Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Episode 80
No Download Link
Rate this Novel
Episode 80
وہ دونوں ایک دن مزید اُس گاؤں سے قریب ایک لاج میں رکے رہے اور پھر واپسی کے لمبے سفر پر نکل گئے۔۔
سارے سفر میں ایک گہری خاموشی نے اُسے اندر و باہر سے گھیرا ہوا تھا۔۔
وہیں باتیں وہیں قصہ ذہن کے پردے پر قبضہ جمائے تھا۔۔
وہاں رہنے اور سفر کے دوران آنے والے ڈھیروں فون پر بھی وہ بہُت دھیرے اور مختصر انداز میں بات کرتا رہا۔
نین اُس کے جذبات سمجھ کر اُسے وقت دے رہی تھی کے اتنی جلدی تو یہ اُداسی ختم نہیں ہونی۔۔
اُداسی بھی اور نفرت بھی اپنے ہی باپ کے لیے جو ایک گھر و کئیں زندگیاں تباہ کرنے کا اصل ذمےدار تھا۔۔
اُسے آس پاس کے پڑوسیوں سے یہ بھی معلوم ہو چکا تھا کے اُس کا باپ اُسے ڈھونڈھنے کے لئے کئیں دفعہ اپنے آدمیوں کو وہاں پوچھ تاچھ کے لیے بھیج چکا ہے۔
یقیناً وہ اُسے ڈھونڈھ رہا ہے
اور وہ یہ بھی جانتا تھا کے وہ اُسے ڈھونڈ چکا ہے۔۔۔
اگر وہ اُسے اتفاق سے پہلے سے جانتا نا ہوتا تو شاید حیرت ضرور کرتا کے جس بیٹے کو اُس نے بچپن میں ہی کبھی اہمیت نہیں دی اب اُسے اُس بیٹے کی کیوں ضرورت پڑ رہی ہے۔۔
لیکن چونکہ وہ کبھی اُس آدمی کی رگ رگ معلوم کر چکا تھا اس لیے اس ضرورت کی وجہ سے بھی واقف تھا۔۔۔
ماما کے بیٹے پلیز اب تو نارمل ہوجاؤ نا۔۔۔پرسوں سے دیکھ رہی ہوں تم نا ٹھیک سے بول رہے ہو نا ٹھیک سے کھا رہے ہو۔۔نا سو رہے ہو۔۔
اُسے کب سے ساکت نظریں ایک نقطے پر جمائے دیکھ وہ پریشانی سے بولی لیکِن ساحل کی پوزیشن میں ذرا بھی فرق نہیں آیا بس نظر کا زاویہ تھوڑا سا بدل گیا
آئے نو کے تم ہرٹ ہو لیکِن پلیز اُن سب باتوں کو یوں سوار مت کرو خود پر۔۔خود کے ایسے تکلیف مت دو۔۔کچھ چیزیں ہمارے بس میں نہیں ہوتی۔۔۔
وہ اُس کی خاموش سے تنگ آگی تھی۔۔بھلے وہ دِن رات لڑائی کرے لیکن اُس کی خاموشی برداشت کرنا نین کے لیے نا ممکن تھا۔
ساحل نے اُس کی پریشانی پر اُس کی جانب دیکھا اور سر کو ہلکی سی جنبش دی گویا اُس کی بات مان لی۔
اچھا یہاں سے ہم اب شیرازی مینشن ہی چلے گے نا۔۔۔
وہ اُسے باتوں میں لگانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی لیکِن کوئی فائدہ نہیں ہوا اُس نے محض ہلکا سا سر ہلا کر نفی کی۔۔۔
تو کیا ہم واپس اپنے گھر جا رہے ہیں۔۔۔
وہ اُس کے انکار پر حیرت سے پوچھنے لگی اس دفعہ بھی اُس نے باہر دیکھتے ہوئے بس سر گلا۔کر انکار کیا
ماما کی طرف نہیں جانا گھر نہیں جانا تو کیا اب فوٹ پاتھ پر رہنا ہے۔۔۔کیا تم نے بڑی مامی کو معاف نہیں کیا۔۔۔
وہ اُس کے رویے پر چڑ کر حیرت اور غصے سے پوچھنے لگی
ایسا کچھ نہیں وہاں جائیں گے لیکن بعد میں۔۔
اُس نے مانو بہُت زبردستی ایک جملے میں جواب دے کر اُسے چپ کرنا چاہا
تو ابھی کہاں جانا ہے۔۔۔۔
وہ پریشان ہو کر پوچھنے لگی
بتاؤں گا۔۔۔
اُس نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا اور دوبارہ چُپ ہو کر آنکھیں بند کرلیں۔
اففف۔۔پھر سسپنس۔۔۔۔
وہ جھنجھلا کر مٹھیاں بھینچے اُسے گھورتی رہ گئی۔۔۔
دونوں صبح کے سات بجے ممبئی پہنچ کے اسٹیشن پر اترے اور باہر نکل کر ٹیکسی کی طرف بڑھے ہی ہی تھے کے تین آدمیوں نے سامنے آکر اُن کا راستہ روکا۔
نین اُنہیں دیکھ کر حیران پریشان ہوئی جب کے وہ رک کر پرسکون انداز میں کھڑا کے کے کے سب سے خاص آدمی ویراج کو دیکھنے لگا
تمہیں کے کے نے بلوایا ہے۔۔۔۔ہمارے ساتھ چلو۔۔۔
وراج نے ہمیشہ کی طرح سنجیدگی سے کہا۔۔
اب یہ کے کے کون ہے۔۔۔
نین نے اُن لوگوں کو دیکھ اُس کا بازو تھامتے ہوئے پوچھا ۔
کیریم کاظمی۔۔۔۔
اُس نے پرسوچ لب و لہجے میں کہتے ہوۓ لبوں سے سانس خارج کی۔۔
مطلب تمہارے۔۔۔۔
نین نے حیرت سے اُسے دیکھا تو ساحل نے اُس کی طرف دیکھ کر پلکیں یوں جھپکیں مانو اُس کی بات پر اقرار بھی کیا اور اُسے خاموش ہونے کا اشارہ بھی دیا
چلو۔۔۔۔۔
وہ اپنی تمام تاثرات کو سنجیدگی میں پروئے اثبات میں بولا تو نین حیران رہ گئی
یہ تم کیا کہہ رہے ہو ساحل۔۔۔۔
اُس نے بے یقینی سے پوچھا۔۔۔
ساحل نے اثبات میں سر ہلا يا تو ۔۔۔
ایک منٹ۔۔۔
نین نے اُسے بات کرنے کا اشارہ کرتے ہوئے تھوڑا دور کھینچا۔۔
ساحل ہمیں اُن کے ساتھ نہیں جانا چاہیے۔۔وہ انسان اس قابل نہیں ہے کے تم اُس کی شکل بھی دیکھو۔۔اور تم اُس کے ایک ہی بلاوے پر اُس کے پاس پہنچ جانا چاہتے ہو۔۔
جس بیٹے کے ساتھ اُس نے اتنا غلط کیا اُس کا چہرہ بھی دیکھنے کا حق نہیں ہے اُس انسان کو۔۔۔
ہم ابھی پولیس اسٹیشن جا کر اُس کے خلاف کمپلینٹ کریں گے۔۔۔۔۔
وہ حیران پریشان فکرمند سی اُسے سمجھانے لگی۔۔۔
اُس کو جب سزا ملنی ہوگی مل جائے گی۔۔۔تو شانت رہ اور گھر جا۔۔۔۔میں بعد میں آجاؤں گا۔۔۔
وہ اُس کے اتنا سمجھانے کے باوجود اپنی بات پر قائم اُسے ٹالتے ہوئے بولا
اور تمہیں لگتا ہے میں تمہاری بات مان لوں گی۔۔۔
وہ اُس کی آخری بات پر اُسے گھورتے ہوئے پوچھنے لگی۔بدلے میں ساحل نے بھی اُسے گھورا
میری سمجھ میں نہیں آرہا آخر تمہیں وہاں جانا کیوں ہے۔۔۔پہلے ہی پچھلے دو دن سے تم اتنے پریشان ہو
میں تمہیں اور پریشان نہیں دیکھ سکتی۔۔کہیں تم اُسے معاف کرنے کی تو نہیں سوچ رہے نا
بتا رہی ہوں وائلڈ مین اگر ایسی سوچ ذہن بھی لائی نا تو تمہاری خیر نہیں۔
اتنے طعنے دوں گی تمہیں کے مرتے دم تک کانوں میں میرے طعنے ڈھول کی طرح گونجتے رہیں گے۔۔۔
اور اتنی ککس ۔۔۔۔۔۔۔
وہ نان سٹاپ شروع ہو گئی تو نہ صرف کے کے کے آدمی بلکہ اس پاس سے گزرتے لوگ بھی ساحل کی بیوی کے ہاتھوں شامت آتے حیرانی سے دیکھنے لگے۔
تیری تو۔۔۔۔ منہ بند کر ۔۔ورنہ میں ہمیشہ کے لیے بند کر دوں گا۔۔۔۔تھوڑی تو عزت رہنے دے کیا سب کو سنائے گی کے میں تیرے سے مار کھاتا ہوں۔۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ مزید اُس کی سرے عام بے عزتي کرتی اُس کی بات کاٹ کر غصے سے دانت بھینچے بولا
ابھی تو صرف سنا رہی ہوں لیکِن اگر تم نے اپنے باپ کو معاف کرنے کا سوچا نہ تو ساری دنیا تمہارا انجام دیکھے گی ساحل شیرازی۔۔
نین کے اشتعال میں کوئی کمی نہیں آئی۔۔۔لبوں پر ہنسی آنے کے لیے مچلنے کے باوجود وہ اُسے غصے سے گھورنے لگا
معاف کرنا ہے یا سزا دینی۔۔۔یہ اپن کا ٹیشن ہے تو بیچ میں ناک مت گھسا۔۔۔مانا کے تو خود کو عقلمندوں کی سردار سمجھتی ہے لیکن تھوڑا سا دوسروں کے پاس بھی ہے۔۔
اسلئے جو کر رہا ہوں کرنے دے۔۔
تو گھر جا میں شام کو تیرے سے بات کروں گا۔۔
وہ بیزاری و غصے سے لیکِن دھیمی آواز میں بولا۔۔
میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گی۔۔۔
نین نے منہ موڑ کر۔غصے سے کہا احسان جتانے والے انداز میں
بلکل نہیں۔۔۔وہ جگہ اچھی نہیں ہے۔۔۔تو وہاں نہیں آئےگی۔۔۔
ساحل کا انداز بہت نرم تھا لیکن سختی کبھی کام نہیں آئی تھی تو نرمی کیا آنی تھی
اچھی نہیں ہے اسی لیے ۔۔۔۔تمہیں کیا لگتا ہے ایسی جگہ اکیلا چھوڑ کر میں تمہیں اِدھر ادھر منہ مارنے کا موقع دوں گی۔۔۔ہر گز نہیں۔۔۔جہاں جاؤگے میرے ساتھ جاؤگے۔۔
وہ آنکھیں گھما کر جتاتے ہوئے بولی تو وہ اُسے تاسف سے دیکھتا رہ گیا۔
∆∆∆∆∆∆∆
وہ پہلے بھی کئیں بار اُس محل جیسے گھر میں آچکا تھا لیکِن آج وہاں اُس کی آمد بہُت خاص تھی۔۔۔
اندر قدم رکھتے ہی دونوں پر پھولوں کی بوچھاڑ کی گئی تھی۔۔ساحل کے گلے میں نوٹوں اور پھولوں کی مالا پہنائی گئی تھی۔۔۔
چاروں طرف کالے کپڑوں میں کھڑے آدمی ہاتھوں میں ہتھیار تھامے ہوئے تھے۔۔
ہمیشہ کی طرح سفید کپڑوں میں سگار پھونکتے کے کے کے چہرے کی خوشی دیدنی تھی جب کے مایا کے چہرے کے تاثرات لاکھ چھپانے کے بعد بھی بگڑے نظر آرہے تھے۔۔
اچانک سے ساحل کے کے کا بیٹا بن جانا اُس کے لیے کسی جھٹکے سے کم نہیں تھا۔۔۔۔
اوپر سے بینڈ باجے کی آواز اُسے سخت بری لگ رہی تھی۔۔
ساحل تو خاموش تماشائی دیکھ رہا تھا لیکِن نین کو یہ ماحول بہُت بے چین کر رہا تھا۔۔۔وہ اندر ہی اندر گھبرائی ہوئی تھی اور چہرے پر بے حد غصّہ اور ناگواری تھی
ویلکم میرے جگر۔۔۔۔۔۔۔
اندر آتے ہی کے کے نے اُسے گرمجوشی سے گلے لگا لیا۔۔اُس کے چھونے سے ساحل کے انگ انگ میں جلتے شرارے دوڑ گئی اُس نے سختی سے لب اور مٹھیاں بھنچیں۔۔۔
جب کے نین اُس کے پیچھے تھوڑے سے فاصلے پر رک گئی تھی۔۔۔اور غصے سے اُسے دیکھ رہی تھی۔
تمہاری بہادری اور دلیری دیکھ کر ہمیشہ مجھے تم سے ایک کشش محسوس ہوتی تھی۔۔۔آج پتہ چلا کے وہ خون کی کشش ہے۔۔ تم۔میرے بیٹے ہو۔۔۔۔
اُسے اپنے سامنے دیکھ مانو کے کے کا سینہ اور وسیع ہو گیا تھا۔۔۔وہ خوشی سے سرشار اُس کے چہرے کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔۔
وہاں اب صرف کےکے کے کچھ خاص گارڈز اور مایا کے علاوہ نین ساحل ہی تھے
مجھے بھی اپنے اندر کے کمینے پن کو دیکھ اُلجھن سی ہوتی تھی۔۔۔۔آج پتہ چلا کچھ بوندیں تیرے جیسے۔۔۔۔
وہ نفرت سے اُسے دیکھتا مسکرایا صرف ایک طرف کے ہی لب پھیلے تھے۔۔۔جب کے نین کا خیال کرکے اُس نے بات ادھُوری ہی چھوڑ دی۔۔۔
گزری باتوں کو لے کر تمہاری ماں نے جو زہر تمہارے دل میں بھرا ہے اُس کے بعد مجھے تم سے ایسے ہی رویے کی اُمید تھی۔۔۔
کے کے نے اُس کی بات پر افسوس سے کہا نین کا دل تو چاہ رہا تھا کے اُس انسان کو ایک زور دار لات رسید کر ساتھ اُس کے بیٹے کو بھی جو اتنے سکون سے اُس سے مل رہا تھا۔۔۔
تونے میری ماں کو وہ زہر بھرنے کا موقع بھی کب دیا۔۔۔۔
اُس کا لہجہ گہرا سنجیدہ ہوا لیکِن نفرت اندر ہی دبائے رکھی۔۔۔مایا اپنی جگہ بیٹھی بیزاری سے دونوں کو دیکھ رہی تھی
میں تمہیں ایک عالیشان زندگی دینا چاہتا تھا۔۔۔جب کے اُس نے تمہیں در بدر کی ٹھوکریں دیں۔۔۔
پھر بھی تمہیں وہ عورت صحیح لگتی ہے۔۔۔
اگر مجھے اپنی اولاد سے محبت نہیں ہوتی تو کیا میں اتنے سالوں تک تمہیں پاگلوں کی طرح ڈھونڈھ رہا ہوتا۔۔
کے کے نے اُسے اپنی محبت کا یقین دلانے کے لیے جذباتی الفاظوں کا استعمال کیا۔۔وہ ہنسا۔۔
یہ محبت تب جاگي جب تیرے پاس اولاد کے نام پر کوئی آپشن نہیں بچا۔۔۔۔۔
وہ ہنس کر بولا تو سبکی کے احساس سے کے کے نے جبڑے بھینچ لیے۔۔
جانتا ہوں تم ناراض ہو اسلئے ایسا کہہ رہے ہو۔۔۔۔۔بیتی باتوں کو بھول جاؤ بیٹا۔۔۔۔
وہ اُس کی کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا تو ساحل نے اُسے دیکھتے ہوئے اُس کا ہاتھ ہٹایا۔۔
چل بھول گیا۔۔۔۔۔۔تو کمینہ باپ ہے تو اپن کونسا سالہ شریف ہے۔۔۔۔۔چوری مارا ماری کرکے بھی خود کا گھر نہیں بنا سکا۔۔۔اب بیٹھے بٹھائے یہ بنگلہ مل رہا ہے تو تیرے جیسے سو باپو ں کو معاف کر دوں
وہ مسکرا کر اُسے ونک دیتے ہوئے بولا تو کے کے بھی خوش ہو کر مسکرایا جب کے نین کو اُس کی بات سے زوردار جھٹکا لگا وہ بے یقینی سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔اُسے یہ اندازا چھو کر بھی نہیں گزرا تھا کے وہ اپنے باپ کو معاف کرنے کی بات کریگا۔۔۔بلکہ جیسا وہ پچھلے دو دنوں میں بے چین تھا نین سوچ رہی تھی یقیناً اپنے باپ کے لیے اُس کے دل میں بے حد نفرت اور غصّہ ہوگا۔۔۔۔
لیکن اُس نے ایک ہی پل میں اُسے پوری طرح غلط ثابت کر دیا
تیرے بیٹے کو کوئی پانی وانی پوچھنے کا رواج نہیں ہے کیا۔۔۔
وہ پورے گھر میں نظر دوڑاتا جا کر کے کے کی مخصوص جگہ بیٹھتا ہوا شان سے پیر جھلانے لگا۔۔جہاں اُس کے ٹھیک ساتھ والے صوفے پر مایا بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔
کےکے نے اپنے آدمیوں کو اشارہ کیا تو وہ جلدی جلدی اُسے پانی اور کھانے کی چیزیں پیش کرنے لگے۔۔۔
نین کو اپنا آپ بہُت چھوٹا محسوس ہوا وہ تو جیسے اُسے بھول ہی گیا تھا اُس پر اُس کا یہ بیگانہ انداز نین کو بہت ہرٹ کر گیا۔۔۔
یہ لڑکی کون ہے۔۔۔۔
مایا نے سر تا پیر اُسے جانچتے ہوئے پوچھا۔بلیک جینس اور ریڈ ٹاپ میں بنا کسی میک اپ یا ساج کے بالوں کو بے ترتیب سے لپیٹ کر باندھے ۔ سفر کی تکان کے باوجود بھی اُس کی خوبصورتی قابل نظر تھی۔۔۔۔۔
جب کے وہ خفگی سے ساحل کو دیکھنے میں مصروف تھی۔۔
یہ ہے اپن کی بائکو ۔۔۔۔۔
وہ اُس کے پوچھنے پر ہنس کر بولتا ہوا اپنی جگہ سے اٹھ کر اُس کی طرف بڑھا۔۔۔
اپن کی دلبر۔۔ جانیئے۔۔۔۔۔
سونيئے۔۔۔۔ہیریئے۔۔ماہئیے۔۔۔۔
اِن شورٹ اپن کا سب کچھ۔۔۔۔۔۔
اُس کا لہجہ معمولی سا بدلا تھا جب اُس نے نین کو دیکھتے ہوئے کہا لیکن وہ اپنے غم و غصے میں نوٹ نہیں کر پائی۔۔
اس کے لیے ٹھنڈا شربت بلا اس کیا دِماغ تھوڑا جلدی گرم ہوتا ہے
وہ اُس کی ناراض نظروں اور ناگوار تاثرات کو دیکھتا ہوا مانو اُسے چڑا رہا تھا۔جب کے اُس کے اس انداز نے مایا کو جلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔۔۔
وہ جو موقع ڈھونڈھتی تھی اُسے قابو کرنے کا اُس کی بیوی کو دیکھ کر اُس کے ہاتھ نہ آنے کی وجہ سمجھ چکی تھی۔۔۔
تو کیا دیکھ رہی ہے بیوی آنا ۔۔۔
میرے باپ کا صوفہ ہے تو بھی اپنے باپ کا سمجھ کر بیٹھ جا۔۔۔۔
وہ اُس کے گھورنے پر نہایت اطمنان سے کہتا اُسے آگ لگا گیا
ایسے انسان کو نہ مجھے باپ بنانے کا شوق ہے نہ تم جیسے کے ساتھ رہنے کا۔۔
وہ آنسُو روکنے کی کوشش میں بھاری ہوتی آواز کے ساتھ اُسے خفگی سے دیکھ کر کہتی باہر کو بھاگ گئی۔۔۔
اُس دروازے سے باہر نکلتے ہی روکے آنسو بہنے لگے۔۔۔
وہ اُسے جاتے دیکھ سنجیدہ ہوا اور فوراً اُس کے پیچھے بھاگا۔۔۔
وہ اُس بنگلے کے باہر نکلتے ہی گھاس کے درمیان بنی پختہ روش پر تیز تیز چلتی باہر جا رہی تھی جب گیٹ کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی ساحل نے لپک کر اُس کی کلائی پکڑے اُسے روکا۔۔۔۔
شانی۔۔۔۔کدھر جاریلی ہے۔۔۔
اُسے دیکھ کر مصنوعی غصے سے پوچھا۔۔
ساحل میرا ہاتھ چھوڑو پلیز۔۔۔۔
وہ اپنے آنسُو چھپانے کی غرض سے نظر جھکا کر اُس کا ہاتھ کلائی سے ہٹانے لگی۔۔
اُس جھوپڑی میں۔میرے ساتھ رہنے کو تیار تھی اور یہ محل چھوڑ کر جا رہی ہے۔۔۔تیرا ڈبل کھسکلا ہے کیا۔۔۔
وہ اُس کی بھیگوں پلکوں کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولا تو نین نے ہاتھ چھڑانے کی کوششں ترک کیے اُسے دیکھا
جب تمہیں یہ نہیں پتہ کے یہ چیزیں میرے لیے کوئی ویلو نہیں رکھتی تو
جواب دوں تب بھی تم جیسا انسان سمجھ نہیں پائے گا۔۔۔۔اس لیے رہنے دو۔۔۔مجھے چلے جانے دو۔۔۔۔
وہ سرخ بھیگی آنکھوں سے اُس کی آنکھوں میں دیکھتی بھیگے لہجے میں بولی تو وہ چند لمحے اُسے دیکھتا رہ گیا۔۔۔
تو اندر چل ۔۔۔ہم بات کرتے ہیں۔۔۔
اُس کی کلائی پر گرفت نرم کی تو نین نے فوراً اُس کا ہاتھ جھٹکا
مجھے یہ جگہ اچھی نہیں لگ رہی۔۔۔مجھے جانا ہے۔۔۔
وہ اپنے چہرے پر پھیلتی نمی رگڑتے ہوئے بولتی ساحل نے اُس کے رب کرتے ہی سرخ ہوتے گال کو دیکھا۔۔۔لیکِن وہ پھر جانے کو پلٹی تو وہ۔ جلدی سے آگے بڑھ کر اُس کے سامنے آگیا۔۔۔
بس کل رات تک۔۔۔۔۔۔
اُس کا راستہ روک کے اُسے آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ جتانا چاہا۔۔۔۔
تم رہو مجھے جانے دو۔۔۔مجھے ایسے لوگوں سے ڈر لگتا ہے۔۔۔
وہ نظریں نیچے کیے اب سہولت سے انکار کرتے ہوئے بولی اور اُس کے سائیڈ سے آگے بڑھنے لگی لیکِن ایک دفعہ پھر ساحل نے اُسے روک دیا اُس کی نازک اُنگلیاں ہاتھ میں تھامے۔۔۔۔۔۔
پہلے تو لانا بھی نہیں چاہتے تھے۔۔۔اب کیوں روک رہے ہو۔۔۔۔۔
وہ حیرت وہ جھنجھلاہٹ سے بولی
میں نہیں روکنا چاہتا ۔۔۔۔پر دل۔۔ ۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہتے کہتے رکا گلے میں گہرائ اُبھر کر مٹ گئی۔۔۔
نین کا دل اُس کی نظر سحر کے اثر سے زوروں زور دھڑکا۔۔۔۔
ساحل کے ہاتھ میں موجود اُنگلیوں میں بھی نرم سے ہلچل ہوئی تو اُس نے اُنہیں انگھوٹے سے دبایا ۔۔۔۔
وہ جلدی سے نظریں جھکا کر اُنگلیاں اُس کے ہاتھ سے چھڑوا گئی۔۔۔
لیکِن اب دور جانے کی ہمت نہیں کر پائی۔۔۔۔
