Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

Episode 28
بڑی مامی۔۔۔۔۔۔۔داؤد نے کب واپس آنا ہے
سب لوگ رابعہ بیگم کے کمرے میں بیٹھے کل پکنک پر جانے کی پلانگ کر رہے تھے تب وہ منہ بنا کے بولی۔۔۔
داؤد کے غائب ہونے پر اُسے سخت غصّہ آرہا تھا۔۔لیکن وہ فون تک نہیں اٹھا رہا تھا کے وہ اُس پر غصّہ نکال سکتی
۔میں نے بات کی ہے اُس سے کہہ رہا تھا دو تین دن لگے گے اُس کا کام پورا ہوتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے مسکرا کر جواب دیا جب کے اندر ہی اندر داؤد سے خفا بھی تھیں کے اُس نے نین کے آنے کے بعد سے ایک بار بھی اُسے وقت نہیں دیا تھا
وہ سر ہلاتی اپنی نانو کے قریب ہوئی
نانو ۔۔۔۔۔۔۔۔ داؤد دھیرے دھیرے ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے میں تو کہتی ہوں اُس کے ہاتھ پیلے کر دیجئے اب جلدی سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی نانو کے کان میں گھستے ہوئے اُنہیں صلح دینے لگی
میں بھی یہی سوچ رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
نانو نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا نین نے آنکھیں پھیلائی
دھیرے نانو۔۔۔۔۔۔ورنہ ممی میرا فیس نیلا کردیگی۔۔۔۔۔۔
وہ کن انکھیو سے زینب کو دیکھ کر بولی جو آسیہ بیگم سے باتوں میں لگی تھی نانو نے ہنستے ہوئے اُس کے گال پر چپت لگائی۔۔
مما میں تو نہیں آرہی پکنک پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیا نے برا سا منہ بناتے ہوئے کہا
آپ سے کسی نے آپکی مرضی پوچھی ہے۔۔۔۔۔
نین نے اُسے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔
مجھے کل اپنا اسائمینٹ پورا کرنا ہے یار۔۔۔۔۔
وہ بیچارگی سے بولی
وہ سب بعد میں۔۔۔کل ہم سب صرف مستی کرے گے
وہ پورے جوش میں ہاتھ اٹھاتے ہوئے بولی اور روما نے بھی اُس کا ساتھ دیا۔۔۔باقی سب ھنسنے لگے
نین تم ہمارے نئے پروفیسر کو نہیں جانتی۔۔۔۔۔۔انتہائی کھڑوس اور غصیل انسان ہے وہ۔۔۔۔۔۔نا بابا مجھے کلاس میں اپنی انسلٹ نہیں کروانی اُن کے ہاتھوں۔۔۔۔۔۔میں چلی سونے ۔۔۔۔۔
وہ جلدی سے کہہ کر وہاں سے اٹھی اور باہر نکل گئی۔۔۔
جب کے نین اب اُس کے نا آنے کا سن کر پریشان ہو چکی تھی وہ بھی اٹھ کر اُس کے پیچھے بھاگی
جیا۔۔۔۔۔۔۔جیا رکو۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے پکارتی اُس کے پیچھے سیڑھیاں چڑھنے لگی لیکِن ساحل کو ہال کے دروازے سے اندر آتے دیکھ رک کر واپس پلٹ گئی.
وہ نائیٹ ٹراؤسز اور ٹی شرٹ میں دھیرے دھیرے چلتا اندر آرہا تھا چہرے پر درد کے تاثرات تھے۔
ماما کے بیٹے۔۔۔۔۔۔۔۔پیر میں کیا ہوا تمہارے
وہ اُسے عجیب طرح سے رک رک کر چلتے دیکھ حیرت سے پوچھنے لگی۔۔۔ساحل نے چونک کر اُسے دیکھا اور سیدھا ہوا
کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔۔بس تھوڑا فریکچر ہے۔۔۔۔۔۔تیرے کو کیا ۔۔۔۔۔
اُس نے جھنجھلا کر جواب دیا۔۔۔۔ایک تو درد سے جان نکل رہی تھی اوپر سے نین جیسی مصیبت سے سامنا ہو گیا تھا
لگتا ہے آج بہُت پٹ کر آئے ہو کسی سے۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے چڑنے اور مزے لیتے ہوئے بولی ساحل نے دانت بھینچ کر اُسے گھورا اور اپنے روم کی طرف جانے لگا
رکو رکو رکو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے بات کرنی ہےتم سے۔۔
وہ ایک دم سے اُس کے سامنے آتے ہوئے بولی
بول۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے آنکھیں گھما کر بولا
میں تمہیں ایک سجیشن دینا چاہتی ہوں۔۔۔اگر تم اپنے بات کرنا کا سٹائل چینج کرلو نا تو تم تھوڑے بہُت شریف لگ سکتے ہو
وہ مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔
چندا والے معاملے میں کو بے قصور ثابت ہو گیا تھا لیکِن وہ اب بھی اُس اور تھوڑا بہت شک رکھتی ہے تھی
آخر کو خدا کی دی ہوئی نعمت تھی اُس کی عقل تھوڑا تو یقین کرنا ہی تھا اُس پر۔۔۔۔۔۔
اپن کو شریف بننے کا کوئی شوق ویک نہیں ہے تو جا کے کسی اور کو ڈھونڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بیزاری سے بولا آگے بڑھنے لگا تو وہ پھر سامنے آگئی
سنو نا ۔۔۔۔۔میں تمھاری ہیلپ کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔
ایسی ٹیوشن دوں گی نہ کے زِندگی بھر مجھے دعائیں دیتے رہو گے۔۔۔
وہ کالر جھاڑتے ہوئے بولی ساحل نے ضبط سے سانس لی
دیکھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے گھور کر وارن کرنے کہا لیکن نین نے ٹوک دیا
دیکھ نہیں دیکھو۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اصلاح کرتے ہوئے بولی
دیکھ تو۔۔۔۔۔۔۔
وہ زچ ہوا
تو نہیں آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے اصلاح پرفوکس کیا
کائیکو پیچھے پڑی ہے۔۔۔۔۔۔
وہ اکتایا
کائکو نہیں کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے پھر اصلاح ضروری سمجھی
دیکھ اب اپن کا سٹک ریلا ہے۔۔۔۔۔۔
وہ ایک قدم آگے ہوا۔۔۔۔اور جتنے غصے سے بولا وہ تھوڑا گھبرا گئی اصلاح کے چکر میں منہ تھوڑی بگڑوانا تھا
کیا ہے تمہیں اپن تپن کے بنا بات نہیں کر سکتے۔۔۔۔
وہ نروس ہو کر بھی ڈھٹائی سے بولی
نہیں۔۔۔۔۔تیرے کو ٹیوشن دینی تو جا کر داؤد کو میرا بھیجا کلٹی مت کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک تو چوٹ لگی ہے اوپر سے مصیبت۔۔۔
وہ غصے سے بڑبڑایا۔۔۔۔
لیکِن ابھی تو تم نے کہا کے فریکچر ہے۔۔۔۔
نین نے اُسے مشکوک نظروں سے گھورا
فریکچر میں بھی درد رہتا ہم انسانوں کو۔۔۔۔۔۔اور دوسرے پررحم بھی کر لیتے ہیں۔۔۔۔۔
وہ اُسے کہتا آگے بڑھا اور آہستہ سے قدم سیڑھیوں پر رکھتے ہوئے اوپر چڑھنے لگا
ہاں یہ تو ہے بھلے تم وائلڈ مین ہو لیکن ہو تو انسان ہی نا۔۔۔۔چلو میں لے چلتی ہوں تمہیں اوپر۔۔۔۔۔
وہ جلدی سے آگے کی سیڑھی پر چڑھی اور اُس کے آگے ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولی۔۔۔۔ساحل نے سنجیدگی سے اُس کی ہتھیلی کو دیکھا اور ہاتھ مار کر نیچے کیا۔۔۔
جا کر اپنا کام کر۔۔۔۔۔بڑی آئی
اُسے بیزاری سے دیکھتا ہوا اوپر بڑھ گیا نین نے اُس کی پشت پر زبان دکھائی۔۔۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆
ادھوری کہانی پر خاموش لبوں کا پہرہ ہے۔۔۔
چوٹ روح کی ہے اس لیے درد ذرا گہرا ہے۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے نیہا سے بات کرکے اُسے دوبارہ کیس لڑنے کے لئے راضی کرلیا تھا ۔۔۔حالانکہ اُس کے پاس اُس سے بہتر وکیل ہائر کرنے کا آپشن بھی تھا لیکِن چونکہ نیہا اپنی قابلیت سے پہلے ہی اس کیس کو کلیئر کر چُکی تھی اس لیے داؤد کو اُس پر بھروسہ کرنا صحیح لگا۔۔۔۔اور وہ راضی بھی ہو گئی۔۔۔۔۔
سکندر کا جرم تو وہ پہلے ہی ثابت کر چکی تھی ۔۔اچانک ارحم کی موت اور فلک کے غائب ہونے کی وجہ سے وہ کیس بند ہو گیا تھا ورنہ سکندر کو سزا ہو کر رہتی۔۔۔
اب بھی اُس نے فلک کو یقین دلایا تھا کے سکندر کو پھانسی ہونا یقیناً ہے۔۔۔۔۔۔
نیہا اور داؤد اس وقت فلک کے گھر پر ہی موجود تھے اچانک بیچ سے کھلے آنگن میں پتھروں کی بارش ہونے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب گھبرا گئے تھے۔۔۔۔باہر سے شور کی آواز آرہی تھی
داؤد اُن پتھروں سے بچتے ہوئے دروازے تک پہنچا اور دروازہ کھول کر باہر نکلا۔۔۔۔
کیا ہو رہا ہے یہ سب۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ زور سے چلایا۔۔۔۔وہاں لوگوں کی بھیڑ جمع تھی۔۔ باہر کھڑے گاردز بھی اُس بھیڑ پر قابو پا کر اُنہیں روکنے کی کوشش کر رہے لیکن یہ اُن کے بس میں نہیں تھا
نکالو ان سب کو اس گاؤں سے۔۔۔۔۔۔۔یہ ہماری بہن بیٹیوں کا ماحول خراب کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
اُن میں سے ایک داؤد کو دیکھ کر چینخ اٹھا اور پتھر اٹھا کر اُس کے سر پر دے مارا۔۔۔۔۔داؤد کے سنبھلنے سے پہلے اُس کی پیشانی پر پتھر لگا ۔۔۔۔۔چہرے پر درد کے آثار نمایاں ہوئے
سب گھر سے باہر نکل آئے تھے داؤد کے ماتھے سے خون بہتا دیکھ اُنہیں پریشانی سے گھیر لیا۔۔فلک بھی گھبرا کے اُسے دیکھنے لگی
نکالو انہیں یہاں سے ۔۔۔۔۔ہمارے گاؤں میں گندگی پھیلا رہے ہیں یہ لوگ۔۔۔۔۔۔
ایک اور آدمی آگے بڑھ کر بولا۔۔
رحمت اپنی بے شرم بیٹی کو لے کر اس گاؤں سے نکل جا ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔۔۔
وہاں کے سر پنچ نے تیز لہجے میں اُسے دھمکی دی
یہ سب کیا ہے مولانا صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رحمت حیرت سے اپنے جاننے والے مولانا کو اُس بھیڑ میں دیکھتے ہوئے سوال کرنے لگا۔۔۔
داؤد ہاتھ اپنے ماتھے سے ہٹا کر غصے سے ہاتھ جھٹکنے لگا
اُسے ایک پل نہیں لگا سمجھنے میں کے یہ سکندر کے جیل جانے کا ری ایکشن ہے
رحمت تمہارے گھر کا ماحول دیکھ کے ہمارے گاؤں کی بچیوں کا ذہن خراب ہو رہا۔ہے اس لیے بہتر ہے تم اس گاؤں سے نکل جاؤ ورنہ ہمیں زبردستی کرنی پڑےگی۔۔۔۔۔۔۔
مولانا نے اُس کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وارن کیا
میں تو کہتا ہوں یہ لوگ جہاں رہے گے گند پھیلے گی اس لیے اس لڑکی کو ہی ختم کر دیتے ہے۔۔۔۔یہی جڑ ہے فساد کی۔۔۔۔۔
پہلے قانون اور کیس کے چکر میں پورے گاؤں میں اپنا اشتہار لگا یا اب ایک اور غیر مرد کے ساتھ کھلے عام گاؤں میں گھوم رہی ہے
ایک آدمی بےحد نفرت سے کہتا ہوا فلک کی جانب اشارہ کرنے لگا وہ سانس روکے اپنی اماں کا سہارا لیتی آنسو بہانے لگی۔۔۔
اور داؤد نے اپنے قدم آگے بڑھائے
شہر میں اب تک اس کے ساتھ رنگ رلیاں منا تی رہی اور اب یہاں گاؤں میں بھی راس رچا رہے ہیں دونو۔۔۔۔۔۔۔۔اور ماں باپ بے شرموں کی طرح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آدمی بن دھوک اول فول بکنے لگا داؤد نے آگے بڑھ کر اُس کے گریبان سے پکڑا اور ایک زور دار مکا مار کے اُسے دور دھکیلا وہ زمیں پر جا گرا۔۔۔۔۔
سب کی آواز بند ہو گئی
اے لڑکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر پنچ نے اُسے غصے سے پکارا
اگر کسی نے فلک کے خلاف ایک غلط لفظ بھی کہا تو یہیں اُس کی قبر بنا دوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے سر پنچ کو گھورتے ہوئے بولا
سر پنچ جی ہم سالوں سے یہاں رہ رہےہیں۔ سب جانتے ہیں ۔۔۔۔۔۔میری بچیاں ایسی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
رحمت نے آگے بڑھ کر بے بسی سے کہا۔۔وہ سر جھکائے آنسو بہا رہی تھی جانے زندگی میں اور کون کون سے دن آنے باقی تھے
تو پھر یہ آدمی تیرے گھر میں کیا کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔
کیا رشتا ہے اس کا تیری بیٹی سے۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں اتنا اچھل رہا ہے یہ اسے انصاف دلانے کو۔۔۔۔۔۔۔
کیوں اتنا سگا بن رہا ہے تیرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر پنچ سے غصے سے کہا
کیوں کے میں تم لوگوں کی طرح بے حس نہیں ہوں۔۔۔۔
میرا دل تم لوگوں کی طرح مردہ نہیں جو کسی کے دکھ درد کو محسوس نہ کر سکے۔۔۔
جواب داؤد نے دیا۔۔رحمت نے نم آنکھوں سے اُسے دیکھا
کتنی شرم کی بات ہے کے سرے عام تم لوگ ایک لڑکی کے کردار پر اُنگلی اٹھاتے ہوئے اپنے گھر کی بیٹیوں کو بھول جاتے ہو۔۔۔۔۔
سوچو اگر اُس کے ساتھ وہی سب ہوا ہوتا تو کیا تب بھی تم لوگ یہاں آکر اُس کے کردار پر سوال اٹھاتے۔۔۔۔۔
کیا تب بھی تم لوگ یہی الفاظ استعمال کرتے اُس کے لیے۔۔۔
تمہاری بہن تمہاری بیٹی تمہاری ماں اگر کبھی ایسے حالات تک آجاتی تب بھی اُس پر یہی طعنے کستے
وہ غصے سے گرج کر بولا تھا وہاں کھڑے سارے سن ہو کے اُسے دیکھنے لگے
اس لڑکی کو میں بہُت کم دنوں سے جانتا ہوں ۔۔۔۔آپ سب اسے مجھ سے بہت پہلے سے جانتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔شاید کچھ تو اس کے جنم کے وقت سے دیکھتے آئے ہیں اسے۔۔۔۔۔۔۔
کیا آپ نے اس میں کبھی ایسی کوئی بات دیکھی جس نے آپ کو اسے بدچلن اور خراب ماننے پر مجبور کر دیا۔۔۔
داؤد نے فلک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا جس کا سر ہنوز جھکا ہوا تھا۔۔۔۔۔اماں داؤد کو دیکھتے ہوئے پلو سے اپنے آنسو صاف کرنے لگیں
۔آج جب آپ سب کو اس کے ساتھ کھڑے ہو کر اسے سہارا دینا چاہیے آپ لوگ یہاں آکر اس کی ہمت توڑنے کا کام کر رہے ہیں
اتنی آسانی سے آپ لوگوں نے پل میں فیصلہ سنا دیا کے یہ فساد کی جڑ ہے۔۔۔۔۔
کیا کوئی اندازہ لگا سکتا ہے کے کتنا مشکل تھا اُس کیلئے اکیلے اُس انسان کا سامنا کرنا جس نے اُس کی زندگی عذاب بنا دی تھی۔۔۔
آپ میں سے کوئی نہیں تھا اس کے ساتھ۔۔یہ اکیلی لڑتی رہی ۔۔۔اپنے بھائی کو کھو دیا۔۔۔۔۔اپنے آپ کو مٹا دینے کی کوشش کی۔۔۔۔آج پھر بہت مشکل سے سنبھلی ہے اور آپ لوگ اسے پھر توڑنا چاہتے ہیں
داؤد نے تاسف سے وہاں کھڑے لوگوں کو دیکھا جن میں کچھ کے چہرے اور شرمندگی تھی اور کچھ غصے سے اُسے دیکھ رہے تھے
۔۔۔۔۔کیا آپ سب کی نظر میں سکندر شاہ سہی اور فلک غلط ہے۔۔کیا آپ لوگ یہی چاہتے ہیں سکندر بچ جائے اور کل کو گاؤں کی کسی اور لڑکی کے ساتھ بھی یہی سب ہو۔۔۔۔۔
آپ میں کِسی پر بھی وہ وقت آئے جو آج ان پر ہے
وہ رحمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔۔۔اُن میں سے کچھ نے ہمدردی سے رحمت کی جانب دیکھا
جس طرح آج آپ سب ایک جُٹ ہو کر یہاں ایک بے گناہ لڑکی پر الزام لگائے جا رہے ہو اگر اتنی ہمت کرکے اُس سکندر شاہ کے آگے کھڑے ہوتے تو یہ مرنے کو مجبور نہیں ہوتی۔۔۔۔۔
میرے یہاں آنے کی نوبت نہیں آتی۔۔۔۔۔نا آپ لوگوں کو یہاں آکر یہ جوش دکھانے کی ضرورت پڑتی۔۔۔۔۔۔۔۔
نیہا نے داؤد کو دیکھ کر سر ہلاتے ہوئے اُس کی بات اور ہمت کی تائید کی
داؤد نے فلک کی جانب دیکھا جو اب بھی سر جھکائے کھڑی تھی ۔۔
میں نہیں جانتا اس رشتے کو کیا کہتے ہے۔۔۔۔لیکِن اس لڑکی سے میرا درد کا رشتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اس کے درد نے مجھے اس سے جوڑا ہے۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی جھکی نگاہوں کو دیکھتے ہوئے بولا فلک نے آنکھیں بند کرکے آنسو روکنے کی کوشش کی
اُس سے نظریں ہٹا کر سامنے کھڑے سر پنچ کو دیکھا
۔۔اور میں نے خود سے وعدہ کیا ہے کے میں اپنی آخری سانس تک اس کا ساتھ دوں گا۔۔۔۔۔مجھے کوئی نہیں روک سکتا ۔۔۔۔
وہ پختہ لہجے میں وہاں کھڑی بھیڑ کو باور کراتے ہوئے اندر چلا گیا ۔۔۔۔
نیہا اپنے ساتھ فلک کو بھی اندر لے آئی اور ساتھ اُس کے ماں باپ کو یقین دلایا کے کل کی سنوائی کے بعد یہ لوگ اپنا منہ بند کر لیں گے۔۔۔۔۔۔
وہاں کھڑے لوگ آپس میں چہ میگوئیاں کرتے ہوئے دھیرے دھیرے کم ہونے لگے
داؤد کی پیشانی پر ہلکی سی چوٹ لگی تھی۔۔۔۔شمع نے دوائی لگانی چاہی لیکن داؤد نے اُسے روک دیا اور وہاں رکھا اپنا کورٹ اور موبائل اٹھا کر گھر سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔
فلک پریشان ہو کر اُسے دیکھنے لگی۔۔۔ چہرے کے تاثرات بے حد سرد تھے۔۔۔
اور فلک کو ڈر تھا اس بات پر غصّہ ہو کر کہیں و سکندر سے اُلجھ نا بیٹھے۔۔۔۔کیوں کے سکندر کچھ بھی کر سکتا تھا
وہ باہر نکلا تو رحمت اب تک وہیں کھڑا تھا اُسے دیکھ کر اُس کے آگے دونوں ہتھ جوڑ دیے
میں تم سے معافی مانگتا ہوں بیٹا۔۔۔۔۔۔
وہ شرمندہ ہوا کے اُن کی خاطر آج داؤد کو اتنا کچھ سننا اور سہنا پڑا
پلیز انکل اس طرح مت کریں۔۔۔۔۔۔۔
داؤد اُن کے ہاتھ نیچے کرتے ہوئے بولا اور پر سوچ نظروں سے اُنہیں دیکھتے ہوئے گلا تر کیا
میں آپ سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں ۔۔۔حالانکہ فلحال ایسی کوئی بات کرنے کا میرا ارادہ نہیں تھا لیکن میں جانتا ہوں سکندر فلک کو پریشان کرنے کے لیے کِسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
میں اُسے اس کی کسی کوششں میں۔کامیاب نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔لیکن اُس کے لیے مجھے ان لوگوں کا منہ بند کرنا پڑےگا۔۔۔۔۔
ان کے سوال کا جواب دینا پڑیگا ۔۔۔۔۔تاکہ آئندہ یہ فلک پر اُنگلی نا اٹھائے
میں نہیں چاہتا ان سب کے الزام فلک کے زخموں کو اور گہرا کریں۔۔۔۔
وہ نظریں نیچے کیے بولا رحمت اُسے سوالیہ نظریں سے دیکھنے لگا
فلک سے نکاح کرنا چاہتا ہوں میں۔۔۔۔۔
وہ اُن کی طرف دیکھ کر پر اعتماد لہجے میں بولا۔۔۔۔۔
اُس وقت نا اُسے نین سے اپنی منگنی یاد رہی نا اپنی مام کی خوشی نا سالوں سے جڑا رشتا بس فلک اور فلک ہی اُس کی سوچ کا پہلا اور آخری مرکز تھی
رحمت ساکت کھڑا اُسے دیکھ رہا تھا
بیٹا تم بہُت اچھے انسان ہو۔۔۔۔۔۔تمہارا احسان زندگی دے کر بھی نہیں چکا سکتا میں۔۔۔۔۔۔۔لیکِن فلک سے شادی۔۔۔۔۔۔۔تم جانتے ہو نا۔۔۔۔
رحمت نے بے بسی سے کہا داؤد نے فوراً اُن کی بات کاٹی
پلیز انکل۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسی کوئی بات مت کیجئے جس سے میں شرمندہ ہوجاؤں ۔۔۔۔۔۔میں نے یہ فیصلہ بہُت پہلے لے لیا تھا ۔۔۔۔۔۔اور اسے کوئی حقیقت اثر انداز نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔۔
دنیا بھلے اُس کی۔خامیاں ڈھونڈھتی ہو پر مجھے اُس کی خوبیاں گننے سے وقت نہیں ملتا۔۔۔۔۔
وہ اُن کی طرف دیکھ کر جب بولا تو رحمت نے اُس کی آنکھوں میں فلک کے لیے بے تحاشا چاہت اور مان محسوس کیا تھا
آخری فیصلہ آپکا اور فلک کا ہوگا۔۔۔۔۔
وہ سر جھکائے کہتا وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔۔۔اور رحمت خدا کی اس نئی نوازش پر تشکر سے آنسو بہانے لگا
∆∆∆∆∆∆∆∆∆
نکاح۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی
گھر میں چند لوگ جمع تھے اماں کے پوچھنے پر جب رحمتِ نے بتایا کہ فلک اور داؤد کے نکاح کے لیے مولوی اور گواہ ہے تو وہ صدمے سے اپنے باپ کو دیکھنے لگی۔۔
اماں بھی حیران تھی جب کے شمع تو بے حد خوش تھی
نہیں بابا۔۔۔۔۔۔۔۔ایسی بات مت کریں۔۔۔۔۔۔۔
میرا ساتھ دینے کی ایسی سزا مت دیں اُنہیں۔۔۔۔۔۔
وہ دیوار سے لگتی بکھرے ہوئے لہجے میں بولی۔۔۔۔
وہ بھلا کِسی کے لائق تھی جو داؤد جیسے بہتر انسان پر اُسے تھونپ دیا جائے
یہ اسی کی خواہش ہے بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے خود تم سے شادی کی خواہش ظاہر کی ہے۔۔۔۔۔۔
رحمت نے اُس کے سر پر دھماکہ کیا وہ سانس لینا بھول گئی
ایک لمحے میں اُسے سکندر سے مشابہت دے دی
وہ بھی صرف اُسے پانے کے لیے اُس کا ساتھ دے رہا تھا
اُس کی بھی وہی نیت تھی جو سکندر کی تھی۔۔۔
اُس کے تن بدن میں کپکپی ہونے لگی
وہ انسان نہیں فرشتہ ہے۔۔۔۔
سب کچھ جانتے ہوئے پورے دل سے تمہیں اپنانا چاہتا ہے۔۔۔۔
رحمت کی خوشی اُس کے چہرے سے عیاں تھی اماں بھی خوش تھیں بھلے اُس سے نفرت کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن تھی تو اولاد ہی اُس کے لیے داؤد جیسا لڑکا سوچ سے بھی آگے کی بات تھی۔۔
جب کے فلک کو داؤد ڈر نفرت کے ساتھ بے تحاشا دکھ بھی ہی رہا تھے کے اُس نے کیسے سوچ لیا ایک مرد بنا کِسی مطلب کے اُس کا ساتھ دے رہا ہے
میری پوچھو تو میں بے حد خوش ہوں بیٹا۔۔۔۔
ایسا لگتا ہے خدا نے آخری امتحان بھی آسان کر دیا
رحمت اُس کی حالت سے بے خبر مسکرا کر بولا فلک نے خالی خالی نظروں سے اپنے باپ کو دیکھا جس کی آنکھیں عرصے بعد دکھ افسوس ڈر پریشانی ہر چیز سے پاک بے حد پرسکون تھیں۔اپنی اماں کو دیکھ جو اُسے حسرت سے دیکھ کر اپنی نم آنکھیں صاف کر رہی تھی
اُن کے چہرے پر بے چینی، حقارت، غصّہ یا ناراضگی نہیں بلکہ اطمینان تھا
انکار مت کرو آپی۔۔۔۔۔۔۔اللّٰہ نے بھیجا ہے اُنہیں تمہارے لیے۔۔۔۔
اللہ کے اس فیصلے کو قبول کرلو۔۔۔۔۔۔۔۔
شمع نے اُس کے ساتھ لگتے ہوئے مسکرا کر کہا اُس نے آنکھیں ضبط سے بند کرکے کھولیں۔
ایک اور درد اُس کی کہانی میں جڑ گیا تھا۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆∆
۔اُسے نہیں پتہ تھا کے سب کو کیا جواب دیگا ۔۔۔
کیسے نین کا سامنا کریگا۔۔۔۔۔۔
کیسے اپنی صفائی دیگا
بس وہ بے حد خوش تھا۔۔۔۔۔۔۔
فلک کو اپنا بنا کر اپنے نام سے جوڑ کر وہ دل و جان سے پر سکون تھا۔۔۔۔۔
اُس کا ارادہ نہیں تھا کے وہ یوں افراتفری میں فلک سے نکاح کرے بلکہ وہ پہلے نین سے اپنی فیملی سے بات کرکے اُنہیں منا کر یہ قدم اٹھانا چاہتا تھا
لیکِن سکندر نے جس طرح اُس کے نام کے ساتھ فلک کے کردار پر سوال اٹھائے تھے یقیناً و اس بات کو لے کر عدالت میں بھی فضول گوئی ضرور کرتا۔۔۔
اور فلک کا اُسے پتہ تھا کے اگر یہی باتیں ہوتی رہی تو وہ اپنی بچی کچی ہمت بھی کھو دیگی۔۔۔
اس لیے اُس نے اس سوال کو ہی بے معنی کر دیا
نکاح کے بعد سب جا چکے تھے وہ کافی دیر وہیں رکا رہا اس اِنتظار میں کے فلک کمرے سے باہر آئے اور وہ ایک دفعہ اُسے دیکھ سکے۔۔۔۔پورے استحقاق سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کافی دیر گزرنے کے بعد بھی ایسا نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔اُس کی آنکھیں بے چینی سے فلک کی منتظر تھیں اور وہ وہاں داؤد کے ایکدم بدل جانے پر اپنے دکھ کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کے اُسے داؤد سے نفرت سے زیادہ ناراضگی کیوں محسوس ہو ہی ہے
کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھا تو رات کے دس ہو رہے تھے
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فلک سے بات کرنا چاہتا تھا ایک دفعہ۔۔۔۔۔
وہ تھوڑا ججھکتے ہوئے بولا جانے سے پہلے ہر حال میں اُسے دیکھنا تھا ۔۔۔۔۔۔
ہاں بیٹا۔۔۔۔۔۔۔فلک اندر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
رحمت نے مسکرا کر جواب دیا ۔۔۔۔۔وہ اٹھ کر کمرے میں چلا گیا۔۔
فلک کونے میں زمین پر دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔
نظر داؤد کے پیروں پر پڑی تو جھٹکے سے سر اٹھا کر اُسے دیکھا اور ایکدم سے کھڑی ہو کر دیوار سے لگ گئی ۔
آنکھیں خوف و غم سے بھیگ رہی تھی۔۔۔۔پلکیں لرز رہی تھی۔
داؤد صرف ایک لمحے کو حیران ہوا اور پھر سنجیدگی سے اُسے دیکھتا قدم قدم آگے بڑھا
اُسے قریب آتے دیکھ وہ دیوار میں لگتی سانس روک کر اُسے دیکھنے لگی۔۔۔سفید دوپٹے میں اُس کا چہره سارے جہاں کی سادگی و دلکشی سمیٹے داؤد کے دل میں اترتا دھڑکن بڑھا رہا تھا
تم مجھ سے ڈر کیوں رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے سامنے رکا آہستہ سے پوچھنے لگا۔۔فلک نم آنکھوں میں وحشت کیے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
فلک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے اُسے سرگوشی میں پکارا۔۔۔۔۔ہاتھ اُس کی طرف بڑھا کر اُس کا ہاتھ تھام لینے کی کوشش کی ۔فلک کے خوف میں اضافہ ہوا اُس نے ہاتھوں دیوار سے لگا دیا
کیا تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بے حد دھیمے خشک لہجے میں بولا فلک نے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سر نفی میں ہلایا
ٹھیک ہے پہلے یہاں بیٹھو۔۔۔۔۔۔۔آرام سے
داؤد نے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے اُسے وہاں رکھی چار پائی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ یونہی کھڑی رہی ۔داؤد خود اُس جگہ بیٹھ گیا اور اُسے پاس آنے کا اشارہ کیا
وہ بہت ہمت کرکے چار پائی کے دُوسرے کنارے پر بیٹھ گئی
کیا سوچ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے اُس کی اُنگلیوں کی حرکت دیکھتے ہوئے پوچھا جو آپس میں اُلجھ رہی تھی فلک نے اُس کی جانب دیکھا تو اب آنکھوں میں خوف نہیں ناراضگی تھی
آپ بھی وہی چاہتے ہے۔ جو سکندر چاھتا تھا۔۔۔۔
وہ بھی مجھے جیتنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔آپ بھی مجھے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے بھی اپنی منماني کی۔۔۔۔۔آپ نے بھی اپنی مرضی چلائی۔۔۔۔۔۔
اُس نے جو کیا اُس پر غصّہ آیا نفرت ہوئی
آپ نے جو کیا اُس پر دکھ ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے ٹوٹے لفظوں میں ایک ایک کرکے اُس سے سارے شکوے کر دیے ساری مشکل بیان کر دی۔۔۔اپنا خوف ظاہر کر دیا
اور جواب میں وہ صرف مسکرایا ۔۔
میں تمہیں حاصل نہیں کرنا چاہتا۔۔۔تمہارا ہونا چاہتا ہوں۔۔۔
اُس نے فلک کی پہلی بات کا جواب دیا ۔۔۔اُسے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے
تمہیں جیتنا نہیں چاھتا۔۔۔۔۔خود کو ہار دینا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔
اُس کا لہجہ مدھم ہوا پر سوز ہوا۔۔۔
اُس کی پر تپش نگاہوں سے فلک کو اپنے دل کی دھڑکنیں بڑھتی محسوس ہوئی
میں کچھ نہیں چاہتا ۔۔۔۔۔۔ صرف تمہیں چاہتا ہوں فلک۔۔۔
وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سلگتے ہوئے لہجے نے بولا ۔فلک نے گھبرا کے نظریں جھکائیں
تم میرے لیے کوئی کھیل نہیں میری محبت ہو۔۔۔۔۔۔
داؤد نے کھلے لفظوں میں اپنی محبت کا اظہار کیا
میں کِسی کی محبت نہیں ہو سکتی۔۔۔۔۔
وہ جھکی نظریں اُس کے پیروں پر جمائے بولی۔۔۔اپنے دوپٹے کا ایک سرا اٹھا کر اُس کے سامنے کیا
اماں کہتی ہے کے میرے آنچل پر جو داغ لگے ہے نا وہ بہُت گہرے ہے۔۔۔کبھی نہیں مٹنے والے۔۔۔۔۔۔۔۔اب ۔میرے ساتھ ہی یہ ختم ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی ان داغوں سے بھی محبت کر سکتا ہے کیا
وہ اپنے آنچل کو چہرے کے آگے کرتی بھیگے لہجے میں بولی۔۔۔
داؤد نے ہاتھ بڑھا کر اُس کے ڈوپٹے کو اُس کے چہرے کے آگے سے ہٹاتے ہوئے ہاتھ میں تھاما
مجھے تو تمہارا آنچل آسمان پر لہراتے سفید بادل کی طرح پاک لگتا ہے۔۔۔۔جنہیں کوئی چهو نہیں سکتا ۔۔۔۔میلہ نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔ ۔جنہیں یہ داغ نظر آتے ہیں اُن کی نظر میں کھوٹ ہےفلک۔۔۔۔۔۔۔اُن کی نظر غلط ہے۔۔۔۔۔
وہ بے وقوف ہے جو تمہاری آنکھوں میں معصومیت نہیں دیکھتے
تمہارے وجود کی پاکیزگی نہیں دیکھتے۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے دوپٹے کو تھامے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔
اُن کی نظر جو دیکھتی ہے وہ تمہاری کمی نہیں کسی اور کے گناہ کی گندگی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
اور یہ چیز تمہیں کبھی بھی کمتر نہیں بنا سکتی۔۔۔۔۔۔۔
کم سے کم میری نظر میں تو ہرگز نہیں۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے اپنی نظر میں اُس کی اہمیت کا احساسِ دلاتے ہوئے بولا فلک کی سانسیں سینے میں شور کرنے لگی۔۔۔۔
نئے نئے رشتے نے نئے نئے جذبے کے احساس کو جگانے کی کوشش کی
میں جب تمہارا نام بھی نہیں جانتا تھا نہ تب سے خدا نے تمہاری محبت ڈال دی تھی میرے دل میں۔۔۔۔۔۔۔
یہ سب باتیں اُس محبت کو کمزور کیسے کر سکتی ہے۔۔
تمھارا میرا عمر بھر کا ساتھ اللّٰہ کی مرضی ہے۔۔
میں کون ہوتا ہوں اُس کی رضا کے خلاف جانے والا۔۔
وہ مسکرا کر بولا اور سنجیدگی سے فلک کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دوپٹے کو قریب کیے گہرا سانس لے کر اُس کی خوشبو کو سانسوں میں اُتارا۔۔۔۔۔
وہ اُس کی نظروں سے گھبرا کر پھر سر جھکا گئی
اور اب میری بات غور سے سنو ۔۔۔۔۔۔۔تم آئندہ کبھی یہ سب باتیں سوچ کر خود کو تکلیف نہیں دوگی۔۔۔۔۔
تم نے اپنے لیے جو کہنا سوچنا تھا سوچ لیا۔۔۔۔۔اب داؤد کی فلک کے بارے میں یہ سب باتیں نہیں چلے گی۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے جتاتے ہوئے بولا فلک نے نظریں نہیں اٹھائی عجیب سے احساس نے پریشان کیا ہوا تھا
جس دن مجھ پر بھروسہ کرنا سیکھ جاؤ فلک اُس دن تمہاری ہر مشکل مجھے دے دینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی پریشانی قریب بھی آۓ تو آکر مجھ میں پناہ لے لینا۔۔۔۔میں بچا لوں گا تمہیں
وہ دھیمے پر سوز لہجے میں بولا فلک کے لئے وہاں بیٹھنا مشکل ہو گیا۔۔۔۔۔
اُس کی بدلتی حالت کی گواہی اُس کی لرزتی پلکوں نے دی
اچھا میرا نام پتہ چل گیا تمہیں۔۔۔۔۔
داؤد نے اُسے مزید پریشان نا کرنے کا سوچتے ہوئے بات بدلی فلک نے سر ہلا دیا
کس نے بتایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے مسکراتے ہوئے پوچھا
کل آپ نے کہا تھا۔۔۔۔۔ تو میں نے سنا۔۔۔لیکن پھر یاد نہیں آرہا تھا۔۔۔
اُس نے ادھورے ادھورے الفاظ میں جواب دیا
اب یاد آگیا۔۔۔۔۔۔۔۔
بتاؤ پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا نام ہے میرا۔۔۔۔۔
وہ سر پیچھے ٹیکتے ہوئے سکون سے اُسے دیکھنے لگا
داؤد۔۔۔۔۔۔۔۔
فلک نے آہستہ آواز میں نظریں جھکائے اُس کا نام پکارا۔۔۔جس نے اُسے دل و جان سے متوجہ کیا
تم مجھے ایسے داؤد کہہ کر بلاؤگی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ شرارت سے لب دبا کر بولا فلک نے سوالیہ نظریں اٹھا کر اُسے دیکھا
تمہارے یہاں لڑکیاں شوہر کو نام لے کر بلاتی ہے۔۔۔۔
اُس نے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا فلک نے سر نفی میں ہلا دیا
تو کیسے بلاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد کے پوچھنے پر وہ اُلجھ کر انگلیاں مروڑنے لگی
اماں ۔۔۔۔۔۔بابا کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارحم۔کے بابا کہہ کر بلاتی ہے
داؤد کے دوبارہ پوچھنے پر اس نے آہستہ آواز میں کہا
لیکن تم مجھے ابھی تو ایسے نہیں بلا سکتی اُس میں تھوڑا ٹائم لگے گا۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہنس کر بولا اور فلک دھک دھک کرتے دل سے وہاں سے اُٹھنے لگی
بیٹھو۔۔۔جانے کیوں لگی۔۔۔۔۔شوہر کی ہر بات مانتے ہے نہیں تمہارے یہاں
وہ اُس کی کمزوری کا فائدہ اٹھا رہا تھا وہ واپس بیٹھ گئی
ہمارے یہاں لڑکیاں شوہر کا نام نہیں لیتی ۔۔۔۔۔۔اُنہیں ایک خاص اندازِ سے پکارتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے اُسے شرارت سے دیکھا وہ بلکل محسوس نہیں کر پائی۔۔۔۔
۔
ہمارے شہر میں سب لڑکیاں اپنے شوہر کو ”مائے لوو” کہہ کر بلاتی ہے۔۔۔۔
داؤد کو اپنی شرارت پر خود بھی بہت ہنسی آئی جسے اُس نے مشکل سے روکا۔۔۔
مطلب۔۔۔۔۔۔۔
فلک نہ سمجھی میں بے ساختہ پوچھ بیٹھی
اس کا مطلب ہوتا ہے۔۔۔۔۔قابل احترام۔۔۔۔قابل عزت۔۔۔۔جو آپ سے بڑا ہو۔۔۔۔۔عمر میں رتبے میں۔۔۔۔۔۔خاص شوہر کے لیے ہی بنا ہے یہ لفظ۔۔۔۔۔
اُس نے فلک کی نا سمجھی کا پورا فائدہ اٹھایا۔
تو آج سے تم بھی مجھے ایسے ہی بلانا۔۔۔۔اوکے۔۔۔۔۔۔
اُس نے فلک کو دیکھ کر جتایا وہ فرما برداری سے سر ہلا گئی
ایک بار بلا کر دکھاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے جان لٹاتی نظروں سے اُسے دیکھا دل چاہا اُسے کھینچ کر خود سے لگا لے لیکِن ایسا کرکے وہ فلک کے ڈر کو سچ ثابت نہیں کر سکتا تھا
مم۔۔۔مائے ۔۔۔ مائے لوو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے بہت جھجھکتے ہوئے اُس کی فرمائش پوری کی۔۔
داؤد سنجیدگی سے اُسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔۔دل بے ایمان ہونے جو مجبور کر رہا تھا
يس مائے لوو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے محبت سے بھیگے انداز میں اُس کا جواب دیا وہ سٹپٹا گئی۔۔۔داؤد کا انداز ہی ایسا تھا
آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ مجھے ایسے کیوں۔۔۔۔۔
وہ اُلجھ کر پوچھنے کہیں
اب تم مجھے اتنی عزت دوگی تو بدلے میں مجھے بھی دینی پڑے گی نہ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے چہرے کو آنکھوں میں بسائے بولا۔
اچھا میں چلتا ہوں ورنہ سب سوچے گے کے اسے ملنے کا چانس کیا دیا یہ تو باہر نکلنے کا نام نہیں لے رہا۔۔۔۔۔۔کل ملے گے
وہ اپنی جگہ سے اٹھا تو فلک بھی کھڑی ہو گئی
اور ہاں کل عدالت جانے کے لیے داؤد کی فلک کو ڈرنے کی اجازت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ سر اٹھا کر پوری ہمت سے قدم آگے بڑھانے ہے تمہیں۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے جتاتے ہوئے کہا تو فلک نے سر ہلا دیا
پہلے کے مقابلے دل پر سکون تھا۔۔۔
دل تو نہیں کر رہا پر جانا پڑےگا۔۔۔۔۔۔۔ایک بار مجھے پھر سے ویسے ہی بلاؤ نا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی طرف ہلکا سا جھکا تو فلک جلدی سے پیچھے ہوئی
مائے ۔لوو۔۔۔۔۔
گھبراہٹ میں وہ ایک سانس میں بول اٹھی
داؤد نے دل پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں بندکی۔۔۔۔وہ حیرت سے اُسے دیکھنے لگی
اب تو مجھے چلے ہی جانا چاہیے۔۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بے چار ی شکل بنائے بولا۔۔۔اور پلکیں جھپکا کر اُسے دیکھتا باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
فلک اُس کے رویے کو سوچ کر اپنے دل اور ہاتھ رکھے سانس لینے لگی