Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 77
No Download Link
Rate this Novel
Episode 77
Episode 77
وہ سب کچھ بھول گئی تھی۔۔۔۔۔
ہاسپیٹل کا واقعہ،اپنا ڈر غصّہ سب کچھ۔۔اگر کچھ یاد تھا تو وہ لمحہ جو خیال تھا یا حقیقت اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔
بس وہ پل ذہن میں آتے ہی اُس کا دل عجیب سا ہوجاتا۔۔۔۔
اپنے اندر سب کچھ بدلتا ہوا محسوس ہوتا لیکِن۔۔
وہ احساس اچھا تھا یا برا وہ جان نہیں پا رہی تھی۔۔
شدید الجھن تھی۔۔۔جس سے بچنے کے لیے وہ اُس کے آنے سے پہلے سوجانا چاہتی تھی۔۔
اُس سے سامنا کرنے سے بچنا چاہتی تھی۔۔۔
لیکن وہ احساس تو اُسے سونے بھی نہیں دے رہا تھا۔
اور یہی حالت دوسری طرف ساحل کی بھی تھی۔۔۔۔وہ اپنی بے اختیاری پر خود کو سخت لعنت بھیج رہا تھا۔۔آنکھیں بند کرتے ہی وہ پل نظروں میں سما جاتا۔۔۔۔نرم لبوں کا لمس تازہ سا اپنے لبوں پر محسوس ہوتا اور دل کی دھڑکن بڑھ جاتی۔۔۔
سارے وقت وہ کسی اور چیز پر فوکس نہیں کرسکا۔۔۔
وہ بھی کوشش کر رہا تھا کے نین سے کم سے کم فلحال سامنا نہ ہو۔۔۔
اس لیے کافی دیر سے گھر لوٹا تاکے وہ سو چکی ہو۔۔۔
بنا آواز کیے دھیمے دھیمے قدموں سے اندر آیا۔۔۔اُسے سوتے دیکھ شکر کی سانس لی۔۔اور دھیرے سے بستر کی طرف بڑھا لیکن اُس کی قسمت خراب تھی۔جو اُس کا پیر زمین پر پڑی نین کی سینڈل سے لگا اور وہ دھڑام سے منہ کے بل بستر پر گرا۔۔۔وہ بھی نین کے اوپر۔۔۔۔
حالانکہ اُس نے دونوں ہاتھ نین کے آس پاس رکھ کر خود کو مکمل اس پر گرنے سے بچا لیا تھا لیکن اس اچانک حملے پر نین کی آنکھیں کھلیں اور خوف کے مارے اُس کے منہ سے زور دار چینخ نکلی ۔۔ کے اچانک اُس پر کیا آگر ا۔۔۔۔۔
وہ ساحل کو اپنے اتنے قریب پا کر آنکھیں پھاڑے سانس روکے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
اُس کی خطرناک چینخ سے گھبرا کر ساحل نے آنکھیں بند کرلیں تھی۔۔۔
اُس کے صرف پیر نین کے پیروں پر تھے۔۔باقی درمیان میں معمولی سا فاصلھ تھا۔۔۔
نین کے دل میں ڈر کے مارے گھوڑے دوڑ رہے تھے کے پتہ نہیں آج اچانک وہ اُسے اس طرح حیرت کے جھٹکے کیوں دے رہا ہے۔۔پچھلے نو سیکنڈ کیا کم تھے آج کے دھماکے کے طور پر جو اب وہ ایکدم سے قریب آکر نیا بم پھوڑ رہا تھا۔۔۔۔
Sorry۔۔۔۔۔
ساحل نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو اُس کی شکل دیکھ کر کچھ اندازا لگاتے ہوئے فوراً کہتا اٹھ کر دور ہوا۔۔۔۔
اُس کے دور ہوتے ہی نین بھی فوراً اٹھ بیٹھی بلکل روبوٹ کی طرح۔۔۔
اُسے مشکوک نظروں سے گھورنے لگی۔۔
اُس کے دل کی دھک دھک گھڑی کی ٹک ٹک جیسی سنائی دے رہی تھی۔۔جس کی وجہ سے ساحل کی نظر بے ساختہ اُس کے دل کے مقام پر گئی تو نین کی آنکھوں کے ساتھ منہ بھی کھلا۔۔۔
اُس نے جلدی سے ٹی شرٹ کے گلے کو مُٹھی میں دبوچ کر اوپر تک پکڑ لیا۔۔۔
اور اس کی سوچ کا اندازہ لگا کر ساحل ایکدم سے سیدھا ہوا۔۔۔۔
ایڑی۔۔۔۔۔وہ تیرے جوتے کی ٹھوکر لگی میکو۔۔۔۔۔۔تو اُس کو سائیڈ میں نہیں رکھ سکتی تھی۔۔۔۔
وہ بلا وجہ کے غصّہ ہوا اپنی خفت مٹانے کو۔۔۔اور یہ ظاہر کرنے کو کے اُس کا گرنا محض ایک ایکسیڈنٹ ہے کوئی پلاننگ نہیں۔۔۔
نین نے اپنی سینڈل کو دیکھا اور پھر اُسے ایک دفعہ شکی نظروں سے دیکھا۔۔۔
پتہ نہیں آج یہ کمینہ اتنی اشنیل حرکتیں کیوں کر رہا ہے۔۔۔۔پہلے تو ایسا نہیں تھا۔۔۔۔۔کہیں نشا وشا تو نہیں کرکے آیا۔
وہ اُسے گھورتی ہوئی سوچنے لگی۔۔
شکل سے ہی ظاہر ہو رہا تھا اُس کے دماغ میں کیا چل رہا ہوگا۔۔۔ساحل نے بھی اُس کی سوچ پڑھ کر بدلے میں اُسے گھورا اور اُس کا ہاتھ اُس کی ہی ٹی شرٹ سے جھٹکا۔۔۔جہاں اُس نے گلے کو جکڑ رکھا تھا۔۔۔
اُسے سرد نظروں سے دیکھتا اپنی جگہ پر کروٹ بدل کر لیٹ گیا۔۔۔
نین نے پھر بھی دو منٹ لگائے اپنے شکی دِماغ کو سلانے میں اور جب اُسے شانت لیٹے دیکھ کچھ تسلی ہوئی تو خود بھی اپنی جگہ پر لیٹ کر سونے کی کوشش کرنے لگ گئی۔۔۔
کچھ دیر بعد ذہن سب بھول کر نیند کی گہرائی میں اتر گیا۔۔۔گہری نیند کی آغوش میں تھی جب ساحل کی بڑبڑا ہٹ پر اُس نے بیزاری سے آنکھیں کھولیں
وہ ہمیشہ کی طرح نیند میں بے چینی سے تڑپ رہا تھا۔۔۔بھنووں کے درمیان ڈھیروں لکیریں تھی
بڑبڑا ہٹ غیر واضح تھی۔
ہمیشہ کی طرح
وہ اُسے دیکھ کر اٹھ بیٹھی۔۔۔
ساحل ۔۔۔۔۔۔
نین نے پکارتے ہوئے اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھا۔۔۔ساحل نے آنکھیں سختی سے میچ کر اُس کے ہاتھ پر چہرہ جھکایا۔۔۔
وہ اُس کے بالوں کو پیشانی سے پیچھے کرتے ہوئے بار بار اُسے پکارتی رہی تو اُس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں اور منہ سے سانس لیتا اٹھ بیٹھا۔۔۔
سردی کے باوجود پیشانی اور گلے پر پسینہ آرہا تھا۔۔۔۔
دل کی دھڑکن بڑھی ہوئی تھی۔۔
نین نے اُسے پانی دیا تو اُس نے ایک گھونٹ لے کر گلاس سائیڈ میں رکھ دیا
تم ٹھیک ہو نہ۔۔۔۔۔
نین نے اُس کا ہاتھ تھام کر پوچھا لیکن اُس نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔۔۔خاموشی سے زمین کو دیکھتا رہا
تم کیوں خود کو اتنی تکلیف دیتے ہو۔۔۔۔جو چیزیں تمہیں پریشان کرتی ہے اُنہیں اپنے دِماغ سے نکال کیوں نہیں دیتے ۔۔۔۔۔
نین نے اُسے خاموش دیکھ کر کہا وہ تب بھی کچھ نہیں بولا۔۔۔۔
تمہاری اس بے چینی کا ایک ہی حل ہے کے تم اپنے سوالوں کے جواب ڈھونڈو۔۔۔۔ساری زندگی یونہی اندر ہی اندر تڑپنے سے بہتر ہے کے ختم کردو اس اُلجھن کو اور سکون سے جیو۔۔۔
تمہیں اپنی ماں کو ڈھونڈھنا چاہیے ساحل۔۔۔۔۔۔
وہ چند سیکنڈ رک کر جھجھکتے ہوئے بولی کیوں کے وہ ہمیشہ اس بات پر غصّہ ہوجاتا اور اس وقت بھی وہیں ہوا اُس نے لب سختی سے جوڑ کر کھولے
آدھی رات کو لیکچر مت دے سو جا۔۔۔۔
اُسے دیکھ کر سپاٹ سے لہجے میں بولا اور آنکھیں گھمائی جس پر نین کو بے حد غصّہ آیا
نہیں۔۔۔پہلے مجھے بتاؤ کے تمہیں پرابلم کیا ہے تم کیوں نہیں جاننا چاہتے کے سچ کیا ہے۔۔۔۔۔تمہیں اپنی پہچان معلوم کرنے میں کس بات کا ڈر ہے
وہ اُس کے الٹے جواب پر غصے سے بولی ۔۔بلکل ضدی بچے کی طرح۔۔۔ساحل نے چند سیکنڈ اُسے خاموشی سے دیکھا
۔کیوں کے مجھے جو پہلے سے پتہ ہے۔میں اُس پر سچ کا سٹیمپ نہیں لگوانا چاہتا۔۔۔۔۔یہ ادھورا سچ اُس پوری حقیقت سے زیادہ خطرناک نہیں ہے۔۔۔
اُس نے رک کر دھیرے سے کہا۔لیکن چبھتے لہجے میں۔۔۔
اور پہچان۔۔۔۔۔ پہچان لوگوں کی نظر میں اپنے لیے گھن دیکھ کر پتہ چل گئی تھی۔۔۔۔۔۔ ایک ان چاہی اولاد۔۔۔۔ایک زبردستی کا وجود۔۔۔۔۔۔۔۔جو بوجھ بن جاتا ہے اسلئے اُسے پھینکنا پڑتا ہے۔۔۔وہ ہوں میں۔۔۔۔۔
لہجے میں چبھن تھی غصّہ تھا لیکن آنکھوں میں درد تھا كرب تھا۔۔۔۔
تمہیں کیسے معلوم کے تم ان چاہی اولاد ہو بوجھ ہو ۔۔۔تم نے کیسے یہ ڈیسائد کر لیا۔۔۔۔۔۔۔اور لوگوں نے یہ کیسے ڈسائدِ کر لیا
۔۔۔۔وہ کیا تمہیں تمہارے ماں باپ سے ذیادہ جانتے ہیں
نین نے تاسف سے پوچھا۔۔۔
اگر نہیں ہوتا تو مجھے اس طرح کیوں چھوڑ دیا جاتا۔۔۔۔۔میری ہی ماں مجھے دنیا کی بھیڑ میں دھکیل کیوں دیتی۔۔۔ایسا تو کِسی اولاد کے ساتھ نہیں کرتا نا کوئی۔۔۔۔۔
وہ غصے سے دانت بھینچ کر بولا نین نے اُسے داد دینے والے انداز میں دیکھا
مطلب تم یہ کہنا چاہتے ہو کے۔۔۔۔۔
ایک ان چاہی اولاد کو ایک عورت نے نو مہینے تک اپنے اندر کیری کیا۔۔۔اُسے اتنا درد سہ کر جنم دیا۔۔۔۔
اُس کی پرورش کی
اُس پر اپنا پیار لٹایا۔۔۔
اُس کی حفاظت کی۔۔۔۔
اور اچانک اُسے پانچ سال بعد یاد آیا کے ارے ۔۔۔۔یہ تو ان چاہی اولاد ہے۔۔۔۔۔۔اسے تو میں اپنے پاس نہیں رکھ سکتی۔۔۔۔پانچ سال بعد اُسے خیال آیا کہ یہ مجھ پر بوجھ ہے اسے پھینک دیتی ہوں۔۔۔
اُس نے طنز کے تیر چبھا چبھا کر ساحل کو حقیقت کا آئینہ دکھانے کی کوشش کی۔۔وہ غور سے اُسے دیکھنے لگا
لائیک سریسلی۔۔۔۔۔تم اتنے ان پریکٹیکل کیسے ہو سکتے ہو ماما کے بیٹے۔۔۔۔
یہ بھی تو ہو سکتا ہے کے اُن کے اتنے بڑے فیصلے کے پیچھے کوئی اور وجہ ہو۔۔۔اُن کی مجبوری ہو۔۔۔
کیوں کے تمہیں خود کے لئے جتنا مشکل لگ رہا ہے اُس سے کئی زیادہ تمہاری مدر کے لیے ہوا ہوگا یہ قدم اٹھانا۔۔۔۔
وہ دکھ و تاسف سے اُسے سمجھاتے ہوئے بولی۔۔۔۔
میں نے دیکھا ہے جب سات بجے آنے کا کہہ کر میں ساڑھے سات کو گھر پہنچتی تو مجھے میری ممی نارمل نہیں ملتی تھی۔۔۔۔
ایک ماں اپنی اولاد کو چند منٹ بھی خود سے دور کرکے صرف اُس کے بارے میں سوچتی ہے۔۔۔تو تمہیں کیوں لگتا ہے کے تمہاری ماں تمہیں خود سے الگ کرکے خوشی خوشی جی رہی ہوگی۔۔۔۔
یہ بھی تو ہو سکتا ہے کے اُس وقت اُن کے پاس کوئی اور راستہ نہ ہو۔۔۔
یہ بھی تو ہو سکتا ہے کے و اب بھی تمہارا اِنتظار کر رہی ہو۔۔۔
تمہارے سوالوں کا جواب دینے کے لیے تمہیں ڈھونڈھ رہی ہو۔۔۔۔
ساحل حیرت زدہ سا اُسے دیکھ رہا تھا۔۔۔وہ کبھی سیریس نا ہونے والی کسی سمجھدار تجربے کار انسان کی طرح اُسے سمجھا رہی ہے یہ یقین کرنا کافی مشکل تھا لیکِن اُس کی باتیں بے معنی نہیں تھیں۔۔۔
کیا اس طرح لوگوں کی باتوں میں آکر تم اُن کے ساتھ غلط نہیں کر رہے۔۔۔۔دنیا پر بھروسہ کر رہے ہو تو ماں لفظ پر بھی تھوڑا کرکے دیکھو نا۔۔۔۔
ایک بار اپنی ماں سے پوچھو کے کیوں وہ اتنی مجبور ہو گئی تھی۔۔۔۔
اگر تمہارا ڈر صحیح بھی ہوا تو زیادہ کچھ نہیں بدلے گا ساحل۔۔۔۔جو بات تم سمجھ کر جی رہے ہو مان کے جینے لگوگے لیکن اگر تم نے دیر کردی تو اس بے چینی کے ساتھ ایک گلٹ بھی ساری زندگی کے لیے تمہارے ساتھ جڑ جائیگا۔۔اور اُسے ختم کرنے کا کوئی آپشن بھی نہیں ہوگا پھر۔۔۔۔
وہ اُسے چپ دیکھ سنجیدگی سے بولی ساحل نے سب کچھ سن کر بھی بنا کچھ کہیں آنکھیں بند کرکے کھولیں اور دوبارہ اپنی جگہ لیٹ گیا منہ موڈ کر۔۔۔
ساحل پلیز میری بات تو سنو۔۔۔۔۔
وہ اُس کے یوں اگنور کرنے پر اُس کا بازو پکڑ کے اُس کا رخ اپنی طرح کرتے ہوئے بولنے لگی
اگر تمہارا ڈر صحیح ہوا تو میں ہوں نہ۔۔۔اکیلا نہیں چھوڑوں گی تمہیں۔۔۔
وہ اُس کے گھورنے پر اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنائیت سے بولی ساحل نے سنجیدگی سے اُسے دیکھا اور دوبارہ رُخ موڈ کر سو گیا۔۔نین نے بیچارگی سے اُسے دیکھ کر سر جھٹکا
♦♦♦♦♦
وہ صبح دیر تک سوتی رہی جب نیند سے جاگی تو ساحل شیلف میں رکھے کپڑے بیگ پیک میں رکھا تھا۔۔۔
اُس نے حیران ہوتے اٹھ کر غور سے دیکھا تو وہ اُس کے ہی کپڑے بیگ میں بھر رہا تھا۔
یہ کیا کر رہے ہو تم۔۔۔۔۔
میرا سامان کیوں نکال رہے ہو۔
صبح صبح پھر سے مجھے یہاں سے نکالنے کا بھوت سوار ہو گیا تم پر۔۔۔۔
وہ ماتھے پر بل ڈالے بولی اُسے یہی لگا کے اُس کی رات والی باتوں کی وجہ سے وہ اُسے ابھی جانے کو کہہ دیگا۔۔۔
ساحل اُس کے گھورنے کو اگنور کیے اپنے کام میں لگا رہا تو وہ اٹھ کر اُس کے پاس آئی
چُپ کیوں ہو بولو نا۔۔۔۔میرے کپڑے کیوں اس بیگ میں بھر رہے ہو۔۔۔۔
وہ حیران پریشان سے پوچھنے لگی
کیوں۔۔۔۔تو نہیں چلیگی میرے ساتھ میری ماں کو ڈھونڈھنے۔۔۔۔
وہ بنا اُسے دیکھے مصروف سے انداز میں بولا۔۔نین کو ایک پل کے لیے یقین نہیں ہوا کے اُس نے صحیح سنا ہے یا غلط
سيریسلی۔۔۔۔۔۔تم مزاق تو نہیں کر رہے۔۔۔۔میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہی۔۔۔۔۔مجھے چٹکی کاٹو ذرا۔۔۔۔۔
اُس نے صدمے سے پوچھتے ہوئے ساحل کے سامنے آکر اپنی کلائی آگے کرتے ہوئے کہا۔۔
ساحل نے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کلائی پکڑ کر چہرے کے نزدیک کی اور چھوٹی اُنگلی کو منہ میں لے کر دانتوں سے دبایا
نین نے جلدی سے اپنا ہاتھ کھینچا۔۔۔دھیرے سے سسکی لی۔۔
دل اُس کے لبوں کا لمس محسوس ہوتے ہی کچھ یاد کرکے زوروں سے دھڑکا تھا۔۔
لیکن ہمیں پہلے پتہ لگانا ہوگا نا کے تمہارا گھر کہاں ہے۔۔۔۔ورنہ ہم کیسے جا سکتے ہیں۔۔۔۔تمہیں معلوم ہے کیا۔۔۔
وہ فوراً دل کی حالت پر قابو پاتے ہوئے بولی۔۔۔
دو بار اسٹیشن سے اور ایک بار بیچ راستے سے واپس لوٹا ہوں۔۔۔۔۔۔
جب بات دوسروں کی آتی ہے تو مجھے اُن کا درد یا پریشانی زیادہ محسوس نہیں ہوتی لیکن اپنے معاملے میں میں پتہ نہیں اتنا کمزور کیوں ہوں۔۔۔۔
اُس نے پرسوچ نظریں سامنے جمائے دھیمے لہجے میں کہا
تمہاری ساری ٹینشن اب جلد ہی ختم ہوجائے گی۔۔۔میں جلدی سے تیار ہوجاتی ہوں۔۔۔ویسے ہم ٹرین سے جا رہے ہیں یا پلین سے۔۔۔۔۔
نین بہت زیادہ اکسائیٹڈ تھی اُس کی بیتابی سے نظر آرہا تھا۔۔۔
آ بیسلی ٹرین سے ہی جائیں گے۔۔۔۔۔پلین سے کیسے جا سکتے ہیں تم میرے پاپا کی طرح رئیس تھوڑی ہو۔۔۔ہم تو غریب ہے نہ۔۔۔۔وہ الگ بات ہے ٹرین یا کیب سے جاتے ہوئے ہمارے اٹھارہ گھنٹے لگ جائیں گے۔۔
اُس نے ساحل کے کچھ کہنے سے پہلے خود ہی کہہ دیا اُس کا ہمیشہ کا ڈائیلاگ مارتے ہوئے جس پر ساحل نے مسکراہٹ کو لبوں تک آنے سے روکا
چلو آج اسی خوشی میں میں اپنے ہاتھوں سے چائے بناتی ہوں۔۔۔۔
اُس نے پرجوش انداز میں چٹکی بجا کر کہا تو ساحل نے جھٹکے سے سر گھما کر اُسے دیکھا۔۔۔
پچھلی چائے کا ذائقہ اب تک نہیں بھولا تھا اور وہ نئی چائے بنانے کی بات کرکے اُسے نيا صدمہ دے رہی تھی۔۔۔
دیکھ اگر ایسی بکواس کی نا تو میں کہیں نہیں جاؤں گا۔۔۔میرے کو نہیں پیني تیری چوہا مار چائے۔۔
وہ غصے سے بھڑک بولا۔۔
میں تو مزاق کر رہی تھی۔۔۔۔
نین نے منہ بنا کر کہا
ایسے مزاق پسند نہیں ہے میرے کو۔۔۔
وہ دانت پیس کر بولتا دوبارہ اپنے کام لگ گیا۔۔۔نین اُسے زبان دکھا کر باہر نکل گئی
♦♦♦♦♦♦♦♦♦
