Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Nain Sahil (Episode 109)
No Download Link
Rate this Novel
Nain Sahil (Episode 109)
فارم ہاؤس کا وہ ایک چھوٹا سا لیکن خوبصورت کمرہ تھا۔۔۔۔۔
ہر ضروری سامان اور فرنیچر سے آراستہ ۔۔۔۔
ایک طرف ایک بڑی سے کھڑکی تھی جو گارڈن میں کھلتی تھی ۔۔۔وہاں سے پھولوں کو چھو کر آنے والی ہوائیں بے حد دلفریب اور خوشنما تھیں۔۔
روم کی فضا میں خوشگواری بکھیر رہیں تھی۔۔۔
وہ اُسی کھڑکی کے راستے کود کر کمرے میں داخل ہوا۔۔۔تو خاموش کمرے میں اُس کے جوتوں کی آواز گونجی۔۔۔۔۔۔
گھڑی رات کے دو بجا رہی تھی۔۔۔۔
حالانکہ اُس کے بازو پر چاقو کے وار نے گہرا زخم بنایا تھا خود پر حملا کرنے والوں سے مقابلہ کرنا اُس کے لیے کافی ٹف ثابت ہوا تھا ۔۔ اور بدن میں کئیں جگہ درد محسوس ہو رہا تھا
لیکن اس سب سے لاپرواہ وہ بجائے گھر جانے کے۔۔۔۔ پہلے نین کے پاس آیا تھا۔۔۔۔
اب خود پر نظر رکھنے والے کو بھی راستے سے ہٹا چکا تھا
اور دل بھی ماننے کو راضی نہیں تھا کہ کچھ دن اور نین کو اُداس رہنے دے۔۔۔۔
سب باتوں میں زیادہ اُس کی نفرت اور دوری والی بات نا قابل سہن تھی۔۔۔
نین بیڈ کی ایک طرف کمفرٹر کندھے تک اوڑھے سوئی ہوئی تھی۔۔
کمرے میں زرد رنگ کی زيرو لائٹ اور گارڈن لائٹس کی کھڑکی سے اندر آتی ملی جلی روشنی بکھری ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔
جب وہ بنا آواز کیے کھڑکی کے پٹ آہستہ سے بند کرکے اُس کی طرف بڑھا تو اندر کا اُجالا اور مدھم پڑ گیا۔۔۔۔
وہ بیڈ پر اُس کے نزدیک بیٹھ کر خاموشی سے اُس کے پرسکون چہرے کو دیکھتا رہا۔۔۔کیوں کے پچھلے کچھ دنوں سے یہ سکون کہیں نظر نہیں آتا تھا۔۔۔نا وہ ہنسی جو برستے پانی کی جھنکار جیسی تھی نا وہ مسکراہٹ جو خوبصورتی کا آئینہ تھی۔۔۔۔
اب بس آنسُو اور اُداسی ہی دیکھنے ملتے تھے۔۔۔۔جو دل کو بے حد تڑ پاتے تھے۔۔۔۔۔
اور اس وقت یہ سکون اُسے اپنا ہر درد و زخم بھلا رہا تھا
اُس نے رات کو اپنا اِنتظار کرنے کا کہا تھا لیکن نین نے اُس کی بات بلکل سیریس نہیں لی تھی۔۔۔
اُسے دور دور تک اُمید نہیں تھی کے وہ آئیگا۔۔۔۔۔۔۔
اور بارہ بجے کے بعد وہ سونے لیٹی تب تک یہ خیال بھی ذہن سے نکل چکا تھا کہ اُس نے ایسا کچھ کہا ہے۔۔۔
دوائی اور تھکان کی وجہ سے وہ گہری اور پرسکون نیند کی آغوش میں تھی ۔۔۔لیکن جب ساحل نے گمبھیر گہری نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے۔۔۔۔ ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے پر بکھرے بالوں کو پیچھے کرنا چاہا تب اُس نیند میں خلل پڑا۔۔۔
گرم گالوں پر سرد، سخت اُنگلیوں کا لمس محسوس ہوتے ہی بند پلکوں میں لرزش ہوئی۔۔۔
اور جب بال کان کے پیچھے لیجاتے ہوئے تین اُنگلیوں نے حرکت کی تو بند ذہن میں بھی اُسے سنسناہٹ محسوس ہوئی۔۔گرے ٹی شرٹ کی ہاف سلیوز سے جھلکتے بازوؤں پر روئیں اُبھرنے لگی۔۔
اُس حرکت کو روکنے کے لیے اُس نے نیند میں ہی۔۔۔ تیزی سے ہتھیلی پکڑ کر اُس کا ہاتھ نیچے کیا اور اپنے گلے پر رکھے لیا۔۔۔۔
ساحل کی اُنگلیوں پر گردن کی نبض کی مدھم سی حرکت بھی بہت شدت سے محسوس ہُوئی۔۔۔۔
دل رک کر بہت تیزی سے دھڑکنے لگا۔۔۔۔احساسِ تپشِ نے وجود میں سرائیت کی تو اُس نے خشک گلے کو تر کیا۔۔۔۔۔
نظریں بدلی۔۔ ذہن بدلا ۔۔۔احساس بدلنے لگے۔۔۔۔۔
اُس نے بے خود انداز میں ہاتھ کی انگلیوں سے سفید گلے پر واضح سبز رگوں کو چھوکر محسوس کیا۔۔۔۔
نین کو نیند میں بھی بے چینی سی محسوس ہوئی تو اُس نے بند آنکھیں تھوڑی میچ لی۔۔۔دونوں ایبرو کے درمیان ہلکی سے سلوٹ پڑی۔۔۔
ساحل کی اُنگلیاں گلے سے دو لکیریں بناتی جو لائن سے گزر کر گال پر اور وہاں سے آہستہ آہستہ سفر کرتی پیشانی پر آئیں۔۔۔
نین کی آئبرو کے درمیان سلوٹیں گہری ہونے لگی۔۔۔۔بہُت ہلکا سا بے نام سا لمس تھا لیکن جلتے ستاروں کی مانند۔۔۔۔دل کی دھڑکنیں بے ترتیب کرنے لگا۔۔۔۔۔
اُنگلیاں پیشانی سے اُتر کر دائیں آئبرو کو پھر بند آنکھ اور بچھی پلکوں کو چھوکر ناک کے نزدیک سے گزرتی لبوں تک آئیں۔۔۔۔۔
نین کا دل بے سکون ہوا۔۔۔سانس لینے میں دقت ہوئی ۔۔ساری سلوٹیں دھیرے دھیرے معدوم ہونے لگی لیکن دل کی دھڑکنیں تیز ہوئیں۔۔۔
اُس نے بہکی نگاہوں کو وہیں روکا بہُت دھیرے سے گلابی نرم لبوں کو چھو کر ایک سے دوسرے تک پہنچا۔۔۔۔
اور منہ سے سانس خارج کی۔۔۔ ان دیکھا دھواں باہر خارج کرکے اندر بڑھتی بے قراری اور ڈھیروں جلن کو باہر نکالنا چاہا۔۔۔۔
نین کے بند ذہن میں جھنجھناہٹ ہونے لگی۔۔۔ سانس لینا نہیں سوجھا تو اُس نے پریشان بیزار جھنجھلائے انداز میں چہرے کا رخ سائیڈ میں کیا۔ ۔۔۔۔تکیے پر موجود ہاتھ سے تکیے کو آہستہ سے پکڑ لیا۔۔۔۔۔
وہ اپنا ہاتھ بستر پر اُس کے بازو کے قریب رکھ کر۔۔درمیان میں تھوڑا فاصلہ رکھے اُس کی طرف جھکا اور۔۔۔۔۔
آئے لو یو۔۔۔۔
اُس کے کان کے نزدیک لب لےجا کر دھیمی پرسوز آواز میں سرگوشی کی پھر آنکھیں بند کرکے پیشانی بالوں سے لگائی ۔۔۔۔
نین کے بند ذہن سے اُس کے الفاظ اور روح سوز آواز ٹکراتے ہی زور کا جھما کا ہوا۔۔۔۔۔اُس کی سانسوں کی آواز کان سے پورے بدن میں سنسنی بن کر پھیل گئی۔۔۔۔۔۔
خوف کے احساس سے ساکت بدن کو سرد لہر چھو کر گزری۔۔۔دل رک گیا۔۔۔
اُس نے گلا تر کیے آہستہ سے آنکھیں کھولیں اور محض نظروں کا رخ اُس کی جانب کیا۔۔۔۔
وہ سلکی بالوں کی خوشبو سانسوں کے ذریعے خود میں اتار کر تھوڑا پیچھے ہوا۔۔۔
اُس کی حیران پریشان خوفزدہ آنکھوں میں دیکھا اور ہاتھ سے چہرے کا رخ اپنی جانب کیا۔۔۔۔۔
آئے ایم اِن لوو وتھ یو۔۔۔۔سو ڈینجرزلی۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی ساکت آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بے آواز لیکِن بے حد گمبھیر انداز میں ساری جذباتیت سمیٹے بولا تو نین کو لگا اُس کا رکا دل باہر آنے کو ہے۔۔۔۔۔۔دم نکلنے کو ہے۔۔۔چھت اُس کے سر پر گرنے کو ہے۔۔۔
درمیان میں فا صلہ تھا لیکن اُسے اپنا بدن سر سے پیر تک آگ کی لپیٹ میں محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔
وہ اُسے صدمے سے سانس روکے دیکھ سنجیدگی سے اُس کے گلے میں بنتی گہرائی کو دیکھتا پیچھے ہوا تو۔۔۔ وہ ایکدم سے سانس آزاد کرکے بوکھلاہٹ میں پھرتی سے اٹھ بیٹھی اور اپنے پیر بھی سمیٹ کر قریب کر لیے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی ہڑبڑا ہٹ اور گھبراہٹ کو خاموشی سے ابزور کرتا رہا۔۔۔۔۔
وہ کچھ سنبھلتے ہی بیڈ سے نیچے اتری۔۔روم کی لائٹ آن کی اور اُس کے سامنے کھڑی ہوئی۔۔۔
تم۔۔۔تم ۔۔۔۔تم۔اندر کیسے آئے۔۔۔۔
بے ترتیب سانسیں لیتے ہوئے گھبراہٹ اور حیرت کے ملے جلے تاثرات لیے پوچھنے لگی۔۔۔۔۔
اُس نے دونوں ایبرو اٹھائے انگوٹھے سے پیچھے کھڑکی کی جانب اشارہ کیا۔۔۔نین نے اُس کے اشارے پر پیچھے دیکھا اور پھر غصے سے اُس کے چہرے کو۔۔۔۔
کیوں آۓ ہو یہاں تم۔۔۔۔کیا چاہیے اب مجھ سے۔۔۔۔۔
نین نے نظریں پھیر کر لہجے میں ناگواری بے زاریت اور غصّہ لیے سوال کیا تو وہ اٹھ کر اُس کی پاس آیا۔۔۔
اُس کے سامنے آکر رکا اور مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔
بتا دوں۔۔۔۔۔
اُس کے کان کے نزدیک جھک کر میٹھی سی سرگوشی میں بولا تو نین نے دھڑکتے دل کے باوجود آنکھوں میں سختی لیے اُس کی طرف دیکھا۔۔۔
مجھے تم سے وہ چاہیے۔۔۔۔۔
وہ معنی خیز انداز اور مدھم مسکراتے لہجے میں بولا۔۔۔گال میں ہلکی سی گہرائی پڑی جس نے مانو ہوا کا رخ بدل دیا۔۔ ۔۔۔نین نے گلا تر کیا۔۔۔آنکھوں میں بے وقت غصّہ۔۔حیرت۔۔جھجھک اور خوف جمع تھے۔۔۔ اُس کے چہرے کے بدلتے رنگوں سے محظوظ ہوتا وہ بغور اُس کی آنکھوں کو دیکھنے لگا۔۔۔
Kick۔۔۔۔۔۔
وہ شرارت بھری مسکراتی آنکھوں اور چہرے پر معصومیت طاری کیے دھیرے سے بول کر نچلا لب بھینچا تو نین کے ماتھے پر اُلجھن اُبھری۔۔۔
نین تارا کی وہ خطرناک والی مارننگ کک۔۔۔۔۔۔
وہ محبت بھرے انداز میں بولا تو نین نے اُس کی مسکراتے چہرے سے نظریں چرائیں۔۔۔۔۔۔
بکواس بند کرو اور نکلو یہاں سے۔۔۔۔
وہ بے رخی سے دانت بھینچ کر بولی تو ساحل نے بیچاری سی شکل بنائی
کتنی پتھر دل ہو یار۔۔۔۔اتنے پیار سے کچھ مانگ رہا ہوں اور تم غصّہ کر رہی ہو۔۔۔۔۔
بے حد اُداس۔۔مایوس معصومیت بھرے لہجے میں بولا تو نین نے اُسے گھورا۔۔۔
میری شرافت تو دیکھو اور مرد اپنی بیوی سے کس مانگتے ہے میں تم سے کک مانگ رہا ہوں۔۔۔
وہ مسکراہٹ روکے ایبرو اٹھا کر خود کو داد دینے والے اور اُسے جتانے والے انداز میں بولا۔۔۔۔
نین کو اُس لمحے وہ بہُت الگ بہت قریب بہُت اپنا سا لگا ۔۔جیسے بیچ میں جو خلش تھی وہ بس ایک وہم تھا۔۔۔گزرے پانچ مہینے ایک برے خواب کا حصہ تھے۔۔۔
کم آن کک می۔۔۔۔۔
وہ اُسے پر سوچ نظروں سے خود کو تکتا دیکھ دھیرے سے ۔۔۔سنجیدگی سے بولا۔۔۔۔۔
جیسے ہمیشہ مجھے سوتے میں لات مار کر تم اپنا بدلا لے لیتی تھی۔۔۔آج بھی لے لو۔۔ایک دو دس جتنی چاہے اتنی۔۔۔۔جب تک تمہاری ساری بھڑاس نا نکل جائے۔۔۔۔جب تک تمہیں یہ نا لگے کے تم نے بدلا لے لیا۔۔۔تب تک مارو مجھے۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے اُسے جتاتا ہوا بولا۔۔۔نین کی آنکھیں اُداس ہونے لگی۔۔۔۔۔۔دل بھرنے لگا۔۔۔
بس اب اور ناراض مت رہو۔۔۔۔مجھے میری وہ بنداس شانی۔۔۔سمارٹ پلس انٹیلیجنٹ بیوی چاہیے جو میرے دماغ کا دہی کرکے خوش ہوتی تھی۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولا تو نین نے مُٹھی بھینچ کر خود کو رونے سے روکا۔۔۔
تمہیں یاد آگیا کے تمہاری کوئی بیوی بھی ہے جب کے کل تک تو تم مجھے پہچانتے تک نہیں تھے۔۔۔۔
وہ اپنی اُداسی کو غصے میں چھپائے روکھے چبھتے لہجے میں بولی۔۔۔ساحل نے بخوبی محسوس کیا اور دونوں ہاتھوں سے اُس کا چہرہ تھاما۔۔۔
Listen ۔۔۔let me explain you everything۔۔۔
تمہیں خود سمجھ آجائیگا کے میں نے ایسا کیوں کیا۔۔۔۔اور میں کتنا مجبور تھا۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اپنائیت سے بولا ۔۔
اُس کے ہاتھوں میں عجیب سا سکون تھا۔۔۔۔آنکھوں میں بے حد چاہت تھی۔۔۔۔
نین کو لگا وہ چند لمحوں میں اُسے خود کے سینے سے لگ کر اپنا دیا ہر درد بھلانے پر مجبور کردیگا۔۔۔۔جو وہ نہیں چاہتی تھی۔۔۔
نہیں جاننا مجھے۔۔۔۔۔۔
نین نے اُس کے ہاتھ چہرے سے جھٹک کر ایکدم سے غصے سے زور دار اور سخت لہجے میں کہا تو وہ حیرت سے اُسے دیکھنے لگا۔۔۔
اُس کے خالی ہاتھ چند سیکند یونہی ہوا میں رہ گئے۔۔۔
تمہارے پاس میرے اموشنز کی کوئ امپورٹینس کیوں نہیں ہے۔۔۔۔
جب میں جاننا چاہتی تھی تب نہیں بتایا تو اب کیوں بتا رہے ہو۔۔
وہ جھنجھلائے لہجے میں غصے سے بولتے بولتے بلا ارادہ آنسو آزاد کر گئی۔۔۔وہ بے بسی سے حیرت سے اُسے دیکھتا رہ گیا۔۔۔
جب میں تمہارا ساتھ چاہتی تھی تب تم نے ساتھ نہیں دیا اور اب جب میں تم سے دور ہونے کے لیے خود کو راضی کرچکی ہوں تو میرے پیچھے پڑے ہو۔۔۔۔کیوں۔۔
اُس نے نہایت ضبط بھرے لہجے میں کہا کے پل کو اُس کے سرخ چہرے پر بے حد سختی نظر آئی۔۔۔۔
سانسیں بکھر گئی۔۔۔
صاف لفظوں میں سنو۔۔۔۔
مجھے تم سے کوئی تعلق نہیں رکھنا ہے۔۔۔۔میں اب تمہیں اپنی زندگی میں نہیں چاہتی۔۔۔۔
ہمارے بیچ سب ختم ہوچکا ہے۔۔
ہمارا زبردستی کا رشتا اب ٹوٹ چکا ہے۔۔۔
اٹس اوور۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے چہرے سے آنسُو رگڑ کر۔۔ ایک ایک جملے کو نہایت سختی اور تلخئ سے جتا جتا کر بولی۔۔۔
تو وہ تھم گیا۔۔۔۔۔
نظریں ساکت ہوئیں اور دھڑکنیں مدھم۔۔۔۔۔۔۔۔
دکھ اور تڑپ سے دل بھر گیا۔۔۔۔
کانوں میں بس اُس کے لفظ گونجنے لگے جن کی شدت سے دماغ پھٹنے لگا۔۔۔
ہر احساس اور تاثر سے خالی نظریں نین کے چہرے سے ہٹائیں اور اپنے سلگتے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔۔۔۔۔
ابھی اور اسی وقت یہاں سے ۔۔۔۔۔
وہ بےنیاز غصے سے اُسے جانے کو کہنے والی تھی لیکن اُس کے بازو پر نظر پڑی جہاں بلیک شرٹ کٹی ہوئی تھی اور گھاؤ صاف نظر آرہا تھا۔۔۔اُس کے لفظ تھم گئے اور دل بھی۔۔۔۔۔غصّہ ناراضگی رونا سب بھول گیا۔۔
یہ۔۔۔۔ یہ چوٹ کیسے لگی تمہیں۔۔۔
وہ آگے بڑھی اُس کا بازو تھام کر حیرت سے پریشانی سے اُس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی۔۔۔۔ ۔۔ساحل نے جواب دینے کی بجائے سنجیدگی سے اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔۔جہاں فکر بھی تھی اور احساس بھی لیکن کانوں میں بازگشت کرتے اُس کے لفظ نہیں تھمے۔۔۔۔۔
بولو بھی کیا ہوا ہے یہ۔۔۔۔
وہ اُس کی خاموشی پر دوبارہ پوچھنے لگی اُس نے سختی سے جبڑے بھینچے جلتی سرخ نگاہوں سے اُسے دیکھتا رہا۔۔۔جواب نہیں دیا۔۔۔۔۔
نین غصے سے اُسے دیکھتی پیچھے پلٹی۔۔۔ڈریسنگ ٹیبل کی دراز کھولی اور اُس میں سے فرسٹ ایڈ باکس نکالا۔۔۔
شرٹ نکال دو۔۔۔ میں پٹی کر دیتی ہوں۔۔۔۔
۔۔۔وہ جوں کا توں کھڑا تھا ۔۔۔نین نے باکس کھولا اور چہرے پر آتے بال کان کے پیچھے کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔لیکن اُس نے کوئی اثر نہیں لیا بلکہ اُس کے کہنے پر سانس نگلتے ہوئے نظروں کا رخ اور موڈ لیا۔۔۔جیسے اُسے سننا ہی نہیں ہے۔۔۔
نین حیرت سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
چند سیکنڈ لگے سمجھنے میں کے وہ اُس کی تلخ باتوں پر غصّہ ہے یا ناراض ہے۔۔۔۔لیکن نین کو اُس کا غلطی کے باوجود خود غصّہ ہونا سخت برا لگا۔۔۔
اور ناراض ہے بھی تو اُس ناراضگی کو اُس نے کوئی اہمیت نہیں دی اور اب اُسے کچھ کہا بھی نہیں۔۔۔۔فرسٹ ایڈ باکس بیڈ پر رکھ کر سیدھی ہوئی اور اپنی جھجھک سے لڑتے ہوئے خود شرٹ کے بٹن کھولنے لگی ۔۔۔۔۔۔
وہ منہ پھیرے اپنے آپ پر ضبط کرتا کھڑا رہا ۔۔۔۔ نین کے قریب آکر خود کو چھونے سے بے چینی اور بڑھنے لگی۔۔۔۔ضبط ٹوٹنے لگا۔۔۔
دل کیا اُسے بتائے کے اس کے الفاظ کِس قدر بے رحم ہے۔۔۔۔لیکن وہ اسٹل رہا
۔
نین نے جھجھک کر اُس کے سرد تاثرات دیکھے۔۔۔۔دل بے چین ہوا لیکن اُس نے اگنور کیا۔۔۔۔۔اپنا دھیان اُس کی ناراضگی سے ہٹا کر چوٹ کی حد تک رکھنا چاہا ۔۔۔۔۔۔
کھلی شرٹ کو صرف ایک بازو سے نیچے کیا ۔۔۔كہنی تک۔۔۔۔۔۔۔
اور گہرے گھاؤ کو کاٹن سے صاف کرنے لگی۔۔حالانکہ خون نہیں بہہ رہا تھا لیکن آس پاس پہلے سے سوکھے نشان موجود تھے۔۔۔
۔لاکھ کوشش کے باوجودِ نظریں بار بار اُس کے چہرے کی جانب اٹھنے لگی تھیں۔۔۔۔اُس کی لاتعلقی سے دل پریشان ہونے لگا تھا۔۔۔۔۔شاید اس وقت وہ چوٹ یہ ہمدردی پیدا کر رہی تھی ۔۔یا کچھ اور۔۔۔۔لیکن اُس کا روٹھنا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔
اتنے گہرے زخم کے ساتھ۔۔۔
ایسے لا پرواہی کیسے کر سکتے ہو تم۔۔۔۔
وہ اپنے دل کے ہاتھوں مجبور اُسے خود کی جانب متوجہ کرنے کو بولی۔۔۔۔۔۔وہ جیسے بس موقع کے انتظار میں تھا۔۔۔اُس کے بولتے ہی ترش تیز سرد نظروں سے اُس کی جانب دیکھا ۔۔۔۔
To the hell with this ۔۔۔۔
اور ایکدم سے اپنے بازو کو جھٹکا دے کر اُس کے ہاتھوں سے چھڑا تے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
وہ گھبرا کر دل تھام گئی۔۔۔۔۔۔
اُس کے ہاتھ میں موجود کاٹن بھی چھوٹ کر گر گیا۔۔۔۔۔
۔۔۔
جو سیریس پرابلم ہے وہ تو تمہیں نظر نہیں آرہی نا۔۔۔۔دھین اسٹاپ دس بل شٹ اوکے۔۔۔۔۔
وہ نہایت غصے اور ضبط سے بھرے
لہجے میں بولا۔۔۔آواز کم تھی لیکن دہاڑ جیسی تھی ۔۔۔۔اُس کی پرواہ اور فکر پر طنز کیا تھا۔۔۔۔۔چند سیکنڈ تو و صدمے سے اُسے دیکھتی ہی رہ گئی۔۔۔۔پھر سنبھل کر غصے سے اُسے گھورا۔۔
ہاؤ ڈئیر یو۔۔۔۔
ایسے کیسے بات کرسکتے ہو تم مجھ سے۔۔ خود غلط کرکے اُلٹا مجھ پر ہی دھونس جما رہے ہو۔۔۔۔۔
اپنے صدمے سے نکل کر غصے سے اُسے دیکھتے ہوئے کہا لیکن اُس غصے میں حیرت کے ساتھ گھبراہٹ بھی تھی۔۔۔۔۔۔۔اُس کی نظروں کا اثر ایسا تھا کے اُس کی ہمت کم پڑ رہی تھی۔۔۔
ساحل نے غصے سے دانت بھینچے شرٹ کندھے تک واپس کھینچی اور اُسے دونوں بازؤں سے پکڑ کر زور سے اپنے قریب کھینچا۔۔
کیا غلط کیا میں نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے چہرے کے قریب دھیرے سے لیکِن اتنی سختی سے پوچھا کے وہ گھبراہٹ میں بولنا تو دور سانس بھی نہیں لے پائی۔۔۔۔اُس کی تپش زدہ سانسوں کے اثر سے چہرہ جلتا ہوا محسوس کرنے لگی۔۔۔
کیا تم سے نہیں کہا تھا کہ کچھ بھی ہو جائے مجھ پر یقین رکھنا میں تمہارے ساتھ کبھی کچھ غلط نہیں کروں گا۔۔۔۔۔۔
یاد رکھی تم نے وہ بات۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی حیرت سے پھیلی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے غصے سے پوچھنے لگا
نین نے اُس کی انگلیوں کو اپنے دائیں بازو میں دھنستا محسوس کرکے اُس کے چہرے سے نظریں ہٹا کر نیچے کی۔۔۔ اُس کے ہاتھ کی گرفت کو دیکھا۔۔۔۔۔
۔۔۔ساحل نے اُس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا اور احساس ہوا تو ایکدم سے اُس کے بازؤں کو چھوڑ کر آزاد کیا اُس نے کھل کر سانس لی۔۔۔۔لیکن دھڑکنیں معتدل نہیں ہوئیں۔۔۔
اتنے دن رہی تم میرے ساتھ۔۔۔ ٹھیک ہے سب نارمل نہیں تھا۔۔۔ لیکن کیا اتنے وقت میں مجھے اتنا بھی نہیں جان سکی کے میں کبھی بھی جان بوجھ کر تمہیں دکھ دینے کی کوشش نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔
بلکہ تمہیں لگتا ہے تم نے مجھ سے ضد کرکے شادی کی اُس کا بدلہ لے رہا ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔لائیک سریسلی۔۔۔
وہ رک کر پھر غصے سے بولتا اُس پر اپنی بھڑاس نکالنے لگا۔۔۔۔۔نین کا دل خوف سے بہُت بری طرح دھڑک رہا تھا۔۔۔۔
اُس کا ہر روپ دیکھا تھا لیکن شاید یہ کچھ الگ کچھ عجیب تھا ۔۔۔۔کچھ زیادہ ہی سیریس تھا۔۔۔آگ سا لہجہ تھا اور تیر سے تیز الفاظ تھے۔۔۔۔۔۔اُس میں منہ کھولنے کی یا اُسے جواب دینے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی حالانکہ وہ اُسے خوب سنانا چاہتی تھی۔۔۔۔
مجھے خود کو ایکسپلن کرنے کا موقع تو دو۔۔۔۔ریزن تو جان لو کم سے کم۔۔۔۔
اُس کا لہجہ نرم بھی ہوا تو بہُت سنجیدگی سے۔۔۔۔۔۔۔نین کو سمجھ نہیں آیا کے اُس پر غصّہ کرے یا حیرت۔۔۔۔۔وہ تو سو بار اُس سے سوال کر چکی تھی لیکن وہ ہمیشہ بیگانہ بن جاتا تھا۔۔۔
ٹھیک ہے جانتا ہوں۔۔۔ ہوں غلط۔۔۔تمہیں بہُت زیادہ ہرٹ کیا ہے اس بات سے انکار نہیں کر رہا۔۔۔۔لیکِن اتنا ہی درد خود بھی سہا ہے۔۔۔۔۔۔
تم بتا سکتی ہو میں نہیں بتا سکتا۔۔۔۔۔ اپنی فيلنگز ورڈز میں۔ایکسپلین نہیں کر سکتا۔۔۔
ڈزنٹ مین کے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا میں بہُت ریلیکس ہوں۔۔
بلکل نارمل ہوں۔۔۔۔
وہ غصے اور دکھ سے بے بس لہجے میں بھاری ہوتی آواز میں بولا نین غور سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
معافی مانگی تم سے۔۔۔سزا مانگی ۔۔۔۔تمہاری ہر شکائت مان لی کوئی صفائی نہیں دی۔۔
تمہارا غصّہ ۔۔تمہارے آنسو تمہاری نفرت تمہاری باتیں پتہ ہے کیسے لگی ادھر۔۔۔
اُس نے ناراض نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے محض سر سے اپنے کھلے شرٹ سے جھلکتے سینے کی جانب اشارہ کیا وہ نظروں کا رخ بدل گئی۔۔۔۔
سب ایکسیپٹ کیا۔۔۔۔۔تاکے میرا گلٹ تھوڑا کم ہوجائے۔۔۔۔تمہارا درد تھوڑا کم ہوجاے۔۔۔۔
لیکن یہ اٹس اوور کیا ہوتا ہے۔۔۔۔
وہ اُس کی جھکی آنکھوں کو دیکھتا ہوا بولا لہجہ پھر سخت ہوا۔۔۔۔۔۔جھنجھلایا سا بیزار سا ۔۔۔
سب ختم ہوگیا۔۔۔رشتا نہیں رہا۔۔دھیس اینڈ ڈھیٹ
وہاٹ اس دس شٹ۔۔۔۔۔
اتنے سخت۔۔۔ غصے بھرے لفظ ۔۔۔بھڑکتا انداز کے وہ پھر سہم کر سانس روک گئی۔۔۔۔اُس کی جانب دیکھنے سے گریز کیا۔۔۔۔
تمہارے وہ لندن میں ہوتا ہوگا ایسا۔۔۔۔
کہ لڑائی ہوئی اور سب ختم ہوگیا۔۔۔۔
یہاں رشتے اتنے کچے نہیں ہوتے۔۔۔
دو دو باتیں ہوجانے سے۔۔ہرٹ ہوجانے سے ٹوٹ نہیں جاتے۔۔۔۔
ہم لڑتے ہے ۔۔۔۔جھگڑتے ہیں۔۔۔نفرت کرتے ہیں ۔۔۔۔ایک دوسرے کے جان کے دشمن بھی بن جاتے ہیں ۔۔۔ لیکِن الگ نہیں ہوتے۔۔
وہ اپنے لفظوں پر زور دے دے کر ناگواری سے بولا تو نین نے اُسے خفگی سے گھورا۔۔۔۔۔اچانک اُس کے تیور ہی بدل گئے تھے۔۔۔۔خود غلط ہو کر وہ اُسے ہی شرم دلانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
اور جو ہوتے ہوں گے اُن کی ماں کی آنکھ۔۔۔۔۔تم نہیں ہو سکتی بس۔۔۔۔
اور خاموش ہوتے ہی ایکدم سے سر جھٹک کر بولا تو اُس کے سخت لہجے اور عجیب الفاظ پر نین کا حیرت سے منہ کھل گیا۔۔۔۔
تمہیں پہلے ہی کہا تھا کہ میری زندگی سے چلی جاؤ تب تم نہیں گئی نا۔۔۔اب تمہارے پاس جانے کا آپشن نہیں ہے۔۔۔۔۔اوکے
وہ اُس کی حیرت سے لا پرواہ اور بےنیاز۔۔۔۔ اپنی بات جتاتے ہوئے بولا ۔۔۔
اُس کے جنگلی بے ربط غصے اور سختی بھرے الفاظ و انداز بھی نین کو بہت پُر جذب لگے
کیوں کے اُن میں تڑپ تھی جو اُسے نین کی دور ہونے والی بات نے دی تھی۔۔۔۔۔
اور جانا ہے تو میرے مرنے کا انتظار کرلو اُس کے۔پہلے تو بلکل پاسبل نہیں ہے۔۔۔۔
وہ ایکدم سے شانت ہو کر اُس کے چہرے سے نظریں ہٹانے کے بعد بولا تو نین کے دل کو کچھ ہوا۔۔۔۔
میں ہر پل سوچ رہا ہوں کے کاش جب بھی سانس لوں تمہاری خوشبُو محسوس ہو۔۔۔۔۔۔دن تمہیں دیکھ کر شروع ہو رات تم پر ختم ہو۔۔۔۔۔اور تم مجھ سے دور جانے کی بات کر رہی ہو۔ ۔۔۔۔ کیسے برداشت کروں۔۔۔۔
وہ اُس سے بنا نظریں ملائے۔۔۔۔ تھکے تھکے انداز میں دھیرے سے بڑبڑا یا
مانو غصّہ کرکرے ساری اینرجی ختم ہوگئی ہو۔۔ ۔۔۔طوفان تھم گیا ہو۔۔۔۔۔نین اُس کے چہرے کو دیکھنے لگی۔۔۔ماتھے پر بکھرے بالوں کو دیکھتے ہوئے اُسے آئیبرو کے نزدیک خراشیں نظر آئیں۔۔۔۔۔۔
اُس نے پریشان ہو کر اُس کے چہرے کو جانچتے انداز میں دیکھا اور پھر کھلی شرٹ سے جھلکتے سینے کو۔۔۔۔۔اور پھر ہاتھوں کو۔۔۔۔۔
ایک ہاتھ کی پچھلی طرف اُنگلیوں پر سرخ نشان تھے۔۔۔۔دوسرے پر آستین کے اندر سے اُترتی خون کی لکیر دوسری اُنگلی کو چھو کر بوند میں بدلتی زمین پر گر رہی تھی۔۔۔۔
شاید بازو کا زخم تازہ ہو گیا تھا۔۔۔
وہ تیزی سے اُس کے قریب آئی اورگلا تر کرتے ہوئے اُس کا وہ ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔۔۔۔ہتھیلی خون سے سنی ہوئی تھی۔۔۔اُسے بے حد تکلیف ہوئی۔۔۔۔۔
ساحل نے خاموش نظروں سے اُس کی جانب دیکھا۔۔۔۔
پلیز بیٹھو یہاں۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی طرف دیکھ کر بہت دھیرے سے نرم ریکویسٹ کرتے لہجے میں بولی۔۔۔۔۔۔وہ اُس کی بات سننے کی بجائے دوسرے ہاتھ سے اُس کا چہرہ تھامے اُس کے نزدیک جھکا۔۔۔
مجھ سے لڑو۔۔۔۔نفرت کرو لیکن وہ بات مت کرو جو میں نہیں سہ سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھو مجھے۔۔۔ میرے بس میں نہیں ہے یہ چیز۔۔۔۔۔
میں اس سمندر میں ڈوب چکا ہوں اب نہیں نکل سکتا ۔۔۔۔۔
وہ اُس کے قریب ہو کر لبوں اور پلکوں میں نظریں الجھائے۔۔۔ دھیمے پر جذب لہجے میں بولا۔۔۔۔نین نے دوبارہ سرخ بھیگی ہتھیلی کو دیکھا اور پھر جھنجھلا کر اُس کے چہرے کو۔۔۔۔
اگر تمہارا کوٹہ پورا ہوگیا ہو تو اب مجھے پٹی کرنے دو گے۔۔۔بہُت خون بہہ رہا ہے۔۔۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹا کر پیچھے ہوتی غصے و عاجزی سے بولی اور اسے بیڈ پر بیٹھنے کو مجبور کیا۔۔۔۔۔
خود اُس کے نزدیک بیٹھ کر شرٹ کو کندھے سے نیچے کرتے ہوئے بہُت سنبھل کر ایک ہاتھ سے آستین باہر نکالی اور تیزی سے کاٹن نکال کر خون صاف کرنے لگی۔۔۔۔۔۔
وہ خاموشی سے اُس کے چہرے کے اُتار چڑھاؤ کو دیکھتا رہا۔۔۔۔اُس کی پریشان آنکھیں اور اُن کے بیچ پڑتی لکیریں۔۔۔
بار بار لبوں کو بھینچنا۔۔۔
گلے کو تر کرنا۔۔۔۔
لب کاٹنا۔۔۔۔۔۔
ہاتھ بڑھاتے بڑھاتے روک لینا
جیسے اُس کی نہیں خود کی کسی چوٹ کو چھو رہی ہو۔۔۔۔اور درد محسوس کر رہی ہو۔۔۔
آخر میں سفید پٹی بازو پر لپیٹ کر سکون کی سانس لی ۔۔۔۔
دوسرا ہاتھ تھام کر شرٹ کو دھیرے سے ہاتھ سے نکال کر سائیڈ پر رکھا۔۔۔ اور اُنگلیوں کے پیچھے ائنمنٹ لگایا۔۔۔۔
رخ چہرے کی طرف ہوا تو بس ایک پل کو اُس سے نظریں ملی۔۔ پھر بلکل بے نیازی برت کر ہلکے ہاتھ سے آنکھ کے نزدیک لگی ہلکی سی خراش پر مرہم لگایا اور پیچھے ہوئی۔۔۔۔۔۔
پورے وقت میں اُس نے ایک لمحے کو نظریں نین کے چہرے سے نہیں ہٹائی نا پلکیں جھپکیں۔۔۔۔اُس کے چہرے کو آنکھوں میں اتارتا رہا۔۔۔۔اور نین اُس سے بے اعتنائی برتتی رہی ۔۔۔کیوں کے خود کو نرم نہیں پڑنے دینا تھا۔۔۔۔۔۔
کیا ۔۔بہُت درد ہو رہا ہے۔۔۔
باکس بند کرکے اُس کے بازو پر لپیٹی سفید پٹی کو دیکھ کر دھیرے سے پوچھتے ہوئے اُس نے طویل خاموشی کو توڑا۔۔۔۔۔
اگر ہو رہا ہے تو۔۔۔۔۔
ساحل نے دھیمے پرسوز لہجے میں اُس کی خوبصورت نیند سے بوجھل آنکھوں کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔۔وہ ایک لمحے کو اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر اُسی تیزی سے نظریں واپس جھکا گئی ۔۔
پین کلر لے لو۔۔۔درد کم ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔
نین نے باکس سے ایک ٹیبلٹ نکال کر اُس کی طرف بڑھائی۔۔بنا اُس کی جانب دیکھے
نہیں ہوگا۔۔۔۔۔
اُس نے دھیرے سے کہا نین جو اُس کے دوائی ہاتھ میں لینا کا اِنتظار کرتی کمرے میں پانی کا گلاس ہونے کا یقین کرنے ٹیبل کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔اُس کی بات سن کر حیرت سے اُس کی جانب دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
اُس کی گہری سنجیدہ آنکھوں میں بے پناہ کشش تھی کے اُس کا دل بھی اُس گہرائی میں ڈوبنے لگا۔۔۔وہ زیادہ دیر نہیں دیکھ نہیں پائی واپس نظریں پھیر لیں۔۔۔
پلیز تم یہ کھا لو۔۔۔اس سے سکون ملے گا۔۔۔۔۔
وہ لہجے میں بیزاری سموئے بولی لیکِن اندر ہی اندر دل کسی گھبراہٹ کا شکار تھا۔۔۔اُس کی نگاہوں کی آنچ سے وجود پگھلتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔
سکون صرف تمہیں پہلے کی طرح مسکراتا دیکھ کر مل سکتا ہے۔۔۔۔۔
وہ ٹیبلیٹ کی بجائے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر لبوں کے نزدیک لیجاتے ہوئے چاہت بھرے لہجے میں بولا لیکِن لب اُس کی کلائی کو چھوتے اُس کے پہلے ہی نین نے پیچھے ہاتھ کھینچ لیا۔۔۔
بینڈیج کردی ہے ۔۔۔۔۔اب تم جا سکتے ہو یہاں سے۔۔۔۔۔
وہ ہاتھ چھڑا کر ٹیبلیٹ واپس رکھتے ہوئے۔۔سختی کی بجائے نروس لہجے میں بولی۔۔۔
کہاں جا سکتا ۔۔۔۔۔
ساحل نے اُس کی گھنی سیاہ پلکوں پر نظریں جمائے۔۔۔ اُس کے شولڈر پر بکھرے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے دھیمے آنچ دیتے لہجے میں کہا
۔۔۔اُس کی اُنگلیوں کے پوروں نے بہُت ہلکے سے کندھے کو چھوا تھا پھر بھی نین کا دل پل کو رک کر بہت تیزی سے دھڑکا۔۔۔اُس نے سانس نگلی۔۔۔۔
جہاں ۔۔۔۔جہاں جانا چاہو ۔۔۔۔
وہ اپنے اُس شولڈر کو اُس کے ہاتھ کی پہنچ سے پیچھے کرتی ماتھے پر بل ڈالے کوفت زدہ لیکن جھجھکتے لہجے میں بولی۔۔۔ساحل نے اُس کے لرزتے لبوں کو دیکھا۔۔۔۔اور۔۔
یہاں جانا چاہوں تو۔۔۔۔۔۔۔
پہلی دو اُنگلیاں گال پر رکھے انگوٹھے سے نچلے لب کو چھوکر بے خود بھاری لہجے میں کہا۔۔۔۔۔نین نے ایکدم سے سانس روکی۔۔۔بڑی بڑی حیران آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔
کوئی مسکراہٹ کوئی شرارت کوئی مزاق نہیں تھا۔۔۔نہایت گمبھیر نگاہیں تھی۔۔۔۔سنگین لہجہ تھا۔۔۔پُر زور لمس تھا۔۔۔۔جس سے لب کانپ رہے تھے۔۔
یا پھر یہاں۔۔۔۔
وہ اس کی حیرت سے بے پرواہ۔۔بے نیاز۔۔۔ ہاتھ چہرے سے دُور کرکے ۔۔۔اُنگلی سے شہ رگ کو چھوتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔۔
اور پر سوز نظریں ایکدم گردن سے اٹھا کر اُس کی حیران نظروں سے ملائی۔۔۔۔
اُس کے یوں دیکھنے پر نین نے گلے کو تر کیا۔۔۔سانسیں بے ترتیب ہونے لگی۔۔۔۔اور دھڑکنیں آپس میں اُلجھنے لگی۔۔۔۔
اُس نے نظریں جھکا کر ساحل کا ہاتھ ہتھیلی سے پکڑے خود سے دور کیا۔۔۔
لیکن گلے سے دور کرتے ہی اُس نے نین کے ہاتھ کی نازک گرفت سمیت ہاتھ نیچے کرکے تین اُنگلیاں دل کے مقا م پر روک لیں۔۔۔اور۔۔
۔۔ہیئر۔۔۔۔۔
وہ اُنگلیوں کے پوروں پر دھڑکنوں کی مدھم حرکت محسوس کرتا اُس کی ساکت آنکھوں کو پر جذب نگاہوں سے دیکھتے ہوئے یوں بولا کے بس بے آواز لب ہلے۔۔۔۔۔
نین کے بدن کے تمام ریشوں میں بجلی جیسی جھنجھنا ہٹ ہونے لگی۔۔۔۔
اُس نے ہاتھ کی گرفت سخت کرکے ہتھیلی کو جکڑ ليا تھا لیکن فوراً سنبھلی اور جھٹکے سے اُس کا ہاتھ دور کیا۔۔۔۔
اُسے گھبراہٹ حیرت اور غصے سے دیکھتی وہ بے ترتیب سانسیں لیتی کچھ سخت نفرت بھرا جملہ بولنے کو تھی لیکن اُس کے لبوں سے نکلنے سے پہلے ہی وہ اُس کے سر کو پیچھے سے تھام کر اُن لفظوں کو خود میں قید کر گیا۔۔۔۔۔۔
سانسوں میں سانسیں اُلجھتے ہی نین کی دھڑکنوں میں طوفان مچ گیا۔۔۔۔۔نبض تیز ہوگئی۔۔۔آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئی۔۔۔۔۔
ساحل نے درمیان میں رکھے فرسٹ ایڈ باکس کو دوسرے ہاتھ سے اٹھا کر اپنے پیچھے رکھا اور اُسے کمر سے تھام کر اپنے نزدیک کیا سینے سے لگایا۔۔۔۔فاصلہ مٹایا۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے بازو کی سخت گرفت اور لبوں کے جان لیوا لمس سے کسمسائی۔۔۔۔۔۔۔ اُس کے شولڈر پر ہاتھ رکھ کر اُسے پیچھے کرنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔ لیکن جواب میں اُس کا لمس اور پرزور ہوا۔۔۔ہاتھ بالوں میں اور سخت ہوا۔۔۔۔انداز میں مزید شدت آئی کے اس کی جان مشکل میں آگئی۔۔۔۔۔۔۔اس نے آنکھیں سختی سے میچ کر اُس کے شولڈر کو دھکیلنے کی بجائے سختی سے جکڑ لیا کہ ناخن اسکن میں گڑھنے لگے۔۔۔۔۔۔
دور ہونے کی کوشش چھوڑ دی۔۔۔۔تاکے وہ خود ہی تھم جائے۔۔۔اور وہ واقعی رکا۔۔
سانسوں کو آزاد کیا لیکن اُسے نہیں۔۔۔لب جدا ہوئے لیکن دور نہیں ۔۔فاصلہ نہیں بڑھایا۔۔گرفت نرم نہیں کی۔۔۔۔۔۔۔ہاتھ سر سے چہرے تک آیا ڈھیروں ریشمی بال بھی ساتھ لیے۔۔۔۔
نین چاہ کر بھی ڈھنگ سے سانس نہیں لے پائی۔۔۔آنکھیں کھول کر اُسے دیکھا۔۔۔۔اُس کی بوجھل بے سود بہکی نگاہوں میں۔۔۔۔۔
Please dont stop me۔۔۔۔۔only you can make me feel relieved۔۔۔۔and i need it badly۔۔۔۔۔
وہ ہاتھ بالوں سمیت اُس کے گال پر رب کرتے ہوئے اُس کی اُلجھی پریشان آنکھوں میں دیکھتا۔۔۔بھیگے لبوں کے بے حد نزدیک سانسیں لے کر۔۔۔۔ اُن کی نمی کھینچتے ہوئے ۔۔۔دھیمی بھاری آواز اور آگ سے دہکتے لہجے میں بولا۔۔۔۔
نین کی بے ترتیب سانسیں مزید بکھری۔۔۔۔۔۔دل حلق میں آکر دھڑکنے لگا۔۔۔
س۔۔۔۔
اُس نے لرزتے لبوں سے کچھ بولنے چاہا لیکِن وہ اُسے کوئی بھی موقع دیے بغیر دوبارہ لبوں پر جھکا۔۔۔
چاروں اور کی فضا میں آگ بھڑک اٹھی۔۔۔تیز لپٹوں نے اپنے گھیرے میں لیا
اُس نے پیر سے جوتے نکال کر زمین پر گرائے۔۔۔۔۔
دوگنی شدت سے۔۔دوہری گرفت سے۔۔۔حد درجہ جنونیت سے۔۔۔بے شمار جذب سے۔۔۔۔بے انتہا تپشِ سے نین کی رگ رگ تک اُس لمس کا اثر اُتارتے ہوئے گھٹنہ بیڈ پر ٹکا کر اُسے پیچھے کو جھکایا۔۔۔۔
سر بیڈ سے لگایا۔۔۔۔۔
اور نیچے لٹکتے پیر ہاتھ سے اوپر کیے۔۔۔
نین نے سینے پر ہتھیلی رکھ کر دور دھکیلنا چاہا تو مزید خود میں کھینچ لیا۔۔۔۔۔۔۔
کمر سے ہاتھ پیٹ تک آیا۔۔۔سخت اُنگلیوں کی سرسراہٹ پرزور ہوئی۔۔
پیر لگنے سے کنارے پر رکھا باکس بیڈ کے نیچے گرا اور ساری چیزیں زمین پر بکھر گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک لمحے کو سکوت میں ہلچل ہو کر پھر خاموشی ہوئی۔۔۔
معنی خیز پر اسرار خاموشی بڑھی ۔۔۔مدہوشی بھی بڑھتی گئی۔۔۔۔۔
سانسیں تنگ ہوئی۔۔۔مزاحمت سست ہوئی اور دھڑکنیں دھیمی پڑنے لگی تو سانسوں کو جدا کیا۔۔۔۔۔۔لمحے کی تاخیر کیے بنا گردن پر جھک کر شہ رگ کو چھوا۔۔۔۔۔۔بال ٹھوڑی پر سر سرانے لگے۔۔۔۔۔تیز سانسیں گلے کو دہکانے لگی۔۔۔بھیگے لبوں کا لمس مزید جان لیوا ہوا۔۔۔۔۔سہنا مشکل ہوا تو۔۔۔۔۔
ساحل ڈڈ۔۔۔ڈو ڈونٹ
وہ بے ترتیب بکھری سانسوں کے اثر سے ٹوٹے لفظوں میں بیچارگی سے بولی اور دونوں ہاتھوں سے اُسے پیچھے کرنا چاہا لیکِن۔۔۔۔۔
نو آۓ وونٹ۔۔۔۔۔۔
اُس نے کان کے نزدیک لب لے جا کر آگ سی سرگوشی میں انکار کیا سنگین سانسوں کے زور سے اُس کی رگوں کو جھلسایا۔۔۔اور لو کو دانتوں میں۔دھیرے سے دبایا۔۔۔وہ آنکھیں میچ گئی۔۔
اُس نے شرٹ شولڈر سے ہٹا کر لب مس کیے ۔۔۔ٹی شرٹ ہٹا کر ہاتھ پیٹ پر سخت کیا۔۔۔
ہلکی بڑھی شیو شولڈر پر رب کی جس سے پورا جسم سنسنا گیا۔۔۔۔
وہ سانس روکے مزاحمت تیز کر گئی۔۔۔اُسے دور کرنے کی کوشش کرنے لگی لیکن کوئی اثر نہیں ہوا۔۔۔۔
اُس کے شدت بھرے۔۔۔جنونی انداز اور جان لیوا گرفت سے اُسے خوف سا محسوس ہونے لگا کیوں کے کبھی وہ اُس کے ساتھ اتنا سخت نہیں رہا تھا۔۔۔۔۔اور اس وقت اُس کے انداز عجیب تھے۔۔۔بلکل بدلے ہوئے۔۔۔بہکے ہوئے۔۔۔
جیسے گزرے سب خالی دِن اور رات ۔۔۔صبح اور شام لمحے لمحے کی کسر پوری کرنے کا جنون ہو۔۔۔۔۔۔لیکن نین کے لیے اُس کی باتوں اور رویے کو بھولنا اتنا آسان نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔وہ بھی بنا وجہ جانے
پہلے دل کا بوجھ نہیں اترا تھا اور اب سانسوں کے بوجھ سے جان ہلکان ہو رہی تھی ۔۔۔
مزاحمت تیز ہو رہی تھی۔۔۔۔
ساحل نے اُس کے مزاحمت کرتے ہاتھ کو اپنے سینے سے ہٹا کر بیڈ سے لگایا۔۔۔۔۔
بائیں پیر میں بندھے کالے دھاگے میں اپنے بائیں پیر کا انگوٹھا الجھایا۔۔۔۔
اور سر اٹھا کر اُس کے چہرے کو دیکھا۔۔۔۔۔۔۔
پلیز لیو۔۔۔۔
وہ اُس کی بوجھل بہکی نگاہوں میں دیکھتی کمزور بے بس لہجے میں بولی۔۔۔۔۔۔
آۓ سوئیر آئے کانٹ۔۔۔۔۔۔
وہ سانس نگل کر اُس کے چہرے کو دیکھتا اُس کی پیشانی سے پیشانی لگا کر اپنا سارا بوجھ ڈالے ۔۔۔۔دھیمے بھاری لہجے میں بولا۔۔۔۔سانسوں سے چہرے کو جلایا۔۔نین نے اُس کے ہاتھ کی حرکت پر آنکھیں بند کرکے کھولیں۔۔۔
میں تمہارا سوری کبھی ایکسپٹ نہیں کروں گی۔۔۔۔۔۔تم سے کبھی بات نہیں کروں گی۔۔
وہ اُس کے لبوں پر نظریں جمائے ناراض انداز میں بولی تو اُس کے حرکت کرتے ہاتھ تھمے۔۔۔پیچھے ہو کر سنجیدگی سے اُسے دیکھا۔۔۔۔
مجھے دکھ دے کر۔۔۔میرا دل توڑ کر ایک سوری بول دیا اور اپنی منمانی کرنا چاہتے تم۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے دیکھنے پر گلا تر کرتی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تاسف اور خفگی سے بولی۔۔۔۔
وہ دو سیکنڈ کو اُس کے چہرے کو دیکھتا رہا پھر انگوٹھا دھاگے سے جدا کرکے پیچھے ہوا اور بیڈ سے اُترا۔۔۔۔
لیکن اب نین کا دل اُس کے ري ایکشن سے گھبرانے لگا۔۔۔۔۔۔وہ اٹھ بیٹھی اور دھڑکتے دل سے اُسے دیکھنے لگی جو اُس کی طرف دیکھنے سے گریز کیے شرٹ اٹھا کر واپس پہنے لگا تھا۔۔۔۔
تم چاہو تو تھوڑی دیر رک کر آرام کرسکتے ہو یہاں۔۔۔
وہ جھجھکتے ہوئے بولی تو ساحل نے بٹن بند کرتے ہوئے کھا جانے والی نظروں سے اُسے دیکھ کر دانت بھینچے
تمہیں چوٹ لگی ہے اسلئے ۔۔۔۔۔
وہ فوراً صفائی دینے لگی ساحل نے آنکھیں گھمائیں
میرے آرام کی فکرِ کرنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں۔۔۔
وہ سرد روکھے خفا خفا لہجے میں بولا ۔۔نین بیڈ سے اُتر کر نیچے بکھرا سامان اٹھا کے واپس باکس میں بھرنے لگی۔۔۔۔
ناراض ہو کر جا رہے ہو۔۔۔۔۔
وہ اُسے جوتے پہنتے دیکھ ابرو اٹھا بڑی بے نیازی سے پوچھنے لگی۔۔۔۔
تمہیں فرق پڑتا ۔۔۔
وہ اُسے گھورتا ہوا بولا لیکن سرد لہجے۔میں
۔۔۔
نہیں پڑتا۔۔۔۔لیکِن تم ٹھیک نہیں ہو بس اسلئے انسانیت کے ناطے کہہ رہی ہوں ۔۔۔رک جاؤ یہیں تھوڑی دیر۔۔۔۔۔
نین نے دلیری ظاہر کرکے احسان جتانے والے انداز میں کہا۔۔۔
میں تمہاری ہمدردی لینے کی بجائے باہر جا کر دشمنوں کے ہاتھوں مرنا زیادہ پسند کروں گا۔۔۔
وہ اُس کے سامنے آکر غصے سے جتاتے ہوئے بولا اور باہر نکلنے کو آگے بڑھا لیکن۔۔۔۔
ناراض ہو کر نہیں جا سکتے تم۔۔۔۔
وہ ایکدم سے اُس کے سامنے آئی۔۔۔ناگواری سے بولی۔۔۔آرڈر دینے والے انداز میں۔۔۔وہ آنکھیں چھوٹی کرکے اُسے دیکھنے لگا۔۔۔۔
ابھی میں ناراض ہوں نہ آلریڈی۔۔۔۔تو تم ناراض نہیں ہوسکتے۔۔۔۔ایسا نہیں ہوتا۔۔۔
وہ اُس کے گھورنے پر اُس سے بہانا بتاتے ہوۓ گردن اکڑ کر بولی وہ اُس کے گڑبڑا یے انداز اور فضول ریزن پر ایکدم سے مسکرایا۔۔۔نین حیرت سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
ناراض ہو کر نہیں جا رہا ۔۔۔
یہاں رکا تو دور نہیں رہا جائیگا اور پھر تمہیں پرابلم ہوگی۔۔اسلئے۔۔۔
پھر اپنا غصّہ بھول کر چاہتی سے بھرپور لہجے میں اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا تو وہ چند لمحے اُس کی دلکش آنکھوں کو دیکھتی رہ گئی۔۔۔۔
وہ جانے کو آگے بڑھا تو فوراً اُس کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔
تھوڑی دیر بعد چلے جانا۔۔۔پلیز,۔
کچھ جھجھک کچھ شرمندگی اور کچھ ریکویسٹ کرتے لہجے میں دھیرے سے بولی تو وہ سنجیدگی سے اُس کی جھکی پلکوں کو دیکھنے لگا
بھوک لگ رہی ہے۔۔۔۔میرے لیے کچھ کھانے کو لاؤ۔۔۔۔
دھیرے سے بولا تو نین کے دل کو بے حد سکون محسوس ہوا وہ مسکرائی۔۔۔
اندر کچھ کپڑے ہے تم شرٹ چینج کرلینا۔۔ ۔۔۔۔۔میں کھانا لے کر آتی ہوں۔۔
وہ اُس کی بازو سے کٹی خراب اور شکن زدہ شرٹ کو دیکھتی الماری کی طرف اشارہ کرکے بولی اور خود باہر نکل گئی۔۔۔۔
♦♦♦♦♦
