Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 87
No Download Link
Rate this Novel
Episode 87
اُس نے کسی کو کال کرکے اپنی بائیک اور نین کا سامان لانے کو کہہ دیا تھا۔۔۔۔گھر کے راستے کی اور بڑھتے ہوئے دونوں کے درمیان مکمل خاموشی تھی۔۔۔
دونوں ہی اس اچانک صورتِ حال سے بدلی اپنی اپنی کیفیت میں الجھے ہوئے تھے۔۔۔۔
نین کے دل میں اُس کے لفظ لفظ کو سوچ کربڑھتی دھڑکنوں کا شور تھا۔۔۔۔۔
سمجھ نہیں آرہا تھا اُس کی ناراضگی کا اختتام کب اور کہاں ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
کِسی کی نظروں میں اپنے لیے چاہت دیکھنا۔۔۔۔۔اُس کے لیے اوروں سے اہم ہونا کسی بھی لڑکی کے لیے بہُت معنی رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔
اُس خوبصورت احساس کے نام سے وہ بے خبر تھی لیکِن بار بار اُس کی باتیں اُس کی چاہت بھری نظریں اُس کا پر جذب لہجہ یاد کرکے اُس احساس میں جینا چاہتی تھی۔۔۔۔جیتے رہنا چاہتی تھی۔۔
جب کے ساحل کو چوبیس گھنٹے ختم ہوتے جانے کا افسوس۔۔۔اُنہیں طویل نا کر سکنے کی بے بسی پریشان کیے ہوۓ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے ایک نظر اپنی کلائی میں بندھی گھڑی کو دیکھا جو شام کے سات بجا رہی تھی ۔۔۔
اُسے ملے مہلت کے چند گھنٹوں میں اب بس سات گھنٹے باقی تھے۔۔۔
اور اُسے محسوس ہو رہا تھا جیسے آج گھڑی کی ہر سوئی تیزی سے حرکت کر رہی ہے۔۔۔۔
بارش کی بوندیں مدھم تھی لیکن مسلسل تھی۔۔۔
جس نے اچانک شہر کی فضا کو سرد کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔
ٹھندی ہوا کے جھونکے خون کی روانی دھیمی کر رہے تھے۔۔۔۔۔
اُس نے شیرازی مینشن کے اندر داخل ہو کے بائیک روکی تو چند لمحے گزرنے کے بعد بھی نین اُسی طرح اُس کے شولڈر پر ہاتھ رکھے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔اپنے خیالوں میں گم اُسے نا گھر آنے کا پتہ چلا نا بائیک کا رکنا محسوس ہوا۔۔۔۔۔
ساحل نے پلٹ کر سنجیدگی سے اُس کی جانب دیکھا۔۔۔اُس کی ایک زاویہ پر ٹھہری نظریں اُس کی بے دھیانی کی وضاحت تھی۔۔بارش کی بوندیں چہرے کو چھو کر ٹھوڑی سے نیچے اُتر رہی تھی
گھر آگیا۔۔۔۔۔
وہ اُس کے چہرے پر لائٹ کی روشنی میں موتیوں سی چمکتی بوندوں کو دیکھ دھیرے سے بولا تو وہ چونک گئی۔۔۔
جھٹ سے سر چاروں اور گھما کر دیکھا اور پھر ساحل کی طرف ۔۔۔۔
جھٹ سے بائیک سے اُتری۔۔۔اپنی بے وقوفی پر خود کو کوستے ہوئے جلدی جلدی اندر کی طرف بڑھنے لگی
لیکن دو قدم آگے جاتے ہی اُسے رکنا پڑا کیوں کے اُس کی کلائی ساحل کی گرفت میں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ رخ بدلتی دھڑکنوں کے زیرِ اثر پلٹ کر اُس کی طرف دیکھنے کی کوشش بھی نہیں کر پائی۔۔۔۔
پتہ نہیں کس بات کا خوف تھا۔۔۔۔
کونسی گھبراہٹ تھی جو اُسے ہمت سے نظریں بھی اٹھانے سے روک رہی تھی۔۔۔
وہ اُس بائیک سے اُتر کر آگے بڑھا اور اُسے دونوں بازؤں میں اٹھا لیا۔۔۔
وہ اس اچانک عمل پر گھبرا کر اُس کے شولڈر کو تھام گئی۔۔۔۔۔۔
ایک لمحے کو حیرت سے اُس کی آنکھوں میں دیکھا تھا لیکِن اُن کی سنجیدگی اور تپشِ سے گلا خشک ہوتا محسوس ہوا تو نظریں نیچے کرکے شرٹ کی دوسرے بٹن پر جما دی۔۔۔۔دل کی دھڑکنیں منتشر ہونے لگی۔۔
وہ ہمیشہ بولتی رہتی تھی لیکن اس وقت اتنا بھی نہیں سوجھا کے کچھ کہہ سکے کچھ پوچھ سکے
ساحل اُسے باہوں میں لیے اندر کی طرف بڑھا تو ایک لمحے کے لیے بھی نظریں اُس کے چہرے سے جدا نہیں کی۔۔۔۔۔۔
بے خود انداز میں اُس کے چہرے کو تکتا رہا
جب کے وہ پریشان تھی کے سب کیا سوچے گے ۔۔۔اُسے کتنی شرمندگی ہوگی۔۔۔ایک تو وہ اُس کی باہوں میں تھی اوپر سے اُس کے انداز بھی کسی طرح نارمل نہیں تھے۔۔۔
لیکن خوش نسیبی سے کسی سے سامنا ہی نہیں ہوا۔۔۔سب اپنے اپنے کمروں میں تھے بس چند ملازم وہاں تھے وہ بھی اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے لیے اپنی بڑھتی دھڑکنوں کا بوجھ سہنا مشکل ہوئے جا رہا تھا۔۔۔پلکیں گھبراہٹ کے بوجھ سے بھاری ہوئے جا رہی تھی۔۔۔
اور اُس کا یہ گریز۔۔۔نظریں بچانا۔۔۔شرمانا۔۔۔گھبرانا۔۔۔۔۔۔پلکوں کا جھپکنا۔۔۔۔لبوں کا لرزنا۔۔۔۔ساحل کے لیے مزید جان لیوا ثابت ہو رہا تھا۔۔۔۔۔
اُس کے بدلے روپ نے اُسے پہلے سے کئیں زیادہ خوبصورت بنا دیا تھا اتنا کے وہ اُس کے چہرے سے نظریں بھی ہٹانے کے بس میں نہیں تھا۔۔۔
بے قابو دل اور بے اختیار نگاہوں سے اُس کی لرزتی پلکوں کو دیکھے جا رہا تھا۔۔۔
روم کے اندر پہنچ کے اُس نے اپنے بازو کے زور سے دروازہ بند کیا اور وہیں دروازے کے قریب اُسے اُتارا کے وہ سامنے ساحل کے اور پیچھے بند دروازہ ہونے سے نہ آگے جانے کا راستہ پا سکی نا پیچھے ہونے کا۔۔۔۔۔۔۔
بس اُس سے دوری بنانے کی کوششں میں پیچھے دروازے سے لگ گئی۔۔۔۔
وہ اُس کے ٹھیک سامنے دیوار بن کر کھڑا کمرے کی مدھم روشنی میں اُس کے چہرے اور آنکھوں کے بدلتے رنگ و تاثر کو غور و سنجیدگی سے دیکھتا اُس کے قریب ہونے لگا تو اُس کی دھڑکنیں رکی اُس نے جھجھکتیں نظریں اٹھا کر اُس کے چہرے کو دیکھا۔۔۔۔
جہاں ہمیشہ کے مقابلے آج الگ ہی سکوت تھا۔۔۔
اُس کی گہری براؤن آنکھوں میں۔۔۔۔ جہاں آج جزبا توں کا جہاں آباد تھا۔۔۔۔چاہت کی چمک عیاں تھی۔۔۔۔۔بے خودی عروج پر تھی۔۔۔
ساحل نے اُس کی نظروں سے نظریں جوڑے اپنی ہتھیلی اُس کے سر کے قریب دروازے پر رکھی اور اُس کے طرف جھکنے لگا تو اُس نے سانسیں روک کر اُس کے سختی سے آپس میں جڑے لبوں کو دیکھا۔۔۔
خون کی روانی تیز تر ہوتی گئی۔۔۔
آنکھیں حیرت اور خوف سے پھیل کر اور بڑی ہو گئی۔۔۔
اُس نے نظریں لبوں سے ہٹا کر نیچے اُس کے کھلے کالر سے نظر آتی سلور چینز پر جمائے مزید پیچھے ہونے کی کوشش میں سر دروازے سے جوڑ دیا۔۔۔۔سانس اندر کھینچ لی۔۔۔۔اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے کپڑوں کو جکڑ لیا کیوں کے سہارے کے لیے اُسے کوئی اور چیز نظر ہی نہیں آئی۔۔۔
وہ اُس کے چہرے کے بے حد قریب ہوا تو اُس کے بھیگے بالوں نے نین کی سفید پیشانی کو چھوا اور سلگتی سانسوں نے اُس کے سرد چہرے کو تپشِ دے کر اُسے لرزنے پر مجبور کیا۔۔۔۔
وہ اُس کی مد ہوش بے ربط نظریں اپنے لبوں پر محسوس کرکے آنکھیں بند کر گئی نچلا لب اندر کر گئی۔۔۔۔۔دل شدّت سے اُس کے اگلے عمل کی راہ میں سمٹ گیا ۔۔۔
اُس کی سانسوں کی مدھم آواز اُس کے کانوں میں سنسنی بھر گئی۔۔۔۔
ساحل نے اُس کی سختی سے میچی آنکھوں سے نظریں ہٹا کر اُس کے لبوں کو دیکھا اور ہاتھ سے چھو کر اُنہیں دانتوں کی گرفت سے آزاد کیا۔۔۔۔۔
نچلے بھیگے لب کو دو اُنگلیوں سے چھوا تو نین کی جان سمٹ کر لبوں پر آگئی۔۔۔۔۔
اُس سے وہ نرم لمس اور اُس کی حدت برداشت نہیں ہوئی تو اُس نے بنا آنکھیں کھولے ہی اُس کی کلائی سختی سے پکڑ کر اُسے روکا۔۔۔۔۔۔
وہ اُس ہاتھ کو پیچھے کرکے اُس کے گیلے بالوں میں پھنسا گیا۔۔۔نین نے تب بھی اُس کی کلائی یونہی پکڑے رکھی۔۔۔۔
وہ اپنے ہونٹ اُس کے لبوں کے بے حد قریب لا کر رکا۔۔۔۔۔۔اور نظریں اٹھا کر اُس کی بند لرزتی پلکوں کو دیکھا
۔
کیا آج ہسبنڈ والی ڈیمانڈ پوری کرنے کی اجازت ہے۔۔۔۔۔
نین کے اتنے قریب جب اُس نے آگ سی سرگوشی کی تو اُس کے حرکت کرتے لبوں نے نین کے اوپری لب کو چھوا اور دہکتی سانسیں اُس کی سانسوں میں گھل کر بدن میں سرایت کرگئی۔۔۔۔
اُس نے ساحل کی کلائی پر گرفت اتنی سخت کردی کے ناخن اسکن میں دھنسنے لگے۔۔۔
ساحل کی قربت ۔۔اُس کی سانسیں۔۔۔اُس کی سرگوشی اُس کے الفاظ سب نین کی جان لینے پر تلے تھے۔۔۔۔
وہ سر تا پیر بارش میں بھیگی ہوئی تھی لیکن تب بھی اُسے آپ اُس کی قربت کی تپش میں جھلستا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔
دل نے پسلیاں توڑ کے باہر آنے کی کوشش کی تھی۔۔۔وہ اگر اپنے حواسوں میں ہوتی تو اُس پل کو ضرور کوستی جب اُس نے یہ بات کہی تھی۔۔۔۔۔۔۔لیکِن اس وقت تو اُس میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کے آنکھیں کھول کے اُس کی جانب دیکھ لے۔۔۔۔۔۔۔۔یا کھل کر ایک سانس بھی سکون کی لے لے۔۔۔۔
ساحل نے آہستہ سے لبوں کو لبوں سے جوڑ کر بس دھیرے سے حرکت دی۔۔۔۔۔۔۔
اُس کا ذرا سا نرمی بھرا عمل نین کی رگوں میں شدّت سے اُتر کر اُس کے لیے پیروں پر کھڑے ہونا مشکل کرگیا۔۔۔
وہ دھیرے سے چہرہ سائیڈ میں کرکے لب اُس کے لبوں سے دور کر گئی تو ساحل کے لبوں نے گال کو چھوا اور سانسوں نے کان کو ۔۔۔۔۔۔
ماتھے پر بکھرے نم بالوں نے آنکھوں کو۔۔۔۔
وہ بکھری بکھری سانسیں خارج کرکے اپنی دھڑکنیں معتدل کرنے کی کوشش کرتی اُس کی کلائی چھوڑ کر اپنے دل پر ہاتھ رکھ گئی۔۔۔۔جہاں اندر دھڑکنوں کا شور تھا اور باہر تیز ہلچل۔۔۔۔
ساحل نے اُس کی گردن کو لبوں سے چھوتے ہوئے بالوں میں اُنگلیوں کو حرکت دی اور اُس کی خوشبو کو سانسوں میں بساتے ہوئے جا بجا اپنا لمس ثبت کرتا گیا۔۔۔۔اُس کے ہر لمس کے ساتھ وہ بے حال ہوتی جب اپنی سانسیں جوڑتے جوڑتے تھک گئی تو گھبرا کر اُس کے سینے پر ہاتھ رکھے اُسے پیچھے کرنا چاہا۔۔۔۔لیکن اُس نے محسوس کیا نا کوئی اثر لیا۔۔۔۔۔۔۔بے سود سا گردن پر جھکا رہا۔۔۔
مزید بہکتا رہا۔۔۔۔
نین نے آنکھیں کھولیں اور ہمت کرکے اُس کے دروازے پر رکھے ہاتھ کو ہٹایا اور وہاں سے نکلنے کو بس ذرا سی آگے بڑھی کے وہ اُس کی کمر کو تھامے واپس اُسی جگہ لے آیا جہاں وہ چند سیکنڈ پہلے تھی۔۔۔۔
پیچھے ہوتے ہی اُس کے لبوں کا دہکتا لمس کان کے قریب محسوس کرکے اُس نے بے بسی سے سانس روکے اُس کی شرٹ تھام لی۔۔۔۔اور سرخ گھبرائی نظروں کو اٹھا کر اُس کی طرف دیکھا تو قریب ہونے سے سانسیں پھرچہرے کو چھونے لگی۔۔۔۔۔۔۔
دل کانوں میں سنائی دینے لگا۔۔۔۔
سب سے بڑھ کر اُس کی بہکی پر شدت نگاہیں جن میں عجب سا سرور تھا بے خودی تھی جو آگ کی لپٹوں کی طرح اُس کے چہرے کو چھو رہی تھی۔۔۔
لبوں کو جلا رہی تھی۔۔۔
وہ۔۔۔۔م۔۔میں۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے گلا تر کیے بمشکل لب کھول کر کچھ کہنا چاہا لیکِن وہ اُس کے لبوں پر اُنگلی رکھ کر اُس کی یہ کوشش بھی ناکام کر گیا۔۔۔۔
اس لمحے نا وہ کچھ کہنا چاہتا تھا نہ کچھ سننا چاہتا تھا۔۔۔ اُس کی آواز نا دنیا کی کوئی اور آواز ۔۔
اس وقت وہ اپنے دل کی مان کے بس اپنے تمام حواسوں کو صرف اُسے محسوس کرنے میں لگائے ہوئے تھا۔۔۔
اُس کے لفظوں سے زیادہ اُس کو خاموشی کو پڑھنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔اُس کی باتوں کی بجائے اُس کی دھڑکنوں کی بڑھتی رفتار میں اپنے نام کو سننا چاہتا تھا۔۔۔۔
اُس کے خود پر لگائے تمام باندھ دھیرے دھیرے ٹوٹتے جا رہے تھے۔۔۔
بھیگی رات۔۔۔۔۔مہکتا وجود اور احساسِ تشنگی نے تمام جذبات جگا دیے تھے۔۔۔
نم و نازک وجود کا خمار آشنا کیف۔۔۔۔۔ تشنگی اور بے خودی کے عمق میں لیے جا رہا تھا۔۔۔۔۔
ایک ایسے دریا میں جس کا طوفان نس نس میں مچلتا جسم اور دل دونوں بے قابو کیے ہوۓ تھا۔۔۔۔
سلگتے میٹھے جذبات کی حرارت بدن کو یوں تپا رہی تھی کے دل چاہتا تھا اُس کے سرد وجود کو باہوں میں بھینچ کر خود میں سما لے۔۔۔۔۔۔۔۔رگ رگ میں بسا لے۔۔۔
اُس کی پرسوز نظریں مسلسل اپنے لبوں اور آنکھوں کو چھوتے دیکھ وہ پلکیں جھکا گئی۔۔۔۔۔۔
ساحل نے اُس کے لبوں سے اُنگلی ہٹائے بنا نیچے کی اُس کی تھوڑی کو چھوا اور دو اُنگلیاں گلے کو چھوتی نیچے جانے لگی تو نین کا دل رک گیا۔۔۔۔۔
اُس کی اُنگلیوں کے ساتھ نظریں بھی سفر کر رہی تھی۔۔۔اور نین کا دل اُن کے ارتکاز سے بھٹکے جا رہا تھا۔۔۔۔
وہ اُس کی اُنگلیاں دل کے مقام پر محسوس کرتے ہی اُس کا ہاتھ جھٹک کر تیزی سے اُسے پیچھے کرتی وہاں سے بھاگنے لگی لیکن چند ہی قدم آگے بڑھی تو اُسے رکنا پڑا کیوں کے اُس کا دوپٹہ ساحل کے ہاتھ میں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گلے میں آ کر سخت ہو کر سانسیں روکتے دوپٹے کو ہاتھ سے پکڑ کر دور کرتی آنکھیں بند گئی۔۔۔۔
دل رک کر دوگنی شدت سے دھڑکنے لگا۔۔۔۔
سمجھ نہیں آیا کے اس لمحے کی قید سے کیسے نکلے۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی کمر پر بکھرے بھیگے بالوں کو دیکھتا دوپٹے کو ہتھیلی میں لپیٹتا رفتہ رفتہ اُس کی طرف بڑھنے لگا تو اُس کے ہر بڑھتے قدم کی آہٹ پر نین کا دل سمٹتا بکھرتا گیا۔۔۔۔
وہ اُس کے قریب رک کر ہاتھ میں بندھے دوپٹے کے بلوں کو ہتھیلی سے زمین پر گرا گیا۔۔۔ لیکن وہ ایک آخری سرے کو اب بھی گلے کے قریب مُٹھی میں جکڑے کھڑی تھی۔,۔۔۔۔
ساحل نے اُس کے بھیگے بالوں کو گردن سے ہٹا کر کندھے کو لبوں سے چھوا تو نین نے سانس روک کر آنکھیں میچی۔۔۔۔۔دوپٹے پر گرفت مضبوط کی ۔۔۔۔۔
وہ اُس کے گرد ایک بازو پھیلا کر اُس کے ہاتھ کی قید سے دوپٹے کو آزاد کرکے زمین پر گرا گیا۔۔۔۔اور اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اُنگلیوں کے پوروں کو لبوں سے لگایا۔۔۔۔
وہ اُس کے نرم لبوں کا لمس محسوس کرتے ہی ہاتھ کھینچ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے ہاتھ اُس کی کمر پر رکھ کر اُسے خود میں بھینچا تو نین کو اُس کی اُنگلیاں اپنے پیٹ کے اندر دھنستی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔۔۔
وہ چہرہ اُس کے بالوں میں دیے اُس کے سرد وجود کو اپنی سانسوں سے دہکانے لگا اور گردن کو لبوں کے لمس سے مہکانے لگا۔۔۔۔
نین ابتر ہوتی سانسوں کے اثر سے کمر پر لپٹے اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اُس کا سہارا لینے کو مجبور ہوئی۔۔۔
اُس کے عمل میں دھیرے دھیرے بڑھتی شدت اور پیٹ پر سخت ہوتی اُنگلیوں کے لمس نے نین کی جان مشکل میں ڈالے رکھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔اُس کے لیے سانس لینا محال تھا
ساحل نے ہاتھ کو دھیرے سے حرکت دے کے اوپر کرتے ہوئے اُس کے مخالف بازو کو تھاما۔۔
تو جہاں وہ اُس کی سرسراتی اُنگلیوں کے لمس پر مچل رہی تھی اُس کے بازو کی گرفت میں تنگ ہوتی سانسوں کو سینے میں ہی روک گئی ۔۔۔
پتھر سی سختی پر اُس کا دل لرزنے لگا ۔۔۔۔
وہ بنا رکے اُسے مزید خود میں بھنچتا لبوں کی حرارت اُس کی گردن پر منتقل کرتا گیا۔۔۔۔۔
نین نے سانس روکنے کی کوشش میں بے حال ہو کر اُس کا بازو خود سے دور کرنے کی کوشش کی تو وہ ہاتھ اُس کے بازو سے ہٹا کر گردن کو تھا مے پیچھے موڈ کر اُس کے چہرے کا رخ اپنی جانب کرکے اُس کے لبوں پر جھکا۔۔۔
اور اس دفعہ اُس کے انداز میں نا نرمی تھی نا نزاکت۔۔۔بلکہ اُس کی ہر حرکت میں شدت تھی اور ہر سانس میں جنون خیز دہک تھی جو سانسوں کی پگڑنڈی سے گزرتی نین کے اندر اُترتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
اُس کا دل پنجرا توڑ کر باہر آنے کو مچل رہا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے آگے زنجیر بنے اُس کے ہاتھ کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر گردن سے ہٹا تی پیچھے ہوئی۔۔۔اور رکی سانس بحال کی۔۔۔۔
وہ دوبارہ اُس کے لبوں پر جھکنے کو تھا کے وہ اُس کا ارادہ دیکھ پلٹ کے فوراً اُس کے سینے سے لگ گئی۔۔۔۔چہرہ سختی سے اُس کے سینے سے لگائے اُسے اتنی مضبوطی سے تھام گئی کے وہ ایک پل کو حیران رہ گیا۔۔۔
اور پھر اُس کی بکھرتی ٹوٹتی سانسیں سینے پر محسوس کرکے مسکرا کر اُسے دونوں بازؤں میں سمائے آنکھیں بند کی۔۔۔۔
وہ اپنی منتشر دھڑکنوں کو پرسکون کرتی گہرے گہرے سانس لینے لگی۔۔۔۔
کمرے میں بکھری معنی خیز خاموشی میں دونوں کی ملی جلی سانسوں کے سنگم نے نئی دھن بکھیر دی۔۔۔۔۔باہر پھر سے زور پکڑتی بارش کا شور تھا اور اندر دھڑکنوں کی آوازیں عروج پر تھی۔۔۔۔۔
