Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nain Sahil (Episode 104)

پہلی دفعہ وہ کسی سچویشن کے آگے بے حد کمزور پڑا تھا۔۔۔۔۔سوجھ بوجھ سمجھداری جذبات کے آگے کہیں دب گئے تھے۔۔۔دماغ پر دل حاوی ہو گیا تھا۔۔۔۔
نین کی وہاں موجود گی اُس کے لیے باعث امتحان تھی۔۔۔۔
ویسے تو اس رسم کے معنی اُس کے لیے رنگ بدلنے سے زیادہ کچھ نہیں تھے لیکِن اُسے اندازہ تھا کہ اُس کے انجو کو رنگ پہنانے سے نین کو کتنی تکلیف ہوگی۔۔۔۔
اسی لیے انجو کا ہاتھ تھامتے ہوئے اُس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی اور رنگ پہنانے کو ہاتھ آگے نہیں بڑھ پا رہا تھا۔۔۔۔۔۔سب منتظر کھڑے تھے لیکن دل راضی نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اُس کا رخ انجو کی جانب تھا
گلاسز کے گلابی شیشے کے پار سے نظریں انجو کے بالوں میں لگے ہیئر کلپ کے چھوٹے سے ہیرے پر تھیں۔۔لیکن دھیان اور احساس کے دھاگے اُس ہال کے ایک حصے میں کِسی اور وجود سے لپٹے ہوئے تھے۔۔۔۔
اُس حصے میں جہاں تھے تو کئیں لوگ لیکِن اُس بھیڑ میں محض ایک وجود تھا جس کی نظریں خود پر تیز شعاعوں کی مانند محسوس ہو رہی تھی۔۔۔اُن شعاعوں میں تپشِ بھی تھی۔۔۔ جلن بھی تھی۔۔۔۔ چبھن بھی تھی۔۔اور کشش بھی تھی جو اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔۔۔۔۔ اُسے اُکسا رہی تھی کے بس ایک نظر اُس اور دیکھ لے ۔۔۔۔۔
لیکن وہ خود کو روکے ہوئے تھا کیوں کے اگر ایسا ہوجاتا تو پھر بات ہاتھ سے نکل جاتی۔۔۔۔۔
جو ہمت بچی تھی وہ باقی نا رہتی۔۔۔۔جو کرنا تھا وہ ہرگز نہیں ہو پاتا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اجنبی بن کے نظریں بچائے کِسی اَور کے مقابل اُس کا ہاتھ تھامنے کو تیار کھڑا تھا اور نین اُس کی ایک نظر کی منتظر تھی جیسے ایک دفعہ وہ اُس کی طرف دیکھ لے تو دل دم توڑتے توڑتے سانس لینے لگے گا۔۔۔۔ہار جیت میں بدل جائے گی۔۔۔
اُمید بکھر رہی تھی لیکن دل اُن ٹوٹتے اُمید کے ٹکڑوں کو سنبھال سنبھال کر رکھ رہا تھا جیسے ڈوبتے کو تنکے کے سہارے کے مانند ۔۔۔دل کو اُن ٹکڑوں کا سہارا ڈوبنے سے بچا لے گا۔۔۔
لیکن وہ اُس کی سوچ سے زیادہ ظالم تھا۔۔۔۔اُسے تڑپا تڑپا کر مارنا چاہتا تھا۔۔۔۔اُس کے کسی اور کا ہوجانے کا خیال بھی نین کے لیے برداشت کے باہر تھا اور وہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھنا اپنے ہاتھوں اپنی جان لینے جیسا تھا۔۔۔۔۔
اُسے اطراف کا کوئی ہوش نہیں تھا۔۔۔نا کوئی آواز سنائی دے رہی تھی نا آس پاس کے لوگ دکھائی دے رہے تھے سب دھندلا تھا۔۔۔۔۔ذہن پر چھائی پُر اسرار یت نے خود میں جکڑ لیا تھا۔۔۔ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ویران میدان میں بس دو لوگ کھڑے ہے ۔۔۔۔
اُن کے بیچ میں فاصلہ ہے لیکن وہ جڑے ہے۔۔۔۔۔۔۔
ریا اس کے نزدیک کھڑی تھی ۔۔۔۔اُس سے کیا کہہ رہی تھی وہ نہیں جانتی۔۔۔۔۔۔۔بس ایک آواز سنائی دے رہی تھی ۔۔۔
لمحہ بہ لمحہ تیز ہوتی دھڑکن کی آواز۔۔۔۔۔
۔۔۔
مسز سنگھ کے پکارنے پر اُس نے سنبھل کر سانس کو گلے میں روکے کڑے دل کے ساتھ انجو کا ہاتھ تھاما ۔۔۔۔۔
نین کی دھڑکنیں اور تیز ہوئیں۔۔۔۔اُس نے ہاتھ کی مُٹھی بھینچ لی۔۔۔۔آنکھ میں جمع آنسُو چہرے پر پھسلے۔۔۔۔۔
لب ہلکے سے ہلے۔۔۔دل کیا چینخ کر اُسے پُکار لے لیکِن بخار زدہ جسم میں اتنی قوت بھی نہیں تھی کے کوئی حرکت کر سکے۔۔۔اپنے ارادے پر عمل کر سکے۔۔۔۔آنکھیں بھاری ہو رہی تھی لیکن وہ اُنہیں بند ہونے سے روکے ہوئے تھی۔۔۔ذہن تھک کر بےجان ہو گیا تھا سکون چاہتا تھا لیکن اُس نے ابھی ہار نہیں مانی تھی۔۔۔
پر جب اُسے انجو کے ہاتھ کی تیسری اُنگلی میں انگوٹھی پہناتے دیکھا تب وہ ہار گئی۔۔۔تب نا دل قابو میں رہا نا دماغ نا جسم۔۔۔۔۔۔
تب اُمید کے بچے ہوئے ٹکڑے بھی ریزہ ریزہ ہو گئے۔۔۔۔۔
اُس لمحے پچھلے ہزاروں خوشنما پل ۔۔۔مسکراتی یادیں۔۔۔میٹھے میٹھے جھگڑے اور دل دھڑ کاتے احساسات سب آنکھوں کے آگے گھوم گئے۔۔۔۔۔۔۔ایسا محسوس ہوا جیسے وہ سب یادیں ہاتھ میں سے ریت کی مانند پھسل کر بہہ گئی ۔۔ وہ اُن سے خالی ہو گئی ۔۔۔
یہ خیال کے اُس نے کسی اور کو اپنا ہونے کا حق سونپا ہے آخری تیر کی مانند سینے میں لگا اور درد کا زہر رگوں کے ذریعے پورے جسم میں پھیلا دیا۔۔۔۔
اُس زہر نے اتنی تیزی سے کام کیا کے رنگ انجو کی اُنگلی میں پوری اترنے سے پہلے اُس کی نظروں کے آگے کا منظر دھندلا گیا۔۔۔
خاموشی میں ایکدم سے تالیوں کا شور سنائی دیا۔۔۔۔۔جسم میں درد کی تیز لہر اٹھی۔۔۔
بس ایک لمحے کے لیے طوفان آیا اور سب بہہ گیا۔۔۔سب ساکت ہو گیا۔۔۔۔دھڑکنیں رک گئیں۔۔۔۔۔آنکھیں بند ہوئیں۔۔۔۔پھر سناٹا چھا گیا۔۔۔۔جسم بے جان ہو کر ایک طرف لڑھک گیا۔۔۔۔
پاس کھڑی موٹی سی عورت اُسے خود پر گرتے دیکھ ہڑبڑا کر چلائی اُسے تھام گئی۔۔۔ریا نے جب گھبرا کے اُس کا نام پکارا تو ساحل کا دل پوری قوت سے دھڑکا۔۔۔۔۔۔۔۔
چھت اپنے سر پر گھومتی ہوئی محسوس ہُوئی۔۔۔۔۔۔
بدن میں کئیں سارے چھوٹے چھوٹے سانپ رینگتے محسوس ہوئے جو ہر تھوڑے فاصلے پر اُسے ڈ ستے جا رہے تھے۔۔۔
ایکدم سے سب منگنی بھول کر نین کی طرف متوجہ ہوئے تھے لیکن وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلا۔۔۔۔نا اُس جانب دیکھا نہ نظریں جہاں تھیں وہاں سے ہٹائیں۔۔۔۔
مانو وہ پتھر تھا اور پتھر ہی رہا۔۔۔۔
انجو اور اُس کے ماں باپ بھی پریشانیِ سے سچویشن سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔۔ریا خوفزدہ تھی اُسے کچھ سوجھ نہیں رہا تھا
لوگ شور کر رہے تھے ۔ مشورے دے رہے تھے۔۔۔۔سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔۔۔
ساحل کے کانوں میں بس سمندر کی تیز لہروں کا شور گونج رہا تھا اور کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔۔ نا اُس میں اپنے آپ کو حرکت دینے کی ہمت جمع ہو پا رہی تھی۔۔۔۔
پورب کے فوراً وہاں آنے سے ریا کو کچھ اطمنان ہوا اور وہ دونوں مل۔کر نین کو سہارا دیے بھیڑ اور شور سے باہر لے آئے۔۔۔۔
♦♦♦♦♦♦
پورا وقت ایک عجیب سا خوف سوار تھا۔۔۔۔اپنی ہی دھڑکنوں کی آواز سن کر گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی۔۔۔اور سب سے زیادہ ڈر یہ سوچ کر لگ رہا تھا کہ اگر دکش کو اُس کے بدلتے احساس اور پورب کی کی گئی حرکت کا پتہ چل گیا تو کتنا برا ہوگا۔۔۔۔
وہ زبردستی کی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے ہوئے تھی۔۔۔پورب کو خود کو خوش دکھانے کا چیلنج کرنا اُس کے لیے مصیبت بن گیا تھا۔۔۔۔
عین سگائ کے وقت اُس کے دل کی دھڑکنیں عروج پر تھی۔۔۔پورب دور لیکِن اُس کی نظر کے سامنے ہی کھڑا مسکرا رہا تھا اور آنکھیں جیسے مزاق اُڑ رہی تھی کہ اب دکھاؤ اپنی محبت پانے کی خوشی۔۔۔وہ چاہ کر بھی پُر سکون نہیں ہو پا رہی تھی۔۔۔۔خوش ہونا تو دور مسکرا بھی نہیں پا رہی تھی۔۔۔
اُس کے لیے نظریں اٹھانا بھی مشکل ہو گیا تھا۔۔۔۔
دکش نے اُس کا ہاتھ تھام کر جب اُس کی اُنگلی میں انگوٹھی پہنائی تب اُس کی گھبراہٹ اور بڑھنے لگی۔۔۔۔۔۔دل بے چین سا ہو گیا تھا۔۔۔
تبھی اچانک نین کے بیہوش ہونے سی افرا تفری مچ گئی۔۔۔۔تھوڑی دیر کے لیے ہنگامہ سا ہو گیا۔۔۔۔۔۔وہ خود بھی حیران پریشان سی سمجھنے کی کوشش کرنےلگی کے کیا ہوا ہے۔۔۔
ریا کے ساتھ پورب بھی نین کے لیے پریشان ہو رہا تھا یہ دیکھ کر اُسے بلکل اچھا نہیں لگا۔۔۔۔۔اُس کی نین کے لیے فکر نہایت ناگوار گزری۔۔۔۔۔
مسز سنگھ نے ڈاکٹر کو بلا یا لیکن ریا فنکشن خراب نہ ہونے کا بہانا کرکے نین کو اپنے گھر لے گئی ۔۔۔کیوں کہ اُسے سمجھ آرہا تھا وہ دکش کے رنگ پہناتے ہی کیسے بے ہوش ہوگئی اور اُسے پتہ تھا کے آنکھ کھلتے ہی پھر وہی سب دیکھ اُس کی طبیعت زیادہ خراب ہو جائے گی۔۔۔اسلئے ہوش آنے سے پہلے وہ اُسے وہاں سے لے گئی ۔۔۔۔
اُن کے جانے کے بعد ماحول پر سکون ہوا ۔ مسز سنگھ کے کہنے پر انجو نے دکش کو رنگ پہنائی۔۔۔۔اور اُن کی سگائ کی رسم مکمل ہوئی۔۔۔
پورب سے اُس کا دھیان ہٹا تو اُسے دکش کی غیر معمولی خاموشی محسوس ہُوئی۔۔۔۔
اُسے احساس ہوا کے وہ اُسے دیکھ کر ہمیشہ اسمائیل دینے والا انسان آج ساکن تھا۔۔۔۔
نا کوئی بات نہ کوئی لفظ نہیں کوئی اشارہ ۔۔۔
پورے وقت وہ الگ ہی سنجیدگی اور خاموشی لیے اُس کے ساتھ کھڑا تھا کے انجو کو عجیب عجیب سے خیال آرہے تھے۔۔۔سب سے پہلا اور برا یہ کے کہیں اُس نے پورب کے ساتھ دیکھ نا لیا ہو۔۔۔۔یہ سوچ اُسے سخت بے چین کر رہی تھی۔۔۔۔
پارٹی کے اختتام تک اُس کی خاموشی قائم تھی۔۔۔۔۔۔جو انجو ہی نہیں ہر کوئی نوٹ کر چکا تھا۔۔۔۔
جب دھیرے دھیرے مہمان ختم ہو گئے اور گھر خالی ہو گیا تب انجو نے ہمت کرکے اُسے مخاطب کیا۔۔۔
کیا ہوا دکش ۔۔۔۔آپ اتنے خاموش کیوں ہے۔۔۔۔
وہ صوفے پر اُس کے نزدیک بیٹھتے ہوئے جھجھک کر پوچھنے لگی۔۔۔گلاسز کے پیچھے سے اُس کی آنکھوں کو غور سے دیکھنے کی کوشش کی کہ اُنہیں پڑھ کر کچھ اندازہ لگا سکے۔۔۔
اُس کے پکارنے کا اثر نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔مانو اُس نے سنا بھی نہیں۔۔۔نظریں اپنے ہاتھ کی انگلیوں پر تھیں جن پر اب بھی ایک تازہ سا لمس باقی تھا۔۔۔دھڑکنوں کی حرکت محسوس ہو رہی تھی
شام سے آپ نے ایک بار بھی بات نہیں کی۔۔۔۔ہوا کیا ہے آپکو۔۔۔۔۔کیا مجھ سے ناراض ہے۔۔۔
انجو کا ڈر مزید بڑھا کیوں کے ایسا رویہ اُس کا پہلے کبھی نہیں تھا۔۔۔اتنی لاتعلقی حیران اور پریشان کن تھی
لیکِن وہ چپ تھا۔ ۔۔اُس کے کانوں میں صرف نین کی آواز گونج رہی تھی۔۔۔۔۔
اگر ایسا نہیں ہوتا تو مجھ سے بات کرتے ہوئے تمہارا دل اتنی زور سے نہیں دھڑکتا۔۔۔
اُس کے الفاظ گونج رہے تھے ۔۔جن میں یقین تھا مان تھا جو آج ٹوٹ کر بکھر چکا تھا۔۔۔۔
دکش۔۔۔۔۔۔۔
انجو نے اُس کی غائب دماغی پر پریشانی سے اُسے دیکھتے ہوئے اُس کا وہی ہاتھ تھاما ۔۔
اس کے ذہن پر دستک ہوئی۔۔۔۔
نظریں انجو کی جانب کی۔۔۔
بتائیے نا کیا بات ہے۔۔۔۔۔۔
انجو نے اُس کی آنکھوں میں دیکھنے کی کوشش کی جہاں گلابی شیشوں میں سب گلابی نظر آرہا تھا۔۔۔۔
اُس نے کچھ نہیں کہا۔۔۔۔ہاتھ چھڑا کر اپنی جگہ سے اٹھ گیا
Nothing۔۔۔۔It’s too late۔۔۔۔۔good night۔۔۔
وہ نہایت دھیرے سے کہتے ہوئے وہاں سے چلا گیا انجو محض دیکھتی رہ گئی۔۔۔لیکن اتنا تو یقین ہو گیا کے وہ ضرور پورب اور اُس کے بارے میں جان چکا ہے۔۔۔اور اب اُسے گھبراہٹ کے ساتھ پورب پر غصّہ بھی آنے لگا۔۔۔۔۔
♦♦♦♦♦♦
گھڑی رات کا ایک بجا رہی تھی جب اُس کے ہوش بحال ہوئے۔۔۔۔
بوجھل آنکھیں آہستہ آہستہ کھلیں اور ایک مقام پر آکر رک گئیں۔۔۔۔۔
ہاتھ کی انگلیوں میں ہلکی سی حرکت ہوئی۔۔۔۔۔۔
نظریں سیلنگ پر ہی تھیں لیکِن دماغ بیدار ہوتے ہی پھر اُن جانليوا لمحوں میں جا پہنچا تھا
۔۔۔
دھندلا سا منظر دماغ کے پردے پر لہراتا دل کے زخموں میں مرچیں بھر گیا۔۔۔۔۔
آنکھوں سے آنسو نکل کر بالوں میں جذب ہونے لگے ۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔
درد بڑھتے بڑھتے برداشت کے باہر ہوگیا اور گھٹن کے مارے سانس لینا مشکل ہوا تو وہ اٹھ بیٹھی اور سینے پر ہاتھ رکھے بے ترتیب سانسیں لینے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ریا کے گھر کا وہی کمرہ تھا جہاں وہ پچھلے کچھ دنوں سے رہ رہی تھی۔۔۔لیکن آج وہ کمرہ اُسے بے حد تنگ لگ رہا تھا۔۔۔جیسے دیواریں اُس کے بے حد نزدیک آگئیں ہو۔۔۔۔آکسیجن کی جگہ ہی نا ہو۔۔دم گھٹتا جا رہا تھا۔۔۔۔
ریا نے اُس کی بے ہوشی میں جویلری اُتار دی تھی لیکن کپڑے اب بھی وہی پہنے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔کاجل بکھر گیا تھا اور لب بے رنگ ہو گئے تھے۔۔۔۔۔چہرہ سفید پڑ گیا تھا بال بے ترتیب بکھر گیے تھے۔۔۔
وہ لمحوں میں ایسے بدل گئی تھی جیسے کوئی برسوں کی بیماری میں بدلتا ہو۔۔۔۔۔
اُس کے لیے اپنا نقصان سہنا نا ممکن ہو گیا تھا۔۔۔۔ایسا لگ رہا تھا جیسے زندگی ختم ہو گئی ہو۔۔۔۔جسم میں جان ہے لیکن سانسیں چھین لی گئی ہو۔۔۔اور اب اُسے جان کے نکلنے تک ایک ایک سانس کی خاطر یونہی تڑپنا ہے۔۔۔۔
اور یہ تڑپ ناقابل برداشت تھی۔۔۔تبھی اُسے اپنی جان اپنے ہاتھوں ختم کردینا واجب لگا کے جان نکل جائے تو اس درد سے بھی نجات مل جائے ۔۔۔۔
وہ تیزی سے بیڈ سے اُتر کر لڑکھڑاتے قدموں سے آگے بڑھی دیوار نسب الماری کے ڈراور کھول کھول کر اُن میں کچھ ڈھونڈھنے لگی جس سے خود کو نقصان پہنچا سکے۔۔۔۔
بدن سوکھے پتّے کی مانند لرز رہا تھا۔۔۔ہاتھ کانپ رہے تھے اور سانسیں تیز ترین ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔لیکن وہ پاگلوں کی طرح پورے کمرے کو تلاش کر رہی تھی جب الماری کے ایک ڈراور سے اُسے تیز دھار کٹر ملا۔۔۔۔
وہ اُس کٹر کو مضبوطی سے مُٹھی میں جکڑے اپنے اندر ہمت جمع کرنے لگی۔۔۔
کیوں کے لوگوں کو بھلے عام سا کام لگتا ہو لیکن اپنے ہاتھوں اپنی جان لینا اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔۔۔۔اُس کے لیے سو بہادروں کے جتنی ہمت کی ضرورت پڑتی ہے۔۔۔۔
غم کتنا بھی بڑا کیوں نہ ہو لیکن زندگی سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا کیوں کے غم سے آزادی کے ایک اُمید تب بھی باقی ہوتی ہے۔۔۔ڈوب کر اُبھرنے کا ایک موقع مل بھی جاتا ہے۔۔۔۔ لیکن جان ہی نا رہے تو کیسی اُمید کیسا موقع۔۔۔۔
زندگی چھوٹ جاتی ہے اور آخرت حرام ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔۔
اور پیچھے سب جوں کا توں رہتا ہے۔۔۔کچھ نہیں بدلتا۔۔۔نا لوگ نا سوچ۔۔۔
لیکن اس سب سے پرے ایک حقیقت ہے کے خُدا پر یقین رکھنے والے انسان کے حصے خود کشی کبھی نہیں آتی۔۔۔۔جہاں ایمان زندہ ہو وہ دل کبھی حرام موت کی نظر نہیں ہوتا۔۔۔۔
بروقت کوئی سوچ کوئی احساس کوئی اُمید تو کوئی شخص درمیان میں آ ہی جاتا ہے ۔۔۔اور ایسی ہی ایک سوچ ایک احساس نے اُس کی ہمت توڑ دی۔ ۔۔۔۔
خدا کی دی زندگی اپنے یا کسی اور کے لیے ختم کرنا گوارہ نہیں گزرا۔۔۔۔۔۔۔
جو بے پرواہ تھا اُس کے لیے جان دے کر۔۔۔۔جنہیں پرواہ ہے اُن کو دھوکا دینا صحیح نہیں لگا۔۔۔۔
اُس نے۔ ایک چینخ کے ساتھ وہ کٹر پوری قوت سے دیوار پر پھینک مارا اور بیڈ پر گر کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔۔۔
اب نا آنسُو رکے نا آواز ۔۔۔۔۔
دل کی ساری بھڑاس آنسوؤں کی صورت بہتی گئی اور درد چینخ بن بن کر باہر آتا گیا۔۔۔۔۔۔
غم میں تب بھی کمی نہیں آئی۔۔۔دل سے درد ذرا الگ نہیں ہوا۔۔۔۔زخموں کی تکلیف ذرہ برابر کم نہیں ہوئی۔۔۔
وہ روتی رہی۔۔۔روتی رہی ۔۔۔روتی رہی
کبھی ہتھیلی سے منہ دبا کر درد سے بھری چینخ کو اندر ہی دبانے کی کوششں کی۔۔۔۔۔
کبھی منہ تکیے سے لگا دیا کے سسکیاں تھم جائے۔۔۔۔۔
کبھی آنکھیں سختی سے میچ لی کے آنسووں کا راستہ بند ہو جائے
کبھی پورا بدن سمیٹ کر گٹھری بن گئی کے آہیں کہیں دب جائے۔۔۔
لیکن ہر کوشش کے باوجود اُس کمرے کے در و دیوار دیر تلک اُس کے درد کو سنتے رہے۔۔۔۔۔
دیر بعد اُسے احساس ہوا کے وہ رو تو رہی ہے لیکِن آنکھوں میں آنسو نہیں آرہے۔۔۔شاید آنکھیں تھک گئیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن دل ابھی خالی نہیں ہوا تھا۔۔۔۔درد ابھی کم نہیں ہوا تھا۔۔۔۔بخار پھر سے دوائی کے اثر کو ختم کرکے تیز ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔
وہ اٹھ کر بیٹھ گئی ۔۔۔آنکھیں رگڑ کر رونے کے نشان مٹانے کی کوشش کی اور بیڈ سے اُتر کر الماری کی طرف بڑھی ۔۔۔
اپنے کپڑے نکال کر اپنے بیگ میں بے ترتیب بھر کر اُسے بند کیا اور اُس کا ہینڈل تھام کر ننگے پیر ہی روم سے باہر نکل گئی۔۔۔۔
••••