Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
عشاء کی نماز پڑھ کر اُس نے اللہ سے اپنے اور داؤد کے مستقبل کے ساتھ فلک کے لیے بھی دعا مانگی۔۔۔۔۔۔کے اللّٰہ اُسے صبر کے ساتھ ڈھیر ساری خوشیاں بھی دے
داؤد نے جب سے اُسے فلک کے متعلق بتایا تھا تب سے وہ کتنی اُداس تھی اُسے سوچ سوچ کر اُس پر ترس آرہا تھا۔۔دل اُداس ہو رہا تھا۔۔۔۔
کھانے کے بعد سب اپنے اپنے کمرے میں جا چکے تھے پر وہ وہیں بیٹھی رہی داؤد کے اِنتظار میں۔۔۔۔
وہ صبح اُس سے بات کرنا چاہتا تھا لیکن وہ اچانک ہی اٹھ کر چلی گئی تھی کیوں کے اُسے لگ رہا تھا کے وہ روتے ہوئے کتنی گندی لگ رہی ہو گی اور داؤد کیا سوچے گا۔۔اس لیے وہ اندر جا کر رونا چاہتی تھی
وہ بے دلی سے ٹی وی کے چینل بدل رہی تھی کے اُسے کچن سے رونے کی آواز آئی
وہ حیران ہو کر کچن کی طرف بڑھی ۔۔۔۔۔کے آخر کون ہو سکتا ہے
اندر دیکھا تو چندا فون پر بات کرتی ہوئی آنسو بہا رہی تھی۔
نین پل میں سمجھ گئی کے وہ اپنے ہارے ہوئے عشق پر رو رہی ہے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔اُسے چندا سے بے حد ہمدردی محسوس ہوئی
جس نے فلک کا دکھ ایک پل کو بھلا دیا
لیکن اُسے چندا پر غصّہ بھی تھا کے وہ شکل سے بھولی اور اندر سے کتنی چالاک تھی۔۔۔
جو سب کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اُس کے نانا جان کے جننت جیسے گھر کو گندا کر رہی تھی
چندا نے فون رکھا اور اپنے آنسو پوچھنے لگی تو وہ غصّے سے اُسے دیکھتی اُس کے پاس پہنچی
اب رونے کا کیا فائدہ۔۔۔۔۔۔پہلے سوچنا چاہیے تھا نہ۔۔۔۔۔
وہ اُسے نخوت سے دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔چندا ایکدم سے اُس کے آنے پر بوکھلا گئی
جی بي بی جی۔۔۔۔۔۔۔
وہ نا سمجھی سے نین کو دیکھنے لگی
مجھے تمہارے اور تمہارے اُس مجنوں کے بارے میں سب کچھ معلوم ہے۔۔۔میرے سامنے زیادہ بھولی نا بنو اب
نین نے اُسے آنکھیں چھوٹی کیے گھورا وہ گھبرا کے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے اُسے اپنے منگیتر سے اس گھر میں ملنے کو منع کیا تھا لیکن وہ پھربھی چھپ چھپ کر اُس سے ملتی رہتی تھی۔۔۔
نین کو یہ بات پتہ کل گئی تھی مطلب اب رابعہ بیگم کے ہاتھوں اُس کی شامت آنے والی تھی
تمہیں شرم نہیں آئی ذرا بھی۔۔۔۔۔۔۔اپنے غریب لا چار ماں باپ کی عزت کا خیال نہیں آیا اپنا منہ کالا کرتے وقت۔۔۔۔۔۔۔اور وہ بھی کس کے ساتھ۔۔۔۔۔
میرے ماما کا بیٹا ہی ملا تھا تمہیں۔۔۔۔۔
نین اُسے گھبرائے ہوئے دیکھ اور زیادہ غصے سے بولی
بی بی جی مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
نین کی باتیں اُس کے بلکل پلّے نہیں پڑی
آ ہا ہا۔۔۔۔
دیکھو تو بھولی کو۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنا بڑا کانڈ کر دیا اور کہتی ہے مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔۔۔
وہ اُس کی نا سمجھی پر بھڑک اٹھی۔۔۔چندا ہڑبڑا کر پیچھے ہوئی
تم جیسی لڈکیوں کی وجہ سے ہم ساری لڑکیاں بدنام ہوتی ہے۔۔۔۔ہم سب کو بھی لوگ اسی نظریے سے دیکھتے ہیں
سماج میں ہمارا چلنا مشکل ہوجاتا ہے۔۔۔۔
اتنی تو لڑکیاں لندن میں رہ کر بولڈ نہیں ہوتی جتنی یہاں کی ہو گئی ہے۔۔۔۔۔شادی سے پہلے یہ سب چھی۔۔۔۔
وہ شدید غصے اور ضبط سے اُسے سناتی گئی اور چندا آنکھیں پھاڑے ساکت اُسے دیکھنے لگی
اب میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو کچھ بولو گی۔۔۔
وہ جھنجھلائ۔۔۔
میں نے کچھ نہیں کیا بی بی جی۔۔۔۔۔۔۔۔
چندا اچانک ہی اُس کے چلانے سے رونی صورت بنائے بولی۔۔۔اور نین کا ننھا سا دل پسیج گیا۔۔۔۔۔اُسے چندا پر ترس آگیا۔۔تبھی اُس نے آنکھیں بند کئے اپنا غصّہ ضبط کرنا چاہا اور اب نرمی سے بولی
میں مانتی ہوں کے اُس نے تمہیں اپنے جال میں پھنسایا لیکن تمہیں بھی تو اللہ نے عقل سے نوازا ہے نہ ۔۔۔تم اتنی بڑی غلطی کیسے کر بیٹھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہیں اتنا بھی نہیں پتہ کے ایک لڑکی کی عزت اُس کی کل کائنات ہوتی ہے۔۔۔۔
تم نے اپنی کائنات اُس پاپی لٹیرے ۔وائلڈ مین کے ہاتھوں میں سونپ دی۔۔۔۔
اتنی بڑی بے وقوفی کیسے کر سکتی ہو تم
وہ اب زرا نرم لہجے میں لیکِن سختی سے اُسے سمجھانے لگی۔۔۔۔چندا اب بھی حیرت سے اُسے دیکھتی اُسے سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی
آگے کیا سوچا ہے تم نے ۔۔۔۔۔شادی کی بات کی اُس سے۔۔۔۔۔
نین نے گہری سانس لیتے ہوئے پوچھا
جی وہ کہتے ہیں اتنی جلدی شادی نہیں کر سکتے ۔۔۔۔۔۔ابھی ہماری عمر ہی کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہتے کہتے چندا اچانک شرما کے اُنگلی چبانے لگی
نین نے اُسے سر سے پیر تک دیکھا
کمال ہے۔۔۔۔۔۔ایلو ایلو کرتے ٹائم عمر یاد نہیں آئی تم دونوں کو
اُس نے ناگواری سے کہا۔۔چندا نے پھر نا سمجھی سے اُسے دیکھا
ابھی نہیں تو کیا اپنی اولاد کے دسویں جنم دن پر شادی کرنی ہے تم دونو نے۔۔۔۔۔۔اُلّو کا پٹھا۔۔۔۔۔کمینہ۔۔۔۔
وہ اچانک ہی غصے میں آئی چندا ایکدم سے سیدھی ہوئی
سب سمجھتی ہوں میں اُس کے بہانے۔۔
سوچتا ہے کے اپنے راؤڈی دماغ سے شاطر گری کرکے تم سے اور اپنے کارنامے سے جان چھڑا لیگا۔۔۔
لیکِن شاید وہ بھول گیا کے میں ابھی زندہ ہوں۔۔۔
اُس نے کارنامہ کہہ کر چندا کے پیٹ کی طرف دیکھا
میرے ہوتے ہوئے۔۔۔۔۔
میرے نانا جان کے گھر میں۔۔۔
میرے ماما کا بیٹا
اتنی آسانی سے نہیں جیت سکتا۔۔۔
وہ آنکھوں میں عزم لیے بول رہی تھی اور سب چندا کے سر سے گزر رہی تھی
اسے ساری دنیا کے آگے قبول کرنا ہوگا کے یہ کارنامہ اسی کا ہے۔۔۔۔
وہ ہاتھ کو جھٹکا دیتے ہوئے سیدھی ہوئی
بی بی جی وہ بہُت اچھے ہے۔۔۔۔۔۔۔مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں۔۔۔
چندا کو احساس ہوا کہ وہ اُس کے منگیتر کو برا بولے جا رہی ہے تو دھیمی آواز میں منمنای۔
نین کا دِماغ گھوم گیا بڑے ضبط سے اُسے دیکھا
چندا میری بہن۔۔۔۔۔۔۔۔ عشق اچھے اچھے کو اندھا بنا دیتا ہے۔۔۔۔اس لیے تم وہ نہیں دیکھ پا رہی جو میں دیکھ رہی ہوں۔۔۔۔۔۔اوپر سے تم بہت بھولی ہو۔۔۔۔۔۔وہ تمہیں اپنے جھانسے میں پھنسا کر تمہاری زندگی برباد کردینا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
تم نہیں جانتی کے وہ کتنا بڑا دھوکے باز اور لیچڑ آدمی ہے۔
وہ دانت پیستے ہوئے اُسے ساحل کا اصلی روپ دکھانے کی کوشش کر رہی تھی
اگر تم نے ابھی اپنی آنکھیں نہیں کھولیں تو بہُت پچتاؤگی۔۔۔۔
ایک دن آئیگا جب تم کہیں کی نہیں رہ جاؤ گی۔۔۔
دنیا میں تمہارا جینا مشکل ہوجائے گا۔۔۔۔
تمہارے بچہ بھکاری بن کر در بدر بھٹکے گا۔۔۔
اور وہاں اُس کا باپ کسی اور مصوم سی چندا کے ساتھ وہی راس رچانے میں مگن ہوگا۔۔۔۔۔
وہ چندا اور اُس کے بچے کے ماضی کو لے کر پریشان بھی تھی ۔۔۔
آپ کہنا چاہتی ہے کے وہ مجھے دھوکہ دے رہا ہے۔۔۔۔وہ مجھ سے پیار نہیں کرتا۔۔۔۔۔
چندا پہلی دفعہ اندازہ لگا کر صدمے سے بولی اور نین نے تھکی تھکی سی سانس خارج کی
اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کے تمہیں میری بات سمجھ آئی۔۔۔۔
اب تو میرا سٹیمنا بھی ختم ہونے کے قریب ہے۔۔۔۔۔
وہ اُکتا کر دھیرے سے بڑبڑا ئی
لیکِن ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔۔کل ہی تو اُنہوں نے مجھے کہا تھا کہ وہ میرا ساتھ کبھی نہیں چھوڑیں گے۔۔۔۔۔۔
چندا تقریبا رونے کو ہو گئی
کیوں کے وہ جانتا ہے تم اُس کی باتوں پر یقین کرلو گی۔۔۔۔
سب میری طرح نہیں ہوتے نا جو سامنے والے کی شکل دیکھ کر اُس کے کمینے پن کا اندازہ لگا لے۔۔۔۔
نین نے اُسے اپنی عقل و سمجھداری سے متعارف کرایا
اب میں کیا کروں بی بی جی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پریشان سی نین کو دیکھنے لگی نین نے سوچنے والے انداز میں اِدھر اُدھر دیکھا پھر ایکدم سے آنکھیں کھول کر چندا کودیکھنے لگی۔
جس کا مطلب تھا سمجھدار دِماغ میں خطرناک آئیڈیا آ چکا ہے
تم اُسے ابھی کے ابھی پیچھے والے گارڈن میں بلاؤ۔۔۔
اور اس سے کہو کے اگر تم سے سچ میں پیار کرتا ہے تو کل کے کل تم سے نکاح کرے۔۔۔۔
اُسے اُس کے سارے وعدے یاد دلاؤ۔۔۔
دیکھتے ہیں کے تمہارے پیار میں کتنی طاقت ہے
نین نے چندا کو دونوں کندھوں سے تھامتے ہوئے کہا۔۔
اور اگر اُس نے انکار کیا تو پھر دیکھو میں کیا کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔
رخ بدلا اور اپنی شرٹ کی آستین اوپر چڑھاتے ہوئے اس طرح بولی کے چندا گھبرا گئی ۔۔پتہ نہیں اُس کے منگیتر کا کیا حشر ہونے والا ہے
ٹھیک ہے بی بی جی۔۔۔۔۔میں اُسے ابھی بلاتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔
چندا سر ہلاتی باہر نکل گئی۔
ساحل شیرازی اب تمہاری خیر نہیں۔۔۔۔۔۔۔
آج دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو کر رہے گا۔۔۔۔
وہ ساحل کو تصور میں لا کر آنکھوں میں چنگاریاں لیئے اُسے گھورنے لگی۔۔
اُس نے ایک ایجنسی میں فون کرکے چار پانچ تگڑے پہلوانوں کو بلوا لیا تاکہ اگر ساحل نکاح سے انکار کرے تو وہ وہیں پیچھے کے گارڈن میں اُس کی قبر بنا کے اُس کا کھیل ختم کردے۔۔۔۔۔
کیوں کے اُس کے حساب سے ایسے لوگوں کا انجام موت ہی ہونا چاہئے
وہ ساحل کے انجام کو سوچ کر خوش ہوتی ہوئی باہر نکلی تاکہ پیچھے کے گارڈن میں جا کر دیکھ سکے ساحل چندا کو کونسی گٹھی پلا کر اپنے قابو میں کرتا ہے
ابھی دروازے سے باہر نکل کر پچھلے گارڈن کی طرف جانے ہی لگی تھی کے اُسے اندر ساحل کی بائیک آتی دکھائی دی۔۔۔۔
وہ رک گئی۔۔اسے یقین ہو گیا کے وہ چندا کے بلاوے پر ہی آیا ہے۔
۔جب کے اُس بلا کو سامنے دیکھ کر ساحل نے اندر آتے آتے بائیک کا رخ واپس موڈ دیا اور گھر سے باہر رہنے میں ہی بھلائی جانی ورنہ پتہ نہیں اب کس کے بچے کا باپ ہونے کا الزام اُس پر لگا دیتی ۔۔۔۔
ارے کہاں جا رہے ہو تم۔۔۔۔۔۔رکو۔۔۔۔۔
وہ حیرت سے اُسے پکارتی رہ گئی لیکن وہ گیٹ سے باہر نکل کر غائب ہو گیا۔۔۔نین پیر پٹختی ہوئی آگے بڑھ گئی
اُس نے گیٹ کے باہر سے ہی جھانک کے دیکھا اور جب تسلی ہو گئی کے وہ وہاں نہیں ہے تو شکر کی سانس لیتا واپس اندر آگیا
بائیک پورچ کے نیچے لگائی اور اُتر کر اندر جانے ہی لگا کے وہ آتما کی طرح ایکدم سے سامنے ٹپک گئی۔۔۔وہ بوکھلا کر سیدھا ہوا
تم ابھی تک یہاں ہو۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے دیکھ کر ہاتھ باندھتے ہوئے بولی ساحل نے دانت بھنچے
یہی تو بات ہے اپن کی ۔۔۔۔۔ورنہ تیرے کو دیکھنے کے بعد تو آدمی سیدھا قبر میں پہنچ جائے
وہ غصے سے بولا
تمہیں تمہارے کیے کی سزا دلائے بغیر مرنے بھی نہیں دوں گی میں۔۔۔۔۔۔۔
نین ابرو اٹھا کر اُسے وارن کرتے ہوئے بولی اور اُس کی بات پر ساحل کا دِماغ گھوما
اے شانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے آگے بڑھا
اے شانے۔۔۔۔۔۔۔
نین نے بھی اُسی کے اندازِ میں جواب دیا
اے سٹکیلی۔۔۔۔۔۔
ساحل نے آگے ہوئے ہاتھ اُٹھایا
اے سڑ یلے ۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے بھی اُس کی نقل کی
اے کھسکیلی مرغی۔۔۔۔
وہ اُس کے اور پاس ہوا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا
اے ہٹیلے بندر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے اُس کے کندھے پر ہاتھ مارا۔جیسے ساحل نے غصے سے دیکھا
ذیادہ شانی بن رہی ہے۔۔۔۔۔ایک رفا ٹا پڑا نا تو تُو ادھر اور تیرا منہ اُدھر گرے گا۔۔۔۔۔۔
ساحل نے اُس کے آگے چٹکی بجائی اور نچلا لب دانتوں میں دبایا
ہاتھ تو لگا کے دکھاؤ۔۔۔۔۔۔اگر تمہارے ساحل کا سا ہٹا کر تمہیں حل نہیں کر دیا تو میرا نام بھی نین تارا نہیں ۔۔۔۔۔۔
وہ بھی اُس کی ہی طرح چٹکی بجا کر بولی اور لب دبا یا۔۔۔۔۔
ساحل نے پ
ماتھے پر بل ڈالے اُسے گھورا
تم ہوں گے کہیں کے غنڈے لیکِن یہاں کی غنڈی میں ہوں
میرے ساتھ زیادہ لوفر گری کی نا تو یہیں کِسی پیڑ پر لٹکے ہوئے ملو گے۔۔۔
اب میں نے بھی يو ٹیوب سے ممبئی کی ٹپوری بھاشا سیکھ لی ہے تاکہ تمہیں تمھارے انداز میں جواب دے سکوں
اُس نے اپنا کالر جھٹکتے ہوئے فخر سے بتایا ساحل ایکدم سے ہنسنے لگا اُس کے گال پر ڈمپل گہرا ہونے لگا۔
وہ حیرت سے اُس کی ہنسی کو دیکھ رہی تھی
کیا ہوا اپنی انسلٹ پر ہنسی آرہی ہے۔۔۔۔
وہ کھسيا کر بولی
نہیں داؤد کی قسمت پر۔۔۔۔۔ اُس کی تو واٹ لگ گئی
وہ ہنستے ہوئے بولا
کیا مطلب ہے تمہارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے غصے سے اُس کا کالر پکڑ لیا۔۔۔اور ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بولی۔۔ساحل کی ہنسی پل میں تھم گئی۔۔۔۔۔سرد نگاہوں سے اُسے ایسے دیکھا کے وہ خود ہی گھبرا کے گلا تر کرتی اُس کا کالر چھوڑ کر پیچھے ہو گئی۔۔
تمہیں داؤد کی نہیں اپنی فکر کرنی چاہیے۔۔کیوں کے آج تمہاری اور چندا کی زندگی کا فیصلہ ہے۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی گھبراہٹ مٹاتے ہوئے بولی۔۔۔جب کے چندا کا نام سن کر ساحل کے خون میں ایک دم سے اُبال ااٹھا
چندا کی ماں کی آنکھ۔۔۔۔۔۔۔
دیکھ اگر تونے پھر سے اُس چندا اور اُس کے پاپی پیٹ والا ڈراما چالو کیا نا تو ماں قسم میں تیرے کو اِدھر سے ہی امریکہ پارسل کر دوں گا۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایکدم ہی غصے میں بھڑک اٹھا کے نین گھبرا گئی ۔۔
لیکِن چندا کو انصاف دلانے کے۔لیے ہمت تو رکھنی تھی
کتنے بڑے دھوکے باز ہو تم۔۔۔وہاں اپنی میٹھی میٹھی باتوں سے چندا کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہو۔اُس کے ساتھ ایلو ایلو کرتے ہو اور یہاں میرے سامنے اُسے پہچاننے سے بھی انکار کرتے ہو۔۔۔۔جھوٹے مکّار۔۔۔۔
وہ نا گواری سے بولی
بیوقوفوں کی رانی۔۔۔۔۔۔اپن نے کسی چندا کا منہ بھی نہیں دیکھیلا ہے آج تک کے کیسا ہوتا ۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے بولا۔اُسے یقین نہیں ہوا کے اتنی خوبصورت لڑکی اتنی بیوقوف ہو سکتی ہے
اچھا تو ٹھیک ہے چلو میرے ساتھ اور یہی بات اُس کے سامنے بولو۔۔۔ کم سے کم اُس کی آنکھوں سے تمہاری جھوٹی مُحبت کا پردہ تو ہٹیگا ۔ کیا ہوا ڈر گئے۔۔۔۔
وہ اُسے اکسانے لگی اور وہ انکار نا کر دے اس لیے اُسے ڈر کا طعنہ بھی دے مارا
چل کم سے کم یہ قصہ ختم تو ہوگا۔۔۔۔۔۔
وہ دانت پیس کر بڑبڑاتا ہوا بولا اور نین خوش ہو کر جلدی سے گارڈن کی طرف بڑھی
لیکن پیچھے بھی دیکھتی رہی کے کہیں وہ بیچ میں ہی بھاگ نا جائے۔۔۔۔
لیکِن وہ کیوں بھاگتا۔۔۔۔۔اُسے تو اپنے ہونے والے بچے کی ماں کا چہرہ دیکھنا تھا
دونوں اُس طرف پہنچے تو وہاں ایک الگ ہی رومانٹک سین چل رہا تھا۔۔۔۔۔
چندا کے ساتھ ایک آدمی کھڑا اُس کے دونوں ہاتھ تھامے اُس سے باتیں کر رہا تھا اور وہ شرما کر نیچے منہ کیے مسکرا رہے تھی
اب یہ کون ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے آنکھیں پھاڑے دونوں کو دیکھا
یہ ہے تیری چندا کا چندو۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے جتاتے ہوئے کہا وہ حیرت سے چندا کو دیکھنے لگی۔۔۔لیکِن اُسے اپنی سمجھداری پر بھی پورا یقین تھا۔۔۔
اچانک ہی وہ ساحل کی طرف مڑی
کیسے مرد ہو تم ۔۔۔غیرت نام کی کوئی چیز ہے کے نہیں۔۔۔۔ایک پرایا آدمی تمہاری گرل فرینڈ سے چپک رہا ہے اور تمہیں کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا۔۔۔۔۔تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہے وہ عورت۔۔۔
وہ غصے سے واپس اُس ٹاپک پر آگئی ساحل نے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر پر تھپڑ مارا۔۔۔۔مطلب سر پیٹا
میں کیا تیرے کو شکل سے بشیر بھنگار والا لگتا ہوں جو ایسے کباڑ میں انٹریسٹ لوں گا۔۔۔۔۔۔
اپن کی گرل فرینڈ کو جب دیکھے گی نہ تو بے ہوش ہو جائے گی تو۔۔۔۔۔
وہ ابرو اٹھا کے جتاتے ہوئے بولا اور اُس کی بے وقوفی پر افسوس کرتا ہوا وہاں سے چلا گيا
مطلب چندا اس کی بات کررہی تھی وہ اس لڑکے سے پیار کرتی ہے۔۔۔۔۔
وہ ابھی بھی اپنی پہیلی میں اُلجھی ہوئی تھی۔۔شدید صدمے میں تھی لیکن اپنی سمجھداری پر شک بھی نہیں تھا
پیار اس سے اور ایلو ایلو ساحل کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ ای ی ی ی
آخر میں اُس نے وہی نتیجہ اخذ کیا اور جو اُس کی سمجھداری پر اُنگلی نا اٹھائے اور ایک نیا سین سوچ کر جھجھری لیتی ہوئی وہنٹ سے بھاگ گئی
∆∆∆∆∆∆∆
زندگی سے تھکی تھکی ہو کیا
تم یونہی بے وجہ جی رہی ہو کیا
تم کو چھو کر چمکنے لگتا ہوں۔۔
تم کوئی نور کی بنی ہو کیا
دیکھ کر تم کو باغ مہکتے ہے۔۔۔
تم گلوں سے بھی بولتی ہو کیا
آج بھی شام بھیگی بھیگی لگتی ہے
تم کہیں پھر سے رو رہی ہو کیا۔۔۔۔۔
میں تو سوچتا ہوں اب دن رات یہی
تم۔ایک پل بھی مجھے سوچتی ہو کیا
وہ خاموش آنکھیں مندیں گاڑی میں بیٹھی ہوا کے جھونکوں کو چہرے پر محسوس کر رہی تھی ۔
اتنے ہفتے بعد وہ ہسپتال سے باہر نکلی تھی اُس نے داؤد سے نہیں پوچھا تھا کے وہ اُسے کہا لے جا رہا ہے لیکن اُسے اندازہ تھا کہ وہ اُسے کسی یتیم خانے میں چھوڑنے جا رہا ہوگا۔
آخر کوئی غیر کب تک اور کیوں اُسے آسرا دیتا ۔۔۔۔
لیکن جو بھی تھا اب کوئی خوف نہیں تھا۔۔۔۔۔
بس زندگی کے آخری پنّے کا انتظار تھا
کیوں کے کہتے ہیں کہانی کے انت میں سب ٹھیک ہوجاتا ہے
گاڑی رکی تو اُس کے کانوں سے پانی کا شور ٹکرانے لگا اُس نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں۔۔۔۔
سمجھنے کی کوشش کی وہ کس جگہ ہے
داؤد نے اُس کی جانب کا دروازہ کھول کر اُس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔۔۔۔۔فلک نے اُس کے ہاتھ کو نظر انداز کیے گیٹ کے ہینڈل کا سہارا لیا اور گاڑی سے اتر گئی
داؤد لب بھینچے اپنا ہاتھ دیکھتا رہ گیا
وہ گاڑی سے نکل کر باہر آئی اورسامنے جب ندی پر نظر پڑی تو سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں جِسم کو بجلی نے چھو کر لرزا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔چہرے کا رنگ ایکدم سے سفید ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔دل زوروں سے دھک دھک کرنے لگا۔۔۔۔
جسم میں شعلے بھرنے لگے ۔۔۔۔۔۔
وہ وہی جگہ تھی جہاں سکندر نے ارحم کو مارا تھا ۔۔۔۔
اُس کے بالوں میں آگ لگائی تھی۔۔۔۔۔اُسے اپنی شیطانیت کا ایک اور روپ دکھایا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ساکت ہو گئی۔۔۔۔۔جِسم کا سارا خون جیسے منجمد ہو گیا۔۔۔
پہچانتی ہو نہ اس جگہ کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہیں جان لی تھی نا اُس نے تمہارے بھائی کی۔۔۔۔۔۔
داؤد نے اُس کے پل پل بدلتے بے رنگ چہرے کو دیکھا۔۔۔۔۔
وہ چونک کر خشک نگاہوں سے داؤد کی جانب دیکھتی تیز تیز سانسیں لینے لگی۔۔اُسے لگا اُس کا دم گھٹ رہا ہے
میں نے اتنے دنوں میں تمہیں کبھی روتے ہوئے نہیں دیکھا۔۔۔
تم نے اپنے غم کو دل میں پناہ دے کر سکون کے راستے روک دیے ہیں فلک۔۔
وہ ایکدم سے بات بدل گیا۔تھا۔۔۔۔۔۔۔فلک کی سانسیں مزید بکھرنے لگی تھی۔۔۔۔۔
اُسے آس پاس کی ہوائیں زہر کی مانند سانسوں میں اترتی محسوس ہو رہی تھی۔۔اپنے پیروں پر کھڑے رہنا مشکل لگنے لگا۔لیکِن داؤد نے اُسے سہارا نہیں دیا
تم اس لیے نہیں روتی نا کے کوئی تمہارا درد نہیں سمجھے گا۔
تمہیں سہارا نہیں دے گا۔۔۔۔
داؤد اُس سے دو قدم دوری پر کھڑا تھا۔۔۔۔دونو ہاتھ پینٹ پاکٹ میں ڈالے۔۔اُس کے لرزتے وجود کو تھامنے سے خود کو بہت مشکل سے روکے ہوئے
تمہیں ڈر ہے نا کے کہیں تمہارے جذبات ضایع نا ہو جاۓ تمہارے آنسُو بے مول نا ہوجائے۔۔۔۔
وہ سنجیدہ نظروں سے اُسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
فلک کی سانسیں ٹوٹنے کو تھی اُس نے لڑکھڑاتے ہوئے ہاتھ گاڑی کی طرف بڑھا کے سہارا لیا تھا۔۔۔۔لیکن دیکھ اب بھی داؤد کو رہی تھی۔۔تاکہ جان سکے وہ اُسے یہاں کیوں لایا ہے
لیکِن یہاں تم رو سکتی ہو فلک۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے بھائی کو سنا سکتی ہو اپنا ہر غم۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنا دل ہلکا کر سکتی ہو اُس کے آگے۔۔۔
وہ نا ہو کر بھی تمہارے ساتھ ہی ہے۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے بل آخر اُسے وہ مقصد بتایا۔۔۔ فلک پلک جھپک کر اسے دیکھنے لگی۔۔سانس معتدل ہونے لگی داؤد ایک قدم آگے بڑھا
بتاؤ اُسے کے کیا کیا ہوا ہے تمہارے ساتھ۔۔۔۔۔
اُس کے جانے کے بعد کیا ظلم کیے گئے تم پر۔۔
وہ اُس کی خشک آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا فلک کے گلے میں گولہ سا پھنسنے لگا
شکایت کرو اُس سے کے کیوں وہ تمہیں تنہا کر کے گیا
پوچھو کے اب اُس کی بہن کو جینے کی ہمت کون دیگا۔۔۔
بتاؤ اُسے کے تم اُس کے نا ہونے سے کتنی اکیلی ہو گئی
وہ فلک کے اور پاس ہوا اُسے بازؤں سے تھاما۔۔فلک نے اُس سے نظریں ہٹا کر اُس جگہ دیکھا جہاں کچھ وقت پہلے اُس نے ارحم کی بے بس آنکھیں دیکھی تھی۔۔۔۔۔آخری دفعہ اُسے سانس لیتے دیکھا تھا
بھائی۔۔۔۔۔۔۔
فلک نے زیرِ لب اُسے پکارا۔۔آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گرا۔۔۔۔
جو ارحم کی موت کے بعد آج آزاد ہوا تھا۔۔۔۔۔وہ بے آواز اُسے پکارتی سسکنے لگی۔۔۔۔سسکیاں آواز میں بدلی اور اور آواز چینخوں میں۔۔۔۔بنا لفظوں کے اُس نے خود پر گزری ایک ایک کہانی بیان کردی۔۔۔۔اور داؤد اُسے سنبھالتا رہ گیا۔۔۔۔
ارحم تک اُس کی اواز اب کبھی نہیں جا سکتی تھی لیکن اُس کے دل سے کچھ بوجھ ضرور آزاد ہوجانا تھا۔۔۔۔۔
۔
بھائی ئی ئی ئی۔۔۔۔۔۔۔
وہ زور زور اُسے پکارنے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔ندی کے شور میں اُس کی آواز گم ہوتی گئی داؤد نے ضبط سے آنکھیں میچ کر کھولیں۔۔۔۔اور اُسے اپنے بازؤں میں لیا
بھائی مجھے بھی اپنے ساتھ لے جاؤ ۔۔۔۔۔۔
یہاں میرا کوئی نہیں ہے بھائی۔۔ ۔۔۔
وہ سسک سسک کر روتی اُس کے بازو کو اپنے آنسوؤں سے بھگونے لگی۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆∆
ٹنشن ناٹ۔۔۔۔۔۔۔اپن کو معلوم ہے اس سے سب کیسے اگلوانا ہے
وہ آستین اوپر چڑھاتا ہوا کان میں لگے بلوٹوتھ پر بات کرتا آگے بڑھ رہا تھا
اپنے آپ کو قابو میں رکھنا ساحل۔۔۔۔۔۔۔میری پوری نظر ہے تم پر۔۔۔۔غصے میں اُسے کچھ کر کے ہاتھ آیا موقعہ برباد مت کرنا۔۔
پرتاب نے اُسے فوراً وارن کہا
حد ہے یار۔ ۔۔۔ جیسے میں کوئی جلاد ہوں۔۔۔۔ٹھیک ہے آپکی قسم ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا اُسے۔۔۔۔
وہ منہ بنا کے بڑبڑایا اور بیسمینٹ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا
خیر اب اتنے بھی شریف نہیں ہو تم ۔۔۔۔۔۔لیکِن حد پار مت کرنا ورنہ میں تمہاری ٹانگیں توڑ دوں گا۔۔۔۔۔۔۔
پرتاب نے تاسف سے کہا وہ جیکی کی طرف بڑھا جو اب بھی بندھا ہوا بے بس و بے حال پڑا تھا۔۔۔۔
ساحل کو دیکھتے ہی اُس کی آنکھوں میں نفرت و ناگواری اُتر آئی تھی
کیسا ہے باس۔۔۔۔۔۔۔۔عیش کر رہا ہے نہ اپن کے راج میں۔۔۔
چل اب بتا کون ہے سپلائر۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ٹیبل کی دُوسری طرف رکھی چیئر اور بیٹھتے ہوئے بولا
پہلے ہی کہہ چکا ہوں کے میں تمہارے کسی سوال کا جواب نہیں دوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک بار مجھے یھاں سے نکلنے دو اُس کے بعد تمہارا حشر دنیا یاد رکھے گی ساحل شیرازی۔۔
وہ دانت پیس کر بولا ہاتھ اب بھی پیچھے بندھے ہوئے تھا
تو یہاں سے نکلنے کے خواب دیکھنا بند کر۔۔۔۔۔۔۔
اِدھر تیری سانس تو چل رہی ہے اگر باہر نکلا نا تو پبلک تیرا قیمہ بنا دیگی۔۔۔۔۔اتنے ثبوت ہے اپن کے پاس تیرے خلاف۔۔۔۔
کچھ دن اور جینے دے رہا ہوں تو چپ کرکے بیٹھ نا کائے کو بھاؤ کھا ریلا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔
چل اب جلدی میرے سوال کا جواب دے۔۔۔۔۔۔
وہ کرسی سے ٹیک لگائے آرام سے بیٹھتے ہوئے بولا
میں تمہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اہ۔۔۔۔۔۔۔
جیکی غصے سے انکار کرتا اچانک کراہ اٹھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُس کا رنگ زرد پڑ گیا۔۔۔۔چہرے کی ہوائیاں اُڑ گئی۔۔۔۔۔۔شدید تکلیف کے آثار چہرے پر نظرِ آنے لگے
جب کے وہ سکون سے ٹھوڑی پر ہاتھ رکھے بیٹھا اُسے دیکھ رہا تھا۔۔
اُس کے پیچھے کھڑے گارڈ حیرت سے جیکی کو دیکھ رہے تھے۔۔۔جو بنا کچھ کیے ہی تڑپ رہا تھا
ہتھیار کہاں سے آرہے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرد لہجے میں پوچھتے ہوئے اُسے دیکھا اور جبڑے کچھ اور سخت ہوئے تو جیکی کی روح فنا ہونے لگی۔۔۔۔وہ کرسی پر سر پٹکھنے لگا ۔۔۔بے بسی تھی کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے اور جان سخت مشکل میں آگئی تھی
بتاتا ہوں۔۔۔۔۔۔ بتاتا ہوں۔۔۔
وہ درد سے چلایا۔۔۔ ساحل کے تاثرات نرم ہوئے تو جیکی کی تکلیف میں کمی ہونے لگی وہ تیز تیز سانسیں لینے لگا
ساحل نے اوپر کونے میں لگے کیمرے کی طرف دیکھ کر ہاتھ اٹھائے اور جتایا کے دیکھو میں نے ہاتھ بھی نہیں لگایا
اُدھر پرتاب جي بھر کر حیران سر کھجا رہا تھا کے آخر یہ کیا تماشا ہے۔۔۔۔۔۔
اب کیا یہ دِماغ سے جیکی کو کنٹرول کر رہا تھا ۔۔
واقعی اُس کے تاثرات بدل رہے تھے اور جیکی اتنا طاقتور ریسلر تڑپ رہا تھا
میں ۔۔۔۔۔کبھی اُس سے نہیں ملا۔۔۔۔۔۔۔
بس اُس کے آدمی سے میٹنگ ہوئی ایک دو بار۔۔۔۔
باقی سارا کام فون پر ہی چلتا ہے۔۔۔۔۔
جیکی نے ہار مان کر اُسے بتانا شروع کیا وہ سنجیدگی سے اُسے دیکھنے لگا
پیمنٹ لینے بھی اُس کا آدمی ہی آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
میں صرف اُس کا نام جانتا ہوں۔۔۔
راگا۔۔۔۔۔۔
وہ جتنا جانتا تھا بتا دیا
ساحل نے گارڈز سے کہہ کر اُس کا ایک ہاتھ کھولا اور اُس کا فون اُس کی طرف بڑھایا
فون کر اُسے۔۔۔۔۔۔۔اور بول کے پولیس ریڈ کی وجہ سے پارٹی کو مال نہیں ملا اسلئے تجھے تیرا پیمنٹ واپس چاہیے۔۔۔۔۔۔۔آج شام باندرا برج کے پاس تیرا ایک آدمی وہ پیمنٹ لینے آرہا ہے۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ ابھی پولیس کی تُجھ پر نظر ہے۔ اس لیے تو میٹنگ نہیں کر سکتا۔۔۔
۔بات کر اُس سے اور ذرا بھی میرے دماغ پر زور پڑا تو جانتا ہے نا کیا ہوگا
ساحل نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے آخر میں اُسے وارن کیا تو وہ گھبرا کے اُسے دیکھنے لگا اور جلدی سر ہلا دیا
میں بلکل سیف ہوں ۔۔۔۔۔۔۔مال مجھ تک نہیں پہنچا راگا۔۔۔مجھے میرا پیمنٹ واپس چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔اسی لیے فون کِیا تمہیں
جیکی فون شروع ہے ہی جلدی سے مدے پر آیا۔۔اُس کی جان سولی پر۔لٹکی ہوئی تھی
مال کا کیا ہے جیکی بھائی۔۔۔ نہیں پہنچا تو پہنچ جائے گا۔۔۔۔ہم کونسا آپکا پیسہ لے کے بھاگ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
راگا نے ہنستے ہوئے جواب دیا
پارٹی کو اپنا پیمنٹ واپس چائیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب تک معاملہ گرم ہے کوئی ڈیل نہیں ہوگی۔۔۔۔
میں کِسی لفڑے میں نہیں پڑنا چاہتا۔۔۔۔۔
وہ ساحل کا اشارہ دیکھ کے جلدی سے بولا ساحل نے اُسے داد دی اور اُس کے آگے ایک بیس کا نوٹ رکھ کر نمبر کی طرف اِشارہ کیا
آج شام میرا ایک آدمی پیمنٹ لینے باندرا برج کے پاس آئیگا۔ اُس کے پاس بیس کا نوٹ ہوگا جس کا نمبر ہے۔۔۔۔
اُس نے ساحل کے اشارے کے مطابق اُسے نوٹ کا سیریل نمبر بتایا اور دوسری جانب سے مثبت جواب ملنے پر ساحل نے فون بند کرکے میز سے اٹھا لیا۔۔۔
وہ خود جیسے ہی کرسی سے اٹھا جیکی نے سکون کی سانس لی۔۔۔۔۔
سر اس نے اتنی آسانی سے سچ کیسے اُگل دیا۔۔۔۔۔۔۔
وہ باہر نکلا تو گارڈ نے اُس پر اپنی حیرت ظاہر کی
کمزور رگ پکڑ میں آگئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولا اور وہاں سے نکل گیا۔۔۔اب گارڈ بھی صدمے میں سر کھجا رہا تھ
