Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
صبح کے چار بجے ہی وہ فلک کو نیہا کے گھر چھوڑنے کو تیار تھا۔۔۔۔۔۔۔اُس نے جوتے پہنتے ہوئے فلک کو آواز دے کر باہر بلایا۔۔۔
شمع۔۔۔۔۔تم میرے لیے بھی اللہ سے دعا کرنا۔۔۔۔
فلک نے اپنی بہن کا ہاتھ تھامتے ہوئے نم لہجے میں کہا
۔آپی تم کیوں خود کو خدا سے دور کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔
شمع نے اُسے افسوس سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
کیوں کے اب میں اُس کے آگے کھڑے ہونے کے قابل نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔وہ میری عبادت قبول نہیں کریگا۔۔۔
اُس نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔شمع اُسے سمجھانا چاہتی تھی لیکن وہ جانتی تھی جب تک اُس کے زخم گہرے ہے کوئی تسلی اُس اور اثر نہیں کرےگی
فکر مت کرو آپی۔۔۔۔۔اللہ تمہارے ساتھ انصاف کرےگا
وہ اُس کا ہاتھ چومتے ہوئے بولی
باہر کے دروازے پر دستک ہوئی تو دونوں بہنیں حیران ہوتی باہر نکلی۔۔۔۔ارحم بھی حیرت سے کھڑا تھا
شمع نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولنا چاہا تو ارحم اُسے روک کر خود آگے بڑھا
اُس نے دروازہ کھولا تو سامنے شائنہ جمائی روکتے ہوئے کھڑی تھی
تم اس وقت یہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ حیرت سے بولا۔۔۔
ہاں میں نے سوچا میں خود ہی فلک کو نیہا کے گھر ڈراپ کر دوں۔۔۔۔۔۔۔ویسے بھی تمہاری وجہ سے مجھے بھی نیند نہیں آئی۔۔۔۔فلک کہاں ہے۔۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر کہتی ہُوئی اندر گھس گئی ارحم نے اندر آتے ہوئے اُسے غصے سے دیکھا
چلیں۔۔۔۔۔۔
وہ ارحم کو نظر انداز کرکے فلک کو بولی فلک ایکدم سے ارحم کو دیکھنے لگی
بھائی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔۔۔دل عجیب سا ہو رہا ہے۔۔۔۔
کچھ ہو گیا تو۔۔۔۔۔۔۔
وہ ارحم کا بازو تھامتے ہوئے بولی وہ خاموشی سے اُسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔ شائنہ نے محسوس کیا کے وہ خود بہت پریشان ہے
فلک ادھر دیکھو۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے فلک کو اپنی طرف کرتے ہوئے اُس کا چہرہ تھاما
تمہیں پتہ ہے تم دنیا کی سب سے بہادر لڑکی ہو۔۔۔۔۔
اتنا کچھ سہہ کر بھی جو تم نے حوصلا رکھا ہوا ہے نہ میں اُس حوصلے کو سلام کرتی ہوں۔۔۔۔
بس آج اُس حوصلے کو مت ٹوٹنے دو۔۔۔۔
آج آخری دن ہے تمہاری برداشت کا
تمہاری جیت کا۔۔۔۔۔۔۔
اللہ پر یقین رکھو۔۔۔۔۔۔
شائنہ نے محبت سے کہتے ہوئے اُس کا ماتھا چوما۔۔۔۔فلک نے آنکھوں میں آنسُو لیے اُسے دیکھا۔۔۔کہنے کو وہ کوئی نہیں تھی اُن کی لیکن اُس کے ہونے سے ہی سارے حوصلے تھے فلک نے سر ہلا کر اُس کی تائید کی۔۔۔
ارحم نے آگے بڑھ کر اپنی دونوں بہنوں کو اپنے ساتھ لگا لیا اور شائنہ کو دیکھ کر مسکرایا
شائنہ فلک کو لیے وہاں سے چلی گئی اور نیہا کے گھر پہنچ کر ارحم سے فلک کی بات کروا کر اُسے یقین دلا دیا کے وہ لوگ ٹھیک سے پہنچ گئے ہے وہ بھی پرسکون ہو کر کچھ دیر سونے کی غرض سے لیٹ گیا
∆∆∆∆∆∆∆
دل کس قدر کشمکش میں تھا۔۔۔۔۔۔۔شائنہ کی طرف قدم بڑھا تو دیے تھے لیکن دل تو پہلے ہی کہیں اور اٹکا تھا۔۔۔۔۔
اُسے تو ویسے بھی اپنی محبت کے ملنے کی کوئی امید نہیں تھی کم سے کم شائنہ کو تو اُس کی محبت مل جاتی۔۔۔۔
وہ خود کو لاکھ روکنے کے باوجود ہار گیا اور چھت پر آکر نظریں اُسے تلاش کرنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔دل شدت سے اُس کی ایک جھلک ملنے کی دعا کرنے لگا ۔۔۔۔۔
اور شاید اُس کی آخری دعا تھی اس لیے قبول ہوئی اور وہ اُسے سامنے ہی نظر آگئی۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھوں میں بے بسی لیے اُسے دیکھنے لگا۔۔۔۔حیا کا دھیان اُس کی طرف نہیں تھا۔۔۔۔۔۔اور جب دھیان گیا تو کپڑے ڈالتے ڈالتے اُس کے ہاتھ رک گئے۔۔۔۔۔۔ہمیشہ کی طرح کسی کی آنکھوں میں اپنے لیے بے پناہ چاہت دیکھ کر دل دھڑکنے لگا آنکھوں میں نئے رنگ اترنے لگے
لیکن جیسے ہی اپنی ماں کی باتیں یاد آئی تو دل بجھ سا گیا۔۔۔۔
اُس گھر اور اُس کے مکینوں کے لیے سب کے دلوں میں صرف ترس تھا یا نا گواری۔۔۔۔۔۔
اُس کے گھر والے ایسے پڑوسی بھی نہیں چاہتے تھے۔۔۔رشتا کیا قبول کرتے۔۔۔۔و اپنے دل کو اور آگے بڑھ کے آگے اپنے لیے مشکل نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔۔تبھی ارحم سے منہ پھیر کر کہانی سے چلی گئی۔۔۔۔۔۔وہ ایک گہری سانس لے کر رہ گیا
صبح دس بجے شائنہ پھر اُس کے گھر پر موجود تھی۔۔۔۔۔
دونوں نے ساتھ ناشتا کیا اور جانے کے لیے نکلنے لگے
ارحم اماں کے پاس آکر اُنہیں گلے لگا گیا
سنبھل کر جانا بیٹا۔۔۔۔۔۔اور اس لڑکی کا بھی خیال رکھنا۔۔۔۔۔
اماں نے اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئی محبت سے اُس کے چہرے کو دیکھا اور شائنہ کی طرف اشارہ کیا تو وہ بھی مسکرا دی
تو فکر مت کر اماں۔۔۔۔۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔اور معاف کردے مجھے جو تیرا اتنا دل دکھایا۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُداسی سے کہہ کر اُن کی ہتھیلی چومنے لگا
۔۔۔۔میں تو بس تیری فکر میں کہتی ہوں بیٹے۔۔۔۔۔ ورنہ اللہ جانتا ہے کے کتنا فخر ہے مجھے تجھ پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔تیری ماں کی جان بسی ہے تیرے اندر۔۔۔۔۔۔۔۔
اماں نے نم لہجے میں کہتے ہوۓ اُس کے بالوں پر ہاتھ پھیرا
اچھا اماں دعا کرنا کے آج تیرا بیٹا لوٹے تو سارے بوجھ روح سے اُتر چکے ہو۔۔۔۔۔۔
ارحم کا لہجہ بھی بھیگ گیا اماں نے سر ہلاتے ہوئے اُس کی پیشانی چوم لیا
آنٹی مجھے بھی۔۔۔۔۔۔۔۔
شائنہ نے جلدی سے بال پیچھے کرکے اپنا چہرہ اُن کے سامنے کیا۔۔۔ارحم مسکرا دیا اماں نے بھی مسکراتے ہوئے اُس کی فرمائش پوری کر دی۔۔۔۔۔
وہ دونوں اُن کی دعائیں لے کر مطمئن ہوتے گھر سے نکلنے لگے دروازے تک پہنچ کر ارحم نے پلٹ کر دیکھا تو اماں اُسے ہی دیکھ رہی تھی وہ مسکراتا ہوا اُنہیں دیکھ کر باہر نکل گیا۔۔
کتنے لکی ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہارے گھر میں سب کتنا پیار کرتے ہیں تم سے۔۔۔۔۔۔
گاڑی چلاتے ہوئے وہ حسرت بھرے لہجے میں بولی
تم اپنا بابا سے بات کیوں نہیں کرتی۔۔۔۔۔۔۔۔
ارحم نے اُس کے لہجے میں چھپی اُداسی کو محسوس کرتے ہوئے کہا
اُن کے پاس وقت کہاں ہوگا۔۔۔۔۔۔وہ تو اپنی دوسری بیوی اور بچوں کے ساتھ بزی ہوں گے۔۔۔۔
اُس نے دکھ بھرے لہجے میں کہا ارحم لب بھینچ کر رہ گیا
وہ لوگ کورٹ پہنچے تو وہاں صرف نیہا کا اسسٹنٹ موجود تھا
نیہا اور فلک اب تک نہیں پہنچے پندرہ منٹ میں کیس کی ہیئرنگ ہے۔۔۔۔۔۔
شائنہ نے گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے کہا اور فون نکال کے نیہا کا نمبر ملانے لگی
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
فلک تم بلکل مت گھبراؤ۔۔۔۔۔۔۔میں ہوں نہ تمہارے ساتھ۔۔۔۔۔۔بس پانچ منٹت میں ہم کورٹ پہنچ جائیں گے۔۔۔۔۔۔اور اُس کے بعد تمہاری ساری ٹینشن ختم ۔۔۔۔۔سکندر کو تو آج اُس کی نانی یاد دلا دیں گے ہم۔۔۔۔۔
نیہا اُس کے خوفزدہ چہرے پر نظر ڈالتے ہوئے بولی اور گاڑی کی سپیڈ تیز کر دی۔۔۔
فلک خود نہیں جانتی تھی کے اُسے کس بات کا ڈر لگ رہا ہے۔۔
بس دل۔مسلسل دعا کر رہا تھا کے کچھ غلط نہ ہو
اچانک ہی نیہا نے گاڑی روکی تو اُس نے گھبرا کے سامنے دیکھا۔۔۔۔۔سکندر کی کار نے اُن کا راستہ روکا ہوا تھا۔۔۔۔۔
اور وہ گاڑی سے اُتر کر اُن کی طرف بڑھ رہ تھا۔۔۔۔۔
اُسے دیکھ کر خوف سے فلک کا گلا خشک ہو گیا
نیہا بھی گھبرا گئی۔۔۔۔۔۔۔
باہر آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ فلک کی طرف کا دروازہ کھول کر سرد لہجے میں بولا فلک کی دھڑکنیں رک سے گئی وہ سانس روکے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔۔آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے
سکندر نے اُسے ہاتھ سے کھینچ کر باہر نکالا اور اپنی گاڑی کی طرف لے جانے لگا فلک روتی اُس کی گرفت سے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتی رہی نیہا جلدی سے گاڑی سے باہر نکلیں کر بھاگتی ہوئی اُن کے پاس آئی
سکندر چھوڑ دو اُسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیہا نے بہادری سے اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔۔سکندر نے ایکدم سے بندوق نکال کے اُس کے اوپر تان دی۔۔۔۔۔نیہا گھبرا گئی۔۔۔فلک کا تو خوف سے سانس اٹکنے لگا
اپنی جگہ پر کھڑی رہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ ۔۔۔۔۔۔
سکندر نے غصے سے اُسے دھمکی دی اور فلک کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر دروازہ لاک کیے خود اپنی سائیڈ پر آگیا نیہا نے ہمت کرکے اُسے روکنا چاہا لیکن سکندر نے اُسے بری طرح دھکّا دیا اور وہ منہ کے بل زمین پر گر گئی۔۔۔۔۔
فلک زور زور سے دروازے کو دھکیلتی۔۔۔۔۔۔۔نیہا کو دیکھنے لگی نیہا نے اپنے سر سے بہت خون پر ہاتھ رکھ کر بے بسی سے گاڑی کو نظروں سے دور ہوتے دیکھا
گاڑی روکو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے جانے دو۔۔۔۔۔۔۔۔گاڑی روکو۔۔۔۔۔۔
فلک روتے ہوئے مسلسل چلانے لگی۔۔۔۔۔
سکندر نے کچھ وقت تک اُسے نظر انداز کیا اور پھر ایکدم ہی گاڑی کو بریک لگایا۔۔۔فلک میں سہم کے اُسے دیکھا۔۔۔
گاڑی پل کے بیچ و بیچ رکی تھی نیچے ندی بہتے کے پانی نے شور مچایا ہوا تھا
روک دی ۔۔۔۔۔۔۔۔مجھ سے شادی کرنا چاہتی تھی نا تم۔۔۔۔تو اب جب میں تمہاری بات مان کر راضی ہو گیا تو تم نے مجھے ریجیکٹ کیوں کیا۔۔۔۔
سکندر کو ریجیکٹ کرنے کی ہمت کیسے کی تم نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سرد لہجے میں کہتے ہوئے ایکدم سے چلایا فلک نے گھبرا کر آنکھیں میچ لی۔۔۔۔۔۔۔
میرے خلاف گواہی دو گی تم۔۔۔۔۔۔۔مجھے جیل بھیجوگی۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے کڑے تیوروں سے گھورتے ہوئے بولا
مجھے جانے دو۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے چپ ہونے پر وہ آنکھیں کھولے بے بسی سے بولی
ٹھیک ہے جاؤ۔۔۔۔۔۔ لیکن تم وہاں میرے خلاف ایک لفظ نہیں بولوگی۔۔۔سمجھی
سکندر نے اُسے دھمکی دیتے ہوئے۔۔۔۔اُس کے کانپتے ہاتھوں کو دیکھا۔۔۔فلک نے سانس روکے اُس کی طرف نظریں اٹھائی۔۔۔۔آنکھوں کے سرخ ڈوروں میں غضب کی کشش تھی
میں ۔۔۔۔۔میںبولوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بہت ہمت کرکے بولی اور تھوک نگلا۔۔۔۔۔۔اُس کی اتنی سی ہمت پر سکندر پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے
کیا کہا تم نے۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے حیرت سے پوچھا فلک سر جھکائے اپنے کپڑوں کو مُٹھی میں بھینچے لگی
میں بولوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دفعہ پھر ہمت کرکے آواز نکالی۔۔۔۔۔۔
سکندر نے زرو دار ہاتھ اٹھا کر اُس کے چہرے پر اُنگلیوں کے نشان چھوڑے۔۔۔اُس کے بال چہرے پر بکھر گئے۔۔۔۔جسم لرزنے لگا
تمہاری اتنی ہمت۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر نے اُس کے بال مُٹھی میں پکڑے اُس کی طرف جھکتے ہوئے اُسے نا گواری سے دیکھا فلک نے آنکھیں بند کرکے سختی سے لب بھینچ لیے
سکندر گاڑی سے اتر کر اُسے باہر لایا اور اُسے کّھینچتا ہوا پل کی دیوار کی طرف لے گیا
بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھائی۔۔۔۔۔۔
وہ زوروں سے چلانے لگی۔۔۔۔۔۔سکندر سختی سے دانت بھینچے اُسے اپنی طرف کھینچ کر دونوں بازوؤں کو سختی سے جکڑ گیا
تمہارا بھائی سوچتا ہے سکندر کو ہرا دیگا۔۔۔۔لیکن سکندر نے ہارنا نہیں سیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر اپنی جیت کے لیے تمہارے سمیت تمہارے پورے خاندان کو بھی زندہ دفن کرنا پڑا تو میں پیچھے نہیں ہٹوں گا۔۔۔۔۔۔۔
سکندر بہت تیز آواز میں بولا۔۔۔۔۔۔ ندی کے جوش سے بہتے پانی نے اُس کی تیزی کو کم کر دیا
کیا چاہتی ہو تم ۔۔۔مجھ سے شادی کروگی یا اپنی آنکھوں سے اپنے ماں باپ اور بھائی کو مرتے دیکھو گی۔۔۔۔
سکندر اُس لیے چہرے پر نظریں جمائے غصے سے دھاڑا فلک کے اندر خون کا فشار بلند ہونے لگا
جواب دو۔۔۔۔۔
اُس کے خاموش رہنے پر سکندر نے اُس کے دونوں بازو ہلا کر اُس کے وجود کو جھٹکا دیا
میں آپ جیسے گھٹیا آدمی سے شادی نہیں کروں گی۔۔۔۔۔۔۔میں آپ کو سزا دلا کر رہوں گی
فلک بھی اپنے اندر۔۔۔اپنے بھائی اور شائنہ کی دی ہوئی ساری ہمت جمع کرکے اُس کے منہ پر چلّائی سکندر نے اسکے بازو چھوڑ دیے اور اُسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا
فلک نے زخمی آنکھوں میں نفرت لیے اُس کے چہرے کو دیکھا اور وہاں سے بھاگنے کے ارادے سے پیچھے ہوئی
اُس کے پلٹتے ہی سکندر نے اُس کی لمبی چوٹی کو پکڑ کر اُس کے بھاگنے کی کوشش ناکام کی وہ کراہ کے پیچھے ہوئی۔۔۔۔۔۔منہ سے نکلی چینخ پانی کے شور میں گھل گئی۔۔۔اُس نے بے بائے سے پیچھے دیکھا ۔۔۔سکندر اُسے آنکھوں میں آگ لیے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
فلک کی نظروں کے سامنے اُس نے لائٹر نکال کے آگ جلائی وہ کچھ سمجھتی اُس کے پہلے ہاتھ میں موجود اُس کی چوٹی پر بندھے بینڈ میں آگ لگا کر چوٹی چھوڑ دی
خوف سے فلک کی روح فنا ہونے لگی۔۔۔۔۔۔وہ پوری قوت سے حلق پھاڑ کر چلائی لیکِن اُس کی سننے والا آس پاس کوئی نہیں تھا۔۔۔۔
وہ چوٹی کو اپنے بدن سے دور رکھتے ہوئے جھٹک جھٹک کر آگ بجھانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔سکندر اُس کی تڑپ کو۔مزے سے دیکھ رہا تھا
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
میں۔نیہا کے گھر جا کر دیکھتا ہوں۔۔۔۔
وہ شائنہ کو دیکھ کر بولا جو کب سے نیہا کا نمبر لگا رہی تھی۔۔۔۔کورٹ میں۔سنوائی شروع ہو چکی تھی لیکن نیہا اور فلک کا کوئی پتہ نہیں تھا۔۔۔۔۔
نیہا کے فون نا اٹھانے پر ارحم کا دل گھبرا رہا تھا اور شائنہ کی حالت بھی جدا نہیں تھی
آخر کو ارحم نے خود ہی جا کے دیکھنے کا فیصلہ کیا
ایک منٹ۔۔۔۔نیہا کا فون آرہا ہے۔۔۔۔
اُس کے پلٹتے ہی وہ جلدی سے بولی اور فون ہڑبڑا کے کان سے لگا لیا
نیہا کہاں ہو تم۔۔۔۔۔۔۔پہنچی کیوں نہیں اب تک۔۔۔فون کیوں نہیں اُٹھا رہی میرا
شائنہ دھڑکتے دل میں ساتھ سوال اور سوال کر گئی اور ارحم جبڑے بھینچے اُسے دیکھنے لگا
کیا۔۔۔۔۔۔۔۔
شائنہ کے فق ہوتے چہرے اور پھٹی پھٹی آواز سے اُسے انہونی کا احساس ہوا
کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔بتاؤ ۔۔۔۔۔۔فلک۔کہاں ہے
وہ اُس کا بازو پکڑے تیزی سے بولا۔۔۔۔
سکندر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شائنہ نے سانس روکے اُسے دیکھا اُس کی آنکھیں نم ہونے لگی۔۔۔ارحم نے دیوار کا سہارا لیا
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
وہ بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی۔۔۔۔۔
اُس کے بال کندھے سے اوپر تک جل کر ختم ہو چکے تھے تب سکندر نے گاڑی سے پانی کی بوتل لا کر اُس کے سر پر انڈیلی۔۔۔۔۔خوف سے اُس کا پورا بدن لرز رہا تھا۔۔۔۔۔
آگ نے گردن اور ہاتھ کو بری طرح متاثر کیا تھا۔۔۔۔
گواہی دوگی میرے خلاف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے پانی سے بھیگے چہرے پر تکلیف دیکھ کے مسکرایا فلک نے جلتی نظریں اٹھا کر اُسے دیکھا۔۔۔۔۔۔
ہاں سو بار دوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لرزتے لبوں کو کھول کر نفرت سے بولی۔۔۔۔سکندر کے لب سکڑے۔۔۔۔۔۔سرخ آنکھوں میں خون چھلکنے لگا فلک کو ایکدم سے کھینچ کر ندی کی طرف دھکیل دیا لیکن وہ دیوار کے اُس پار ندی میں گرے اس کے پہلے اُس کا ہاتھ تھام کر بچا لیا۔۔۔۔۔وہ سانس روکے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔سکندر نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے اُسے واپس کھینچ کے خود سے قریب کر لیا۔۔۔۔۔۔
تمہیں يوں مرنے نہیں دے سکتا۔۔۔۔۔ورنہ دنیا کیا کہے گی۔۔۔۔۔سکندر ایک لڑکی کو قابو نہیں کر سکا۔۔۔۔۔۔۔تم تو میری جیت کا میڈل ہو ڈارلنگ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔۔
سکندر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارحم کی زور دار آواز پر۔فلک کو لگا اُس کی ختم ہوتی سانسوں کو زندگی مل گئی ہو۔۔۔۔۔سکندر نے پیشانی پر۔بل ڈالے پلٹ کر اُسے دیکھا ۔۔۔۔
ارحم غصے سے اُس کی طرف بڑھا سکندر نے فلک کو اپنے آگے کرتے ہوئے اپنے بازو کی گرفت میں قید کر لیا۔۔۔۔۔
اُس کا بازو فلک کی گردن پر تھا اور ارحم کے بڑھتے قدم کے ساتھ اُس بازو کی سختی بھی گردن پر بڑھتی گئی۔۔۔یہاں تک کہ اُس کا دم گھٹنے لگا۔۔۔۔۔۔۔ اُس نے دونوں ہاتھوں سے اُس کا بازو ہٹانے کی کوشش کی لیکن وہ ارحم کو دیکھ کر اپنا دباؤ بڑھاتا گیا۔۔۔۔۔یہاں تک کہ فلک کی سانسیں ٹوٹنے لگی
ارحم تب بھی نہیں رکا حلانکہ شائنہ گھبرا کر اپنا دل تھام گئی۔۔۔۔۔لیکِن ارحم سکندر تک پہنچ کر ہی رکا اور اُسے ایک زور دار لات مار کے پیچھے دھکیل دیا
وہ پیچھے گرتے گرتے بچا ورنہ سیدھے ندی میں گرتا
اور سیدھا ہو کر غصے سے ارحم کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔
سکندر کی گرفت سے نکلتے ہی فلک بے جان ہو کر زمین پر گری شائنہ جلدی سے اُس تک پہنچی اور اُسے سنبھال کر اُس کا چہره تھپپکنے لگی۔۔۔۔۔اُس کے جلے ہوئے بالوں اور جھلسنے کے نشانات دیکھ کے دل سے درد سا اٹھا
سکندر نے ارحم کے منہ پر مکہ مارنا چھاہا لیکن ارحم اُس کی کوشش ناکام کرکے پہلے ہی اُس کے پیر پر لات مار کر اُسے نیچے گرا گیا۔۔۔۔۔۔
اُسے اٹھنے کا موقع دیے بغیر ارحم نے اُس کے چہرے پر اتنے وار کیے اتنے وار کیے کے سکندر کا چہرہ خون سے رنگین ہوتا گیا۔۔۔۔۔ دِماغ جھنجھنا اٹھا
سکندر اُس کی گرفت سے آزاد ہونے کا موقع ڈھونڈھتا رہ گیا لیکن ارحم نے اُسے یہ موقع نہیں دیا اتنے دِن تک اپنے غصے کو دباتا رہا بس صبر کرتا رہا لیکن اب اُس کی حد ختم ہو چکی تھی۔
وہ جنونی انداز میں سکندر کو ختم کر دینے کے ارادے سے ایک کے بعد ایک وار کیے جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔آنکھوں میں آنسو کے ساتھ اپنے ہر درد کی تڑپ بھی شامل تھی
شائنہ خوفزدہ ہو کر دونوں کو دیکھ رہی تھی ایک طرف فلک بے جان پڑی مشکل سے سانسیں لے رہی تھی اور دوسری طرف ارحم
سکندر نے ایکدم سے پوری قوت جمع کرکے اُسے پیچھے دھکّا دیا ارحم زمین پر گر ا
سکندر ڈگمگاتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔۔۔ایک زور دار لات ارحم کے پیٹ میں دے ماری وہ کراہ کر رہ گیا لیکن ہار نہیں مانی
دوسری دفعہ جب سکندر نے اسے لات مارنے کی کوشش کی تو اُس کا پیر پکڑ کے کھینچتے ہوئے اُسے گرا دیا اور خود اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔۔
سکندر بھی فوراً سے اٹھا۔۔۔ارحم اُس پر پھر جھپٹتا اس کے پہلے سکندر نے بندوق نکال کر اُس پر تان دی ارحم کے قدم رک گئے۔۔۔۔۔اُس کی سانسیں بے ترتیب چل رہی تھی
سکندر کے ہاتھ میں۔بندوق دیکھ کے شائنہ کا دل دھڑکتے دھڑکتے رک گیا وہ بدحواس سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔۔
سکندر لبوں پر دلسوز مسکراہٹ لیے قدم قدم پیچھے ہوتا دور کھڑا ہو گیا۔۔ارحم نے نفرت سے اسے دیکھا۔۔۔۔
اٹھو میری جان۔۔۔۔۔۔۔ دیکھو۔۔۔۔ تمہیں جس بھائی کے ہونے کا بہت گھمنڈ ہے اُس بھائی کی موت دیکھو۔۔۔۔۔۔۔یہ لمحہ مس مت کرو ورنہ مجھے اچھا نہیں لگے گا۔۔۔
۔۔۔
سکندر بلند آواز میں بولا فلک کے کانوں میں اُس کی آواز گونجی تو اُس کا دل ایک دم سے رفتار پکڑنے لگا اُس نے پوری انرجی جمع کرکے آنکھیں کھولیں۔۔۔۔۔
سکندر کے لبوں کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔۔۔۔۔
فلک کا دم حلق میں اٹکنے لگا اُس نے ہاتھ اٹھا کر اُسے روکنے کی کوشش کی لیکن اتنا آسان کہاں تھا۔۔۔۔۔
سکندر نے ارحم کو قدم آگے بڑھاتے دیکھا تو غصے سے گن پر پکڑ مضبوط کی اور فائر کیا۔۔۔۔۔۔۔فلک کے اندر خوف نے قوت بھر دی اُس نے پورا زور لگا کر اپنے جسم۔کو زمین سے اُٹھا کر ارحم کو دیکھا جو بدحواس سا شائنہ کے زخمی وجود کو تھامے زمین پر بیٹھتا چلا گیا تھا۔۔۔۔۔۔
سکندر کی گولی اور ارحم کی جان کے درمیان آکر شائنہ نے وہ گولی اپنے کندھے پر لی تھی۔۔۔۔۔۔۔اُس کی سفید شرٹ سے خون کا فوارہ اُبل پڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
ارحم کا دل و دماغ یقین نہیں کر پا رہا تھا کے سچ میں شائنہ کو گولی لگی ہے۔۔۔۔ اُسے اپنے ذہن میں عجیب سی ہلچل محسوس ہو رہی تھی جیسے سارے پرزے ٹوٹ کر گرنے والے ہے۔۔۔
فلک کا سانس جہاں کا وہیں رکا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
جب کے سکندر ارحم سے نشانہ ہٹ جانے پر منہ بنا گیا تھا
شائنہ بند ہوتے ذہن کے ساتھ بمشکل آنکھیں کھولیں ارحم کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔ارحم کی آنکھوں میں اپنے لیے تڑپ اور درد دیکھ کر اُس کے لبوں پر مسکراہٹ آئی تھی۔۔۔۔۔۔
مسٹر۔۔۔۔ عجیب۔۔۔۔۔۔۔۔جاتے جاتے ۔۔۔۔۔۔۔ایک۔۔۔ اسمائیل تو دے دو۔۔۔۔۔۔
وہ اٹکتے ہوئے بولی ارحم نے روتے ہوئے سر نفی میں ہلا کے پیشانی اُس کے سر سے ٹکائی۔۔۔۔۔۔شائنہ نے آنکھیں بند کر لی کبھی نہ کھولنے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔
ارحم کو اپنے سوال کا جواب مل گیا کے شائنہ کی موت اُسے ارحم کی زندگی میں لائی تھی۔۔۔۔۔۔
اف کیا محبت ہے یار بھابھی کی۔۔۔۔۔۔کاش ہمیں بھی کوئی ایسے چاہے۔۔۔۔۔۔۔
سکندر خباثت سے ہنستے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔ارحم نے بھیگی سرخ آنکھیں اٹھا کر اُسے دیکھا۔۔۔۔۔
میں تو تجھے مارنا چاہتا تھا بے چاری بیچ میں آگئی۔۔۔لیکِن اچھا ہے اس سے تھپڑ کا بدلا بھی تو لینا تھا۔۔۔۔
وہ ارحم کے دیکھنے پر ہاتھ اوپر کرتے ہوئے بولا
لیکِن زیادہ ہی ہو گیا ہے۔۔۔۔۔ ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔تو یہاں وہ وہاں ۔۔۔۔۔اکیلے ہو جاؤ گے دونوں۔۔۔۔۔۔کوئی بات نہیں چل تجھے بھی اس کے پاس پہنچا دوں۔۔۔۔۔۔
آخر میں لہجے کو سرد بنائے بندوق اُس کے سر پر تان دی۔۔ارحم نے اپنی خوفزدہ بہن کو دیکھا بے بسی سے۔۔۔۔۔جو اپنی جگہ سے اٹھ کر سکندر کی طرف بھاگی تھی
اور شائنہ کو دیکھا جو سکون سے اُس کی باہوں میں پڑی تھی۔۔۔
وہ بے آواز اُسے پکارنے لگا اس اُمید سے کے شاید اُس میں جان باقی ہو
۔نہیں سکندر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اللّٰہ کے واسطے ایسا مت کرو۔۔۔۔۔۔تم جو کہوگے میں کروں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو چاہے سلوک کر لو میرے ساتھ۔۔۔۔بس بھائی کو کچھ نہ کرو۔۔۔۔۔۔۔۔
فلک اُس کا پیر پکڑے رو رو کر اُس سے منتیں کرنے لگی۔۔۔۔سکندر نے اسے اٹھا کے کھڑے کیا
جان میری۔۔۔۔۔۔۔۔سکندر کو اپنی مرضی کرنے کے لئے کوئی سودا کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔تم تو یوں بھی اب سکندر کا کہا ہی کروگی زندگی بھر۔۔۔۔۔۔بھائی کو جانے دو یار ۔۔۔ ۔بھابھی اکیلی ہے تمہاری۔۔۔۔۔۔۔
سکندر نے اس کے گال کو چھوتے ہوئے سفاکی سے جواب دیا اور گولی چلا دی
نہیں سکندر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کا بندوق والا ہاتھ پکڑے بولتی رہ گئی اور گولی چلنے کے بعد لب ساکت سے ٹہر گئے۔۔۔۔۔سامنے اپنے بھائی کے خون سے سنے سینے کو دیکھ وہ ہوش کھو کر دھڑام سے زمین پر گری اور سکندر سے ارحم کو۔نفرت سے دیکھتے ہوئے دوسری گولی بھی اُس کے سینے پر چلائی
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
