Nain Sahil By Sanaya Khan Readelle50155 Nain Sahil (Episode 107)
No Download Link
Rate this Novel
Nain Sahil (Episode 107)
پُر سکون اور خوبصورت جگہ میں بنے عالیشان فارم ہاؤس پر شام ہوتے ہی رونقیں بڑھ گئیں تھیں
دولہا اور دلہن کی فیمیلی کے ساتھ کچھ نزدیکی رشتےدار اور دوست عزیز بھی وہاں جمع تھے۔۔۔
ہلدی کی رسم کی مناسبت سے سب نے پیلے اور سبز رنگ کی ملی جلی ڈریسنگ کی تھی۔۔۔جب کے ریا سفید رنگ کے خوبصورت سلوار سوٹ میں پھولوں کے زیورات اور گجرے میں بے حد خوش اور خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔
بیچ گارڈن میں پھولوں کا شامیانہ بنا کر درمیان میں لڑکا لڑکی دونوں کو ساتھ بٹھایا گیا تھا اور سب باری باری اُنہیں ہلدی لگا رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک طرف ڈھولک بج رہی تھی اور جو ہلدی لگاتا اُس کے مناسبت سے اونچی اونچی آواز میں گیت گائے جا رہے تھے۔۔۔۔
پُر لطف اور خوشنما ماحول میں ہنسی اور شور شرابا کرتے ریا کے دوستوں اور کزنز نے خوب رونق بڑھائی ہوئی تھی۔۔۔
لیکن نین وہاں ہو کر بھی اُن سب رونقوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔۔اندر کا خالی پن اُس کے وجود پر چھایا ہوا تھا۔۔۔دل بوجھل تھا اور آنکھیں بھی۔۔۔
وہ بس ریا کے نزدیک خاموش کھڑی تھی۔۔۔۔۔لائٹ يلو کلر کے سلوار سوٹ پر گرین دوپٹہ ایک شولڈر پر ڈالے۔۔۔بنا میک اپ یا جویلری کے۔۔بالوں کی ڈھیلی سی چھوٹی بنائے۔۔۔ماتھے پر سفید بنڈیج تھی۔۔
بس ریا کی خوشی کی خاطر و اُس جگہ موجود تھی ورنہ وہ آوازیں اُس کے کانوں میں اس بری طرح چبھ رہی تھی کہ اُس کے لیے کھڑے ہونا بھی مشکل تھا۔۔۔۔۔۔
وہ ہر چند منٹ بعد ریا کے اپنی طرف دیکھنے پر زبردستی مسکرا دیتی اور پھر لب واپس سمٹ جاتے۔۔۔۔
پورب اور ریا دونوں ہی اُس کے لیے فکرمند تھے اسلئے اُسے بلکل بھی فورس نہیں کر رہے تھے۔۔۔۔
اُس کا وہاں موجود ہونا ہی انکے لیے کافی تھا۔۔۔۔۔
وہ خود کو سمجھا رہی تھی ۔۔۔سب بھولنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن یہ اتنا بھی آسان نہیں تھا۔۔۔۔
لبوں پر اُس کا مدھم سا لمس اور بے چین سانسوں کا احساس دل پر بوجھ بن کر دھڑکنیں بے ترتیب کردیتا تھا۔۔اُسے اکسانے کی کوشش کرتا کے ایک بار پھر اُس پر اعتبار کرکے اپنی انا لُٹا دے۔۔۔۔
لیکن وہ پل یاد آتا جب وہ بےجان دو مردوں کے آگے بے بس پڑی تھی اور اُس میں خود کو بچانے کی بھی طاقت نہیں تھی۔۔۔اُس کا دل خوف سے رک جاتا۔۔۔سانسیں تنگ پڑنے لگتی اور ساحل کے لیے دل میں نفرت اور بڑھ جاتی۔۔۔۔۔
انجو کے پکارنے پر اُس کے اندر اُلجھتی سوچیں مدغم ہوئیں۔۔۔
وہ ریا سے گلے مل کر الگ ہونے کے بعد نین کو ہائے کہہ رہی تھی ۔۔۔
لیکن وہ جواب میں مسکرا بھی نہیں پائی۔۔۔۔۔۔۔
خالی خالی انداز میں اُسے دیکھا۔۔۔
کسی کی گہری نظروں کا خود پر احساس ہوا تو دھڑکنیں مدھم ہوئیں۔۔۔لیکن اُس نے دیکھنے کی کوشش نہیں کی۔۔۔۔خود کو اُن نگاہوں میں اور نہیں الجھانا تھا۔۔۔۔
دل اور نہیں دکھانا تھا۔۔۔
انسو اور نہیں بہانے تھے۔۔۔
اور سب سے زیادہ ریا کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔
کہ اُسے کِسی وجہ سے مزید دکھ نا ہو۔۔۔۔
وہ سب کی موجودگی میں بھی اُس کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔۔گلاسز کے شیشے گہرے سیاہ تھے اسلئے سامنے کھڑے انسان کے لیے جاننا نا ممکن تھا کے وہ اُس سے باتیں کرتے ہوئے بھی دور کہیں دیکھ رہا ہے۔۔۔
جہاں ایک پری سی لڑکی کی آنکھیں اُداس ہے۔۔۔۔
انجو کو وہاں چھوڑنے کے بہانے خود ساتھ آنے کی یہی تو وجہ تھی کہ وہ اُسے دیکھ کر کچھ اپنے دل کو تسکین پہنچا لے۔۔۔لیکِن اب دل اور بھاری ہو رہا تھا۔۔۔
ریا ۔۔۔میں وہاں ہوں ۔۔۔
وہ وہیں تھوڑی دوری پر بنی پھولوں کی کیاریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔۔۔
انجو پورب کو سنانے کے لیے دکش کی باتیں کر رہی تھی لیکن پورب سے زیادہ اُس کے لیے سن پانا مشکل تھا۔۔۔وہ تو اُس کے دکھاوے کو انجوائے کر رہا تھا لیکِن نین کو بے چینی سی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔کچھ اُس کی نگاہِ مسلسل سے تو کچھ اُس کے ذکر سے تبھی وہ ریا کو بتا کر اُن سب سے دور آگئی۔۔۔۔
ہاؤس کی دیواروں کے نزدیک کا حصہ جہاں گلاب کی کیاریاں ترتیب سے لگیں تھی۔۔۔اُن کا رنگ اور خوشبو بتا رہے تھے کے وہ مالی کو کتنی عزیز ہے۔۔۔کیوں کے اُنہیں بھی انسانوں کی طرح قدر اور خیال کی ضرورت ہوتی ہے۔,۔۔۔۔
ایک خوبصورت کھلتے ہوئے پھول کو چھونے کے لیے اُس نے ہاتھ بڑھایا۔۔۔لیکِن دو انگلیوں نے پتیوں کو ہلکا سا چھوا ہی تھا کے کسی نے اُس کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔۔
اُسے ضرورت نہیں تھی یہ سوچنے کی کے کون ہے۔۔۔اُس کی موجودگی خوشبُو جیسی تھی جو خودبخود اپنا احساس دلانے آجاتی تھی۔۔۔۔
اُس نے نظریں اپنے ہاتھ سے اُس کی جانب صرف اُس کے شولڈر تک اٹھائیں اور پھر جھکا لیں۔۔۔۔
وہ اُس کی طرف نہیں دیکھنا چاہتی تھی اور نہیں دیکھا۔۔۔۔
ساحل نے بغور اُس کی آنکھوں کی حرکت دیکھی اور ہاتھ اوپر کرکے اُنہیں دو اُنگلیوں کے پوروں کو لبوں سے چھوا جو پھول کی نرمی محسوس کرکے لوٹے تھے۔۔۔۔
لیکن اُس پھول کی نرمی میں فرحت تھی تازگی تھی اور اُس کے لبوں کی نرمی میں تپشِ تھی۔دہک تھی۔۔۔۔۔
پھر بھی اُس نے کوئی حرکت نہیں کی۔۔۔۔حالانکہ دل مچل رہا تھا لیکِن اُس نے ہاتھ کھینچنے کی کوشش نہیں کی۔۔۔۔بس نظریں جھکائے کھڑی رہی۔۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ تھامے اندر کی طرف بڑھا اور وہ کھینچی گئی۔۔۔۔کوئی مزاحمت نہ کوئی بات۔۔۔ نہ کوئی نظر اٹھی۔۔۔
سب باہر تھے اور گھر پورا خالی تھا وہ اُسے پہلے نمبر پر بنے ایک کمرے کے اندر لے کر آیا ۔۔۔
نین کا دل بے چین ہوا لیکِن وہ خاموش بے نیاز رہی۔۔۔
اُس نے دروازہ بند کرکے اُس سے ٹیک لگائے ۔۔نین کو دونوں ہاتھوں کمر سے تھام کر اپنے نزدیک کیا۔۔۔
وہ خاموش بے حرکت رہی۔۔۔
دل حالانکہ پوری قوت سے سمٹ گیا۔۔۔۔لیکن وجود سن رہا۔۔۔
I m sorry۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے قریب کرکے پیشانی سے پیشانی ٹکائے دھیمی آواز میں بولا۔۔۔گرم سانسوں نے نین کے چہرے کو چھوا تو وہ سانس لیتے لیتے رک گئی۔۔۔۔
دل نے ایکدم شدت سے دھڑکنا شروع کیا۔۔۔۔مگر اُس نے نظریں نہیں اٹھائیں۔۔۔اُس کی بلیک جینس کی دائیں پاکٹ پر سرخ دھاگے سے بنے ٹرینگل پر جمائے رکھی۔۔۔۔
Sorry for hurting you badly
۔۔۔۔
اُس کی بھاری آواز مزید دھیمی ہوئی لہجہ اور گہرا ہوا۔۔۔۔
نین کے وجود میں صرف دل حرکت کرتا رہا باقی سب ساکت رہا۔۔۔
تمہارے ہر آنسو کے لیے۔۔۔۔تمہارے ہر درد کے لیے۔۔۔۔ہر چوٹ کے کیلئے۔۔۔۔۔ہر بے سکونی کے لیے۔۔۔
اُس نے آنکھیں بند کرکے پیشانی کو ہلکے سے مس کیا۔۔۔۔وہ جگہ بھاپ چھوڑنے لگی۔۔۔۔
ایک ہاتھ کی اُنگلیاں کمر پر تھوڑی سی سخت ہوئی۔۔۔
نین کا حلق خشک ہوا۔۔۔۔
لیکِن اُس نے حرکت نہیں کی۔۔۔
جانتا ہوں یہ سوری تمہیں ہیل نہیں کرسکتا۔۔۔۔ میرا پچتاوا تمہارے زخم نہیں بھر سکتا۔۔۔ٹوٹا یقین اتنی آسانی سے نہیں جڑ سکتا ۔۔
بھلے میرے پاس ریزن تھا۔۔۔۔میں مجبور تھا لیکن تب بھی کوئی سوری کوئی معافی ۔۔۔کوئی دلاسہ ۔۔۔۔۔میری بے وقوفی کا جسٹیفکیشن نہیں ہو سکتا۔۔۔
But i m sorry۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں کھول کر اُس کی گھنی پلکوں کے اٹھنے کی راہ دیکھتا۔۔۔ایک ایک۔لفظ کو جذباتیت سے ادا کرتے ہوئے بولا۔۔۔
اُس کے لہجے کی طرح سانسوں کی تپشِ بھی بڑھتی ہوئی محسوس ہُوئی ۔
نین کا چہرہ اُس بھانپ سے جلنے لگا
دل اُن لفظوں سے بھرنے لگا۔۔۔گلے میں سانس پھنسنے لگی۔۔۔
پر اُس نے حرکت نہیں کی۔۔۔
سوری کے میں نے تم سے تمہاری ہنسی چرا لی۔۔۔۔۔
ساحل کی نظریں پلکوں سے مایوس لوٹ کر گلابی لبوں پر آئیں۔۔۔۔لہجہ بے حد بھاری بے حد مدھم ہوا۔۔
نین کے لیے سانس لینا مشکل ہوا۔۔۔۔
اب اور اُس آنچ کو سہنا مشکل ہوا۔۔۔
لیکن اُس نے حرکت نہیں کی۔۔۔
اُس نے پیشانی جدا کی ۔۔۔
الگ ہوا پر دور نہیں۔۔۔۔
غور سے اُس کے خوبصورت چہرے کے ایک ایک نقش کو دیکھنے لگا جو بے حد سونے سونے لگ رہے تھے۔۔۔
دونوں ہاتھ اُس کی کمر سے ہٹ کر چہرے پر آئے ۔۔ اُنگلیوں نے دھیرے سے حرکت کرکے اُس کے چہرے کو تھام کر اوپر کیا لیکن نین نے نظریں اُس کے کندھے سے اوپر تک نہیں جانے دی۔۔۔۔
لائٹ پنک شرٹ میں آستین کو جوڑنے والی سلائی پر نظریں روک دی۔۔۔
پلیز سے سم تھنگ۔۔۔۔۔
ایسے چپ مت رہو۔۔۔۔
مجھ پر غصّہ کرو۔۔۔۔
باتیں سناؤ۔۔۔۔مجھے سزا دو ۔۔۔
چاہے تو مار لو۔۔۔۔
لیکن یوں خاموش مت رہو ۔۔۔
تمہارے لبوں پر یہ خاموشی اچھی نہیں لگتی۔۔۔۔تم بس ہنستے ہوئے اچھی لگتی ہو۔۔۔۔۔
وہ دھیمے پرسوز لہجے میں بولا
دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کو دھیرے سے حرکت دے کے نچلے لب کے کنارے کو چھوا تو نین نے آنکھیں بند کرکے کھولیں۔۔۔اور سانس اندر ہی روک لی۔۔۔۔
جب تم کسی کو ٹارچر کرکے ہنستی نہ تو ایسا لگتا ہے جیسے ہوا میں ایکدم سے کسی نے عطر ملا دیا۔۔۔۔
سب جینے لگے بےجان چیزیں سانس لینے لگی ۔۔جیسے اس دنیا میں کہیں کچھ ٹینشن نہیں کوئی خامی نہیں کوئی پرابلم نہیں۔۔۔۔سب ٹھیک ہے۔۔۔پولیوشن نہیں ہے۔۔۔ گلوبل وارمنگ نہیں ہے۔۔۔کہیں کسی کو کسی بات کی فکرِ نہیں ہے۔۔۔ہر انسان ہر شے خوش ہے۔۔۔پوری کائنات خوش ہے۔۔۔۔۔
وہ مسلسل نظریں اُس کے لبوں پر جمائے گزری یادوں میں کھوئے ذہن کے اثر سے بھاری مدھم لہجے میں بولا۔۔۔۔
نین نے گلا تر کیا شدت سے خواہش جاگی کے اُسے دھکّا دے کر خود سے دور کردے لیکن وہ بے حرکت رہی۔۔۔۔
کیوں کے اُس پر اپنی بھڑاس نکال دیتی تو دل ہلکا ہو جاتا نفرت کم ہوجاتی اور وہ ایسا نہیں چاہتی تھی۔۔۔
اور تمہاری آنکھوں کی یہ اُداسی یہاں کے خوبصورت نظارے کو بھی ویران کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔کہیں کوئی رنگ نہیں۔۔۔۔کوئی فریشنز نہیں۔۔۔۔۔سب تمہاری طرح اُداس لگ رہے ہیں۔۔۔۔۔
نظریں اُس کے لبوں سے پھر پلکوں تک آئی۔۔۔۔اور اُن گہری نظروں کا ہی اثر تھے کے ٹہری پلکوں میں ہلکی سی لرزش ہوئی۔۔۔
پر اب ساحل کے لیے اُس کی خاموشی سہنا مشکل ہورہا تھا۔۔۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ خاموشی اُس کے غصےاور۔۔۔اُس کی نفرت سے بھی زیادہ جان لیوا ہے۔
کچھ بولو نا یار۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے چہرے پر جھک کر ناک سے ناک مس کرتے ہوئے بولا۔۔۔
بھاری گمبھیر لہجے سے نین کی دھڑکنیں تیز ہوئی۔۔۔۔اُس نے آنکھیں بند کیں
پہلے چپ نہیں ہوتی تھی اور اب یوں ترسا رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پلیز سے سم تھنگ۔۔۔۔۔۔
ناک نے گال کو چھوا۔۔۔
پیشانی نے آیبرو کو۔۔۔۔
سوز نہاں سانسوں نے لبوں کو ۔۔۔۔
اور مدھم سلگتے لہجے نے نین کی تیز دھڑکنیں منتشر کردی۔۔سانس لینا محال ہوا۔۔۔۔
ایک ہاتھ چہرے سے ہٹ کر بازو پر آیا۔۔۔اور دوسرا بنا ہٹائے ڈھیلی سی چوٹی میں بندھے بالوں میں الجھایا۔۔۔۔۔ذہن پر بے خودی چھانے لگی۔۔۔۔اور دل اپنی رو سے بہک کر بھٹکنے لگا۔۔۔۔
دہکتے لب گال سے کان تک آئے اور کان سے گردن تک سفر کرنے لگے۔۔۔۔
نین کے لیے سانس لینا مشکل ہوا۔۔۔۔ اپنے پیروں پر کھڑے ہونا مشکل ہوا۔۔۔۔ساکت وجود میں لرزش ہوئی۔۔۔۔پیشانی پر سلوٹیں اُبھری۔۔۔
بہت ہیوی فیل ہو رہا ہے۔۔۔
برداشت نہیں ہو رہا۔۔۔۔۔
اب دل نہیں مان رہا۔۔۔۔۔۔
بکھری آواز میں کی ہوئی بھاری سرگوشی آنچ سی تھی ۔۔۔
کان سے اُتر کر پورے وجود میں چنگاریاں بھر گئی۔۔۔
لمس جلتے کوئلے سا تھا۔۔۔۔دل کو سلگانے لگا۔۔۔۔
اور سانسیں آگ کی بارش کی طرح تھی۔۔۔۔۔اسے خود میں بھگو کے جلانے کو تیار۔۔۔۔
اس کی انگلیاں نین کے بازو میں سخت ہوتی جا رہی تھی۔۔۔درمیان کا فاصلے سمٹ کر ختم ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔لب جو لائن کے ارد گرد حرکت کر رہے تھے ۔۔۔۔
گھنے بال نین کے لبوں پر سرسرا رہے تھے۔۔۔۔
نین کے پیر کے تلووں میں ڈھیروں چینٹیاں رینگتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔آکسیجن کمرے۔میں ختم ہوتا محسوس ہورہا تھا ۔۔۔۔
اور ہواؤں میں سرور سا بھرتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔
اُس کی کب کی کوشش ناکام ہو گئی اور اُس کے برداشت سے باہر ہوا تو اُس نے سینے پر ہاتھ رکھے اُسے روکا۔۔۔۔
مت۔۔۔مت کرو۔۔۔۔
لبوں سے لرزتے لفظ نکلے۔۔۔بہت گھٹی گھٹی آواز میں۔۔۔۔۔لیکن وہ چاہ۔کر بھی پیچھے نہیں ہو پایا۔۔۔۔دل راضی نہیں ہوا۔۔۔۔
اُس کی خاموشی سے پریشان تھا لیکن اب اُس کے بولنے کا اثر لینے کا ہوش نہیں رہا۔۔۔۔۔خماری نے شدت سے خود میں جکڑ لیا۔۔۔۔دل ایک پرزور لہر کی زد میں آگیا۔۔۔
چہرے کا رخ بدل کر دوسری جانب کیا ۔۔۔۔
بازو سے اُتر کر ہاتھ کمر پر آیا اور آہستہ سے اُسے خود میں بھینچے لگا۔۔۔۔سانسیں مزید جلنے لگی۔۔۔اندر اور باہر کی تپش بڑھانے لگی۔۔۔۔۔۔
لمس اور پر شدت ہوا۔۔۔۔۔
جتنا لبوں کا اتنا ہی سانسوں کا بھی۔۔۔اتنا ہی ماتھے کا بھی چھونا جان لیوا لگا
نین نے اُسے دور کرنے کے لیے سینے پر ہاتھ رکھا تھا پر جب ۔۔۔بے ترتیب ہوتی دھڑکنوں کا سنبھلنا مشکل ہوا تو گھبرا کر اُس ہاتھ سے شرٹ پکڑ لی۔۔۔ سہارا لے لیا۔۔۔۔۔چند سیکنڈ کو سنبھل کر آنکھیں کھولیں اور شرٹ چھوڑ کر پھر اُسے دور کرنے کو زور دیا۔۔۔۔۔
اُس کوشش کے ساتھ لبوں سے مدھم آواز میں پرزور نہیں نکلا ۔۔۔۔
تو وہ دو سیکنڈ رک کر پیچھے ہوا۔۔۔اور اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔۔
نین نے اُس سے نظریں نا ملانے کا عہد کیا تھا لیکن اب بے ترتیب سانسیں لیتی اُس کی گمبھیر بولتی نگاہوں میں دیکھنے لگی۔۔۔۔کچھ محنت کرکے اپنی بڑھتی دھڑکنوں پر کنٹرول پایا پیچھے ہوئی۔۔۔۔بس آنکھوں میں غصّہ جمع نہیں کر پائی۔۔۔۔۔۔
مت کرو۔۔۔۔
بے آواز بولی غصے کی بجائے پریشانی سے ۔۔ساحل نے حرکت کرتے لبوں کو دیکھا۔۔۔
پلیز جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔۔
مجھے چھونے کی۔۔ یا منانے کی کوشش مت کرو۔۔۔
لہجہ کچھ روکھا ہوا۔۔۔آواز کچھ سخت ہوئی۔۔۔نظروں کا زاویہ بدلا
گلے سے سانس نیچے اتاری۔۔۔
وہ پیچھے ہوا۔۔۔دروازے سے لگ کر دونوں ہاتھ پاکٹ میں پھنسائے غور سے اُسے دیکھنے لگا۔۔۔
جانتی ہوں۔۔۔۔ مجھے مسکرانے پر مجبور کرکے دوبارہ رلانا چاہتے ہو لیکن مت کرو۔۔۔۔۔میں اور نہیں سہہ سکتی۔۔۔۔
غصّہ کرنا ممکن نہیں ہوا تو بے تاثر بے بس انداز میں دھیرے سے بولی۔۔۔نظریں جھکائے رکھی۔۔۔۔شرٹ کے آخری بٹن پر۔۔۔۔۔
اُس کی اُلجھی نگاہیں لبوں اور آنکھوں کے گرد گھومتی رہیں
میں نے تم سے ضد کرکے شادی کی تھی اسلئے تم بدلہ لے رہے ہو نہ مجھ سے۔۔۔۔۔۔اسی کی سزا دینا چاہتے ہو نا مجھے درد دے کر۔۔۔
مجھے سزا مل گئی۔۔۔
اب بس کرو۔۔۔
وہ بھیگتی آواز کو سانس خارج کرکے معتدل کرتے ہوئے ۔۔۔اُس کی جانب دیکھ کر بکھرے بکھرے لہجے میں بولی۔۔۔اُس نے لب بھینچ کر چھوڑا۔۔۔۔
اب مجھے درد دینے کے لئے کوئی بھی تکلیف کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔کیوں کے جتنا تم سوچ نہیں سکتے اُس سے کئیں زیادہ ٹکڑے کر چکے ہو تم میرے۔۔۔۔۔۔اب اس سے زیادہ کچھ ممکن نہیں۔۔۔۔۔۔
اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ضبط سے بولی تو بے خبری میں۔آنسُو آنکھ سے نکل کر گرا۔۔
وہ اُس کی ڈھیروں شیکایتیں سننے کیلئے خود کو تیار کیے ہوۓ تھا لیکن غصے کی بجائے یہ بے بسی اُس کے دل کو لگ رہی تھی
پھر بھی وہ خاموش اُسے سنتا اُس کی آنکھوں میں دیکھتا رہا۔۔
اب زخموں کی جگہ بھی باقی نہیں۔۔۔۔۔۔۔اب ہمت بھی ٹوٹ گئی اور اُمید بھی ختم ہو گئی۔۔۔اسلئے مت کرو
وہ بولتی گئی۔۔اپنے ارادے سے مکر کر گلے کرتی گئی۔۔۔
اب اپنی ہی نظر میں سڑک پر پڑے ایک پتھر سی بے مول ہو گئی ہوں میں۔۔۔۔اب مجھے رسوا کرنے کے لئے تمہیں اور محنت کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔۔اب سب ختم ہو گیا۔۔۔۔۔ہر احساس ۔۔۔سب جذبات ختم ہوگئے۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلئے اب مت کرو۔۔۔
لہجے میں درد بے بسی تھکن کے ساتھ ہلکی سے۔جھنجھلاہٹ تھی۔۔۔
تمہارے کہہ دینے سے سب ختم نہیں ہوجاتا۔۔۔
وہ پہلی بار بولا۔۔۔بہُت دھیمے سے۔۔۔تاثرات سے خالی لہجہ اور ٹھہری آنکھیں جس میں نین کا دل ڈوبنے لگا۔۔۔
سب ختم تو تبھی ہو گیا تھا جب تم نے کسی اور کا ہاتھ تھام کر اُسے رنگ پہنائی تھی۔۔۔۔
وہ اُن ٹہری آنکھوں میں دیکھتی افسوس سے بولی۔۔وہ ہنسا لیکن آنکھیں نہیں ہنسی۔۔۔ڈمپل صرف ایک گال میں بہُت معمولی سا پڑا۔۔۔لب بھی بلکل ذرا سے پھیلے تھے
۔۔۔ ایک انچ کی رنگ رشتے جڑنے ٹوٹنے کا ثبوت ہوگئی۔۔۔فیلنگز کوئی میٹر نہیں کرتی۔۔۔۔۔۔
وہ جتاتے انداز اور طنز بھرے لہجے میں بولا نین نے نظریں نیچے کرلی۔۔
فیلنگ ہی تو اصل جڑ ہے مصیبت کی ۔۔۔۔جس نے انفوم کیا کے سامنے والے کو تمہارے ٹوٹ جانے کی پرواہ نہیں۔۔۔۔تم روتی رہو۔۔۔چلاتی رہو۔۔۔بیشرموں کے طرح اُس کے پیچھے پڑ کے اپنی انسلٹ کرواتی رہو۔۔۔لیکِن وہ تمہاری طرف دیکھنے کا بھی رودار نہیں۔۔۔۔
وہ نظریں جھکائے پر درد ۔۔ٹوٹے لہجے میں بولی تو ساحل کا دل ڈوبا۔۔۔
تم غلط سمجھ رہی نین ۔۔۔۔۔
وہ بوجھل تھکے لہجے میں بولا
تم غلط سمجھ رہے ساحل۔۔۔۔
وہ فوراً مسکرا کر اُسے دیکھتی بولی۔۔۔اُس کے لبوں سے اپنا نام پھر ساحل کو بے حد برا لگا ۔۔۔۔اُس کی مسکراہٹ بے حد غیر لگی۔۔۔۔
وہ انگیجمنٹ میری ہار کی وجہ نہیں تھی۔۔۔۔میں تو تمہاری بے رخی سے ہاری ہوں۔۔۔۔
وہ مسکراتے مسکراتے بولتے ہوئے آنسوؤں کو جکڑ کر رکھنا بھول گئی اُنہیں آزاد کرگئی۔۔۔۔۔۔
ساحل نے گلا تر کیا۔۔۔۔۔
ایک آس لے کر گھوم رہی تھی اور اُس کے بدلے جب مجھے ملا ایک گندا الزام۔۔۔۔
وہ بول رہی تھی لیکن اس کا ہاتھ آنسو سمیٹنے کو اپنے چہرے کی طرف بڑھتا دیکھ رک کر دور ہوئی اور خود ہی چہرے سے آنسُو رگڑ کر مٹائے۔۔۔۔وہ دانت اور مُٹھی ساتھ بھینچے ہاتھ پیچھے کرگیا۔۔۔
تمہیں کیا لگا وہ انگیجمنٹ روکنا میرے لیے بہت بڑا کام تھا۔۔۔
صرف دو منٹ لگتے مجھے یہ ثابت کرنے میں کے تم کون ہو اور تم سے میرا کیا رشتا ہے۔۔۔۔
وہ اب بنا کمزور ہوئے بنا رویے مضبوط لہجے میں بولنے لگی۔۔۔
لیکن کیوں کروں میں ثابت۔۔۔۔ اور کس کے لیے کروں۔۔۔۔۔ان لوگوں کے لیے۔۔۔۔یہ تو میرے کوئی ہے بھی نہیں۔۔۔۔مجھے ان سے کیا مطلب۔۔۔
مطلب تو بس تم سے تھا۔۔۔۔
بات تو ساری اُس مان کی تھی جو تم نے توڑ دیا۔۔۔۔۔
وہ بولتے بولتے پھر مسکرائی۔۔ وہی بیگانی مسکراہٹ جو وہ اُس کے چہرے پر نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔
تمہارے لیے میں اہم ہوں یہ جھوٹا مان۔۔۔۔۔
جس کے لیے اپنی عزتِ نفس اپنا سکون سب ضائع کردیا میں نے۔۔۔۔
اُس نے آنسوؤں کو روکے۔۔۔مسکراتے لبوں اور پر درد لہجے میں کہہ کے ساحل کی مشکل بڑھائی۔۔۔لیکن وہ پھر بے حرکت بے تاثر اُسے بس دیکھنے لگا۔۔۔جیب میں وائبریٹ ہوتے فون کو مکمل نظر انداز کیا۔۔۔
تُم کہتے ہو نا کہ میرے دماغ میں کوئی لوچا ہے۔۔۔میرے سکرو ڈھیلے ہے۔۔۔اب تو لگتا ہے ہاں۔۔۔
ضرور کوئی مینٹل پرابلم ہے مجھے۔۔۔تبھی تو۔۔۔
تبھی تو تمہاری کمزوریوں کو نہیں اپنے رشتے کی طاقت کو آزمانے کی ضد پکڑ لی تھی میں نے۔۔۔۔
وہ اُس کی جلتی سرخ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جتاتے لہجے میں بولی۔۔
تم سے نہیں۔۔۔۔ تمہیں جیتنا چاہتی تھی۔۔۔۔
اُس کی آواز مدھم ہوگئی بھیگ گئی ۔۔۔وہ بت بنا رہا۔۔۔دل ضبط سے بھرنے لگا لیکن اُس نے پلکیں تک نہیں جھپکیں۔۔۔
اور یہ اچانک اس سچویشن کی وجہ سے پیدا ہوئی ضد نہیں ہے۔۔۔۔یہ تو پچھلے پانچ مہینوں کے گزرتے ہر پل کا جو ایکسپیرینس تھا نہ۔۔۔اُس کا اثر ہے۔۔۔۔
کیوں کہ تم گئے تھے تو بس اِنتظار نہیں دے کر گئے تھے۔۔۔۔تم مجھے اور بھی بہت کچھ دے گئے تھے۔۔۔۔ہر دن کی آس۔۔۔ہر رات کا بوجھ۔۔۔اور ڈھیروں شاید۔۔۔۔۔
اس کی شکایتوں کا سلسلہ بڑھ۔ گیا تھا۔۔۔وہ اب ہر پرانے حساب مانگنے پر آئی تھی اور چاہتا تو وہ خود بھی یہی تھا کہ اُس کے دل سے ہر غم ہر افسوس آزاد ہوجائے لیکن یہ آنسو اور یہ پردرد ہنسی سہنا مُشکل تھا۔۔۔
شاید کوئی وجہ ہوگی جو اب تک نہیں لوٹا۔۔۔۔
شاید کوئی مجبوری ہوگی۔۔۔۔
شاید کہیں پھنس گیا ہوگا۔۔۔۔
شاید کل آجائے۔۔۔۔
شاید ابھی آکر سرپرائز کردے
لیکن ان ڈھیروں شاید میں جب ایک” کہیں” آجاتا نا تب اصل مشکل ہوتی تھی۔۔۔۔
کہیں وہ لوٹنا ہی نا چاہتا ہو۔۔۔۔
کہیں اُس نے مجھے چھوڑ تو نہیں دیا۔۔۔۔۔ یا کہیں اُسے پیار ہی نہ ہو۔۔۔۔
وہ اپنے تاثرات کو اپنے لفظوں کے ساتھ بدل بدل۔کر اُسے بتاتی رک گئی۔۔۔۔ سانس بھری اور خشک لب تر کیے۔۔۔
بس وہ کہیں پھر کبھی ذہن میں نا آئے اتنا یقین چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔
پھر کبھی ویسا وقت نہیں جینا چاہتی تھی۔۔۔۔
سر نفی میں۔ہلاتے ہوئے پھر رکے آنسو آزاد ہوئے۔۔۔۔
ساحل کی آنکھیں بھیگی پلکوں سے ذرا نہیں ہٹی۔۔۔۔
کیونکہ بہُت مشکل ہوتا ہے ایک بند کمرے میں۔بے آواز رونا۔۔۔تاکے کوئی ہمارے آنسُو نا دیکھ لے۔۔۔آواز نا سن لے۔۔۔۔ہم سے ہمدردی نا کرنے لگ جائے۔۔۔۔
اُس نے نظریں اس کے سینے تک جھکائے آنسو اُس سے چھپانے کی کوشش کی۔۔۔
بہت مشکل ہوتا ہے اپنے ہی گھر والوں کو زبردستی ہنس ہنس کر دکھانا کے ہم ٹھیک ہے۔۔
اپنی اُس دوست سے اپنے دکھ چھپانا جس سے ہم اپنے بیڈ ڈیز کا پین بھی نہیں نہیں چھپاتے۔۔۔
اُس نے آنسو اور لفظوں سے اپنے دل سے کچھ بوجھ آزاد کرکے دوبارہ اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔۔
بہت مشکل انتظار تھا وہ کیوں کے تم نے کوئی وقت نہیں بتایا تھا۔۔۔کوئی مدت دے کر نہیں گئے تھے۔۔۔۔۔ہر روز اُمید ٹوٹتی تھی ۔۔۔ پھر نئے سویرے کے ساتھ لوٹ آتی تھی
بس اتنا اطمینان تھا کہ اس اِنتظار کا انت بہت اچھا ہوگا۔۔۔۔
تم واپس آکر مجھے مکمل کردو گے۔۔۔۔۔ہر ایک زخم بھر دوگے۔۔۔ تم سے گن گن کر بدلے لے لوں گی۔۔۔حساب برابر کرلوں گی
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی تو آخر میں پھر لبوں پر مسکراہٹ تھی لیکن وہ غیر نہیں تھی۔۔۔۔پر درد تھی لیکن بے حد خوبصورت تھی۔۔۔۔۔۔ اسلئے فوراً غائب بھی ہوچکی تھی
لیکن واپس مل کر تو تم نے زیادہ زخمی کردیا۔۔۔۔جو آس اُمید تھی وہ بھی نہیں رہی۔۔۔۔سب ختم کردیا۔۔
اور آنکھوں میں بس افسوس دکھ اور تھکان رہ گئے تھے۔۔۔۔۔۔وہ بس سن رہا تھا۔۔۔دیکھ رہا تھا۔۔محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔کوئی حرکت نہیں کو جنبش نہیں۔۔۔۔۔اُس کا فون مسلسل وائبریٹ ہو رہا تھا ۔۔۔لیکِن اُسے پرواہ نہیں
اب میں آزاد ہوں۔۔۔۔۔کوئی اُلجھن نہیں ہے۔۔۔اچھی بری کوئی اُمید نہیں ہے۔۔ٹوٹنے کے لیے اب کوئی آس نہیں ہے۔۔۔۔اب بس درد ہے اور یہ سچا ہے۔۔۔۔۔
وہ اُسے بتانے سے زیادہ خود کو سمجھانے کی کوشش کرتی لگ رہی تھی۔۔۔۔
اب میرے دل میں تمہارے لیے بس نفرت ہے ۔۔۔۔اور مرتے دم تک رہےگی۔۔
سرخ بھیگی آنکھوں کو پھیلا کر سخت اور مضبوط لہجے میں بولی۔۔جیسے یہ آخر تھا۔۔۔یہ انجام تھا ۔۔۔اور ساری دفائیں لگا کر آخر میں دی گئی سزا تھی۔۔۔
جن سے نفرت ہوتی ہے اُن کے سامنے رویا نہیں جاتا۔۔۔۔۔
چند سیکنڈ کی خاموشی کے بعد ساحل کے بس لبوں نے حرکت کی تھی۔۔۔نظریں جہاں کی وہاں ٹہری ہوئی تھی۔۔
اُن سے بدلہ لیا جاتا ہے ۔۔۔شکوے نہیں کیے جاتے۔۔۔۔
پھر لفظوں کے ساتھ پرسوز نظروں نے حرکت کرکے نین کے لبوں کو چھوا تھا۔۔۔
وہ اُس کی بے نیازی پر مُٹھی بھینچ کر رہ گئی۔۔۔۔
اور تمہیں لگتا ہے تمہیں نفرت ہے تو ٹھیک ہے نفرت کرو۔۔۔۔۔اگر یہ میری غلطی کی سزا ہے تو مجھ سے نفرت کرو۔۔۔۔۔۔
وہ دروازے سے دور ہوا اُس کے کچھ نزدیک ہوا نین نے غصے سے اُسے دیکھا۔۔۔۔
پرمیں تو تب بھی تمہیں چاہوں گا۔۔۔۔
اُس کی غصے بھری آنکھوں میں جھانک کر دھیمے پر جذب لہجے میں بولا۔۔۔جتاتی گمبھیر نگاہوں کی لپک سے اُلجھ کرنین نے نظریں چرائی منہ پھیرا۔۔۔
اور اب معافی سے نہیں اپنی چاہت سے مقابلہ کروں گا اس نفرت کا۔۔۔۔۔
بہت دکھ دیے تو اب بہت پیار بھی دوں گا ۔۔آۓ پرامس۔۔۔۔
وہ ہاتھ اُس کے چہرے پر رکھ کر دوبارہ اپنی جانب کرتا چاہت سے بولا تو نین نے اُس کا ہاتھ ہٹا کے دور کیا
اُس نے سنجیدگی سے اُس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے پاکٹ سے موبائل نکال کے کان سے لگایا۔۔۔۔
Yeah۔۔۔۔i m coming۔۔۔۔۔۔
دوسری جانب کی بات سن کر دھیرے سے جواب دیا ۔۔۔اور فون کان سے ہٹا کر ۔۔۔نین کی طرف جھکا اُس کی پیشانی پر موجود پٹی پر کِس کرنے کی کوشش کی لیکن نین نے اُسے نزدیک ہوتے دیکھ ایکدم سے سینے پر ہتھیلی رکھ کر روک دیا۔۔۔
اس کی طرف دیکھا نہیں لیکن انکار واضح تھا۔۔اور ساحل نے اُس انکار کی مخالفت کی۔۔۔ہاتھ پکڑ اپنے ہاتھ میں لیا۔۔۔۔ اور اپنے ارادے پر عمل کیا۔۔۔پٹی کے نزدیک لب رکھے تو نین نے جھنجھلا کر آنکھیں بند کی۔۔۔۔
رات کو اِنتظار کرنا میرا۔۔۔۔۔۔
وہ پیچھے ہو کر دھیرے سے بولا تو نین نے اُسے غصے سے گھورا۔۔۔۔۔
اُس نے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے ہاتھ سے بکھرے بالوں کو سنوارا اور دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔۔۔۔
نین کو اپنی اتنے جذبات ضایع کرنے کے باوجود اُس کا ٹھنڈا ٹھنڈا ری ایکشن شدید زہر لگا۔۔۔۔غصّہ بھی آیا اور دکھ بھی ہوا۔۔۔۔۔
♦♦
