Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 49

رابعہ بیگم بار بار گھڑی دیکھتیں ہال میں چکر کاٹ رہیں تھیں جب وہ دونوں اندر داخل ہوئے۔۔۔۔۔
جیا کے اتنے رات گئے اچانک سے غائب ہونے پر وہ پہلے ہی پریشان تھیں۔۔۔۔اُسے دس فون کر چکی تھیں۔۔۔
عباس صاحب کہیں باہر گئے ہوئے تھے اور داؤد بھی گھر پر نہیں تھا
وہ مضطرب سی اُس کا انتظار کر رہیں تھی
اب اُسے ساحل کے ساتھ اندر آتے دیکھ اُن کی پیشانی پر بے شمار بل پڑے۔۔۔
جیا۔۔۔۔۔۔۔۔کہاں گئیں تھی تم۔۔۔۔
۔۔اوراس لڑکے کے ساتھ کیا کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے جانچتی نگاہوں سے جیا کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔مسلسل رونے سے آنکھیں سرخ سوجی صاف نظر آرہی تھی بال بھی کچھ بکھرے بکھرے سے تھے
اُن کے سوال کرنے پر دونوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔۔۔۔
پورے راستے اُنہوں نے کوئی بات نہیں کی تھی۔۔۔۔دونوں کے دماغ اپنے آپ میں مگن تھے اور اب دونوں کشمکش میں تھے کے کیا جواب دیں
بولو۔۔۔۔کیا اس نے کچھ کیا ہے۔۔۔۔۔
اُنہوں نے اُس کی خاموشی پر ساحل کو زہریلی نظروں سے دیکھا
وہ زخمی بھی تھا اور کپڑوں کی حالت بھی کافی خراب تھی لیکِن یہ نئی بات نہیں تھی
وہ اکثر کسی نہ کسی سے جھگڑ کر آتا تھا
جیا سر جھکائے سوچنے لگی کیا جواب دے کے ساحل فوراً بول پڑا
۔۔۔۔۔۔۔ یہ ۔۔یہ اپن کو راستے پے مل گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔اُدھر دوسری لڈکیو کے ساتھ باہر گھوم رہی تھی۔۔۔۔۔میں نے کہا یہ کوئی ٹائم ہے مستی کرنے کا۔۔۔۔زبردستی لے آیا اس کو اس لیے روتی صورت بنا رہی ہے۔۔۔۔۔
وہ جلدی سے جواب دیتا ہوا بولا
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیٹی کے ساتھ زبردستی سے پیش آنے کی۔۔۔۔۔تم ہوتے کون ہو دخل دینے والے کے وہ کیا کرتی ہے کیا نہیں۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم غصے سے آگ بگولا ہوئیں وہ سر جھکائے سننے لگا
اُس کا صرف ایک بھائی ہے۔۔۔۔۔۔تمہیں اُس کا بھائی بننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم ماں بیٹی سے رشتا جوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے تمہیں۔۔۔۔۔سمجھے تم۔۔۔۔۔
انہوں نے اُسے اچھی خاصی سناتے ہوئے کہا۔۔۔جیا سر جھکائے سوچ رہی تھی کے اُس نے بھی کتنی دفعہ یہ باتیں دوہرا کر ساحل کو تکلیف پہنچائی تھی۔۔۔۔
اور آج وہ اُسے بچانے کسی مسیحا کی طرح آگیا تھا
بےشمار آنسُو آنکھیں بھگونے کو بے چین تھے وہ اُنہیں چھپاتی اپنے روم کی طرف بڑھ گئی
جب کے اوپر نین گرل کو سختی سے تھام کر کھڑی حیرت اور افسوس سے ربیہ بیگم کو دیکھ رہی تھی۔۔
اُن کے دل میں ساحل کے لیے جو زہر بھرا تھا اُن کے لفظوں سے جھلک رہا تھا اور نین کو اُن کے الفاظ سخت برے لگ رہے تھے
آئندہ اگر تم نے ہمارے کسی معاملے میں انٹر فیئر کیا تو بہت برا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم اُسے وارن کرتے ہوئے بولیں اور وہاں سے چلی گئیں۔۔۔
نین وہیں کھڑی اب ساحل کو غصے سے دیکھ رہی تھی کے۔۔کیسے وہ اُس کے سامنے رعب جھاڑتا ہے اور یہاں صفائی میں ایک لفظ نہیں بول رہا
ساحل گہری سانس لے کر اوپر جانے کی بجائے جیا کے روم کی طرف بڑھا۔۔۔۔
نین اُسے جیا کے روم کی طرف جاتا دیکھ پہلے تو حیران ہوئی اور پھر اُس کے پیچھے جانے کو غصے سے سیڑھیوں کی طرف بڑھی
وہ ادھ کھلے دروازے کو کھول کر اُس کے روم میں آیا تو جیا زمین پر بیٹھی سر بیڈ سے لگائے رو رہی تھی۔۔۔اُسے دیکھتے ہی اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔۔۔
دیکھ جو ہوا سو ہوا۔۔۔ تو گھر میں کِسی کو مت بتانا۔۔۔۔۔سب خالی فو کٹ کے پریشان ہو جائے گے۔
وہ نرمی سے اُسے سمجھاتے ہوئے بولا
کچھ دیر پہلے سے بلکل مختلف انداز تھا۔۔۔۔۔ جیا سر جھکائے رو رہی تھی
۔۔۔۔۔۔میں سنبھال لوں گا سب۔۔۔۔ تو ٹینشن مت لے۔۔۔۔۔۔۔۔بس تو۔۔۔۔۔
وہ اپنائیت سے اُسے سمجھانے لگا کے وہ روتی ہوئی ایکدم سے آکر اُس کے سینے سے لگتی سسکیاں لینے لگی۔۔۔
I m sorry sahil۔۔۔۔۔۔۔i m really sorry۔۔۔۔۔۔
برے تم نہیں بری میں ہوں۔۔۔۔۔۔بہُت بری ہوں میں۔۔۔۔
وہ روتی ہوئی بڑبڑانے لگی ساحل نے گہرا سانس لے کر اُس کے بالوں پر ہاتھ رکھا۔۔۔
نین نے دروازے کو زور سے بجا کر دونوں کو اپنی موجودگی کا احساس دلایا اور پلٹتے ہی ساحل کو بڑی ہی خطرناک نظروں سے گھورا
جیا پیچھے ہو گئی۔۔۔ اپنے آنسُو صاف کیے
بہت رات ہو رہی ہے۔۔۔چلو یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے دانت پیس کر دیکھتی اُس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتی ہوئی وہاں سے باہر لے گئی۔۔۔
تیرے کو کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔
وہ۔حیرت زدہ سا اُسے دیکھ کر سیڑھیاں چڑھنے لگا۔۔۔۔اوپر پہنچتے ہی وہ رک کے اُسے دیکھنے لگی
جب بڑی مامی کو تمہارا جیا سے بات کرنا پسند نہیں ہے تو تمہیں کیا ضرورت ہے اپنی انسلٹ کروانے کی۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے اُس کا ہاتھ جھٹک کر خود روم میں چلی گئی۔۔۔
ساحل اُسے دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔
وہ اُس کے لیے ہمدردی رکھتی تھی یا کچھ بھی حیران کن ہی تھا۔۔۔
وہ دھیرے سے مسکراتا آگے بڑھا
اُس کی مسکراہٹ میں بھی بے حد تھکاوٹ تھی۔۔۔۔درد کے باعث دِماغ اور جسم بے حد نقاہت محسوس کر رہے تھے۔۔۔۔
سر پر تو چوٹ تھی ہی گردن اور بازوؤں پر بھی ہلکی ہلکی خراشیں تھی۔۔۔۔۔
اپنے اور شاد کے ساتھ اچانک ہونے والی اس جنگ کو لے کے دل دِماغ الگ پریشان تھے۔۔۔۔ کیوں کے بات اُس تھوڑی دیر کی لڑائی پر ختم تو نہیں ہونی تھی۔۔۔۔
وہ اندر آکر جوتوں سمیت منہ کے بل بیڈ پر لیٹ گیا۔۔۔
تھکے تھکے اندازِ میں آنکھیں بند کر لیں۔۔۔
راؤڈی ۔۔۔تم ٹھیک ہو۔۔۔۔۔
نین چینج کرکے باہر نکلی اور اُسے بیڈ پر ترچھا آدھے پیر بیڈ سے باہر لٹکائے سوتے دیکھ فکرمندی سے پوچھنے لگی۔۔۔۔۔
اُس نے کوئی جواب نہیں دیا تو آکر اُس کے سرہانے بیٹھی۔۔۔
پیشانی گھنے بالوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔۔۔ چوٹ ٹھیک سے نظر نہیں آرہی تھی
جب کے گردن پر نشان واضح تھے جو شرٹ کے اوپری بٹن کھلے ہونے کے باعث صاف نظر آرہے تھے
۔نین نے جھجھکتے ہوئے ہاتھ بڑھا یا اور پیشانی سے بال ہٹا کر پیچھے کیے۔۔۔۔ جس کے بعد زخم صاف نظر آرہا تھا۔۔۔۔
کسی کے ساتھ مار پیٹ کرکے آئے ہو نا۔۔۔۔۔
وہ چوٹ کا نشان دیکھ کر اُسے گھورتے ہوئے بولی
ساحل نے سیدھا ہوکر اُس کی طرف کروٹ لی اور بند آنکھوں سے ہی اپنی پیشانی پر رکھا اُس کا ہاتھ تھام کر چہرے کے نیچے رکھ لیا۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے گھورنا بھول کے حیرت سے اپنے ہاتھ کو دیکھنے لگی۔۔۔
تپش زدہ لمس کے زیرِ اثر دل تیزی دھڑکنیں لگا۔۔۔۔
عجیب سی گھبراہٹ تھی جِس کی وجہ سے وہ بلکل انجان تھی
چلو۔۔۔۔۔۔ڈ ڈاکٹر کے پاس چلتے ہے۔۔۔۔۔۔
وہ اپنا ہاتھ کھینچنے کی ہلکی سی کوشش کرتے ہوئے بولی
وہ کس لیے۔۔۔۔۔۔
ساحل نے آنکھیں کھول کر اُسے دیکھتے ہوئے دھیرے سے پوچھا۔۔۔
جب چوٹ لگتی ہے تو۔۔۔۔ علاج کروانا پڑتا ہے ۔۔۔
وہ اُس سے نظریں چرائے بولی۔۔۔۔ساحل کو اُس کے نروس سے انداز نے بے حد محظوظ کیا
ایسا بھی ہوتا ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دھیمے لہجے میں بولا اور چہرے کو اُس کی ہتھیلی پر دھیرے سے رب کیا۔۔۔۔شیو کی چبھن محسوس کرکے وہ بری طرح دھڑکتے دل کے زیرِ اثر ہڑبڑا کر ہاتھ کھینچ گئی۔۔۔۔۔
ساحل کا دل بھی عجیب انداز میں دھڑکنے لگا۔۔۔۔۔
بول نہ۔۔۔۔۔۔
وہ گہری نظروں سے اُس کے پل پل رنگ بدلتے چہرے کو دیکھنے لگا
ماما کے بیٹے تم بچپن سے ہی ایسے سائیکو ہو کیا
نین سنبھل کر اُسے گھورتے ہوئے بولی
بچپن۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ کیا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپن تو نہیں جانتا کسی بچپن کو۔۔۔۔۔۔۔
وہ سنجیدہ ہو کر اُسے دیکھتا پردرد لہجے میں بولا۔۔۔
نین کو اُس کے بدلے ہوئے انداز بے حد اُلجھا رہے تھے وہ اٹھ کر فرسٹ ائڈ باکس لیے اُس کے پاس آئی
پیر اوپر کرکے اُس کے قریب جھکی اور اُس کی پیشانی کو کاٹن سے صاف کرنے لگی۔۔۔ ساتھ ہی دھیرے دھیرے پھونک بھی مار رہی تھی
وہ سنجیدگی سے اُسے دیکھنے لگا
تُم یہ وائلینس چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔۔۔۔۔۔۔۔ایک نارمل انسان کی طرح کیوں نہیں رہتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا ملتا ہے مار پیٹ کرکے۔۔۔۔۔
وہ اپنے کام پر فوکس رکھتے ہوئے بولی
دماغ کام سے لگا رہتا ہے۔۔۔۔۔۔
وہ سیدھا ہوتا ہوا ہنس کر بولا۔۔ نین ہاتھ روک کر تھوڑی پیچھے ہوئی
نظر دائیں گال پر گہرے ہوتے ڈمپل پر پڑی جو اُس نے فوراً ہٹا لیں اور پیشانی پر بیندیج لگانے لگی
ایک بات بولوں تمہیں۔۔۔۔۔
وہ مصروف سے انداز میں پوچھتی بنڈیج کے سرے کو ماتھے سے چپکانے لگی
ساحل نے محض ہمم کہتے پوچھنے کا اشارہ دیا
تمہاری اسمائیل بہُت اچھی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکِن جب سچی والا ہنسو گے نا تو اور بھی اچھی لگے گی
وہ اُسے دیکھ کر کہتی گردن پر لگی خراش پر سفید کریم لگانے لگی
تیرے کو کون بولا کے میں۔۔۔۔۔۔۔ سچی والا نہیں ہستا۔۔۔۔۔
وہ اُسے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا
تمہاری آنکھیں۔۔۔۔۔۔۔
نین نے ہاتھ روک کر اُس کی آنکھوں میں دیکھا
تم یہاں سے اسمائیل کرتے ہو۔۔۔۔۔یہاں سے نہیں کرتے۔۔۔۔
اُس نے اپنی اُنگلی سے لبوں اور آنکھوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔
وہ دوبارہ اپنے کام۔میں مصروف ہو کر کالر کو گردن اور کندھے سے تھوڑا ہٹا کر وہاں مرہم لگانے لگی
اور ساحل چند لمحوں کے لیے اُس کی گہری براؤن آنکھوں میں کھو سا گیا۔۔۔۔
کوئی اُس کی ہنسی کو اتنی گہرائی سے بھی محسوس کرتا ہے یہ بات اُس کے لیے جتنی حیران کن تھی اتنی ہی خوش کن بھی۔۔۔
اُسے ایسا محسوس ہونے لگا جیسے اُس کا دل سینے سے نکل کر کھینچا چلا جا رہا ہو۔۔۔۔۔
سچ بولتے ہیں لوگ۔۔۔زیادہ پڑھنے سے انسان کا دماغ خراب ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
چل لائٹ بند کرکے سوجا۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ خود سے ہٹا کے اٹھ بیٹھا اپنے بے قابو ہوتے احساسات کو لگام دیتے ہوئے گہری سانس خارج کی۔۔۔۔
پیروں کی مدد سے جوتے زمین پر گرائے اور سیدھے ہو کے تکیے پر سر رکھے لیٹ گیا
کھانا نہیں کھا و گے۔۔۔۔۔۔۔
نین نے اُسے سونے کی تیاری میں دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔
کھا لیا تھا باہر۔۔۔۔۔۔
اُس نے آہستہ سے جواب دیتے ہوئے آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔
ہمیشہ سے ہی جب بھی وہ درد میں ہوتا تھا اُسے اپنے بچپن کی دھندلی یادیں اور زیادہ یاد آتی تھی۔۔۔
درد اور بڑھ جاتا تھا۔۔
وہ باکس جگہ پر رکھے ہاتھ دھو کر اپنی سائیڈ پر لیٹ گئی۔۔۔۔۔کروٹ اُس کی جانب کیے غور سے اُسے دیکھنے لگی
وہ آنکھوں پر بازو رکھے لیٹا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے قراری اُس کے انداز سے ہی ظاہر ہو رہی تھی۔۔۔۔
وہ کبھی بھی اتنا سیر یس نہیں ہوتا تھا ۔۔۔۔۔
بہُت ۔۔۔۔۔۔درد ہو رہا ہے کیا ماماکےبیٹے۔۔۔۔۔۔۔
وہ اندازہ لگا کر فکر مندی سے پوچھنے لگی۔۔۔ساحل نے بازو ہٹا کر آنکھیں کھولے اُس کی جانب دیکھا اور بس دیکھتا رہا۔۔۔۔۔
کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔۔۔ بولو نا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے مسلسل سنجیدگی سے دیکھنے پر کنفیوز ہو کر بولی
یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کے پچھلی بار کب اپن سے کسی نے یہ سوال پوچھا تھا۔۔۔۔
وہ بے تاثر لہجے میں کہتا کروٹ اُس کی جانب کیے پوری طرح اُس کی طرف متوجہ ہوا
اِس میں کونسی ایسی نئی یا عجیب بات ہے
نین نے آنکھیں گھماتے ہوئے سوال کیا
میرے جیسوں کے لیے ہے۔۔۔۔
ساحل نے اُسے دیکھتے ہوئے جواب دیا
تمہارے جیسوں۔۔۔۔۔۔مطلب کِسی خاص کیٹگری میں آ تے ہو تم۔۔۔
وہ ناک چڑھا کر بولی
ہاں۔۔۔۔وہ جو کچرے میں پڑے ملتے ہیں نا۔۔۔۔۔اُس کیٹگری میں۔۔۔
وہ مسکرا کر بولا تو نین نے اُسے گھور کر دیکھا۔۔۔
تُو سچ میں پاگل ہے۔۔۔۔۔۔مانا کے تُو غصے میں تھی ٹنشن میں تھی لیکِن کچھ تو سوجھ سمجھ کر دولہا پکڑتی۔۔۔۔۔میرے جیسے سے شادی کرلی۔۔۔جس کے نہ باپ کا
پتہ نہ ماں کا
وہ اُس کے فیصلے پر افسوس جتاتا ہوا بولا نین نے سنجیدگی سے اُسے دیکھا کے اُس کے مذاق میں بھی بے پناہ کرب تھا
مجھے تمہا رے ماں باپ سے کیا لینا دینا ۔میرے لیے تو ویسے بھی تم میرے ماما کے بیٹے ہو۔
اور میرے لیے یہی کافی ہے۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر شان بے نیازی سے بولی اُنگلیاں بیڈ شیٹ پر حرکت کر رہی تھی
اور اگر حقیقت اس سے بھی کڑوی ہوئی تو۔۔۔تب بھی افسوس نہیں کریگی۔۔۔۔۔۔
ساحل نے سنجیدہ ہو کر جانچتي نظروں سے اُسے دیکھا
نہیں۔۔۔۔
نین نے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جواب دیا اُنگلیوں کی حرکت جاری تھی
کیوں۔۔۔۔۔۔
ساحل نے ہاتھ نازک اُنگلیوں پر رکھ کر اُس کے ہاتھ کی حرکت کو روکا۔۔۔
۔تم تھوڑی پیچھے پڑے تھے میرے۔۔۔۔میں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔۔۔دھمکیاں دے دے کر راضی کروایا ہے تمہیں۔۔۔۔۔۔افسوس یا شکایت کا حق ہی نہیں مجھے۔۔۔
اُس نے مسکرا کر جواب دیا
بس یا اور کچھ۔۔۔۔
ہاتھ کھینچنے کی کوشش کرتے ہوئے مزید بولی۔۔۔۔ساحل نے ہاتھ ہٹا کر اُسے آزاد کر دیا۔۔۔۔لیکِن نظریں مسلسل اُس کے چہرے پر ٹکی تھیں
اُس کی گہری نظروں سے نروس ہوتی وہ رخ موڈ کر دوسری جانب کر گئی اور آنکھیں بند کرکے سونے کی کوشش کرنے لگی
∆∆∆∆∆∆∆
ایسا کیا کروں کے یہ دونوں لڑاکوں کپل سے رومینٹک کپل بن جائے اور دادی مجھے وہ کڑے دے دے۔۔۔۔
عشرت آنکھوں میں چمک لیے سوچ رہی تھی
دونوں کو خوشی اور ایکسائٹمنٹ کے مارے ساری رات نیند نہیں اور اس وقت بھی دونوں اُنہیں خیالوں میں گم تھیں۔۔۔
سب کے ساتھ بیٹھیں پھل کاٹتے ہوئے سپنے دیکھ رہیں تھی
اس سے پہلے کے اس کے ناکارہ دِماغ کو کوئی آئیڈیا سوجھے۔۔۔مجھے جلدی سے دونوں کا گڈ کپل والا سین بنا کر دادی کو دکھانا ہوگا۔۔۔۔
شیرین نے بھی کن انکھیوں سے اُسے دیکھتے ہوئے سوچا
یہ بھی آئیڈیا ہی سوچ رہی ہے شائد اگر مجھ سے پہلے یہ کامیاب ہو گئی تو مجھے تو کڑے کبھی نہیں ملنے۔۔۔۔
عشرت نے اُس کی طرف دیکھ کر منہ بناتے ہوئے سوچا
اسے تو وہ کڑے میں جیتنے نہیں دوں گی۔۔۔۔
شیرین نے بھی بدلے میں برا منہ بنایا دونوں ایک دوسرے کو غصے سے دیکھ آنکھوں آنکھوں میں چیلنج کر رہیں تھی
تُم مجھے روک نہیں سکتی
عشرت آنکھوں سے بولتی اُسے چیلنج کرنے لگی
تُم بھی مجھے نہیں روک سکتی
شیرین نے بھی اُسے گھورتے ہوئے ڈٹ کر سوچا۔۔۔
رابعہ بیگم فرصت سے دونوں کے تاثرات دیکھتیں حیران بیٹھیں تھی آخر کو جھنجھلا گئیں
تُم دونوں کے دماغ سلامت ہے۔۔۔۔ایسے کیا گھور رہی ہو ایک دوسرے کو جاؤ جا کر چائے لاؤ میری
اُنہوں نے دونوں کو جھڑک کر ہوش دلایا دونوں ہڑبڑا گئیں
جی بڑی ماں۔۔۔۔۔۔۔
ایک سر میں کہتی دونوں ساتھ اٹھ کھڑی ہوئے دادی نے تسبیح پڑھتے ہوئے مسکرا کر اُنہیں دیکھا اُن کا نشانہ بلکل صحیح لگا تھا
اُن دونوں کو حکم دینے کے چند سیکنڈ بعد ہی اُن کے سامنے چائے آگئی اُنہوں نے حیرت سے چائے دینے والی کو دیکھا۔۔۔۔
اور فلک کی وہاں موجودگی پر اُن کی آنکھیں غصے سے بھر گئیں
بڑی ما ۔ں۔۔۔۔۔۔آ آ۔۔۔آپ کی چائے۔۔۔
وہ مسکرا کر گھبراتی ہوئی بولی ر ابعہ بیگم نے ہاتھ مار کر چائے کا کپ پھینک دیا اور غصے سے اٹھیں۔۔
جب کے فلک کا دل کو بری طرح لرز اُٹھا
اچھا ہوگا اگر اپنی منحوس شکل کو مجھ سے دور ہی رکھو جب تک میں تمہارا کوئی انتظام نہیں کردیتی۔۔۔۔
اُنہوں نے اُسے نفرت سے دیکھتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئیں فلک کی آنکھوں میں آنسو آگئے
کوئی بات نہیں بیٹا۔۔۔۔۔۔حوصلہ رکھو۔۔۔۔۔۔
دادی نے اُسے سمجھاتے ہوئے اپنے پاس بٹھایا
∆∆∆∆∆∆∆
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
اُس نے آنکھیں کھولیں تو ذہن کافی ہلکا پھلکا تھا۔۔۔۔
سب سے بڑی بات کے آج بہت دِن بعد وہ نیند پوری ہونے پر جاگا تھا ورنہ تو اب اُسے لات کھا کر اُٹھنے کی عادت ہو نے لگی تھی۔۔۔۔۔
شاید آج کک کوئین کو اُس پر ترس آیا ھوا تھا جو اُسے بخش گئی تھی
لات یاد آتے ہی لات مارنے والی پر دھیان گیا۔۔۔چہرہ موڑ کر دیکھا تو وہ اپنی جگہ پر نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔
وہ کوئی اندازا لگاتا اُس کے پہلے واشروم کے دروازے کی آواز نے اُس کا دھیان کھینچا۔۔۔۔
وہ باتھ لے کر نکھری نکھری سی گیلے بالوں کو رگڑ کر پانی جھٹکتے ہوئے باہر آئی۔۔
سفید ڈھیلے ڈھالے کرتے اور بلیو ٹراوزر میں اُس کے بھیگے بھیگے دلکش وجود نے ساحل کی ساری توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔۔۔۔۔۔
وہ ارد گرد سے بے نیاز بستر پر لیٹا بازو آنکھوں سے نیچے تک رکھے مسمیرائز سا اُسے دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔
اور وہ بے خبر ڈریسنگ کے سامنے کھڑی بالوں کو خشک کر رہی تھی۔۔۔۔
اگر اُسے پتہ چلتا کے ساحل شیرازی صبح صبح اُسے تاڑنے میں مصروف ہے تو بھوکی شیرنی بن کر اُس پر ٹوٹ پڑتی۔۔۔
وہ بے حد خوبصورت تھی۔۔۔۔اور ہر کوئی اس بات سے واقف تھا۔۔۔
لیکن اس لمحے ساحل نے پہلی دفعہ اُس کی خوبصورتی کو بہت سنجیدگی سے نوٹ کیا تھا۔۔۔۔
اُس کی سرمئی آنکھیں۔۔گھنی لمبی پلکیں۔۔تیکھے نقوش۔۔۔۔گلابی نازک لب۔۔۔کمر سے نیچے تک آتے گھنے براؤن بال ۔۔۔اور متناسب سراپا
کیسے وہ اُسے دیکھ کر دل کو اُس کی طرف بڑھنے سے روک سکتا تھا جب کے احساس ملکیت بھی اب بے قابو ہوتے دل کو شہہ دے کر مزید بہکانے میں لگا تھا۔۔۔
وہ نین کے بالوں سے ایک ایک کرکے گرتی پانی کی ننھی بندوں کو موتی کی طرح اُس کی گردن کو چھوتے ہوئے گلے کی گہرائی میں گم ہوتے دیکھ رہا تھا۔۔۔
جب نین نے اپنے ایک شولڈر پر جمع بالوں کو سمیٹ کر پیچھے کیا تو ڈھیروں مہکتی بوندیں بارش بن کر اُس پر برس پڑیں۔۔۔۔
اُس نے آنکھیں بند کرکے گہرا سانس لیتے ہوئے اُن کی خوشبو کو سانسوں میں اترتا ہوا محسُوس کیا۔۔۔
اُس نے خود میں جن کے نا ہونے کا دعویٰ کیا تھا و سارے جذبات سانس لے کر زندہ ہونے لگے۔۔۔۔۔
شاید یہ نکاح کے پاک رشتے کا ہی اثر تھا جو دو اجنبیوں کے بیچ ڈور بن کے اُنہیں جوڑ دیتا ہے۔۔۔اُن کے احساسات جذبات دل سب کچھ اُس ڈور سے باندھ دیتا ہے
وہ دھڑکنوں کی بڑھتی بگڑتی رفتار سے پریشان تھا لیکِن ایک میٹھا سا احساس بھی تھا جو بے حد پیارا لگ رہا تھا۔۔۔۔بے حد خوش کن تھا
اُس نے آنکھیں کھولیں اور نین کی جانب دیکھا جو اب آنکھوں میں کاجل ڈالتے ہوئے شیشے کے کچھ قریب جھکی ہوئی تھی
اُس کے لب دھیمی سی مسکراہٹ میں ڈھلے اس خیال سے کے اُسے روز لات مارنے والی۔۔۔۔اُسے بات بات پر پریشان کرنے والی۔۔۔۔اُس کے ماما کی بهانجی۔۔۔۔۔۔اپنی شرارتوں سمیت اُس کے دل میں اترتی جا رہی ہے۔۔۔۔۔
لیکن اگلے ہی پل مسکراہٹ سمٹ بھی گئی۔۔۔۔جب نین کا تھپڑ اور اُس کے الفاظ یاد آئے
میں نے رشتا جوڑا ضرور ہے لیکن میری نظر میں اس رشتے کی کوئی حیثیت نا ہے نہ کبھی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے سنجیدگی سے اُسے دیکھتے ہوئے گہرا سانس لے کر کروٹ بدل لی۔۔۔۔۔۔جیسے اپنے جزبات سے منہ موڑنے کی کوشش کی ہو۔۔۔۔
کیوں کے زبردستی تو اُسے نین کو زندگی میں سوار نہیں ہونا تھا۔۔
اور اُسے نین سے اس طرح کی کوئی امید نہیں تھی کے وہ بھی وہی محسوس کریگی ۔۔۔۔۔
وہ کتنی ہی دیر خاموش پڑا دیوار کو گھورتا رہا
ماما کے بیٹے اٹھ جاؤ۔۔۔۔۔۔۔
نین نے اُسے مصروف سے انداز میں آواز دی اُس نے دھیرے سے آنکھیں بند کر لی۔۔۔۔
لگتا ہے گڈ مارننگ کک کے عادی ہو گئے ہو تم جاگو بھی اب۔۔۔۔۔ورنہ بتا دو سیدھے۔۔۔
نین آکر اُس کے سر پر کھڑی دھمکی بھرے انداز میں بولی۔۔۔۔۔
ساحل نے آنکھیں کھول کر سنجیدگی سے اُسے دیکھا۔۔۔۔
کیا ہے۔۔۔۔۔
بے رخی سے پوچھا۔۔۔۔۔
کل کس سے لڑ کر آئے تھے تم۔۔۔۔۔۔
نین دونوں ہاتھ باندھتے ہو اُسے سخت تیوروں سے گھورتے ہوئے بولی
تیرے سے مطلب۔۔۔۔۔۔
وہ بیزاری سے کہتا اٹھ بیٹھا
مجھے مطلب ہے۔۔۔۔
میرے گھر میں یہ گنڈا گردی نہیں چلیگی۔۔۔۔۔یہاں رہنا ہے تو شریف بن کر رہنا پڑےگا۔۔۔۔
آج کے بعد تم کسی سے جھگڑا نہیں کروگے۔۔۔سمجھ گئے
وہ اُسے وارن کرنے والے یا آرڈر دینے والے انداز میں بولی
ساحل اُسے سنجیدگی سے دیکھتا اٹھ کے اُس کے قریب آیا۔۔۔
ایک تھپڑ خود کو بھی مار تاکہ یاد رہے
جس حیثیت سے میرے پر حق جتا رہی ہے اُس رشتے کی کوئی حیثیت نہیں ہے
یہی کہا تھا نا تونے۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جتا کر بولا نین حیرت سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔اُس کے بدلے انداز سمجھ سے بلکل پرے تھے
وہ اُس سے جھگڑے یا جوابی حملے کی اُمید رکھتی تھی یہ سیریس لہجہ اُسے حیران کر رہا تھا
وہ اپنے دل کی بھڑاس اُس پر واضح کرتا وہاں سے چلا گیا اور نین نے نا سمجھی سے اُسے دیکھتے کندھے اُچکا دیے۔۔۔۔
∆∆∆∆∆