Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 74
No Download Link
Rate this Novel
Episode 74
Episode 74
اور اِنتظار نا کرواؤ۔۔۔۔اب کہہ بھی دو۔۔۔۔
اُس کے خاموش رہنے پر وہ پھر سے بولا قاضی نے دوبارہ پوچھا لیکن فلک نے تب بھی جواب نہیں دیا۔۔۔۔۔۔
سکندر نے غصے سے اُسے دیکھتے ہوئے سختی سے اُس کا بازو پکڑا۔۔
بولو۔۔۔قبول ہے
وہ اُس کے کان کے پاس غرایا۔۔۔
فلک نے پوری طاقت لگا کے اُس کا ہاتھ جھٹکا اپنی جگہ سے اٹھی
اور گھونگھٹ کو چہرے سے پھینک کے پہلے سے ہاتھ میں موجود گن اوپر اٹھا کر سکندر کے نشانے پر تان دی۔۔۔
ایک ہی پل میں پورا منظر بدل گیا تھا۔۔۔۔سب کی آنکھیں اور منہ کھلے رہ گئے تھے۔۔جب کے سکندر شدید شاک کے عالم میں اپنی جگہ سے اٹھ تک نہیں پایا تھا
بے عزت کرنے والے کو محافظ نہیں بنایا جاتا سکندر۔۔۔۔مجھے قبول نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔
مسلسل رونے سے آواز بھاری ہو گئی تھی اور اس وقت غضب کی سختی لیے ہوئے بے حد پر اسرار لگ رہی تھی۔۔۔
سکندر اور اُس کے ماں باپ صدمے میٹھے تو فلک کے گھر والوں کی حالت بھی کچھ جدا نہیں تھی
بھلے آج میں زندگی ہار جاؤں لیکِن تمہارے گھمنڈ کو جیتنے نہیں دوں گی
وہ سکندر کے حیرت سے دیکھنے پر گن کو دونوں ہاتھوں میں مضبوطی سے پکڑے بولی۔۔۔۔
اُس کا پورا بدن لرز رہا تھا۔۔۔
اے دیکھ کیا رہے ہو پکڑو اس بیوقوف لڑکی کو۔۔۔۔۔۔۔۔
بہادر شاہ نے غصے سے فلک کو دیکھ کر اپنے آدمیوں پر گرجتے ہوئے حکم دیا وہ لوگ اُس کی طرف بڑھے اس سے پہلے ہی سکندر نے ہاتھ دکھا کر روک دیا۔۔۔
اور اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا
افف۔۔۔۔ہلا دیا سکندر کو۔۔۔۔
اُس کے لہجے میں حیرت کے ساتھ تبسم بھی شامل تھا۔۔۔دل پر ہاتھ رکھ کر بولا
پر میری جان۔۔۔۔۔۔دوپٹہ سنبھالنے والے ہاتھ ہتھیار نہیں سنبھال سکتے۔۔۔۔۔۔
اُس کے کانپتے ہاتھوں کو دیکھ ہنس کر جتاتے ہوئے بولا ۔
اُنہیں کانپتے ہاتھوں میں حرکت ہوئی اور ایک گولی گن سے نکل کر سکندر کے سینے کے اندر دھنس گئی۔۔۔۔۔۔
گولی کی آواز کے بعد فضا میں گہرہ سناٹا چھا گیا۔۔۔۔۔مانو سب نے سانس تک روک لی ہو۔۔۔۔
سکندر بے یقین سا اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر دیکھنے لگا کے واقعی یہ حقیقت ہے یہ بس ایک خیال۔۔۔
اُس کی ہتھیلی خون سے رنگ گئی۔۔۔۔۔
اب تمہاری غلط فہمی دور ہوئی۔۔۔۔
اُس خاموشی میں دور دور تک فلک کی چینخ گونجی۔۔۔اور ساتھ ہی دوسری گولی کی آواز جس کے لگتے ہی سکندر لڑکھڑا کر صوفے پر گر گیا لیکن اب بھی اُسے تکلیف اور ڈر سے زیادہ حیرت ہو رہی تھی۔۔کے اُس کے سامنے موت بن کر کھڑی لڑکی فلک ہے۔۔
یہ ہاتھ وقت آنے پر بندوق اٹھا بھی سکتے ہے ۔
اور چلا بھی سکتے ہے۔۔۔۔۔
خدمت کر سکتے ہیں تو تم جیسوں کی مرمت بھی کر سکتے ہیں۔۔
دعا کے لئے اٹھ سکتے ہیں تو اپنی حفاظت کے لیے بھی اٹھ سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔
طاقت نہیں لگتی سکندر۔۔۔صرف ہمت لگتی ہے۔۔۔۔۔جو مجھ میں داؤد نے بھر دی ہے۔۔۔۔
وہ اب بھی گن کا رخ اُس کی طرف کیے سرخ بھیگی آنکھوں سے اُسے گھورتی ہوئی نفرت سے بول رہی تھی۔۔۔۔
سکندر کی ماں دل پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی اور بہادر شاہ بھی گھبرایا ہوا اپنی جگہ تھا کے اگر ایکدم بھی بڑھایا تو فلک سے پھر گولی نا چل جائے۔۔۔۔۔
ساحل اسی وقت بھاگتا ہوا اُس جگہ پہنچا تھا لیکن دور سے ہی یہ منظر دیکھ اُس کے قدم رک گئے ۔۔
ہمیشہ سوچتی تھی کے شاید کِسی دن تمہیں اپنے گناہ کا احساس ہوجائے گا۔کِسی دن خدا کا خوف یاد آئیگا تو شرمندہ ہو کر جھک جاؤگے اُس کے آگے۔۔۔
اپنے غرور کا سر کچل کر اپنی غلطی کی معافی مانگ لوگے اللہ سے۔۔۔۔۔۔اور تب میں بھی تمہیں معاف کردوں گی۔۔۔۔
لیکن آج میں نے خود کو یقین دلا دیا کے تم اُن میں سے ہو جن کو خدا معافی کا موقع بھی نہیں دیتا۔۔۔
اور جب وہ تمہیں معاف کرنے میں راضی نہیں تو میں کیسے معاف کردوں۔۔۔
اُس نے بھیگے بھاری لہجے میں کہتے ہوۓ اُسے اٹھنے کی کوشش کرتے دیکھ تیسری گولی چلائی۔۔۔جس کے بعد سکندر کے وجود میں مزید قوت بھی ختم ہو گئی۔۔۔
اُس کے لیے سانس لینا مشکل ہوا تو چند سیکنڈ جسم تڑپنے لگا اور پھر ساکت ہوگیا۔۔۔۔
جس بھیڑ کو اُس نے اپنی جیت دکھانے جمع کیا تھا وہ لوگ اُس کی موت کے تماشائی بن گئے۔۔
بہادر شاہ اس کی بیوی گھبرا کر سکندر کی طرف بڑھنے لگے تو فلک نے گن کا رخ فورًا اُن کی طرف موڑ دیا
خبردار جو کوئی آگے بڑھا۔۔۔۔۔۔
آج مجھے کسی کو مار دینے یا مرجانے کا افسوس نہیں ہوگا۔۔۔کیوں کے میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا ہے اگر مروں گی تو لڑ کر مروں گی۔۔۔ہار مان کر جان نہیں دوں گی اب۔۔۔۔
وہ آگے بڑھتے بہادر شاہ اور اُس کے آدمیوں کو غضب ناک انداز میں دیکھتے ہوئے بولی سکندر کی ماں روتے ہوئے آگے آئی
میرے بیٹے کو چھوڑ دے۔۔
اُس کے آگے ہاتھ جوڑ کر منت کرنے لگی حالانکہ اُس میں جان نہیں بچی تھی۔۔لیکِن پھر بھی اس اُمید کے وہ بچ جائے اُس کے ماں باپ اُس تک پہنچنے کو تڑپ رہے تھے
بہت تکلیف ہو رہی ہے اب۔۔۔
ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔
ترس آرہا ہے۔۔۔۔۔
وہ اُن کی صورت دیکھ تاسف سے بولی۔۔۔۔
میرے بھائی کو مرتے دیکھ تو کسی کو ترس نہیں آیا۔۔۔۔۔
اُن کا خون بھی تو اسی رنگ کا تھا نہ۔۔۔۔
وہ بھی تو کسی کا بیٹا تھا کسی کا بھائی تھا نہ۔۔۔۔۔۔
اپنی اما ں کے لیے سب کچھ تھا۔۔۔
تو اُس کے مرنے پر کیوں نہیں فرق پڑا کسی کو۔۔۔۔۔
روتے ہوئے زور سے چلا کر بولی اور گن سمیت ہاتھ نیچے ڈھلک گئے۔۔ اُس کی ماں سر جھکا گئی۔۔۔۔۔بہادر شاہ بھی اپنے بیٹے کو دیکھ کر رونے کو ہو گیا
اُسے مارنے والے اس شیطان کو کیوں نہیں روکا کسی نے۔۔۔۔۔۔
تب کیوں نہیں روکا
جب اس نے میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔
وہ زور زور سے کہتی ایکدم سے رو پڑی۔۔۔۔ساحل نے آنکھیں بند کرکے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔۔۔۔
اُس کی اماں بھی رونے لگی تو شمع نے اُنہیں سنبھال کر خود سے لگایا۔۔۔۔
تب بھی یہ کسی کو غلط نہیں لگا۔۔۔۔تب بھی اُنگلیاں مجھ پر اٹھی۔۔۔۔۔۔میرے بابا میری اماں کا جینا دشوار کردیا گیا۔۔۔
مجھے سب نے ایسے دیکھا جیسے میں کوئی گندگی ہوں۔۔۔۔۔۔
روتے روتے اُس کے الفاظ بھی ڈگمگانے لگے
وہ آج اپنے سارے حساب مانگ رہی تھی۔۔۔جو سب اندر تھا سب بیان کر رہی تھی۔۔۔۔
سکندر کے ماں باپ سکندر کے پاس جا کر اُسے دیکھتے رو رہے تھے
غلطی اس کی۔۔۔۔۔گناہ اسکا تو قصوروار میں کیوں۔۔۔۔صرف اسلئے کیوں کے میں لڑکی ہوں۔۔۔۔
اُس نے وہاں کھڑے لوگوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا جو اُس کی نگاہ کے نشانے پر تھے اپنے سر جھکا گئے
میرا لڑکی ہونا ہمیشہ سے میرے اور میرے ماں باپ کے لیے کسی سزا جیسا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
جب بھی میرے بابا کسی سے کہتے کہ میری دو بیٹیاں ہے تو اُن کا سر جھکا ہوا ہوتا تھا۔۔۔۔۔
جیسے اپنا کوئی جرم بتا رہےہو
میں سمجھ نہیں پاتی تھی کیوں۔۔۔
میری اماں کہتی تھی۔۔۔تم لڑکی ہو نظر ملا کے بات مت کرو۔۔۔۔۔۔۔
تم لڑکی ہو زور سے نہ ہنسو۔۔۔۔
سر جھکا کے چلو ۔۔۔۔۔دھیمی آواز میں بات کرو۔۔۔صبر کرنے کی عادت رکھو۔۔۔برداشت کرنا سیکھو۔۔۔۔تم لڑکی ہو فلک ۔۔۔۔۔ سب سہہ لو۔۔۔۔
مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کے لڑکیوں کے لئے ہی یہ شرطیں کیوں ہے۔۔۔لیکن اس نے مجھے سب سمجھا دیا۔۔۔۔۔
اُس نے بھیگے لہجے میں زور زور سے سب کو سناتے ہوئے سکندر کی طرف اشارہ کیا
یہ بھی کے میری امّاں مجھے اس جیسوں سے بچنے کے لیے چھپاتی تھی اور یہ بھی کے اس جیسے شیطان اپنی حوس کے سامنے کچھ نہیں دیکھتے۔۔۔وہ ہر حال میں پہنچ جاتے ہیں چاہے کوئی خود کو لاکھ چھپا لے۔۔۔
کیوں کے میں نے تو ہر بات مانی۔۔۔۔۔۔جو کہا وہ کرتی رہی۔۔۔۔۔پھونک پھونک کر قدم بڑھایے ہمیشہ۔۔۔۔۔پھر بھی بچا نہیں پائی خود کو۔۔۔۔
وہ اب تک کی ساری کسر نکال رہی تھی۔۔۔۔کیوں کے جب برداشت کی انتہا ختم ہو جائے تو دل ہر خوف سے بری ہوجاتا ہے۔۔۔۔
ساحل بھی اُس بھیڑ کا حصہ بنا اُس کی باتیں سن کر دل کو بے حد بوجھل محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔
کاش کے اسے بھی کبھی کوئی سبق دیا گیا ہوتا ۔۔۔۔
صرف اتنا سکھایا گیا ہوتا کے کسی لڑکی کی عزت کے ساتھ کبھی مت کھیلو۔۔۔۔
اپنے غرور میں کسی کو برباد نا کرو
اُس نے افسوس سے کہا تو بہادر شاہ نے اپنے سر سے پگڑی اُتار کے پھینک دی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔۔۔۔
دولت شہرت اور طاقت کا نشا پل میں اُتر چکا تھا جب اپنی اصل دولت کو ختم ہوتے دیکھا۔۔۔۔
سکندر کے ساتھ سب ختم ہوگیا تھا
اس کا غرور میری عزت سے بڑھ کر تھا۔۔۔۔۔۔۔میرے بھائی کی جان سے بڑھ کر تھا۔۔۔۔۔ہماری زندگیوں سے بڑھ کے اس کے لیے اس کی جیت تھی۔۔۔۔۔۔
یہ بد نیت مجھے اب بھی اُس انسان سے الگ کرنا چاہتا تھا جنہوں نے مجھے نئی زندگی دی۔۔۔۔۔پھر سے جینا سکھایا۔۔۔۔۔۔۔۔یہ بتایا کے سارے مرد اس جیسے نہیں ہوتے۔۔۔۔اُنہیں ایک لڑکی کی عزت اُس کے احساس اُس کے جذبات کی قدر ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔اُن کے لیے لڑکی کا وجود کھلونا نہیں ہوتا۔۔۔۔
یہ میرے داؤد کے نکاح میں ہونے کے باوجود مجھ سے شادی کرکے پھر میری خوشیاں اجاڑ کر اپنے غرور کی تسکین چاہتا تھا
پر آج میں نے اسے جیتنے نہیں دیا۔۔۔
میں نے آج اس کے غرور کو شکست دے دی۔۔۔۔
وہ سکندر کی بند آنکھوں کو دیکھ سر تانے بولنے لگی۔۔۔آنکھیں خطرناک حد تک لال ہوگئی تھی۔۔۔
آواز بلکل بدل گئی تھی۔۔۔۔
وہ آگے بڑھ کر سکندر کے پاس گئی۔۔
سکندر۔۔۔۔۔۔۔داؤد نے کہا تھا۔۔۔۔
تمہاری مدد صرف تم کر سکتی ہو فلک۔۔۔۔۔۔تو آج میں نے اپنی مدد کرلی۔۔۔۔۔
میں نے خود کو تم سے بچا لیا۔۔۔۔
ہمیشہ کے لیے آزاد ہو گئی۔۔۔۔۔
اُسے دیکھتے ہوئے اُس کے مردہ وجود سے باتیں کرنے لگی اُس کے قدم ڈگمگائے اور وہ زمین پر گر گئی تو ساحل بھاگ کے اُس تک پہنچا
بھابھی۔۔۔۔۔۔آپ ٹھیک ہے۔۔۔۔
اُسے سہارا دے کر اٹھاتے ہوئے بٹھا یا۔۔۔۔۔۔شمع اور اُس کے ماں باپ بھی اُس کی طرف بڑھے۔۔۔
جب کے وہ ساحل کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے پہچانتی ہی نہ ہو
میں نے اسے مار دیا۔۔۔۔
جب بولی تو لہجہ بھی بلکل بیگانہ تھا جیسے خود سے بول رہی ہو بھلے دیکھ اُسے رہی تھی۔۔۔
بہت اچھا کیا بھابھی۔۔۔
ساحل نے فوراً کہا تو وہ ایکدم سے رونے لگ گئی۔۔۔۔
شمع نے اُس کے پاس بیٹھ کر اُسے تھاما
میں قاتل بن گئی۔۔۔۔۔۔
مجھے قاتل بنا دیا اس نے۔۔۔۔۔
وہ ساحل کو بچوں کی طرح شکائت لگاتی سکندر کی طرف اُنگلی اٹھانے لگی کِسی ذہنی مریض کی طرح۔۔۔۔۔۔
درندوں کو مارنے والے قاتل نہیں ہوتے بھابھی۔۔۔۔۔۔آپ نے تو ایک یگ بدلا ہے۔۔۔۔
اُس نے داد دینے والے انداز میں کہا فلک نا سمجھی سے دیکھنے لگی تو دھیرے سے مسکرایا
Happy independence day۔۔۔۔
اُسے دیکھ کر بولا لیکن وہ بنا کوئی تاثر دیے اب شمع کو دیکھ کر بڑبڑانے لگی۔۔۔۔۔
♦♦♦♦♦♦♦
وہاں جو کچھ ہوا تھا اُس کی لائیو کوریج ٹی وی پر دکھائی جا رہی تھی۔۔۔۔اور لائیو ختم ہونے کے بعد اگلی پچھلی ساری باتیں اور قصے بھی دہرائے جا رہے تھے۔۔۔۔ہاسپٹل کے کوریڈور میں لگی ٹی وی پر چلتے منظر دیکھ سب کے سب سن تھے۔۔۔۔۔۔۔
یہ سب کیا دکھا رہے ہیں ٹی وی پر۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم بے یقینی سے عباس صاحب کو دیکھتی پوچھنے لگی اُنہیں تو یہ سب باتیں معلوم بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔وہ کوئی جواب دیتے اُس کے پہلے ہی اندر سے کچھ ٹوٹنے کی زوردار آواز آئی۔۔۔۔
سب کے پیچھے نین بھی اندر آئی تو دیکھا دو لوگ داؤد کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور وہ اُن کی قید میں مچل کر وہاں سے بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔شولڈر سے خون پانی کی طرح بہہ رہا تھا۔۔۔۔
چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔
وہ زور زور سے چلا کر خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔
نین بری طرح گھبرا رہی تھی۔۔۔۔اُسے ویسے بھی خون دیکھ کر گھبراہٹ ہوتی تھی اور اس وقت داؤد کا ایسا برتاؤ اُسے بے حد خوفزدہ کر رہا تھا۔۔۔۔وہ دروازے کے باہر سے بھی اُسے دیکھ کر کانپ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے کے خوف سے اُسے کچھ ہو جائے وہ وہاں سے ہٹ گئی۔۔۔
داؤد بیٹا سنبھالو خود کو۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب بھی اُسے سنبھالنے کی کوشش کر رہے تھے
ڈیڈ فلک کو میری ضرورت ہے۔۔۔۔
پتہ نہیں وہ کس حال میں ہوگی۔۔
وہ اُنہیں دیکھ کر بےبسی سے بولنے لگا
وہ بلکل ٹھیک ہے بیٹا۔۔۔اُسے کچھ نہیں ہوا۔۔۔وہ ابھی آجائے گی تم خود کو سنبھالو۔۔۔۔۔۔اپنی ماں پر ترس کھاؤ۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے روتے ہوئے اُس کا چہرہ تھام کر کہا۔۔۔۔
مام فلک مصیبت میں ہے۔۔۔۔مجھے اُس کے پاس ۔۔۔۔۔۔
وہ تھوڑا شانت ہو کر بول ہی رہا تھا کے دروازہ کُھلا اور ساحل کے پیچھے شمع کے ساتھ فلک کو اندر آتے دیکھ اُس کے الفاظ ادھورے رہ گئے
فلک۔۔۔تم۔۔۔۔۔تم ٹھیک ہو نہ۔۔۔۔۔
اُس کے پاس آتے ہی وہ اُس کا چہرہ تھام۔کر پوچھنے لگا۔۔لیکِن فلک بلکل۔سن تھی۔۔۔
جنگ فتح کرکے آئی ہے تیری بیوی۔۔
ساحل نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔وہ حیرت سے فلک کو دیکھنے لگا۔۔۔جو نظریں بھی نہیں ملا رہی تھی سخت صدمے میں تھی۔۔۔۔
ابھی تھوڑی پریشان ہے ۔۔۔۔
ٹھیک ہو جائیگی۔۔۔۔۔۔۔
وہ داؤد کی ٹینشن محسوس کرکے بولا اور خود باہر نکل گیا۔۔۔۔
ڈاکٹر نے داؤد کو آرام سے لیٹنے کا کہتے ہوئے سب کو باہر جانے کو کہا لیکن اُس نے فلک کا ہاتھ نہیں چھوڑا اُسے وہیں روکے رکھا
عباس صاحب نے بھی رابعہ بیگم کو چلنے کو کہا۔۔۔تو وہ اُس کے پاس سے اٹھ گئیں
داؤد کا دھیان رکھنا۔۔۔۔۔۔
اور اپنا بھی۔۔۔۔
فلک کو دیکھتے ہوئے کہتی باہر نکل گئی۔۔۔
تم ٹھیک ہو نہ فلک۔۔۔۔
وہ تھوڑا سا اٹھ کر اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھے پریشان سا پوچھنے لگا تو فلک نے اُس کی طرف دیکھا
میں نے اُسے مار دیا۔۔۔۔۔
اور اُسی طرح بڑبڑائی جیسے کب سے بڑبڑا رہی تھی۔۔۔۔۔داؤد نے اُسے اپنے سینے سے لگا لیا۔۔۔۔۔
I m proud of you۔۔۔۔
I Love you۔۔۔۔
اُس کے بالوں کو لبوں سے چھوتے ہوئے محبت سے بولا۔۔۔۔۔
گھر چلیں۔۔۔۔۔۔
وہ باہر نکل کر نین کے پاس آتے ہوئے بولا۔۔۔
ابھی کچھ دیر بڑے ماما مامی کے ساتھ رکتی ہوں۔۔۔دونوں بہُت ٹینس ہے۔۔۔۔۔
اُس نے دور سے ہی دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
ٹھیک ہے میں آتا ہوں۔۔۔
وہ کندھے اچکا کر کہتا خود باہر نکل گیا
@@@@@@
