Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 95
No Download Link
Rate this Novel
Episode 95
نین دیکھو۔۔۔ہاتھ جوڑ تی ہوں شانت رہنا پلیز۔۔۔ایکدم سے اُس پر جھپٹ مت جانا ورنہ آگے بات کرنے کا بھی موقع نہیں ملےگا۔۔بتا رہی ہوں
وہ انجو کے بھیجے گئے ایڈریس کے قریب پہنچے جب ریا نے اُسے وارن کرنے والے انداز میں کہا تو نین کے ماتھے پر بل پڑے
تم تو ایسے بول رہی ہو جیسے میں خاندانی لڑاکوں ہوں۔۔۔بلاوجہ لوگوں پر جھپٹنے کے موقعے تلاشتی ہوں۔۔۔۔
وہ حیرت کا اظہار کرتی اُسے گھورنے لگی تو ریا نے آہ بھری
خاندانی تو نہیں لیکن ۔۔۔۔خیر چھوڑو ۔۔۔۔۔
ریا نے بڑبڑاتے ہوئے آنکھیں گھمائی اور گاڑی کو بریک لگایا ۔۔۔
گاڑی عالیشان سنگھانیه مینشن کے کے بڑے سے گیٹ کے سامنے رکی جہاں بنگلے کی سب سے اونچی دیوار پر انگریزی کے دو لفظ ڈی اور ایس دور دور تک جگمگا رہے تھے۔۔۔۔
اندر جانے اور اُسے دیکھنے کے خیال سے ہی نین کا دل زوروں سے دھڑکنے لگا۔۔۔۔گھبراہٹ اور بے چینی بڑھنے لگے۔۔۔
وہ اپنے سائیڈ کا ڈور کھول کر گاڑی سے اُتر تے ہوئے اندھیرے میں سفید اور گلابی روشنی بکھیرتے اُن دونوں لفظوں کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔ویسے تو وہ ہر سچویشن سے لڑنے کو تیار رہتی تھی لیکن اکثر جب دل پر چوٹ لگتی اور جذبات متاثر ہوتے تو ہمت کے ساتھ وہ خود بھی ٹوٹ جاتی ۔۔
پہلے بھی اُس کا دل ٹوٹا تھا پہلے بھی ٹھیس لگی تھی لیکن تب اُسے سنبھالنے کے لیے ساحل اُس کے پاس تھا۔۔۔۔وہ اُسے سہارا دے کر بکھرنے سے بچا لیتا تھا۔۔ لیکن اب تو وہ اُس کے ہی مقابل کھڑی تھی ۔۔۔۔بلکل اکیلی۔۔۔۔۔
اُس کی بہادری یہ سوچ کر ہی دم توڑ رہی تھی کے بجائے حل ہونے کے یہ مشکل بڑھ نا جائے۔۔۔اُسے صحیح ہو کر بھی شرمندہ نا ہونا پڑے۔۔۔۔
نین اندر چلیں۔۔۔۔
ریا نے اُسے خاموش کھڑے دیکھ اُس کے شولڈر پر ہاتھ رکھ کر کہا لیکن وہ بنا اُس کی طرف دیکھے آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے ہوئی اور پلٹ کر واپس گاڑی کی جانب بڑھنے لگی۔۔۔
کیا ہوا نین۔۔۔۔۔۔
ریا نے اُس کا راستہ روکتے ہوئے حیرت و پریشانی سے پوچھا کے کہاں وہ پہلے اُس سے ملنے کو اتنی بے چین تھی کے صبح کا بھی انتظار نہیں کرنا چاہتی تھی اور کہاں وہاں تک پہنچ کر پلٹ گئی تھی۔۔۔۔
مجھے ۔۔بہت ڈر لگ رہا ہے ریا۔۔۔۔
وہ زمین کو تکتے ہوئے دھیرے سے بولی تو آنکھ سے آنسو نکل کر چہرے پر بکھرا۔۔
میں غلط نہیں ہوں اور یہ بات میں اُس سے نظریں ملا کر کہہ سکتی ہوں پھر بھی مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔۔
اگر ایک بار پھر وہ مجھ سے کہے گا کے تم بیوقوف ہو۔۔۔۔۔کِسی اَور کو اپنا شوہر کہنے والی پاگل بے عقل لڑکی ہو۔۔۔اگر ایک بار پھر وہ مجھے۔۔۔۔۔۔مجھے دھتکار دے گا۔۔مجھے پہچاننے سے انکار کر دے گا
کیا بگاڑ لوں گی میں اس کا ۔۔۔۔۔بس خود کی نظروں میں تھوڑا اور گر جاؤں گی۔۔۔میرے جذبات ایک بار پھر رسوا ہوں گے۔۔۔میری عزتِ نفس کی دھجیاں بکھر جائیں گی۔۔۔
وہ بھیگی نظریں نیچے کیے پُر درد لہجے میں بولنے لگی تو آنسو بیساختہ ہو کر نرم گالوں کو نم کرتے گئے۔۔ریا محض افسوس سے اُسے دیکھتی رہ گئی ۔۔۔۔کہ اُس کے درد نے اُس کی خوش مزاجی اور زندہ دل کو کیسے درگو کیا تھا
اور یہ سب جان کر بھی میں اُس کے پاس جانا چاہتی ہوں کیوں کے میرا دل مجھے مجبور کر رہا ہے۔۔۔۔
میں بہُت بے بس ہو گئی ہوں ۔۔۔۔
اُس نے بھیگی نظریں اٹھا کر ریا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو جتنی تھکان لہجے میں تھی اتنی ہی بے بسی سرخ ہوتی آنکھوں میں۔۔۔
ایک نظر پلٹ کر اُن دو لفظوں کی جگمگاہٹ کو دیکھا جو اُس کی آنکھوں میں چبھ کر اُنہیں مزید زخمی کر رہی تھی اور پھر دوبارہ ریا کی طرف پلٹا
کتنا چھوٹا کر دیا ہے اس محبت نے مجھے ریا ۔۔۔۔۔ جو درد دے رہا ہے میں اُسے ہی پانے کے لیے تڑپ رہی ہوں۔۔اُس کی خاطر دیکھ کر بھی جان کر بھی ان کانٹوں پر چلنا چاہتی ہوں۔۔۔۔
جو چوٹ اُس نے دی ہے اُن پر مرہم بھی اسی سے ہی چاہتی ہوں۔۔۔
میری زندگی کتنی اُلجھ گئی ہے۔۔۔۔۔۔میرا دل میری ہی نہیں مانتا اور جس کے قابو میں ہے وہ صرف درد دیتا ہے۔۔۔کبھی بے رخی سے۔۔۔۔کبھی بے نیازی سے۔۔۔کبھی بیگانگی سے کبھی بے وفائی سے۔۔۔صرف درد دیتا ہے۔۔۔
وہ بھیگے بکھرے لہجے میں کہتی جلتی آنکھوں کو بند کرکے اُنہیں ہتھیلیوں سے ڈھکے زاروقطار رونے لگی تو ریا نے آگے بڑھ کر اُسے گلے لگا لیا
نہیں نین۔۔۔۔تم اتنی کمزور نہیں ہو ۔۔۔ایسے رو نے والی لڑکی نہیں ہو تم۔۔۔تم ہر پرابلم کو فیس کرنے والی لڑکی ہو۔۔۔۔۔۔۔چپ ہوجاؤ اور حوصلا رکھو۔۔۔۔
ریا اُسے حوصلا دینے کے لیے اُس کے بالوں کو سہلاتی اُسے سمجھانے لگی لیکن اُس کے آنسوؤں میں مزید روانی آئی۔۔
نہیں ہوتا اب مجھ سے۔۔۔۔۔حوصلا رکھتی ہوں تو قسمت اور زیادہ آزماتی ہے۔۔۔۔شاید جو لوگ زندگی میں سیریس نہیں ہوتے زندگی اُن کے ساتھ سیریس نہیں ہوتی۔۔۔۔۔تبھی تو دیکھو کیسے جی رہی ہوں میں۔۔۔۔۔کچھ نا کرکے بھی پتہ نہیں کس بات کی سزا بھگت رہی ہوں۔۔۔۔
وہ ریا سے الگ ہو کر اُس کے ہاتھ تھامے روتے ہوئے بولی ریا کی آنکھیں بھی نم ہونے لگی۔۔۔اُس نے نین کے چہرے سے آنسو صاف کیے
تمہیں یاد ہے نا جب داؤد اور تمہارا رشتا ٹوٹا تھا۔۔۔کتنی مایوس ہو گئی تھی تم۔۔۔۔۔اپنے خدا سے اپنی قسمت سے کتنے شکوے کرتی تھی۔۔۔کتنا روتی تھی۔۔۔
ریا نے اُس کا چہرہ تھامتے ہوئے کہا تو وہ نم نظریں اٹھا کر اُس کی طرف دیکھنے لگی حالانکہ آنسوؤں میں کوئی کمی نہیں آئی ۔
پھر چند مہینوں بعد خود تم نے مجھ سے کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ کے تم خوش ہو جو داؤد اور تمہارا تعلق آگے بڑھنے سے پہلے ہی ختم ہوگیا۔۔۔ورنہ ساحل تمہاری لائف میں نہیں آتا۔۔۔۔۔تم اُس محبت اور اُن جزباتوں سے محروم رہ جاتی جو ساحل کے ہونے سے ہے۔۔۔
جیسے تمہیں بہُت بعد میں سمجھ آیا کی اُس وقت جو ہوا وہ تمہاری بدنصیبی نہیں بلکہ بہتری تھی تو اس وقت بھی تو ایسا ہو سکتا ہے نا کے اس مشکل میں تمہاری کوئی بھلائی ہو۔۔جو ابھی نظر نہیں آرہی لیکِن بہُت جلد تمہارے سامنے آئے۔۔۔
ایسا ہو سکتا ہے نا۔۔۔۔
ریا اُسے سمجھانے کی کوشش میں کامیاب ہوئی کیوں کے نین نے اس کے پوچھنے پر سر ہاں میں ہلایا۔۔
تو پھر چلو۔۔۔اب رونا بند كرو اور اس سچویشن کا سامنا کرو۔۔۔۔۔
ریا نے مسکرا کر اُسے ہمت دیتے ہوئے کہا تو اُس نے اپنے آنسو رگڑ کر گہری گہری سانسیں لیتے ہوئے اُن پر ضبط رکھنے کی کوشش کی۔
اُس کا ہاتھ تھامے گیٹ کے نزدیک پہنچ کر ریا نے اپنا نام بتایا تو گارڈز نے اندر کال کرکے پرمیشن لی اور دکش کے اجازت دینے پر اُنہیں اپنے ساتھ اندر وہیں گارڈن ایریا میں لے آیا جہاں انجو اور دکش بیٹھے تھے۔۔۔۔
دور سے ہی اُن دونوں کو ایک دوسرے کے قریب بیٹھے دیکھ کر اُس کی دھڑکنیں سست ہونے لگی۔۔۔اور اُس کی دلی کیفیت کا محض اندازہ لگا کر ہی ریا نے اُس کے ہاتھ پر گرفت سخت کرکے اُسے ہمت دی۔۔اور کچھ بھی ری ایکٹ کرنے سے منع رکھا
ہائے ۔۔۔۔۔۔
اُن دونوں کے پاس آکر ریا نے مسکراتے ہوئے کہا
لیکِن دونوں نے کوئی جواب نہیں دیا کیوں کے دونوں اُس کے ساتھ کھڑی نین کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔
انجو حیرت سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی لیکن دکش کے تاثرات میں کوئی فرق نہیں آیا
وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے سکون سے صوفے پر بیٹھا سگریٹ کو لبوں سے نکال کر دھوئیں کو فضا میں خارج کرنے لگا تو ایک پل کو نین کی نظروں میں اُس کا عکس دھندلا ہوا۔۔۔
میں جانتی ہوں تم دونوں مجھے نین کے ساتھ دیکھ کر شاک ہو۔۔۔
نین میری بیسٹ فرینڈ ہے اور میری شادی کے لیے کل ہی ممبئی سے یہاں آئی ہے۔۔۔۔
ریا انجو کی حیرت بھانپ کر خود ہی خاموشی کو توڑتی دونوں کو باری باری دیکھ کر بولی تو انجو ماتھے پر شکنیں لیے اُس کی طرف بڑھی
جب کے دکش نین سے نظریں ہٹا چکا تھا لیکن نین کی نگاہیں اُس اور ہی تھی۔۔۔
ریا تمہیں نہیں پتہ آج مال میں۔۔۔
انجو حیرت و اُلجھن سے اُسے صبح کا واقعہ بتانے لگی لیکِن
میں جانتی ہوں انجو۔۔۔اور اکچلي میں یہی بتانے آئی ہوں تم دونوں کو کے نین نے جو کیا وہ بس ایک پرینک تھا ۔۔۔۔میں نے ہی کہا تھا اُسے ایسا کرنے کو۔۔۔۔۔۔
ریا نے اُس کی بات کاٹ کے مسکرا کے بہانا بنایا۔۔۔
پرینک۔۔۔۔۔۔
انجو کبھی نین کو تو کبھی ریا کو دیکھتی سمجھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔۔۔
جب کے وہ بے پرواہ سی اُسے دیکھ رہی تھی جو بے نیاز بن کر منہ موڑے نئی سگریٹ سلگانے میں مصروف تھا۔۔
میں تو بس تم دونوں کے ساتھ تھوڑی شرارت کرنا چاہتی تھی۔۔۔دیکھنا چاہتی تھی کے تم دونوں ایک دوسرے پر ٹرسٹ کرتے ہو یا نہیں۔۔۔اور تم اتنی شاک کیوں ہو رہی ہو۔۔۔تم نے بھی تو میرے اور آریا کے ساتھ کتنے پرینک کیے ہے سو میں نے بھی ایک کر لیا۔۔۔۔کیا نہیں کرسکتی۔۔
ریا نے جلدی جلدی بات بنا کر خفگی سے پوچھا تو انجو مسکرائی۔۔اب تک جو ٹینشن کا بوجھ تھا کے کوئی لڑکی خود کو دکش کی بیوی بتا رہی ہے وہ ریا کی بات سن کر دل سے اتر گیا۔۔۔
پرینک تو ٹھیک ہے یار لیکن اس نے دکش کو مال میں سب کے سامنے کک ماری وہ صحیح نہیں تھا ۔۔۔پتہ ہے اُنہیں کتنا برا لگا۔۔۔۔۔
انجو نے نین کی طرف بھی خفگی سے دیکھ کر کہا نین نے کوئی اثر نہیں لیا لیکن اپنی نظریں ساحل سے ہٹا کر نیچے کر لیں۔۔کیوں کے وہ اب ایسی کوئی غلطی نہیں کرنا چاہتی تھی کے اُس سے بات کرنے کا موقع نہ ملے
وہ۔۔۔۔۔۔۔وہ بس نین سے تھوڑی غلطی ۔۔۔۔۔۔سوری دکش۔۔۔۔۔
ریا نے جلدی سے بات سنبھالی اور دکش کی طرف دیکھ کر کہا تو اُس نے ایک پل کے لیے نظر اٹھا کر سر کو ہلکی سی جنبش دی۔۔
نین کو اُس کے پہلو بدلنے سے محسوس ہوا جیسے وہ وہاں سے اٹھتے اٹھتے رک گیا ہو۔۔۔
شاید یہ سوچ کر کے نین اُس کا وہاں سے جانا خود سے بچنے کی کوشش نہ سمجھ لے ۔
۔
تو اس پرینک کے بعد تمہیں پتہ چلا کے ہم ایک دوسرے پر کتنا ٹرسٹ کرتے ہے۔۔۔
انجو نے مسکراتے ہوئے پوچھا تو ریا نے ہنس کر سر ہلا دیا
اچھا یہ وہی تمہاری لندن والی فرینڈ ہے جس کے بارے میں تم باتیں کرتی تھی۔۔۔۔
انجو اُس ٹاپک سے ہٹ کر نین کی طرف متوجہ ہو کر پوچھنے لگی تو نین کڑے دل سے اُس کی طرف دیکھ کر زبردستی مسکرائی۔۔۔۔۔
تم سے مل کر بہُت خوشی ہوئی لیکن میں تم سے تھوڑی جیلس بھی ہوں کیوں کے یہ ریا مجھ سے زیادہ تمہاری سگی ہے۔۔۔
ریا کے حامی بھرنے پر وہ اپنائیت سے نین کا ہاتھ پکڑ کر بو لی۔۔۔لیکن اُس وقت نین کے لیے مسکرانا بھی عذاب تھا خوشدلی سے بات کرنا تو دور۔۔۔۔۔
ارے تم دونوں بیٹھو نا ۔۔۔۔۔ کم۔۔۔۔۔
انجو ایک دم سے احساس ہونے پر صوفے کی طرف اشارہ کرکے بولی تو نین نے ریا کی طرف دیکھا
انجو ۔۔۔۔مجھے واشروم ۔۔۔۔
اُس کے دیکھنے کا مطلب سمجھ کر ریا نے دھیرے سے کہا تو انجو نے اوہ کرکے سر ہلایا
تم بیٹھو نین۔۔۔۔میں ابھی آتی ہوں۔۔۔۔۔۔
ریا اُسے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کرتے ہوئے بولی اور خود انجو کے ہمراہ اندر چلی گئی۔۔
نین نے اُنہیں دروازے سے اندر چلے جانے تک دیکھا۔۔۔۔۔
جب دونوں نظروں سے اوجھل ہو گیئں تو دل تھامے سرخ نگاہوں کا رخ ساحل کی جانب کیا۔۔۔۔اور قدم اُس کی طرف بڑھائے۔۔۔
وہ لاتعلق سا پیر جھلاتا رہا بے نیازی برتتا رہا لیکن جب نین اُس کے ٹھیک سامنے آکر رکی تو اُس نے سر اٹھا کر سنجیدگی سے اُس کی جانب دیکھا۔۔۔۔
اٹھو۔۔۔۔
نین ناراض نظروں میں لاکھوں شکایتیں لیے اُسے دیکھتی ہوئی بولی تو اُس نے ایک آئبرو اٹھا کر سرد نگاہوں سے نین کو گھورا۔۔۔
میں نے کہا اسٹینڈ اپ۔۔۔۔
وہ اُس کے گھورنے پر غصّہ سے اُس کی کالر پکڑنے کو تھی لیکن وہ ایک انچ کے فاصلے پر۔اُس کی کلائی کو جکڑ کر اُس کی کوشش ناکام کر گیا۔اور اُس کا ہاتھ جھٹک کر دور کرتے ہوئے غصے سے اُسے دیکھتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
ہو گیا تمہارا یہ تھرڈ کلاس ڈراما۔۔۔۔۔اب فوراً۔۔۔۔
وہ ہمیشہ کی طرح اُسے آنکھیں دکھا کر سختی سے کچھ سنانے کے ارادے میں تھی لیکن دل کے جذبات بے قابو ہو گئے۔۔۔آنکھیں جل اٹھی اور آواز بھاری ہو گئی تو الفاظ ادھورے چھوڑ کر۔۔۔۔۔ سانسوں کو سینے میں روک کر۔۔۔۔۔ آنسوؤں کو پلکوں میں جذب کرکے
۔۔۔ دھیرے سے باہیں اُس کے گرد باندھ کر اُس کے سینے سے لگ گئی۔۔۔۔۔
نین کے اس عمل سے اُس کی دھڑکنیں ٹہر گئی۔۔نظریں جہاں کی وہاں رکی رہ گئی۔۔۔۔
لب ہلکے سے کھلے تو سانسیں بحال ہوئی۔۔۔۔لیکن تب بھی اتنا بس نہیں چلا کے اپنے وجود کو کوئی حرکت دے سکتے۔۔۔
اُس احساس کے زیرِ اثر جس نے نین کی طرح ہی شدّت سے اُسے جکڑ کر پیرالائز کردیا
نین نے اس کے سینے سے سر لگائے آنکھیں بند کرکے۔۔۔۔اپنے اطراف اور اپنے آپ کو فراموش کرکے۔۔۔اپنے وجود کے ہر حصے سے اُس کی خوشبو کو اُس کی قربت کو اور اُس کی دھڑکنوں کی دھن کو محسوس کیا تو دل نے اُس کے یقین پر سچ کی مہر لگائی کے نا وہ خوشبو اجنبی تھی نا وہ دھڑکنیں ان سنی تھی۔۔۔نا وہ لمس غیر تھا۔۔۔
اُس کی بے چینی کو ڈھیروں سکون ملا تو درد آنسُو بن کر آنکھوں سے بہتا سفید شرٹ میں جذب ہونے لگا ۔۔۔۔نازک بازؤں کی سخت ہوتی گئی۔
اور اُس گرفت کی تپش نے ساحل کی رگوں میں بہتے خون کی گردش تیز کردی۔۔۔۔۔بے قابو جذباتوں کو سلگاکر اُس کے لیے سانس لینا محال کیا۔۔۔۔۔۔
آنکھوں میں سرخی بھرنے لگی تو اُس نے آنکھیں ضبط سے بند کرکے کھولیں۔۔۔
اُسے لگا اگر چند سیکنڈ اور نین اُس کے اتنے قریب رہی تو اُس کے لیے ضبط مشکل ہوجائے گا۔۔۔۔۔وہ اپنے ہاتھوں کوئی غلطی کرکے مہینوں کی محنت برباد کردیگا۔۔۔
اُس نے نین کو خود سے دور کرنے کے لیے اُس کے دونوں بازؤں کو جکڑا لیکن اُس کو گرفت اتنی نرم تھی جیسے دور کرنے کے لیے نہیں قریب کرنے کے لئے تھاما ہو۔۔۔
نین نے ذرا سا پیچھے ہو کر سر اٹھائے اُس کی جانب دیکھا تب تک وہ اپنے تاثرات اور اپنی گرفت دونوں سخت کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔۔۔
What The hell are you doing۔۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے نین کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مدھم لیکِن سرد لہجے میں بولا تو نین ہاتھ اُس کے گرد سے ہٹا کر پیچھے ہوئی
میرے سامنے زیادہ ناٹک کرنے کی ضرورت نہیں ہے سمجھے تم۔۔۔۔۔
اُس انجو کو ریا کو پوری دنیا کو بے وقوف بنا سکتے ہو تم لیکن مجھے نہیں۔۔۔۔۔
میں جانتی ہوں تم ساحل ہی ہو۔۔۔
وہ اپنے آنسُو ہتھیلی میں جذب کرتے ہوئے مضبوط پُر یقین لہجے میں بولی
دیکھو۔۔۔پہلے بھی کہا تھا اور اب بھی کہہ رہا ہوں تم مجھے پہچاننے میں غلطی کر رہی ہو۔۔۔۔میں وہ نہیں ہوں جو۔۔ تم سمجھ رہی ہو۔۔۔
اُس نے پیشانی پر بل ڈالے بے تاثر لہجے میں کہا تو نین نے بھیگی آنکھوں میں خفگی لیے اُسے دیکھا۔۔۔
پہچاننے میں غلطی شاید تب کرتی جب تمہیں دیکھ کر ساحل سمجھتی۔۔۔۔۔لیکن میں نے تمہیں بس دیکھا نہیں بلکہ فیل کیا ہے۔۔۔
نین اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے جتاتے لہجے میں بولی ۔۔۔تو اُس کے دل نے بیٹ مس کی۔۔۔اُس نے نظریں چرا کر اُن کا رخ بدلا
آنکھیں دھوکا کھا سکتی ہے لیکن دل کبھی غلط نہیں کہتا۔۔۔اُن کے معاملے میں تو ہرگز نہیں جن کو خود میں بسا لیتا ہے۔۔۔
تُم یقین مت کرو۔۔۔۔۔مجھ سے نظریں مت ملاؤ۔۔۔۔۔۔جو چاہتے وہ کرو۔۔بس مجھے میرے ایک سوال کا جواب دے دو۔۔۔
وہ اُس کی بیگانگی پر اُمڈ آتے آنسووں کو روک کر سست سرسراتے لہجے میں بولی۔۔تو ساحل نے سنجیدگی سے اُس کی طرف دیکھا۔۔۔
مجھے بس اتنا بتا دو کے کب تک انتظار کرنا ہے مجھے سکون کے اُن پلوں کے لیے جن کے لیے میں ترس گئی ہوں۔۔۔۔۔۔ تمہارے ساتھ کے لیے جو میں نے محسوس کرنا شروع کیا اور تم مجھ سے اتنے دورہو گئے۔۔۔۔
وہ بے بسی سے اُسے دیکھتی پر سوز لہجے میں بولی حالانکہ وہ اُس سے لڑنے کا اُسے بہت کچھ سنانے کا ارادہ کرکے وہاں آئی تھی لیکن جب اُس کا بس نہیں چلا کے وہ خود کو رونے سے روک سکے اُس سے لڑ سکے شکوے کر سکے۔۔۔۔ تو ہار کر اُس سے سوال کرنے لگی
بس اتنا بتا دو کے کیوں۔۔۔۔کیوں مجھے اوروں کی طرح ایک نارمل لائف نہیں مل سکتی ۔۔۔۔۔۔
جو میرا ہے وہ میرے سامنے ہو کر بھی مجھ سے اجنبی کیوں ہے۔۔۔
وہ بھاری آواز میں تھکے تھکے لہجے میں پوچھنے لگی ۔۔۔ساحل پتھر بن کر کبھی اُس کی بھیگی پلکوں تو کبھی ہر ہچکی کے ساتھ لرزتے بھیگے گلابی لبوں کی حرکت کو دیکھتا رہا۔۔۔
کیا اسلئے کیوں کے ہماری شادی تمہاری مرضی نہیں میری ضد تھی۔۔ کیا شروعات کمزور تھی اسلئے یہ رشتا کبھی مضبوط نہیں ہو گا۔۔۔۔کیا میرے اِنتظار کی کوئی منزل نہیں ہوگی۔۔۔۔۔کیا میں ساحل کو پانے کے لیے ایسے ہی بھٹکتی رہوں گی زندگی بھر۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے سوالوں اور اُس کے آنسوؤں کے زیرِ اثر اپنی آنکھیں جلتی محسوس کرکے اُس کے چہرے سے نظریں ہٹا گیا ۔۔۔اور اُس کا خود سے منہ موڑنا نین کے دل میں تیر کی مانند چبھا۔۔۔۔۔
مجھے جواب دو وائلڈ مین۔۔۔
مجھے جواب دو۔۔۔۔
وہ غصے میں آگے بڑھ کر ہاتھ سے اُس کے چہرے کا رخ اپنی طرف کرکے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی لیکن اگلے ہی لمحے وہ غصّہ پھر بے بسی میں بدل گیا۔۔۔اور سختی آنسُو بن کے بہہ گئی۔۔۔۔
مجھے اس بھنور سے نکال لو پلیز۔۔۔میرا دم گھٹ رہا ہے۔۔۔۔سب کو۔لگتا ہے نین بہُت بہادر ہے لیکن میں بہادر نہیں ہوں ۔۔۔۔۔آنسُو نہیں آنے دیتی لیکن روتی ہوں ۔۔۔۔ہنستی نظر آتی ہوں لیکِن خوش نہیں ہوں۔۔۔پرسکون نظر آتی ہوں لیکن اندر ہی اندر ٹوٹ گئی ہوں۔۔۔۔
محبت نا صحیح۔۔۔۔ہمدردی کرلو مجھ سے۔۔۔۔
وہ اُس کے چہرے پر ہتھیلی رکھے ہچکیاں بھرتی رہی ۔۔۔۔اور اپنے چہرے پر اُس کی گرم لرزتی اُنگلیوں کا لمس ساحل کے لیے وبال بنتا گیا ۔۔۔
اُس نے ایکدم سے دانت بھینچے اور اُس کی کلائی پکڑ کر اُس کا ہاتھ اپنے چہرے سے دور کیا۔
تم اپنے اموشنز غلط جگہ ایکسپریس کر رہی ہو۔۔۔۔۔میں دکش سنگھانیا ہوں اور مجھے ایک ہی بات بار بار دوہرانا پسند نہیں ہے۔۔۔۔بہتر ہوگا کے ایک بار میں سمجھ لو اور اپنی یہ کمپلینٹس جا کر اپنے ہسبنڈ کو سناؤ۔۔۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ جھٹک کر غصے سے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔
مجھے بھی کوئی چیز بار بار دوہرانا پسند نہیں ۔۔۔میں نے کہہ دیا کے تم ساحل شیرازی ہو تو تم ہو۔۔۔۔۔
وہ بھی غصے اور ڈھٹائی سے اُسی کے انداز میں بولی اور اپنے آنسُو صاف کیے
کتنی اریٹیٹنگ لڑکی ہو تم۔۔۔۔۔تمہیں سمجھ نہیں آتی کسی کی بات۔۔۔۔
ساحل نے بیزاری سے سانس خارج کرتے ہوئے کہا
تُم سمجھنے کی بات کر رہے ہو تم اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کرواکر بھی ثابت کردو تو بھی نہیں مانتی۔۔۔۔جو کرنا ہے کرلو۔۔۔۔
وہ آنکھیں بڑی کرکے اُسے گھورتے ہوئے جتا کر بولی تو و اُس کے اس قدر یقین پر ایک لمحے کو اُسے دیکھتا رہ گیا۔
مجھے نہیں پتہ کے تمہارا یہ کونسا نیا سوانگ ہے لیکن میری بات کان کھول کر سن لو۔۔میرا صبر بہت آزما چکے ہو تم۔۔۔اب اگر نہیں سنبھلے تو دل سے اتر جاؤگے۔۔۔۔۔۔
اب وہ خود کو سنبھال چکی تھی اور بجائے بے بسی سے رونے کے سختی سے اُسے وارن کر رہی تھی ۔۔۔وہ خاموش تھا بس اُسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
اُس لڑکی کے ساتھ بہُت محبت کے پھول کھلا رہے ہو نا ٹھیک ہے کھلاؤ پر ایک بات سن لو۔۔۔اُس سے چپکا چپکی اتنی ہی کرنا جتنی تم میں سہن شکتی ہو۔۔۔کیوں کہ پھر دکش کے نقش بگاڑنے سے نین تارا کو کوئی نہیں روک سکتا۔۔۔۔۔
وہ اُسے اپنے خطرناک ارادوں سے باور کرواتی بلکل سیریس انداز میں دھمکانے لگی تو اُس نے پہلے بھویں اچکا کر اُسے دیکھا پھر ایکدم سے اُسے بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کھینچا
اپنی زبان کو کنٹرول کرو۔۔۔ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔۔میرا صبر بھی بہت آزما چکی تم۔۔۔۔اب اگر مجھ سے بدتمیزی کی تو وہ کروں گا جس سے تمہیں یقین ہوجائے کہ یہ صرف دکش سنگهانیہ ہی کر سکتا ہے۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتا سخت سرد لہجے میں اُسے دھمکانے لگا اُسے جو ڈرنا تو دور اُس کی بات کو خاطر میں بھی لانے والی نہیں تھی۔۔۔
نین نے آنکھیں چھوٹی کرکے اُسے گھورا تو وہ اُس کے بازؤں پر گرفت سخت کرتا کچھ اور بولنے کو تھا لیکن اندر کے دروازے سے ریا کو باہر نکلتے دیکھا تو نین کے بازؤں سے ہاتھ ہٹا کر پیچھے ہوا اور اُسے سخت سرد نظروں سے گھورتے اندر کی طرف بڑھ گیا۔۔جب کے وہ اُسے قدم بقدم خود سے دور جاتا دیکھ اُداس ہونے لگی
سوری تھوڑی دیر ہو گئی وہ مجھ سے ٹیپ ٹوٹ گیا اور کپڑے گیلے ہوگئے تو اُنہیں ڈرائے کرنے میں وقت لگ گیا۔۔۔۔
نین کے پاس آکر ریا نے اُسے دیر کرنے کی وجہ بتائی ۔۔۔حالانکہ اُس نے خود کوششں کی تھی کے نین کو ٹھیک سے دکش کے ساتھ بات کرنے کا موقع مل جائے اور اس کے لیے اُسے اپنے کپڑے گیلے کرنے پڑے تھے
چلو ہم نکلتے ہے انجو۔۔۔کافی لیٹ ہوگیا ہے ڈیڈ ویٹ کررہے ہوں گے۔۔۔۔
وہ نین کو سن کھڑے دیکھ انجو کی جانب رخ کرکے بولی
ارے لیکن ابھی تو تم دونوں نے کچھ لیا بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔نین پلیز سٹ نا۔۔
انجو نے حیرت سے کہہ کر نین کو دیکھا لیکن وہ کچھ نہیں بولی نظریں جھکائے کھڑی رہی۔۔۔
پھر کبھی یار ابھی ٹائم تو دیکھو ۔۔۔ایسا کرتے ہیں کل ملتے ہیں ہم۔۔۔اوکے
انجو نین کی خاموشی کو نوٹ کر رہی تھی لیکن وہ زیادہ غور کرے اُس کے پہلے ریا نے بات سنبھالی ۔۔۔۔انجو نے مسکرا کر کندھے اچکا دیے۔۔۔
ریا کے ساتھ وہ بس دو قدم ہی آگے بڑھی تھی کے کسی خیال سے رک گئی اور پلٹ کر اُس کی طرف دیکھا۔۔
تم یہیں اسی گھر میں رہتی ہو انجو۔۔۔۔
وہ کڑے دل سے اپنے لبوں کو مسکرانے پر مجبور کرکے پوچھنے لگی ۔۔۔اور جب ریا کو سمجھ آیا کے وہ ایسا کیوں پوچھ رہی ہے تو تاسف سے سر ہلا کر رہ گئی
نہیں ۔۔۔یہ تو دکش کا گھر ہے۔۔۔۔۔
انجو نے مسکرا کر سر نفی میں ہلاتے ہوئے کہا
اوہ اچھا تو بس آج کی رات تم یہاں رکنے والی ہو۔۔۔ہے نہ
وہ نارمل انداز میں اپنے اندر جلتی آگ کو بجھانے کا سامان کرنے لگی
ارے نہیں۔۔۔میں ابھی گھر جانے والی ہوں۔۔۔
انجو کے لیے اُس کے سوالوں کے وجہ سمجھنا نا ممکن تھا لیکن ریا اچھے سے سمجھ رہی تھی۔۔۔
تو ہم جاتے جاتے ۔۔چھوڑ دیں تمہیں۔۔۔
نین کو اُس کے جوابوں نے کچھ تسلی دی تو اب کے وہ صرف ظاہر نہیں بلکہ حقیقی مسکان کے ساتھ بولی۔۔۔
میرا گھر ریا کی اپوزٹ ڈائریکشن میں ہے نو پرابلم دکش مجھے ڈراپ کر دیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔
انجو نے اُس کے آفر کو اُس کے سوالوں کی وجہ سمجھ کر مسکرا کر انکار کیا تو اس کا اتنا حق سے کہنا بھی نین کو بہت بڑا لگا
نین اب ہم چلیں۔۔۔۔
ریا نے اُسے آنکھیں دکھائی کے اُس کے لاکھ سنبھالنے کے بعد بھی میں کوئی گڑبڑ نا کر دے۔۔۔تو اُسے حامی بھرنی پڑی۔۔۔۔لیکِن پلٹنے سے پہلے اُس نے اندر کی طرف نظریں دوڑا کا ایک نظر اُسے دیکھنا چاہا مگر ناکام رہی۔۔
اُن دونوں کو بائے کرکے انجو اندر آئی تو وہ اپنے روم میں شیشے کی دیوار کے سامنے کھڑا اسموکنگ کر رہا تھا۔۔
آج آپ کچھ زیادہ ہی سموکنگ کر رہے ہیں۔۔۔۔۔کوئی ٹینشن تو نہیں ہے نہ۔۔۔
وہ اُس کے سامنے آئی اور اُس کی سرخ آنکھوں کو دیکھتی ہوئی بولی تو اُس نے سر نفی میں ہلا دیا
۔ویسے نین نے جو کیا وہ ایک پرینک تھا تو اب اُس بات پر آپ کو اپ سیٹ نہیں ہونا چاہیے
اُسے لگا وہ اب تک اُس بارے میں غصہ ہوگا اسلئے سوالیہ انداز میں بولی دکش نے کوئی تاثر نہیں دیا۔
۔۔چلو میں تمہیں گھر ڈراپ کر دوں۔۔۔
بلکہ اُس کی بات کو انسنی کرکے بولتا وہاں سے جانے لگا لیکِن انجو نے اُس کا بازو پکڑ کر اُسے روک دیا
آپکو مجھ سے جان چھڑانے کی بہت جلدی ہے۔۔۔۔میں تو سوچ رہی ہوں کے آج کی رات یہیں رک جاؤں۔۔۔۔
وہ اُس کا رخ اپنی طرف کرکے شرٹ کی بٹن کو چھیڑتے ہوئے خفا انداز میں بولی تو وہ اُس کا ہاتھ شرٹ سے ہٹا کر اپنے ہاتھ میں لیے دھیرے سے مسکرایا۔۔۔۔
I have no problem baby۔۔۔۔۔
لیکن پھر کہیں تمہیں ہمیشہ کے لیے یہیں نا رکنا پڑ جائے۔۔
اُس کا ہاتھ اوپر کرکے اُسے ایک بار گھمایا اور پھر معنی خیز انداز میں بولا تو وہ بلش کرنے لگی
میں تو خود یہ چاہتی ہو کے ہر وقت آپکے ساتھ رہوں۔۔۔۔ یہ دِن کے بعد رات کو جدا ہونے والا سسٹم مجھے بلکل پسند نہیں۔۔۔۔لیکِن یہ تو آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ اسے کب ختم کرتے ہیں۔۔۔۔
انجو باہیں اُس کے گلے میں ڈالے اُس کے چہرے کی دلکشی پر مسرور ہو کر بولی تو دکش نے اُس کے دونوں ہاتھ کو گردن سے ہٹا کر اپنے ہاتھوں میں لیا
بہت جلد۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مسکرا کے بولا تو وہ خوشی سے اُس کے گلے لگ گئی۔۔۔۔۔۔۔
♦♦♦♦
