Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 60

گھر آکر اندر لیجانے کے لیے وہ دوبارہ اُسے اٹھانے لگا تو وہ بوکھلا کر پیچھے ہوئی
نو
کیا کر رہے ہو میں ٹھیک ہوں۔۔۔اتنی بھی کوئی لگی نہیں ہے۔۔۔چل سکتی ہوں۔۔۔
وہ اُسے آنکھیں دکھا کر بولی اور اندر جانے لگی۔۔
اُس کا فون بجا تو وہ اُس کے پیچھے جاتے جاتے رک گیا اور کال اوکے کرتے ہوئے باہر آگیا
نین روم میں آئی تو وہاں رابعہ بیگم پہلے سے موجود تھیں۔۔۔۔وسط میں کھڑے ہو کر گہرائی سے اُس کے کمرے کا جائزہ لے رہی تھیں۔۔۔
۔حالانکہ رات کو کی گئی ساری سجاوٹ صبح ہی اُس نے صاف کروا دی تھی لیکن شاید اُنہیں کچھ اندازہ ہو گیا تھا تبھی وہ ایک ایک چیز کو جانچ رہیں تھی
بڑی مامی ۔۔۔۔۔آپ یہاں۔۔۔۔۔۔
وہ اندر آکر ہینڈ بیگ بیڈ پر ڈالتے ہوئے بولی
میں تم سے ہی ملنے آئی تھی لیکن چندا نے بتایا کہ تم کہیں باہر گئی ہو۔۔۔۔
اُنہوں نے مسکرا کر اُسکی جانب دیکھا
جی کالج گئی تھی ۔۔۔۔۔اپنے ڈاکیوںمینٹ سبمٹ کروانے۔۔۔۔۔
وہ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولی۔۔رابعہ بیگم مسکراتی ہوئیں اُس کے پاس آئی
بہت اچھا کیا۔۔۔۔اب تمہیں ہمیشہ یہیں تو رہنا ہے اسلئے اچھا ہے تم اپنی پڑھائی بھی جلد سے جلد شروع کرو۔۔۔۔
ویسے بھی آجکل تم اتنی اُداس رہتی ہو پڑھائی میں دل۔لگ جائے گا تو باقی سب ٹینشن بھول جائے گی۔۔
رابعہ بیگم اپنائیت سے کہتیں اُس کے پاس بیٹھ گئی تو وہ زبردستی کا مسکرائی
کل تمہیں روتے دیکھا تب سے میرا دل کتنا بے چین ہے میں تمہیں بتا نہیں سکتی۔۔۔۔۔۔مجھے معلوم ہے تم اُس جاہل انسان کو اب بلکل بھی برداشت نہیں کر پا رہی ہو ۔۔۔۔۔۔
انہوں نے ہمدردانہ لہجے میں کہا تو نین کی آنکھوں میں ہلکی سی حیرت اُبھری
بلکل اُس طرح جس طرح میں اُس لڑکی کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر تل تل مرتی ہوں۔۔۔۔
فلک کا زکر کرتے ہوئے اُن کے لہجے میں بے حد ناگواری تھی
لیکِن تم مایوس مت ہونا۔۔۔۔۔میں جانتی ہوں داؤد بھلے ہی ابھی اُس لڑکی کے جال سے نہیں نکل پا رہا لیکن وہ زیادہ دن میری ناراضگی برداشت نہیں کرےگا۔۔۔۔اُسے اُس لڑکی کو چھوڑنا ہی ہوگا تب ہی ہم سب سکھ سے جی پائے گے۔۔۔داؤد اور تم۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے آخر میں مسکرا تے ہوئے اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھنا چاہا جِسے نین نے تیزی سے جھٹک دیا
بڑی مامی پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کیا بولے جا رہی ہے۔۔میں آپ سے کہہ چُکی ہوں کے مجھے داؤد سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔۔۔۔
آپ میرا نام اُس کے ساتھ مت لیا کریں پلیز۔۔۔
اور آپ کیا سوچ رہی ہے میں نہیں جانتی بس اتنا بتا دوں کے میری لائف میں داؤد اب بلکل بھی میٹر نہیں کرتا۔۔وہ میرے لیے بس میرا کزن ہے اُس سے زیادہ کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔
نہ کبھی ھو سکتا ہے۔۔۔۔
وہ اُن کی باتوں کو خاموشی سے سن رہی تھی لیکن اُن کی اگلی بات کا اندازہ لگا کر ایکدم بھڑک اٹھی
لیکن جلد ہی اُسے اپنے لہجے کا اندازا ہوا تو اُن کی حیران پریشان شکل دیکھ کر گہری سانس لیتے ہوئے خود کو پر سکون کیا
میری بات سنیں بڑی مامی۔۔۔۔۔۔۔
فلک بہُت اچھی ہے۔۔۔۔۔آپ اُس سے اپنی ساری بد گمانیاں ختم کر دیں۔۔۔اسے دل سے اپنا لیں۔۔۔وہ آپ کے لیے بہُت اچھی بہو ثابت ہوگی۔۔۔مجھ سے تو بہت زیادہ اچھی۔۔۔۔۔۔
وہ اُن کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتی ہوئی بولی
اچانک تمہیں اُس سے اتنی ہمدردی کیوں ہونے لگی نین۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے اُس کے ہاتھ سے اپنا چھڑا کے سنجیدگی سے اُسے دیکھا
ہاں بڑی مامی اچانک ہی ہونے لگی ہمدردی۔۔۔۔۔جب تک مطلبی بن کر سوچا تو اُس میں صرف برائیاں ہی نظر آئیں۔۔۔پر جب اُسے پچھلی باتوں سے ہٹ کر دیکھا۔۔ تو لگا کے وہ بہُت اچھی ہے۔۔۔۔۔بہُت صاف اور پاک دل کی مالک ہے۔۔۔۔۔۔
وہ تو بنا غلطی کے بھی نظر ملا کر بات کرنے سے کتراتی ہے۔۔۔
جال بچھانے کھیل کھیلنے والے کام وہ کیا کریگی بڑے مامی
آپ بھی پچھلی باتوں کو ذہن سے نکال کر دیکھیں گی تو اُس کی اچھائی نظر آئیگی آپکو۔۔۔۔
یہ نظر آئیگا کے داؤد اُس کے ساتھ کتنا خوش ہے۔۔۔۔۔
نین اُنہیں سمجھاتے ہوئے بولی رابعہ بیگم اُسے دیکھتیں رہ گئی۔۔۔اُنہیں تو لگتا تھا وہ فلک سے نفرت کرتی ہے اس لیے اُن کی خواہش مکمل ہونے میں زیادہ تکلیف نہیں ہوگی لیکِن آج وہ نین کی سوچ دیکھ کر حیران ہی رہ گئیں
اُسے فلک پر غصّہ ضرور تھا۔۔۔وہ اُسے نا پسند کرتی تھی لیکن سچائی جاننے کے بعد تمام بدگمانیاں ختم ہو چکی تھیں ۔۔
میں نے صرف تمہیں اپنی بہو مانا ہے نین۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا
میں تو آپکی بہو ہوں نہ بڑی مامی۔۔۔ساحل اور داؤد دونوں ہی تو آپ کے بیٹے ہے۔۔۔۔تو بہو تو میں ایسے بھی ہوں نہ آپکی
وہ مسکرا کر بولی جب کے اُس کی بات سن کر اُن کا حلق تک کڑوا ہو گیا۔۔
انہوں نے بڑی مشکل سے اپنی ناگواری چھپائی
ایک بات بتاؤ نین۔۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے اُس کی بات کو ان سنی کرتے ہوئے اُسے جانچنے والے انداز میں دیکھا نین نے ہلکا سا سر ہلایا
تُم اس لڑکے کے ساتھ ایک کمرے میں رہتی ہو اُس نے تمہارے ساتھ کچھ کیا تو نہیں نہ ۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے رازداری سے پوچھا۔۔۔۔گہری نظروں سے اُس کے تاثرات کا ایکس رے کرتے ہوئے۔۔۔۔۔نین سن سی اُنہیں دیکھنے لگی۔۔۔خون کی گردش ایکدم سے تیز ہوتی گئی
مجھے سمجھ نہیں آرہا آپ کیا پوچھ رہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سپاٹ لہجے میں پوچھنے لگی۔۔۔۔صرف لب ہلے چہرے پر ذرا بھی لکیر نہیں تھی
۔رابعہ بیگم اُس کی نا سمجھیں پر جھنجھلا گیئں
۔۔۔
اُس نے چھوا تو نہیں نا تمہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے اُسے دونوں بازؤں سے پکڑ کر سخت لہجے میں پوچھا وہ اُن کی جھنجھلاہٹ دیکھ دھیرے سے مسکرائی
چھوا نا ۔۔۔۔بہُت بار چھوا۔۔۔۔۔۔بے حد شدت سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بار بار چھوا
وہ مسکرا کر اُنہیں دیکھتی پر اسرار سے انداز میں بولی۔۔۔۔۔وہ اُن کے سوال کا مطلب اور وجہ واضح سمجھ چکی تھی۔۔۔
۔۔اُسے اچانک ہی اُن سے بے حد نفرت محسوس ہونے لگی
رابعہ بیگم نے پہلے حیرت اور پھرغصے سے اُسے دیکھا۔۔
اور تم نے چھونے دیا۔۔۔۔۔روکا نہیں اُسے۔۔۔۔۔کیوں۔۔۔۔
وہ غصے سے اُسے دیکھتیں اُس کے بازوؤں سے ہاتھ جھٹک کر وہاں سے اٹھ گئیں
نہیں روک سکی۔۔۔۔۔۔مجھے تو پتہ بھی نہیں چلا کہ کب وہ اتنے قریب آگیا۔۔۔۔۔میں کچھ کر ہی نہیں پائی۔۔۔اور روکتی بھی کیوں آخر وہ میرا شوہر ہے۔۔۔۔حق رکھتا ہے مجھ پر
نین کے اطمینان میں ذرا بھی فرق نہیں آیا
وہ دل جلاتی مسکراہٹ لبوں پر سجائے کھوئے ہوئے لہجے میں بولی
میں سمجھتی تھی تم میرے بیٹے کے لیے بلکل صحیح لڑکی ہو۔۔۔۔۔میں دِن رات سوچ رہی تھیں کے کیسے سب ٹھیک کروں۔۔۔کیسے تمہیں اور داؤد کو ایک کروں۔۔۔اور تم۔یہاں اُس لڑکے کے ساتھ عیش کرنے میں لگی ہوئیں تھی۔۔
تمہارا اپنا پن ۔۔تمہاری محبت۔۔ شادی ٹوٹنے کا دکھ سب دکھاوا تھا
مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی نین۔۔
رابعہ بیگم ایکدم سے اُس پربھڑک اٹھیں۔۔۔ وہ اُس کی بدتمیزی کے باوجود اس سے نرمی سے بات کرتیں تھی تو صرف اس لیے کیوں کے اُنہیں اپنی طرف سے اُسکا دل خراب نہیں کرنا تھا ۔۔
لیکِن اب یہ جان کر کر وہ ساحل کی صرف وکالت ہی نہیں کرتی بلکہ اُس کے ساتھ خوشحال ازدواجی زندگی گزار رہی ہے۔۔۔اُن کے دماغ میں آگ لگ گئی
وہ اُنہیں دیکھ کر غصے سے اٹھ کھڑی ہوئی
مجھے آپکو کوئی صفائی دینے کی ضرورت نہیں ہے بڑی مامی
اور رہی بات یہ کے
آپ مجھے اور داؤد کو لے کر سوچ رہیں تھی تو بس میرے ایک سوال کا جواب دے دیجئے۔۔۔۔کیا یہی سوال جو ابھی آپ نے مجھ سے کیا۔۔۔۔وہ آپ نے داؤد سے بھی پوچھا ہے۔۔۔۔
وہ بھی اُن کے غصے کے جواب میں غصے سے بولی۔۔۔۔اُس کی آخری بات پر رابعہ بیگم نے نا گواری سے اُسے گھورا اور سختی سے دانت پیسے
نہیں نا۔۔۔۔۔۔مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی بڑی مامی۔۔۔۔۔۔کِتنی دوغلی ہیں آپ۔۔۔۔۔۔
اُن کی خاموشی پر وہ افسوس کرتے ہوئے بولی
نین۔۔۔۔۔
۔۔اُس کے الفاظ اور لب و لہجے پر بے ساختہ اُن کا ہاتھ اٹھا تھا
نین نے گھبرا کر آنکھیں میچ لیں۔۔۔۔۔
خوف کے مارے دل زوروں سے دھڑکا
لیکِن جب اُسے اُن کا ہاتھ ہوا میں رکتا محسوس ہوا اُس نے آنکھیں کھولیں۔۔۔۔
دیکھا تو اُس کے چہرے سے چند انچ کے فاصلے پر ہی وہ اُن کا ہاتھ روکے کھڑا تھا
رابعہ بیگم اُسے حیرت اور بے یقینی سے دیکھ رہی تھیں۔۔
اس کو مت ماریئے پلیز۔۔۔۔
یہ تھوڑی کم بھیجے کی ہے۔۔۔
زبان بہت چلاتی ہے۔۔۔
لیکِن اس کے دل۔میں کچھ نہیں رہتا۔۔۔
وہ اُن کا ہاتھ جلدی سے چھوڑ کے عاجزی سے بولا۔۔۔۔۔نین اُسے دیکھتی رہ گئی
تمہاری اتنی ہمت کے تم میرا ہاتھ روکو۔۔۔۔
رابعہ بیگم ابھی بھی بے یقینی کی کیفیت میں تھیں۔۔۔اُنہیں حیرت ہو رہی تھی کے نظر اُٹھا کر نا دیکھنے والا ہاتھ روک سکتا ہے
اگر اس نے کچھ غلط ولت بول دیا تو اپن کی طرف سے سوری لے لو۔۔۔۔بس اس پر ہاتھ مت اٹھانا۔۔۔
وہ نظریں جھکائے بولا تو لہجے میں ذرا بھی سختی نہیں تھی ۔۔۔ریکویسٹ کرنے والا انداز تھا۔۔۔نین بنا پلک جھپکے اُسے دیکھے جا رہی تھی ۔۔
اب تم مجھے بتاؤگے کے میں کیا کروں گی اور کیا نہیں۔۔۔۔۔دو کوڑی کی اوقات نہیں ہے تمہاری۔۔۔۔۔اور میرے سامنے کھڑے ہو کر مجھے سکھاؤ گے۔۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم بے حد زور سے اُس پر چلائی ۔۔۔نین نے ساحل سے نظر ہٹا کے اُنہیں حیرت سے دیکھا
بڑی مامی پلیز۔۔۔۔اس طرح بات مت کیجئے
وہ اُن کے زور سے چلانے پر سمجھ گئی تھی کے وہ سب کو جمع کرکے بات کو بڑھانا چاہتیں ہے تبھی افسوس بھرے لہجے میں بولی
لیکِن اُنہوں نے اُس کی طرف دیکھا بھی نہیں
ابھی اور اسی وقت اس گھر سے نکل جاؤ۔۔۔۔۔دفعہ ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔۔
وہ سیدھے ساحل کی طرف دیکھ کر بولیں اُسی وقت عبّاس صاحب بھی وہاں پہنچے اور رابعہ بیگم کی بات سن کر اُنہوں نے سختی سے مٹھیاں بھنچیں
یہ سب کیا ہو رہا ہے رابعہ۔۔۔۔
وہ صورتِ حال سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھنے لگے ۔۔۔زور کی آوازوں سے گھر کے باقی سب بھی وہاں جمع ہونے لگے۔۔۔
نوکر بننے کی حیثیت نہیں اور بیٹا بنا لیا آپ نے اسے۔۔۔آج میرا ہاتھ پکڑنے کی جرات کی ہے کل کو ہاتھ اٹھانے کی ہمت بھی کرےگا۔۔۔۔
وہ عبّاس صاحب کی طرف دیکھ کر غصے سے بولیں اُنہوں نے ایک نظر اُس کے خاموش چہرے کو دیکھا۔۔۔۔
اسے کہہ دیں عبّاس کے ابھی اور اسی وقت میرے گھر سے نکل جائے اور آپ نہیں کہہ سکتے تو مجھے بتا دیں میں اسے دھکّے مار کر نکلوا سکتی ہوں۔۔۔۔
اُنہوں نے ساحل کی طرف اُنگلی اٹھا کر ناگواری سے کہا۔۔۔۔۔رابعہ بیگم کی نفرت دیکھ نین کی آنکھوں میں آنسُو آنے لگے۔۔۔۔۔جب کے وہ بے تاثر کھڑا زمین کو گھور رہا تھا
ہوا کیا ہے کوئی کچھ بتائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عباس صاحب کا بازو پکڑ کر کھڑی دادی نے آگے بڑھتے ہوئے لرزتی آواز میں پوچھا۔۔۔۔ساحل نے منہ سے سانس خارج کرتے اُن کی طرف دیکھا۔۔
کچھ نہیں ہوا دادی۔۔۔۔تو ٹینشن مت لے۔۔۔۔اپنا خیال رکھ۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر اُن کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا اور اُسے لبوں سے لگا کر وہاں سے جانے لگا لیکِن عبّاس صاحب نے اُسے ہاتھ دکھا کے وہیں رکنے کا اشارہ کیا
وہیں کھڑے رہو۔۔۔۔کہیں نہیں جاؤگے تم۔۔۔۔۔۔چھوٹی چھوٹی باتوں کا ایشو بنانا چھوڑ دو رابعہ۔۔۔۔۔۔۔ساحل سے تمہیں تکلیف ہے میں جانتا ہوں لیکن وہ یہاں سے کہیں نہیں جائےگا۔۔۔
اُنہیں نے ساحل کو روک کر رابعہ بیگم کو جتاتے ہوئے کہا
سوچ سمجھ کر فیصلہ کر لیں عبّاس کیوں کہ اب اس گھر میں یا تو میں رہوں گی یا پھر یہ جاہل انسان۔۔۔۔۔۔۔بہُت برداشت کیا ہے میں نے اسے۔۔۔۔۔۔آپ کی ہمدردی اس کے لیے اتنی بڑھ گئی ہے کہ آپ کے لیے میں۔۔۔۔۔۔ میری مرضی میری پریشانی کچھ معنی نہیں رکھتی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُن کی بات سن کر جذباتی ہوتے ہوئے بولی نین افسوس سے اُنہیں دیکھنے لگی
پتہ نہیں آپ کیا سوچ کر اس جاہل جنگلی کو اٹھا کر گھر لے آئے ۔۔۔ بنا سوچے سمجھے بنا کسی کی پرواہ کیے۔۔
بیٹا بیٹا کرتے آپ کی زبان نہیں تھکتی۔۔۔
کس نظر سے آپ کو یہ مجرم یہ قاتل اپنا بیٹا بنانے کے لائق لگا ۔۔۔۔۔۔ جس کے نام کا پتہ ہے نا خاندان کا۔۔۔۔پتہ نہیں کس کا گندا خون ہے۔۔۔۔
اُس نے نفرت بھری نظر ساحل پر ڈالتے ہوئے کہا اُس نے ضبط سے سرخ ہوتی آنکھیں بند کرکے کھولیں۔نین نے سختی سے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔۔اگر اُسے اندازہ ہوتا کے اُس کی ایک بات کی وجہ سے ساحل کو اتنا کچھ سننا پڑیگا تو وہ اپنی زبان پر کنٹرول رکھتی
رابعہ۔۔۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب نے غصے سے اُنہیں پکارا
ایسے ہی ۔۔۔ایسے ہی ہر بار آپ نے مجھے روکا۔۔۔کبھی کچھ نہیں کہنے دیا۔۔۔ہمیشہ اس کی حمایت کرنے کو کھڑے رہے
میں نے ہمیشہ نظر انداز کیا لیکن آج نہیں۔۔۔۔آج اس گھر سے یہ نہیں گیا تو میں چلی جاؤں گی۔۔۔۔
۔اُنہوں نے فوراً کہا۔۔۔۔۔اُن کی دھمکی پر سب حیرت سے اُنہیں دیکھ رہے تھے اور عباس صاحب غصے سے
ساحل کہیں نہیں جائے گا۔۔۔۔۔۔تمہیں جو ۔۔۔۔۔۔
عبّاس صاحب غصے سے کہتے ہوئے اُن کی طرف بڑھنے لگے لیکِن ساحل نے بیچ میں آکر اُن کے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے انہیں روک دیا
آپ کو دادی کی قسم ہے بات کو مت بڑھاؤ۔۔۔۔۔۔اپن کا یہاں سے جانا ہی سہی ہے۔۔۔
وہ اُنہیں روکتا ہوا بولا عبّاس صاحب نے بے چارگی سے اُسے دیکھا۔۔
آج اگر آپ میرے کو روکے تو میری اپنی نظر میں بھی کوئی ویلیو نہیں ہوگی۔۔۔۔۔میرے کو جانے دو ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُن کے کچھ بھی کہنے سے پہلے نہایت بے بس لہجے میں بولا
تُم۔میرے بیٹے ہو۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے ہمیشہ کی طرح اُسے جتایا رابعہ بیگم نے ناگواری سے سر جھٹکا
آپ کا بیٹا ہونے کے لیے میرے کو اس گھر میں رہنا ضروری نہیں ہے۔۔۔۔میں کدھر بھی رہوں آپ کا بیٹا ہی رہوں گا۔۔۔
وہ مسکرا کر بولا عبّاس صاحب نے دکھ بھری نظر رابعہ بیگم پر ڈالی اور اُس کمرے سے نکل گئے۔۔
اُس نے دادی کی طرف دیکھا اور اُن کے گلے لگ گیا۔۔۔۔نین اپنے آنسو صاف کرتی آگے بڑھی اوراس کے پاس جا کر اُس کا بازو پکڑ لیا۔۔۔۔
دادی اور ساحل دونوں نے اُسے دیکھا
یہ تم کیا کر رہی ہو نین۔۔۔۔۔ ۔۔۔
اُس کا ارادہ سمجھ کر رابعہ بیگم حیرت سے بولیں۔۔۔
میں بھی ساحل کے ساتھ جاؤں گی ۔۔۔۔۔۔۔
وہ ساحل کو دیکھتے ہوئے بولی وہ بھی خاموشی سے اُسے دیکھ رہا تھا دادی نے اُس کی بات پر آہستہ سے سر ہلایا
پاگل ہو گئی ہو تم۔۔۔کوئی ضرورت نہیں ہے تم یہیں رہوں گی۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم غصے سے بولیں۔۔۔۔اُنہیں نین کا ساحل کے ساتھ ہونا کسی صورت منظور نہیں تھا
اگر یہ نہیں رہیگا تو میں بھی یہاں نہیں رہوں گی۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے بازو پر گرفت مزید سخت کرتی اُنہیں دیکھ کر ڈھٹائی سے بولی
تُم اس لڑکے کے لیے ہم سب کو اپنی نانو کو چھوڑ کر جانا چاہتی ہو نین۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے افسوس بھرے لہجے میں کہا۔۔
اس گھر میں اس کمرے میں اس کی بیوی کی حیثیت سے ہی رہ رہی ہوں بڑی مامی۔۔۔جب یہ یہاں نہیں تو میں کیسے یہاں رہ سکتی ہوں۔۔۔
وہ ساحل کی۔طرف دیکھ کر نظریں جھکاتے ہوئے بولی۔۔وہ خاموش اُسے دیکھے جا رہا تھا۔۔۔۔اگر وہ داؤد کے لیے کچھ محسوس کرتی تھی۔۔۔اگر وہ داؤد کے سامنے رہنے کے لئے اُس کے ساتھ تھی تو اس وقت اُس کا ہم قدم ہونا کیا محض ساحل کا وہم تھا۔۔۔یا باقی ساری باتیں وہم اور یہ حقیقت تھی
تمہارے سارے رشتے بس اس کے ساتھ ہے۔۔۔۔
ہم سے کوئی ناتہ نہیں رہ گیا تمہارا۔۔۔۔۔
یہ خود لوگوں کا محتاج ہے۔۔۔تمہیں کیسے سنبھالے گا۔۔۔۔۔کہاں رکھے گا۔۔۔کیا کھلائے گا۔۔۔
رابعہ بیگم اونچی آواز میں بولیں ساحل کو حقارت سے دیکھتے ہوئے
میں نہیں جانتی۔۔۔۔۔پر جس بھی طرح رکھے گا رہ لوں گی۔۔۔۔۔جہاں لے جائیگا چلی جاؤں گی۔۔۔۔
وہ اُن کی طرف دیکھ کر ضدی انداز میں بولی
پاگل مت بنو نین۔۔۔۔۔
بس رابعہ۔۔۔۔۔۔۔جانے دو اُسے۔۔۔۔
دادی نے ایکدم سے اُن کی بات کاٹ کر اُنہیں روک دیا۔۔۔۔
یہ آپ کیا کہہ رہیں ہے۔۔۔۔۔۔اس لڑکے کے حوالے کر دیں گی اپنی ناتی کو ۔۔۔۔۔چھوڑ دیں گی اس کے ساتھ بھٹکنے کے لیے
اُنہوں نے حیرت سے اپنی ساس کو دیکھا۔۔۔
اگر تمہیں اتنا خیال ہوتا تو اس طرح گھر کا ماحول خراب نہیں کرتیں۔۔۔۔۔۔بڑوں کا کام سمجھداری سے ہر معاملے کو سلجھانا ہوتا ہے اس طرح واویلا کرکے گھر کی عزت کا تماشا نہیں بنایا جاتا۔۔۔
دادی نے اُن کی بات کے جواب میں تاسف سے کہا وہ ہنہ کرکے رہ گیئں
اور تمہیں میری ناتی کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔وہ تم سے زیادہ سمجھدار ہے اپنا صحیح غلط جانتی ہے۔۔۔۔
وہ تمہاری طرح آنکھوں پر نفرت کا چشمہ چڑھا کر نہیں دیکھتی اُسے ساحل کی اچھائی نظر آتی ہے
اُسے ساحل پر بھروسہ ہے۔۔۔۔
اُنہوں نے جتاتے ہوئے کہا اور نین کی طرف دیکھ کر مسکرائیں
یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے کافی ہے
اور مجھے یقین ہے دونوں ہر حال میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔۔۔۔
اُنہوں نے نین کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔
میری دعائیں تم دونوں کے ساتھ ہیں۔۔۔۔
اُنہوں نے اُس کی پیشانی پر پیار کرتے ہوئے ساحل کی جانب دیکھا۔۔۔اُس نے سر ہلایا اور باہر جانے لگا
بہت بڑی غلطی کر رہی ہو تم نین۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے اُسے روکنے کی غرض سے کہا۔۔۔
اُس نے اُن کی طرف خفگی سے دیکھا ۔۔۔۔۔اور ساحل کے ساتھ اُس روم سے اور پھر اُس گھر سے باہر نکل آئی۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆