Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 37
No Download Link
Rate this Novel
Episode 37
ہر روز کی طرح صبح نماز کے لیے جاگنے کی نوبت نہیں آئی کیوں کے ساری رات وہ سو نہیں سکی۔۔۔۔
دماغ ساحل کی بات سے انکار کرنا چاہتا تھا لیکن دل اپنے اندر جو ڈر پال کر بیٹھا تھا اُس نے پریشان کیا ہوا تھا۔۔۔۔کے اتنی بڑی بات کوئی بے وجہ نہیں بولے گا اوپر سے پچھلے دنوں سے بدلتا داؤد کا رویہ
یہ صبح اس کے لیے بہت خاص تھی۔۔۔۔۔۔اس صبح کی شام اُس کی زندگی کو نیا موڑ دینے والی تھی۔۔۔۔۔۔اُس کی شادی کا دن اُس کے لیے ہر دن سے اہم تھا لیکِن یہ صبح بہت اُلجھن بھری بھی تھی۔۔۔۔۔کتنے سوال صرف سوال تھے۔۔۔۔
اُن کے جواب کیا ہوں گے یہ سوچ کر دل پریشان تھا
وہ اٹھ کر بیڈ سے ٹیک لگاتی الارم بند کرنے لگی۔۔۔۔۔
اپنی ہتھیلی کو دیکھا تو سفید ہاتھوں پر مہندی نے بہُت گہرا رنگ چھوڑا تھا۔۔دل خوش فہم ہونے لگا۔۔۔۔
ساری سوچوں کو جھٹک کر ایک گہری سانس لی اور
سست قدموں سے اٹھ کر وضو بنانے کے۔لیے واشروم کی طرف بڑھی
نماز پڑھ کر دعاء کے لیے ہاتھ اُٹھائے اور دِل نے شدت سے دعا کی کے کچھ غلط نہ ہو۔۔۔۔۔
اُس کے خواب نا ٹوٹے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے سے نکل کر باہر آئی اور داؤد کے کمرے کی طرف بڑھنے لگی کوئی جواب مانگنے نہیں بلکہ اُسے بتانے کے اُس کا بھائی اُس سے کِس طرح دشمنی نبھا رہا ہے۔۔۔
وہ ابھی کچھ فاصلے پر ہی تھی کے فلک کو دیکھا جو آہستہ سے دروازہ بند کرتی داؤد کے کمرے سے نکل کر جا رہی تھی۔۔۔۔
پتہ نہیں کیوں اُسے حیرانی نہیں ہوئی۔۔۔۔۔شاک نہیں لگا۔۔۔۔شاید دِماغ اس بات کو قبول کر چکا تھا بس دل اپنی ضد پر اڑا ہوا تھا۔۔۔لیکِن اب حقیقت کو آنکھوں سے دیکھا تو دل میں پڑی دراد بڑھتی گئی اور دل چھنک سے ٹوٹ کر بکھر گیا۔۔۔۔
اُس نے دیوار کا سہارا لیتے ہوئے خود کو گرنے سے بچایا۔۔اور دھندلاتی آنکھوں کو سختی سے میچ کر کھولا۔۔
چھ سال سے جتنے خواب دیکھے تھے سب ایک ایک کر کے ٹوٹتے ہوئے آنکھوں میں چبھنے لگے۔۔۔۔
وہ خالی خالی قدم اٹھا تی اپنے کمرے میں پہنچی
اور بیڈ پر اوندھی گرتے ہوئے تکیے کو اپنے لبوں کے نیچے دبا کر اپنی چینخو ں کو روکنا چاہا۔۔۔۔
مستقبل کی ساری تصویریں آنسوؤں میں دھل کر مٹنے لگی۔۔۔۔
اُسے داؤد سے کوئی طوفانی عشق نہیں تھا۔۔وہ محبت کے معنی سے نا واقف تھی۔۔۔۔۔لیکن وہ خوابوں میں جینے والی لڑکی اس سالوں سے پنپتے خواب کو بکھرتا دیکھ خود بھی بکھر گئی تھی
کتنے ہی گھنٹے اُس نے روتے ہوئے بتا دیئے اُس سزا کی وجہ سے جس میں اُس کا کوئی قصور نہیں تھا۔۔۔۔
دروازے پر کھٹکے کی آواز ہوئی تو بے دردی سے آنکھوں کو رگڑتے ہوئے آنسُو مٹانے کی کوشش کی
نین اٹھ جاؤ۔۔۔۔۔۔ آج اپنی شادی والے دن بھی بارہ بجے تک سونا ہے کیا
زینب نے اُسے بیڈ پر دیکھ مسکراتے ہوئے اُس کا رخ اپنی طرف کیا اور ایک پل میں چہرے کا رنگ بدلا جب اُس کی بھیگی سرخ آنکھیں دیکھیں۔۔۔۔
نین کیا ہوا ہے۔۔۔ کیوں رو رہی ہو بیٹا۔۔۔
زینب نے فکرمندی سے اُس کا چہره تھاما۔۔۔وہ اٹھ کر بیٹھی بے تاثر نظروں سے اپنی ماں کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
ہمیشہ مسکراتی آنکھوں میں اُداسی زینب کے دل کو چبھ رہی تھی
کچھ بولو نین۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زینب نے نم لہجے میں اُسے پکارا وہ بنا جواب دیے بیڈ سے اتر کر روم سے باہر جانے لگی۔زینب حیرت و پریشانی سے اُس کے پیچھے بھاگی
وہ نیچے آئی جہاں ڈائننگ ٹیبل پر سب بیٹھے ناشتا کر رہے تھے فلک بھی وہیں موجود تھی۔۔۔۔۔
داؤد کچھ پوچھنا ہے تم سے۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے سیدھے داؤد۔کو مخاطب کیا۔۔۔سب ٹھٹھک کر اُسے دیکھنے لگے۔۔۔
سا دی کرتی اور ٹروزار میں بغیر ڈوپٹے کے بکھرے حلیے سے وہ سب کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔۔۔
آنکھیں صاف اُس کے اندرونی اشتعال کو بیان کر رہی تھی
داؤد نے سنجیدگی سے سر ہلایا
کیافلک تمہاری بیوی ہے۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے سُرخ آنکھوں سے داؤد کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔سب ہی حیران ہوئے۔۔۔۔۔زینب بھی اپنی جگہ رک گئی۔۔۔فلک چونک گئی۔۔۔جب کے رابعہ بیگم الگ پریشان ہو اٹھیں
نین بیٹا۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے جلدی سے اُس کی طرف بڑھنا چاہا
ایک منٹ مام۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے اُنہیں روک دیا ۔۔۔فلک کا دل زوروں سے دھک دھک کر رہا تھا۔۔۔
ہاں یہ سچ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔فلک میری بیوی ہے
داؤد نے سنجیدگی سے جواب دیا سب کے سب صدمے سے گنگ ہو گئے۔۔۔۔۔عبّاس صاحب حیرت سے داؤد کو دیکھتے رہ گئے۔۔۔
وقار صاحب کی پیشانی بھی لکیروں سے بھر گئی۔۔۔۔
دادی نے اپنا دل تھام لیا۔۔۔۔
عشرت اور شیرین اپنی جگہ منہ کھولے داؤد کو دیکھنے لگی
سب کا یہی حال۔تھا
تُو میں کون ہوں داؤد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔۔
داؤد نے نظریں چرائی۔۔۔
میں آج کس کی بیوی بننے والی ہوں۔۔۔۔
کیا میں ایک شادی شدہ آدمی کی دوسری بیوی بننے جا رہی ہوں
اُس نے داؤد سے نظریں نہیں ہٹائی۔۔
سب ہی حیرت اور دکھ سے دونوں کو۔دیکھنے لگے۔۔۔۔وقار صاحب کا غصے سے برا حال تھا
زینب نے آگے بڑھ کر اُسے اپنے سینے سے لگا لیا
رابعہ بیگم سر جھکائے بیٹھیں تھیں۔۔
فلک نے وہاں سے جانا چاہا لیکن داؤد نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا
یہ کیسا مذاق ہے داؤد۔۔۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب اُس کی طرف بڑھے اور غصے سے پوچھا
میرا اور فلک کا نکاح بہُت دن پہلے ہی ہو چکا تھا۔۔۔۔۔اور میں یہ بات آپ سب کو بتانا چاہتا تھا لیکن مام نے مجھے روک دیا۔۔
اُس نے سر جھکائے جواب دیا عبّاس صاحب نے حیرت اور غصّے سے رابعہ بیگم کو دیکھا
میں فلک سے محبت کرتا ہوں ۔۔۔نین سے شادی نہیں کر سکتا
اُس نے فلک کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا وہ نظریں جھکائے کھڑی تھی
تو پھر تم نے یہ بات پہلے کیوں نہیں بتائی۔۔۔۔۔۔کیا رخصتی ہونے کا اِنتظار کر رہے تھے تم۔۔۔۔۔۔۔
وقار صاحب غصے سے چینخ اٹھے۔۔۔۔۔
وہ زینب کے سینے سے لگی۔۔۔۔اب بھی داؤد کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
داؤد ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سچ نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے کسی آس کے تحت ایک دفعہ پھر اُس سے پوچھا
سوری نین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ریئلی سوری۔۔۔
وہ نہایت دکھ و شرمندگی سے بولا۔۔۔۔۔۔
سوری۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے حیرت سے دہرایا اور ایکدم سے اُس کی طرف بڑھ کر اُس کے گال پر ایک زور دار تھپڑ دے مارا۔۔۔۔فلک نے گھبرا کے دونوں ہاتھ منہ پر رکھ لیے۔۔۔
تمہاری ہمت کیسی ہوئی مجھے اتنا بڑا دھوکہ دینے کی۔۔۔۔۔۔۔
اگر تمہیں مجھ سے شادی نہیں کرنی تھی تو صاف منع کیوں نہیں کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں تمہیں اتنا اچھا انسان سمجھ رہی تھی
Daud the good man
Daud the hero
Daud my dream man
لیکن تم اتنے بڑے کمینے۔اور دھوکے باز نکلے داؤد
جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے دھوکے پر دھوکہ دیتے رہے۔۔
میرے جذبات کے ساتھ کھیلتے رہے۔۔۔۔۔۔
وہ۔غصے سے پھٹ پڑی۔۔۔۔کِسی نے اُسے روکنے کی کوشش نہیں کی کیوں کا اُس کا ری ایکشن بلکل صحیح تھا۔۔۔۔۔
داؤد ضبط سے دانت بھینچے کھڑا تھا
نین کا قصوروار تو وہ تھا اس لیے اُسے ایک لفظ بھی نہیں کہہ سکتا تھا
تم نے مجھے سمجھا کیا ہے آخر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر تمہیں لگ رہا ہے نہ کے میں بے چاری بن کر ایک کونے میں روتی ہوئی بیٹھ جاؤں گی تو تم غلط ہو۔۔۔۔۔۔
دھوکے اور چار سو بيسي کے جرم میں جیل کروا دوں گی تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔
ایسے کیس میں پھنساؤں گی کے ساری زندگی تم اور تمھاری یہ دھوکے بعض بیوی جیل میں انیورسری مناتے رہو گے
وہ غصے سے چینخ رہی تھی داؤد نے بھی اُسے غصے سے دیکھا
نین۔۔۔۔۔۔فلک کے بارے میں کچھ نہیں۔۔۔۔۔
اُس نے اُنگلی اٹھا کر وارن کیا۔۔نین نے اُس کا ہاتھ جھٹکا
ورنہ کیا کر لو گے تم۔۔۔۔۔۔۔دکھا دو کیا اوقات ہے تمہاری۔۔۔۔۔۔
میں نہیں ڈرتی تم سے۔۔۔۔۔۔ڈرتے تم جیسے جھوٹے اور کمینے لوگ ہے۔۔۔جو پیٹھ پیچھے کچھ اور سامنے کچھ ہوتے ہے۔۔۔
اور یہ جو میں اتنے لحاظ میں بے عزتی کر رہی ہوں نہ یہ بھی میری مجبوری ہے کیوں کے تم میرے بڑے ماما کی اولاد ہو۔۔۔
ورنہ اگر کوئی اور تمھاری جگہ کھڑا ہوتا تو جوتے مار مار کر جیل پہنچاتی اس لعنتی کو۔۔۔۔۔۔۔یا یہی کہیں گڑھا کھود کے دھکیل دیتی اُس کتے آدمی کو۔۔۔۔۔
بلڈی چیٹر۔۔۔۔۔
وہ غصے سے چلاتی گئی زینب نے آگے بڑھ کر اُسے تھاما
وقار صاحب تھکے تھکے انداز میں کرسی پر بیٹھے تھے
بس نین۔۔۔۔۔۔
زینب نے روتے ہوئے اُس کا چہرہ تھام کر اپنی طرف کیا۔۔۔
ممی۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے سسکی لیتے ہوئے اپنی ماں کو دکھا اور اپنی دونوں ہتھیلیاں آگے کی
میں نے اپنی مہندی میں اس آدمی کا نام لکھا ہے ممی۔۔۔۔۔اسے کیسے مٹاوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ زینب کو دیکھتے ہوئے بھاری لہجے میں بولی زینب کا دل پھٹنے کے قریب ہوا۔۔۔
عشرت اور شیرین کی آنکھیں بھی نم ہونے لگی ۔۔۔۔نانو تو باقاعدہ رو رہیں تھیں۔
میرے ساتھ چلو۔۔۔۔۔۔۔
زینب نے اُس کا چہرہ صاف کرتے ہوئے داؤد کو غصّے سے دیکھا اور نین کو وہاں۔سے لیجانے لگی
اللہ کرے تم پر کہیں سے کوئی پتھر آکر گر جائے۔تمہارا سر پھوٹ جائے۔۔۔۔تمہاری شکل بگڑ جائے۔۔۔۔تم کسی کو منہ نا دکھا سکو کبھی۔۔۔۔
اور تمہاری اس معصوم پلس کمینی بیوی کو تو میں سوچ کر اس سے بھی خطرناک بددعا دوں گی۔۔۔۔۔۔
جاتے ہوئے بھی اُس کا بین جاری تھا۔۔۔۔۔کبھی داؤد کو تو کبھی فلک کو دیکھ کر رو رہی تھی۔۔
اُس کے جانے کے بعدایک پل کو گہری خاموشی چھا گئی تھی
اگر آپکو یہ سب پتہ تھا تو آپ نے چھپایا کیوں
داؤد اور نین کی شادی کا فیصلہ کیوں کیا آپ نے
عبّاس صاحب اُس خاموشی کو توڑ کر رابعہ بیگم پر گرج کر بولے
کیوں کے میرے بیٹے نے غلطی کی ہے لیکن میں نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔میرے لیے نین میری بہو تھی اورہمیشہ وہی رہیگی۔۔۔۔
میں اس لڑکی کو اپنی بہو نہیں مانتی۔۔۔۔
داؤد کی شادی نین سے ہی ہوگی اور وہ اس لڑکی کو طلاق دیگا۔۔
اُنہوں نے بھی غصے سے اور ڈھتائی سے جواب دیا
بس مام۔۔۔۔۔۔۔آپ کی وجہ سے پہلے ہے بہُت کچھ غلط کر چکا ہوں میں اب اور نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔فلک کو مجھ سے الگ کرنا نا ممکن ہے۔۔۔۔اور اگر آپ کو پرابلم ہے نہ توٹھیک ہے میں اسے یہاں سے لے کر جا رہا ہوں۔۔۔۔۔
وہ غم و غصے سے بولا عباس صاحب نے اُسے کڑی نظروں سے گھورا
چُپ ہوجاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔
اورتم اس لڑکی کو لے کراپنے کمرے میں جاؤ۔۔۔۔۔فلحال ہمارے لیے نین کے بارے میں سوچنا زیادہ ضروری ہے۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے بولے داؤد ایک نظر اپنی ماں پر ڈالتا فلک کو لے کر وہاں سے چلا گیا۔۔
خوشگوار ماحول ایکدم سے ماتم میں کب اور کیسے بدل گیا کوئی سمجھ ہی نہیں پایا۔۔۔۔
رابعہ تم نے بلکل اچھا نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔۔میری بچی کے ساتھ
نانو نے رابعہ بیگم کو ناراض نظروں سے دیکھا اور آنسو صاف کرتی ہوئی نین کے کمرے کی طرف بڑھیں
∆∆∆∆∆∆∆
چُپ ہوجا بیٹا۔۔۔۔۔۔۔
وہ نانو کے پیروں پر سر رکھے مسلسل سسکیاں لے رہی تھی انہوں نے اُس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے کہا
زینب اور وقار صاحب کے ساتھ عبّاس صاحب بھی وہیں موجود تھے۔۔۔کِسی کے پاس بات کرنے کو کچھ نہیں تھا۔۔۔۔
شام کو شادی تھی سارے انتظام ہو چکے تھے مہمان آنے شروع تھے۔۔۔سمجھ نہیں آرہا تھا کس کو کیا جواب دے۔۔۔کیسے معذرت کریں۔۔۔یا نین کو کیسے سنبھالے
داؤد نے جو کچھ کیا اُس کے لیے میں تم سے معافی مانگتا ہوں وقار۔۔۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب نے شرمندگی سر جھکائے کہا
آپ کے معافی مانگنے سے کیا ہوگا بھائی صاب۔۔۔۔۔۔۔۔
کل شادی ہے ۔۔۔۔۔پوری دنیا سوال کریگی کے شادی کیوں کینسل ہوئی کیا جواب دینے گے ہم۔۔۔۔
میری بیٹی پر سوال اٹھائے جائیں گے
پوری دنیا ہنسے گی ہم پر ۔۔۔
بہُت غلط کیا ہے داؤد نے۔۔۔
وقار صاحب کا غصّہ کِسی طرح کم نہیں ہو رہا تھا۔۔۔جب کے زینب خاموش آنسو بہا رہی تھی۔۔۔۔
سمجھ نہیں آرہا تھا داؤد سے شکائت کرے یا رابعہ بیگم۔سے یا خُدا سے
برا نا مانو تو ایک بات کہنا چاہتا ہوں تم سے۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب نے جھجھکتے ہوئے کہا
میں جانتا ہوں اس طرح اچانک یہ بات کہنا کچھ صحیح نہیں لیکن وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے مجھے ایک ہی راہ سجھائی دے رہی ہے۔۔۔۔۔
اُن کے سہج سہج کر تمہید باندھنے پر وقار صاحب سوالیہ نظروں سے اُنہیں دیکھنے لگے
اگر تمہیں اعتراض نا ہو تو۔۔۔۔۔۔۔کیوں نہ نین کا نکاح ساحل سے۔۔۔۔۔۔۔
وہ رک کے بولے اور زینب کو حیرت سے اپنی طرف دیکھتے دیکھ خاموش ہو گئے نانو بھی حیرت سے اُنہیں دیکھنے لگیں۔۔۔۔
دیکھو اس طرح اچانک یہ بات کرنے کا مقصد ہے کہ ہمیں لوگوں کی باتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔۔۔۔اور گھر کی بات گھر میں رہ جائے۔۔۔داؤد کی غلطی میں نہیں سدھار سکتا۔۔۔میرے پاس اس مسلے کا یہی حل ہے
باقی فیصلہ نین کا ہونا چاہیے کے وہ کیا چاہتی ہے۔۔۔۔۔
اُس کی مرضی سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں ہے۔۔۔۔۔
اُنہوں نے زینب اور وقار صاحب کی حیرت کو بھانپتے ہوئے صفائی دی
جب کے نین ویسے ہی پڑی تھی اُسے یقین تھا یہ بات بے معنی ہے یہیں ختم ہو جائے گی۔۔لیکِن اُسے دوسرا جھٹکا لگا جب اُس نے اپنے پاپا کا جواب سنا
آپ صحیح کہہ رہے ہیں بھائی صاحب ۔۔۔۔۔۔۔
میں آپ کے اس فیصلے سے اتفاق رکھتا ہوں۔۔۔۔۔
کل نین کی شادی ساحل سے ہی ہوگی۔۔۔۔۔
یہی ہم سب کے لیئے بہتر ہے
اُس نے سر اٹھا کر حیرت و بے یقینی سے اپنے پاپا کو دیکھا جنہوں نے ایک پل میں اُس کی زندگی کا فیصلہ کر دیا تھا۔کیوں یہ پوچھنے کے لیے اُس کے لب حرکت نہیں کر پائے
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
زینب نے بھی صدمے سے وقار صاحب کو دیکھا
جن حالات میں آپ کے لاڈلے بھتیجے نے ہمیں پھنسا دیا ہے اُس سے نکلنے کا بس یہی راستہ ہے۔۔۔۔
کل پورا شہر۔۔۔بزنس کی دنیا کے بڑے بڑے لوگ اور انٹرنیشنل میڈیا وقار خان کی بیٹی کی شادی میں شرکت کریں گے۔۔۔اور وہاں جب یہ خبر پھیلے گی کے دولہا ہی غائب ہے تو سوچا ہے تم نے کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔
کتنا شرمندہ ہونا پڑےگا مجھے۔۔۔۔
برسوں کی بنائی عزت پل۔میں مٹی ہوجائے گی۔۔۔۔۔
ایک لمحے میں آسمان سے زمین پراجاوں گا میں۔۔۔۔
برسوں کی۔محنت ضائع ہوجائے گی۔۔۔
دنیا چاہے کتنی بھی آگے بڑھ جائے لیکِن جب بیٹی کی بارات نا آئے تو باپ کو اتنا ہی ذلیل ہونا پڑتا ہے چاہے وہ کسی بھی سوسائٹی کا حصہ ہو
اس لیئے بہترہے کہ کل بس شادی ہوجائے ۔۔۔۔۔۔
وقار صاحب نے اپنے فیصلے کی وجہ بیان کر دی لیکِن اُسے اب بھی اُس کا قصور سمجھ نہیں آیا۔۔۔۔۔
بس اب وہ رو نہیں پا رہی تھی
زینب نے دکھ سے اپنے شوہر کو دیکھا جنہوں نے ایک موقع نہیں چھوڑا تھا یہ جتانے میں کے اُن کے لیے نام۔اور رتبہ سب سے بڑھ کر ہے اور آج تو اُن کی بے حسی نے حد پار کردی تھی
چاہے کسی سے بھی۔۔۔۔۔
وہ ہماری بیٹی کے لائق نہ ہو تب بھی۔۔۔۔۔۔
بس شادی ہو جائے۔۔۔۔۔۔
آپ کی عزت بچ جائے۔۔۔
بھلے بیٹی کی زندگی تباہ ہو جائے۔
آپ کی شان بچ جائے
بھلے وہ سولی چڑھ جائے
آپ کے نام پر کوئی اُنگلی نا اٹھائے
بس شادی ہو جائے۔۔۔
زینب نے بھیگی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہا وقار صاحب کو ہمیشہ کی طرح اب بھی اُن کی باتیں جذباتی لگی
زینب۔۔۔۔۔۔میں جانتا ہوں تم پر کیا گزر رہی ہے لیکِن میرا یقین مانو میرے لیے ساحل اور داؤد دونوں برابر ہے۔۔۔۔۔اور ساحل زبان کا جیسا بھی ہو دل کا بہت اچھا اور نیک ہے وہ ۔۔۔۔نین کو بہت خوش رکھے گا۔
عبّاس صاحب نے اپنی بہن کو سمجھاتے ہوئے کہا
بات اچھے اور برے کی نہیں ہے بھائی۔۔۔۔۔
بات میری بیٹی کی زندگی کی ہے۔۔۔۔
کیا آپ اپنی جیا کی زندگی کا فیصلہ اس طرح کر سکتے ہیں کے اُسے چند ہی گھنٹوں میں کسی کو سونپ دیں جسے آپ نا جانتے ہو نا اُسے پسند کرتے ہو۔۔نا آپکی بیٹی کے قابل ہو
مجھے نہیں پرواہ کون کیا کہے گا۔۔۔۔لیکِن میری بیٹی کی زندگی کا فیصلہ یوں نہیں کیا جائے گا۔۔۔
وہ کوئی مٹی کی گڑیا نہیں ہے۔۔۔۔
اُس نے پہلی دفعہ اپنے بھائی سے ڈ ٹ کر بات کی بنا جھجھکے عباس صاحب نے اپنی ماں کو دیکھا وہ تو سمجھ ہی نہیں پا رہیں تھیں کیا صحیح ہے کیا غلط۔۔کِس کا ساتھ دے کس کا نہیں
اور نین ایک نقطے پر نظر ٹکائے بیٹھی تھی
تو تم کیا چاہتی ہو۔۔۔۔تمہارے بھتیجے کی لگائی ہوئی آگ میں ہماری عزت جل کر راکھ ہو جائے۔۔۔۔اور میں سڑک پر چلنے کے قابل نہ بچوں
وقار صاحب نے غصے سے کہتے دانت پیسے
توآپ کیا چاہتے ہیں۔۔۔۔میں اُس آگ میں اپنی بیٹی کو جھونک دوں۔۔۔۔۔
زینب بھی اُنہیں کے انداز میں جواب دیا
عباس صاحب دونوں کو لڑتے دیکھ پریشان ہوگئے
ممی۔۔۔۔۔۔۔
نین نے آہستہ آواز میں پکارا اور سر نفی میں ہلاتے ہوئے اُسے روکا
بڑے ماما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں ساحل سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔
اُس نے عباس صاحب کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا
نین۔۔۔۔۔نہیں بیٹا۔۔۔۔۔۔
ذینب تیزی سے اُس کی طرف بڑھی
ہاں ممی۔۔۔۔۔۔صحیح تو کہہ رہے ہیں پاپا۔۔۔۔۔۔میری وجہ سے اُن کی رپیوٹیشن خراب ہو۔۔۔۔لوگ اُن پر ہنسے۔۔۔۔ایسا میں کبھی نہیں چاہوں گی۔۔۔۔۔
ڈونٹ وری پاپا میری زندگی آپ سے زیادہ اہم نہیں ہے۔۔۔۔
میں آپ کو کِسی کی نظر میں نیچا نہیں ہونے دوں گی۔۔۔۔۔
آپ کے نام پر کوئی سوال نہیں اٹھے گا۔۔۔
جب تک میں زندہ ہوں میں آپکی عزت پر اُنگلی نہیں اُٹھنے دوں گی۔۔۔۔۔
وہ ذینب کو سمجھاتی ہوئی اپنے پاپا کو دیکھ کر مسکرائی۔۔
وقار صاحب اندر ہی اندر شرمندہ ہوئے کے اُنہوں نے یوں ایکدم سے اپنا فیصلہ سناتے وقت ایک دفعہ بھی اُس کی طرف نہیں دیکھا لیکِن اُن کے مطابق وہ غلط بھی نہیں تھے
نین بیٹا۔۔۔۔۔۔۔میں صرف اپنے ہی نہیں آپ کے بارے میں بھی سوچ رہا ہوں۔۔۔۔۔۔آپ جانتی ہے نہ میں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں۔۔۔
وہ اُس کے قریب بیٹھتے ہوئے بولے
آپ کو صفائی دینے کی ضرورت نہیں ہے پاپا۔۔۔۔۔۔۔
نا مجھے آپ سے کوئی شکائت ہے۔۔۔۔۔
شکایت کرنے کو کچھ ہے ہی نہیں۔۔۔۔۔
وہ نظریں جھکائے خالی خالی لہجے میں بولی
اب آپ سب جائیے نا۔۔۔۔۔۔مجھے تھوڑی دیر آرام کرنا ہے
پھر جلدی سے اٹھنا ہے تیار ہونا ہے۔۔۔۔۔ورنہ میں اچھی کیسے لگوں گی ۔۔۔انٹرنیشل میڈیا ہوگا وہاں
مجھے بہت سندر دکھنا ہے ممی۔۔۔۔۔تبھی تو سب تعریف کریں گے اور پاپا کا سر بلند ہوگا۔۔۔
وہ زبردستی مسکراتے ہوئے بولی وقار صاحب کو اُس کے الفاظ طنز میں بھیگے تیروں کی طرح چبھے وہ وہاں سے اٹھ کر باہر نکل گئے۔۔۔۔
عبّاس صاحب بھی اُس کے سر پر ہاتھ رکھ کر وہاں سے چلے گئے
نین۔۔۔۔۔۔۔
نانو نے اُس کا چہره ہاتھوں کے پیالے میں لیا۔۔۔۔۔جو ایک دن میں بلکل ویران ہو گیا تھا جیسے کوئی ساری رونقیں لے گیا ہو
نانو آپ بھی جائیے نا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سب کو۔ کام سے لگائیے ورنہ سارا انتظام کیسے ہوگا۔۔۔ماما کے بیٹے کو بھی تیار کرنا ہے نہ آپکو۔۔۔
وہ مسکرا کر اُنہیں دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔
نین ایسی باتیں مت کرو بیٹا۔۔۔۔میرا دل گھبرا رہا ہے
زینب نے جھنجھلائے ہوئے انداز میں کہا
اب تو پرابلم سالو ہو گئی ہے ممی آپ کیوں پریشان ہو رہی ہیں
نین نے اُن کے آنسُو صاف کرتے ہوئے کہا
بیٹا تمھارے پاپا ٹینشن میں ہے اسلئے یہ سب کہہ دیا ۔۔۔
ورنہ وہ تم سے بہت پیار کرتے ہیں
زینب نے اُسے بے بسی سے سمجھایا
میں نے کب انکار کیا ممی۔۔۔۔پاپا مجھ سے بہت پیارکرتے ہے لیکن اپنی ریپوٹیشن سے تھوڑا کم۔۔۔۔۔۔۔
وہ سر جھکائے مسکرا کربولی اور اُن کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی
∆∆∆∆∆∆∆∆
کہاں ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔گھر آؤ بات کرنی ہے۔۔۔۔۔۔
عباس صاحب نے اُسے فون کیا تو وہ کالج کے لائبرری میں کوئی کتاب ڈھونڈ رہا تھا
ابھی آیا۔۔۔۔۔۔
جواب دے کر فون رکھا اور اپنی مطلوبہ کتاب نکال کر اُس میں ایک چھوٹا سا پرچہ ڈال کر اُسے دوبارہ وہیں رکھ دِیا
تھوڑی ہی دیر میں اُس کی بائک گھر میں انٹر ہُوئی اور عبّاس صاحب کے کہے کے مطابق وہ سیدھا اُن کے کمرے میں پہنچا جہاں اُن کے ساتھ دادی بھی اُس کی منتظر تھی
اُن کے چہرے سے اُسنے اندازا لگا لیا کے کچھ ہوا ہے
عبّاس صاحب نے اُسے سنجیدگی سے دیکھا اور اُسے ساری کی ساری بات بتا دی۔۔۔۔
باقی ساری باتیں تو اُس نے بے بیزار شکل بنا کر سنی لیکِن جیسے ہی اُس کی اور نین کی شادی کا ذکر آیا اُس کے نقوش تن گئے۔۔۔
اور وقار صاحب پر تو اتنا غصّہ آیا کے۔ اُس نے ضبط سے مٹھیاں بھینچ لی۔جنہوں نے ایک پل۔میں ہاں کہہ دیا جب کے اُس کا بیک گراؤنڈ سب کے سامنے بہُت خراب تھا۔۔۔
داؤد کی غلطی کو ہمیں سدھارنا ہوگا
میں نے فیصلہ کیا ہے آج تمہاری اور نین کی شادی ہو گئی۔۔۔
اُنہوں نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا
اس دور میں دادی بلکل خاموش ہی رہیں تھیں
اور آپ کو کیوں لگا کے یہ فیصلہ آپ لیں گے۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے اُنہیں دیکھتا ہوا بولا
میں تمہارا باپ ہوں کیا مجھے اتنا حق نہیں۔۔۔۔۔۔
عباس صاحب نے بے بسی سے کہا
میرا کوئی باپ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور دوسری بات میں داؤد کی غلطیوں کا ٹوکرا اٹھانے کے لیے پیدا نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے بھڑک کر بمشکل آواز کو دبائے بولا
ٹھیک ہے لیکن کچھ سمجھتے ہوگے تم مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔اُس ناطے ریکویسٹ کر رہا ہوں تم سے۔۔۔۔پلیز میری بات سمجھنے کی کوشش کرو۔۔۔
نین کے بارے میں سوچو۔۔۔۔۔
اگر کل شادی نہیں ہوئی نا تو اُس کی زندگی بدل جائے گی۔۔
بغیر قصور کے سزا بھگتی رہےگی وہ۔۔۔۔
میری بہن سے میرا تعلق ٹوٹ جائے گا۔۔۔
سب ختم ہوجائے گا ۔۔۔۔۔
میرا نہیں اپنی دادی کہ سوچو اپنی بیٹی دے دور ہوجائیں گی وہ۔۔۔
اب اس سب سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے
عبّاس صاحب کے لہجے میں بے بسی ہی بے بسی تھی۔۔۔وہ پریشا ن ہو گیا
ہاں اور وہ راستہ ہے کے مجھے بلی کا بکرا بنا کے اُس مصیبت نام کی چھوکری کو میرے اوپر پھینک دو۔۔۔۔۔
ارے يا ر آپ کو نہیں معلوم کتنی بڑی ایڑی ہے وہ
پانچ منٹ کے اندر آدمی کے دِماغ کے انچر پنچر ڈھیلے کر سکتی ہے۔۔۔
اچھے بھلے کو ڈپریشن کے بیماری دے سکتی ہے
اللہ کے واسطے اپن کو دور رکھو اُس سے۔۔۔۔
وہ بھی بیچارگی سے بولا
معصوم سی بچی کے لیے اس طرح کی باتیں کرتے ہوئے تمہیں شرم آنی چاہیے۔۔۔۔
عباس صاحب نے غصے سے اُسے جھڑکا
ہاں تو دور رکھو میں تو کہتا ہوں جا کر کسی پلے ہاؤس میں چھوڑو اُس معصوم بچی کو ۔۔۔یہاں لوگوں کے دِماغ کو فٹبال سمجھ کر کھیلتی رہتی ہے۔۔آپ کو نہیں معلوم کتنی بڑی آفت ہے وہ۔۔۔۔۔
وہ جھنجھلا کر بولا اور دادی کو دیکھ کر معصوم شکل بنائی
دیکھو ساحل اگر تم نے کل اس سے شادی نہیں کی تو میں نیند کی ساری گولیاں کھا کر خود کو ختم کر لوں گا ۔۔۔اُس کے بعد تمہیں جو کرنا کرو جہاں جانا جاؤ۔۔۔۔۔داؤد نے اپنی کری تم اپنی کرو
انہوں نے اُسے خطرناک دھمکی دے ڈالی
آپ کو پتہ ہے وہ نیند کی ساری گولیوں سے بھی زیادہ خطرنک ہے ۔۔۔۔یار رحم کرو میرے پر۔۔۔۔۔۔۔اُس کی جگہ میرے کو کسی گدھی سے شادی کرنے بولو میں کر لوں گا لیکن وہ نہیں بس وہ نہیں۔۔
وہ عاجزی سے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا۔۔۔۔
اور دادی کی طرف دیکھا تو وہ آنکھیں صاف کر رہی تھی وہ ایکدم سے سنجیدہ ہو کر اُن کے پاس آیا اور اُن کا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگایا
وہ اچھی لڑکی ہے دادی میں لائق نہیں ہے اُس کے۔۔۔۔۔
کیوں اُس کی زندگی برباد کرنا چاہتے ہیں سب
وہ اب کے مکمل سنجیدگی سے اُنہیں سمجھاتے ہوئے بولا
وہ پڑھی لکھی ۔۔۔میں جاہل گنوار
وہ محلوں میں پلنے والی۔۔۔۔۔۔میں کبھی جیل میں کبھی سڑک پر
ایک لا وارث جس کے نہ باپ کا پتہ ہے نا ماں کا۔۔۔
جس نے اپنی آدھی زندگی جیل میں گزاری ہے۔۔۔
جسے جذبات رشتے پیار محبت ان چیزوں کی کوئی سمجھ نہیں۔۔۔۔
صرف لڑنا مارنا۔۔۔۔۔ییچ تو آتا ہے اپن کو
کایکو اُس لڑکی کو جان بوجھ کر کنویں میں دھکیل رہے سب۔۔۔
اُس کی کیا غلطی ہے۔۔۔لڑکی ہے بس اسلئے۔۔۔۔۔اتنا آزماؤ گے اُس کو۔۔۔۔۔
عزت کے نام پر اتنا ظلم مت کرو اُس پے
لڑکیاں عزت ہوتی ہے عزت کی ٹھیکیدار نہیں ہوتی۔۔۔
چند لوگ چند باتیں کرے گے نا کرنے دو۔۔۔
سالے یہی کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔
لیکن تم تو اُس کے بارے میں سوچو۔۔۔۔
وہ عاجزی سے اُنہیں سمجھانے لگا اور پر امید نظروں سے دیکھا کے وہ اُسے سمجھیں گی لیکن انہیں سمجھ نہیں آیا وہ جو اپنی برائیاں گنا رہا ہے وہ زیادہ ہے یا اُس کی اچھائیاں
مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا بیٹا میں کیا کہوں۔۔۔۔۔ہر حال۔میں نقصان تو بس اُس معصوم کے حصے ہی آنا ہے۔۔
دادی نے نم لہجے میں کہا
تمہاری یہ باتیں سن کر تو میں اپنے فیصلے پر خوش ہو رہا ہوں۔۔۔۔تم نین کے لیے بہت اچھے ہمسفر ثابت ہو سکتے ہو۔۔
عبّاس صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ سٹپٹا کر سیدھا ہوا
کیا فالتو کی بات کرتے ہو ۔۔ اور وہ کایکو اپن کے جیسے دھرتی پر بوجھ سے شادی کرے گی۔۔۔۔۔۔۔وہ تو اپن کی شکل بھی نہ دیکھے کبھی
وہ بیزاری سے بولا
اور اگر اُس نے خود تم سے شادی کے لیے کہا تو۔۔۔تب تو تم انکار نہیں کروگے نا۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب نے متبسم لہجے میں کہا
مر کر بھی ایسا نہیں بولے گی وہ۔۔۔۔۔
اُس نے سر جھٹکا
۔۔۔اُس نے خود کہا کے وہ تم سے شادی کرنا چاہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا وہ جھٹکے سے سیدھا ہو کر آنکھیں پھاڑے اُنہیں دیکھنے لگا
می۔۔۔میں۔میں نہیں مانتا۔۔۔
وہ صدمے سے بولا
ٹھیک ہے چلو اسی سے پوچھ لو
عبّاس صاحب مسکراتے ہوئے کہہ کر اُسے اپنے ساتھ نین کے روم کی طرف لے گئے۔۔۔
کمرے میں اُس کے ساتھ زینب بھی تھی
زینب اُسے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی اور وہ بس اپنی دھن میں بیٹھی جویلری باکس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہی تھی۔۔۔۔
نین بیٹا سوچ سمجھ کر ساحل سے شادی کا فیصلہ کیا ہے نا۔۔۔۔۔۔۔تمہاری خوشی سے بڑھ کر نہیں ہے کچھ۔۔۔۔
عبّاس صاحب نے اُس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیار سے پوچھا وہ اُن کے پیچھے کھڑا تھا
میں خوش ہوں بڑے ماما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ فکر مت کیجئے۔۔۔
وہ اُن کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی
فکر تو اب اپن کو ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔
وہ گلا تر کرتے ہوئے بڑبڑایا
نین میری بات سنو بیٹا۔۔۔۔ایسے ضد نہیں کرتے۔۔۔۔
زینب نے تھک کر آنکھیں میچی
فکرِ مت کرو زینب ۔۔۔۔شاید خدا یہی چاہتا ہے۔۔۔۔وہی ہوگا جو اُس کی مرضی ہوگی
عبّاس صاحب نے اپنی بہن کو سمجھاتے ہوئے کہا
بھائی۔۔۔۔۔یہ نادان ہے میں اسے ایسے اپنی زندگی کے ساتھ کھیلنے نہیں دوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔وقار کی باتوں کو دل سے لگا کر تمہیں اپنی زندگی برباد نہیں کر دوں گی میں نین۔۔۔۔۔
تمہاری شادی اس لڑکے سے نہیں ہو گی۔۔۔۔۔زینب روتے ہوئے بولی
ممی اگر کل میری شادی ساحل سے نہیں ہوئی تو پھر کبھی بھی کسی سے نہیں ہوگی۔۔۔۔میں آپ کی قسم کھا کر کہتی ہوں میں کبھی شادی نہیں کروں گی
وہ زینب کو سنجیدگی سے دھمکی دیتے ہوئے بولی کیوں کے اب ہر حال میں اُسے اپنے پپا کی بات کو سچ کرنا تھا
شانی ۔۔۔۔بول تو ایسے رہی ہے جیسے چھ جنم کی محبوبہ ہے اب ساتویں جنم میں اپنا بنا کر ہی چھوڑے گی
وہ غصے سے بڑبڑایا
نین ہم تمہارے لیے داؤد سے بھی بہتر لڑکا ڈھونڈیں گے بیٹا
زینب نے پھر سے کہا
میں شادی کروں گی تو ساحل سے ورنہ ٹیرس سے کود کر اپنی جان دے دوں گی۔۔۔۔۔۔۔
وہ ضدی انداز میں بولی
او بہن۔۔۔۔میرے تیرا کیا بگاڑا ہے كایکو میرے پیچھے پڑی ہے ۔۔۔
آخر اُس کے صبر کا باندھ ٹوٹا اور وہ عبّاس صاحب کے آگے ہو کے اُس کے سر پر پہنچا
ماما کے بیٹے تم منہ بند کرکے بیٹھے رہو اور جب نکاح کا پوچھا جائے تب ہی منہ کھولنا سمجھے۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے آنکھیں دکھا کر بولی۔۔۔وہ۔ غصے سے دانت پیس کر عباس صاحب کو دیکھنے لگا
دیکھا آپ نے کیسے بات کرتی یہ میرے سے۔۔۔۔۔۔
میں اُس سے شادی نہیں کروں گا۔۔۔۔۔بس بول۔دیا
میں گھر چھوڑ کر بھاگ جاؤں گا۔۔۔
میں یہاں رہوں گا ہی نہیں۔۔۔۔۔
وہ غصے سے بولا نین بیڈ سے اٹھ کر اُس کے سامنے آئی زینب اپنا غم بھولے حیرت سے دونوں کو دیکھ رہی تھی
کیا کہا تم نے۔۔۔۔۔۔تم مجھ سے شادی نہیں کرو گے۔۔۔۔۔
اُس کی آنکھوں میں۔دیکھتے ہوئے بھنویں سکیڑ کے گھورا۔۔
بلکل ٹھیک سنا تو نے۔۔۔۔شکر کان سلامت ہے تیرے
وہ بھی اسی کے انداز میں دیکھتے ہوئے بولا
شادی تو تمہارے اچھوں کو بھی کرنی پڑے گی۔۔۔
فلحال تمہارے نخرے اٹھانے کا ٹائم نہیں ہے کسی کے پاس
شام تک خاموشی سے منڈپ میں پہنچ جانا۔۔۔۔۔۔۔ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔
وہ اُنگلی اٹھا کر بولی ساحل نے اُس کی اُنگلی کو اپنی اُنگلی میں جکڑ کر جھٹکا
شانی۔۔۔۔تُو کیا میرے کو اپنے باپ کا پلا ہوا کتہ سمجھتی ہے۔۔۔۔۔۔جا جو کرنا ہے کر لے ۔۔نہیں کرتا میں تیرے سے شادی۔۔۔۔۔دھمکی دینے سے پہلے خود کو اوپر سے نیچے تک دیکھ تو لے۔۔۔۔۔
مچھر بھی تیرے کو دیکھ کر سوچتا ہوگا کے اس بے چاری کو تھوڑا سا خون ڈونیٹ کر دوں۔ بات کرتی ہے
وہ اُسے سر تا پیر تک گھورتے ہوئے طنز کرتا بولا
ٹھیک ہے تو دیکھتے ہیں یہ نازک سے لڑکی تم سے شادی کرنے میں کامیاب ہوتی ہے
یا تم اپنے ان ڈولو شولو سے مجھے روکنے میں کامیاب ہوتے ہو۔۔۔
کل صبح پتہ چل جائے گا کون کتنا بہادر ہے
وہ ناک کی نوک کو۔اُنگلی سے چھوتے ہوئے بولی
کیا ہے ۔۔۔یہ ہے کیا
میں تیرے سے شادی تو کِسی قیمت پر نہیں کروں گا اور میری ہٹ گئی نا تو۔۔۔۔
وہ اُنگلی اٹھا کر بولا
تو۔۔۔۔
نین نے دونوں ہاتھ کمر پر رکھے اُس کے لفظ کو کھینچا
تو میں سرف کھا لوں گا۔۔۔۔پھر تو کرنا میری لاش سے شادی۔۔۔۔۔میری قبر میں گھر بسانا آکر۔۔۔۔۔۔۔۔جھانسی کی رانی
وہ دھمکی دے کر اُسے چڑاتا ہوا بولا اور وہاں سے نکل گیا۔۔
عبّاس صاحب نے اپنی بہن کے پریشان چہرے کو دیکھا اور نظریں بچا کر وہاں سے نکل لیے
