Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 75

Episode 75
سولہ اگست۔۔۔۔
مطلب پلاننگ سولہ اگست کی ہے۔۔۔لیکِن کہاں کوئی جگہ تو مینشن ہوگی نا۔۔۔۔۔
وہ ہاسپٹل سے نکل کر سیدھا ہیڈ آفس آیا تھا۔اُن لوگوں کو پندرہ اگست کے دن شہر میں کوئی دہشت ہونے کا اندیشہ تھا اُن کی ٹیم الرٹ بھی تھی لیکن سارا دن گزرنے کے بعد ایسا کوئی واقعہ پیش آیا نا کِسی پر کوئی شبہ ہوا۔۔۔
جب کے رینا کے گھر سے ملے لیپٹاپ اور موبائل کے ذریعے بہُت ساری معلومات حاصل کرلی تھی اور یہ بھی کے وہ پندرہ نہیں سولہ اگست کو کچھ کرنے والے ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہو رہا تھا کے کونسی جگہ اور کیا۔۔۔۔
لوکیشن پتہ کرنی ہوگی۔۔۔۔۔۔جلد سے جلد۔۔۔۔۔
وہ شاد کی طرف دیکھ کر بولا تو اُس نے غصے سے دانت پیسے۔۔۔۔
یہ سب تمہاری وجہ سے ہو رہاہے۔۔۔۔
ہم رینا کی کِسی موومینٹ سے پتہ لگا سکتے تھے لیکن اب تو وہ آپشن بھی نہیں ہے
کیا ضرورت تھی تمہیں وہاں جانے کی۔۔۔۔نا تم وہاں جاتے نا وہ لوگ رینا کومارتے۔۔۔۔
اُس نے غصے سے کا تو ساحل نے بھی پیشانی پر بل ڈالے اُسے دیکھا۔۔۔
جب تک میں نے تمہیں بتایا نہیں تھا کے میں وہاں ہوں تب تک سب صحیح تھا۔۔۔۔
رینا بھی بلکل ریلیکس تھی۔۔۔۔اُسے مجھ پر شک تک نہیں ہوا تھا جیسے ہی میری تم سے بات ہوئی۔۔۔۔اُن لوگوں کو خبر ہو گئی۔۔کے میں کیا کرنے والا۔۔۔
اور اس سے پہلے کے رینا کچھ بتائے اُسے مار دیا
ساحل نے بھی اُس سے بدلہ لینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔۔۔
کیا کہنا چاہتے ہو۔۔۔۔میں نے کیا ہے یہ سب۔۔۔۔میں نے اُن تک خبر پہنچائی۔۔۔۔۔میں نے مروایا رینا کو۔۔۔۔
وہ خود پر الزام لگتے ہی غصے سے بھڑک اٹھا ۔۔۔
وہ تو میں پتہ کر ہی لوں گا کے کس نے کیا۔۔۔۔۔
وہ تیکھی نظروں سے گھور کر جتاتے ہوئے بولا۔۔۔۔
بس کرو تم دونوں۔۔۔۔آپس میں لڑنے سےکچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔بہتر ہے ہم آگے کے بارے میں سوچیں۔۔۔۔۔
یاسر نے جھنجھلا کر دونوں کو خاموش کروایا۔۔وہ دونوں ایک دوسرے کو گھو رے جارہے تھے۔۔
وہ شاد کو دیکھ کر آنکھیں گھماتا واپس کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے شخص کی طرف آکر اُس سے بات کرنے لگا
♦♦♦♦♦
اب سب ٹھیک ہے بڑی مامی۔۔۔
آپ گھر جا کر آرام کیجئے۔۔۔
بھابی اور بھائی ہے یہاں رات کو داؤد کا خیال رکھنے کے لیے۔۔۔۔۔۔
آپ بے فکر ہو کر جا سکتیں ہے۔۔۔
صبح پھر آجائیئے گا فریش ہو کر۔۔۔
نین نے اُنہیں سمجھاتے ہوئے کہا۔۔۔
فلک کو تو اُس کی حالت کے پیشِ نظر گھر بھیج دیا تھا۔تاکے وہ تھوڑی ریلیکس ہوجائے لیکن رابعہ بیگم جانے کے لیے مان ہی نہیں رہیں تھیں۔۔۔
تم بھی ساتھ چلو نا نین۔۔۔۔۔
اُس کے سمجھانے پر وہ شرمندہ سی ہو کر بولیں
نہیں بڑی مامی مجھے گھر جانا ہے۔۔ساحل وہاں اِنتظار کرےگا ۔۔۔
نین نے بلکل نارمل انداز میں انکار کیا اُنہوں نے بھی دوبارہ کچھ نہیں کہا
اُن کے گھر جانے کے بعد وہ کیب لے کر گھر آگئی اور ساحل کا انتظار کرنے لگی
تھوڑی ہی دیر بعد وہ بھی گھر آگیا
اور آتے ہی جوتے نکال کر سیدھے بستر پر گرا۔۔
تمہیں کیا ہوا اتنے سست کیوں ہو رہے ہو۔۔۔
وہ اُسے اوندھے منہ چہرہ تکیے میں دیے سوتے دیکھ حیرت سے پوچھنے لگی
نیند آرہی۔۔۔۔۔
وہ سست انداز میں کہتا منہ دوسری جانب کرگیا۔۔۔
یہ کوئی وقت ہے سونے کا۔۔۔۔
ابھی کھانا بھی نہیں کھایا۔ ۔۔۔صرف آٹھ بجے ہے۔۔۔۔اُٹھو
وہ اُس کے نزدیک بیٹھتی ماتھے پر بل ڈالے بولی۔۔۔
ڈسٹرب مت کر یار۔۔۔۔۔
وہ نیند سے بھاری آواز میں جھنجھلا کر بڑبڑایا۔۔۔۔
ماما کے بیٹے یوں مغرب اور عشاء کے درمیان سونا اچھا نہیں ہوتا۔۔۔
بیس منٹ بعد عشاء ہو ہی جائیگی تب تک تو اِنتظار کرلو۔۔۔۔۔
اس دفعہ اُس نے شرافت سے سمجھایا۔۔اور اُس کا بازو پکڑ کر اٹھانے لگی۔۔۔
وہ بیزاری سے اپنا بازو جھٹک کر چھڑانے کی کوششں میں سیدھا ہوا تو وہ بیلنس بگڑنے سے اچانک اُس کے قریب ہو گئی۔۔۔۔
اُس پر گرنے سے بچنے کے لیے سانس روک کر درمیان میں اُس کے سینے پر ہتھیلی رکھی تو لب اُس کے چہرے کو چھوتے چھوتے رہ گئے۔۔۔۔۔۔۔دل زوروں سے دھڑکا۔۔۔۔۔
کلپ میں قید بال ڈھیلے ہو کر تھوڑے سے باہر نکل کر گردن میں جھولنے لگے
اُس کی آنکھوں میں جب نین کا عکس اترا تو نیند خود بخود ماند پڑ گئی۔۔۔
ذہن پر نئی خماری چڑھ گئی
نرم اُنگلیوں کے لمس سے سینے میں دل دھڑکتے دھڑکتے رکا۔۔۔۔
نرم و نازک وجود کی قربت نے سرور سا بھر دیا۔۔۔
دل نے منمانی کی کے اس لمحے میں کھو کر اپنی ساری تھکان اُتار دے۔۔۔
دل پر پڑا زبردستی کا بوجھ نکال پھینکے۔
نین نے اُس کے یوں خاموش نظروں سے دیکھنے پر پلکیں جھکائیں اور ہتھیلی پر زور دے کر پیچھے ہونے لگی تو ساحل نے اُسے دور ہوتے محسوس کر ۔۔بے ساختہ اُس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر ہتھیلی کو اُسی مقام پر جکڑ لیا۔۔۔۔۔اور اُس کی نازک باہ پکڑ کر اُسے دوبارہ خود پر گرایا۔۔۔۔۔
سارے بال آزاد ہو کر ساحل کے اوپر بکھرگیے۔۔۔کچھ سینے پر کچھ چہرہ پر کچھ شولڈر پر
وہ اُس کے پہلے سے زیادہ قریب ہوئی۔۔۔
اتنی کے اپنی سانسیں اُس کے چہرے کو چھونے کے ڈر سے تنفس کو روک دیا۔۔
وہ مسرور سا آنکھیں بند کرکے چہرے پر بکھرے گھنے بالوں کی نرمی اور خوشبو کو شدت سے محسوس کرتا کِسی اور جہاں میں کھونے لگا۔۔
بے خود بے نیاز ہونے لگا۔۔
نین حیرت و نا سمجھی سے اُسے دیکھنے لگی ۔دل کی دھڑکن مزید تیز ہوئی تو گھبرا کر اُس سے دور ہوئی۔۔۔
پورے بدن میں سنسناہٹ ہونے لگی۔۔۔۔۔۔
اُس کے دور ہوتے ہی ساحل نے آنکھیں کھولیں۔۔۔جادو جیسے ختم ہو گیا تھا۔۔۔۔اچانک حواس بحال ہوئے تو آنکھیں سختی سے بند کرکے کھولیں اور اٹھ بیٹھا۔
۔۔
وہ ۔۔۔۔۔۔۔میں سوچ رہا تھا بیس منٹ تک نیند کو ۔۔۔۔کیسے روکوں۔۔۔۔
اُس نے گویا اپنی بد حواسی کی صفائی دی۔۔۔نین خاموش بلا وجہ اپنے بالوں کو ترتیب دیتی لب چبانے لگی۔۔۔
میں نے کھانا باہر ہی کھا لیا تھا۔۔۔اور اب بہت نیند آرہی ہے۔گڈ نائٹ۔۔۔
وہ اُسے خود کو اگنور کرتے دیکھ اُس کے دانتوں کی قید میں کچلتے لب کو دیکھتا دوبارہ لیٹنے لگا کے۔۔۔۔
سنو نا۔۔۔۔میں تمہیں۔۔۔۔۔۔
نین نے اُسے روک دیا۔۔۔۔۔سنبھل کر مسکرائی
میں تمہیں ایک سین دکھاتی ہوں۔۔۔۔ ٹائیٹینک مووی کا ایک سین مجھے بہُت پسند ہے۔۔جس میں جیک اور روز۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے جاگنے کا آئیڈیا بتاتے ہوئے موبائل پر اُنگلیاں چلانے لگی۔۔
دیکھیلا ہے میں نے۔۔۔۔۔
وہ اُس کی بات کاٹ کر بولا۔۔
اچھا تو پھر۔۔ہم وہ سین ٹرائے کریں۔۔۔۔
وہ اُسے دیکھ کر پوچھنے لگی تو وہ ایکدم سے سیدھا ہوا۔۔۔۔
ٹٹ۔۔ٹرائے۔۔۔۔۔ہم۔۔۔
صدمے سے اُسے دیکھ کر پوچھنے لگا۔۔۔
ہاں تم اور میں۔۔۔چلو نا کرتے ہے۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولی بہُت اکسائٹڈ ہو کر۔۔۔
U
تو مذاق کر رہی ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے مشکوک نظروں سے دیکھتا پوچھنے لگا۔۔کیوں کے اگر وہ تھوڑی دیر پہلے کی سچویشن میں نروس ہو کر پلکیں جھکا سکتی تھی۔۔۔۔۔۔۔تو اس بات پر شک ہونا واجب تھا
مذاق کیوں کروں گی۔۔۔۔مجھے سچ میں کرنا ہے۔۔۔۔میرا بچپن سے بہت من کرتا ہے
وہ حیرت و حسرت سے بولی۔۔۔۔ساحل کو اُس کی دماغی حالت پر شبہ ہوا۔۔
کیا بول رہی ہے ایڑی۔۔۔
وہ اُسے اوپر سے نیچے تک گھور کر بولا۔۔۔۔
اس میں برائی کیا ہے۔۔۔۔۔سب کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔لندن میں تو میں نے۔۔۔۔۔
ہاں لیکِن یہ لندن نہیں بھارت ہے اور یہاں ایسی باتیں ڈسکس نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی بات کاٹ کر غصے سے بولا
کیوں۔۔۔۔۔اُس سے کیا ہوتا ہے۔۔۔۔۔
وہ اُسکی فضول بات پر نا سمجھی سے بولی۔۔۔
اُس سے لوگ بے شرم بولتے ۔۔۔
ساحل نے دانت پیسے
میں لوگوں سے کہاں کہہ رہی ہوں۔۔۔مجھے تم سے مطلب ہے۔۔۔ تم میری بات مان رہے ہو یا نہیں۔۔۔
وہ جھنجھلا کر ہاتھ جھٹکتے ہوئے بولی وہ اب بھی اُسے نا سمجھی سے دیکھ رہا تھا کے کہیں یہ کوئی اور تو نہیں۔۔۔
سامنے سے بول رہی ہے۔۔۔اگر نہیں کیا تو سچ میں تھرڈ جنڈر سمجھے گی۔۔۔۔
اُس کے سوالیہ نظروں سے دیکھنے پر دل ہی دل میں سوچتے ہوئے انکار کرتے کرتے رک گیا۔۔۔کیوں سوال اپنے میل جنڈر ہونے کا تھا
سوچ کیا رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ایک سین ہی تو کرنا ہے وہ بھی تمہیں نیند آرہی ہے اسلئے۔۔۔
وہ اُس کے عجیب سے رویے اور حیرت بیزاری جھنجلاہٹ سے بولی۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چل
ساحل نے گلا تر کرتے ہوئے کہا۔۔۔
باہر چلیں آنگن میں۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی ہاں سنتے ہی وہ فوراً بولی
آنگن میں ۔۔۔۔۔۔۔
ساحل کو پھر سے دھچکا لگا۔۔۔
ہاں آنگن میں اچھی فیلنگ آئیگی۔۔۔۔۔۔۔
نین نے سادگی سے کہا
ایسے کھلے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باہر کوئی دیکھے گا تو۔۔۔
وہ معصومیت بھرے انداز۔میں بولا لیکن نین کو کچھ سمجھ نہیں آئی
تو کیا ہوا دیکھنے دو۔۔۔۔۔۔ہمیں کونسا ڈر پڑا ہے۔۔سب کرتے ہے۔۔۔ہم نے کر لیا تو کیا ہو گیا۔۔میں تو سوچ رہی ہوں ریل بنا کر انسٹا پر بھی ڈال۔دوں
وہ سمجھداری سے بولتی ریل کا سوچ کر چہکی۔۔۔۔
میرے کو ایسے پبليكلی پسند نہیں ہے۔۔۔اندر ہی بس۔۔۔۔اور ریل کا تو سوچنا بھی مت۔۔
وہ آنکھیں دکھا کر نا گواری سے بولا
ٹھیک ہے۔۔۔۔اب شروع کریں۔۔۔۔
وہ اُسے گھور کر اپنی جگہ سے اٹھی تو ساحل کو بھی مجبوراً اٹھنا پڑا۔۔۔
لیکن وہ سخت کنفیوز تھا کے یہ ہو کیا رہا ہے۔۔۔یہ اُس کے ساتھ کیسی زبردستی ہے۔۔۔۔
اندر سے فیل ہی نہیں آرہی ہے۔۔۔لائٹ بند کر دوں۔۔۔۔۔۔
وہ لبوں پر زبان پھیر کے نروس سے انداز میں بولا
نہیں لائٹ آن ہی رہنے دو۔۔۔۔۔۔
نین نے اب اُس کے نخروں پر غصے سے گھورا۔۔۔
لیکِن لائٹ کا کام کیا ہے۔۔۔۔
وہ حیرت سے پوچھنے لگا۔۔
مجھے اندھیرے میں مزا نہیں آتا۔۔۔کچھ نظر ہی نہیں آئیگا۔۔۔۔۔میں تمہیں اور تم مجھے کیسے دیکھو گے
وہ غصے سے بھڑک کر بولی جس پر ساحل کو ایک اور بار کرنٹ لگا
۔۔
دیکھنا ضروری تھوڑی ہے یار۔۔۔۔
اُس نے پریشان ہو کر کہا۔۔
میرے لیے ہے۔۔۔۔۔۔مجھے لائٹ آن ہی چاہیے۔۔۔
نین نے گویا فیصلہ سنایا۔۔وہ دونوں ایبرو اٹھائے اُسے دیکھتا رہ گیا۔۔۔
میرے کو یہ تو معلوم تھا کے تو شرمانے والوں میں سے نہیں ہے لیکِن اتنی بولڈ ہے یہ نہیں پتہ تھا۔۔۔۔
وہ صدمے سے بھرپور لہجے میں بولا تو نین نے الجھی سے شکل بنائی۔۔
ٹائٹینک پوز کرنے میں بولڈ ہونے والی کونسی بات ہے۔۔۔۔۔
برا سا منہ بنا کے سخت جھنجھلائے انداز میں پوچھنے لگی تو ساحل کو پھر شاک لگا لیکن اس بار تھوڑا الگ۔۔
تو ٹائٹینک پوز کی بات کر رہی ہے۔۔۔۔
وہ آنکھیں پھاڑے پوچھنے لگا۔۔۔
ہاں۔۔۔۔تم۔کونسے سین کا۔سمجھے تھے۔۔۔۔۔
نین نے آنکھیں چھوٹی کرکے اُسے گھورتے ہوئے پوچھا۔۔تو اُس نے ہاتھ گردن پر چلاتے ہوئے
وہ کار والا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رک کر کہا تو اب نین کو خطرناک جھٹکا لگا۔۔۔۔وہ منہ کھولے اُسے دیکھنے کے بعد غصے سے دانت بھینچ کر آگے بڑھی اور اُس کا گریبان پکڑ کے کھینچا
ماما کے بیٹے۔۔۔۔۔۔میں تمہارا منہ توڑ دوں گی ی ی ی۔۔
غصے سے زوردار چینخی تو ساحل کے کان کے پردے ہل گئے اُس نے ہنسی روک کے آنکھیں بند کیں۔۔۔۔چینخ رکی تب کھول کر نین کی دونوں کلائیاں پکڑے شرٹ سے دور کرکے اُسے گھورا۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے میں غلط سمجھا۔ ۔۔۔۔
لیکن سمجھا بھی تو کیا غلط سمجھا۔۔۔
وہ ہاتھوں کو خود سے دور کرتے ہوئے جتاتے انداز میں بولا
سمجھا نہیں۔۔۔مطلب سمجھی نہیں۔ ۔
نین اُس کے لفظوں میں اُلجھ کر بولی
سمجھے گی بھی نہیں۔۔۔۔
وہ اُس کے ہاتھ جھٹک کر بولتا پھر سے بستر پر لیٹ گیا۔۔
∆∆∆∆∆∆
اوپر والا میرا امتحان لے رہا ہے امی۔۔۔اپنے بیٹے کی خوشی کی خاطر میں نے اپنے دل کو راضی کر لیا تھا فلک کو اپنی بہو ماننے کے لیے۔۔۔میں پورے دل سے اُسے قبول کرنے کو تیار ہو گئی تھی لیکن اب۔۔۔۔اُس کے بارے میں جو پتہ چلا ہے میں سمجھ نہیں پا رہی ہوں میں کیا کروں۔۔۔۔۔۔
جیا اپنے کمرے سی باہر نکل کر رابعہ بیگم کو بلانے دادی کے روم کی طرف آئی لیکن اُن کی بات سن کر دروازے میں ہی رک گیئ۔۔۔
رابعہ بیگم اپنی پریشانی دادی سے بیان کر رہی تھی۔۔۔اُنہوں نے بڑی مشکل سے اپنی ضد کے آگے بیٹے کی خوشی کو اہمیت دے کے فلک کو اپنانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اب اُنہیں کچھ نئی حقیقتیں معلوم ہُوئی تو ارادہ ڈگمگانے لگا۔
ایک تو اُس کا ماضی اور اب پوری دنیا اُسے قاتل کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔۔۔
میں ماں ہوں داؤد کی۔۔۔۔ اپنے بیٹے کے لیے کیسے ایک ایسی لڑکی کو اپنا لوں جو ادھُوری ہے۔۔۔۔
جسے سماج ایک الگ نظر سے دیکھتا ہے اُس کے ہونے سے کیا داؤد کی زندگی پر اثر نہیں پڑےگا۔۔۔۔۔
اُنہوں نے بے بسی سے کہا۔۔۔جیا کو کچھ دن پہلے والا واقعہ یاد آیا جب شاد اُس سے بدلہ لینے کے لیے اُس کے ساتھ زبرستی کی کوشش کر رہا تھا
دیکھو رابعہ۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے تسلی دینے والے انداز میں سمجھانے کی کوشش کی لیکن جیا کی آواز پر رک گئی۔
مما۔۔۔۔۔۔مجھے آپ سے کچھ پوچھنا ہے۔۔۔
وہ اندر آکر پوچھتی رابعہ بیگم کے پاس بیٹھ گئی۔۔۔
ابھی نہیں جیا میں۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے روکنے کی کوشش کی لیکن۔۔۔
نہیں مجھے ابھی آپ سے کچھ پوچھنا ہے۔۔۔۔۔
وہ اُن کی بات کاٹ کر بولی تو دونوں نے حیرت سے دیکھا
کیا ہوا بیٹا۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے فکرمندی سے پوچھا۔۔۔
دادی اگر فلک بھابھی کی طرح کوئ لڑکی کسی کی زیادتی کا شکار ہوجائے تو کیا اُس کی زندگی وہیں ختم ہو جانی چاہیے۔۔۔
کیا اُسے دوبارہ نارمل لائف جینے کا حق نہیں ملتا۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی دادی کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔جب کے رابعہ بیگم اُسے نا سمجھی سے دیکھ رہیں تھی۔
کیوں کے ایک لمحہ میری زندگی میں بھی آیا تھا ایسا۔۔۔۔۔جب کوئی مجھ سے میرے جھوٹ کا بدلا لینے کے لیے مجھے بھی ایسے ہی رسوا کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ رابعہ بیگم کی طرف دیکھ کر جھجھکتے لہجے میں بولی تو مانو اُن کے کانوں میں دھماکے ہوۓ۔۔
وہ اپنی حیرت میں منہ کھولنا تک بھول گئی اور دادی بھی دل تھامے اُسے دیکھ رہیں تھیں
مجھے تو ساحل نے آکر بچا لیا تھا۔۔۔۔لیکِن شاید فلک بھابھی کو بچانے کوئی نہیں آیا ہوگا۔۔۔۔۔
وہ افسوس سے بولی اُنہیں یہ بات بتانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ وہ فلک کو سمجھ سکیں۔۔۔۔۔
یہ تم کیا کہہ رہی ہو جیا۔۔۔۔کب کی بات ہے یہ۔۔۔۔اور تم نے ہمیں بتایا کیوں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم کا سکتا ٹوٹا۔۔۔۔اُنہوں نے اُسے جھنجھوڑتے ہوئے پوچھا
بہُت دن گزر گئے مام۔۔۔یاد ہے ایک بار دیر رات ساحل کے ساتھ گھر آئی تھی اور آپ نے اُسے خوب سنایا تھا۔۔۔۔اُس رات وہ میرا محافظ بن کر مجھے گھر لایا تھا۔۔۔۔۔ ۔۔۔میں تو اب اُس واقیے کو بھولنے بھی لگی تھی۔۔وہ تو آپکی باتیں سن کر اچانک مجھے احساس ہوا کے اگر ساحل صحیح وقت پر وہاں نا آتا۔۔۔اور میرے ساتھ کچھ ہوجاتا تو کیا مجھے بھی دنیا ایک الگ نظر سے دیکھتی۔۔۔۔
کیا میرے لیے بھی سب یہی کہتے جو آپ فلک بھابھی کے لیے بول رہیں ہے
وہ ٹھہرے ہوئے انداز میں دھیرے دھیرے بولنے لگی رابعہ بیگم نے روتے ہوئے اُسے سینے سے لگا لیا۔۔۔
اُنہیں اُن کے سارے سوالوں کا جواب مل گیا۔۔۔
کیوں کے جب غیر پر بیتے تو محض دکھ ہوتا ہے
لیکن جب خود پر آئے تو دل چھلنی ہوجاتا ہے۔
دادی نے دونوں ماں بیٹی کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر خدا کا شکر ادا کیا۔
@@@@@
وہ صبح صبح تیار ہو کر باہر نکلنے کے لئے بائیک پر بیٹھا ہی تھا کے نین کی آواز پر آگے بڑھتے بڑھتے رکا۔۔۔۔
رکو رکو رکو۔۔۔۔۔۔۔۔میں بھی آرہی ہوں تمہارے ساتھ۔۔۔۔
وہ دروازہ بند کرکے دوڑتی ہوئی اُس تک آئی
گلے میں ڈالا ہوا دوپٹہ اُس کے بھاگنے سے مٹی پر نشان بناتا گیا۔۔۔
وہ اُس کے شولڈر پر ہاتھ رکھ کر بائیک پر بیٹھ گئی۔۔
کہاں۔۔۔۔۔
ساحل نے حیرت سے پوچھا۔۔
ہاسپٹل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔داؤد اور فلک سے ملنے۔۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولی
اُتر ۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے اُسے سنجیدگی سے گھور کے اشارہ کیا تو وہ نا سمجھی سے دیکھتی بائیک سے نیچے اتر گئی۔۔
کیب آرڈر کر اور جا میرے کو ابھی دیر ہو رہی ہے۔۔۔۔۔
وہ بیزاری سے بولا اور جلدی سے آگے بڑھنے کی سوچا ہی کے نین نے اُس کا ارادہ بھانپ کر پیچھے سے اُس کی شرٹ جکڑ لگی۔۔۔
۔۔۔۔ایسے کونسے جھنڈے گاڑنے جا رہے ہو جو ذرا سی دیر ہو گئی تو جنگ ہار جائیگی۔۔۔۔
اُسے غصے سے گھورتی ہوئی دوبارہ بائیک پر بیٹھ گئی۔۔۔
پہلے۔مجھے ہاسپٹل چھوڑو اور پھر جاؤ جہاں منہ مارنے جا نا ہے۔۔۔۔۔۔
آنکھیں گھما کر اُسے آرڈر دیا وہ کلس کر دانت بھینچے مجبوراً بائیک آگے بڑھانے لگا کیوں کے آج تک اپنی نہیں چلی تھی تو آج کونسی چل جانی تھی۔۔۔
اچھا سنو۔۔۔تین بجے ہوپ ہاسپٹل آجانا۔۔۔۔۔۔۔وہ جے ڈی مال کے سامنے جو ہے
وہ کچھ دیر بعد خاموشی کو توڑتے ہوئے بولی۔۔۔۔
ہوپ ہاسپٹل۔۔۔۔۔۔وہاں جا کر کیا اپنے ڈھیلے اسکرو ٹائیٹ کرنے ہے تونے ۔۔۔۔۔۔
وہ حیرت و بیزاری سے بولا۔۔۔
بکواس مت کرو ورنہ پھر کہوگے بھری سڑک پر ذلیل کیا مجھے۔۔۔۔جتنا کہا ہے کرو۔۔۔رگھو انکل کی ناتی کو دیکھنے جانا ہے وہاں۔۔۔۔۔۔۔
نین نے اُس کے شولڈر پر رکھے ہاتھ کر انگلیوں سے ہلکی سے چٹکی کاٹتے ہوئے دھمکی دے کر کہا
رگھو انکل سے کچھ زیادہ ہی سگی رشتے داری نہیں ہو رہی۔۔۔۔۔
ہم اُن کے گھر میں رہ رہے ہیں۔۔۔۔
نین نے جتاتے ہوئے جواب دیا
تو۔۔۔۔۔۔پھر کیا زبردستی کا سالہ بنا لوں اُسے جیسے تو بیوی بن گئی زبردستی کی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جل کر بولا۔۔۔۔ ۔۔
ماما کے بیٹے ۔۔۔ مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کے تم بائیک پر کک کھانے کا نیا تجربہ کرنے کے موڈ میں ہو۔۔۔۔
وہ آنکھیں چھوٹی کرکے اُس کے بالوں کو گھورتے ہوئے بولی اُس نے محض آنکھیں گھمائیں
اصل۔میں نا تم نہایت ہی نا قدرے انسان ہو۔۔۔۔۔میرے جیسی خوبصورت پلس انٹیلیجنٹ پلس کیوٹ بیوی اتنی آسانی سے مل گئی نا اس لیے کوئی قدر ہی نہیں ہے تمہیں۔۔۔۔جس دن کہیں چلی جاوں گی ڈھونڈھتے پھروگے ۔
وہ ساحل کے خاموش رہنے پر اپنی دھن میں کہتی چہرے کو اُس کے شولڈ پر لگا گئی تھی۔۔۔۔
ساحل اُس کی بات پر زیرِ لب مسکرایا اور دل ہی دل میں اقرار کرتے بائیک کی سپیڈ بڑھائی
اچھا سن۔۔۔۔۔۔۔۔وہ تیرا بھائی اُس بچی کا نانا ہوا نا۔۔۔۔
بائیک ہاسپٹل کے پاس روک کر نین کو نیچے اترتے دیکھ پوچھا۔۔۔
ہاں تو۔۔۔۔۔۔
نین نے اُسے سوالیہ نظروں سے دیکھا
تو پھر تو اُس کی بہن ہونے کے ناطے اُس بچی کی کیا لگی۔۔۔۔۔۔
اُس نے مسکراہٹ روکے شرارت سے پوچھا نین نے سوچنے کے انداز میں نظریں گھمائیں
نانی۔۔۔۔۔۔؟
وہ فوراً بولا سوالیہ انداز میں اور سمجھ میں آتے ہی نین کا منہ کھلا۔۔۔
صحیح ہے نہ۔۔۔۔۔۔
اُس نے نین کی گڑبڑا ئی شکل دیکھ کر کہا ۔۔بنا ہنسے بھی گال میں گہرائی اُبھرنے لگی۔۔۔
Mama ke bete you shut upوہ بوکھلائی سی اُسے گھور کے بولی تو وہ آنکھوں پر گلاسز چڑھاتے ہوئے کھل کے مسکرایا نین کے دوپٹے کا زمین کو چھوتا سرا اٹھا کر دوسرے شولڈر پر ڈالا۔۔۔اور بائیک آگے بڑھائی
نین اُس کو خوبصورت مسکراہٹ کو زہن میں بسائے مسکراتی اندر آئی جہاں باہر ہی جیا کھڑی تھی
@@@@@@