Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 55

Episode 55
عشرت شیرین اور فلک بیڈ پر بیٹھیں تھیں ۔۔
تینوں کے تاثرات ایسے تھے جیسے مجرموں کے کورٹ کی کاروائی کے وقت ہوتے ہیں
اور نین جج بنی اُس کمرے میں چکر کاٹ رہی تھی مضبوط قدم آگے بڑھاتے ہوئے
کنڈی کس نے لگائی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
اچانک اُن تینوں پر سرد نظریں ڈالتے ہوئے اُس نے رعب سے پوچھا اور بجلی کی تیزی سے عشرت اور شیرین نے اُنگلی کا اشارہ فلک کی طرح کیا فلک بری طرح سٹپٹا گئی۔۔۔
آنکھیں پھاڑے دونوں کو دیکھنے لگی جو سارا الزام اُس کے سر ڈال کے خود معصوم بن بیٹھیں تھیں
نین نے پیشانی پر بل ڈالے فلک کو دیکھا۔۔۔
داؤد کی بیوی۔۔۔۔۔۔۔تم نے کس کے کہنے پر کنڈی لگائی تھی۔۔۔۔۔
وہ ایک ابرو اٹھا کر اُسے گھورتی ہوئی پوچھنے لگی کیوں کے اُسے یقین تھا فلک خود تو ایسا نہیں کرنے والی تھی
انہوں نے مجھ سے کہا تھا
فلک نے فوراً اُنگلی کا اشارہ دائیں جانب کیا جہاں عشرت اور شیرین بیٹھیں تھی۔۔۔
دونوں کی گھوری کو نظر انداز کیے بنا۔۔۔
دونوں چور کی طرح نین کے گھورنے پر سر جھکا گئیں
بھابھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ خفگی سے دونوں کو دیکھتی پیر پٹخ کر اُن کی طرف بڑھی
کیا ہو گیا ہے آپ لوگوں کو ۔۔۔آپ نے مجھے اس آوارہ بیل کے ساتھ باتھروم میں کیوں بند کر دیا تھا۔۔۔۔اگر وہ میرے ساتھ کچھ الٹا سیدھا کر دیتا تو۔۔۔۔۔
پتہ ہے میں کتنا گھبرا گئی تھی۔۔۔۔
وہ خفگی و غصے سے بولتی اُن کے پاس بیٹھ گئی
کیا اُس نے کچھ کیا تھا نین۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عشرت کی آنکھیں چمکی اُن سے مشکوک لہجے میں پوچھا نین کو ساحل کا ہاتھ اپنے پیٹ پر سرسراتا ہوا محسوس ہوا وہ ہڑبڑا کر اپنی جگہ سے اٹھ گئی
اُس کی مجال ہے۔۔۔۔۔۔ جو میرے ساتھ کچھ کرے۔۔۔ٹانگیں توڑ دوں گی اُس کی۔۔۔۔
وہ نم پیشانی پر ہاتھ پھرتی گلا تر کرتے ہوئے بولی۔۔۔حالانکہ وہ اُس کے بعد سے ساحل کی نظروں سے بھی غائب رہی تھی جب تک اُس کے گھر سے جانے کا یقین نہیں ہوا تھا کمرے میں کیا پورے گھر میں نظر نہیں آئی تھی
تمہاری بات اور ایکسپریشن میچ نہیں ہو رہے ہیں نین۔۔۔۔
شیرین نے کھڑے ہو کے اُس کے چہرے کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کہا کیوں کے واقعی جتنی بڑی دھمکی دے رہی تھی اتنی ہی چہرے سے گھبرائی بھی تھی
افف بھابھی ایکسپریشن کو چھوڑیئے نا اور مجھے بتائیں کے آپ دونوں نے ایسا کیوں کیا
وہ بیزاری سے اُس کی طرف دیکھتی ہوئی بولی
نین ہم تو بس تم دونوں کے بیچ انڈر اسٹینڈنگ کرانے کی کوششں کر رہے ہیں۔۔اتنا لڑتے ہو تم دونوں اچھا لگتا ہے کیا۔۔۔
عشرت بھی اپنی جگہ سے اٹھ کر نرمی سے بولی
آپ کو کیا لگتا ہے بھابھی۔۔۔۔۔۔میں لڑائی کرتی ہوں۔۔۔میری وجہ سے جھگڑے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔شکل دیکھیں میری۔۔۔۔۔۔۔۔ بتائیں کیا میں کسی سے بھی اونچی آواز میں بات کر سکتی ہوں کبھی۔۔۔۔۔۔۔
وہ بیچاری سی شکل بنا کر بولی تو عشرت اور شیرین دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور فلک بس نین کو دیکھتی رہ گئی
وہ تو اُس راؤڈی کے بچے کی الٹی سیدھی حرکتوں کی وجہ سے مجھے دل پر پتھر رکھ کر جھگڑا کرنا پڑتا ہے۔۔۔
ورنہ میں تو نہایت ہی ڈیسنٹ لڑکی ہوں
وہ پلکیں جھپکتی معصومیت سے بولی۔۔۔اس بات سے انجان کے وہ یہ بول کر اُن تینوں کو خطرناک صدمہ پہنچا چکی تھی
∆∆∆∆∆∆∆
دادی میں نے غلط اور صحیح کا فرق آپ سے ہی سیکھا ہے۔۔۔۔۔۔اور میں جانتا ہوں کوئی مجھے سمجھے نا سمجھے آپ ضرور سمجھے گیں کے میں نے فلک سے شادی کرکے کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔۔۔
بہت اچانک قسمت اُسے میری زندگی میں لے آئی تھی۔۔۔
جب وہ اپنی زندگی سے ہار مان کر بری طرح ٹوٹ چکی تھی۔۔۔۔۔
کھانے کے بعد سب اپنے اپنے کمرے میں جا چکے تھے وہ نانو کے کمرے کی طرف آئی تھی تاکہ کچھ دیر اُن کے ساتھ بیٹھے اصل میں تو اُسے ڈر لگ رہا تھا کے ساحل کے آنے کے بعد وہ اکیلی روم۔میں اُسنکا سامنا کیسے کریگی
داؤد کو اندر دیکھ کر وہ دروازے پر ہی رک گئی
وہاں سے چلی جانا چاہتی تھی لیکن داؤد کے سنجیدہ الفاظوں نے اُس کے قدم جکڑ لیے اور وہ غیر ارادے طور پر وہیں کھڑی اُس کی باتیں سنتی رہ گئی
وہ جانتا تھا کے کوئی اُسے سمجھے نا سمجھے دادی ضرور سمجھیں گی۔۔
اسی لیے فلک کے مطلق سب کچھ بتاتا چلا گیا۔۔۔۔اُس کا ملنا اُس کے ساتھ ہوئی زیادتی۔۔۔اُس سے جڑی ہر بات ۔۔۔۔۔
جیسے جیسے وہ کہتا گیا نین کی دھڑکنیں سینے میں بری طرح ہلچل کرنے لگی۔۔۔۔
وہ ڈھنگ سے سانس بھی نہیں کے پائی۔۔۔
وہ سننے کی ہمت نہیں رکھتی تھی اور فلک نے یہ سب سہا تھا یہ سوچ کر اُس کے قدم لرزنے لگے۔۔۔۔۔دماغ میں دھماکے ہونے لگے
دادی اپنی نم آنکھیں صاف کرتے ہوئے اُس کے سر اور ہاتھ پھیر رہیں تھیں
داؤد دادی کے پیر پر سر رکھے نم لہجے میں بولے جا رہا تھا لیکن نین کا دماغ اب اُس کی بات سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔
میں کیسے اُس کا ہاتھ نہ تھامتا۔۔۔۔کیسے ٹوٹنے دیتا اُسے کیسے اپنے دل کی نا سنتا۔۔۔۔
وہ نا ہو کر بھی حصہ بن گئی تھی میرے وجود کا اسی لیے میں نے اُسے ہمیشہ کے لیے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا
میں نے کیا غلط۔۔۔۔۔
وہ بے بس لہجے میں بولے جا رہا تھا جب اچانک ہی نین کے زمین پر گرنے سے بری طرح چونکا۔۔۔۔
دادی نے بھی آواز پر گھبرا کر اُسے دیکھا جو۔دروازے سے لگ کر زمین پر بیٹھی بے ترتیب سانس لیے رہی تھی
نین۔۔۔۔۔۔
داؤد ہڑبڑا کر اُس کی طرف بڑھا ۔۔۔
نین تم ٹھیک ہو نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ وحشت زدہ نظروں سے زمین پر جیسے کچھ تلاش کر رہی تھی۔۔۔۔داود نے اُس کے بازو پر ہاتھ رکھے فکر مندی سے پوچھا۔۔
وہ خالی خالی نظروں سے اُسے دیکھنے لگی
فلک۔۔۔۔فلک۔۔۔۔۔۔
وہ اُس سے پوچھنے کی کوشش کر رہی تھی کے کیا فلک وہی ہے جس کے بارے میں وہ اُسے پہلے بتا چکا تھا لیکن لفظ اور بے ترتیب چلتی دھڑکنیں اُس کا ساتھ نہیں دے رہی تھیں
پھر بھی داؤد نے سمجھتے ہوئے سر اثبات میں ہلا دیا۔ دادی اپنی جگہ ہی بیٹھی اُنہیں دیکھ رہیں تھیں۔۔۔
انہوں نے شکر ادا کیا کے نین نے سب کچھ سن لیا تھا اب کم سے کم اُس کا دل کچھ تو ہلکا ہوتا
نین نے داؤد کو غصے و خفگی سے دیکھتے ہوئے ایکدم سے اُس کے منہ پر نازک سے ہاتھ کر تھپڑ مار دیا۔۔۔۔وہ ہکا بکا رہ گیا۔۔۔۔حیرت سے اُسے دیکھنے لگا
لعنتی کہیں کے پہلے نہیں بتا سکتے تھے۔۔۔۔۔۔
وہ شدید غصے سے اُسے دیکھتی ہوئی بولی لیکِن بولتے میں ہی اُسنکی آواز بھیگ کر دھیمی ہو گئی تھی
تم کہاں موقع دے رہی تھی مجھے بتانے کا۔۔۔۔۔میں تو کب سے کوشش میں تھا۔۔۔۔۔
وہ خفگی سے اُسے گھور کر گال سہلاتے ہوئے بولا
میں تمہارا گلا دبا کر جینے کا موقع نہ دوں تو مر جاؤگے کیا خاموشی سے۔۔۔۔۔۔ذلیل آدمی۔۔۔۔۔
اٹھاو تو سہی مجھے۔۔۔۔۔
وہ غصے سے بھڑکتی اُٹھنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔خود کو رونے سے لاکھ روکنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن روک نہیں پا رہی تھی
داؤد نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے کھڑا کیا۔۔وہ چل کر اپنی نانو کے پاس آئی اور اُن کے گلے لگتے ہوئے سسک سسک کر رونے لگی
اُنہوں نے بھی اُسے رونے دیا تاکہ اُس کا دل ہلکا ہوں جائے
نین میں سچ میں تمہیں ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔اگر میں فلک کے لیے اپنی فیلنگز کو اگنور بھی کر دیتا تو میں تم سے شادی کرکے تمہیں کبھی خوش نہیں رکھ پاتا۔۔۔۔۔
وہ دونوں دادی کے کمرے سے باہر آگئے تھے ۔۔۔کافی دیر ہو چکی تھی نین بھی خود کو سنبھال کر روم میں جانے لگی تھی جب وہ اُسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بولا
جانتی ہوں لیکن تم مجھے پہلے بتاتے تو اتنا سب کچھ نہیں ہوتا نا۔۔۔۔۔
اتنی پرابلم کیوں ہوتی
وہ رک کر اُس کی جانب دیکھتی ہوئی افسوس سے بولی رونے سے اُس کی آنکھیں سرخ ہو گئیں تھیں
میں نے کوشش کی تھی نین۔۔۔۔۔۔
وہ تاسف سے بولا
ہاں لیکن میں نے ہی نہیں سنی ہوگی۔۔۔۔میری ہی غلطی بتاؤ اس میں۔۔۔
وہ اُسے گھور کے بولی وہ ہنس دیا
میں یہ سوچتی رہی کے ایسی کیا کمی تھی مجھ میں جو تم نے مجھے ریجیکٹ کرکے فلک کو چنا۔۔۔۔۔۔۔
ہر روز ٹارچر ہوتی رہی یہ سوچ کر۔۔۔۔۔۔۔۔
اور فلک۔۔۔۔اُسے بھی اتنا کچھ۔۔۔۔او گاڈ۔۔۔۔
اُس نے اُداسی سے کہتے ہوئے آنکھیں بند کرکے کھولیں
آئے ایم سو سوری داؤد۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی طرف دیکھ کر شرمندگی سے بولی کیوں کے وہ نا صرف فلک کو بہُت برا بھلا کہہ چکی تھی بلکہ اُس سے سخت برا رویہ بھی رکھا ہوا تھا۔۔۔
داؤد دھیرے سے مسکرایا
ویسے ساحل کی سچویشن دیکھ کر مجھے لگتا ہے خدا نے مجھے زیادہ ذلیل ہونے سے بچا لیا۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر شرارت سے بولا نین بھی زبردستی کا مسکرائی۔۔اُداسی اُس کی آنکھوں سے عیاں تھی ۔۔۔
وہ فلک کے بارے میں۔سوچ کر اُداس ہو رہی تھی لیکن خوش بھی تھی کے کم سے کم اب داؤد اُس کی زندگی سے ہر درد کو دور رکھنے والا تھا
You okey na۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے اُسے گم صم دیکھ کر سنجیدگی سے پوچھا
میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔
اگر میرے تھوڑے سے درد کے بدلے تم فلک کو ڈھیر ساری خوشیاں دیتے ہو تو میں بہت خوش ہوں داؤد۔۔۔۔۔۔۔
وہ بھیگے اُداس لہجے میں بولا
آئے پرامس۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے مسکرا کر اُس کے چہرے پر ہتھیلی رکھتے ہوئے اُس سے وعدہ کیا وہ پھیکا سا مسکرائی
پہلی دفعہ شاید گزرے ایک سال میں پہلی دفعہ وہ بہت خوشی خوشی اُس گھر میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔
دل میں بے قراری۔۔۔۔آنکھوں میں بے تابی اور خیالوں میں کئیں ارمان لیے۔۔۔
لیکن جس کے لیے وہ سارے ارمان تھے و داؤد کے پاس کھڑی مسکرا رہی تھی۔۔۔
وہ خوش پرسکون لگ رہی تھی لیکن ساحل کا دل بری طرح ٹوٹ کر قدموں میں بکھرا پڑا تھا۔۔۔۔۔
اُس نے ادھوری حقیقت دیکھ کر ہزاروں اندازے لگا لیے اور نتیجے میں اس بات کو قبول کر لیا کے وہ اُسے پانے سے پہلے ہی کھو چکا ہے۔۔۔۔۔
اُس نے نین کے مسکراتے لبوں سے جلتی نظریں ہٹا کر آنکھیں ضبط سے بند کی اور اندر جانے کی بجائے وہیں سے پلٹ کر دوبارہ باہر نکل گیا
∆∆∆∆∆∆
دادی بہُت غصے میں ہے۔۔۔۔۔میری بات بھی نہیں سن رہی ہے۔۔۔
شیرین اور عشرت دونوں بچوں کو سلانے کو بعد اپنے اپنے کمرے میں جانے کی بجائے ٹیرس پر کھڑی باتیں کر رہیں تھی جب شیرین پریشانی سے بولی
لیکن ہم کوشش تو کر رہے ہیں نا اب وہ دونوں ہی ایسے ڈھیٹ ہے تو ہم کیا کرے
ان دونوں کی جگہ کوئی اور ہوتا تو ابھی تک صلح بھی ہوجاتی ہنی مون بھی ہوجاتا اور ہم رشتےداروں میں مٹھائی بھی بانٹ چکے ہوتے خوشخبری کی۔۔
لیکِن اُن دونو کی تو جنگ ہی ختم نہیں ہو رہی
عشرت نے غصے و بیزاری سے کہا مٹھیاں بھینچھتے ہوئے
میں تو سوچ رہی دادی سے جا کر کہہ دوں کے نہیں ہوتا ہم سے۔۔۔۔۔۔اب ایک ہی راستہ ہے آپ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بستر پر لیٹ جائیں اور دھمکی دے دیں کے جلدی سے سیدھے ہوجاؤ ورنہ میں چلی خدا کے پاس
شیرین مصنوعی ہچکی لیتے ہوئے بولی
نہیں یار۔۔۔۔۔۔اللہ نا کرے دادی کو کچھ ہو۔۔۔۔
عشرت نے جلدی سے اُس کی طرف دیکھ کر کہا
میں تو بس جھوٹ موٹ کا بول رہی ہوں۔۔۔۔ورنہ دادی تو بہت اچھی ہے۔۔۔۔اگر اُنہیں کچھ ہو گیا تو ہمیں بڑی ماں سے کون بچائے گا۔۔۔۔۔۔
لیکِن ان دونوں کا کیا کرے۔۔۔
شیرین نے صفائی دیتے ہوئے سر ہاتھوں میں تھام کر کہا
ابھی تو میں سونے جا رہی ہوں کیوں کے سوچ سوچ کر میرا دِماغ پنکچر ہو چکا ہے۔۔۔۔۔
عشرت سر نفی میں ہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی اور شیرین نے بھی اُس کی تائید کی تھکے تھکے قدم اُٹھا کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
کمرے میں پہنچی تو گُھپ اندھیرا تھا۔۔جنجھلا کر سوئچ بورڈ کی طرف ہاتھ بڑھا کر لائٹس آن کی تو ایک پل کو حیران رہ گئی کیوں کے اس کا روم کچھ بدلہ بدلہ سا تھا۔۔۔۔۔
کمرے میں ڈھیر ساری کینڈیلز جلائی ہوئی تھی۔۔۔۔بلونز بکھرے ہوئے تھے اور کمرہ بے حد مہک رہا تھا۔۔۔۔۔
وہ منہ میں اُنگلی دبائے سوچ ہی رہی تھی کے یہ سب کس نے کیا ہوگا جب پیچھے سے آکر زارب نے اُسے اپنے حصار میں لیا اور اُس کے گال پر کس کیا
کیا کر رہے ہو ہٹو نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جھنجھلا کر اُس کے ہاتھ اپنے گرد سے ہٹانے لگی
میں نے تمہارے لیے یہ اسپیشل انتظام کیا ہے۔۔۔۔
اپنی جان کو منانے کے لیے۔۔تمہیں۔۔۔اچھا نہیں لگا
وہ اُس کے کان کے قریب محبت بھرے لہجے میں بول۔کر بالوں کو کان کے پیچھے کرنے لگا
پتہ نہیں میرا موڈ نہیں ہے کچھ دیکھنے کا چھوڑو مجھے سونا ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی ٹینشن کی وجہ سے بیزار ہو کر کہتی اُس کے ہاتھ جھٹک کر آگے بڑھی لیکن زارب نے کلائی پکڑ کر دوبارہ اُسے اپنی جانب کھینچ لیا۔۔
اتنی محنت کرنے کے بعد تمہیں لگتا ہے میں تمہیں سونے دوں گا۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی گردن کے گرد ہاتھ باندھے شرارت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا
یہاں میرا موڈ آف ہے اور تمہیں رومینس سوجھ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
شیرین نے منہ بنا کر شکوہ کیا
روم کا ماحول اتنا رومینٹک ہے تو کِس کمبخت کو رومینس نہیں سوجھے گا۔۔۔
وہ اُس کی طرف جھکتے ہوئے مسکرا کر بولا اور اُس کی ناک پر کس کیا جب کے وہ بنا پلک جھپکے اُسے دیکھ رہی تھی
کیا کہا تم نے۔۔۔۔۔۔
اُس نے حیرت سے پوچھا۔۔۔
یہ سب تمہیں منانے کے لیے کیا ہے میری جان۔۔۔۔
وہ ہنس کر اُس کی حیرت دور کرتے ہوئے اُسے مزید قریب کھینچنے لگا
اُس کے بعد۔۔۔۔۔۔
شیرین نے جلدی سے بیتابی سے کہا زارب نے سوچنے کے انداز میں اُسے دیکھا
روم کا ماحول رومینٹک ہو تو موڈ تو خود بخود رومینٹک ہو ہی جاتا ہے نا۔۔۔
وہ مسکرا کر اُس کے لبوں کو دیکھتا ہوا بولا اور شیرین ایکدم سے چمک اٹھی اُس کا چہرہ دونوں ہاتھوں سے تھام کر اونچی ہوئی اور اُس کے لبوں پر زبردست سي کس کرکے پیچھے ہوئی
آئے لوو يؤوو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ خوشی اور ایکسائٹمنٹ کے چکر میں جوش میں کہتی روم سے باہر کو بھاگی جب کے زارب بیچارہ ہکا بکا کھڑا تھا۔۔۔
باہر نکلتے ہی سیدھی وہ عشرت کے روم میں آئی اور دروازے پر اتنی زور سے دستک دی جیسے کہیں بھونچال آگیا ہو
راہب اور عشرت ہڑبڑا کر دروازے پر پہنچے
جلدی باہر آؤ۔۔۔۔۔بات کرنی ہے۔۔۔
وہ عشرت کو دیکھتی ہوئی بولی دونوں حیران کھڑے تھے۔۔۔
عشرت باہر آگئی تو وہ اُسے کھینچتی ٹیرس کی طرف لے گئی
راہب سر نفی میں ہلاتا رہ گیا۔۔۔۔۔
کیا ہوا اتنی رات کو کیوں بلایا۔۔۔۔
عشرت اُسے حیرت سے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔۔جس کے چند منٹ میں مزاج ہی بدل گئے تھے
بہت زبردست آئیڈیا مل گیا۔۔۔۔۔
شیرین خوشی کے مارے ہاتھ جھٹکتے ہوئے بولی
پھر سے۔۔۔۔۔۔۔۔عشرت نے بری سی شکل بنائی
سنو تو ۔۔۔۔اس آئیڈیا کے بعد دونوں دور رہ ہی نہیں سکتے۔۔۔۔۔
شیرین نے ہنسی روکتے ہوئے کہا
ایسا کیا آئیڈیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
عشرت نے اُسے غور و سنجیدگی سے دیکھا جس پر شیرین اُسے خوش ہو کر بتانے لگی کے اُنہیں نین اور ساحل کے روم کو خوبصورت سا سجانا چاہیے وہاں کے ماحول کو ایسا کر دینا چاہیے کے وہ خود بخود قریب آنے پر مجبور ہو جائیں اور بھی بہت کچھ آئیڈیا اُس نے فوراً بنا لیے تھے
تمہیں یہ اچانک سے کیسے سوجھا۔۔۔۔۔۔
عشرت سر ہلاتی ہوئی بولی
زارب کی وجہ سے۔۔۔۔۔۔۔۔
شیرین نے شرما کر اُنگلی دانتوں میں دبائے جواب دیا
ہاؤ۔۔۔۔تم نے اُنہیں بھی ہماری ٹیم میں شامل کر لیا۔۔۔۔۔۔۔
عشرت حیرت سے بولی
ارے نہیں۔۔۔۔میں بتاتی ہوں۔۔۔۔۔۔
شیرین نفی کرتی اُسے پوری بات بتانے لگی اب تو کوئی چانس نہیں تھا کیوں کہ رات ہو چکی تھی اس لیے اُنہوں نے اپنے پلان اور کل عمل کرنے کا طے کیا
∆∆\∆∆∆∆
وہ رات کے بارہ بجے اندھیرے میں ایک پارک کے بینچ پر اکیلا بیٹھا تھا۔
چاروں طرح جو سناٹا تھا ویسا ہی سناٹا اُس کے اندر بھی چھایا ہوا تھا۔۔۔۔۔
وہ ہرگز اتنا کمزور نہیں تھا کے چھوٹے سے زخم پر ٹوٹ جائے۔۔۔۔
لیکن پہلی محبت کا پہلا درد برداشت کرنا اُس کے لیے اتنا بھی آسان نہیں تھا
وہ آج اس ارادے سے گھر پہنچا تھا کے نین سے اپنی محبت کا اظہار کرےگا اُسے بتائے گا کے وہ اُسے کتنی اچھی لگتی ہے لیکن اُسے داؤد کے ساتھ دیکھ کر ۔۔۔۔
داؤد کو نین کے چہرے کو چھوتے دیکھ کر۔۔اُس کے سارے ارادے سب خواہشیں جل کر راکھ ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ اتنا بڑا دل نہیں رکھتا تھا کے نین کو کسی اور کی محبت سمیت قبول کر لے۔۔۔۔
اُس کی آنکھوں میں اپنے عکس کے ساتھ کِسی کے لیے حسرت دیکھ سکے۔۔۔۔۔۔
سالہ۔۔۔ بہُت رومینٹک رومیو بن رہا تھا ۔۔۔۔ اب لگ گئی نا۔۔۔
وہ پر درد سا مسکرا کر خود پر ہی جھنجھلا يا۔۔۔سرخ آنکھوں میں بے انتہا تڑپ تھی
اور فلاسفی جھاڑ۔۔۔۔بول۔۔۔۔۔ بول کے وہ داؤد سے پیار نہیں کرتی۔۔۔۔۔
اور جھوٹ بول خود سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ خود پر ہی غصّہ ہونے لگا کتنا اُس نے خود کو اور نین کو یقین دلایا تھا کے وہ داؤد سے محبت نہیں کرتی۔۔۔۔۔۔
لیکن اب اُسے اپنا ہی یقین ٹوٹتا دکھ رہا تھا
کایکو نہیں کریگی وہ داؤد سے پیار۔۔۔۔
کائے کو کریگی تیرے جیسے لاوارث سے۔۔۔۔۔۔اور کائے کو کرے۔۔۔۔۔۔
تو ہے کیا قابل اُس کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پڑھی لکھی۔۔۔۔۔۔تو سالہ ایک نمبر کا جنگلی گنوار۔۔۔۔۔۔۔
وہ اتنی خوبصورت اور تو تو تھوبڈے سے ہی گلی کا گنڈا لگتا ہے
وہ محلوں کی شہزادی۔۔۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔
وہ اپنے آپ کو آئینہ دکھاتا بولتے بولتے رکا
اور تو سڑک چھاپ آوارہ۔۔۔۔
وہ کیا کوئی سمجھدار لڑکی نہیں کریگی تیرے جیسے کو پسند۔۔۔۔
اُس نے خود کی ہی کمیاں گن کر خود کو یقین دلایا کے اگر نین اُسے پسند نہیں کرتی تو بہت بڑی بات نہیں ہے۔۔
وہ شاید لائق ہی نہیں ہے۔۔۔۔
کچھ دیر یونہی خاموش بیٹھا رہا اور پھر دھیرے سے سرخ آنکھیں اٹھا کر سامنے دیکھا
گنڈا نہیں ہوں میں۔۔۔۔۔
اُس نے خود ہی خود کی نفی کرتے ہوئے بے آواز کہا
I m a well educated highly skilled NIA officer۔۔۔۔
اس نے فخر سے سوچا کے وہ داؤد سے کسی طور کم نہیں۔۔۔۔۔
پر میرا کام میری پہچان نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔
میں تو اپنے گھر کو اپنا گھر نہیں کہہ سکتا۔۔۔۔۔
اپنی کامیابی دنیا کو دکھا نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔۔
دنیا کے۔لیے تو میں یہی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔اور یہی رہوں گا۔۔
اُس نے بے بسی سے سر جھٹکتے ہوئے سوچا
ہمیشہ سے سوچا تھا کے کبھی دل نہیں لگاؤں گا۔۔۔۔پتہ نہیں کیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔کیسے۔۔۔۔۔
وہ بے بسی سے کہتے کہتے گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔۔
بن سوچے بن چاہے ہی وہ اس راستے پر چل پڑا تھا
جب کوئی اُس سے سوال کرتا تھا کے اُسے ڈر کیوں نہیں لگتا۔
وہ کیسے ہر مشکل سچویشن کو اتنی آسانی سے ہینڈل کرلیتا ہے تو وہ یہ جواب دیتا تھا کے اُس کی کوئی کمزوری نہیں ہے۔۔۔۔۔
اُسے فکر نہیں کے اُس کی وجہ سے کوئی اپنا نقصان اٹھائے گا
اُسے موت کا ڈر نہیں ہے کیونکہ اُسے پتہ ہے اُس کے مرنے کے بعد رونے والا کوئی نہیں ہوگا
اس لیے وہ ہمیشہ ہی رشتے بنانے اور دل لگانے سے پرہیز کرتا تھا لیکن یہ مصیبت تو زبردستی نازل ہو گئی تھی
بنا اجازت ہی اُس پر قبضہ جما گئی تھی
اور اب اُسے لگ رہا تھا کے نین کے دل کی بات ایک طرف ۔۔داؤد ایک طرف
لیکِن وہ نین سے محبت کرکے بہُت بڑی غلطی کر چکا تھا کیوں کہ اپنی زندگی میں اُسے شامل کرکے وہ اُسے خطروں کے علاوہ کچھ نہیں دے سکتا تھا۔۔۔۔
اچھا ہے کے زیادہ آگے بڑھنے سے پہلے ہی سنبھل جاؤں۔۔۔۔۔۔۔میں اُسے دے بھی کیا سکتا ہوں ۔۔۔۔۔
وہ جو ڈیزرو کرتی ہے وہ نہیں دے سکتا اُسے کبھی۔۔۔۔۔۔۔
ایک گنڈے بدمعاش قاتل کی بیوی بن کر رہ جائے گی وہ دنیا میں۔۔۔۔اور حقیقت میں میری کمزوری۔۔۔۔۔۔۔
کوئی خوشی نہیں دے پاؤں گا اُسے۔۔۔
میں بھٹکتا رہتا ہوں اُسے کیسے سیف رکھو گا
اوپر سے سو دشمن پال رکھے ہیں کسی نے اُسے کوئی چوٹ پہنچائی تو۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔۔میں کیا کروں گا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بے چین سا ہو کر سوچتا اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگا
∆∆∆∆∆∆
تم نے اسے روکا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ کہا نہیں۔۔۔۔۔
وہ ریا سے ویڈیو کال پر بات کر رہی تھی جب وہ اُس کی بات پر حیرت سے بولی
میں اُسے روکنا چاہتی تھی۔۔۔دل تو کر رہا تھا زمین پر گرا کر چپل سے ماروں اُسے لیکِن پتہ نہیں مجھے کیا ہو گیا تھا میں کچھ کر ہی نہیں پا رہی تھی۔۔۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے میری پوری باڈی فریز ہو گئی ہے۔۔۔۔آواز تک نہیں نکل رہی تھی۔۔۔۔
مجھے تو لگتا ہے اس میں بھی اُس ماما کے بیٹے کا ہی ہاتھ ہے اُس نے ہی مجھے کوئی ایسی دوائی سنگھائی ہوگی جس سے میرا دماغ سن ہو جائے اور میں کچھ کر نہ سکو ں
وہ طیش و غصے سے بولی حالانکہ ریا سمجھ چکی تھی کے وہ کیوں فریز ہوئی ہوگی۔۔۔۔ تبھی ہنسی چھپانے کو منہ پر ہاتھ رکھ لیا
پھر کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے ہنسی روکتے پوچھا
مت پوچھ یار میں بڑی مشکل سے بھاگی ورنہ پتہ نہیں وہ میرے ساتھ کیا کرنے والا تھا۔۔۔۔۔۔مجھے تو بہت زیادہ ڈر لگ رہا ہے
پہلے تو وہ بلکل بھی ایسا نہیں تھا۔۔۔ہاں لڑتا جھگڑتا بکواس کرتا تھا لیکن دو دنوں سے تو اُس کے تیور ہی بدلے ہوئے ہے۔۔۔۔۔۔دیکھتا بھی اب ایسے ہے جیسے میں کوئی دنیا کا عجوبہ ہو۔۔۔
وہ گہری سانس لیتی ایک بار پھر شروع ہو گئی
وہ ریا سے کوئی بات نہیں چھپاتی تھی اور اُس نے ساحل کے بدلے رویے اور حرکتوں کا بھی اُسے بتا دیا تھا
اور ریا اُس کی طرح وہم پالنے کی بجائے سنجیدگی سے سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی
نین مجھے کیا لگ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔وہ شاید تم سے پیار کرنے لگا ہے۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے اپنی سوچ کے مطابق نتیجہ اخذ کرکے نین کو بتایا جس پر وہ ایکدم سے سیدھی ہوئی
کیا بول۔رہی ہو۔۔۔۔۔ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔وہ اور مجھ سے پیار۔۔۔۔ہرگز نہیں۔۔۔۔۔
وہ مجھے پسند بھی نہیں کرتا۔۔۔۔۔
سخت عاجز ہے مجھ سے۔۔۔۔۔۔
وہ جلدی سے بولی حالانکہ ریا کی بات سچ ہو سکتی ہے یہ سوچ کر اُس کا دل تیزی سے دھڑکا تھا
تو پھر تمہیں کیا لگتا ہے کیا وجہ ہو سکتی ہے اُس کے اس بہیو یر کے پیچھے۔۔۔۔
ریا اُس کی بات پر اُسے گھورتی ہوئی پوچھنے لگی
مجھے لگتا ہے اُس کی نیت خراب ہو گئی ہے مجھ پر۔۔۔۔۔۔
پہلے وہ باہر کی لڑکیوں کو تاڑتا تھا۔۔۔پھر سوچا ہوگا گھر میں ہی تو اتنی حسین لڑکی موجود ہے کیوں نہ اُسے ہی شکار بنایا جائے
لیکِن میں اُس کی چال کبھی کامیاب نہیں ہونے دوں گی ریا۔۔۔۔۔
آج رات پوری تیاری کرکے رکھی ہے۔۔۔۔کچن سے جتنے اوزار ملے سب تکیے کے نیچے چھپا دیے ہے۔۔
ذرا بھی اُس نے کچھ کیا نا وہی ذبح کر دوں گی کمینے کو۔۔۔۔۔
وہ نان سٹاپ بولتی اپنے خطرناک تجزیے سے ریا کو پریشان کر گئی۔۔۔
افف نین۔۔۔۔پلیز بی سیریس ۔۔۔۔کسی بات پر تو نارمل انسانوں جیسا سوچا کرو۔۔۔۔۔ایسا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔تم بلا وجہ کے شک کر رہی ہو بیچارے پر۔۔۔۔
ریا نے اپنا سر تھام کر اُسے سمجھاتے ہوئے کہا
تمہیں بڑا پتہ ہے جو اُس کی طرفدا ر بن رہی ہو۔۔۔۔میں رہتی ہوں اُس کے ساتھ اُس کی رگ رگ میں جو ٹھرک کے جراثیم ہے نہ اُن سے بھی واقف ہوں میں۔۔۔۔۔
چلو ابھی میں رکھتی ہوں بہُت نیند آرہی ہے مجھے۔۔۔۔۔۔
وہ بیزاری سے کہتی آخر میں جمائی لیتے ہوئے بولی
ہاں اچھا ہی ہے جو اُس کے آنے سے پہلے سو جاؤ ورنہ وہ پھر سے کوئی دوائی دے کر تمہیں فریز نا کر دے ۔۔۔
ریا نے ہنستے ہوئے شرارت سے کہا جس پر نین نے اُسے گھورا
اوکے گڈ نائیٹ۔۔۔۔صبح بات کرتے ہیں
وہ جلدی سے کہتی فون بند کر گئی اس سے پہلے کے نین ساحل کی بجائے اُس کی کلاس لگا دے
∆∆∆∆∆∆∆