Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nain Sahil (Episode 114)

اُس کے سب کچھ بتانے کے باوجود بھی نین ماننے کو راضی نہیں تھی۔۔۔۔ لیکن اب یقین کرنے کے علاوہ کوئی اور آپشن بھی نہیں تھا۔۔۔بلآخر اُس پر احسان کرتے ہے یقین کر لیا تو ساحل نے سکون کا سانس لیا۔۔۔۔
دہلی ٹو نوئیڈا روڈ پر ایک خاموش اور پرسکون جگہ گاڑی رکی ہوئی تھی۔۔۔۔
آس پاس اندھیرا تھا بس گاڑی کی لائٹس اطراف کے کچھ حصے کو روشن کیے ہوۓ تھی
اور آسمان میں جگمگاتے ستارے گاڑی کی کھلی چھت سے اندر عکس چھوڑ رہے تھے۔۔۔۔
دونوں پچھلی سیٹ پر وقت اور جگہ سے بے پرواہ ایک دوسرے میں محو تھے۔۔۔۔۔۔
نین اُس کا ہاتھ تھامے ہتھیلی پر بنے اپنے دانتوں کے نشانوں کو دیکھتی اُن پر اُنگلیاں پھیر رہی تھی۔۔۔اور ساحل کی نظریں اُس کے چہرے پر تھیں۔۔۔
ساحل۔۔۔۔۔۔
کچھ سوچ کر اُس نے سنجیدگی سے پکارا اور اُس کی جانب دیکھا۔۔۔
انجو کا تو کوئی قصور نہیں ہے۔۔۔۔تمہیں نہیں لگتا تم اُس کے ساتھ غلط کر رہے ہو۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتی اپنے ذہن میں چلتا سوال اور بے چین کرتی بات پوچھنے لگی ۔۔۔
قصور تو تمہارا بھی کوئی نہیں ہے لیکن پھر بھی تمہیں اتنا کچھ سہنا پڑا نا۔۔۔۔اتنا تڑپایا تمہیں۔۔۔خود سے دور رکھا۔۔۔۔
کیوں کہ یہ لوگ زہر بن کر مار رہے ہے ہمارے ملک کو۔۔۔۔ان جیسوں کا انت ہمارا مقصد ہے ۔۔۔جس کے سامنے جذبات میٹر نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔۔کبھی کبھی مشکل اور نازک راستے بھی چننے پڑتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔جو نا چاہو وہ بھی کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔
اُس نے سنجیدگی اور سکون سے جواب دیا لیکن نین کی بے سکونی کم نہیں ہوئی۔۔۔۔بلکہ اس جواب سے وہ زیادہ پریشان ہوئی کہ وہ انجو سے شادی کرنے کے معاملے میں شاید سیریس ہے۔۔۔۔
تو کیا تم سچ میں اُس سے شادی کرلو گے۔۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ چھوڑ کر حیرت سے پوچھنے لگی وہ ایکدم سے مسکرایا اور ایکدم سے ہی دوبارہ سنجیدہ بھی ہوگیا۔۔۔
کرنی پڑےگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شانے اچکا کر جس بے نیازی سے جواب دیا اتنی ہی شدت سے نین کو درد ہوا۔۔۔
اور اُس کے بعد۔۔۔۔۔
وہ اُس کا کالر جکڑ کر غصے اور خفگی سے دیکھتی پوچھنے لگی۔۔۔
اُس کے بعد۔۔۔۔
اُس نے معصومیت سے دوہرایا ۔۔۔۔نا سمجھی کا مظاہرہ کیا۔۔۔۔
ایک روم میں ساتھ بھی رہوگے اُس کے۔۔۔
نین نے جھجھک کر بھاری دل اور لہجے کے ساتھ پوچھا۔۔۔اُس کے گال میں گہرائی اُبھر کر معدوم ہوئی۔۔۔
وہ تو رہنا پڑےگا نا۔۔۔۔
سنجیدگی معصومیت اور بیچارگی سے جواب دیا۔۔
اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے شرٹ کو مزید سخت جکڑ لیا۔۔۔مانو خود کو مضبوط کرکے سوال کیا۔۔۔حالانکہ لہجہ کمزور سا تھا۔۔۔
اور پھر کیا ۔۔۔۔۔۔
اُس نے پھر اجنبیت اور بینیازی دکھائی۔۔۔۔۔نین نے اُس کی لاپرواہی پر چند سیکنڈ اُسے گھورا اور پھر ایکدم سے شرٹ جھٹک کر چھوڑ دی۔۔۔
کچھ نہیں مجھے واپس جانا ہے۔۔۔۔
آنسُو روک کے پیچھے پلٹی دروازہ کھولنا چاہا ۔۔۔۔ساحل نے اُس کا لاک پر رکھا ہاتھ تھام کر روک دیا ۔۔۔اور اپنی جانب کھینچا۔۔۔۔۔۔
چھوڑو مجھے جانا ہے۔۔۔
وہ غصے سے اُس کی آنکھوں میں دیکھتی دانت پیس کر بولی۔۔ وہ بنا اثر لیے بے فکری سے مسکراتا اُس کے چہرے پر بکھرے بال پیچھے کرنے لگا۔۔۔
ابھی ابھی تو آئی ہو۔۔۔۔
بہار بن کے چھائی ہو۔۔۔۔
اُس کی کلائی آزاد کروانے کی کوشش ناکام کرتے ہوئے مدھم دلسوز آواز میں گنگنایا تو نین سانس روک کر اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔ پل میں سب کچھ ٹہرتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔۔۔مانو فضائیں تھم کر اُسے سننے لگی ہے۔۔۔
ہوا ذرا مہک تو لے۔۔۔
نظر ذرا بہک تو لے۔۔۔۔
وہ خوبصورت سی مسکراہٹ لبوں پر لیے دو اُنگلیوں سے چہرے کو چھوتے ہوئے اُسکے خفا خفا تاثرات کو بدلتا ہوا دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
نین نے اُس کی گہری ہوتی مسکراہٹ پر سنبھل کر اُسے گھورا اور اُس کا ہاتھ اپنے چہرے سے دور کیا۔۔۔۔آنکھیں گھما کر منہ موڑ گئی۔۔۔
یہ شام ڈھل تو لے ذرااء۔۔۔۔
اُس نے رخ نین کے مخالف جانب کیا نظر اوپر کو اٹھائی سیاہ آسان کو دیکھا اور پھر پیچھے ہو کر سر کھلی کھڑکی پر رکھا۔۔
اُس کے ایک دم اپنے سامنے اتنے نزدیک آجانے پر نین فوراً سے سانس روک کر سیدھی ہوئی ۔۔ہاتھ پیچھے کیے۔۔۔۔۔آنکھیں حیرت سے کھلی۔۔۔۔
یہ شام ڈھل تو لے ذرا۔۔۔۔
یہ دل سنبھل تو لے ذرا۔۔۔۔۔۔
وہ مسکراتی چاہت لٹاتی نظروں سے اُسے دیکھتا مدھم آواز میں گنگنایا ۔۔۔۔ہاتھ اپنے دل پر رکھا۔۔۔۔نین نے نظریں اُس کے چہرے سے ہٹائیں۔۔۔۔۔۔۔
میں تھوڑی دیر جی تو لوں۔۔۔
نشے کے گھونٹ پی تو لوں۔۔۔
نظریں بے خود ہوئی۔۔۔مسکراہٹ مدھم ہوئی۔۔۔۔۔ہاتھ بڑھا کر نین کے گلے کی ابھرتی مٹتی شہ رگ کو چھوا تو اُس نے مُٹھی بھینچ لی۔۔۔۔۔
ابھی تو کچھ کہا نہیں۔۔۔
ابھی تو کچھ سنا نہیں۔۔۔۔
اُس نے ہاتھ پیچھے لے جا کر بالوں کو آزاد کیا تو کھل کر بکھرتے گیے۔۔۔اور وہ اُنہیں مُٹھی میں سمیٹ کر لبوں سے لگا گیا۔۔۔۔آنکھیں بند کرکے کھولیں
نین کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگی۔۔۔۔
لیکِن اُسے روکنے کی ہمت نہیں ہوئی۔۔۔
ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر
کے دل ابھی بھرا نہیں۔۔۔
اُس نے اگلے ہی پل اُن بالوں کو ہلکا سا کھینچا تو نین درد سے کراہ کر سر پر ہاتھ رکھے اُس کی جانب جھکی۔۔۔۔۔۔اُس کے بے حد قریب جھک کر اُسے گھور کر دیکھا۔۔۔وہ مسکرایا ۔۔۔۔۔۔
ابھی نا جاؤ چھوڑ کر۔۔۔۔۔۔
کہ دل ابھی بھرا نہیں۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر پُر حسرت نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے گنگنایا۔۔۔۔
نین نے غصے سے اُس کے ہاتھ سے اپنے بال چھڑائے۔۔۔اور اُسے گھورتی ہوئی پیچھے ہوئی لیکن وہ اتنی ہی تیزی سے اُس کے شرٹ کا گریبان پکڑ کے کھینچتے ہوئے اُسے پہلے سے بھی زیادہ قریب کر گیا۔۔۔۔اور بلکل اُسی کے انداز میں اُسے گھورا۔۔۔
جب کے نین کی سانسیں مانو سینے میں اُلجھنے لگی۔۔۔۔۔۔۔دل شدت سے سمٹ گیا۔۔۔
جج۔۔۔جانے دو مجھے۔۔۔۔
وہ غصے اور اُلجھن سے اُس کی آنکھوں میں دیکھتی بے حد احتیاط سے بولی دونوں ہاتھوں سے اُس کی گرفت سے شرٹ چھڑانے کی کوشش کی۔۔۔
اگر نا جانے دوں تو۔۔۔۔
مسکراتی آنکھیں اور گمبھیر لہجے میں سوال کیا سانسوں نے چہرے کو چھوا کو تو نین نے گلا تر کیا۔۔۔۔۔۔
ضرورت ہی کیا ہے اب میری تمہیں۔۔۔۔
ناراض نظروں سے اُسے دیکھ کر نگاہیں نیچے کر لیں۔۔
ضرورت ہی ضرورت ہے آپکی۔۔۔۔۔
وہ اُس کی جھکی پلکوں کو دیکھ کر اسی کے انداز میں بولا۔۔۔۔۔
شادی اُس سے کرنے والے ہو۔۔۔۔ اُس کے ساتھ رہنے والے ہو تو ضرورتیں بھی اُس سے ہی منوالو۔۔۔۔۔
نین نے نظریں جھکا کر رکھیں۔۔۔سفید شرٹ کے دوسرے بٹن کو دیکھتے ہوئے بیزاری سے کہا لہجے میں ہلکی سی نمی گھل گئی۔۔
ساحل نے بغور اُس کے تاثرات دیکھے ۔۔۔
نہیں منوا سکتا اُس سے۔۔۔۔ مجھے مار کھنڈی بیوی ہی جچتی ہے۔۔۔۔۔۔اوپر سے دل سالہ تمہارے عشق کا غلام ہوتا جا رہا ہے۔۔
نزدیک سے اُس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو نظروں سے چھو کر محظوظ ہوتے کہا۔۔۔۔
تو پھر اُس سے شادی مت کرو۔۔۔۔۔۔میں نہیں سہہ سکتی
نین نے اُسے دیکھا۔۔۔۔۔بے حد اُداسی سے کہا ۔۔۔۔نہایت معصومیت سی ریکویسٹ کی۔۔۔
اور ایسا کیوں۔۔۔۔۔
اُس نے گھنی پلکوں اور لبوں میں نظریں الجھائے دھیمی سی آواز میں سوال کیا۔۔شرٹ چھوڑ کر اُس کے دور ہونے سے پہلے گردن میں ہاتھ ڈالا۔۔۔۔۔۔نین نے دانت بھینچ کر اُسے گھورا۔۔
کیوں کے آۓ لوو یو نا وائلڈ مین۔۔۔۔۔
اُس کے کیوں پر وہ غصے سے بگڑ کر اُس کے شانے پر مکا مارتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔ساتھ آنکھوں میں آنسُو بھی آگئے۔۔۔۔۔وہ بے ساختہ ہنسا۔۔۔
غضب۔۔۔۔۔۔
چاہت بھری نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا ۔۔۔اور سر اوپر کرکے لبوں کو لبوں سے ہلکا سا چھوا۔۔۔۔ نین نے بدن میں سرایت کرتی سرد لہر کے زور پر آنکھیں بند کرکے کھولیں۔۔۔۔۔
پھر اُس سے شادی نہیں کروگے نہ۔۔۔
اُس کا ہاتھ گردن سے ہٹا کر پیچھے ہوئی۔۔۔بہُت بیچارگی سے پوچھا انگوٹھے سے شرٹ کی دوسری بٹن کو چھوتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔کہ وہ اُس کے انداز پر فدا ہوتے آہ بھر کر رہ گیا۔۔۔
رشوت دینی پڑےگی۔۔۔۔۔
اُس نے سوچنے والے انداز میں کہا اور نچلا لب بھینچا۔۔۔
کیا چاہیے۔۔۔۔۔۔
نین نے پہلے حیرت سے دیکھا۔۔۔۔پھر آنکھیں چھوٹی کرکے اُسے گھور تے ہوئے پوچھا۔۔۔۔۔ اندازہ ہوا کہ وہ موقعے کا فائدہ اُٹھانے کو یہ ڈرامے کر رہا تھا۔۔۔
چاہئے تو بہت کچھ لیکن فلحال سب سے ضروری چیز۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے بولا اور آخر میں سنجیدہ ہو کر اُسے دیکھا۔۔۔اور اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔۔۔۔
گزرے کچھ مہینوں کے ہر دن ہر پل ہر لمحے میں تمہیں میری وجہ سے جو سہنا پڑا اُس سب کے لیے آۓ ایم ساری۔۔
وہ اُس کا ہاتھ تھامے ہتھیلی کو انگوٹھے سے سہلاتے ہوئے سنجیدگی سے بولا نین غور سے اُس کے چہرے کو دیکھنے لگی۔۔۔
بے حساب دکھ دیے ہیں تمہیں اس عرصے میں۔۔۔بھلے مجبوری میں سہی لیکِن بہت دل دکھایا ہے تمہارا۔۔۔۔۔جس کی میں بھرپائی نہیں کر سکتا۔۔ ۔۔۔۔۔۔
نین نے اُس کے لفظوں میں ہی نہیں ۔۔۔اُس کی آنکھوں میں بھی گزری باتوں کا افسوس محسوس کیا۔۔۔۔جن باتوں نے خوفزدہ اور پریشان کر رکھا تھا وہ تو اُس کے سب کچھ سچ بتانے کے بعد سے ہی بے معنی ہوگئی تھی۔۔ کڑواہٹ اگر بچی تھی تو وہ اس اظہارِ افسوس کے بعد ختم ہوگئی۔۔۔۔۔اپنا آپ غیر معمولی سا لگا۔۔۔
تم پہلے ہی سوری بول چکے ہو۔۔۔اب ضرورت نہیں۔۔۔
وہ آہستہ سے بولی۔۔ بلکل صاف دل اور صاف گوئی سے۔۔۔۔
ہاں پر پتہ ہے میرے سوری بولنے سے کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ دیکھ سکتا ہوں میں کہ تمہاری آنکھوں میں اب بھی وہ اُداسی ہے۔۔جانتا ہوں اتنا آسان نہیں سب در گزر کرنا۔۔۔۔۔
لیکِن میں چاہ کر بھی گزرے دنوں کو بدل نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔جسٹیفکیشن ہی دے سکتا ہو بس۔۔۔۔يا افسوس کر سکتا ہوں
حالانکہ میں وہاں سے ہی غلط ہوں جب تمہیں اکیلے چھوڑ آیا تھا۔۔۔۔بٹ ٹرسٹ می سب کچھ بہت اچانک بدل گیا تھا اسلئے تم سے واضح نہیں کرسکا کچھ ورنہ۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بلکل ٹہرے ہوئے انداز میں سکون و سنجیدگی سے صفائی دیئے جا رہا تھا کے نین نے ایکدم سے اُس کے لبوں پر اُنگلیاں رکھ کر اُسے روکا۔۔۔۔
تم زیادہ مت سوچو۔۔۔۔میں جانتی ہوں تم نے جو کیا وہ جان بوجھ کر یا خوشی سے نہیں کیا۔۔۔۔۔کوئی بھی یہی کرتا۔۔۔۔
وہ اُسے روک کر خلاف عادت سمجھداری سے بولی۔۔۔۔ساحل نے اُس کا ہاتھ لبوں سے ہٹا کر اپنے ہاتھ میں لیا۔۔۔اپنی جگہ سے اٹھ کر سیدھا ہوا
مگر ۔۔۔ یہ غلطی مجھے ہم دونوں کے درمیان میں ایک دیوار کی طرح نظر آرہی ہے۔۔۔۔۔۔
وہ ایک ہاتھ سے اُس کا چہرہ تھامتے ہوئے بے حد قریب ہو کر دھیمے پرسوز لہجے میں بولا۔۔۔۔۔نین نے سانسوں کی تپش محسوس کرکے گلا تر کیا۔۔۔۔
اور میں یہ دیوار نہیں چاہتا۔۔۔میں ہمارے درمیان۔۔۔کوئی دوری۔۔۔کوئی خلش۔۔۔۔کوئی دیوار نہیں چاہتا۔۔۔۔ چاہو تو کسی بھی طرح مجھے آزما لو۔۔۔۔میرے لیے تم کیا ہو پتہ لگ جائیگا۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر جذبات سے بوجھل لہجے میں بولتا اپنے لفظوں اور سانسوں کے اثر سے اُس کی دھڑکنیں بے ترتیب کرگیا۔۔۔۔۔۔۔وہ چاہ کر بھی ایک لفظ نہیں بول پائی۔۔۔۔
میرے پاس اپنوں کی کمی ہے ۔۔۔۔۔رشتے بس قسمت سے ملے ہیں۔۔۔۔۔اور تم اُن سب میں سب سے اہم ہو میرے لیے۔۔۔۔بہُت قیمتی ہو۔۔۔تمہیں کھونے سے ڈر لگتا ہے۔۔۔۔
وہ انگوٹھے سے اُس کے گال کو رب کرتے ہوئے گمبھیر لہجے میں دھیمی آواز میں بولا۔۔۔۔۔۔نظریں آنکھوں سے لبوں کی اور بھٹکیں۔۔۔۔۔نین نے نظریں جھکا کر اُس کا ہاتھ چہرے سے ہٹایا۔۔۔۔۔
میرے ماما نانو داؤد اور باقی سب بھی تو ہے۔۔۔۔۔۔کیا وہ لوگ اہم نہیں ۔۔۔
اُس کی بدلتی نظروں کو محسوس کرکے وہ بات بدل کر دوسرا رخ دیتے ہوئے پوچھنے لگی۔۔۔۔۔۔
اُن سب سے اپنے پن کا رشتا ہے لیکِن تم سے احساس کا۔۔۔۔جذبات کا رشتا ہے۔۔۔۔
وہ اسی انداز میں نہایت پُر جذب لہجے میں بولا۔۔۔نین نے غور سے اُسے دیکھا۔۔۔۔دل خوشگواری سے دھڑکا۔۔۔۔
اُن سب سے مجھے ایک حادثے نے جوڑا ہے ۔۔۔۔اور تم تو مجھ سے ازل سے منسوب ہو۔۔۔۔۔
وہ مدھم سا مسکرایا لیکن آواز اتنی ہی گمبھیر تھی۔۔۔۔اُس کا ہاتھ اپنے لبوں سے لگایا تو نین نے نظریں جھکائیں۔۔۔
میں اُس فیمیلی سے جڑا ہوں اور تم مجھ سے۔۔۔۔۔
اُس نے اُنگلیوں کو آپس میں اُلجھا کر دوبارہ اُنہیں لبوں سے لگایا تو نین نے سانسیں نگلیں۔۔۔
وہ سب میری زندگی کا حصہ ہے اور تم میری روح کا ۔۔۔۔۔
وہ پیشانی سے پیشانی ٹکائے۔۔ شدت جذب سے بھاری لہجے میں بولا تو نین نے اُس کے حرکت کرتے لبوں کو دیکھا۔۔
تمہیں میرے اتنے ظلم کرنے کے بعد بھی مجھ سے اتنی محبت کب اور کیسے ہو گئی۔۔۔۔۔
وہ اپنی آنکھوں میں آنے کی کوشش کرتے آنسوؤں کو روکے مسکرا کر پوچھنے لگی تو وہ اُس کے سوال پر ہنس کر پیچھے ہوا۔۔۔۔۔۔
مشکل سوال ہے یہ۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔
اُس نے مسکرا کر سوچنے والے انداز میں ابرو کو چھوا۔۔۔ایک ہاتھ سختی سے تھامے رکھا ۔۔۔۔نین بیتابی سے اُسے دیکھنے لگی۔۔
دل شاید پہلی دفعہ تمہاری اور تب بڑھا جب تم نے کہا کے تمہیں میری ہنسی مکمل نہیں لگتی۔۔۔۔۔۔
وہ مسکراتی نگاہوں سے اُسے دیکھتا ہوا بولا نین دھڑکتے دل سے اُس کی جاذب مسکراہٹ کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔
لوگو نے ہمیشہ ہی دھیان دیا لیکن صرف یہ دیکھا کے میں کون ہوں۔۔۔۔۔کیسا انسان ہوں۔۔۔۔۔۔کتنے جرم کیے۔۔۔۔۔۔کس کیٹیگری میں آتا ہوں۔۔۔۔
کِسی نے یہ نہیں پوچھا تھا کبھی کے۔۔۔۔ تمہیں درد تو نہیں ہو رہا۔۔۔۔۔
اُس کی مسکراہٹ سنجیدگی میں بدلی اور آواز کچھ دھیمی کچھ بھاری ہوئی۔۔۔۔۔آنکھیں کچھ پُر درد ہوئیں
۔۔
اور جب تم نے پوچھا تو لگا کے میرا بھی کوئی ہے۔۔۔۔۔۔
شاید تب تم سے محبت ہوگئی۔۔۔
وہ آنکھوں میں بےپناہ جذبات سمیٹے بولا۔۔۔نین کے دل میں دھُواں دھواں سا بھرنے لگا۔۔۔
یاجس نے کبھی خود کو اہمیت نہیں دی اُسے تم نے اہم سمجھا۔۔۔۔۔شاید تب تم سے محبت ہوگئی۔۔۔۔
وہ دوبارہ مسکرایا پردرد سا۔۔۔۔لیکِن بے حد خوبصورت۔۔۔۔۔۔نین کے چہرے سے نظریں ہٹا کر ایک نظر دونوں ہاتھ کی آپس میں اُلجھی انگلیوں کو دیکھا۔۔۔۔ نین کی نظریں پیشانی پر بے ترتیب بکھرے بالوں پر ۔۔۔۔تو کبھی گہری آنکھوں۔۔۔۔ تو کبھی لبوں پر بھٹکتی رہیں۔۔۔۔۔۔۔
جو بات دنیا مجھے کبھی بھولنے نہیں دیتی تھی اُسے بڑی آسانی سے نظر انداز کرکے جب تم نے یہ کہا کے تم میرے ماما کے بیٹے ہو یہ میرے لیے کافی ہے۔۔
شاید تب تم سے محبت ہو گئی۔۔۔۔
اُس کی بھاری بوجھل آواز پر نین نے پلکیں جھپکیں منہ سے سانس لیے کر آنسوؤں کو روکنے کی پھر سے کوشش کی۔۔۔۔۔۔
یا شاید تب جب میرے لیے تم اپنی مامی سے اُلجھ گئی۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے چہرے کو دیکھ کر ہلکا سا ہنسا۔۔۔۔۔نین کے لب خود بخود مسکرائے۔۔۔مگر نظریں اُس کے چہرے پر تھمی رہیں۔۔۔اور دل بھر کر بھاری ہوگیا۔۔۔
شاید تب جب تم میرے لیے وہ محل جیسا گھر چھوڑ کر سڑکوں پر بھٹکنے کو تیار ہوگئی۔۔۔۔
وہ چاہت بھرے لہجے میں بولتا مسکراہٹ سمیٹ کر اُسے دیکھنے لگا۔۔۔نین نے تیزی سے پلکیں جھپکیں لیکِن آنسُو تب تک ٹوٹ کر چہرہ پر بکھر گیا۔۔۔
یا شاید تب جب تم نے میرے لیے دوپٹہ پہن لیا۔۔۔۔
وہ انگوٹھے سے اس آنسُو کو سمیٹ کر بولا۔۔۔,۔۔۔اُس کی بھیگی آنکھوں میں دیکھ کر۔۔۔
یا پھر شاید تب جب میرے لیے کھانا بنانے کو تم نے اپنے ہاتھ جلا لیے۔۔۔۔۔
وہ بھیگی پلکوں کو دیکھتا اُنگلیوں کو آزاد کرکے ہتھیلی کو انگوٹھے سے چھو کر بولا تو نین نے اُس گدگداتے لمس پر مُٹھی بند کرلی۔۔۔
یا شاید تب جب تم نے میری لاکھ کوششوں کے بعد میرا ہاتھ نہیں چھوڑا۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی بند مُٹھی کو لبوں کے نزدیک کیے گمبھیر لہجے میں بولا۔۔۔۔نین نے اُسے اپنی کلائی کو لبوں سے چھوتے دیکھ نظریں جھکائیں۔۔۔۔نبض تیز تر ہوتی محسوس ہُوئی۔۔۔
جس جھوٹ کو حقیقت سمجھ کر اپنے آپ سے دن رات لڑتا تھا ۔۔۔اُسے میری زندگی سے ختم کردیا۔۔۔۔۔ مجھے میری پہچان ڈھونڈھ کر دی ۔۔۔شاید اُس وقت مجھے تم سے بے انتہا محبت ہوگئی۔۔۔۔
وہ ہاتھ سے اُس کا چہرہ تھام کر اوپر کرتے ہوئے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سرگوشی میں بولا۔۔۔۔۔
اور پھر بھی تم بار بار مجھے جانے کو کہتے رہے۔۔۔۔۔۔۔یو کمینے۔۔۔۔
وہ بھیگی آواز میں خفگی اور غصے سے بولی۔۔۔۔۔وہ سنجیدگی سے اُس کے حرکت کرتے لبوں کو دیکھنے لگا۔۔۔۔
کیونکہ بیوقوف تھا میں۔۔۔۔
سوچ رہا تھا پیار کرکے اپنی کوئی کمزوری نہیں بنانی۔۔۔اسلئے تمہارے بنا رہ لوں گا۔۔۔
وہ بے حد دھیمے سے بولا۔۔۔۔نین کو اُس کی نظروں کی تپش اپنے لبوں پر شدت سے محسوس ہوئی۔۔۔
دھیرے دھیرے احساس ہوا کہ کہہ تو سکتا ہوں کے تمہارے بن رہنا ہے مگر ایسا ممکن نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے چہرے کے بے حد قریب جھکا کے ناک سے ناک مس ہوئی۔۔۔۔سانسیں چھو کر چہرے کو دہكانے لگیں۔۔۔
جیسے میری مرضی کے بنا تم میری بیوی بنی۔۔۔ویسے زور زبردستی کرکے دل پر بھی قبضہ کر لیا۔۔۔۔
پہلے تمہیں اپنانے کا حوصلا نہیں تھا پھر کھونے کی ہمت نہیں رہی اور مجھے ہارنا پڑا۔۔۔۔۔۔۔
وہ بکھری بکھری بوجھل آواز میں سلگتے لہجے میں بولا پیشانی کو تین اُنگلیوں سے چھو کر چند جمع بالوں کو وہاں سے ہٹایا۔۔۔۔۔۔۔
نین کے لب اُس کو سانسوں کی حدت پر لرز کر کھلے۔۔۔
مجھے۔۔۔۔۔مجھے نہیں پتہ تھا کے۔۔۔ تم اتنی ۔۔۔سیریس باتیں بھی کر سکتے ہو۔۔۔۔
وہ نظریں جھکا گئی۔۔۔۔بات بدل کر اُس کے بدلتے رخ کو روکنا چاہا۔۔۔ پیچھے ہونے کی راہ تلاش کی لیکن وہ پوری حد سے لگی ہوئی تھی۔۔۔روم روم الرٹ تھا۔۔۔۔۔۔
تمہیں یہ بھی نہیں پتہ کے یہ باتیں اُن فيلنگس کو ڈیفائن کرنے کے لئے کافی نہیں جو میرے اندر ہے۔۔۔۔۔
وہ بنا اُس کی اُلجھن کا اثر لیے آگ دیتے لہجے میں بولا نین نے اُس کے لبوں کی حرکت اپنے گال پر محسوس کی۔۔۔آنکھیں پوری کھول کر سانس روکے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
تمہیں یہ بھی نہیں پتہ کے جو دن تمہارے بنا گزارے ہے وہ میری دیوانگی کو کس قدر بڑھا چکے ہیں۔۔۔۔۔
وہ اُسے ایک بازو کے حصار میں لے کر خود میں بھنچتے ہوئے بولا۔۔۔۔اُنگلیوں کا لمس گردن پر محسوس کرکے اُس نے پیروں کی اُنگلیاں بھینچ لیں۔۔۔۔۔آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔
تمہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ ہر دن تمہارے بنا کتنا ویران گزرا اور ہر رات تمہاری چاہ میں مجھے کیسے جلاتی رہی۔۔۔۔
وہ بند آنکھ کو لبوں سے چھو کر اپنی سانسوں سے اُس کے چہرے کو دہکاتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے اُس کی شرٹ کو سختی سے تھام لیا
تمہیں یہ بھی نہیں پتہ کے میرا دل کتنا بے قرار ہے تم سے اُن لمحوں کا حساب لینے کو۔۔۔۔۔۔۔۔
لبوں نے گال کو نرمی سے چھو کر کان کے قریب سرگوشی کی۔۔۔۔گھنے بال چہرے پر سرسراۓ ۔۔۔۔۔۔
تمہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ اس وقت یہ اتنا سا فاصلہ بھی مجھ پر کتنا بھاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ کان کو لبوں سے چھو کر آگ سے دہکتے لہجے میں بولا ۔۔۔پُرزور سانسیں سنسناتی ہوئی ذہن پر برسی تو وہ بے ترتیب سانسیں لے کر اُس کے سینے سے لگ گئی۔۔۔۔۔اُس میں چھپنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔دھڑکنیں کانوں میں شدت سے گونجنے لگی۔۔۔۔
ساحل نے ہاتھ سے تھام کر اُس کا چہرہ اوپر کیا اور اُس کے لبوں پر جھکا۔۔۔۔۔اُس نے بند آنکھیں زوروں سے میچ لیں۔۔۔۔۔۔۔۔دھڑکنیں اُلجھنے لگیں۔۔۔۔
لگا وقت ایک جگہ آکر رک گیا۔۔۔۔
فضا میں سرور سا سنائی دینے لگا۔۔۔۔۔
اُس نے چند سیکنڈ کی تاخیر سے سانسیں آزاد کی۔۔۔۔نین نے آنکھیں کھول کر اُسے دیکھا۔۔۔۔۔۔
اُس نے بھیگے لبوں کو انگوٹھے سے چھوا۔۔۔۔۔بے خود نظروں سے اُس کی لرزتی پلکوں کو دیکھا۔۔۔۔۔
اپنی جگہ سے اٹھا اور آگے ہو کر فرنٹ سائٹ پر سامنے لگے بورڈ کو ٹچ کیا اور واپس اُس کے قریب ہوا۔۔۔۔۔۔
پہلے کھلی کھڑکیاں بند ہوئیں پھر چھت دھیرے دھیرے اوپر ہو کر بند ہونے لگی۔۔
بہت دیر ہوگئی ۔۔۔۔مجھے۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے ارادوں پر گھبرا کر جھجھکتے ہوئے بولنے لگی کے وہ شدت سے اُس کے لفظوں کو روک کر اُسے خود میں بھینچ گیا۔۔۔۔۔
لمحے بے ربط بے نام گزر کے آگے بڑھتے گئے۔۔۔۔۔آسمان کی سیاہی دھیرے دھیرے کم ہونے لگی۔۔۔۔۔رات سویرے کی جانب بڑھنے لگی۔۔۔۔
گہرے سکوت میں فون کا وائبریشن بھی بخوبی گونجا۔۔۔جس نے مدہوش لمحوں کو جھنجھوڑ نے کی کوشش کی۔۔۔۔
وہ بمشکل خود کو روک کر پیچھے ہوا۔۔۔
اور فون اوکے کرکے کان سے لگایا۔۔۔۔
نین نے سر اُس کے بازو سے لگا کر سانسیں بحال کیں۔۔۔۔
فون پر جب اُسے معلوم ہوا کہ ویرانش کوئی راستہ نہ پاکر خود اپنے ملک واپس آچکا ہے تو اُس کا بے خود ذہن فوراً بیدار ہوا۔۔۔۔۔لبوں پر مسکراہٹ آئی۔۔۔۔اُس نے جواب دے کر فون ہٹایا۔۔۔۔اور نین کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔
ہاتھ سے اُس کا چہرہ اوپر کرکے پیشانی کو لبوں سے چھوا تو نین نے آنکھیں کھول کر اُسے دیکھا۔۔۔۔۔
دِل تو نہیں کر رہا اس وقت تم سے دور جانے کو۔۔۔لیکن صرف کچھ گھنٹے اور۔۔۔
وہ نائٹ شرٹ کی کالر شولڈر پر درست کرتے ہوئے خمار زدہ لہجے میں بولا
تم اس سے شادی نہیں کروگے نہ ماما کے بیٹے۔۔۔۔۔۔
نین نے اپنی پریشانی یاد آتے ہی دھیرے سے سوال کیا وہ بے ساختہ مسکرایا۔۔۔
اگر تم پرومس کرو کے ہمیشہ مجھ سے اتنے ہی پیار سے بات کرو گی ۔۔۔۔۔روز مجھ پر اپنی کک پاور نہیں آزماؤ گی۔۔۔۔۔اور کبھی بھی پبلکلی مجھے انسلٹ نہیں کروگی تو سوچوں گا۔۔۔۔۔۔
وہ پیچھے ہو کر شرٹ کے اوپری بٹن بند کرتے ہوئے محظوظ سا مسکرا کر اُسے شرطیں بتانے لگا تو نین نے صدمے سے اُسے گھورا۔۔۔۔
اُس نے بے نیازی سے کندھے اچکا دیے۔۔۔اور اپنی جانب کا دروازہ کھول کر باہر نکلا۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف آکر نین کے لیے دروازہ کھولا لیکِن وہ اُسے گھورنے میں مصروف تھی ۔۔۔۔
جاؤ نہیں کرتی پرامس۔۔۔۔۔اور میرے ساتھ زیادہ مائنڈ مت کھیلنا۔۔۔۔اچھے سے سمجھ آرہا ہے مجھے کے کیسے موقعے پر چوکے مارنے کی کوشش کر رہے ہو تم۔۔۔لیکن نین تارا تمہارے جھانسے میں نہیں پھنسنے والی۔۔۔۔سمجھے
وہ غصے سے بولتی باہر نکلی اور آگے فرنٹ سیٹ پر آکر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے پھر کل آکر لائیو دیکھ لینا میری شادی۔۔۔۔
وہ ڈرائیونگ سیٹ پر آکر لا پرواہی سے بولا نین نے آنکھیں پوری کھول کر اُسے گھورا۔۔۔۔۔
جان لے لوں گی میں تمہاری۔۔۔بکواس مت کرنا بلکل۔۔۔۔۔۔۔۔
اُنگلی اٹھا کر دانت بھینچ کر اُسے وارن کیا۔۔۔ساحل نے ابرو اٹھا کر سنجیدگی سے اُسے دیکھا۔۔۔
ٹھیک ہے میں تم سے اچھے سے بات کروں گی لیکن تم بھی غصّہ کرنے کا موقع مت دینا۔۔۔۔۔
وہ چند پل اُس کے یوں ہی دیکھنے پر احسان کرنے والے انداز میں بولی تو وہ مسکرایا اور گاڑی سٹارٹ کرکے آگے بڑھائی۔۔۔
اور میں اوروں کے سامنے تمہیں ذلیل بھی نہیں کروں گی۔۔۔۔بس تم بھی کوئی جنگلی پن کرکے موقع مت دینا۔۔۔۔۔
نین نے ناگواری اور بیزاری سے کہا اُس نے مسکرا کر سر ہلا یا
اور کک بھی نہیں ماروں گی۔۔۔لیکِن اگر نیند میں غلطی سے لگ گئی تو مجھے نہیں پتہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے شانِ بے نیازی سے کہ کے آنکھیں گھمائی ۔۔۔۔
یہ موقع تو میں تمہیں بلکل نہیں دوں گا۔۔۔۔ڈونٹ وری۔۔۔۔
وہ ہنس کر اُسے دیکھتا۔۔
سر نفی میں ہلا کر بولا تو نین اُسے گھورتے گھورتے مسکرائی۔۔۔۔
♦♦♦♦♦