Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
Episode 22
وہ تیزی سے ڈرائیو کرتا ہوا ہاسپٹل پہنچا ۔۔۔۔۔
آئے سی یو کے باہر نرسز کی بھاگا دوڑی چل رہی تھی۔۔
وہ گلا تر کرتا ہوا دروازہ کھول کر اندر پہنچا ہی کے کوئی چیز تیزی سے آکر اُس کے سر پر لگی۔۔۔۔۔
اتنی زور سے کے اُس کے قدم ڈگمگائے۔۔۔اُس نے ہاتھ میں سر تھامے گھبرا کر اُسے دیکھا جو پاگلوں کی طرح چیختی وہاں پڑی ایک ایک چیز اٹھا کر پھینک رہی تھی۔۔۔۔
نرسز اُس کی طرف بڑھنے سے گھبرا رہیں تھیں۔۔۔پایل مسلسل اُس سے بات کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔
ہوش میں آتے ہی اُس پر عجیب سا پاگل پن سوار ہو گیا تھا۔۔۔وہ اپنے زندہ ہونے پر جانے غصے میں تھی یا دکھ میں لیکن اُسے اس روشنی نے خوف آرہا تھا
وہ سکندر کی گھٹیا نیت سے گھبرا کر مرنے کو مجبور ہوئی تھی ۔۔۔
اُس کی موت سکندر کی ہار تھی۔۔۔
وہ خود زندہ رہ کر اب سکندر کی جیت نہیں بن سکتی تھی۔۔۔
اُسے سکندر کا دیا ایک ایک زخم ایک ایک درد تازہ ہوتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔
اپنے بدن پر اپنی روح پر۔۔۔۔
اپنی عزت کے چھین جانے کا۔۔۔۔
سرے عام اپنی ذلت کا۔۔۔
ارحم اور شاءنہ کی موت کا۔۔۔۔
اُس کے چہرے پر عجیب سی وحشت تھی۔۔۔۔
آنکھوں میں خطرناک جنون تھا۔۔۔۔
خود کو مٹا دینے کا۔۔۔
وہ اُسے دیکھ کر رہ پتھر بن گیا۔۔۔
سرخ آنکھیں کسی کو بھسم کرنے کی طاقت رکھتی تھی
داؤد تم ٹھیک ہو۔۔۔۔۔
پایل نے اُسے دیکھ پریشان ہوتے پوچھا۔۔۔۔اُس نے اپنے حواسوں پر قابو پاتے ہوئے سر ہلایا۔۔۔۔نظریں اب بھی اُس پر تھی جو دیوار سے لگ کر کھڑی زمین کو گھورتی مسلسل بڑبڑا رہی تھی
ہوش میں آنے کے بعد سے ہی ایسے ری ایکٹ کر رہی ہے۔۔۔کسی کے قابو میں نہیں آرہی۔۔۔۔۔۔بلڈ پریشر بہت ہائے ہے۔۔۔اگر فوراً انجیکشن نہیں دیا تو پرابلم ہو سکتی ہے
پایل نے فکرمندی سے بتایا اُسے کچھ پرسکون دیکھ وہاں کھڑا وارڈ بائے آہستہ سے اُس کے قریب بڑھنے لگا۔
ایک منٹ۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد نے اُسے روکا۔۔۔پایل اُسے نا سمجھی سے دیکھنے لگی۔ ۔داؤد اُسے روک کر خود آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا فلک کی اور بڑھنے لگا
پاس مت آنا۔۔۔۔۔۔۔میں ۔۔۔۔میں۔۔۔۔خود کو مار دوں گی۔۔۔میں تمہیں جیتنے نہیں دوں گی۔۔۔۔۔۔
وہ سر ہلاتی زمین کو گھور کر بڑبڑا رہی تھی ۔۔داؤد دھیرے دھیرے اُس کی اور بڑھ کر اُس کے لفظوں کو واضح سن پا رہا تھا
شمع کے ساتھ کچھ غلط نہیں ہونے دوں گی۔۔۔
اپنی بہن کو بچا لوں گی میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سر ہلاتی ایکدم سے رک گئی جب نظر داؤد کے جوتوں پر پڑی۔۔۔۔۔۔۔۔سانسیں مزید تیز ہونے لگی
سُرخ آنکھیں پھیل گئی۔۔
جیسے ہی داؤد کے پیر ایک۔دم پاس آکر رکے اُس نے سر اٹھا کر زرو دار چینخ کے ساتھ دونوں ہاتھ اٹھائے اُسے پیچھے دھکیلنے کے لیے۔۔۔۔۔
لیکِن اتنی ہی تیزی سے داؤد نے اُس کی دونوں کلائیاں جکڑ کر اُس کی کوشش نا کام کر دی۔۔
سختی سے اُس کی کلائیوں کو۔جکڑے اُس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا
وہ خوفزدہ ہو کر اُسے دیکھتی بے آواز کچھ بڑبڑانے لگی۔۔۔ محض لب ہل رہے تھے۔۔۔ سانسیں بے ترتیب ہو رہی تھی۔۔۔۔۔
اُس نے اپنی کلائی آزاد کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بھی مضبوطی سے اُسے تھامے تھا۔۔۔۔گمبھیر نگاہیں کانپتے لبوں اور بھیگی پلکوں میں اُلجھی ہوئے تھیں
ایکدم ہی وہ ہوش کھو کر بے جان ہوتی آگے کو گرنے لگی تو داؤد نے اُس کی دونوں کلائیاں آزاد کئے اُسے اپنے بازؤں میں تھاما
∆∆∆∆∆∆∆
ہیری۔۔۔۔۔۔۔ہیری۔۔۔۔۔ہیری
باکسنگ کلب میں چاروں طرف ایک شور برپا ہوا تھا۔۔۔۔
رنگ میں کھڑا مضبوط بدن والا انگریز ۔۔ہیری۔۔۔۔
لوگوں کی حوصلا افزائی پر ہنستا ہوا اپنے بائسپس کی نمائش کر رہا تھا۔۔۔
اُس کے پاس ہی زمین پر چت لیٹا وہ بے ترتیب سانسیں لے رہا تھا۔۔۔ بغیر شرٹ کے پورا جسم پسینے سے نم تھا۔۔۔۔ ناک سے خون بہتا چہرے پر پھیل رہا تھا۔۔
کِسی کے دل میں اُس کے لیے رحم نہیں تھا۔۔۔
سب ہیری کے کمال پر خوشی منا رہے تھے۔۔۔
اور ہیری اپنی جیت پر باغ باغ ہوتا دوبارہ اُس کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔۔
جیسے ہی اُسے اٹھانے کے لیے آگے کو جھکا ساحل نے پوری قوت سے گھٹنا اُس کے پیٹ میں دے مارا
وہ کراہتا ہوا پیچھے لڑھکتا گیا۔۔۔۔۔
وہ زمین سے لگ بھی نا پایا کے ساحل نے اٹھ کر گھومتے ہوئے کہني اسی جگہ گھسائی۔۔۔۔
ہڈیاں زور سے کڑکڑائی اور ہیری بےجان ہو کر زمین پر گر گیا
شور ایکدم سے سکوت میں بدل گیا۔۔۔۔۔
گہرا سناٹا چھا گیا۔۔۔۔
اور اس سنا ٹے کی آواز کو جیکی کی پہلی تالی نے توڑا۔۔۔۔۔
جو سامنے کے صوفے پر سے اٹھتا ساحل کو سراہتی نظروں سے دیکھ رہا تھا
اُس کے تعاقب میں باقی سب بھی تالیاں بجا کر شاٹنگ کرنے لگے۔۔
وہ ناک سے خوف صاف کرتا ہوا رنگ سے کود کر باہر آیا۔۔
لگتا ہے اپنی طاقت سے لوگوں کو مات دینا تمہارا شوق ہے۔۔۔۔۔۔۔
جیکی نے اُس کے پاس آتے ہوئے پانی کی بوتل اُس کی طرف اچھالی۔۔۔
ساحل نے بوتل کھول کر چہرہ اوپر کیے پانی چہرے پر انڈیلا۔۔۔
جنون۔۔۔۔۔۔۔۔جنون ہے اپن کی رگوں میں۔۔۔۔۔اس دنیا کو اپنی طاقت کے آگے جھکانے کا جنون۔۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھوں میں چمک لیے بولا اور بھیگے بالوں کو پیشانی سے پیچھے کیا۔۔۔
اور اس جنون کی خاطر کِس حد تک جا سکتے ہو۔۔۔۔
جیکی نے اُسے بغور دیکھتے ہوئے پوچھا اور وہیں صوفے پر ٹانگ پے ٹانگ رکھے بیٹھ گیا
جہاں تک منزل نہیں مل جاتی۔۔۔۔۔۔وہاں تک ہر حد توڑ سکتا ہے میں۔۔۔۔
وہ ہلکا سا مسکرا کر بولا ڈمبل معمولی سا ظاہر ہوا
اس جگہ سے تمہیں اپنی منزل کا راستہ نہیں ملے گا۔۔۔۔۔۔تم کِسی اور دنیا کے لیے بنے ہو۔۔۔۔۔۔۔لیکِن یاد رکھنا اُس دنیا میں قدم رکھنے کے بعد واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔
جیکی سنجیدگی سے کہتا اُسے وارن کرنے لگا اور ساحل کو اپنا راستہ صاف ہوتا محسوس ہوا
وہ اُس کی بات پر ہنس کر آگے بڑھا دونوں ہاتھ صوفے پر رکھے اُس کی طرف جھکا
ماموں۔۔۔۔۔یہ معصوم شکل دیکھ کر کنفیوج مت ہو
تیرے کو ابھی ٹائم لگے گا اپن کو سمجھنے میں۔۔۔۔
پلٹنا اپن نے سکھیلا بھی نہیں ہے۔۔۔۔
وہ مسکراتے لہجے میں کہہ کر اُسے ونک دیتا ہوا پیچھے ہٹا اور اپنی شرٹ پہننے لگا۔۔۔۔۔۔۔
جیکی نے مسکراتے ہوئے اُسے دیکھا اور پاس کھڑے اپنے گارڈ کو اشارہ کیا
گارڈ فوراً ساحل کی طرف بڑھ کر اُس کی آنکھوں پر کالی پٹّی باندھنے لگا۔۔۔ساحل کے بٹن بند کرتے ہاتھ تھام گے۔۔۔۔۔۔اُس نے ایکدم سے اُسے پیچھے دھکیل دیا
اے چاؤمن کیا کر رہا ہے بے۔۔۔۔۔۔۔پٹّی کائے کو باندھ رہا ہے۔۔۔۔زیادہ لاڈ میں آرہا ہے کیا۔۔
وہ غصے سے بولا۔۔۔۔گارڈ نے جیکی کو دیکھا
تمہاری ہمت دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔آنکھیں بند کرکے میرے راستے پر چلو ۔۔۔۔۔تمہیں تمہارا مقام مل جائے گا
جیکی نے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے کہا اور خود آگے بڑھ گیا باہر کے دروازے کی طرف۔۔۔۔
اب دیکھ کیا رہا ہے چل نا۔۔۔۔۔۔مہورت نکالے گا کیا۔۔
ساحل گارڈ کو دیکھ کر برس پڑا وہ دانت پیستا آگے بڑھ کر اُس کی آنکھوں پر پٹی باندھنے لگا۔۔۔
اُس کے زہن میں مکمل اندھیرا چھا گیا۔۔۔۔۔
گارڈ اسےاپنی ساتھ پکڑتا باہر لایا اور گاڑی میں بٹھایا۔۔۔
گاڑی تقریبا بیس منٹ تک چلتی رہی اور اس درمیان جیکی کی آواز میں بس کچھ نارمل باتیں ہی سنائی دی۔۔۔۔
اُسے ذرا بھی انداز نہیں ہوا کے وہ کس راستے پر ہے اور کب موڑ کاٹا جا رہا ہے
گاڑی رکی تو وہ کسی کے سہارے سے قدم آگے بڑھاتا گیا ۔۔۔۔ایک جگہ سیڑھیوں سے اترنے کے بعد اُسے روک دیا گیا
آنکھ سے پٹّی کھلی تو چبھتی روشنی کے باعث اُس نے آنکھیں بازو سے ڈھکی۔۔۔۔
چند سکنڈ بعد بازو ہٹا کر آنکھیں کھولتے ہوئے اطراف میں نظر ڈالی تو وہ ایک نئی جگہ پر تھا۔۔۔۔۔
ایک لمبا چوڑا میدان نما ہال۔۔۔۔۔
جہاں ایک طرف بنے کیج میں زبردست فاائٹنگ چل رہی تھی۔۔۔۔لوگ تین طرف سے کیج کو گھیرے کھڑے تھے
دوسری طرف قیمتی صوفوں پر چند لوگ بیٹھے شراب نوشی کر تے اُس فائٹ کا لطف اٹھا رہے تھے۔۔۔
اُن کے آس پاس مختصر کپڑوں میں بیٹھی لڑکیاں اُن کا ساتھ دے رہی تھیں
اُس نے سنجیدگی سے آس پاس نظریں دوڑا کر اُس جگہ کا اندازہ لگانا کی کوشش کی۔۔۔۔۔
جیکی آگے بڑھ کر وہاں بیٹھے لوگوں سے مل رہا تھا۔۔
جن میں شہر کی جانی مانی ہستیاں اور کچھ گم شدہ مجرموں کی شکلیں بھی نظر آرہی تھی۔۔۔کچھ غیر ملکی تھے کچھ ہندوستانی ۔۔۔
اُس نے کیج کی طرف دیکھتے ہوئے سگریٹ لبوں سے لگایا
لائٹر نکالنے کے لیے پاکٹ میں ہاتھ ڈالا لیکِن اُس کے پہلے ہی کِسی نے آگ جلا کر سیگریٹ جلائی۔۔۔۔
اُس نے آگ کے شعلے سے نظریں ہٹا کر ساتھ کھڑے شخص کو دیکھا
ویلکم ٹو ۔۔۔۔۔کے کے (kk) ولڈ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آدمی لائٹر بند کیے مسکرا کر بولا۔۔۔۔۔
سفید بال اور داڑھی ۔۔۔ آنکھوں پر کالا چشمہ چڑھائے۔۔
سفید سوٹ بوٹ میں کھڑا شخص یقیناً کے کے ہی تھا
ساحل نے سگریٹ لبوں سے نکال کر دھواں ہوا میں خارج کرتے ہوئے اُسے سنجیدگی سے دیکھا
کے کے ۔۔۔تمھارے لیے ہیرا ڈھونڈا ہے۔۔
جیکی نے آگے بڑھ کر ساحل کا کندھا تھپکتے ہوئے کے کے مخاطب کیا
ہمارے گیم میں بچوں کا کیا کام۔۔۔۔۔
کے کے نے ہنسی اڑاتے ہوئے انداز میں کہا اور رخ کیج کی طرف کر لیا۔۔ساحل نے غصے سے اُسے دیکھا
ابے رات کے باسی چاول۔۔۔۔۔۔بچہ کس کو بول رہا ہے۔۔۔ایک لات ماروں نا تو سیدھے قبر میں ملے گا۔۔
وہ اُسے سر سے پیر تک دیکھ غصے سے بولا۔۔۔
جیکی کے کے کا ری ایکشن دیکھنے لگا
بچے کے خون میں جوش تو بہت ہے۔۔۔۔۔چلو ایک موقع اسے بھی دے دیں۔۔۔۔۔۔مرنے سے پہلے کچھ تو ٹھنڈک ملے گی۔۔۔مائیک کو بلاؤ۔۔۔۔
کے کے اُس کی بات کا برا منائے بغیر مسکرا کر بولا۔۔۔
پیچھے ہو کر وہاں سب سے آگے رکھے شاندار صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔
اُس کے بیٹھتے ہی ایک نازک حسین سی لڑکی آکر اُس کے گلے میں باہیں ڈالے اُس کے تھائی پر بیٹھی شراب کا گلاس اٹھانے لگی
جیکی مسکرایا۔۔۔۔ اور کِسی کو فون ملا کر کان سے لگایا۔۔۔۔
ساحل نے گردن میں ہاتھ گھماتے ہوئے گلے میں پڑے لاکٹ کا بٹن دبایا۔۔۔۔اور چاروں طرف دیکھنے لگا
کچھ دیر بعد وہاں ایک اونچا لمبا کالی چمڑی والا آدمی داخل ہوا جس کے آتے ہی سب نے شور مچانا شروع کر دیا۔۔۔ ۔۔یقیناً وہی مائیک تھا۔۔۔۔۔مضبوط توانا جسم کا مالک ۔۔۔۔۔۔بغیر شرٹ کے اپنے بدن کی نمائش کرتا مغرور چال چلتا آگے بڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔سر پر بلکل بال نہیں تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُسے دیکھ کر لڑکیاں بھی اپنی جگہ سے اٹھ کر پر جوش انداز میں شور مچا رہی تھی
یہ الیگل فائٹ خفیہ طور کی جاتی تھی جس کا حصابنّے کے لیے دور دور ملکوں سے مافیا کے لوگ شامل ہوتے تھے
اس کھیل میں فائٹرز کی جان پر کروڑوں کا جوا کھیلا جاتا تھا۔۔۔۔
کیج میں ہوتی فائٹ روک دی گئی تھی ۔۔۔۔
کے کے کے اشارے پر۔۔۔۔۔
اب سب کو نئے کھیل کا اِنتظار تھا۔۔۔۔۔
مائک شامل تھا تو یقیناً کھیل خطرناک ہی ہونا تھا۔۔۔
سب نے اپنا پیسہ مائیک پر لگایا تھا۔۔۔۔۔
بغیر مقابل کے فائٹر کا اِنتظار کیے
یہ کے کے کا سب سے خاص آدمی ہے۔۔۔۔۔آج تک ایک بھی فائٹ نہیں ہارا ۔۔۔اگر تم نے اسے گرا دیا تو سمجھو کے کے کا دل اپنی مُٹھی میں کر لیا۔۔۔
جیکی نے اُسے مائیک کے بارے میں بتا تے ہوئے مسکرا کر کہا
لیکن یاد رکھنا یہ فائٹ زندگی اور موت پر ختم ہوتی ہے۔۔۔۔جو جیتا اُس کی زندگی۔۔۔۔۔جو ہارا اُس کی موت۔۔
یہاں دوسرا موقع نہیں ملتا۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے گویا ساحل کو۔وارننگ دی ۔۔۔۔۔۔اُس کے لبوں پر دل جلا دینے والی۔مسکراہٹ تھی۔۔۔جس نے ڈمپل کو گہرا کر دیا تھا
وہ اپنی شرٹ کھینچ کر نکالتے ہوئے کیج کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسے دیکھ کر وہاں شور مچاتے لوگوں نے ہنسنا شروع کر دیا۔۔۔۔چاروں طرف ہنسی گونجنے لگی۔۔۔۔
ساحل اُس آدمی سے قد اور جسامت دونوں میں کم تھا۔۔۔۔۔ مائیک کے آگے اچھے اچھے موت کو پہنچ چکے تھے اور ساحل کا وہاں ہونا اُن کے لیے بس ایک مذاق تھا۔۔۔۔
مائک بھی اُسے سر سے پیر تک دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔۔۔۔
ساحل نے بنیان نکال کر دور پھینکتے ہوئے بازؤں پر زور دیا تو بدن پر بنے کٹس واضح ہونے لگے۔۔۔
فائٹ شروع ہونے کا اشارہ کیا گیا۔۔۔۔
وہاں صرف جیکی تھا جسے ساحل کے جیتنے کی امید تھی ۔۔ورنہ تو ہرکسی کو مائیک کے جیتنے کہا یقین تھا
کے کے بھی دلچسپی سے نظریں کیج پر ٹکائے بیٹھا تھا
ساحل اور مائیک ایک دوسرے کے آگے کھڑے آنکھوں میں آنکھیں ملائے آہستہ آہستہ دائرے میں گھوم رہے تھے۔۔۔
مائیک تیزی سے اُس پر جھپٹا لیکِن ساحل فوراً سائیڈ پر ہو گیا اور مائیک کیج کی جالیوں سے ٹکرایا
اس نے سیدھا ہو کر پلٹتے ہوئے ٹانگ اٹھائی سینے پر پڑنے سے پہلے ساحل نے اُس کے پیر کو دونوں ہاتھوں سے جھٹک دیا۔۔۔۔مائیک نے ہاتھ گھما کر اُس کے چہرے پر مکہ مارنا چاہا ساحل نے گردن پیچھے کرتے چہرہ بچایا۔۔
مائیک نے دوبارہ لات گھمائی جو ساحل کے سینے کو چھو کر گزری۔۔۔
اُس نے مكا بنا کر مائیک کے چہرے پر مارنا چاہا لیکن مائیک نے اُس کا ہاتھ جھٹک دیا۔۔۔اور خود اچھل کر لات گھمانے لگا ساحل نے پھر اُس کے پیر کو جھٹک کر نیچے کیا اور تیزی سے گھومتے ہوئے لات اُس کے دوسرے پیر کے گھٹنے پر ماری وہ ڈگمگا گیا۔۔۔۔۔۔۔
غصے سے ناک پھلائے ساحل کو دیکھتا دونوں ہاتھوں سے ایک کے بعد ایک مکے مارنے کی کوشش کی ساحل ایک کے بعد ایک دونوں ہاتھ جھٹکتے گیا
ایکدم ہی مائیک نے لات اُس کے تخنے پر ماری تو وہ لڑکھڑا گیا لیکن خود کو گرنے سے بچاتا تیزی سے آگے بڑھا
مائیک نے اُسے ہاتھ سے ہول دی اور پھر لات اٹھا کر اُس پر گھمائی ساحل نے جھک کر اپنا سر بچا یا اور مائیک کے پیٹ میں مکہ مارا۔۔۔۔
مائیک نے غصے سے بھڑکتے ہوئےجھک کر اُس کے پیر کے پچھلے حصے پر وار کر کے اُسے زمین پر گرایا۔۔۔۔۔
اور اس کے گرتے ہی سیدھا ہوا اور لات اُس کے سینے پر مارنی چاہی لیکِن ساحل نے اُس کا پیر پکڑ کے پیچھے دھکیل دیا۔۔۔۔۔۔۔
وہاں بیٹھے سب لوگوں کا شور تھم گیا تھا۔۔۔۔۔سب کی نظریں دلچسپی سے دونوں پر ٹکی تھی
ساحل مائیک کو ایک بھی موقعے کا فائدہ نہیں اٹھا نے دے رہا تھا۔۔۔۔
جنہوں نے اُسے مذاق سمجھا تھا اُن کی سوچ غلط ثابت ہوئی تھی۔۔۔
اب سب کو کھیل کے انجام کا تجس تھا۔۔جیکی کی چہرے اور مسکراہٹ تھی
ساحل نے کیج کی جالی کی طرف بھاگتے ہوئے اُسے لات مار کر مائیک پر لات گھمائی اور وہ لات اتنی زور دار تھی کے مائیک منہ کے بل گرا۔۔۔۔۔۔
اُس کا بھی بھرم اب ختم ہو چکا تھا۔۔۔۔۔
اُس نے خونی نظروں سے ساحل کو گھورا۔۔۔۔ساحل نے مسکرا کر اُسے ہاتھ سے اٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔
وہ زمین پر ہاتھ مار کے اٹھا اور تیزی سے ساحل کی طرف بھاگا ساحل نے اُس کے کندھوں پر ہاتھ رکھے اچھل کر گھٹنا اُس کے پیٹ میں مارا۔۔وہ کراہ اٹھا ساحل نے پلٹ کر كہنی اُس کے چہرے پر مارتا گیا اتنی بار کے اُس کے منہ سے خون بہنے لگا اور دِماغ سن ہونے لگا وہ بے دم ہو کر زمین پر گرا اور ساحل نے اپنا ہاتھ سے زور سے جھٹکا۔۔۔۔۔
پلٹ کر نچلا لب دانتوں میں دبائے اُسے سرد نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔
مائک اپنے بھاری جِسم پر زور ڈالتا اٹھنے لگا
وہ جیسے ہی اٹھ کر اُس کی طرف بڑھا ساحل نے تیزی سے لات گھما کر اُس کے کندھے پر وار کیا۔۔۔وہ کیج کی جالی پر جا گرا۔۔۔۔۔
وہ سنبھل کر سیدھا ہوتا اُس کے پہلے ہی ساحل نے پیچھے سے اُس پر اپنا وزن ڈالے اُسے جالی کی طرف دبایا۔۔۔۔۔۔۔اور گھٹنا بار بار اُس کی بیک پر مارتا گیا
وہاں بیٹھے سارے لوگ سراہتی نظروں سے اُسے دیکھنے لگے۔۔۔۔۔۔۔مائیک ابھی لڑ رہا تھا لیکِن اُن کے لیے و ہار چکا تھا
مائک نے دونوں ہاتھ سے جالی کو دھکا دے کر زور لگاتے ہوئے ساحل کوپیچے کیا اور اور خود پلٹ کر اُس کی اور بھاگا۔۔۔۔
قریب آتے ہی ساحل نے تیزی سے جھک کر اُس کی ٹانگ میں ہاتھ ڈالے اُسے اوپر اپنے کندھے پر اٹھایا اور دوسری طرف سے پوری قوت سے جالی پر پھینکا۔۔۔۔۔۔
سارے لوگ اٹھ کر تالیاں بجانے لگے۔۔۔۔۔
مائک کے بچی کچی طاقت بھی ختم ہو گئی۔۔۔۔۔
ساحل بے ترتیب سانسیں لیتا اپنے کندھے پر لگے مائیک کے لہو کو رگڑنے لگا۔۔۔۔۔۔۔
مائیک نے بمشکل اپنے پیروں پر کھڑے ہوتے ہوئے آگے بڑھ کر ساحل کے منہ پر مکا مارنا چاہا ساحل نے اُس کا ہاتھ پکڑے پوری طرح جھٹکا دیا اُس کے پورے بدن کی ہڈیوں میں کرنٹ دوڑ گیا ساحل نے کھینچ کے اُسے پلٹتے ہوئے اُس کی گردن اپنے بازو میں دبوچ لي۔۔۔۔۔
مائک نے دونوں ہاتھوں کے زور سے اُس کا بازو اپنی گردن سے ہٹانے کی کوشش کی۔
کے کے سنجیدگی سے بیٹھا تھا سب ہی نظریں ٹکائے ہوئے تھے۔۔۔۔
اور آخری کٹک کی آواز کے ساتھ ساحل نے مائک کی گردن گھما کر اُسے آزاد کر دیا
وہ دھڑام سے زمین پر گرا ۔۔۔۔
جیکی اٹھ کر فوراً کیج کے اندر آیا اور ساحل کا ہاتھ ہوا میں اٹھایا۔۔۔۔
طوفان۔۔۔۔۔۔۔
وہ پوری قوت سے چلّا کر ساحل کو نیا نام دیے اُس کا تعارف کرانے لگا اور اُس کے بعد اس نئے نام کا شور چاروں اور گونج اٹھا۔۔۔۔۔
ساحل مائیک کی لاش کو ایک نظر دیکھتا کیج سے باہر نکل آیا۔۔۔سانسیں بے ترتیب چل رہی تھی۔۔۔ بال سمیت پورا جِسم پسینے میں نہایا تھا
مائک کے ہارنے والو کا بہت نقصان ہوا تھا
لیکِن وہ سب بھی ساحل کو سرا رہے تھے
اُن سب کو کے کے ورلڈ کا نیا فائٹنگ سٹار مل گیا تھا
اس لڑکے کے بارے میں پتہ کرو۔۔۔۔۔
کے کے نے اپنے پیچھے کھڑے گارڈ کو حکم دیتے ہوئے مسکرا کر ساحل کو دیکھا۔۔۔۔۔
جو اپنے آس پاس کے شور اور ہوٹنگ کو نظر انداز کرتا کے کے کی طرف ہی آرہا تھا
∆∆\\\
داؤد۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دیر رات کو گھر پہنچ کر سیدھا اپنے کمرے میں جانے لگا تو نین نے اُسے پکارا
وہ حیران ہوا کے نین اب تک جاگ رہی ہے لیکن جب یاد آیا کے وہ اپنی منگنی کے بیچ سے گیا تھا تو اس سوال کے پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی
کہاں چلے گئے تھے تم۔۔۔۔۔وہ بھی رنگ سیریمنی کے بیچ ۔۔۔۔۔۔
نین نے کچھ ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔۔
اس وقت داؤد کو روک کر بات کرنا کچھ ٹھیک بھی نہیں لگ رہا تھا لیکِن دِل پریشان بھی تھا
بتایا تو تھا کے ایمرجنسی ہے۔۔۔۔۔
وہ آکر صوفے پر بیٹھ گیا اور اُسے بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا
میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ اُس سے زرا فاصلے پر بیٹھتے ہوئے آہستہ سے بولی
کیا ہمارے رشتے کو لے کر کوئی کنفیوجن ہے۔۔۔۔تم دل سے راضی ہو نہ
اُس نے بغور اُسے دیکھتے ہوئے پوچھا
تمہیں خود میں کوئی کمی نظر آتی ہے کیا نین۔۔۔۔
افکورس تم جیسی لڑکی کو پارٹنر بنا کر انسان خوش ہی ہوگا۔۔۔
داؤد نے اسے تسلی دینی چاہی۔۔۔اور شاید اُسے کچھ سکون بھی ہوا
تم جانتے ہو داؤد کے میں اپنے ہر رشتے کو لے کر کتنی ٹچی اور سینسیر ہوں۔۔۔۔۔مجھے رشتوں میں زور زبردستی ۔۔۔ایڈجسمنٹ۔مجبوری یہ سب پسند نہیں۔۔۔اور ایسا ہی میں آگے بھی چاہتی ہوں۔۔۔
ہمارے پاس بہُت وقت ہے داؤد۔۔۔
اس درمیان تمہیں کبھی بھی ہمارے ریلیشن کو۔لے کر ڈاؤٹ ہو تم آرام سے کلیئر کر سکتے ہو
اُس نے سنجیدگی سے اُسے اپنے دل کی بات بتائی داؤد نے مسکرا کر سر ہلایا
کِسی بات کو لے کر پریشان ہو۔۔۔۔۔۔
نین نے اب اپنے زہن میں اٹھتا سوال پوچھا داؤد نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے اُسے دیکھا
ایک کیس کے سلسلے میں اُلجھا ہوا ہوں۔۔۔۔ایک لڑکی ہے۔۔۔۔۔۔پتہ نہیں کون ہے۔۔۔کہاں سے ہے
داؤد نے اُسے فلک کے ملنے سے لے کر آج رات کی ساری بات بتادی۔۔۔بغیر کچھ چھپائے۔۔۔یہاں تک کہ یہ بھی کے اُسے فلک کو دیکھ کر عجیب سا محسوس ہوتا ہے۔۔۔۔دکھ ہوتا ہے۔ ۔۔بے چینی ہوتی ہے۔۔
لیکِن اس بات کو داؤد کے ساتھ نین نے بھی ہمدردی ہی سمجھا
میں نے تو سنا تھا پولیس والوں کا دل پتھر کا ہوتا ہے لیکن تمہیں دیکھ کر تو ایسا نہیں لگتا
وہ اُس کی بات سن کر مسکراتے ہوئے بولی
جو لوگ ایسا کہتے ہے وہ شاید ہمیں انسان نہیں سمجھتے ہوں گے۔۔۔
ہمارا بھی دل ہوتا ہے۔۔۔ہمارے بھی جذبات ہوتے ہیں
وہ سر جھکا کر بولا اور ایکدم سے سر اٹھا کر اُسے دیکھا
ایک بات مانوگی نین۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے نین کا ہاتھ تھامتے ہوئے پوچھا نین اُسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی
لائف میں کوئی بھی سچویشن آئے۔۔۔۔
ہمارے بیچ آگے رشتے کتنے بھی بدلے۔۔۔زندگی کوئی بھی موڈ لے۔۔۔۔ لیکِن ہم ہمیشہ دوست رہیں گے۔۔وعدہ کرو مجھ سے۔۔۔۔۔۔تم ہمیشہ مجھے دوست بن کر جج کروگی۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتا پر امید لہجے بولا
ایک شرط پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔نین نے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا داؤد نے اُسے نا سمجھی سے دیکھا
تمہیں مجھے گول گپے کھلانے پڑیں گے۔۔۔۔۔
وہ اُسے دیکھ کر شرارت سے بولی اور دونوں ہنس دیے
∆∆∆∆∆∆∆
وہ تیار ہو کر کمرے سے باہر نکلی اور نیچے جانے لگی لیکن اچانک ہی کچھ سوچ کر رک گئی۔۔
داؤد نے پہلی دفعہ ہیلپ مانگی ہے۔۔۔۔۔ساحل سے بات کرتی ہوں۔۔۔
اگر اُس کا انٹرویو اچھا ہوا تو داؤد کو اچھا لگے گا
وہ داؤد کی بات یاد کرکے مسکراتی نیچے کی بجائے ساحل کے روم کی طرف بڑھ گئی
ابھی دروازے سے کچھ دوری پر ہی تھی کے اُسے اندر سے لڑکی کی آواز آئی
۔اُس کے اندر کا جاسوس انگڑائی لے کر جاگ اٹھا۔۔
اُس نے دروازے سے لگ کر کان لگائے اندر کی بات سننے کی کوشش کی۔۔۔۔۔ساری تمیز جاسوسی نے بھلا دی
بس کیجئے نا۔۔۔آج کے لیے اتنا بہت ہے۔۔۔۔۔
یہ آواز وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتی تھی۔۔۔۔یہ چندا کی آواز تھی لیکِن وہ بھلا کسے اور کیا بس کرنے کو کہہ رہی تھی یقیناً ساحل کو آخر کمرہ تو اُسی کا تھا
آپ بڑے وہ ہے۔۔۔۔۔۔
چندا شرما کر کہہ رہی تھی۔۔سامنے والا کیا کہہ رہا تھا نین کو سنائی نہیں دیا
کیوں کے حقیقت میں تو و کِسی سے فون پر بات کر رہی تھی ۔جِس سے نین بے خبر تھی۔۔۔
نہیں ہم کو شرم آتی ہے۔۔۔۔ہم جا رہے ہیں
جانے ساحل نے اُس سے کیا فرمائش کی تھی کے اُسے شرم آگئی تھی۔۔۔۔ نین نے سوچنے کی کوشش کی
جیسے ہی نین کو چندا کے دروازے کی طرف آنے کا احساس ہوا وہ جلدی سے ایک طرف ہو کر دیوار سے لگ گئی
چندا باہر آئی ۔۔۔۔۔نین نے دیکھا تو وہ پسینے میں نم چہرہ صاف کرتی آگے بڑھ رہی تھی
نین تو پھر نین تھی اُس نے اس پسینے کا بھی بہت خطرناک مطلب اخذ کر لیا تھا۔۔۔۔
جسے سوچ کر اُس کے بدن نے جھر جھری لي۔۔۔
اُس پر قسمت کا ساحل پر ستم کے پیچھے سے چندا کے شرٹ کی زپ کھلی ہوئی تھی۔۔۔
نین نے اُسے دیکھ گندا سا منہ بنایا۔۔۔۔۔
ساحل اور چندا کا رومانس سوچ کر صدمے سے دیوار پر چہرہ ٹکائے کھڑی تھی۔۔۔۔
ساحل چندا کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔۔۔۔
اور چندا شرماتی آگے آگے بھاگ رہی تھی۔۔۔۔
ساحل چندا کا دوپٹا کھینچ رہا تھا
چندا لجاتی اپنا دوپٹہ بچا رہی تھی۔۔
ساحل چندا کے چہرے پر پھول مار رہا تھا
چندا مسکراتی اُسے دیکھ رہی تھی
ساحل اُس کے چہرے پر جھک رہا تھا۔
چندا پھولوں کو آگے کرکے اُس کے کارنامے کو چھپا رہی تھی
وہ جھٹکے سے سیدھی ہوئی اور اپنے چہرے پر تھپڑ مارتے خود کو اس امیجنیشن سے الگ کیا
بھلا ساحل اور چندا کے رومانس میں اُس کا کیا کام۔۔اُس نے دونوں کی محبت پر لعنت بھیجی
گہری سانس لے کے خود کو کمپوز کرتی دروازے کے پاس آئی اور دستک دی۔۔۔۔
تین چار بار ناک کرنے پر ساحل نے دروازہ کھولا تو وہ اُسے سر سے پیر تک دیکھنے لگی۔۔۔۔
وہ صرف بلیک بنیان اور بلیو جینس میں تھا تیز تیز سانسیں لے رہا تھا
کیوں کے ابھی ابھی ٹیرس سے ایکسرسائز کرتے ہوئے آکر دروازہ کھولا تھا
لیکِن نین تو پھیر نین تھی ساحل کی تیز سانسوں نے اُس کے ساری سوچوں پر سچ کی مہر لگا دی تھی
ساحل اُسے دیکھ کر پیچھے ہو گیا اور بیڈ پر پڑی شرٹ اٹھا کر پہننے لگا۔۔۔
وہ اندر آکر اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔دِماغ میں اپنی سوچیں چل رہی تھیں
ساحل نے اُس کی خاموشی پر سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا
بہت۔۔۔۔تھ۔۔ تھکے تھکے سے لگ رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ زبردستی مسکرا کر بولی
وہ اپن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساحل نے اُسے بتانا چاہا کے وہ ایکسرسائز کر رہا تھا لیکِن
نہیں۔۔۔۔۔۔ کچھ مت کہنا
وہ ہڑبڑا کے اُسے روک گئی۔۔۔۔ اُس کی اور چندا کی رومانس سٹوری سننے کے خوف سے۔۔۔۔و حیران رہ گیا
مجھے اندازہ ہے کے تم کیا کر رہے تھے۔۔۔
وہ کھسیا کر بولی
چل تو بتا ۔۔۔اِدھر کیا کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ بیزاری سے بولا
وہ میں کچھ کہنے آئی تھی پر بھول گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے اپنے ذہن پر زور دیتے ہوئے کہا ۔۔۔اب اتنی خطرناک سوچوں کے بیچ کام کی بات کہاں یاد رہنی تھی
گجب۔۔۔۔۔۔۔آتے آتے بات بھول گئی۔۔
اُس نے بیزار شکل بنا کر کہا
تو کیا ہوا میں تو صرف بات بھولی ہوں۔۔۔۔۔۔تم تو اپنی مریاده بھول چکے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے لتاڑنے والے انداز میں بولی۔۔۔۔۔آخر اتنی بے شرمی کے بعد وہ کیسے سینہ تانے کھڑا تھا
کیا بول رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ساحل نے بیزاری و حیرت سے اُسے دیکھا
کب سے چل رہا ہے یہ سب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین نے اُسے کن آنکھوں سے دیکھا۔۔۔۔بتانے کی کوشش کی کے وہ اُس کے سارے راز جانتی ہے جن سے وہ خود بھی بے خبر تھا
کیا سب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُس نے زچ ہو کر پوچھا
یہی جو ابھی کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا
بہت سالوں سے کر رہا ہوں ۔۔۔۔کائے کو
وہ اکسرسائز کا مطلب لے کر غصے سے بولا کیوں کے ابھی تو وہ یہی کر رہا تھا
لیکِن نین تو اُس کے جواب پر صدمے سے بھڑک اٹھی
آنکھوں کا پانی مر گیا ہے تمھارے۔۔۔۔ایک تو دن دہاڑے۔۔۔سرے عام ایسے کام اور ۔۔۔۔۔۔ اور ڈنکے کے چوٹ پر کہہ رہے ہو ۔۔۔بہت سالوں سے کر رہا ہوں ۔۔۔۔شرم نام۔کی چیز ہے یا نہیں۔۔۔۔
کم سے کم بڑے ماما یا داؤد کا ہی لحاظ کر لیتے اتنا بھروسہ کرتے ہیں دونوں تم پر ۔۔۔
وہ ایک ایک قدم اُس کی طرف بڑھتی غصے سے بولتی گئی وہ صدمے سے پیچھے ہوتا بیڈ پر گر گیا۔۔۔
وہ اُسے آنکھیں پھاڑے گھور رہی تھی
اے شانی۔۔۔۔۔۔۔تیرے اوپر کے مالے میں کچرا بھریلا ہے کیا۔۔۔۔۔۔
وہ ایکدم ہی غصے سے بیڈ سے اٹھا وہ ہڑبڑا کے پیچھے ہُوئی
اور تیرے کو تکلیف کیا ہے اپن کے کچھ بھی کرنے سے تیرے کو تو نہیں بول رہا نا کرنے کو۔۔۔
وہ غصّے سے بھڑک کر بولا اُس کی بات پر نین کو پتنگے لگ گئے
شٹ اپ۔۔۔۔۔بدتمیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ غصے سے اُسے اُنگلی دکھاتی بولی۔۔۔۔اُس کا گلا دبانے کو دونوں ہاتھ بڑھائے اور پھر بمشکل خود کو روکتے مٹھیاں بھینچ لی۔۔۔۔
نکی اس کا ایک آدھ سکرو ڈھیلا ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے باہر جاتے دیکھ کر سر ہلاتے ہوئے بولا۔۔
وہ تیزی سے چلتی باہر آئی اور اپنے صدمے اور بد حواسی کے چکر میں داؤد سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔۔۔
داؤد کو دیکھتے ہی اُسے داؤد کی فکر ستانے لگی جو ساحل کو معصوم سمجھتا تھا جب کے اُس کی اصلیت سے تو صرف نین واقف تھی
داؤد مجھے تمہاری بہت فکر ہو رہی ہے
وہ اُسے دیکھ کر گھبرائے ہوئے انداز میں بولی
کیا ہوا نین۔۔۔تم ٹھیک ہو
داؤد نے اُس کی پیشانی پر پسینہ اور عجیب اور گرین انداز پر فکرمندی سے پوچھا
داؤد۔۔۔تم بہت بھولے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں صحیح غلط کی پہچان نہیں ہے
تم کسی پر بھی بھروسہ کر لیتے ہو۔۔۔
تمہیں اندازہ بھی نہیں ہے کے تمہاری نظر کے آگے کیا کیا گل کھلائے جا رہے ہیں۔۔۔۔
وہ نان سٹاپ بولے گئے اور سب داؤد کے سر کے اوپر سے گزر گیا
مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تم کس کے بارے میں بات کر رہی ہو اور یہ تمہارے ہاتھ پر اتنے کانٹے آرہے ہیں۔۔۔۔۔کیا ہوا ہے تمہیں
داؤد پریشاں سا اُس کے بازؤں کو دیکھنے لگا وہ اپنے سینے پر ہاتھ رکھے گہری سانس لینے لگی
مجھے صدمہ لگ گیا ہے۔۔۔۔۔میرے ہوش اُڑ گئے ہے
داؤد میرا بی پی ہائے ہو رہا ہے۔۔۔۔۔مجھے بخار ہو رہا ہے چکر آرہے میں آرام کرتی ہوں روم میں جا کر ۔۔۔۔۔۔۔بائے
