Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 82
No Download Link
Rate this Novel
Episode 82
اس حرام کی کمائی کی قیمتی چیزیں پہن کر خود کو بد صورت نہیں بنانا مجھے۔۔۔۔
وہ ملازم کے دے کر گئے پیکٹ کو بیزاری سے بیڈ پر پھینکتے ہوئے بڑبڑا ئی۔۔جس میں اُس کے لیے پارٹی میں پہننے کے لئے قیمتی کپڑے اور جویلری تھی۔۔۔۔۔
وہ پہلے ہی چڑچڑی ہو رہی تھی کے صبح سے شام ہونے آئی تھی اور وہ اکیلی ایک کمرے میں بند تھی۔۔۔۔۔
ساحل کا کوئی اتا پتہ نہیں تھا۔۔۔
ایک تو پتہ نہیں یہ ایل ایل راؤڈی کہاں رہ گیا ۔۔۔۔مجھے یہاں قید کرکے خود آوارہ پنچھی بن کر اڑ رہا ہے۔۔۔
وہ ایک ایک کرکے سارے کشن پھیکتی بیڈ پر بیٹھتے ہوئے اُس پر غصّہ ہونے لگی ۔وہ مانو اُسے بلکل بھول گیا تھا۔۔۔۔
یہ ایک دن اُسے ایک مہینے جیسا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔نا ٹی وی نا موبائل نا کتابیں نہ اخبار نا باہر کے نظارے کوئی کام نہیں آرہے تھے۔۔۔۔
کہاں وہ رات کہی بات پر پچتانے کے بعد سوچتی رہی تھی کے اُس کا سامنا نہیں کریگی اور کہاں وہ ایسا غائب ہوا تھا کے اب اُس کے انتظار کرکے پاگل ہو رہی تھی
اور رات کے آٹھ بجے اُس کا انتظار ختم ہوا وہ دروازہ کھول کر اندر آیا تو نین ریموٹ پٹخ کر اُس کی طرف بڑھی
تو تیار نہیں ہوئی اب تک۔۔۔۔۔
وہ اُسے حیرت سے دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
کیوں ہم یہاں سے جا رہے ہیں۔۔۔۔
وہ اتنی بھری ہوئی تھی کے ابھی اُس کا گلا دبا دیتی لیکن اچانک ہی اُس کی بات پر خوشی اور جوش میں سب بھول کر پوچھ بیٹھی۔۔۔
پارٹی میں جا رہے ہیں۔۔۔۔
اُس نے لاپروائی سے جواب دیا تو اُس کی ناک پھول گئی۔۔۔
مجھے نہیں جانا تم ہی دفعہ ہو جاؤ۔۔۔
وہ اُسے دانت پیس کر دیکھتی مٹھیاں بھینچ کر اپنا غصّہ کنٹرول کرتے ہوئے چلا کے بولی۔۔
ساحل حیرت سے اُسے دیکھنے لگا۔۔۔
جب سے یہاں آئے نہ تم میرے ماما کے بیٹے نہیں۔۔۔بلکے اُس آدمی کے بیٹے لگ رہے ہو۔۔۔۔
اُس کے دیکھنے پر وہ نا چاہتے ہوئے بھی اُس سے شکائت کرنے لگی۔۔
جاستی مت بول جا کر تیار ہوجا۔۔۔
ساحل نے خود کو کے کے کا بیٹا کہا جانے پر اُسے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔
مجھے یہاں نہیں رہنا۔۔۔۔۔
وہ اٹھ کر اُسے غصے سے دیکھتی ایک ایک الفاظ کو کھینچ کر بولی تاکے اُس کے دماغ میں گھسا سکے۔۔۔
واپس ہم یہاں نہیں آرہے۔۔۔۔
ساحل نے ایک گہری سانس لے کر کہا تو مانو ایکدم سے اُس کے اندر جلتی آگ پر پانی پڑ گیا
سچ نا۔۔۔۔۔۔
وہ خوش ہو کر پوچھنے لگی۔۔۔۔
مچ۔۔۔۔
ساحل نے نیچا پڑا کشن اٹھا کر اُس پر پھینکا۔۔۔
میں ابھی تیار ہو کر آتی ہوں۔۔۔۔
اچانک ہی اُس کے بدن میں توانائی آگئی۔۔۔وہ جلدی سے بولتی اپنے کپڑے لیے واشروم میں گھس گئی۔۔۔۔کیوں کے اُسے اُس گھر سے جانے کا سن کر ہی غصّہ ناراضگی سب بھول گئی تھی۔۔۔۔
وہ روم سے نکل کر مسلسل کِسی سے فون پر بات کرتے ہوئے اُس کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔
پارٹی کے لیے بھی اُس نے ہمیشہ کی طرح بلکل سادہ سی بلیک شفون شرٹ اور بلیو جینس کو ہی چنا تھا۔۔۔۔۔
بال ترتیب سے جمے ہوئے تھے
شیو ہلکی سے تھوڑی زیادہ تھی۔۔
شرٹ کی اوپری دو بٹنیں کھلی تھی جس سے گلے۔میں لٹکتی سلور چین اور اُس میں عجیب عجیب سے شیپ کے لاکٹ لٹکتے نظر آرہے تھے۔۔۔
کلائی میں کالے رنگ کے موتیوں کا ڈھیلا سا بینڈ ڈالا ہوا تھا۔۔۔ جو بار بار ہتھیلی کو چھو رہا تھا۔۔
کےکے اور مایا کب کے جا چکے تھے۔۔۔۔اور وہ بھی جلد سے جلد وہاں پہنچنا چاہتا تھا۔۔۔۔
اپنے ایک نئے شپ کی شروعات ہونے پر کے کے پارٹی دے رہا تھا اور اب ساحل۔کے آنے سے وہ پارٹی اور خاص ہو گئی تھی وہ اُسے سب سے متعارف کروانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔۔
جب کے ساحل کا ارادہ کچھ اور تھا ۔۔۔
وہ فون پر بات کرتے کرتے پلٹا تو نین پر نظر پڑی ۔۔۔۔
سی گرین سادے سے زمین کو چھوتے سیٹن گاؤن میں جس کی صرف ویسٹ پر سفید موتیوں کابیلٹ تھا۔بنا دوپٹے کے۔۔۔۔
وہ بالوں کو ہاتھ سے ترتیب دے کر شولڈر سے آگے کرتے ہوئے جلدی جلدی قدم بھی بڑھا رہی تھی۔۔۔۔ ۔۔۔
جب کے اُسے دیکھ کر ساحل کے بات کرتے لبوں سمیت اُس کا دل بھی رک گیا تھا۔۔۔۔
نا کچھ سنائی دے رہا ہے تھا نہ محسوس ہو رہا تھا
تمام حسیں صرف اُسے دیکھنے میں مشغول ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔
ہمیشہ کی طرح کوئی میک اپ نہیں تھا بس لبوں پر ہلکا سا گلابی گلوز تھا۔۔۔
آنکھیں بھی ہمیشہ جیسے سونی تھی۔۔۔۔
گلا خالی تھا۔۔۔۔کانوں میں سفید موتیوں والے چھوٹے ٹاپس تھے۔۔۔
کلائی میں اُس کا میچنگ بریسلیٹ ۔۔
کھلے بال صرف موتیوں والی دو بے بی کلپ کے ذریعے ایک سائیڈ سے کان کے قریب پن کیے ہوئے تھے ۔۔۔
جب کے دوسری سائیڈ سے کام کو چھپائے ہوئے بار بار چہرے پر آرہے تھے۔۔۔۔
آگے سے دونوں شولڈر پر بکھرے کمر کو چھو رہے تھے۔۔۔
اور پیچھے پشت پر بکھر کے اُسے مکمل چھپائے کمر سے نیچے تک جھول رہے تھے۔۔۔۔
سر۔۔۔۔۔
فون پر بات کرنے والے نے اُس کی وہاں غیر موجودگی کو محسوس کرکے تھوڑا زور سے پکارا تو وہ سنبھل کر اُس سحر سے نکلا۔۔۔۔
نین سے نظریں ہٹاتے ہی دل زور سے دھڑکا مانو اعتراض کیا ہو۔۔۔
I’ll call you۔۔۔۔۔
اُس نے فون بند کرکے نیچے کرلیا نین بھی تب تک اُس کے پاس آگئی تھی۔۔
چلیں۔۔۔۔میں ریڈی ہوں۔۔۔۔۔
وہ اُس کے پاس آکر بولی تو ساحل نے لاکھ خود کو روکنے کی کوشش کے باوجود دل کے آگے مجبور ہو کر اُسے دیکھا۔۔۔۔
ٹھیک لگ رہی ہوں نہ۔۔۔۔
اُس کے دیکھنے پر نین نے خود کو ہی جانچتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
اُس کے لبوں کی حرکت پر نظر پڑتے ہی جواب دینا نہیں سوجھا تو وہ رخ موڈ کر باہر کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔
نین حیرت سے اُسے دیکھتی خود بھی اُس کے پیچھے چل دی۔۔۔
ساحل نے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول کر اُسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی اس کے ساتھ پیچھے بیٹھ گیا
بولو تو صحیح میں اچھی لگ رہی ہوں یا نہیں۔۔۔۔
وہ گاڑی چلتے ہی اُسے دوبارہ پوچھ کر اُس کی مشکل بڑھا گئی۔۔۔
بوال لگ رہی ہے۔۔۔۔۔
وہ اُس کی طرف دیکھ کر محض ٹالنے والے انداز میں بولا۔
ایسے تعریف کرتا ہے کوئی۔۔۔۔
نین نے اُس کے الفاظوں پر اُسے گھورا
تو کیسے کرتے۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔جن کا بدلنا وہ اب بھی محسوس نہیں کر پائی۔۔۔
جسٹ تھنک کے تم ایک گنڈے نہیں بلکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک شاعر ہوتے۔۔۔۔تب تم کیسے میری تعریف کرتے
نین سوچ کر پوچھا۔۔
اگر میں شاعر ہوتا تو۔۔۔۔
شاید تمہاری تعریف میں غزلیں لکھ لکھ کر زندگی گزار دیتا۔۔۔۔۔
وہ مسکراہٹ روکے ٹہر کر بولا تو نین نے آنکھیں گھمائیں
یہ کچھ زیادہ ہو گیا۔۔۔۔۔۔تم رہنے دو۔۔
وہ بیزاری سے کہتی منہ بنا گئی تو وہ کھڑکی کے باہر دیکھتے ہوئے مسکرا دیا
∆∆∆∆
سمندر کے ساحل پر ایک پہاڑ نما جہاز کھڑا تھا۔۔۔جس کی روشنی نے اندھیرے سمندر میں دور دور تک آتشی چاندنی بکھیری ہوئی تھی۔۔۔
جہاز آگے بڑھنے کے لیے مانو اُنہیں دونوں کا منتظر تھا۔۔۔۔ جیسے ہی دونوں اندر پہنچے گیٹ بند کرکے آگے بڑھنے کی شروعات کردی گئی ۔۔۔۔
چار سیکشن پر مشتمل یہ جہاز کسی سات منزلہ عمارت سے اونچا اور سیون سٹار ہوٹل سے زیادہ شاندار دکھائی دے رہا تھا۔۔۔۔
جیسے ایک جگمگاتا شہر سمندر میں سفر کر رہا ہو۔۔۔۔
وہ اُسے لیے سیدھے اوپر ڈیک پر آیا تھا کیوں کہ اُسے پارٹی کی نوعیت کا اندازہ تھا کہ وہ کس قسم کی ہوگی اور وہ اُسے اُس گند کے قریب بھی نہیں بھٹکنے دینا چاہتا تھا۔۔۔۔
نیچے کے سیکشن میں پارٹی تھی جہاں صاف با کردار نظر آتے شریف لوگ اپنے چہرے ماسک میں چھپائے رنگینی و بے حیائی کا ماحول باندھے ہوئے تھے۔۔۔
شراب اور افیم کی اسمیل پورے ماحول میں پھیلی ہوئی تھی۔۔۔
اور نشے کی زیادتی میں نا حواس برقرار تھے نا بے لباسی کا خیال تھا۔۔نا جسموں پر قابو تھے۔۔۔۔
تو یہیں رک میں ابھی آتا ہوں۔۔۔
وہ اُسے ایک جگہ بیٹھا کر آس پاس دیکھتے ہوئے بولا اُس جگہ کوئی نہیں تھا سوائے اسٹاف کے۔۔۔ جہاز ساحل سے بس تھوڑا سا آگے آگیا تھا۔۔۔
تم کہاں جا رہے ہو ۔۔
نین نے ایکدم سے اُس کا ہاتھ پکڑ کر روکتے ہوئے حیرت سے پوچھا
اندر پارٹی میں بس پانچ منٹ۔۔۔۔
وہ اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے بول کے آس پاس دیکھتا جیسے کسی کو ڈھونڈھ رہا تھا
ساحل۔۔۔۔
وہ جانے لگا تو نین نے اُسے پھر سے پکارا۔۔۔اس نے پلٹ کر دیکھا۔۔
کیا خون کا رشتا تمہیں اپنی طرف کھینچ رہا ہے ۔۔۔۔
وہ آدمی تمہارا اور تمہاری ماں کا گناہ گار ہے۔۔۔اور اُسے اس بات کا پچھتاوا تک نہیں۔۔۔۔۔۔تم کم از کم اُس کی خوشی کی وجہ مت بنو۔۔۔
وہ اُسے دیکھ کر پریشان سی پوچھنے لگی تو ساحل نے سنجیدگی سے اُسے دیکھا۔۔۔
کچھ چیزیں ہم چاہ کر بھی کسی کو دکھا نہیں سکتے۔۔۔جیسے میں نہیں دکھا سکتا کے جب جب تم مجھے اس سے رشتے کا حوالہ دیتی ہو اُسے میرا باپ کہتی ہو تو میرے اندر کیسے آگ لگتی ہے۔۔۔
وہ ضبط و غصے سے سرد انداز میں بولا۔۔۔
میں اُس سے صرف اور صرف نفرت کر سکتا ہوں ۔۔۔۔۔جس خون کی بات تم کر رہی ہو وہ تو کب کا میرے زخموں کے ذریعے جسم سے نکل کر مٹی میں جذب ہو چکا ہے۔۔۔۔
باپ ایسے نہیں ہوتے۔۔۔۔۔اتنے خود غرض اتنے مطلبی نہیں ہوتے۔۔۔ ۔۔۔۔اپنی اولاد کو استعمال نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔اُن کے چہرے پر ایک الگ ہی کچھ ہوتا ہے جو بتاتا ہے کے بھلے وہ سخت ہے غصیل ہے ضدی ہے لیکن باپ ہے۔۔۔۔
اس کمینے کے چہرے پر صرف خودغرضی نظر آتی ہے۔۔۔۔
یہ اب بھی مجھے دیکھ کر اس لیے خوش ہوتا ہے کیوں کے مجھے استعمال کرکے یہ اور کئیں سال اس جرم کی دنیا پر راج کرےگا۔۔۔۔
میں کمینہ ہوں پر اتنا نہیں کے ایسے آدمی کی طرف کھینچا جاؤں
وہ شاید کبھی ظاہر نہ کرتا لیکِن نین کی بات پر اپنے اندر بھری نفرت ظاہر کرنے سے خود کو روک نہیں پایا جب کے وہ خاموش اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔اُس کی باتیں میں کو کِسی اور سمت لے گئی۔۔۔۔
تو یہی رہنا میں آیا۔۔۔۔۔
وہ اُسے خاموش دیکھ کر گہری سانس خارج کیے بولتا نیچے چلا گیا
نین ہاتھ سے کرسی تلاش کر اُس پر بیٹھ گئی۔ ۔۔۔۔
اچانک ہی اسے اپنے دل میں خون جمتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔۔
ساحل سے نکاح کو تین مہینے ہونے کو تھے اور ان تین مہینوں میں اُس نے ایک بار بھی اپنے پاپا سے بات نہیں کی تھی۔۔۔۔
بلکہ اکثر اُن کا فون آتا تو اُسے اٹھانے کو بھی ضرورت وہ محسوس نہیں کرتی تھی۔۔۔
ساحل کی بات سن کر اُس نے بلا ارادہ اپنے پاپا کے مطلق سوچا کے کیا وہ بھی خود غرض ہے۔۔۔مطلبی ہے۔۔۔تو جواب میں آنکھوں کے سامنے وہ لمحے گھوم گئے جب وہ اُسے دیکھ کر مسکراتے تھے۔۔۔۔
اُس پر محبت لٹاتے تھے۔۔۔۔
اُس کے لیے بڑے بڑے خواب بنتے تھے۔۔۔
اُسے ذرا سی چوٹ لگی تو بے چین ہو جاتے تھے۔۔۔
اُن کی ایک بے بس لمحے میں کہی جذباتی بات کے آگے وہ سب کچھ فراموش کر گئی تھی۔۔۔ساری محبت بھول گئی تھی ۔۔۔
آج ساحل کے لفظوں میں اپنے باپ کے لیے تلخی اور نفرت دیکھ اُسے اندازہ ہو رہا تھا کے وہ اُس کے گزرے سالوں کی اذیت کی تڑپ ہے جس کا ذمےدار کےکے تھا
جب کے اُسے ایک بہت اچھا اور محفوظ بچپن دینے میں اُس کے پاپا نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔۔۔
اُس کی آنکھوں سے آنسو پھسل کر سفید گالوں پر گرنے لگے۔۔۔
جنہیں اُس نے بے دردی سے رگڑ کر مٹایا اور اپنا فون آگے کرکے اپنے پاپا کا نمبر ملانے لگی۔۔۔
ایک رنگ بھی پوری ہونے سے پہلے اُنہیں فون اٹھا لیا جیسے بس انتظار میں بیٹھے ہو۔۔۔۔
لیکن اُس سے کچھ بولا ہی نہیں لگا۔۔۔آنسُو لفظوں کو باہر آنے سے روکنے لگے ۔۔۔دوسری جانب سے وہ اُسے آواز دیتے رہے
ہیلو ۔۔۔۔۔۔پاپا۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے ٹوٹتے لفظوں میں اُنہیں پکارا
نین۔۔۔ بیٹا کیا ہوا۔۔۔۔سب ٹھیک ہے نہ۔۔۔۔
اُس کی بھیگی آواز پر اُنہوں نے بےچینی سے پوچھا تو اُس کے رونے میں مزید روانی آئی۔۔۔
۔
I m sorry papa۔۔۔۔
I m sorry۔۔۔۔۔
وہ روتے ہوئے بنا رکے ایک ہی بات بولتی اُنہیں پریشان کر گئی۔۔
میں نے آپکو بہت ہرٹ کیا نا پاپا۔۔۔
بہت ستایا نا آپکو۔۔۔۔۔
میں اچھی بیٹی نہیں ہوں نہ۔۔۔۔
وہ ارد گرد سے گزرتے لوگوں کی حیرت سے بے نیاز روتے ہوئے مسلسل بولے جا رہی تھی۔۔۔
نہیں بیٹا۔۔۔۔۔میری نین تو دنیا کی سب سے اچھی بیٹی ہے۔۔۔۔
اُنہوں نے دھیمی آواز میں کہا تو نین کو اُس کا لہجہ بھی نم سا محسوس ہوا۔۔۔
نہیں پاپا میں اچھی نہیں ہوں۔۔۔میں نے کتنا انسلٹ کیا آپکو سب کے سامنے۔۔۔۔۔۔
میں بہُت بری ہوں۔۔۔۔
اُس کے رونے میں اور تیزی آگئی تھی۔۔۔آنکھیں سختی سے میچ گئی
سفید چہرہ اور ناک سرخ ہو گئے تھے ۔۔۔
نین ۔۔۔میری بات سنو بیٹے۔۔۔۔دیکھو اب تم اپنے پاپا کو ضرور پریشان کر رہی ہو ایسے رو کے ۔۔۔۔کیا ہوگیا بیٹا کیوں رو رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے چپ نا ہوتے دیکھ بہلانے کی کوششں کرنے لگے۔۔۔۔
میں نہیں رو رہی پاپا۔۔۔۔۔سچی نہیں رو رہی۔۔۔۔۔میں اسمائیل کر رہی ہوں۔۔۔۔آپکو میری اسمائیل بہت پسند ہے نہ۔۔۔۔
وہ آنسو رگڑتے ہوئے روتے روتے مسکرانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔
آنسوؤں نے آنکھوں کو زخمی ضرور کر دیاتھا لیکِن دل میں جمع سارا غبار اُن آنسوؤں میں دُھل کے بہہ گیا تھا
♦♦♦
پارٹی پورے عروج پر تھی سب کو اِنتظار تھا تو بس کےکے کے بیٹے سے ملنے کا۔۔
کےکے نے اسے اندر آکر۔ پارٹی میں شامل ہونے کی بجائے روم کے اندر جاتے دیکھا تو خود بھی مہمانوں سے اکسکیوز کرتا اُس کے پیچھے چل دیا
تم یہاں کیا کر رہے ہو مائے سن۔۔ پوری پارٹی تمہارے بنا ادھُوری ہے۔
سب کے کے کے بیٹے سے ملنے کو بے چین ہے۔۔۔۔
وہ اندر آتے ہوئے اُسے دیکھ کر بولا جو جہاز کے اُس بڑے سے کمرے کی الیشان کرسی پر بیٹھا پیر جھلاتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ میں پکڑے بندوقوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
تیرا ہی اِنتظار کر رہا تھا۔۔۔۔
تھوڑا کنفیوجن ہے۔۔۔۔۔
سمجھ نہیں آرہا تجھے اس گن سے ٹھو كوں یا اس والی سے۔۔۔
وہ بنا اُسے دیکھے مصروف سا اُن گنز کو دیکھتا سوچنے والے انداز میں بولا۔۔۔۔کےکے نے نا سمجھی سے اُسے دیکھا۔۔۔۔۔مانو وہ غلط سن رہا ہو۔۔۔
سروس گن سے اڑایا تو لگیگا سولجر نے کرمنل کو مارا ہے
اور پرسنل گن سے مار ا تو لگے گا بیٹے نے باپ کی جان لی۔۔۔
کسی ایک کے ساتھ نا انصافی ہو ہی جائے گی۔۔۔
وہ افسوس بھرے لہجے میں بولتا اُسے دیکھنے لگا جب کے کےکے کو کچھ غلط ہونے کا اندیشہ بے چین کر گیا تھا۔۔۔
چل دونوں کا مزہ دیتا ہوں۔۔۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر دونوں ہاتھ اوپر کرکے گن اُس کے نشانے پر رکھے مسکرا کر احسان کرنے والے انداز میں بولا۔۔۔۔۔
یہ کیسا مزاق ہے۔۔۔
کے کے گڑبڑا اور پیچھے ہوتا غصے سے بولا
مزاق۔۔۔۔۔۔
ساحل کی سرخ ہوتی آنکھوں میں بے پناہ نفرت اُتر آئی۔۔۔
تونے مجھے اتنی نارمل لائف جینے ہی کب دی کے میں ہنسی مذاق کرنے والا ایک عام انسان بن کر جی سکوں۔۔۔۔
میرے لیے تو مزاق کا بس ایک ہی مطلب رہا۔۔۔میرا اپنا وجود۔۔۔۔ایک سوال۔۔۔ایک دھتکار۔۔۔ایک مزاق۔۔۔۔ایک داغ۔۔۔
وہ سرسراتے لہجے میں بولا کےکے نے خوف سے اُسے دیکھا۔۔۔بیٹے کے ہاتھوں مرنے کے دکھ سے زیادہ موت کا خوف اُس کی آنکھوں میں تھا۔۔۔
لسٹ بہُت لمبی ہے پر تجھے بتاؤں۔۔۔تو اس قابل نہیں۔۔۔۔۔
وہ اپنے جذباتی ہوتے لہجے پر قابو پاکر ضبط سے کہتا دونوں ہاتھوں کو سخت کیے ایک ساتھ فائر کر گیا۔۔۔۔
دونوں گولیاں کےکے کے سینے میں پیوست ہو گئی اور وہ لڑکھڑا اور گر پڑا۔۔۔۔
لیکِن و مرا نہیں تھا بلکہ زمین پر پڑا تڑپ رہا تھا
ساحل نے دونوں گنز دونوں آگے کے پاکٹس میں پھنساتے ہوئے قدم اُس کی طرف بڑھائے۔۔۔
کے کے زمین پر کراہتا سینے میں اٹکتی سانسوں کے باعث نہ بول پانے کی وجہ سے اشارے سے اُس سے مدد مانگنے کی کوشش میں ہلکان ہورہاہے تھا۔۔
ساحل کے بڑھتے قدم اُس تک آرہے تھے تو شاید اُسے کوئی اُمید تھی کے شاید وہ اسے بچا لے گا لیکن وہ اپنے بڑھتے قدم کو اس کی گردن پر رکھ کر آگے جاتے ہوئے اُس کی اُمید اور زندگی دونوں ختم کرتا باہر نکل گیا۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆
