Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 41
No Download Link
Rate this Novel
Episode 41
جیا تمہارے لیے فون ہے۔۔۔۔۔۔
عشرت اُس کے روم میں آئی اور اُسے پکارتے ہوئے اپنا فون تھمایا
میرے لیئے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ حیران ہوتی سیدھی ہوئی اور فون کان سے لگایا
ہائے جیا۔۔۔۔کیسی ہو۔۔۔۔اور کیسی رہی تمہارے بھائی کی شادی ۔۔۔وی ہوپ بہُت انجوائے کیا ہوگا تم نے۔۔۔۔۔ہمیں تو جھوٹے منہ نہیں پوچھا۔۔۔۔۔۔
دشا کی آواز سن کر اُس کا دل برا ہو گیا جو بات وہ پچھلے چن دِن میں مکمل فراموش کر چکی تھی وہ یاد کرکے دل خوف سے دھڑکنے لگا
کیوں فون کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِس نے دھیرے سےپوچھا عشرت واپس جا چکی تھی
تمہیں یاددلانے کے لیے کے اب شادی سے فری ہو چکی ہو تو كام سے لگ جاؤ۔۔۔۔کل کالج فنکشن میں تمہیں اپنا بیسٹ پرفامنس دینا ہے۔۔۔۔۔۔
دشا مسکراتے لہجے میں کہہ کر اُسے بے چین کے گئی
میں نے کہہ دیا نا میں ایسا کچھ نہیں کروں گی
وہ دبی آواز میں چینخ پڑی
تم نے پکّا سوچ لیا ہے نہ کے نہیں کرنا ۔۔کیوں کے اب میں ذیادہ بحث کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں ۔۔۔۔بس ایک بٹن دبا کر یہ ویڈیو انسٹا پر پوسٹ کر دوں گی
دشا نے غصے کہا
فور گا ڈ سیک دشا دھمکیاں دینا بند کرو۔۔۔۔۔۔۔اور تم کچھ بھی کرلو میں تمہاری بات نہیں مانوں گی
وہ عاجزی سے کہتی فون بند کر گئی
ہمت کرکے دشا کو جواب دے تو دیا لیکِن اب عجب سی بےچینی ہونے لگی کے جا نے اب کیا ہو
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
دادی نے عشرت اور شیرین کے فلک کو تیار کرنے کو ذمےداری سونپی تھی۔۔۔۔
حالانکہ دونوں کو فلک بلکل پسند نہیں تھی کیوں کے وہ اُن کے سٹینڈرڈ کے مطابق بہُت ڈاؤن تھی لیکن دادی كا حکم مانتے ہوئے دونوں بے دلی سے اُسے تیار کرنے پر مجبور ہوئی تھیں۔۔۔۔۔
فلک نے انکار کرنے کی کوشش کی تھی لیکن دونوں نے اُسے یہ طعنہ دے کے چپ کروا دیا تھا کے اس خاندان کی بہو بنی ہو تو یہاں کے طور طریقے بھی ماننے ہوں گے۔۔۔۔
ورنہ لوگوں کو پتہ چل جائے گا کے تم کسی گاؤں کی انپڑھ لڑکی ہو
اُن کی بات سن کر وہ خاموش رہی ۔۔۔۔
بیوٹیشن نے اپنے ہنر سے اُس کی سادگی کو خوبصورتی سے سجا کر اُسے چار چاند لگا دئیے تھے۔۔۔
اُس کے کندھے سے نیچے آتے بے ترتیب بالوں کو بھی سے سیٹ کرکے ایک خوبصورت جوڑے میں قید کیا ہوا تھا
پیچ کلر کے ہیوی لہنگے اور کرتے میں قیمتی جویلری آور میک اپ میں وہ اس قدر بدل چکی تھی کے کسی کا بھی ایک نظر میں اُسے پہچان پانا نا ممکن تھا۔۔۔۔
اُس نے خود جب آئینے میں اپنے آپ کو دیکھا تو ہاتھ سے چہرے کو چھو کر تسلی کرنی پڑی کے یہ وہی فلک ہے جو کچھ گھنٹوں پہلے تھی۔۔
عشرت اور شیرین بھی اُسے دیکھ کر دل۔میں تعریف کیے بنا نہیں رہ پائیں۔۔۔۔
اُن سب کے جانےکی بعد وہ کنفیوز سی بیٹھی اپنی اُنگلیاں مروڑ رہی تھی ۔۔۔اُسے سب کا سامنا کرنے سے اتنے لوگوں کے بیچ جانے سے بہت ڈر لگ رہا تھا۔۔۔
اگر کوئی اُس کے مطلق سب جانتا ہو اور لوگوں نے الٹی سیدھی باتیں کی تو۔۔۔۔
وہ تو خیر بدنامی کی عادی ہو چکی تھی لیکن اُس کے سیاہ مقدر کی وجہ سے داؤد کا نام متاثر ہو اس بات کا ڈر اُسے چین نہیں لینے دے رہا تھا
دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ سیدھی ہوئی ۔۔۔۔
داؤد خوشی اور شانو کو اُس سے ملانے لے کر آیا تھا لیکِن ااُسے دیکھ کر دروازے پر ہی جم گیا۔۔۔۔۔
آج سے پہلے اُس نے فلک کو صرف سادے اور سمپل حلیے میں دیکھا تھا
یُوں تو وہ سادگی میں بھی اُس کے دِل کو اپنی جانب کھینچتی تھی لیکِن اس وقت تو سر سے پیر تک سجی سنوری اُس کے لیے امتحان بنی ہوئی تھی کے وہ اپنا دل خود میں رہنے دے یا نکال کر اُس کے حوالے کر دے وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا
چاچو۔۔۔۔۔۔۔
شانو نے اُس کا ہاتھ ہلایا تو وہ ہوش میں آتا اُس سے نظریں ہٹا گیا
فلک اُس کی چاہت بھری نظروں سے گھبرا کر اپنی جگہ کھڑی خود کا جائزہ لینے لگی۔۔۔اور حلق تر کرنے لگی تھی
وہ آگے بڑھ کر اُس کے قریب آیا اُسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے۔۔۔
آج میں تمہیں ہماری فیمیلی کی بہت ہی خاص ہستیوں سے ملوانے جا رہا ہوں۔۔۔۔
داؤد مسکراتے ہوئے بولا اور خوشی کو اپنی گود میں اٹھا لیا۔۔۔۔
خوشی۔۔۔۔شانو۔,۔۔۔۔۔چاچی کو ہائے کرو۔۔۔۔۔
اُس نے دونوں کو اشارہ کیا
ہائے چاچی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِس کے کہتے ہی شانو نے پورے جوش میں عمل کیا ۔۔۔جب کے خوشی ٹکر ٹکر فلک کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
فلک نے مسکرا کر شانو کے گال کو چھوا اور داؤد اُسے دیکھ کر مسحور ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔
اُن بچوں کی بدولت آج پہلی دفعہ اُس کر لبوں کو مسکراتے دیکھا تھا۔۔۔۔۔اور داؤد کا دل اس مسکراہٹ کو دیکھ خوش کن انداز میں دھڑکا تھا
فلک اُس سے بے خبر خوشی کی طرف متوجہ ہوئی اور ہاتھ اُس کی طرف بڑھایا لیکِن وہ پیچھے ہو کر سر داؤد کے کندھے میں چھپا گئی ۔۔داود نے مسکراتے اُسے سیدھا کیا اور فلک سے ملنے کا اشارہ کیا
اُس نے ایک نظر فلک کو دیکھا دوسری نظر داؤد کو
خوشی کی چاچی تو نین چاچی ہے نہ۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھوں کو چھوٹی کرکے داؤد کو دیکھنے لگی فلک اور داؤد دونو ایکدم سے سنجیدہ ہوئے
خوشی کو وہ ہی اچھی لگتی ہے۔۔۔۔
خوشی کو اُن کے ساتھ کھیلنا بہُت پسند ہے۔۔۔
خوشی اُن کے ساتھ ہی رہےگی یہ چاچی نہیں ہے۔۔۔۔۔
وہ سر ہلاتی داؤد کی گود سے اُتر کر باہر بھاگ گئی
خوشی کو دیکھو بیٹا۔۔۔۔
داؤد نے شانو کو اُس نے پیچھے جانے کا اشارہ کیا اور خود فلک کی طرف متوجہ ہوا جس کی مسکراہٹ اب اُداسی میں بدل چکی تھی
وہ بچی ہے ۔۔۔۔سمجھ جائے گی دھیرے دھیرے
وہ اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا فلک نے سر ہلا دیا
افف۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچانک ہی وہ آنکھیں میچ کر ہاتھ دل پر رکھے بیڈ پر گر گیا تو وہ بوکھلا گئی
کیا ہوا آپ ٹھیک تو ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جلدی سے اُس کی طرف بڑھی پریشانی سے پوچھنے لگی داؤد اٹھ کر بیٹھا
پتہ نہیں کیا ہو رہا ہے مجھے۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے چہرے کو دیکھتا پریشان لہجے میں بولا فلک کو اُس کی فکرِ ہونے لگی
تمہیں دیکھ کر میرے اندر نا زور زور کی آواز گونج رہی ۔۔۔۔۔۔داؤد یہ تمہاری بیوی ہے۔۔۔۔داؤد یہ تمہاری بیوی ہے۔۔۔
وہ سنجیدگی سے بولا لیکِن فلک نا سمجھی سے اُسے دیکھنے لگی وہ مدھم سا مسکرایا
یہ بات تو مجھے پہلے سے ہی پتہ ہے لیکِن دل نہ آج مجھے اکسانے پر لگا ہوا کمبخت۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج اسے چین ہی نہیں آرہا
وہ اُسے محبت سے دیکھیے ہوئے بولا فلک نظریں جھکائے پیچھے ہوئی ۔۔وہ اٹھ کر اُس کے قریب ہوا
کہہ رہا ہے ۔۔۔۔۔ آج اپنے سارے حق استعمال کر کو داؤد۔۔۔۔
اُس کے کان کی طرف جھکتے ہوئے سرگوشی کی فلک کا دل زوروں سے دھڑکنے لگا۔۔۔
وہ پیچھے ہوا اور اُس کی حیران پریشان آنکھوں میں جھانکا آور ایک سرد آہ خارج کی
لیکِن ڈونٹ وری۔۔۔۔۔۔۔۔میں اسے خوش کرنے کے چکر میں تمہیں ناراض نہیں کروں گا۔۔۔۔۔۔۔
سمجھا لوں گا کے انتظار کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُداس سے شکل بناتے ہوئے بولا حلانکہ صرف شرارت تھی لیکن فلک کے دل کو کچھ ہوا۔۔۔۔۔۔
کیوں کے وہ ہر بار ہی اُس کی خوشی اور مرضی کو اہمیت دیتا تھا لیکِن فلک نے اس بات کا کبھی خیال نہیں کیا
چلیں۔۔۔۔۔۔
وہ مسکراتا اُس کی طرف ہاتھ بڑھا کر بولا تو وہ چونکی اور ہاتھ اُس کے ہاتھ میں دے کر اُس کے ہمراہ باہر نکل گئی
∆∆∆∆∆∆∆∆
عبّاس صاحب نے ایک کے بعد ایک فون کرکے اُسے زچ کیا ہوا تھا ۔انہوں نے گھر میں پارٹی رکھی تھی جو اصل میں اُس کی طوفانی شادی کا ریسیپشن تھا
اُس پارٹی میں پہنچنے کے لیۓ اُسے پورے شیرازی خاندان کے نمبروں سے مسیج آرہے تھے
اس کا دل تو چاہ رہا تھا اُن سب کا نمبر بلاک کردے ۔۔
شہر چھوڑ کر کہیں رو پوش ہو جائے۔۔۔۔۔
لیکِن ایسا کرکے وہ اور ذلیل نہیں ہونا چاھتا تھا
آخر بدل نخواستہ اٹھ کر گھر آگیا۔۔۔
گھر کے لان میں روشنی کا سیلاب آيا ہوا تھا۔۔۔
کہنے کو چھوٹی سی پارٹی اتنی بھی چھوٹی نہیں تھی۔۔۔
اچھا خاصا مجمع تھا۔۔۔۔شورشرابا تھا
وہ گاڑی بن دهوک گیٹ کے اندر گھسا لایا تھا۔۔۔۔۔۔
گاڑی کی بھاری آواز نے باقی ساری آوازوں کو سنا ٹے میں بدل دیا تھا۔۔۔
لان مہمانوں سے بھرا تھا اور سب حیرت سے اُس انسان کو دیکھ تھے تھے جو رات میں کالا چشمہ لگائے سب کی موجودگی سے لا پرواہ بائیک لیے اندر گھس رہا تھا۔۔۔۔۔۔
وائٹ شرٹ گرین کارگو میں بلکل ٹپوری والے حلیے میں بٹن کھلے چھوڑے شان سے چلا آرہا تھا
چہرے پر ایک شکن تک نہیں تھی۔۔۔کِسی کو دیکھنا اُس کے لیئے ضروری نہیں تھا
عباس صاحب نے تاسف سے اُسے دیکھا جو بائیک اپنی والی جگہ پارک کرکے اندر جا رہا تھا
اسکے اندر جاتے ہی راہب کو اُنہوں نے اُس کے پیچھے بھیجا۔۔۔جِس نے جلدی سے عبّاس صاحب کا پیغام اُس تک پہنچایا کے تیار ہو کر باہر آجائے۔۔۔
وہ سنی ان سنی کرکے اپنے روم میں گھس گیا۔۔۔۔۔۔
اِس کے روم میں پہنچنے کی دیر تھی کے نین اُسے دیکھتے ہی بیٹھے سے اٹھ گئی اور گہرا مسکرائی۔۔۔۔۔۔جیسے اُس کے آنے سے کھل اٹھی ہو۔۔۔۔۔۔
وہ ڈیپ ریڈ ساڑھی میں مکمل تیار اُس پر بجلیاں گرانے کو کھڑی تھی۔۔۔آج بال کھلے کمر پر بکھرے تھے۔۔۔۔۔لبوں پر گہری سُرخ لپ اسٹک تھی۔۔۔۔اور آنکھوں میں گہرا کاجل
ساحل نے تو اُسے ساڑھی میں دیکھتے ہی نظریں گھمالی کیوں کے وہ کوئی رسک نہیں لینا چاہتا۔۔۔۔۔
آپ آگئے۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے شرما کر مسکرا کر اطراف کے ماحول کو حسین بنانے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔
اس کا دورہ ابھی تک ختم نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔
وہ دانت بھنچے ہوئے بڑبڑایا۔۔۔۔۔نین اُس کی طرف بڑھی تو اُسے کن انکهیو سے گھورا۔۔۔۔۔۔
اتنی دیر کر دی آپ نے۔۔۔۔میں کب سے آپ کا انتظار کر رہی ہوں۔۔۔۔
وہ آنکھوں میں خفگی لیے اُسے شکوہ کرنے لگی۔۔۔اُس کی ایکٹنگ پر وہ عش عش کر اٹھا۔۔
کیوں صبح جو خون پیا وہ کم پڑ گیا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے بولا اور آگے بڑھ گیا نین نے نا سمجھی سے اُس کی پشت کو دیکھا
جلدی سے تیار ہو جائیے ہمیں نیچے جانا ہے نہ۔۔۔۔
وہ اُس کی بات پر سر جھٹک کر مسکرائی۔۔۔۔۔ اور آگے بڑھی جہاں وہ اپنے لیے کپڑے نکال رہا تھا
میں نہیں آرہا تو جا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بیزاری سے بولا
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں میں ایسے کیسے جا سکتی ہوں آپکے بنا۔۔۔۔۔۔یہ پارٹی خاص ہمارے لیے دی ہے بڑے ماما نے اگر آپ نہیں چلے گے تو کیسا لگے گا۔۔۔
ویسے بھی نانو کہتی ہے شادی کے بعد میاں بیوی کو کسی بھی تقریب میں اکیلے نہیں جانا چاہئے۔۔۔۔
وہ پریشانی سے اُسے سمجھا رہی تھی اور وہ ایک ٹک اُسے دیکھ رہا تھا ایسا محسوس ہوئے رہا تھا جیسے آس پاس سیریل کا میوزک گونج رہا ہو۔۔۔۔۔۔
جہاں معصوم دلہن اپنے جلاد پتی سے منتیں کر رہی ہو
تیرا دِماغ خراب ہے کیا۔۔۔۔۔صبح تو۔میکو لات مارتی ہے اور شام کو نہا دھو کر میرے پیچھے پڑ جاتی ہے ۔۔۔۔۔چل کیا رہا ہے۔۔۔۔
وہ اُسے غصّے سے گھورتا ہوا بولا نین کچھ جواب دیتی اُس کے پہلے ہی دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔
تُم اب تک تیار نہیں ہوئے بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیچے سب اِنتظار کر رہے ہیں تم دونوں کا۔۔۔۔چلو جلدی سے آجاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے اندر آتے ہی شکوہ کیا اُس نے سر اقرار میں ہلایا تو نین کھل کر مسکرائی اور وہ اُسے گھورتا واشروم کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔
دادی کو تو انکار کر نہیں سکتا تھا اس لیے اُسے پارٹی کا حصہ بننا پڑا۔۔۔۔۔
بلیک شرٹ گرے جینس میں لا پرواہ سا تیار ہوا بھی وہ بہُت پر کشش لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
نین اُس کے ہمراہ چلتی پارٹی میں پہنچی تب کئیں نظریں اُن کی متعارف تھیں۔۔۔۔۔
کیوں کے وہ ہر لحاظ سے ایک دوسرے کے لیے پرفیکٹ تھے۔۔۔۔نین کی خوبصورتی دیدنی تھی تو ساحل کی بھرپور پرکشش پرسنلٹی بھی قابلِ قدر تھی
نین کی نظر جب فلک اور داؤد پر پڑی تو ایک پل کو وہ سانس روک گئی تھی۔۔۔۔جِسم میں جیسے کِسی نے جلتے انگارے بھر دیئے تھے۔۔۔۔پورا بدن سلگ رہی تھا ۔۔۔۔
دیکھنے والوں کے لیے تو وہ مسکرا رہی تھی لیکن اندر ہی اندر کتنے دھماکے ہو رہے تھے یہ صرف وہ جانتی تھی۔۔۔۔۔
ایک۔بار بھی کسی نے اس کے بارے میں نہیں سوچا تھا کے وہ اُن دونوں کے درمیان رہ کے کیسا محسوس کریگی ۔اُسے کِتنی تکلیف ہوگی۔۔۔۔
بس اُسے لا کر کھڑا کے دیا تھا سب کے درمیان کے وہ غیروں کے آگے رو بھی نہ سکے
اور وہ بھی ضبط کی حدوں کو توڑ کے اپنے درد کو برداشت کر رہی تھی۔۔۔۔
اُس نے لاکھ سب کے کہنے پر بھی دو دن میں ایک نوالہ نہیں لیا تھا۔۔۔۔۔۔اور ان دو دنوں سے وہ مسلسل ایک جنگ لڑ رہی تھی۔۔۔۔۔۔جِسم اس ظلم پر بے جان ہوا جا رہا تھا لیکِن وہ پھر بھی خود کو گھسیٹ رہی تھی۔۔۔
اب بھی اپنے چکراتے سر پر قابو پانے کی کوششں کرتے ہوۓ بمشکل مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔۔
لیکن وہ اُس کے ساتھ کھڑا اُس کی ایک ایک حرکت کو محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔اس سے معمولی فاصلھ ہونے کے باوجود نین کے بدن میں ہوتی لرزش اُس سے چھپی نہیں تھی۔۔۔
جبھی وہ اپنا توازن کھو کر لڑکھڑائی تو اس نے فوراً اُسے تھام لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب ہی اُس کی طرف متوجہ ہوۓ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب کے ساحل نے اُسے چھوا تو اُس کا بدن تپتا ہوا محسوس ہوا۔
نین آنکھیں بند کرکے کھولتے ہوئے سیدھی ھو کر اُس سے الگ ہوئی
نین بیٹا تم ٹھیک ہو نا۔۔۔۔۔۔
آسیہ بیگم نے فکر مندی سے پوچھا۔۔۔۔نانو زینب جیا روما عشرتِ شیرین سب پریشان سے اُس کے پاس کھڑے تھے۔۔۔۔۔۔
داؤد بھی اُسے دیکھ رہا تھا لیکن پاس جانے کی غلطی نہیں کی ۔۔۔۔۔۔۔
میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ سب پریشان مت ہو نانو۔۔۔۔آۓ ایم فائن۔۔۔۔۔
وہ آسودہ مسکرائی۔۔۔۔۔
ہاں کوئی پریشان مت ہونا اس کا نوکر ہے نہ پاس میں کھڑا اسے سنبھالنے کو۔۔۔۔۔
وہ اُسے گھور کے بولا نین نے معصوم شکل بنائے اُسے دیکھا
دیکھ ابھی کے ابھی اندر دفعہ ہو جا۔۔بول رہا ہوں تیرے کو
وہ دبی آواز میں اس پر بھڑکا زینب نے اُس کے اس طرح بات کرنے پر غصے سے اُسے دیکھا
نین۔۔۔۔۔۔۔تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔۔۔تم نے کل سے کچھ نہیں کھایا۔۔۔اندر چل کر کچھ کھا لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عشرت نے اُسے فکرمندی سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔زینب تو خاموش کھڑی تڑپ رہی تھیں کیوں کے نین تو کوئی بات سننے والی نہیں تھی
نہیں بھابھی میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ایسے پارٹی کے درمیان سے جانا اچھا نہیں لگتا نا۔۔۔۔۔۔۔
وہ انکار کرتی ہوئی بولی ساحل نے ضبط سے آنکھیں بند کرکے کھولیں اور ایکدم سے اُسے اپنے بازؤں میں اٹھا لیا وہ بری طرح بوکھلا کر اُس کی گردن کو تھام گئی
اور حیرت سے منہ کھولے اُسے دیکھنے لگی
وہ سب کی حیران نظروں کو نظر انداز کیے اُسے لیے اندر کی طرف بڑھا
ساحل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیچے اتارو مجھے۔۔۔۔سب دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔
وہ سب گھر والو کو خود کو تکتے دیکھ شرمندہ ہوئی
لیکِن ساحل ان سنی کرکے اُسے اندر لے آیا اور سیدھے ڈرروینگ روم کے صوفے پر اتارا۔۔۔۔۔۔
اُن کے پیچھے ہی روما ہاتھ میں کھانے کی پلیٹ لے کر اندر آئی۔۔۔۔ساحل نے اُس کے ہاتھ سے پلیٹ لی اور صوفے پر اُس کے سامنے بیٹھ گیا
منہ کھول۔۔۔۔۔۔۔۔
اسپون اُس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔لیکِن وہ منہ پھلائے بیٹھی رہی
ویسے تو چوبیس گھنٹے منہ بند نہیں ہوتا ۔۔۔۔اب کھولنے بول رہا تو کھل نہیں رہا
وہ اُس نے بیزاری سے آنکھیں گھماتے ہوئے کہا روما اُس کی بات پر مسکرانے لگی
مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ روٹھے ہوئے انداز میں بولی
کھا لے ۔۔۔۔۔میرا دماغ تیری خوراک نہیں ہے جو بس اسے کھانے کے پیچھے پڑی رہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔منہ کھول۔۔۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے کہتا اسپون ذبردستی اُس کے لبوں سے لگا گیا تو نین کو منہ کھولنا پڑا ۔۔۔
ایک چمچ مزیدار بریانی اندر جاتے ہی اُس کی بھوک جاگ اٹھی اور اُس نے دوسرے نوالے کے لیے خود منہ کھول دیا
ہاں لے۔۔۔۔۔۔تیرے باپ نے خریدا تو ہے میرے کو تیرے ناز اٹھانے کے لئے۔۔۔
وہ دوسرا چمچ اُس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔۔۔۔
روما اُس کی باتوں کو انجوائے کر رہی تھی کیوں کے بھلے باتیں تلخ تھی لیکن وہ اُس کے لیے فکر مند ہو رہا تھا
نین نے خاموشی سے تھوڑا کھانا کھا کر پھر اُسے روک دیا۔۔۔
وہ بھی پلیٹ ٹیبل پر رکھتا وہاں سے اٹھ گیا۔۔۔۔
تُو یہاں سے اٹھی نا تو دنیا سے اٹھا دوں گا۔۔۔۔۔
اسے اُنگلی اٹھا کر وارن کیے خود اپنے روم میں چلا گیا اور روما اُس کے پاس بیٹھ گئی تاکہ وہ اکیلی پریشان نہ ہو۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
