھا وہ سمجھنے کی کوشش کرنے لگا کے آخر کیوں۔۔۔۔۔
ہاں آپ نے مجھے انوائیٹ نہیں کیا ۔۔۔۔لیکن میں کیا کروں میں خود کو روک ہی نہیں پائی۔۔۔۔
مجھے اتنی خوشی ہو رہی ہے نہ کے میں آپکو بتا نہیں سکتی۔۔۔۔مجھے سمجھ نہیں آرہا مجھے اتنی خوشی کیوں ہو رہی ہے لیکِن مجھے بہُت خوشی ہو رہی۔۔۔۔ایسا لگ رہا ہے جیسے میں پوری بھر گئی ہوں خوشی سے۔۔۔۔
میرے روم روم میں خوشی دوڑ رہی ہے۔۔۔۔اتنی خوش تو میں کبھی نہیں ہوئی لائف میں۔۔۔۔
اُس کا اجنبی انداز میں بات کرنا ۔۔۔۔لفظوں کا لڑکھڑانا۔۔۔انجان لہجہ اور وحشت زدہ سی مسکراہٹ ساحل کو بری طرح بے چین کرنے لگی۔۔۔۔۔۔۔
کچھ غلط ہونے کا احساس شدت سے پریشان کرنے لگا۔۔۔
اُس نے آنکھوں سے گلاسز ہٹائے اور سنجیدگی سے اُسے دیکھنے لگا
اسی لیے تو میں اتنا تیار ہو کر آئی ہوں ۔۔۔تاکے آپکو انجو کو ۔۔۔۔پوری دنیا کو نظر آسکے کے میں سچ میں بہت خوش ہوں۔۔۔۔اتنا تیار تو میں اپنی شادی پر نہیں ہوئی تھی جتنا آپکو اپنی خوشی دکھانے کے لیے تیار ہوئی ہوں۔۔۔
وہ اُس کی باتوں کو سن کر سن ہو گیا تھا جن میں بس وہ اپنی خوشی ثابت کرنے کی کوشش کر رہی تھی
وہ غصّہ بھی بھول گیا تھا۔۔۔۔ دل بہُت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔۔۔ سرخ نظریں نین کے حرکت کرتے لبوں کو تو کبھی آنکھوں کے سرخ کناروں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
اور آپکو ریڈ کلر پسند ہے نہ ۔۔۔میں ریڈ ہی پہنا چاہتی تھی لیکن میرے پاس ریڈ کلر تھا ہی نہیں اسلئے میں نے یہ پہنا ریڈ میں ملتا جلتا ہے نا تھوڑا۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی رو میں بول رہی تھی۔۔۔ جب ریڈ سے ملتا جلتا ہوا کہا تو ساحل نے نیچے سے اوپر تک اُس کے کپڑوں کو دیکھا جس میں نیلے کے علاوہ کوئی اور رنگ نہیں تھا۔۔۔
نین کی باتیں جاری تھیں۔۔۔۔
ساحل کی سوچیں گزرے وقت کی کچھ یادوں میں بھٹک گئیں۔۔۔۔
جب داؤد کے دھوکے اور اپنے ڈیڈ کی خود غرضی نے اُس پر ایسا ہی اثر کیا تھا۔۔۔۔وہ ایسی ہی ہو گئی تھی۔۔۔
آپ غصّہ کیوں کر رہے ہیں مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی کیا۔۔۔۔۔مجھے معاف کر دیجئے میں آپکو بلکل بھی پریشان نہیں کروں گی۔۔۔۔۔۔آپ بس غصّہ مت کرنا۔۔۔۔۔
آپ ناراض مت ہونا بس ۔۔۔جو چاہے گے کروں گی۔۔۔۔
نین کے اُس وقت کے الفاظ کانوں میں گونجے۔۔۔
جو اُسے بات بات پر آنکھیں دکھاتی تھی۔۔۔
لڑنے کو تیار ہوتی تھی۔۔۔
کسی سے نہیں گھبراتی تھی
وہ اُس سے بنا غلطی کے معافی مانگ رہی تھی۔۔۔
کیوں کے اُس وقت وہ ایک سوچ ذہن میں قید کرکے سب بھول گئی تھی کے اُسے اپنے ڈیڈ کی بات ماننی ہے۔۔۔۔
ساحل کو ناراض نہیں کرنا ہے ہر حال میں اُس سے رشتا نبھانا ہے۔۔۔۔
اور اب اُسے دیکھ کر محسوس ہو رہا تھا جیسے اس وقت بھی وہ صدمے سے اپنے حواس کھو چکی ہے۔۔۔۔۔۔۔اب بھی اُس کے ذہن میں ایک بات تھم گئی تھی کے اُس کا یقین غلط ہے۔۔۔
وہ ساحل نہیں دکش ہے۔۔۔۔
دل نے نہیں ماننا تھا تو اب وہ دِماغ سے منوا نے کی کوشش میں تھی۔۔
لیکِن اس دفعہ اُس کے دکھ کی وجہ کوئی اور نہیں وہ خود تھا۔۔۔۔یہ احساس اُسے گرم ہتھوڑے کی مانند لگ رہا تھا۔۔۔۔
وہ پتہ نہیں کیا کیا بولے رہی جا رہی تھی۔۔۔وہ کچھ بھی سن نہیں پا رہا تھا۔۔۔۔بے بسی سے دل پھٹ رہا تھا ۔۔۔آنکھیں بری طرح جل رہی تھی۔۔ دل میں گرم شعلے بھڑک رہے تھے۔۔۔سانس لینا دشوار ہو رہا تھا۔۔۔۔
اُس نے تپتے چہرے پر ہاتھ پھیر کر کچھ بولنا چاہا لیکن ناکام ہوا۔۔۔
۔۔۔جب کے نین اپنی دھن میں بولے جا رہی تھی کبھی اُس کے اور انجو کے بارے میں باتیں کر رہی تھی ۔۔۔۔تو کبھی خود کے بارے میں۔۔۔
اور آپکو پتہ ہے میری جو بھابھیز ہے نہ وہ کہتی ہے کے ۔۔۔۔۔۔۔
وہ پتہ نہیں اور کیا بول رہی تھی ساحل نے ایکدم سے اُس کے دونوں بازؤں کو پکڑ کر اُسے کھینچا۔۔اپنے قریب کیا۔۔۔۔نین کی آواز اور سانس دونوں رکی۔۔۔
نین۔۔۔۔۔
ساحل نے اُسے قریب کرکے دھیرے سے۔۔۔۔ بہت دھیرے سے لیکن شدّت سے ضبط سے چاہت سے جذب سے پکارا ۔۔۔نین کے وجود کو جیسے ایک زوردار کرنٹ لگا ہو۔۔۔۔
اُس کا دماغ جیسے اپنا نام سنتے ہی ہوش میں آیا ہو۔۔۔۔
آنکھیں نیند سے کھلی ہو
دل نے ابھی ابھی دھڑکنا شروع کیا ہو۔۔۔۔۔۔
وہ صحرا سے ٹھنڈک میں آگئی ہو۔۔۔
بس۔۔۔۔
وہ پر سوز نظروں سے اُس کی ساکت آنکھوں کو دیکھتا ہوا بھاری بھیگے لہجے میں بولا ۔۔
۔اُس کی آواز سننے سے زیادہ محسوس ہوئی ۔۔۔۔۔۔
نین کا دل زوروں سے دھڑکا حواس پوری طرح بحال ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔دھیرے دھیرے اندھیرا روشنی میں بدلنے لگا۔۔۔
نین کے بدن کی تیز تپش محسوس کرکے اُس کا دل مزید تڑپا۔۔ ۔۔۔۔۔اُسے خود سے نفرت ہوئی۔۔۔۔۔
اُس نے کچھ اور بولنے کے لیے لب کھولے لیکن اُسے دور سے ریا کی آواز سنائی دی وہ نین کو پکار رہی تھی۔۔۔۔
وہ نظروں کی کڑی توڑے بنا اُس کے بازؤں کو آزاد کرکے پیچھے ہوا اور اُس سے دور ہو کر آنکھوں پر گلاسز لگائے وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔۔۔
نین پیچھے ہوتی دیوار سے لگ گئی۔۔۔
حواس لوٹے تو درد بھی لوٹ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
آنسو بھی آگئے تھے۔۔۔۔۔
اب شدت سے دل میں تکلیف اٹھ رہی تھی۔۔۔۔
دل کے ٹوٹے ٹکڑے آنکھوں کو زخمی کر رہے تھے۔۔۔
بخار کے اثر سے بدن کمزور اور پیر بے جان ہو رہے تھے۔۔۔۔
آنکھیں کھلی رکھنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔
کپڑے اور گہنے خود پر بوجھ لگ رہے تھے۔۔۔۔
اب سانس لینا مشکل لگ رہا تھا۔۔۔۔
اب کھڑے رہنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔
سب درد سہنا مشکل ہو رہا تھا
نین تم یہاں کیوں آگئی۔۔۔ایسے کیوں کھڑی ہو۔۔۔
ریا دیوار سے لگ کر اُسے روتے دیکھ فکرمندی سے پوچھنے لگی وہ اُسے دیکھ۔۔۔ سیدھی ہو کر اُس کے گلے لگی اور بے آواز ہی شدتوں سے رو دی۔۔۔۔۔
میں نے پہلے ہی کہا تھا تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔۔
ریا نے دکھ اور افسوس سے کہا ۔۔۔۔
اُس کا دل کیا زور سے چینخ چینخ کر روے لیکن وہ اپنی آواز کو باہر آنے سے روکتی رہی۔۔۔۔
بس رنگ سیریمنی ہوجائے پھر ہم ترنت گھر چلے جائیں گے اوکے۔۔۔چلو۔۔۔۔
ریا نے اُسے الگ کرکے اُس کے چہرے سے آنسُو پوچھتے ہوئے مانگ ٹیکے کو درست کرکے کہا وہ کچھ نہیں بولی نظریں بھی نہیں اٹھائی۔۔۔
بس آنسُو گرتے رہے۔۔۔۔۔
♦♦♦♦♦♦♦
