Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
وہ زمین پر دیوار سے لگ کر بیٹھی تھی
ویران آنکھیں زمین پر گڑی ہوئی تھی۔۔۔۔
آنسُو کب کے سوکھ گئے تھے۔۔۔۔نا کوئی درد تھا نہ کوئی دوسرا احساسِ۔۔۔جِسم پتھر ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
پتھر جِسم میں ایک جان باقی تھی اور دل شدت سے اُس جان سے آزادی کی دعا مانگ رہا تھا
شمع نے ہی ہمت کرکے اُسے سنبھالا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوش میں آکر اُسے اپنے زندہ ہونے کا افسوس ہو رہا تھا
مُشکل سے اپنے نیم۔مردہ وجود کو گھسیٹتے ہوئے وہ واشروم تک پہنچی تھی۔۔۔۔۔۔
اُس کے بعد سے ہی وہ اب تک ایسے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
شمع نے اُس کے زخموں پر مرہم لگا دیا تھا لیکِن اُس کی روح پر تو بہت گہری چوٹیں لگی تھی اُنہیں کیسے ٹھیک کرتی
یہ رات اُن سب کے لیے کِسی عذاب سے کم نہیں تھی
ارحم اپنے باپ کو لے کر گاؤں کے سرکاری ہسپتال گیا تھا
اماں کو اُس نے گھر پر ہی روکا ہوا تھا۔۔۔۔۔
اُس کا ایک دوست اُس کے ساتھ موجود تھا
رحمت کو بروقت ہسپتال لے جانے سے جان بچ گئی تھی لیکن ڈاکٹر نے اُسے اسٹریس دینے سے منع کیا تھا۔۔۔۔۔
اماں دروازے پر نظریں ٹکائے اس کے انتظار میں تھیں
شمع کی بھی آنکھیں اس کی منتظر تھی دل اپنے باپ کی سلامتی کی دعا کر رہا تھا
صبح فجر کا وقت ہوا تب وہ گھر پہنچا تو دونوں بے تابی سے اُسے دیکھنے لگی۔اُس نے اپنی ماں کو ساتھ لگا کر تسلی دی
اور اُنہیں بتایا کے رحمت کو دل کا دورہ پڑا تھا وہ اب ٹھیک ہے لیکن اُسے کچھ وقت تک ہسپتال میں رہنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔
شمع نے خدا کا شکر ادا کیا
اماں بھی اُس طرف سے پر سکون ہوئی
لیکن اچانک سے آئے اس طوفان نے جو اُن سب کی ذندگی کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔۔اُس کے غم میں وہ سر پکڑ کر رونے بیٹھ گئی ۔۔۔
ارحم چاہ کر بھی اُنہیں تسلی نہیں دے پایا شمع بھی اپنی جگہ روتی رہی ۔۔۔۔۔۔
اماں روتے روتے اچانک ہی اٹھ کر اندر کی طرف بڑھیں اور فلک کو بازو سے پکڑے زمین سے اٹھا کر باہر لاتے ہوئے اُس کے چہرے پر ایک کے بعد ایک تھپڑ کی بارش کر دی۔۔۔۔۔۔۔۔
شمع بوکھلا کر اُن کے پیچھے بھاگی۔۔۔۔۔اور اُنہیں روک کر فلک کا بازو چھڑایا
فلک اُن کے بازو چھوڑتے ہی زمین پر گری۔۔۔
اُس پر اُن کے کسی تھپڑ کا نا اثر ہوا نا احساس۔۔۔۔۔۔۔
وہ صحن کی زمین پر آڑھی ترچھی پڑی تھی
کھلے بال بری طرح بکھر گئے تھے۔۔۔۔۔
گال تھپڑوں سے سرخ ہو گئے تھے۔۔۔۔۔
ارحم کی ہمت نہیں ہوئی اُسے دیکھنے کی وہ اپنی جگہ خاموش کھڑا رہا
منہوس۔۔۔بد بخت تو پیدا ہوتی ہی مر کیوں نہیں گئی۔۔۔۔
۔کم سے کم ہماری زندگی حرام تو نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔
اماں روتی ہوئی اُسے مارنے کو جا رہی تھی شمع نے بمشکل اُنہیں روکا ہوا تھا۔۔۔
اپنی عزت کا جنازہ لے کر واپس کیوں لوٹ آئی ہمارے منہ پر کالک ملنے کو وہیں کہیں ڈوب کر مر کیوں نہیں گئی تو۔۔۔۔۔
اماں نے شمع کو دھکا دے کر اُس کی۔پیٹھ پر دونوں ہاتھوں سے مارنا شروع کر دیا۔۔۔
ہماری عزت کو تو کھا گئی ہیں اب کیا اپنے ماں باپ کو بھی کھا کر مانے گی۔۔۔۔۔۔۔
اُن کا واویلا جاری تھا۔۔۔۔۔۔۔ارحم ساکت کھڑا زمین کو گھور رہا تھا۔۔شمع نے غصے سے اپنی ماں کو دیکھتے ہوئے اُن کے ہاتھ دور جھٹکے
بس اماں۔۔۔۔۔۔۔۔
تم آپی کو کیوں مار رہی ہو ۔۔۔۔۔اس میں اس کا کیا قصور ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ فلک کو اٹھا کر اپنے ساتھ لگاتی حیرت اور دکھ سے اپنی اماں کو دیکھنے لگی ایک ہی دن میں وہ اپنی عمر سے زیادہ بڑی ہو گئی تھی
قصور تو کِسی کا نہیں ہیں لیکِن بھگتے گے ہم سب۔۔۔۔۔۔۔۔تو بھی تیرا بھائی بھی ہم سب زندگی بھر اس کی بد قسمتی کی سزا بھرے گے
کاش کے میں نے اسے پیدا ہوتے ہی مار دیا ہوتا ۔۔۔۔
اماں روتی ہوئی سر ہاتھ میں لے کر زمین پر بیٹھ گئیں شمع فلک کو اپنے سینے سے لگا کر پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی۔۔
جب کے وہ نا روئی نا کچھ بولی
اُس کے منہ سے پھر سے خون نکل کر ٹھوڑی تک آگیا
فلک کا اس میں کوئی قصور نہیں ہیں اماں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی خاموشی کو توڑ کے بولا تو شمع سر اٹھا کر اُسے دیکھنے لگی فلک ساکت نظروں سے زمین کو تک رہی تھی
جو کچھ کیا ہے اُس نیچ انسان نے کیا ہے
اور میں اُسے اس کے کیے کی سزا دے کر رہوں گا
اگر میں نے اُس سے اپنی بہن کے ایک ایک زخم کا حساب نہیں لیا تو مجھے بھائی کہلانے کا کوئی حق نہیں
وہ لہجے میں بے پناہ نفرت سمیٹے بولا اماں رونا بھولے اُسے دیکھنے لگ گئی
جس انا کی بلی میری بے گناہ بہن چڑھی ہیں اُس انا کو توڑ کر ریزہ ریزہ کر دوں گا میں۔۔۔۔۔۔
میری تکلیف کا احساس اُسے تب ہوگا جب اُس کی اپنی بہن اسی درد سے گزرےگی۔۔۔۔
وہ دانت سختی سے بھینچے آنکھوں میں نفرت کے انگارے لیے بولا۔۔۔اُس کے ارادے جان کر شمع اور اماں حیرت سے سن ہو گئیں۔۔
وہ ایک نظر فلک کو دیکھ کر باہر جانے لگا
ر۔۔۔۔ر۔۔رک جائیے۔۔۔۔ بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلک کی ٹوٹتی آواز پر اُس کے قدم تھم گئے۔۔۔۔۔۔
ارحم نے پلٹ کر اُس کی جانب دیکھا
اُس کی بہن کو وہ درد مت دیجئے۔۔۔۔۔ جو اُس نے مجھے دیا ہے۔۔۔
وہ زخمی نظریں اٹھائے بکھرے ہوئے لہجے میں بولی ارحم کا دل جیسے کِسی نے مُٹھی میں بھینچ لیا۔۔۔
اُس بے گناہ کو۔۔۔۔۔ کِسی کی بہن۔۔۔۔ یا عورت ہونے کی سزا مت دیجئے بھائی۔۔۔۔۔۔
اُس کی خاموشی شاید کبھی نہ ٹوٹتی اگر کِسی اور کے ساتھ وہی ظلم ہونے کا احساس اُسے نا جگاتا تو۔۔۔۔
ارحم نم نگاہوں سے اُسے دیکھتا اُس کے پاس آکر بیٹھ گیا اور بنا پلک جھپکے اُسے دیکھنے لگا۔۔۔۔
وہ جو کبھی نظر اُٹھا کر بات نہیں کرتی تھی۔۔۔۔
جس بہن کے اُس نے کبھی بال کھلے نہیں دیکھے تھے
اُس کے سامنے آج بغیر ڈوپٹے کے سر سے پیر تک بکھری ہوئی بیٹھی تھی
اُس نے آپ سے بدلہ لینے کے لیے مجھ پر اپنی نفرت نکالی
آپ اُس سے بدلہ لینے کے لیے اُس کی بہن کا سہارا لیں گے
آپ میں اور اُس میں کیا فرق رہ جائے گا بھائی۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی ارحم کو لگا وہ اچانک ہی بہت بڑی ہو گئی ہے
نہ اُس کی نفرت نے آپ کا کچھ بگاڑا
نہ آپ کی نفرت سے اُس کا کچھ بگڑے گا
ایک ناسور مجھے ملا ہے
ایک ناسور اُس کی بہن کے حصے آجائے گا
ہر بار نقصان ایک لڑکی کے حصے میں کیوں آئے بھائی
اس لیے کیوں کے وہ کمزور ہے۔۔۔۔۔
ایک مرد کے لیے اُس کے وجود کو تباہ کرنا آسان ہے۔۔۔۔
اُس کی آنکھوں سے آنسو پھر سے چہرے کو بھگو رہے تھے
شمع منہ پر ہاتھ رکھے بیٹھی تھی۔۔۔اماں اپنی جگہ سن دیوار کو گھور رہی تھیں
ارحم نے ہاتھ بڑھا کر اُس کے آنسُو صاف کیے
تم اُس کی بہن کو تباہ مت کرنا بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کا۔ہاتھ تھامتے ہوئے سسک کے بولی وہ مزید ضبط نہیں کر پایا۔۔۔۔۔۔۔۔
فلک کے پیر پر ہتھیلی رکھے سر جھکائے آنسو بہانے لگا
معاف کردے مجھے۔۔۔۔۔معاف کرے۔۔۔۔۔
اُس کے لہجے میں بے پناہ تڑپ تھی۔۔۔
کیسا بھائی ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔جو جیتے جی اپنی بہن کی حفاظت نہیں کر پایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لعنت ہے مجھ پر۔۔۔لعنت ہے۔۔۔۔
وہ ہتھیلی سے اپنے سر کو مارتے ہوئے بولا لہجے میں بے بسی ہی بے بسی تھی
میرے ہوتے وہ شیطان تجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا کروں ۔۔۔۔۔میں کیا کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔فلک۔۔
وہ اُسے اپنے سینے سے لگائے شدتوں سے رونے لگا
بھائی۔۔۔ مجھے مار دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ٹھنڈے لہجے میں بولی تو ارحم نے اُسے پیچھے کیا اور حیرت سے دیکھنے لگا شمع بھی اُس کی بات پر سانس روک گئی
میں اس نا پاک وجود کے ساتھ نہیں جینا چاہتی بھائی
زندگی مجھ پر حرام ہو چُکی ہے۔۔۔۔
مجھے اس گندے جِسم سے آزاد کر دو ۔۔۔۔۔
اس زندگی کی قید سے نجات دلا دو ۔۔۔
مجھے مار دو بھائی۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں میچ کر روتے ہوئے بولی
شش۔۔۔۔۔۔
ایسے نہیں کہتے۔۔۔۔۔۔۔۔
ارحم نے اُس کا چہره دونو ہاتھوں میں تھاما
اگر کسی کو مرنا چاہیے تو اُسے جو گناہ گار ہے۔۔۔
لیکِن اُس کی جان سے بڑھ کر اُس کا غرور ہے
اور وہ غرور تب ٹوٹے گا جب وہ سارے زمانے کے سامنے مجرم بن کر سلاخوں کی قید میں جئے گا۔۔۔۔۔۔
اُس کی بھیگی آنکھوں میں نفرت دہکنے لگی۔۔۔۔
جو ہوا میں اُسے بدل نہیں سکتا لیکِن میرا وعدہ ہے تجھ سے اُسے اس کے کیے کی سزا دلوا کر رہوں گا۔۔چاہے مجھے اپنی جان داو پر کیوں نہ لگانا پڑے ۔۔۔۔۔
وہ فلک کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مضبوط لہجے میں بولا
اماں نے چونک کر اُسے دیکھا
جب تک میں تجھے انصاف نہیں دلاتا تب تک دنیا کی ہر خوشی مجھ پر حرام ہے۔۔۔۔۔۔۔چل میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا اور اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے اٹھایا
زمین پر ایک طرف پڑا دوپٹہ اٹھا کر اُس پر پھیلایا اور اُس کا ہاتھ پکڑے باہر جانے لگا
رک جا۔۔۔۔۔
اماں نے ایکدم زور کی آواز میں پکار کر اُسے روکا اور خود اٹھ کر اُس کے سامنے آئیں
کہاں جا رہا ہے تو۔۔۔۔۔۔کیا کرنا چاہتا ہے تو۔۔۔انصاف دلانا چاہتا ہے اپنی بہن کو ۔۔
اماں اُسے کڑے تیوروں سے گھورتے ہوئے بولیں۔۔۔
۔یہاں انصاف نا ملتا کسی کو صرف بدنامی اور ذلت ملتی ہیں
کیا چاہتا ہے جنہیں نہیں پتہ اُنہیں بھی پتہ چل جائے۔۔۔۔۔۔
ابھی گاؤں میں بدنام ہوئے ہیں اب دنیا بھر میں ہو جائے
یہ چاہتا ہے تو۔۔۔۔۔۔
یہ کہہ رہی ہے نہ مار دے تو مار کیوں نہیں دیتا اسے۔۔۔۔۔
اماں غصے سے چلائی۔۔۔اخر میں۔اُن کی آواز رندھ گئی
بس کر اماں۔۔۔۔۔۔۔۔کیا بکے جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ بھی حیرت اور غصے سے بولا
کیوں ماروں اسے۔۔۔۔۔۔۔کیا کیا اس نے۔۔۔۔۔۔۔۔
آج تک سر جھکا جھکا کر جیتی رہی اس کے لیے ماروں
کبھی چوکھٹ سے باہر قدم نہ نکالا اُس کے لیے ماروں۔۔۔۔۔
اپنی ہر خواہش اور خوشی کو اس چار دیواری میں۔ڈھونڈا اس لیے یا
ہر وقت خود کو دنیا سے چھپائے رکھا اس لیے ماروں۔۔۔۔۔۔
کیوں ماروں اسے۔۔۔۔
وہ دوگنی آواز میں بول رہا تھا اماں سن رہ گئی وہ کہاں ایسا تھا
یہ بھاگ کر گئی تھی اُس کے ساتھ۔۔۔۔۔
اُس کی غیرت کو للکارا تھا اس نے۔۔۔۔۔۔۔
دعوت دی تھی ا اُسے کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کہتے کہتے رک گیا اور کب بھینچ لیے
کیوں ماروں اسے اور کیوں مرے یہ۔۔۔۔۔
کیوں جئے مر مر کے۔۔۔۔۔۔
کیوں بہائے آنسُو۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے چلایا
میرے سامنے سے ہٹ جا اماں ۔۔۔۔۔۔
میں نے آج تک تیری ہر بات مانی ہے
لیکِن تیری یہ بات مان کر اپنی بہن کو بدنامی اور لوگوں کے طعنوں کی بھینٹ نہیں چڑھنے دوں گا میں۔۔۔
تُو نے اگر مجھے روکا تو میں خود کو ختم کر لوں گا۔۔۔۔۔
وہ آنکھوں میں اس قدر جنون اور نفرت لیے بولا کے اماں کا دل لرز گیا ۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی آخری بات پر وہ جان سے گھبرا گئی
ارحم فلک کو اپنے ساتھ باہر لے گیا
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
اُس کے الیشان کمرے کی دیواروں میں زور دار تھپڑ کی آواز گونجی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سامنے کھڑا شخص آنکھیں میں حیرت اور بے یقینی لیے اُسے دیکھ کر رہ گیا جس کی نظریں خون برسا رہی تھی۔۔۔۔جیسے وہ آنکھوں سے ہی جان لے لے گا
اُس نے صرف اتنا کہا تھا کہ۔۔۔
کیا یار سکندر۔۔۔۔۔۔۔ اکیلے اکیلے ہی مزے لے لیے۔۔۔۔۔۔۔
ہمیں بھی یاد کرلیتا۔۔۔۔۔۔
اُس کے باقی لفظ اُس تھپڑ کی وجہ سے منہ میں ہی رہ گئے تھے حالانکہ یہ اتنی نئی یا عجیب بات نہیں تھی لیکن سکندر کا ردِ عمل نہایت حیرت انگیز تھا۔۔اور اس کی وجہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا
I said get the hell out of my room۔۔۔۔۔۔۔
وہ دانت پر دانت جمائے سرد لہجے میں بولا تھا۔۔۔۔
کمرے میں۔موجود چاروں اپنی عزت افزائی پر منہ بنائے وہاں سے نکل گئے تھے۔۔۔۔۔۔
کل رات سے اُس کے دل نے اُسے انگاروں پر رکھا ہوا تھا ایک پل بھی وہ سکون کا سانس نہیں لے پایا تھا۔۔۔
ساری رات آنکھوں میں کٹی تھی۔۔۔۔۔۔
مہنگی شراب کی کئیں بوتلیں اُسے ہوش سے غافل کرنے میں ناکام ٹھہری تھی۔۔۔۔۔۔
آج سے پہلے اُس نے کبھی اتنی بے قراری محسوس نہیں کی تھی۔۔۔۔
فلک کے بے ہوش وجود کو اُس کے گھر کے سامنے ڈال کر وہ حویلی آگیا تھا جہاں بہادر شاہ نے اُس سے بات کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ سیدھے اپنے کمرے میں بند ہو گیا تھا۔۔۔۔
فلک کی سسکیاں اُس کے کانوں میں زہر گھول کر رات بھر اُسے تڑپاتی رہی تھی۔۔۔۔۔۔
اُس کے آنسوؤں کی نمی اُس کے خون کے دھبے زہن کو سانپ بن کر ڈس رہے تھے۔۔۔۔۔
وہ اپنی فیلنگ سمجھ نہیں پا رہا تھا اس لیے دِماغ بےحد جھنجھلا یا ہوا تھا
اُس نے فلار واس اٹھا کر زور سے دیوار پر دے مارا اور دیوار پر سر لگائے کھڑا ہو گیا۔۔۔
آنکھیں بند کرتے ہی پھر وہ منظر۔۔پھر وہ بھیگی بے بس آنکھیں۔۔۔پھیر وہ زخمی سُرخ کلائی پھر وہ سسکیاں
اُس نے جھنجھلا کر آنکھیں کھولیں۔۔۔۔۔اور اپنا سر تھام لیا۔۔
ایسا لگا جیسے دِماغ کی ایک ایک نس پھٹنے کے قریب ہے
دروازے پر دستک ہوئی تو وہ اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے گہری سانس لیتا بیڈ پر بیٹھ گیا
بہادر شاہ اندر آیا اور اُسے غصے سے دیکھا
میں نے۔تمہیں منع کیا تھا نہ ۔۔۔۔۔۔اس کے بعد بھی تمہاری سمجھ میں نہیں آئی۔۔۔۔۔۔۔۔
بہادر شاہ غصے سے بولا تو اُس نے سر اٹھا کر سرد نظروں سے اپنے باپ کو دیکھا۔۔۔۔
وہ ایک پل کو اُس کے تاثرات دیکھ کر گھبرا گیا لیکِن ظاہر نہیں ہونے دیا
اگر تمہیں بدلا لینا تھا تو تھوڑا انتظار کر لیتے۔۔۔اور اگر اتنا بھی صبر نہیں ہو رہا تھا تو کچھ دماغ سے کام لیتے۔۔۔۔۔۔
اپنے لڑکوں کو کہہ کر اٹھواتے اُس لڑکی کو خود سب کی نظر میں آنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اب لہجے کو ذرا نرم بنائے بولا سکندر لا پرواہی سے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا
میں تمہیں سمجھا سمجھا کر تھک گیا ہوں کے یہ الیکشن میرے لیے کتنا اہم ہیں۔۔۔۔۔۔۔تمہاری ان حرکتوں کی وجہ سے میں ہارنا نہیں چاہتا
وہ جھنجھلائے ہوئے اندازِ نے بولا
میں کونسا تم پر روک ٹوک کر رہا ہوں۔۔۔۔
جو کرنا ہے کرو لیکِن دِماغ کا استعمال کرکے۔۔۔۔
جوش میں نہیں ہوش میں رہ کر۔۔۔۔۔۔
تمہاری آج شام کی شملہ کی ٹکٹ کروا دی ہیں۔۔۔۔۔کچھ دن کے لیے یہاں سے دور رہوگے تو بات بڑھے گی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بات ختم کرتے ہوئے وہاں سے جانے لگا
میں کہیں نہیں جا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دھیمے خشک لہجے میں بولا
دِماغ خراب مت کرو سکندر۔۔۔۔۔۔۔۔
جو کارنامہ انجام دیا ہے اُس کے بعد وہ لڑکا چپ نہیں بیٹھے گا۔۔۔۔۔۔تمہارے پیچھے میں اُسے سنبھال لوں گا تم رہے تو بات بڑھ جائے گی۔۔۔۔۔۔۔
بہادر شاہ اس کے قریب آتا غصے سے بولا
میں کہیں نہیں جا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پوری قوت سے دھاڑا بہادر شاہ نے اپنا حلق ٹر کیا اور اُسے غصے سے گھورتے ہوئے وہاں سے نکل گیا
بوا۔۔۔۔۔گھر میں یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔
اُس کی آواز پر اپنے کمرے سے باہر نکلتی اُس کی بہن خوفزدہ ہو کر رک گئی
۔کل بھی ایک آدمی آکر بھائی پر غصّہ کر رہا تھا۔۔۔۔۔بھائ نے کچھ کیا ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی ملازمہ سے پوچھنے لگی ملازمہ اُسے کیا بتاتی کے اس کے بھائی نے کیا کارنامہ انجام دیا ہیں ۔۔۔ایک بہن کے لیے یہ بات کتنی شرمناک تھی کے اس کا بھائی اُس جیسی ہی کِسی معصوم کی عزت کو پامال کرکے آرہا ہے۔۔۔۔و کیوں سچ بتا کر اُس معصوم لڑکی کو شرمندہ کرتی اس لیے نظر چرا گئی
کچھ نہیں بیٹا بڑوں کی باتیں ہے۔۔۔۔۔۔آپ پڑھائی کرو۔۔۔۔چلو
ملازمہ اُسے بہلاتے ہوئے بولی اور واپس اندر لے گئی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
وہ فلک کو لے کر شہر کے پولیس اسٹیشن پہنچا۔۔۔۔
اُن کے گاؤں میں پنچایت فیصلہ کرتی تھی اور وہ جانتا تھا گاؤں کی پنچایت کبھی بھی بہادر شاہ يا اُس کے بیٹے کے خلاف نہیں جائیگی اس لئے اُس نے قانون کا سہارا لینا چاہا ۔۔
اُسے ہر حال میں سکندر کو اُس کے انجام تک پہنچانا تھا۔۔
اکثر و بیشتر جب اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں تو گھر والے بدنامی کے ڈر سے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ گنہگار کو بجائے سزا کے مزید شہ ملتی ہے۔۔۔۔۔
لیکِن ارحم اپنے اندر ارادے مضبوط کر چکا تھا کے وہ اپنی بہن کے گنہگار كو اُس کے انجام تک پہنچانے کے لیے ہر حد پار کر جائے گا
فلک کا دل اُس جگہ سے گھبرا رہا تھا اپنے بھائی کا ساتھ پا کر اُس نے بھی طے کیا تھا کے وہ ہمت کرکے اُس کے ساتھ کھڑی رہے گی۔۔۔۔۔۔
بولیے۔۔۔۔۔
انسپیکٹر اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوئے تنقیدی نظروں سے دونوں کا جائزہ لینے لگا۔۔۔۔۔۔
ہمیں ایک شکایت لکھوانی ہے۔۔۔۔۔۔۔
ارحم فلک کے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے بولا۔۔۔
کِس کے خلاف شکایت لکھوانا چاہتے ہیں آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسپیکٹر پین اور رجسٹر اپنے پاس کھینچتے ہوئے بولا
نرمدا نگر کے پچھلے سر پنچ بہادر شاہ کے بیٹے سکندر شاہ کے خلاف۔۔۔۔۔۔
وہ ایک ہی جملے میں ملزم کا مکمل تعارف کرا گیا اور اُس کی اُمید کے عین مطابق انسپکٹر چونکا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی پیشانی پر پڑی سوچ کی لکیریں ارحم کی نظروں سے پوشیدہ نہیں تھی۔۔۔۔جب کے فلک سر جھکائے زمین کو گھور رہی تھی۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔شکایت لکھیے۔ ۔۔۔۔
ارحم نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے تھا۔ وہ جانتا تھا یہ قانون کے غدار عوام کی بجائے اُن رئیسوں کی خدمت کرتے ہے۔۔۔۔۔اور سامنے بیٹھے شخس کے تیور دیکھ کر وہ سمجھ گیا تھا کے اُس کی راہ میں کم مشکلیں نہیں
جانتے ہو کس کے خلاف جا رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
انسپیکٹر نے دبے لہجے میں اُسے وارن کرنا چاہا
جی ہاں ایک ایسے انسان کے جس نے دن دھاڑے میری بہن کو اغوا کیا ۔۔۔اُس کے ساتھ زرو ذبردستی کی۔۔۔۔۔۔۔۔اُسے ذیادتی کا نشانہ بنایا۔۔۔۔
جہاں تک میرے جیسے انپڑھ کے علم میں ہے یہ قانون کی نظر میں بہُت بڑا جرم ہے۔۔۔۔۔۔
اور اگر آپکو شکائت لکھنے میں اعتراض ہے تو میں کمشنر صاحب سے سیدھے رابطہ کر سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
ارحم نے مضبوط لہجے میں جواب دیا ساتھ ہی اُس کی دھمکی کے جوابِ میں کمشنر کا نام لے کر دھمکانا نہیں بھولا
کیوں کے سب جانتے تھے اُس علاقے کا کمشنر نہائت ایماندار اور قانون کے معاملے میں سخت ترین انسان تھا
قانون کی نظر میں ثبوت کی اہمیت ہے۔۔۔۔کوئی ثبوت ہے سکندر شاہ کے خلاف۔۔۔۔۔۔۔۔
انسپکٹر سنبھل کر بولا لیکِن نا گواری لہجے سے واضح تھی
دُنیا میں ہر چیز کا ثبوت نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔آپکے پاس ثبوت ہے کوئی کی آپ اپنے باپ کے ہی بیٹے ہے۔۔
وہ نہایت سرد لہجے میں بولا ۔۔انسپیکٹر کا سوال اُسے جتنی تیزی سے چبھا تھا صرف وہی جانتا تھا
اے۔۔۔۔۔۔۔زبان کو قابو میں رکھو۔۔۔
انسپیکٹر کرسی سے اٹھ کر اُس کی طرف جھکتے ہوئے غرایا
مثال دی ہے۔۔۔۔۔۔۔آپ نے ثبوت کا جو پوچھا
ثبوت میری بہن خود ہے۔۔۔۔۔
اس کے من پر لگا ہر زخم ثبوت ہے۔۔۔۔۔۔
ویسے بھی ثبوت و گواہی تو عدالت کے لیے ہے
آپکا کام ہے مجرم کو گرفتار کرنا۔۔۔۔۔۔
آپ پہلے وہ کیجیے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بہت آرام سے بولا ۔۔۔۔۔۔۔انسپکٹر نے محسوس کیا کے اُسے دھمکانا یا بھٹکانا ممکن نہیں۔۔۔۔۔اُس کی آنکھوں میں دہکتی نفرت اور بدلے کی آگ آسانی سے بجھنے والی نہیں تھی
ہمیں ہمارا کام پتہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نام بتائیے
انسپکٹر کرسی پر بیٹھتے ہوئے فلک سے مخاطب ہوا۔۔۔۔ارحم نے اُسے اشارہ کیا تو وہ انسپکٹر کے سوالوں کے جواب دینے لگی,۔۔۔۔
فلک سر جھکائے اپنے آنسُو پیتے ہوئے کم لفظوں میں اُسے سارا واقعہ بتاتی گئی سکندر کا شادی کے وقت اچانک اندر گھس آنا
اُسے اٹھا کر لے جانا
اپنا بھاگنے کی کوشش کرکے ناکام ہونا
سکندر کا لاکھ منتوں کے بعد ذبردستی کرنا
وہ کہتے کہتے ارحم کے سینے سے لگ گئی
ارحم لب بھینچے بیٹھے رہا۔۔۔
اُس کے لیے کِس قدر مشکل لمحہ تھا کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا تھا۔۔۔۔۔۔
فلک جی آپ سوچ سمجھ کر یہ شکایت لکھوا رہیں ہے یا کسی کے دباؤ میں آکر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسپیکٹر اُسے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا
جی۔۔۔۔۔۔۔۔سوچ سمجھ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سر جھکائے بولی
۔
جو کچھ ہوا اُس کا کوئی گواہ ہے ۔۔۔۔کوئی تھا جس نے سکندر اور آپکو دیکھا ہو آپ سمجھ رہی ہے نہ
اُسے سارا واقعہ جان کر فلک سے شاید ہمدردی محسوس ہوئی تبھی نہایت نرمی سے بولا فلک نے سر نفی میں ہلا دیا
ٹھیک ہے آپ جا سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
انسپیکٹر نے اُس کے انگوٹھے کے نشان لگا کر اُسے جانے کی اجازت دی۔۔۔۔ارحم اُسے لیے کھڑا ہو گیا۔۔۔۔۔
اُمید ہے آپ جلد سے جلد اُس مجرم کو گرفتار کریں گے۔۔۔
وہ انسپیکٹر کی جانب دیکھتے ہوئے بولا اور فلک کا ہاتھ تھامے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔
انسپیکٹر اُن دونو کو جاتے دیکھ فون نکال کے نمبر ڈھونڈنے لگا
وہ دونوں گھر پہنچے تو وہاں ایک نئی پریشانی منتظر تھی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
